Ayah 8:5858(واما تخافن من قوم خیانۃ) جیسے بنو قریظہ اور بنو نضیر سے ظاہر ہوا (فام نبذ الیھم علی سوآئ) یہی جنگ سے پہلے ان کو اطلاع کردیں کہ آپ (علیہ السلام) نے ان کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا ہے تاکہ معاہدہ کے ٹوٹنے کے علم میں تم سب برابر ہو جائو تاکہ ان کو یہ وہم نہ ہو کہ آپ (علیہ السلام) نے لڑائی کر کے توڑا ہے (ان اللہ لایحب الخآئنین) سلیم بن عامر نے حمیر کے ایک شخص سے روایت کیا ہے وہ کہتا ہے کہ حضرت معاویہ ؓ اور رو م کے درمیان معاہدہ تھا۔ آپ ؓ فوج لے کر ان کے شہروں کی طرف چل پڑے کہ جیسے ہی عہد ٹوٹے گا تو ان پر حملہ کردیں تو ایک آدمی گھوڑے پر سوار ہو کر آیا اور کہا اللہ اکبر اللہ اکبر ! وعدہ پورا کر ددھو کہ نہ دو ۔ حضرت معاویہ ؓ نے دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ ؓ تھے تو حضرت معاویہ ؓ نے پوھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جس شخص کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو وہ نہ گرہ باندھے اور نہ کھولے جب تک معاہدہ کی مدت ختم نہ ہوجائے یا ان کا معاہدہ توڑ کر ان کو بتادے تو حضرت معاویہ ؓ واپس لوٹ گئے۔
Ayah 8:5959(ولا یحسبن الذین کفروا سبقوا) ابو جعفر، ابن عامر، حمزہ اور حفص رحمہما اللہ نے ” یحسبن “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ۔ ” سبقوا “ چھوٹ گئے۔ یہ آیت ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بدر کے دن بھاگ گئے تھے۔ پس جنہوں نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ کہتے ہیں ” لایحسبن الذین کفروا “ مطلب یہ ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہمارے عذاب سے بھاگ نکلے اور جنہوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے تو یہ خطاب کا صیغہ ہے۔ ابن عامر (رح) نے ” انھم لایعجزون “ الف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اس لئے کہ وہ عاجز نہیں کرسکتے اور مجھ سے چھوٹ نہیں سکتے اور دیگر حضرات نے الف کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے ابتداء کی بناء پر ۔
Ayah 8:6060(واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ) الاعد اد ضرورت کے وقت کے لئے کسی چیز کو تیار کرنا۔ یعنی وہ آلات جو تمہارے لئے قوت کا سبب بنیں جیسے گھوڑے ہتھیار وغیرہ۔ عقبہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ نے منبر پر فرمایا اور تیار کرو ان کی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کرسکو قوت سے، سن لو ! بیشک قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو ! بیشک قوت تیر اندازی ہے، سن لو ! بیشک قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو ! بیشک قوت تیر اندازی ہے اور اسی سند کے ساتھ عقبہ میں عامر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ عنقریب تم پر روم فتح کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ تمہیں کافی ہوجائیں گے تو تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز نہ ہو کہ اپنے تیروں کے ساتھ کھیل کود کرے۔ حمزہ بن ابی اسید (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا جب ہم قریش کے لئے صف باندھ کر کھڑے تھے اور انہوں نے بھی صفیں بنالیں تھیں (جب دشمن تمہارے قریب آئے تو تم تیروں کو لازم پکڑو) ابو نجیح سلمی ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ طائف کا محاصرہ کیا تو میں نے آپ (علیہ السلام) کو یہ فرماتے سنا کہ جس کا تیر نشانہ پر لگا اللہ کے راستہ میں تو اس کے لئے جنت میں ایک درجہ ہوگا۔ ابو تجیح ؓ فرماتے ہیں کہ اس دن میرے سولہ تیر نشانہ پر لگے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ جس نے اللہ کے راستے میں تیر پھینکا تو وہ (جہنم سے) آزاد کیا گیا۔
عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریں گے اس کے بنانے والے کو اور اس کے دینے والے کو اور اس کو اللہ کی راہ میں پھینکنے والے کو۔ عقبہ بن عامر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعے تین بندوں کو جنت میں داخل کریں گے۔ اس تیر کے بنانے والے کو جب اس نے بنانے میں خیر کی نیت کی ہو اور اس کے پھینکنے والے کو اور اس تیر دینے والے کو اور تم تیر اندازی کرو اور سوار رہو اور اگر تم تیر اندازی کرو تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ تم سوار ہو۔ ہر کھیل جو آدمی کھیلے وہ باطل ہے مگر اپنی کمان سے تیر پھینکنا اور اپنے گھوڑے کو تیار کرنا اور اپنی بیوی سے کھیل کود کرنا یہ حق میں سے ہے اور جس شخص نے تیر اندازی سیکھ کر چھوڑ دی اس سے بےرغبتی کرتے ہوئے تو یہ نعمت ہے جس کو اس نے چھوڑ دیا ہے یا فرمایا اس نے اس نعمت کا انکار کیا (ومن رباط الخیل) یعنی ان کو تیار کیا جہاد کے لئے۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ قوت سے مراد نر گھوڑے اور رباط الخیل سے مراد مئونث گھوڑیاں ہیں۔ عروہ بارقی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں خیر باندھی گئی ہے قیامت کے دن تک یعنی اجر اور غنیمت ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں گھوڑے کو روکا اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدہ کی تصدیق کرتے ہوئے بیشک اس کا پیٹ بھرنا اور سیراب ہونا اور اس کا گوبر اور پیشاب قیامت کے دن اس کے ترازو میں ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑے تین (طرح کے) ہوتے ہیں۔ ایک گھوڑا آدمی کیلئے (گناہ کا) بار ہوتا ہے۔ دوسرا گھوڑا آدمی کے لئے (بےآبروئی اور دوزخ سے) پردہ (آڑ، حفاظت) ہوتا ہے اور تیسرا گھوڑا آدمی جہاد میں شریک ہونے کے لئے پالے اور اللہ نے جو حق گھوڑے کی سواری اور گھوڑے کی ذات سے وابستہ کردیا ہے۔ اس کو فراموش نہ کرے تو ایسا گھوڑا اس شخص کے لئے پردہ ہے اور جو گھوڑا کسی مسلمان کو جہاد میں شریک کرنے کے لئے کوئی پالے وہ باعث اجر ہے۔ اگر ایسے گھوڑے کو کسی چراگاہ یا سبزہ زار میں باندھ دے گا اور گھوڑا اس چراگاہ یا سبزہ زار سے کچھ کھائے گا تو جتنا وہ کھائے گا اسی کے بقدر گھوڑے والے کے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی اور جو لید یا پیشاب کرے گا۔ اسی کے بقدر مالک کے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ جب گھوڑا رسی تڑوا کر کہیں ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر ک لیلیں بھرے گا تب بھی اس کے قدموں کے نشانات اور لید اور پیشاب کے بقدر مالک کے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اگر گھوڑے کو پانی پلانے کے لئے دریا پر جائے گا اور وہ وہاں پانی پئے گا تو جتنا اس نے پانی پیا ہوگا۔ اس کے بقد مالک کے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔
(کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور دوسروں پر ان کے سوا جن کو تم نہیں جانتے اللہ ان کو جانتا ہے) مجاہد ، قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں بنو قریظہ والے مراد ہیں۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ فارس والے مراد ہیں۔ حسن اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ منافقین مراد ہیں تم ان کو نہیں جانتے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ لا الہ الا اللہ کہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ کافر جن مراد ہیں (وما تنفقوا من شیء فی سبیل اللہ یوف الیکم وانتم لاتظلمن) اور تمہارے اجر سے کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 8:61تفسیر 61(وان جنحوا للسلم) یعنی صلح کی طرف مائل ہوں (فاجنح لھا) یعنی ان سے صلح کرلیں۔ قتادہ اور حسن رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ یہ آیت ” اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ کی وجہ سے منسوخ ہوچکی ہے (و توکل علی اللہ ط انہ ھو السمیع العلیم)
Ayah 8:6262(وان یریدوآ ان یخدعوک) وہ غداری کریں یا کوئی دھوکہ کریں تمہارے ساتھ بنو قریظہ کے لوگ (فان حسبک اللہ) اللہ تمہیں کافی ہے۔ (ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین) انصار کے مددگاروں کے ساتھ ۔
Ayah 8:6363(والف بین قلوبھم) یعنی اوس اور خزرج میں کہ جاہلیت میں ان کے درمیان دشمنیاں تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھائی بھائی بنادیا۔ (لو انفقت مافی الارض جمعاً ما الفت بین قلوبھم ولکن اللہ الف بینھم ط انہ عزیز حکیم)
Ayah 8:6464(یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من الممونین) سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں نبی کریم ﷺ پر تینتیس (33) مرد اور چھ عورتیں اسلام لائیں۔ پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ اسلام لائے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اور (من) کے محل میں اختلاف ہوا ہے اکثر مفسرین فرماتے ہیں اس کا محل جر ہے (حسبک اللہ) کی کاف پر عطف کرتے ہوئے اور حسبک من اتبعک اور بعض نے کہا ہے یہ مرفوع ہے اللہ کے اسم پر عطف کرتے ہوئے اس کا معنی اللہ اور آپ کے ممن متبعین آپ پر کافی ہیں۔
Ayah 8:6565(یایھا النبی حرض المومنین علی القتال) قتال پر ان کو ابھاریئے (ان یکن منکم عشرون) بیس مرد ہوں (صبرون) صبر کرنے والے (یغلبوا مائتین) دشمنوں پر غالب آجائیں (وان یکن منکم مائۃ) اگر ہوں ان میں سو جو صبر کرتے ہوں (یغلبوآ الفامن الذین کفروا) یہ اس وجہ سے کہ (بانھم قوم لایفقھون) یعنی مشرکین ثواب کی طلب کے بغیر لڑتے ہیں اس لئے ثابت قدم نہیں رہ سکتے۔ یہ آیت خبر ہے لیکن امر کے معنی میں ہے۔ بدر کے دن اللہ تعالیٰ نے یہ فرض کیا تھا کہ ایک آدمی مئومنین میں سے دس کافروں سے لڑے تو مئومنین پر یہ حکم بھاری ہوا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور فرمایا۔
Ayah 8:66تفسیر 66(الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفاً ) یعنی ایک آدمی دس سے اور سو آدمی ہزار سے نہیں لڑ سکتے اور ابو جعفر نے ) ضعفائ) عین کے زبر اور مد کے ساتھ جمع کی بناء پر پڑھنا ہے اور دیگر حضرات نے عین کے سکون کے ساتھ (فان یکن منکم ماثۃ صابرۃ یغلبوا مائتین وان یکن منکم الف یغلبوآ الفین باذن اللہ واللہ مع الصبرین)
دس سے دو کی طرف حکم لوٹا دیا گیا۔ پس اگر مسلمان اپنے دشمن کی تعداد کا نصف ہوں تو ان کے لئے فرار ہو جائز نہیں ہے اور سفیان اور ابن شبرمہ فرماتے ہیں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بھی اسی طرح سمجھتا ہوں۔ اہل کوفہ نے ” وان یکن منکم مائۃ “ دونوں میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اہل بصرہ نے پہلے میں ان کی موافقفت کی ہے اور باقی حضرات نے دونوں میں تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم اور حمزہ نے ” ضعفا “ ضاد کے زبر کے ساتھ یہاں اور سورة الروم میں پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ضاد کے پیش کے ساتھ۔
Ayah 8:6767(ما اکن لنبی ان یکون لہ اسری) ابو جعفر اور اہل بصرہ نے (تکون) تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ اور ابو جعفر (رح) نے ” اساری “ اور دیگر حضرات نے ” اسری “ پڑھا ہے۔ (حتی یثخن فی الارض) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ بدر کے دن جب قیدیوں کو لایا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا تم لوگ ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ تو حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) آپ کی قوم اور رشتہ دار ہیں ان کو زندہ رکھیں۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلیں اور ان سے فدیہ لے لیں جو ہمارے لئے کفار کے خلاف قوت کا سبب بنے اور حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ان لوگوں نے آپ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور آپ (علیہ السلام) کو مکہ سے نکالا، آپ ان کو ہمیں دیں ہم ان کی گردنیں اڑائیں۔ علی ؓ کو عقیل پر قدرت دیں کہ وہ عقیل کی گردن اڑائیں اور مجھے میرے فلاں رشتہ دار پر قدرت دیں میں اس کی گردن کاٹوں کیونکہ یہ کفر کے بڑے امام ہیں اور عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) آپ ایسی وادی میں ان کو داخل کردیں جہاں خشک لکڑیاں زیادہ ہوں، پھر ان کو آگ لگا دیں تو حضرت عباس ؓ نے ان کو کہا تو نے اپنی رشتہ داری کو توڑ دیا تو آپ (علیہ السلام) خاموش ہوگئے کسی کو جواب نہ دیا۔
پھر آپ گھر داخل ہوئے تو کچھ لوگ کہنعے لگے کہ حضرت ابوبکر ؓ کی رائے پر عمل ہونا چاہیے، کچھ نے کہا حضرت عمر ؓ کی رائے پر اور بعض نے کہا حضرت ابن رواحہ ؓ کی رائے پر۔ پھر جب آپ (علیہ السلام) گھر سے نکلے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا نرم کردیا ہے کہ وہ دودھ سے زیادہ نرم ہیں اور بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا زیادہ سخت کردیا ہے کہ وہ پتھر سے زیادہ سخت ہیں اور بیشک اے ابوبکر ! تیری مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جو میری اتباع کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو اے اللہ تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے اور اے ابوبکر ! تیری مثال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسی ہے کہ انہوں نے کہا اگر تو ان کو عذاب دے تو تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو معاف کر دے تو بیشک تو غالب حکمت والا ہے اور بیشک اے عمر تیری مثال حضرت نوح (علیہ السلام) کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا اے میرے رب ! زمین پر کافروں کا کوئی گھر نہ چھوڑا اور اے عبداللہ بن رواحہ ؓ تیری مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اے ہمارے رب ! تو ان کے مال تباہ کر دے اور ان کے دلوں پر سختی کر دے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی فدیہ یا قتل کے بغیر نہ چھوٹ سکے گا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا سوائے سہیل بن بیضاء کے کہ میں نے ان کو اسلام کا ذکر کرتے سنا ہے تو آپ (علیہ السلام) خاموش ہوگئے تو میں نے اس دن سے زیادہ اپنے آپ کو خوف میں نہ دیکھا، مجھے ڈر ہوا کہ اس دن آسمان سے مجھ پر پتھر گریں گے حتی کہ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوائے سہیل بن بیضاء کے ۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا میلان حضرت ابوبکر ؓ کی رائے کی طرف تھا، میری رائے کی طرف نہ تھا۔ جب میں اگ لے دن آیا تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ بیٹھے رو رہے تھے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! مجھے تو بتایئے کہ آپ اور آپ کے ساتھی کس بات پر رو رہے ہیں ؟ تو اگر مجھے بھی رونا آگیا تو میں بھی روئوں گا ورنہ رونے کی صورت میں بنا لوں گا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے تیرے ساتھیوں کی اس بات نے رلا دیا کہ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے تحقیق ان پر عذاب اس درخت سے بھی قریب آچکا تھا آپ (علیہ السلام) نے اپنے قریب ایک درخت کی طرف اشارہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” ما اکن لنبی ان یکون لہ اسریٰ “ حتی یثخن فی الارض اپنے قول (فکلوا مما غنمتم حلالاً طیبا) تک اتاری تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے غنیمت کو حلال کردیا (اسری) اسیر کی جمع ہے قطعی اور قتیل کی طرح (حتی یثخن فی الارض) یعنی مشرکین کو قتل اور قید کرنے میں مبالغہ کرے۔ (تریدون عرض الدنیا) فدیہ لے کر (واللہ یرید الاخرۃ) اللہ تمہارے لئے ثواب چاہتا ہے تمہیں دشمن پر غالب کر کے (واللہ عزیز حکیم) ہر قیدی کا فدیہ چالیس اوقیہ تھا اور ایک اوقیہ چالیس درہم ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ حکم بدر کے دن تھا کیونکہ اس وقت مسلمان تھوڑے تھے، جب مسلمان زیادہ ہوگئے اور ان کی قوت بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے بارے میں یہ حکم اتارا ” فاما منا بعد واما فدائ “ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) اور مئومنین کو اختیار دیا کہ اگر چاہیں تو قیدیوں کو قتل کردیں اور اگر چاہیں تو ان کو آزاد کردیں اور اگر چاہو تو ان کو غلام بنادو اور اگر چاہو تو ان سے فدیہ لو۔
Ayah 8:68تفسیر 68(لولا کتب من اللہ سبق) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پہلے انبیاء اور امتوں پر غنیمت حرام تھی وہ اس کو قربانی کے لئے رکھ دیتے، آسمان سے آگ اترتی اور اس کو کھا جاتی۔ جب بدر کا دن آیا تو مسلمانوں نے غنیمت سمیٹنے میں جلدی کی اور فدیہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یعنی اگر لوح محفوظ میں یہ لکھنا نہ جا چکا ہوتا کہ یہ غنیمت تمہارے لئے حلال ہے اور حسن، مجاہد رحمہما اللہ اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ اگر پہلے سے یہ لکھا نہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ بدر کے حاضرین کو عذاب نہ دیں گے (لمسکم فیمآ اخذتم عذاب عظیم) ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ مئومنین جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے وہ تما م غنیمت کو پسند کرتے تھے سوائے عمر بن خطاب ؓ کے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قیدیوں کے قتل کا مشورہ دیا اور سعد بن معاذ ؓ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ! جنگ میں خون بہانا مجھے زیادہ پسند ہے مردوں سے فدیہ لینے سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر آسمان سے عذاب اترتا تو عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ ؓ کے علاوہ کوئی اس سے نہ بچتا۔
Ayah 8:6969(فکلوا مما غنمتم حللا طیباً واتقوا اللہ ط ان اللہ غفور رحیم) روایت کیا گیا ہے کہ جب پہلی آیت نازل ہوئی۔ صحابہ کرام ؓ نے فدیہ کے استعمال سے اہتھ کھینچ لئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے لئے غنیمت کو حلال کیا گیا، مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غنیمت ہمارے سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غنیمت مہارے سے پہلے سکی کے لئے حلال نہیں کی گئی۔ یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مہارے ضعف اور عجز کو دیکھا تو اس کو ہمارے لئے پاک کردیا۔
Ayah 8:70تفسیر 70 (یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الآسری) بوعمرو اور ابوجعفر نے (من الاساری) الف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے بغیر الکے) یہ آیت عباس بن عبدالمطلب کے بارے میں نازل ہوئی ہے بدر کے دن قید کئے گئے تھے۔ یہ ان دس لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے کفار کے لشکر کے کھانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی اور غزوہ بدر کے دن انہی کی باری تھی۔ یہ اپنے ساتھ بیس اوقیہ سونا لائے تھے تاکہ لوگوں کو کھانا کھلائیں تو جس دن کھانا کھلانے کا ارادہ کیا تو لڑائی ہوئی اور بیس اوقیہ بچ گئے تو جنگ میں یہ آپ سے لے لئے گئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ان بیس اوقیہ کو اپنے فدیہ میں شمار کریں تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ ایسی چیز میں آپ کے پاس نہ چھوڑوں گا جس سے آپ ہمارے خلاف مدد حاصل کریں اور عباس کو ان کے بھائی عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کے فدیہ کا بھی مکلف بنایا گیا تو عباس نے کہا اے محمد ! آپ ن مجھے اس حال میں چھوڑا ہے کہ میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھروں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ سونا کہاں ہے جو آپ نے ام فصل کو مکہ سے نکلتے ہوئے دیا تھا اور کہا تھا مجھے پتہ نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے، اگر میں مر جائوں تو یہ سونا تیرے اور عبداللہ اور فضل اور قثم کے لئے ہے تو عباس نے پوچھا، کس نے آپ (علیہ السلام) کو یہ خبر دی ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے یہ خبر دی ہے تو عباس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک آپ (علیہ السلام) سچے ہیں اور کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک آپ (علیہ السلام) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیر ایوتکم خیراً ممآ اخذمنکم و یغفرلکم ط واللہ غفور رحیم) حضرت عباس ؓ فرماتے تھے کہ اللہ نے اس کے بدلہ مجھے بیس غلام دیئے، سارے تاجر اور وافر مال لاتے ہیں ان میں سے ادنیٰ بیس ہزار درہم لاتا ہے۔ ان بیس اوقیہ کے بدلے اور اللہ نے مجھے زمزم کی خدمت دی مجھے یہ پسند نہیں کہ اس کے بدلے میرے لئے مکہ کا سارا مال ہو۔ اب میں اپنے رب کی مغفرت کا منتظر ہوں۔
Ayah 8:7171(وان یریدوا خیانتک) یعنی قیدی (فقد خانوا اللہ من قبل فامکن منھم ط واللہ علیم حکیم) ابن جریج (رح) فرماتے ہیں خیانت سے کفر مراد ہے یعنی اگر وہ آپ کا انکار کرتے ہیں تو اس سے پہلے اللہ کا بھی انکار کرچکے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے بدر میں ان پر مئومنین کو قدرت دی، ان کو قتل بھی کیا اور قید بھی کیا اور یہ ان کو دھمکی ہے کہ اگر دوبارہ مئومنین سے لڑائی کرنے آئے تو بھی ایسا ہوگا۔
Ayah 8:72” ان الذین امنوا وھاجروا “ یعنی اپنی قوم اور گھروں کو چھوڑا۔ یعنی مکہ سے ہجرت کرنے والے مراد ہیں۔ وجھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ والذین او وا “ اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے ساتھ مہاجرین کو یعنی ان کو ٹھہرایا اپنے گھروں میں ” ونصروآ “ یعنی ان کی مدد کی ان کے دشمنوں پر اور یہ لوگ انصار ؓ ہیں ” اولئک بعضھم اولیآء بعض “ نہ کہ ان کے کافر رشتہ دار۔ بعض نے کہا مدد و نصرت میں ولی ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میراث میں ولی ہیں اور یہ ہجرت کی وجہ سے وارث ہوں گے۔ مہاجرین و انصار ذوی الارحام سے پہلے وارث ہوتے تھے اور جو شخص ایمان لا چکا ہو لیکن ہجرت نہ کی ہو تو وہ اپنے قریبی رشتہ دار مہاجر سے وارث نہ ہوتا تھا یہاں تک کہ مکہ فتح ہوگیا ہجرت منقطع ہوگئی گئی اور ذوی الارحام وارث ہونے لگے جہاں بھی ہوں اور یہ حکم منسوخ ہوگیا اللہ تعالیٰ کے فرمان ” و اولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “ کی وجہ سے ” والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولا یتھم من شیئ “ یعنی میراث میں ” حتی یھاجروا “ حمزہ (رح) نے ” ولایتھم “ کو وائو کے کسرہ کے ساتھ اور باقی حضرات نے وائو کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں معنی کے اعتبار سے ایک ہیں۔” وان استنصروکم فی الدین “ یعنی تم سے وہ مئومن مدد طلب کریں جنہوں نے ہجرت نہیں کی ” فعلیکم النصر الا علی قوم م بینکم وبینھم میثاق “ معاہدہ ہو تو ان کے خلاف مدد نہ کرو ” واللہ بما تعملون بصیر “
Ayah 8:7373 ” والذین کفروا بعضھم اولیآء بعض “ مدد اور نصرت میں اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میراث میں ولی ہے۔ یعنی مشرکین آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ” الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر تم میراث میں وہ نہ لو جس کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ اگر تم باہمی مدد و نصرت نہ کرو۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کو دین میں ولی بنایا ہے اور کافروں کو آپ س میں ایک دوسرے کا ولی بنایا ہے۔ پھر فرمایا ” الا تفعلوہ “ وہ یہ کہ مئومن مئومن کو چھوڑ کر کافی کو ولی بنائے تو ” تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر “ پس زمین میں فتنہ کفر کی طاقت ہے اور فساد کبیر اسلام کی کمزوری ہے۔
Ayah 8:7474” والذین امنوا وھاجروا وجھدوا فی سبیل اللہ الذین او وا ونصروآ اولٓئک ھم المومنون حقا “ ان کے ایمان میں کوئی شک نہیں ہے۔ بعض نے کہا انہوں نے ہجرت اور جہاد کے ذریعے اپنے ایمان کو ثابت کردیا۔ ” لھم مغفرۃ و رزق کریم “ جنت ہے۔
اگر یہ اعتراض ہو کہ اس آیت کے تکرار کا کیا مطلب ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ مہاجرین کے کئی طبقے تھے۔ بعض پہلی ہجرت والے ہیں جنہوں نے حدیبیہ سے پہلے ہجرت کی اور بعض دوسری ہجرت والے تھے ۔ یہ وہ لوگ جنہوں نے صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ہجرت کی اور بعض دو ہجرت والے تھے ہجرت حبشہ بھی کی اور ہجرت مدینہ بھی۔ تو پہلی آیت سے پہلی ہجرت مراد ہے اور دوسری آیت سے دوسری ہجرت مراد ہے۔
Ayah 8:75تفسیر 75” والذین امنوا من بعد وھاجروا وجھدوا معکم فاولئک منکم “ یعنی تمہارے ساتھ ہیں۔ مراد یہ ہے تم ان میں سے ہو اور وہ تم میں سے ہیں۔” و اولو الارحام بعضھم اولی ببعض “ یہ ہجرت کی وجہ سے وراثت کو منسوخ کرنا اور میراث ذوی الارحام کو دینا ” فی کتب اللہ “ یعنی اللہ کے حکم میں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں کتاب اللہ سے قرآن مجید مراد ہے۔ یعنی وہ تقسیم جو سورة نساء میں بیان ہوئی وہ مراد ہے۔” ان اللہ بکل شیء علیم “