15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 15:61–79

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب وہ بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے گھر والوں کے پاس آئے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو (لوط نے) کہا کہ تم کچھ اجنبی سے لوگ ہو۔

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم تو اس عذاب کے ساتھ آئے ہیں جس کے آنے میں وہ شک کرتے تھے۔

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

ہم تمہارے پاس حق کے ساتھ آئے ہیں اور بیشک ہم سچے ہیں

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

اور (اے لوط) آپ کچھ رات گئے اپنے اہل خانہ کے ساتھ نکلئے اور خود ان کے پیچھے رہئے اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور ویسے ہی کیجیے جس کا آپ کو (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے۔

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے (لوط کی طرف) یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان نافرمانوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور شہر والے خوشیاں مناتے آئے

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

(لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں پس تم مجھے رسوا نہ کرو،

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اللہ سے ڈرو اور مجھے رنجیدہ نہ کرو۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہم نے تمہیں سارے جہان کی حمایت سے منع نہیں کیا تھا۔

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

(لوط نے) کہا یہ میری بیٹیاں (تمہارے گھروں میں) ہیں اگر میرا کہنا کرو۔

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

آپ کی جان کی قسم وہ اپنی بدمستی میں اندھے بن رہے تھے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

پھر سورج نکلتے ہی ان کو ایک سخت دھماکے نے آ لیا۔

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

پھر ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ نیچے کردیا (یعنی تہہ وبالا کردیا) اور پھر ہم نے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسانے شروع کردیئے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس (واقعہ میں) عقل و سمجھ رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور یہ (آج بھی) ایک آباد راستے پر (نشان عبرت) ہیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

اور بیشک ان میں اہل ایمان کے لئے نشانی (عبرت و نصیحت) ہے

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور اصحاب الایکہ (بن والے) بڑے ظالم تھے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا اور (عبرت و نصیحت کے لئے) وہ دونوں بستیاں کھلی سڑک پر ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79 منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان (کی قسم) ۔ سکرہ نشہ، مدہوش۔ یعمھون مستی میں اندھا بن جاتے ہیں ۔ الصیحۃ چنگھاڑ، ہیبت ناک آواز ۔ مشرقین سورج نکلنے کے وقت۔ عالی بلند۔ سافل نیچے۔ امطرنا ہم نے برسایا۔ حجارۃ پتھر۔ سجیل کھردرا پتھر، پتھر نما۔ متوسمین غور و فکر کرنے والے۔ دھیان دینے والے ۔ مقیم سیدھا۔ امام سامنے، راستہ تشریح : آیت نمبر 61 تا 79 گزشتہ آیات میں اس بات کو تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر بےانتہا مہربان ہے اور جو بھی دامن مراد پھیلا کر آتا ہے وہ اس کے دامن کو اپنی رحمتوں سے بھر دیتا ہے لیکن جب کوئی قوم اپنے برے اعمال اور نافرمانیوں میں حد سے آگے بڑھ جاتی ہے اور کسی نصیحت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی تب اللہ کا وہ فیصلہ آجاتا ہے جس کے بعد معافی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ آپ نے اسی سورت میں کفار و مشرکین کے اس مطالبہ کو پڑھ لیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اے نبی ﷺ ! اگر آپ سچے ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتے کیوں نہیں بھیجے گئے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ اس سے مجبور اور بےبس نہیں ہے لیکن اس کا اپنا قانون یہ ہے کہ فرشتے اس وقت بھیجے جاتے ہیں جب کسی قوم کی تقدیر کا آخری فیصلہ کر دیاجاتا ہے۔ چناچہ قوم لوط جو اپنی بیحیائی اور خلاف فطرت اعمال میں اتنی آگے بڑھ گئی تھی کہ انسانیت کو اس پر شرم آنے لگی تھی۔ تب اللہ نے چند خوبصورت لڑکوں کی شکل میں اپنے فرشتوں کو بھیجا تاکہ اس قوم کو آخری مرتبہ سمجھا دیا جائے۔ اگر اب بھی وہ ناسمجھی کی اس راہ پر چلتے رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اللہ کا فیصلہ یعنی عذاب الٰہی اس قوم پر ٹوٹ پڑے گا۔ اور یہی ہوا حضرت ابراہیم کو حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق کی خوش خبری سنا کر یہ فرشتے حضرت لوط کے گھر پہنچ گئے۔ حضرت لوط بھی ان فرشتوں کو پہچان نہ سکے اور کہنے لگے کہ شاید تم اجنبی ہو۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے لوط ہم تو اللہ کا وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس کے متعلق ان لوگوں کا یہ گمان تھا کہ شاید ان پر عذاب الٰہی نہیں آئے گا۔ فرشتوں نے کہا کہ ہم اللہ کے حکم سے آئے ہیں اور اس قوم کا فیصلہ کردیا گیا ہے۔ لہٰذا آپ کے اہل خانہ اور آپ کے ماننے والے جب کچھ رات گذر جائے تو اس بستی سے اس طرح نکل جائیں کہ کوئی پیچھے پلٹ نہ کر دیکھے ہر شخص اس حکم کی تعمیل کرے جو اللہ کی طرف سے ان کو دیا گیا ہے۔ کیونکہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ جب اس قوم کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت لوط کی بیوی جو اللہ کے نافرمانوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور اس نے ایمان قبول نہیں کیا تھا اس نے شہر کے لوگوں کو اس بات کی اطلاع کردی کہ حضرت لوط کے پاس کچھ خوبصورت لڑکے بطور مہمان آئے ہوئے ہیں۔ یہ قوم جو اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکی تھی یہ سن کر حضرت لوط کے دروازے پر پہنچ گئی اور انداز ایسا تھا جیسے ان لوگوں کو اس اطلاع سے بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے کہ کچھ خوبصورت لڑکے ان کے شہر میں آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی اس بات کا مطالبہ کیا کہ اے لوط ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرے مہمان ہیں مجھے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔ اللہ کا خوف کرو اور مجھے رنجیدہ نہ کرو۔ لڑکیوں کی موجوگدی میں لڑکوں کی طرف کیوں مائل ہوتے ہو۔ ہماری بیٹیاں ہیں اگر تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو تو کونسی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا لوط ہم نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ تم سارے جہاں کی حمایت نہ کیا کرو یعنی اپنے کام سے کام رکھو۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی عمر کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے اے نبی ﷺ ! آپ کی عمر کی قسم وہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے بن چکے تھے یعنی ہر طرح کے خیر اور شرکا احسان ان کے دلوں سے مٹ چکا تھا۔ اس قوم کے لئے یہ آخری موقع تھا مگر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے چناچہ حضرت لوط اور ان کے گھر والوں (سوائے ان کی بیوی کے) اور ان پر ایمان والوں کو نجات عطا کردی گئی اور پھر ان کی پوری بستی کو ان پر اس طرح الٹ دیا گیا کہ نیچے کی زمین اوپر آگئی اور اوپر کی زمین نیچے چلی گئی اور پتھروں کی بارش کردی گئی اور سمندر کا پانی ان کی بستیوں پر اس طرح چڑھا دیا گیا کہ آج اس سمندر کا جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس سمندر کے غیض و غضب کا آج بھی یہ عالم ہے کہ اس پانی کو یہ بھی گوارا نہیں کہ اس میں کوئی کشتی چل سکے۔ سنا ہے کہ اگر کوئی اس پانی پر لیٹ جائے تو یہ سمندر اس کو ڈبوتا نہیں بلکہ کس بھی وجود کو اپنے اندر لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ غرضیکہ سمندر کے اس پانی کو ان کی بستیوں پر چڑھا کر ان کو ڈبو دیا گیا۔ ان پر پہلے پتھروں کی بارش کی گئی پھر پوری بستیوں کو ان پر الٹ دیا گیا۔ آج یہ قوم اپنے برے اعمال کی وجہ سے ساری دنیا کے لئے نشان عبرت بن کرگئی ہے۔ اس واقعہ کو بیان کر کے اللہ نے ” اصحاب الایکہ “ کی نافرمانیوں اور ان کی تباہی کا بھی ذکر کیا ہے ایکہ کے معنی گھنے اور گنجان درخت کے ہیں۔ یہ حضرت شعیب کی قوم تھی یعنی بن اور جنگل والے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اہل مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ ان کی ہدایت کے لئے حضرت شعیب کو بھیجا گیا تھا۔ یہ قوم بھی بہت ظالم و جابر کفر و شرک ڈاکہ زنی اور ناپ تول میں کمی اور عیاشیوں میں بہت مشہور ہے۔ اس قوم کا بھی یہی حال ہوا کہ جب ان کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں اور حضرت شعیب کی بات کو انہوں نے نہیں مانا آخر کار اللہ کا فیصلہ آگیا سات دن اور سات رات اتنی شدید گرمی پڑی کہ اس گرمی سے وہ لوگ بوکھلا اٹھے۔ آٹھویں دن بڑے گہرے بادل فضاؤں پر چھا گئے وہ قوم بہت خوش تھی کہ اب بارش ہوگی اور گرمی کی یہ شدت کم ہوجائے گی۔ مگر اچانک ان بادلوں سے آگ برسنا شروع ہوگئی اور پوری قوم راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئی وہ ان کی عمارتیں، خوبصورت سڑکیں اونچی اونچی بلڈنگیں ۔ مال و دولت قوم وو طاقت سب ایک لمحہ میں بھسم ہو کر رہ گئی مدینہ منورہ سے ملک شام کی طرف جاتے ہوئے آج ان کی بستیوں کے کھنڈرات اور جلی ہوئی بستیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان آیات میں چند باتوں کی مزید وضاحت عرض ہے : 1) قوم لوط کو خلاف فطرت جس فعل کی اتنی بھیانک سزا دی گئی کہ آج بحرمیت معمولی سی جان کو بھی اپنے اندر پنپنے کا موقع نہیں دیتا اور کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ ہمارے دور میں پھر سا فعل بد کو بڑے پیمانے پر تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ قوم لوط کا تو یہ جرم تھا کہ لڑکوں سے بدفعلی کرتے تھے۔ ان کے فیشن اور معاشرہ کا ایک حصہ بن گیا تھا۔ لیکن آج کل یورپ اور بر اعظم امریکہ میں تو اس بات کو بھی قانونی تحفظ دیدیا گیا ہے کہ ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ شادی کرسکتی ہے۔ شادی کا تو صرف نام ہے درحقیقت یہ بھی بدکاری کو تحفظ دینا ہے۔ اسی طرح ہر مرد مرد سے شادی کرسکتا ہے اس کو بھی قانونی تحفظ دیدیا گیا ہے آج جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایسے بدکار مرد اور بد کار عورتیں جلوس نکال کر اپنے حقوق اور مزید آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور جمہوریت کے نام پر یہ حکومتیں مجبور ہیں کہ جو عوام چاہتے ہیں وہی کام کئے جائیں۔ مجھے ایک بہت بڑا ڈر ہے کہ ان بدکاروں کی وجہ سے ایک دفعہ پھر یہ ساری دنیا تباہ و برباد ہو کر نہ رہ جائے۔ آثار تو شروع ہوچکے ہیں اور یہ پیشین گوئیاں شروع ہوچکی ہیں کہ امریکہ کا آدھا حصہ کسی بھی وقت کسی زلزلے کے نتیجے میں سمندر کے نیچے چلا جائے گا۔ یہ ہماری ظاہری آنکھیں دیکھ رہی ہیں نجانے قدرت کا کیا فیصلہ ہے اس کا تو کسی کو علم نہیں ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا اس فعل بد کی وجہ سے تباہ و برباد ہو کر رہ جائے۔ 2) دوسری بات یہ ہے کہ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کو بتا دیا کہ نجات صرف ان ہی لوگوں کو مل سکتی ہے اور ملتی رہی ہے جنہوں نے اللہ سے اور اس کے رسولوں سے وابستگی اختیار کی ہے۔ چناچہ حضرت لوط اور حضرت شعیب کے ان لوگوں کو بچا لیا گیا جو صاحب ایمان تھے اور بےایمانوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا۔ 3) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی عمر کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی تمہاری جان کی قسم یہ قوم اپنی بدمستی میں اندھی ہوچکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں زمین و آسمان، چاند، سورج اور ستاروں کی قسم کھائی ہے جو اس کی شان کے مطابق ہے اور سات مقامات پر اللہ نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے اور اس جگہ اللہ نے نبی کریم ﷺ کی عمر کی قسم کھائی ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی عمر مبارک کی قسم کھائی ہے یہ وہ اعزاز اور شرف ہے جو کسی نبی کو حاصل نہیں ہوا۔ اس سے معلمو ہوا کہ تمام انبیاء کرام میں نبی کریم ﷺ سب سے افضل و برتر ہیں۔ عرب کا عام رواج یہ تھا کہ جب کسی چیز کی قسم کھائی جاتی تھی تو وہ اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ جو بات کی جا رہی ہے وہ یقینی ہے۔ ہمیں اور آپ کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بھی قسم کھائیں لیکن اللہ جس چیز کی بھی قسم کھائیں یہ ان کی شان کے مطابق ہے کیونکہ ساری کائنات ان ہی کی ملکیت ہے۔
Ayahs 15:80–86

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

حجر کے رہنے والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا ۔

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

حالانکہ ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دی تھیں۔ مگر انہوں نے اس سے رو گردانی کی۔

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے اور وہ مطمئن تھے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

پھر انہیں صبح کے وقت ایک چنگھاڑنے آ لیا۔

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

تو ان کا کیا دھرا ان کے کچھ بھی کام نہ آیا

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو بغیر مصلحت کے پیدا نہیں کیا اور بیشک قیامت آنے والی ہے۔ اور (اے نبی ﷺ آپ ان کے ساتھ خوبی کے ساتھ درگزر کیجیے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب ہی پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 86 معرضین منہ پھیر کر چلنے والے۔ نظر انداز کرنے والے الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ۔ امنین امن و سکون سے رہنے والے۔ ما اغنی کام نہ آیا ۔ یکسبون وہ کماتے ہیں۔ الساعۃ قیامت۔ اصفع درگذر کر۔ الصفح الجمیل اچھی طرح خوبی سے درگزر کرنا۔ تشریح :- آیت نمبر 80 تا 86 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح اور قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا ان ہی میں اصحاب الحجر بھی تھے ” الحجر “ قوم ثمود کے اس مرکزی شہر کا نام ہے جس کے کھنڈرات آج بھی مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں تبوک جاتے ہوئے پڑتے ہیں۔ یہ جگہ چونکہ اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئی تھی اس لئے جب نبی کریم ﷺ اس مقام سے گذرے تو آپ نے اس تباہ شدہ بستی کے قریب جانے سے منع فرما دیا۔ اسی لئے یہاں کوئی قافلہ گذرتا تو وہ اس وادی میں قیام نہیں کرتا تھا۔ قوم ثمود دنیا کی متمدن ترین قوم تھی ان کی تہذیب معاشرت اور معیشت نہایت ترقی یافتہ تھی۔ ہر طرف خوش حالی کا دورہ دورہ تھا۔ ان کی تعمیرات کا یہ حال تھا کہ وہ پہاڑوں کو نہایت خوبصورتی سے تراش تراش کر بیس بیس منزلہ عمارتیں بناتے تھے جن کی تعمیرات کے نمونے آج تک موجود ہیں۔ دنیاوی ترقی کا تو یہ عالم تھا لیکن کفر و شرک اور بدعات نے اس قوم کو اعمال و اخلاق کے اعتبار سے بالکل کھوکھلا کر کے رکھ دیا تھا انبیاء کرام تشریف لاتے رہے مگر انہوں نے اپنے مال و دولت بلند وبالا عمارتوں اور تذہیب و تمدن کی بدمستی میں اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کو اور ان کی تعلیمات کو حقارت سے ٹھکرا دیا تھا۔ آخر کار اللہ کا وہ فیصلہ آگیا جو نافرمان قوموں کا مقدر ہوتا ہے۔ ایک زبردست اور تیز آواز نے ان کی تہذیب اور ترقیات کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور وہ دنیاوی وسائل جن پر اس قوم کو ناز تھا ان کے کام نہ آسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں کفار مکہ کو بھی اس بات پر آگاہ کیا ہے کہ دوسری قوموں کے حالات سے سبق حاصل کریں اور اللہ کے آخر نبی اور رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان لے آئیں۔ اگر انہوں نے بھی ان کی ناقدری کی اور اس موقع کو غنیمت نہ سمجھا تو وہ اپنے برے انجام پر غور کرسکتے ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کفار کی ایذا رسانیوں اور ظلم و ستم سے نہ گھبرائیں۔ اللہ نے آسمان و زمین اور اس پوری کائنات کا نظام یونہی نہیں بنایا بلکہ ایک نظام کے تحت بنایا ہے۔ حالات جگہ اور قومیں بدلتی رہتی ہیں۔ قومیں عروج وزوال کا شکار ہوتی رہتی ہیں لیکن وہ خالق کائنات جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا وہ اس نظام کائنات کا نگراں ہے۔ فرمایا کہ اے اے نبی ﷺ آپ ان کو ان کے انجام سے باخبر کردیجیے اور ان سے درگزر کیجیے اگر ابھی یہ کسی طرح بچ بھی جائے تو قیامت دور نہیں ہے۔ ایک ایک بات کا فیصلہ ہوئے گا۔
Ayahs 15:87–99

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور یقیناً ہم نے آپ کو بار بار دھرائی جانے والی سات آیتیں اور عظیم قرآن عطا کیا ہے۔

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

آپ ان مختلف چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے جو ہم نے کافروں کو دے رکھی ہیں۔ اور نہ آپ رنجیدہ ہوں اور اہل ایمان پر شفقت و محبت رکھئے

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں۔

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

جیسا کہ ہم نے (کتاب الٰہی کو) تقسیم کرنے والوں پر عذاب نازل کیا ہے۔

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے قرآن عظیم کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

(کچھ کو مانا اور کچھ کو نہ مانا) آپ کے رب کی قسم ہم ان سے ضرور پوچھیں گے

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

کہ وہ کیا کرتے رہے تھے

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے اس کو کیجیے اور مشرکین سے منہ پھیر لیجیے

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

بیشک ہم مذاق اڑانے والوں (کے خلاف) آپ کے لئے کافی ہیں۔

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ پھر وہ بہت جلد (اس حقیقت کو) جان لیں گے۔

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

البتہ ہم ان تمام باتوں سے واقف ہیں جو وہ کہتے ہیں جس سے آپ دل تنگ نہ ہوں۔

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

آپ اپنے رب کی حمد وثناء کیجیے اور سجدے کرنے والوں میں سے ہو جایئے۔

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اپنے رب کی عبادت و بندگی کیجیے یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات (یعنی موت) آجائے۔

لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99 اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔ تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99 سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے مقابلے میں قرآن کریم کی شان اور عظمت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہے کہ آج یہ دنیا پرست اپنے مال و دولت پر فخر و غرور کر رہے ہیں ان کو اپنی سرداریوں اور اعلیٰ خاندانوں پر بڑا ناز ہے اور اسی غرور وتکبر کے نشے میں یہ صحابہ کرام پر مشق ستم کر رہے ہیں صحابہ کرام کی غربت و افلاس کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن ان کو نہیں معلوم کو یہ دنیا کی دولت اور عیش و آرام بہت جلد ختم ہوجائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والی چیز نہیں ہے گزشتہ قومیں تو ان سے بھی زیادہ مضبوط اور طاقت ور تھیں لیکن آج ان کا وجود اس طرح مٹ گیا ہے کہ ان کی تہذیب و ترقی کے کھنڈرات نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کی پرواہ نہ کیجیے۔ اللہ نے آپ کو سارا قرآن کریم عطا فرمایا ہے اور سات ایسی آیتیں عطا فرمائی ہیں جو زمانے اور حالات کے بدلنے سے نہیں بدلیں گی اور نہ ہم ہوں گی بلکہ ہمیشہ باقی رہیں گی۔ قرآن کریم ایک عظیم نعمت ہے اس نعمت کے مقابلے میں دنیا کی ساری زیب وزینت اور مال و دولت کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہم جانتے ہیں کہ کفار کے ظلم و ستم اور ذہنی اذیتوں سے آپ اپنے دل میں ایک تنگی سی محسوس کرتے ہیں لیکن وقت اور حالات بدلنے والے ہیں۔ آپ اپنے صحابہ کرام پر شفقتیں فرمئایے اور ہر چیز سے بےنیاز ہو کر اللہ کا دین پہنچایئے کیونکہ اللہ ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے جب جس حکم کو چاہتے ہیں مانتے ہیں جس حکم کو چاہتے ہیں نظر انداز کردیتے ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے نبٹنے کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔ ان کو اپنے کھلونوں سے کھیلنے دیجیے وہ وقت دور نہیں جب ان کا انجام بھی ان کے سامنے آجائے گا آپ زندگی کے آخری سانس تک اللہ کا دین پہنچانے کی کوشش کرتے رہئے اور کسی ظالم و جابر کی پرواہ نہ کیجیے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ کا دین پہنچانے کے لئے چپکے چپکے تبلیغ دین فرمایا کرتے تھے لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی ” فاصدع بما تو مر “ (یعنی آپ وہ کیجیے جس کا حکم دیا گیا ہے) تو اس کے بعد نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے کھلم کھلا دین اسلام کی تبلیغ شروع کردی۔ الحمد للہ سورة الحجر کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوئی۔ واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین