15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 15:26–44

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے انسان کو کھنکھناتے ہوئے سیاہ سڑے گا رے سے بنایا ہے

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنات کو پہلے ہی سے ایک ایسی آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہ تھا

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب آپ ﷺ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں کھنکھناتے ہوئے سڑے گارے سے انسان کو پیدا کروں گا

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

پھر جب میں اس کو درست کرلوں اور اسمیں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ میں گر جانا۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

اس کے بعد سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا۔

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

اس نے انکار کیا۔ اس نے اس بات کو قبول نہیں کیا وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

اللہ نے کہا کہ اے ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا۔

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

ابلیس نے کہا میں ایسا نہیں ہوں جو اس بشر کو سجدہ کروں جس کو تو نے کھنکھناتے ہوئے سڑے گارے سے پیدا کیا ہے۔

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا تو یہاں سے نکل جا۔ پس بیشک تو مردود ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور بیشک تجھ پر انصاف کے دن (قیامت) تک لعنت ہے۔

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

اس نے کہا میرے رب مجھے اس دن تک مہلت دیدیجیے جس دن سب مردے اٹھائے جائیں گے۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ بیشک تو مہلت دیئے جانے والوں میں سے ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

اس دن تک جس کا وقت مقرر ہے۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

کہنے لگا میرے رب جب کہ تو نے مجھے بہکا دیا ہے تو میں ان کے لئے زمین میں (گناہ کو) خوبصورت بناؤں گا اور میں ضرور سب کو گمراہ کروں گا۔

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

سوائے ان کے جو تیرے مخلص بندے ہیں۔

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

اللہ نے کہا یہی راستہ سیدھا میری طرف آتا ہے۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

بیشک میرے (مخلص) بندوں پر تیرا زور نہیں چلے گا سوائے ان لوگوں کے جو تیرے پیچھے لگ جائیں

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور بیشک سب گمراہوں کے لئے جہنم وعدہ کی جگہ ہے۔

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

جس جہنم کے ساتھ دروازے ہوں گے اور ہر دروازے میں ایک حصہ ان کے لئے مخصوص ہوگا۔

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44 صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 44 اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیات میں کائنات اور اس کے عظیم الشان نظام کا ذکر فرمایا تھا کہ اس اللہ نے ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ زمین، آسمان، چاند، سورج ، ستارے ، شجر و حجر، دریا و سمندر اور ہر طرح کے پھلوں کو پیدا کیا تاکہ انسان اپنی زندگی کا سامان حاصل کرسکے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان اور جنات کی تخلیق، انسانی عظمت کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے اور ابلیس کی نافرمانیوں کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ ہم نے انسان کو کھنکھناتے ہوئے سیاہ سڑے گارے سے بنایا ہے اور جنات کو انسانوں سے بھی پہلے ایسی آگ سے پیدا کیا جو صاف و شفاف اور بغیر دھوئیں کے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ میں ایسی مٹی سے انسان کو بنا رہا ہوں جو بجنے والی اور سڑے گارے والی ہے۔ جب میں انسانی پتہ بنا کر اس میں روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ کرنا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ لیکن ابلیس (شیطان) جو قوم جنات سے تھا اور فرشتوں کا سردار تھا اس نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ اے ابلیس جب میں نے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا تو تجھے کیا ہوا کہ تو نے اس کو سجدہ نہیں کیا۔ ابلیس نے کہا کہ میں ایسے بشر کو کیسے سجدہ کرسکتا تھا جو بجنے والی سڑی ہوئی مٹی سیپ یدا کیا گیا ہے۔ یعنی میں تو صاف شفاف آگ سے پیدا کیا گیا ہوں جس میں دھواں تک نہ تھا جب کہ انسان ایک حقیر مادہ سے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کو میرے قدموں پر جھکنا چاہئے تھا۔ یہ اس کا تکبر اور پانی ذات کی بڑائی تھی جو اللہ کو پسند نہیں آئی۔ فرمایا کہ اے ابلیس تو یہاں سے نکل جا (جنت سے، آسمانوں سے ، گروہ ملائکہ سے) تو اللہ کی بارگاہ سے نکالا ہوا ہوگیا اور بیشک قیامت تک تیرے اوپر لعنت برستی رہے گی یعنی تو اللہ کی رحمت سے دور رہے گا۔ مزید تکبر کرتے ہوئے کہنے لگا کہ اے اللہ ! مجھے اس دن تک می ہلت دیجیے جب سارے انسان دوبارہ اٹھائی جائیں گے یعنی قیامت تک۔ اللہ نے فرمایا کہ ایک مدت مقرر تک یعنی قیامت تک تجھے مہلت دیدی گئی۔ ابلیس کہنے لگا کہ اے اللہ جیسا کہ تو نے مجھے (بھٹکا دیا (نعوذ باللہ، اللہ پر ہی الزام لگا دیا) میں بھی زمین میں ان کے دل فریب نظارے بکھیر دوں گا اور ان کو گمراہ کروں گا۔ ہاں البتہ وہ لوگ جو تیرے خالص بندے ہیں میں ان کا کچھ نہ کرسکوں گا۔ اللہ نے فرمایا کہ یہی راستہ سیدھا میری طرف آتا ہے یعنی یہی لوگ جو صراط مستقیم پر ہوں گے ان پر تیرا کوئی زور نہ چل سکے گا۔ رہے وہ لوگ جو تیرے پیچھے چلیں گے ان سے دوزخ کو بھر دوں گا، فرمایا کہ جہنم کے ساتھ دروازے ہیں ان کفار کے جیسے اعمال ہوں گے میں اس کے مطابق ان کو ان دروازوں سے گذار دوں گا۔ ان آیات سے متعلق چند ضروری وضاحتیں ملاحظہ کر لیجیے۔ 1) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہر جگہ یہی ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے انسانوں کو ایک ایسی مٹی اور گارے سے بنایا ہے جو سڑا وہا، سیاہ اور کھنکھنانے والا اور بجنے والا مادہ ہے ۔ یعنی انسان کو یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہئے کہ وہ زمین کے اعلیٰ ترین مادے سے نہیں بلکہ سڑے ہوئے مادہ سے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اللہ نے اس انسان کو کائنات میں عظمت عطا فرمائی ہے اور شیطان کے تکبر نے اسے قیامت تک اللہ کی بارگاہ سے نکلوا دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل چیز اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل ہے انسان میں خوبی اس کے حکم اور اطاعت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ 2) تکبر اتنی بری چیز ہے کہ وہ عزازیل جو قوم جنتا سے تھا اور تمام فرشتوں کا سردار بنا دیا گیا تھا جب اس نے اللہ کے حکم کی تعمیل نہیں کی، تکبر، غرور اور بڑائی اختیار کی تو اللہ نے اس کو نہ صرف فرشتوں کی سرداری ، جنت کی راحتوں اور عزت سے محروم کردیا بلکہ قیامت تک اس کو ابلیس اور شیطان کا نام دے دیا اور فرما دیا کہ جو شخص بھی اس متکبر اور غرور کا کہا مانے گا اللہ اس سے اسی طرح ناراض ہو کر اس کو ابدی جہنم میں جھونک دے گا۔ اللہ تعالیٰ کو تکبر اور نافرمانی کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ 3) جو اللہ کے نیک اور مخلص بندے ہیں شیطان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ ان کی حفاظت اللہ کی طرف سے کی جاتی ہے۔ ایسے ہی لوگ صراط مستقیم پر ہیں اور جنت کی ابدی راحتوں کے مستحق ہیں۔ 4) اس کے برخلاف شیطان کے طریقوں کو اپنانے والے جیسے ان کے اعمال ہیں گے ہر ایک کے لئے ایک دروازہ بنا دیا ہے۔ جہنم کے کل سات دروازے ہیں۔ ان لوگوں کو ان دروازوں سے گذرنا ہوگا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس طرح جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اسی طرح جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ ان دروازوں سے اپنے اعمال کے مطابق ہر شخص جنت میں داخل ہوگا۔
Ayahs 15:45–50

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

بیشک اہل تقویٰ کے لئے جنتیں اور چشمے ہوں گے۔

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا کہ تم ان میں امن اور سلامتی کے ساتھ بےفکر ہو کر داخل ہو جاؤ

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں جو باہمی رنجش ہوگی اس کو ہم نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے۔

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

ان جنتوں میں ان کے لئے نہ تو تکلیف (بےسکونی اور محنت و مشقت) ہوگی اور نہ وہ ان سے نکالے جائیں گے۔

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں کو بتا دیجیے کہ میں بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہوں

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

(لیکن) بیشک میرا عذاب بھی درد ناک عذاب ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 عیون (عین) چشمے۔ ادخلوا تم داخل ہوجاؤ سلام سلامتی، امن و سکون۔ نزعنا ہم نے کھینچ نکالا۔ غل باہمی رنجش، ناراضگی، کینہ۔ سرر (سریر) ، تخت ، بیٹھنے کی اونچی جگہ۔ متقابلین ایک دوسرے کے سامنے۔ نصب بےسکونی، محنت و مشقت، تکلیف۔ نبئی بتا دے، ، خبردار کر دے۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 حضرت آدم کی پیدائش، ان کا جنت میں قیام اور شیطان کی نافرمانی کے بعد جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت مانگی اور وہ مہلت دیدی گئی اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیزگاری کی زندگی اختیار کریں گے ان کی جنت کی دائمی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرماں بردار بندوں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ لوگ جو تقویٰ ، پرہیزگاری اور نیکی کی زندگی اختیار کریں گے ان کو ایسی جنتیں عطا کی جائیں گی جن میں دودھ، پانی اور شہد کے چشمے جاری ہوں گے جو بھی اہل تقویٰ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ تم ان جنتوں میں داخل ہوجاؤ اور امن و سلامتی کی زندگی اور راحتیں حاصل کرو۔ ان کے دلوں میں اگر کچھ کدورتیں، نفرتیں یا کینہ ہوگا۔ تو وہ سب نکال کر اس کی جگہ محبت اور پیار بھر دیا جائے گا اور وہ حقیقی بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے۔ نہ ان جنتوں میں کوئی محنت، مشقت اور روزی کے لئے بھاگ دوڑ ہوگی اور نہ وہ کبھی ان جنتوں سے نکالے جائیں گے۔ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : اہل جنت سے کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہوگے۔ تم کبھی بیمار نہ پڑو گے اب تم ہمیشہ زندہ رہوگے۔ اب تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ تم ہمیشہ جوان رہوگے تمہارے اوپر بڑھاپا نہیں آئے گا۔ اب تم (اسی جنت میں) مقیم رہوگے۔ اب تمہیں سفر کی مشقتیں نہ اٹھانا پڑیں گی۔ ان آیات کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ میں اپنے بندوں پر بہت زیادہ مہربان ہوں اور ان کی خطاؤں کو بہت معاف کرنے والا ہوں۔ لیکن جب میں گناہگاروں کو پکڑنے پر آتا ہوں تو بہت سخت پکڑتا ہوں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ ان کی بڑی سے بڑی خطا معاف کرسکتا ہے اور کرتا ہے لیکن وہ صرف ایک مہربان و شفیق ہی نہیں ہے بلکہ وہ ان لوگوں کو جو گناہ اور خطاؤں سے باز نہیں آتے جب ان کو پکڑنے پر آتا ہے تو کوئی اس سے چھڑا نہیں سکتا۔
Ayahs 15:51–60

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اے نبی ﷺ انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دیجیے

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ اس کے پاس آئے تو انہوں نے اس کو سلام کیا۔ ابراہیم نے کہا کہ بیشک ہمیں تم سے ڈر محسوس ہو رہا ہے۔

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

(فرشتوں نے) کہا آپ نہ ڈریئے۔ بیشک ہم تو آپ کو ایک صاحب علم بیٹے کی خوش خبری دینے آئے ہیں۔

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

(ابراہیم نے ) کہا کیا تم مجھے اس حال میں خوشخبری سنا رہے ہو کہ جب مجھے بڑھاپا پہنچ گیا ہے۔ پھر تم کس چیز کی خوش خبری دے رہے ہو ؟

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

(فرشتوں نے) کہا ہم آپ کو بالکل سچی خوش خبری دے رہے ہیں اور آپ ناامید لوگوں میں سے نہ ہوں۔

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا (اس میں کوئی شک نہیں) کہ اپنے رب کی رحمت سے تو صرف گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

اس نے پوچھا کہ اب تمہارا ارادہ کیا ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ سوائے لوط کے گھرانے ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

البتہ ہم ان سب کو بچالیں گے

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

سوائے لوط کی بیوی کے جس کے لئے ہم نے اندازہ کرلیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں (یعنی مجرم قوم میں رہ جانے والی) ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 ضعیف مہمان۔ وجلون (وجل) ۔ ڈرنے والے لاتوجل تو خوف نہ کر۔ تو نہ ڈر۔ نبشرک ہم خوش خبری دیتے ہیں تم کو۔ غلام علیم علم رکھنے والا لڑکا۔ الکبر بڑھاپا۔ القانطین مایوس ہونے والے۔ الضالون بہکنے والے، گمراہ ۔ ماخطب کیا اصل کام ہے ؟ المرسلون بھیجے ہوئے ۔ منجوھم ہم ان کو بچا لیں گے قدرنا ہم نے فیصلہ کرلیا۔ اندازہ کرلیا۔ الغبرین پیچھے رہ جانے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ ہزاروں گناہوں اور مسلسل خطاؤں کے باوجود وہ کسی کو ہر خطا پر نہیں پکڑتا لیکن جب کوئی بندہ یا کوئی قوم گناہ پر گناہ اور اللہ کی نافرمانیوں کی انتہا کردیتی ہے تب اس کی گرفت کی جاتی ہے۔ اللہ ہر آن اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے کے لئے اپنی رحمتیں بکھیرتا رہتا ہے۔ گزشتہ آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا اے نبی ﷺ ! آپ میرے بندوں کو بتادیجیے کہ میں بہت مغفرت کرنے والا مہربان ہوں لیکن جب میں گرفت کرتا ہوں تو پھر مجھ سے کوئی اپنے آپ کو چھڑا نہیں سکتا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی دو کیفیات کا ذکر فرمایا ہے۔ کچھ فرشتے خوبصورت انسانوں کی شکل میں حضرت ابراہیم کے پاس پہنچے۔ حضرت ابراہیم ان کے اجنبی چہروں سے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ہی گھر کے اندر تشریف لے گئے تاکہ جو کچھ میسر ہو وہ مہمانوں کی خدمت میں پیش کردیا جائے ۔ گھر میں بچھڑا تھا حضرت ابراہیم نے اس کو ذبح کیا اور بھنا ہوا گوشت لے کر مہمانوں کے پاس تشریف لائے تاکہ مہمان جی بھر کر کھانا کھا لیں۔ مگر حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ وہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں۔ اس زمانہ میں اگر کوئی اجنبی مہمان کھانے سے انکار کردیتا تو یہ اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ اس کے ارادے بظاہر اچھے نہیں ہیں۔ جب حضرت ابراہیم کے اصرار کے باوجود انہوں نے کھانے سے انکار کردیا تو حضرت ابراہیم کے دل میں یہ خوف پیدا ہونا قدرتی بات تھی کہ ان لوگوں کے آنے کا مقصد کیا ہے ؟ تب فرشتوں نے اپنے آپ کو حضرت ابراہیم پر ظاہر کردیا کہ وہ اللہ کے فرشتے ہیں جو ان کو (حضرت ابراہیم کو) حضرت اسحاق کی پیدائش کی خوش خبری دینے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے بےساختہ کہا کہ اس بڑھاپے میں اولاد کی خوش خبری کیسے ممکن ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ اے ابراہیم ہم نے جو کچھ خوش خبری دی ہے وہ برحق ہے اور آپ مایوس نہ ہوں کیونکہ اللہ کی رحمت سے مایوس تو صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو گمراہ ہیں پھر حضرت ابراہیم کے پوچھنے پر ان فرشتوں نے کہا کہ ہم قوط لوط جیسی مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ البتہ حضرت لوط کے گھر والوں کو نجات دینے کے لئے آئے ہیں لیکن ان کی وہ بیوی جو نافرمان ہے اور اللہ پر یقین نہیں رکھتی ان مجرمین کی ساتھی ہے وہ بھی اس قوم کے ساتھ رہ جائے گی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے۔ ان آیات کی چند باتوں کی وضاحت ملاحظہ کر لیجیے : 1) ضعیف ابراہیم :- …… ابراہیم کے مہمان یعنی انہوں نے اپنے مہمانوں کے لئے کس قدر زبردست خلوص پیش کیا کہ ان کو سب سے پہلے اس بات کی فکر ہوگئی کہ یہ اجنبی مہمان ہیں قینا دور دراز سے آئے ہیں۔ بھوک پیاس سے نڈھال ہوں گے ہر بات سے پہلے ان کی مہمان داری میں لگ گئے۔ اپنے مہمانوں کی تواضح کے لئے خود ہی محنت و مشقت میں لگ گئے۔ نبی کریم ﷺ بھی اسی سنت انبیاء پر تھے کہ جب کوئی بھی مہمان آتا تو آپ اپنے دست مبارک سے اس کی خاطر تواضع میں کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ 2) جب وہ فرشتے انسانی شکل میں آئے تو انہوں نے آتے ہی سلام کیا۔ نبی کریم ﷺ کی ہدایات کی روشنی میں یہ اصول ملتا ہے کہ ہر آنے والا سب سے پہلے موجود لوگوں کو سلام کرے۔ اگر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہوں تو جو کھڑے ہیں یا آنے والے ہیں وہ ان کو سلام کریں جو بیٹھے ہوئے ہیں۔ البتہ اگر کچھ لوگ تلاوت قرآن کریم یا نماز میں مشغول ہوں تو سلام نہیں کرنا چاہئے۔ 3) دشمن کا خوف طاری ہوجانا تقاضائے بشریت ہے۔ خوف پیدا ہونا بشریت یا نبوت کی شان کے خلاف نہیں ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے کفار سے چھپ کر رات کی تاریکی میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ کفار مکہ کی ایذا رسانیوں سے بچ کر غار ثور میں تین دن تک چھپے رہے اور اس کے بعد آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ وہاں سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ 4) اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے کوئی چیز بعید نہیں ہے۔ وہ انسانوں کی طرح وسائل کا محتاج نہیں ہے بغیر ماں اور باپ کے حضرت آدم کو پیدا فرمایا۔ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ کو پیدا کیا، ایک سو دس سال کی عمر میں حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ جب اللہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کو کرنے کا حکم دیتا ہے اور وہ کام ہوجاتا ہے۔ 5) ایک مومن اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیم نے تعجب سے کہا کہ اس بڑھاپے میں میرے گھر کیسے اولاد ہو سکتی ہے جبکہ میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے یعنی اولاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس پر فرشتوں نے عرض کیا کہ یہ اللہ کی رحمت اور اس کی طرف سے خوشخبری ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اس کائنات کے نظام کو چلاتا ہے۔ مایوس تو صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو راہ پر نہ ہوں اس سے معلوم ہوا کہ ایک مومن کو امید کا دامن تھامے رہنا چاہئے۔ 6) فرشتے مجرم قوم کو تباہ و برباد کرنے اور اللہ کے حکم سے ان تمام لوگوں کو نجات دینے کے لئے آئے تھے جو حضرت لوط کے ماننے والے تھے ” آل “ سے مراد یہی لوگ ہیں۔ اسی طرح فرشتوں کو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ حضرت لوط کے گھر والوں کو بھی اللہ کے عذاب سے دور رکھیں لیکن حضرت لوط کی بیوی ان نجات پانے والوں میں شامل نہیں ہوگی کیونکہ وہ مجرم قوم کی ساتھی ہے جس طرح وہ لوگ پیچھے رہیں گے اسی طرح حضرت لوط کی بیوی کا انجام بھی ان ہی کے ساتھ ہوگا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اصل چیز ایمان ہے کسی کا رشتہ دار ہونا نجات کے لئے کافی نہیں ہے۔