Ayah 8:26تفسیر 26 (واذ کروا اذ انتم قلیل مستصعفون فی الارض) یعنی اے مہاجروں کی جماعت یاد کرو جب تم عدد میں تھوڑے تھے اور ابتداء اسلام میں مکہ کی زمین میں کمزور تھے (تخافون ان یتخطفکم الناس) یعنی کفار عرب تم ک لے جائیں ار عکرمہ فرماتے ہیں کفار مکہ وہب (رح) فرماتے ہیں کہ فارس اور روم مراد ہیں (فاو کم ) م دینہ میں (وایدکم بنصرہ) یعنی بدر کے دن انصار کے ذریعے تمہیں قوت دی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن فرشتوں کے ذریعے قوت دی (ورزقکم من الطیبت) یعنی مال غنیمت جو تمہارے لئے حلال کیا گیا اس سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھا (لعلکم تشکرون)
Ayah 8:2727 (یایھا الذین امنوا لاتخونوا اللہ و الرسول) سدی (رح) فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات سنتے پھر اس کو آگے بیان کردیتے تو مشرکین تک پہنچ جاتی۔ زہری ار کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آیت ابولبابہ ہارون بن عبدالمنذر انصاری ؓ جو بنی عوف میں سے تھے کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریظہ کے یہود کا محاصرہ کیا، اکیس راتیں تو انہوں نے کہا کہ آپ ہم سے درگزر کریں اور ہم سے ویسی صلح کرلیں جو ہمارے بھائیوں بنو نضیر سے کی ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی طرف شام کے علاقے اذرعات اور ریحاء کی طرف چلے جائیں تو رسول اللہ ﷺ نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ سعد بن معاذ ؓ کے فیصلہ پر اتر آئیں تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ ہمارے پاس ابولبابہ بن منذر ؓ کو بھیج دیں وہ ان کے خیر خواہ تھے کیونکہ ان کا مال اور اولاد ان کے پاس تھے تو رسولا للہ ﷺ نے ان کو بھیج دیا تو ان یہودیوں نے ابولبابہ ؓ سے پوچھا کہ آپ ؓ کی کیا رائے ہے ہم سعد بن معاذ کو فیصل مان لیں ؟ تو ابولابہ ؓ نے اپنے ہاتھ سے حلق کی طرف اشارہ کیا یعنی ایسا نہ کرو ذبح کئے جائو گے۔ ابو لبابہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں وہاں سے ہلا بھی نہ تھا کہ میں نے پہچان لیا کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے خیانت کی ہے۔ وہ وہاں سے چلے ار رسول اللہ ﷺ کے پاس نہیں گئے اور اپنے آپ کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ لیا اور کہا میں یہاں سے نہ جائوں گا اور نہ کچھ کھائوں پیوں گا۔ یہاں تک کہ مر جائوں یا اللہ ! میری توبہ قبول کرلیں۔
جب حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے استغفار کرتا۔ لیکن اب انہوں نے جو کچھ کرلیا اس کے بعد میں بھی تب تک نہ کھولوں گا جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہ کرلیں تو وہ اس حال میں سات دن بغیر کھائے پئے رہے یہاں تک کہ بےہوش کر گرپڑے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی۔ ان کو کہا گیا تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں خود اپنے آپ کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ حضور ﷺ خود مھے آ کر کھولیں۔ پھر آپ (علیہ السلام) آئے اور ان کو کھولا تو ابولبابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ)
میری مکمل توبہ یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا پڑوس چھوڑ دوں جس کی وجہ سے میں اس گناہ میں اقع ہوا اور میں سارا مال بھی چھوڑ دوں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تہائی مال آپ کو کفایت کر جائے گا تو آپ ؓ نے تہائی مال کا صدقہ کیا تو اس واقعہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (وتخونآ امنتکم وانتم تعلمون) یعنی تم جانتے ہو کہ یہ امانت ہے اور بعض نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ حلق کی طرف اشارہ کرنا خیانت ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے خیانت کی تو اپنی امانت میں خیانت کی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ سے خیانت نہ کرو اس کے فرائض چھوڑ کر اور رسول اللہ ﷺ سے خیانت نہ کرو، آپ (علیہ السلام) کی سنتیں چھوڑ کر۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ خوب جان لو کہ اللہ کا دین امانت ہے تو اللہ نے جو امانت دی یعنی فرائض اور حدود ان کو اس تک پہنچا دو ۔
Ayah 8:28تفسیر 28 (واعلموا انمآ اموالکم واولادکم فتنۃ) بعض نے کہا کہ یہ آیت بھی ابولبابہ ؓ کے بارے میں اتری ہے کہ ان کا مال اور اولاد بنو قریظہ میں تھا تو ان کے خوف سے یہ اشارہ کیا تھا اور بعض نے کہا کہ یہ سب لوگوں کے لئے ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا۔ آپ (علیہ السلام) نے اس کو بوسہ دیا اور فرمایا، بہرحال یہ بچے بخل اور بزدلی کا سبب ہیں اور بیشک یہ اللہ تعالیٰ کے پھولوں میں سے ہیں (وان اللہ عند ہ اجر عظیم) اس کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خیر خواہی کرے اور اپنی امانت کو ادا کرے۔
Ayah 8:29(29) (یایھا الذین امنوا ان تتقوا اللہ) اس کی اطاعت کر کے اور نافرمانی چھوڑ کے (یجمل لکم فرقانا) دنیا اور آخرت میں نکلنے کا ذریعہ اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ دین میں شبہات سے نکلنے کا ذریعہ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کہ اس کے ذریعے تمہارے حق کو غالب کر دے گا اور تمہارے مخالف کے باطل کو بجھا دے گا۔ فرقان رجحان اور نقصان کی طرح مصدر ہے (ویکفرعنکم سیاتکم ویغفرلکم ط واللہ ذوالفضل العظیم)
Ayah 8:3030 (واذ یمکربک الذین کفروا) اس آیت کا عطف ” واذکروا اذا انتم قلیل “ پر ہے (واذکر اذیمکر بک الذین کفروا واذا قالوا اللھم) کیونکہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ مکر اور قول اگرچہ مکہ میں ہوا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر مدینہ میں کیا ہے جیسے دوسری آیت ” الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ “ ہے۔ اس مکر کی تفصیل ابن عباس ؓ اور دیگر مفسرین رحمہم اللہ نے یہ ذکر کی ہے کہ جب انصار اسلام لے آئے تو قریش کو ڈر ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں مشورہ کریں۔ ان کے بڑے اس وقت ربیعہ کے بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابوجہل بن ہشام، ابوسفیان، طعیمہ بن عدی، نضر بن حارث، ابو البختری بن ہشام، زمعہ بن اسود، حکیم بن حزام ، حجاج کے بیٹے نبیہ اور منبہ، امیہ بن خلف تھے تو شیطان بھی انسانی صورت میں ان کے پاس آگیا، انہوں نے پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے کہا کہ نجد کا آدمی ہوں تمہارے اجتماع کا سنا تو حاضر ہوگیا کہ کوئی خیر خواہی کا مشورہ دے سکوں انہوں نے کہا آ جا۔ تو ابوالبختری نے مشورہ دیا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم محمد ﷺ کو پکڑ کر کسی کمرہ میں قید کر دو ، شخت بیڑیاں باندھ دو اور کمرے کا دروازہ بند کر دو صرف ایک چھوٹا سا سوراخ ہو جس سے تم کھانا اور پانی اندر رکھ دو اور انتظار کرو یہاں تک کہ وہ مرجائیں جیسے پہلے شاعر مرگئے تو اللہ کا دشمن شیطان چیخ پڑا اور کہنے لگا یہ بہت بڑا مشورہ ہے اللہ کی قسم ! اگر تم اس کو کسی کمرہ میں قید کرو گے اور یہ بات ان کے ساتھیوں تک پہنچ گئی تو وہ تم پر حملہ کر کے ان کو چھڑا کرلے جائیں گے ۔ ان سب نے کہا نجدی شیخ سچ کہتا ہے۔ پھر ہشام بن عمرو بنو عامربن لوی کا آدمی بولا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم ان کو کسی اونٹ پر سوار کر کے کہیں دور بھیج دو تو وہ جو کریں گے تم کو کوئی نقصان نہ ہوگا اور تم راحت حاصل کرلو گے۔ تو ابلیس ملعون کہنے لگا یہ کوئی ایسی رائے نہیں ہے جس پر تم بھروسہ کرسکو، ایک ایسا شخص جس نے تمہارے بتوں کو برا بھلا کہا تم اس کو دوسرے کی طرف نکال دو گے۔ تم کیا اس کی زبان کی مٹھاس اور دلوں پر اثر کرنے والی تاثیر سے واقف نہیں ہو ؟ اللہ کی قسم اگر تم نے ایسا کیا تو جا کر کسی اور قوم کا دل اپنی طرف مائل کرے گا۔ پھر ان کو لے کر تم پر حملہ کرے گا اور تمہیں تمہارے شہر سے نکال دے گا ۔ وہ سب کہنے لگے نجدی شیخ نے ٹھیک کہا ہے تو ابو جہل کہنے لگا کہ اللہ کی قسم ! میں تمہیں ایک مشورہ دیتا ہوں کہ تم قریش کے ہر قبیلہ سے ایک حسب نسب والا نوجوان لو، پھر ہر نوجوان کو تیز تلوار دو ، پھر سب مل کر ان کو مار دو تو اس طرح ان کا خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہوجائے گا تو بنو ہاشم ان تمام قریش سے لڑائی کی طاقت نہیں رکھ سکتے تو وہ دیت پر راضی ہوجائیں گے تو سب قریش مل کر ان کی دیت لا کریں گے تو شیطان نے کہا کہ اس نوجوان نے سچ کہا اور یہ سب سے عمدہ رائے ہے۔ یہی بات ٹھیک ہے اس کے علاوہ کوئی رائے میں نہیں دیکھتا۔ تو سب لوگ ابوجہل کی بات پر اتفاق کر کے متفرق ہوگئے تو جبرئیل علیہ ا لسلم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور یہ خبر دی اور کہا کہ آپ علیہ اسللام یہاں آج رات نہ گزاریں تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے مدینہ کی ہجرت کی اجازت دے دی تو رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب ؓ کو حکم دیا کہ وہ آپ (علیہ السلام) کے بستر پر سو جائیں اور کہا کہ میری یہ چادر ڈال لو، آپ تک کوئی نہ پہنچ سکے گا۔ پھر آپ (علیہ السلام) نکلے اور مٹی کی ایک مٹھی لے لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کو پکڑ لیا۔ آپ (علیہ السلام) ان کے سروں پر مٹی ڈالتے اور یہ پڑھتے ” الا جعلنا فی اعناقھم اغالاً الآیۃ اس قولہ لایبصرون “ رہے اور آپ (علیہ السلام) حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ غار ثور چلے گئے اور حضرت علی ؓ کو پیچھے مکہ چھوڑ دیا کہ وہ لوگوں تک ان کی وہ امانتیں پہنچا دیں جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس رکھی ہوئی تھیں اور مشرکین ساری رات رسول اللہ ﷺ کے بستر پر لیٹے ہوئے حضرت علی ؓ کی چوکیداری کرتے رہے وہ یہ سمجھے کہ یہ آپ (علیہ السلام) ہیں جب صبح ہوئی تو وہ حملہ کے لئے گئے تو دیکھا کہ وہ حضرت علی ؓ ہیں۔ کہنے لگے آپ کے ساتھی کہاں ہیں ؟ آپ ؓ نے کہا مجھے معلوم نہیں تو آپ (علیہ السلام) کے نشان قدم کو دیکھتے ہوئے غار ثور تک پہنچ گئے اور وہاں دیکھا تو غار کے منہ پر مکڑی نے جالا بنایا ہوا تھا تو کہنے لگے کہا گر محمد ﷺ اس میں داخل ہوئے تو مکڑی کا جالا یہاں نہ ہوتا تین دن کے بعد آپ (علیہ السلام) مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” واذ یمکر بک الذین کفروا “ کا ۔ (لیبتوک او یفتلوک اور یخرجوک ط ویمکرون ویمکر اللہ) ضحاک فرماتے ہیں وہ کاریگری کرتے ہیں اور اللہ کاریگری کرتا ہے اور مکر تدبیر اور اللہ کی طرف نسبت ہو تو حق کی تدبیر کرتا اور بعض نے کہا ہے کہ ان کو مکر کا بدلہ دے گا (واللہ خیر المنکرین)
Ayah 8:31تفسیر 31(واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا) یعنی نضر بن حارث (قد سمعنا لو نشآء لقلنا مثل ھذآ) کیونکہ نضر تجارت کی غرض سے فارس اور حیرۃ کی طرف جاتا رہتا تھا اور وہاں رستم اور اسفند یار کے قصے سنتا اور عجمیوں کی کہانیاں سنتا اور یہود و نصاریٰ پر گزرتا تو ان کو رکوع اور سجدہ میں دیکھتا اور یہ کہ وہ توریت اور انجیل پڑھتے ہیں تو وہ مکہ آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ بھی نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو نضر کہنے لگا ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس کی مثل کہہ لیں (ان ھذا انا اساطیر الاولین) گزشتہ امتوں کی خبریں اور نام ہیں اور جو کچھ انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھا۔ ” اساطیر اسورۃ “ کی جمع ہے بمعنی لکھا ہوا یہ مشتق ہے ان کے قول ” سطرت “ بمعنی ” کتبت “ سے۔
Ayah 8:3232(واذا قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا) یہ آیت بنو عبدالدار کے شخص نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے پہلی امتوں کے واقعات بیان کئے تو نضر کہنے لگا اگر میں چاہتا تو اس کی مثل کہہ لیتا، یہ تو صرف پہلے لوگوں کے احوال ہیں۔ یعنی یہ تو وہ چیزیں ہیں جو پہلوں نے اپنی کتابوں میں لکھی تھیں تو اس کو عثمان بن مظعون ؓ نے کہا کہ اللہ سے ڈر محمد ﷺ حق بات کہتے ہیں، وہ کہنے لگا میں بھی حق کہتا ہوں تو عثمان ؓ نے کہا کہ محمد ﷺ ” لا الہ الا اللہ “ کہتے ہیں۔ نضر نے جواب دیا میں بھی ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہوں لیکن یہ بات اللہ کی بیٹیاں ہیں، پھر کہنے لگا اے اللہ ! محمد جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر پتھر برسا آسمان سے (حجارۃ من السمآئ) جیسے تو نے قوم لوط پر برسائے (اوائتنا بعذاب الیم) یعنی جو پہلی امتوں پر بھیجا اس میں سے کوئی ہم پر بھیج۔ اس نضر کے بارے میں آیت ” سال سائل بعذاب واقع “ بھی نازل ہوئی ہے۔
عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نضر بن حارث کے بارے میں دس سے زائد آیتیں نازل ہوئی ہیں، بدر کے دن جس عذاب کو اس نے مانگا تھا اسی نے اس کو گھیر لیا۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے قریش کے تین آدمیوں کو باندھ کر قتل کیا۔ (1) طعیمہ بن عدی (2) عقبہ بن ابی معیط (3) نضر بن حارث۔ حضرت انس ؓ نے روایت کیا کہ اس قول کا قائل ابوجہل، ملعون تھا۔ عبدالحمید صاحب الزیادی نے انس بن مالک ؓ کو سنا کہ فرما رہے ہیں کہ ابوجہل نے کہا ” اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء او اتنا بعذاب الیم “ تو یہ آیت نازل ہوئی ” وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون ومالھم الا یعلبھم اللہ “
Ayah 8:3333(وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم)
اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔ محمد ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں یہ مشرکین کا قول نقل کیا ہے۔ یہ پہلی آیت سے متصل ہے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہم استغفار کرتے ہیں اللہ ہمیں عذاب نہ دیں گے اور اللہ کسی ایسی امت کو عذاب نہیں دیتا جن کا نبی ان میں ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کی جہالت ، دھوکہ اور اپنے خلاف بد دعا کرنے کو ذکر کیا۔” واذا قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمائ “ اور انہوں نے کہا ” وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معلبھم وھم یستغفرون “ پھر ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ” ومالھم الا یعذبھم اللہ اگرچہ آپ (علیہ السلام) ان کے درمیان ہوں اور وہ استغفار کرتے ہوں اور مسجد حرام سے روکتے ہوں۔
مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نئی کلام ہے اللہ تعالیٰ خود اپنے بارے میں خبر دے رہے ہیں کہ (وما کان اللہ لیعدبھم وانت فیھم) ای کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ ضحاک (رح) اور ایک جماعت کہتی ہے کہ اس کی تاویل یہ ہے کہ جب تک آپ (علیہ السلام) ان میں مقیم ہیں اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہ دے گا، یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ میں مقیم تھے۔ جب آپ (علیہ السلام) وہاں سے مدینہ تشریف لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی (وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون) کیونکہ ابھی وہاں کچھ مسلمان تھے جو استغفار کرتے تھے۔ جب یہ لوگ بھی نکل گئے تو کفار مکہ کو فتح مکہ کے ذریعے عذاب دیا گیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بستی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک وہاں کے نبی اور مئومنین وہاں سے نکل کر اس جگہ نہ چلے جائیں جہاں کا ان کو حکم دیا گیا ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی ” وما کان اللہ لیعذبھم الخ “ ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ تم میں دو امن کی چیزیں ہیں (1) نبی کریم ﷺ (2) استغفار ۔ نبی کریم ﷺ جا چکے اور استغفار تم میں قیامت تک رہے گا اور ان میں سے بعض نے کہا ہے یہ استغفار مشرکین کی طرف لوٹ رہا ہے کیونکہ وہ طواف کے بعد غفرانک غفرانک کہتے تھے اور یزید بن رومان کہتے ہیں قریش نے کہا اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا تو شام کو اپنے کہے پر شرمندا ہوئے اور کہا ” غفرانک اللھم “ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرن “ اور قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” ومان کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون “ یعنی اگر وہ استغفار کریں لیکن وہ استغفار نہیں کرتے تھے کیونکہ اگر وہ گناہ کا اقرار کر کے استغفار کرتے تو وہ مئومن ہوجاتے اور بعض نے کہا ہے یہ اسلام کی طرف دعوت ہے اس کلمہ سے استغفار کرنا جیسے آدمی دوسرے کو کہے میں تھے سزا نہ دوں گا اور تو میری اطاعت کرے گا۔ یعنی تو میری اطاعت کرتا کہ میں تجھے سزا نہ دوں اور مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” ھم یستغفرون “ یعنی وہ اسلام لے آئیں۔ فرماتے ہیں اگر وہ اسلام لے آئیں تو عذاب نہ دیئے جائیں گے اور والبی (رح) نے ابن عباسی ؓ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین میں کئی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے طے تھا کہ وہ اسلام لے آئیں گے اور استغفار کریں گے اور یہ ابوسفیان اور صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابی جہل، سہیل بن عمرو، حکیم بن حزام وغیرہ ہیں اور عبدالوہاب نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا ہے ” وھم یستغفرون “ یعنی ان کی اولاد میں استغفار کرنے والے ہیں۔
Ayah 8:34تفسیر 34 (وما لھم الا یعذبھم اللہ) یعنی ان پر عذاب آنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ آپ (علیہ السلام) کے نکلنے کے بعد (وھم یصدون عن المسجد الحرام) یعنی مئومنین کو بیت اللہ کے طواف سے روکتے ہیں۔ بعض نے کہا پہلے عذاب سے جڑ سے اکھاڑنے والا عذاب مراد ہے اور اس آیت میں تلوار کا عذاب مراد ہے اور بعض نے کہا پہلی آیت سے دنیا کا عذاب اور اس آیت سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔
اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ پہلی آیت ” وما کان اللہ لیعذبھم “ منسوخ ہے اور ناسخ “ ومالھم الا یعذبھم اللہ “ ہے۔ (وما کانوا اولیآءہ) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے کہ ہم مسجد حرام کے اولیاء ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تردید کردی کہ ” وما کانو ا اولیاء ہ یعنی بیت اللہ کے اولیاء نہیں (ان اولیاوۃ الا المتقون) یعنی وہ ایمان والے جو شرک سے بچتے ہیں (ولکن اکثر ھم لایعلمون)
Ayah 8:35الا مکاء و تصدیۃ کی تفسیر
تفسیر 35(وما کان صلاتھم عند البیت الا مکآء و تصدیۃ) ابن عباس ؓ اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مکاء بمعنی سیٹی لغت میں، مکاء سفید رنگ کے پرندے کو کہتے ہیں جو حجاز میں پایا جاتا ہے اور اس کے لئے سیٹی جیسی آواز ہوتی ہے۔ گویا کہ کہا ہے سیٹیوں کی آوازیں ” تصدیۃ ‘ بمعنی تالی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قریش بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے اور بیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بنو عبدالدار کا ہر آدمی جب طواف میں نبی کریم ﷺ سے گزرتا تو وہ استہزاء کرتے اور انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹیاں بجاتے۔ اور تصدیہ تالیاں بجانا اور اسی سے صدی ہے اور المکاء انگلیاں جبڑے میں رکھنا اور تصدیہ تالی بجانا اور اسی سے صدا اس بازگشت کو کہتے ہیں جو پہاڑ میں آواز لگانے والے کی سنائی دیتی ہے۔ جعفر ربیعہ (رح) فرماتے ہیں میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے اللہ تعالیٰ کے قول ” الامکاء و تصدیۃ “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے ان میں پھونک ماری۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ نب یکریم ﷺ جب مسجد میں نماز پڑھتے تو وہ آدمی آپ (علیہ السلام) کے دائیں جانب اور دو بائیں جانب کھڑے ہو کر سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تاکہ آپ (علیہ السلام) کی نماز میں خلل ڈالیں۔ یہ بنو عبدالدار کے لوگ تھے سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں التصدیہ مشرکین کا مئومنین کو مسجد حرام اور دین اور نماز سے روکنا۔ اس تاویل کی بناء پر یہ اصل میں التصددۃ دو دال کے ساتھ ہوگا۔ ایک دال کو یاء سے تبدیل کردیا گیا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” تظنیت بظن سے ہے اور تقضی البازی اذا البازی کسر یعنی ” تقضض البازی “ سے ہے۔ ابن انباری (رح) فرماتے ہیں اس کا نام صلاۃ رکھا ہے کیونکہ ان کو مسجد حرام میں نماز کا حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے ان افعال کو اپنی نماز بنادیا۔ (قذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون)
Ayah 8:3636(ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبیل اللہ) کلبی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت بدر کے دن قریش میں بارہ دکھانے کھلانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ لوگ ہر ایک ان میں سے روزانہ دس اونٹ ذبح کر کے کفار کے لشکر کو کھلاتا ۔ یہ بارہ لوگ ابو جہل ، عتبہ، شیبہ، نبیہ، منبہ، ابوالبختری ، نضر بن حارث، حیک بن حزام، ابی بن خلف، زمعہ بن اسود، حارث بن عامر، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ حکم بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابوسفیان کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اس نے احد کے دن مشرکین پر چالیس اوقیہ خرچ کئے۔ (فسینفقونھا ثم تکون علیھم حسرۃ) یعنی جو دنیا میں خرچ کر رہے ہیں وہ آخرت میں ان پر حسرت بن جائے گا (ثم یغلبون) کامیاب نہ ہوں گے (والذین کفرواً ) ان میں سے (الی جھنم یحشرون) کفار کو خاص کیا اس لئے کہ بعض ان میں سے اسلام لے آئے تھے۔
Ayah 8:37تفسیر 37 (لیمیز اللہ الخبیب من الطیب) یعنی کافر کو مئومن سے ۔ پس مئومن کو جنت اور کافر کو آگ میں ٹھکانہ دے گا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ناپاک عمل کو پاک عمل سے جدا کر دے ۔ پس نیک اعمال پر جنت اور ناپاک اعمال پر جہنم دے گا اور بعض نے کہا شیطان کے راستے میں ناپاک خرچ کو اللہ کے راستے میں پاک خرچ سے جدا کر دے۔ (ویجعل الخبیب بعضہ علی بعض فیرکمہ جمیعاً ) یعنی اس کو جمع کر دے اسی سے السحاب المرکوم ہے گھنے بادلوں کے جھنڈ کو کہتے ہیں۔ (فیجعلہ فی جھنم و اولئک ھم الخسرون)
اس کو اپنے قول (ان الذین کفروا ینفقون اموالھم … اولئک ھم الخاسرون ) کی طرف لوٹایا ہے جن کی تجارت خسارہ میں پڑگئی۔ ان اپنے اموال سے آخرت کے عذاب کو خریدیں۔
Ayah 8:3838(قل للذین کفروا ان ینتھوا) شرک سے (یغفرلھم ما قد سلف) اسلام سے پہلے جو گناہ ہوچکے (وان بعودوا فقد مصت الذی الاولین) اللہ کی اپنے انبیاء اور اولیاء کی مدد کرنے میں اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کرنے میں۔
Ayah 8:3939(وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ) یعنی شرک، ربیع (رح) فرماتے ہیں کہ تاکہ مئومن اپنے دین سے فتنہ میں مبتلا نہ ہو (ویکون الدین کلہ للہ) یعنی اس میں کوئی شرک نہ ہو (فان انتھوا فان اللہ بما یعملون بصیر “ ) یعقوب نے تعملون تاء کے ساتھ اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 8:4040(وان تولوا) اگر وہ ایمان سے لوٹیں یا قتال سے (فاعلموآ ان اللہ مولکم ) تمہاری مدد (نعم المولی ونعم النصیر) مدد کرنے والا۔
Ayah 8:41تفسیر 41 (واعلموآ نما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ) مسلمانوں کو کفار سے جو مال حاصل ہوتا ہے اس کے لئے دو نام استعمال ہوتے ہیں (1) غنیمت (2) فئی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ دونوں ایک ہیں اور ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ دونوں مختلف ہیں۔ پس غنیمت وہ مال ہے جس کو مسلمان لڑائی کے غلبہ سے حاصل کرلیں اور فئی وہ مال جو بغیر لڑائی کے صلح سے مل جائے۔ ا سآیت میں اللہ تعالیٰ نے غنیمت کا حکم بیان کیا ہے اور فرمایا (للہ خمسہ و للرسول) اکثر مفسرین رحمہم اللہ اور فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ لفظ اللہ کلام کی بطور برکت ابتداء کے لئے ہے اور مال کی اپنی طرف نسبت کرنا اس کے اعزاز کے لئے ہے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ غنیمت کا کوئی حصہ صرف اللہ کے ساتھ خاص ہے کیونکہ دنیا اور آخرت تمام اللہ کی ہیں۔ یہی حسن قتادہ، ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ کا قول ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حصہ ایک ہے اور غنیمت کے پانچ حصے کئے جائیں گے۔ پانچ میں سے چار حصے مجاہدین کے لئے اور پانچواں حصہ ان لوگوں کے لئے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے (کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے اور قریبی رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے) بعض نے کہا کہ غنیمت کے چھ حصے کئے جائیں گے اور یہی ابو العالیہ (رح) کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حصہ کعبہ کی طرف خرچ کیا جائے گا اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے کہ غنیمت کے پانچ حصے کئے جائیں گے جو حصہ رسول اللہ ﷺ کے لئے آپ (علیہ السلام) کی زندگی میں تھا وہ اب مسلمانوں کی ضروریات اور اسلام کی قوت میں خرچ کیا جائے گا۔ یہی امام شافعی رحمہ الہ کا قول ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر ؓ نبی کریم ﷺ کے حصہ سے ہتھیار اور جانور وغیرہ خریدتے تھے۔
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آپ (علیہ السلام) کے بعد خلیفہ کو ملے گا اور بعض نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حصہ ان پانچ حصوں میں لوٹا دیا جائے اور پھر چار قسموں پر تقسیم کیا جائے گا (ولذی القربی) یعنی خمس کا ایک حصہ نبی کریم ﷺ کے قریبی رشتہ داروں کو ملے گا۔
والذی القربی کا مصداق میں مفسرین کے اقوال
کون سے رشتہ دار مراد ہیں اس میں اختلاف ہے۔ ایک جماعت نے کہا کہ تمام قریش مراد ہیں اور ایک قوم نے کہا کہ وہ لوگ مراد ہیں جن کے لئے صدقہ واجب لینا حلال نہیں۔ مجاہد اور علی بن حسین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بنو ہاشم مراد ہیں اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب مراد ہیں۔ بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو کچھ نہ ملے گا۔
اس پر دلیل وہ حدیث ہے جو جبیر بن مطعم نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے رشتہ داروں میں مال تقسیم کیا اور اس میں سے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو کچھ نہیں دیا اور محمد بن جبیر بن مطعم نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو ہاشم، اور بنو مطلب میں قریبی رشتہ داروں کا حصہ تقسیم کیا تو میں اور حضرت عثمان ؓ خدمت اقدس میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ ہمارے بھائی بنو ہاشم میں سے ہیں ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے کیونکہ آپ (علیہ السلام) کا نسب ان میں ہے لیکن ہمارے بھائی بنو مطلب کے بارے میں کیا خیال ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے ان کو بھی دیا اور ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ ہماری اور ان کی رشتہ داری ایک ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک چیز ہیں۔ اس طرح اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں گھسا دیا۔
ذوی القربی کا حصہ اب بھی باقی ہے یا نہیں
اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ ذوی ا لقربیٰ کا حصہ اب بھی ثابت ہے یا نہیں ؟ اکثر حضرات اس طرف گئے ہیں کہ ان کا حصہ ثابت ہے اور یہی امام مالک اور شافعی رحمہما اللہ کا قول ہے اور اصحاب رائے کا قول یہ ہے کہ حصہ اب ثابت نہیں اور یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا حصہ اور ذوی القربیٰ کا حصہ واپس خمس میں ملا دیا جائے گا۔ اب غنیمت کے پانچ حصے تین قسموں کو ملیں گے (1) یتیموں (2) مسکینوں (و) مسافروں اور بعض نے کہا ہے کہ ذوی القربی میں سے فقراء کو دیا جائے گا نہ کہ اغنیاء کو اور کتاب و سنت اس کے ثبوت پر دلالت کرتی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے بعد خلفاء بھی یہ حصے دیتے چلے ائٓے ہیں اور فقیر کو غنی رشتہ دار پر فوقیت نہ دی جائے گی کیونکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد خلفاء حضرت عباس ؓ کو ان کے کثرت مال کے باوجود خمس میں سے حصہ دیتے رہے ہیں تو امام شافعی (رح) نے اس کو میراث کے ساتھ لاحق کیا ہے کہ جس طرح میراث قرابت کی وجہ سے ملتی ہے خواہ مالدار ہو یا غریب، اسی طرح خمس کا حال ہے لیکن امام شافعی (رح) خمس قریبی اور دور کے سب رشتہ داروں کو دینے کے قائل ہیں اور مذکر کو مئونث پر فضیلت دیتے ہیں کہ مذکر کو دو حصے اور مئونث کو ایک حصہ ملے گا۔ (والیتمی) یتیم کی جمع ہے یتیم وہ مسلمان بچہ جس کا باپ نہ ہو اور وہ فقیر ہو تو اس کا خمس میں حصہ ہے (اور محتاجوں) مسلمانوں میں ضرورت مند (والمسکین) یعنی جو مسافر اپنے مال سے دور ہو یہ سب غنیمت کے ایک خمس کا مصرف ہیں اور باقی چار حصے مجاہدین کے درمیان تقسیم کئے جائیں گے۔ سوار کے لئے تین حصے اور پیدل کے ایک حصہ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پیدل شخص کے لئے ایک حصہ مقرر کیا اور سوار کے لئے تین حصے ایک حصہ سوار کا اور دو حصے گھوڑے کے مقرر کئے ۔ یہ اکثر علماء کا قول ہے اور اسی کی طرف ثوری، اوزاعی، مالک ، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق رحمہما اللہ گئے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ سوار کے لئے دو حصے اور پیدل کے لئے ایک حصہ اور غلام، عورتیں اور بچے بھی جب جنگ میں شریک ہوں تو ان کو انعام ملے گا مستقل حصہ نہ ہوگا اور جس زمین پر مسلمان غالب ہوجائیں وہ بھی منقول اشیاء کی طرف تقسیم ہوگی اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک زمین میں امام کو اختیار ہے کہ اگر چاہے تو مجاہدین میں تقسیم کر دے اور اگر چاہے تو مسلمانوں کی ضروریات کے لئے وقف کر دے لیکن آیت کا ظاہر زمین اور مقنول اشیاء میں فرق نہیں کرتا اور جس شخص نے قتال میں مشرک کو قتل کردیا تو اس کے سلب کا مستحق ہوگا۔ ابوقتادہ (رح) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا تو اس کو اس کا طلب ملے گا۔ سلب سے مراد مقتول کا لباس، ہتھیار اور اس کا گھوڑا وغیرہ سامان ہے اور امام کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ اس غنیمت کے علاوہ مسلمانوں کو مزید انعام کا اعلان کرے تاکہ وہ لڑائی میں خوب توجہ کریں اور مشقت برداشت کریں تو جو لوگ اس انعام کے حق دار ہوں گے وہ صرف انہی کو ملے گا اور باقی غنیمت میں مجاہدین کے ساتھ برابر شریک ہوں گے۔
ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بعض لشکروں کو روانہ کرتے ہوئے ان کے لئے کسی خاص انعام کا اعلان کردیتے تھے جو ان کے ساتھ خاص ہوتا تھا۔ پھر اس میں اختلاف ہے کہ یہ انعام کہاں سے دیا جائے گا۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ خمس کے خمس سے دیا جائے گا یہی سعید بن مسیب کا قول ہے اور امام شافعی (رح) بھی اسی کے قائل ہیں اور یہی معنی ہے آپ (علیہ السلام) کے قول کا کہ میرے لئے اس مال میں خمس کے سوا کچھ نہیں جو اللہ نے تم کو بطور غنیمت دیا اور وہ خمس تم میں تقسیم کیا جائے گا اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ خمس کو الگ کر کے باقی چار حصوں میں سے انعام دیا جائے گا اور یہی امام احمد اور اسحاق رحمہما اللہ کا قول ہے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ انعام مکمل غنیمت سے دیا جائے گا خمس نکالنے سے پہلے جیسے سلب قاتل کو تقسیم غنیمت سے پہلے ملتا ہے۔
بہرحال فئی وہ مال ہے جو مسلمانوں کو کفار سے بغیر گھوڑے سے دوڑائے مل جائے اس طرح کہ وہ کفار مسلمانوں سے مال پر صلح کرلیں کہ وہ جزیہ دیں گے اور جو مال دار الاسلام میں نجات کے لئے داخل ہوتے وقت ان سے لیا جائے یا کوئی کافر دارالاسلام میں آ کر مرجائے اور یہاں اس کا کوئی وارث نہ ہو تو یہ سب فئی ہے۔ مال فئی رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں خالص آپ (علیہ السلام) کے لئے تھا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو مال فئی کے ساتھ خاص کیا ہے کہ اس میں سے کسی اور کو کچھ نہیں دیا۔ پھر آیت پڑھی ” ما تاء اللہ علی رسولہ “ آپ (علیہ السلام) اس مال کو اپنے اہل و عیال کے سالانہ خرچ پر خرچ کرتے پھر جو بچ جاتا اس کو اللہ کے راستے میں دے دیتے۔
مال فئی کا مصرف کیا ہے ؟
اس میں اختلاف ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے بعد مال فئی کا کیا حکم ہے ؟ بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آپ (علیہ السلام) کے بعد والے آئمہ کو ملے گا۔
(آیت 41)
مال فئی کا خمس نکالا جائے گا یا نہیں
تفسیر :- اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ مال فئی کا خمس نکالا جائے گا یا نہیں ؟ امام شافعی (رح) کا قول ہے کہ اس کا خمس نکالا جائے گا وہ خمس غنیمت کے مستحقین پر پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور چار خمس مجاہدین اور مسلمانوں کی ضروریات پر خرچ ہوں گے اور اکثر علماء کا قول ہے کہ فئی کا خمس نہیں نکالا جائے گا بلکہ تمام مال فئی کا ایک ہی مصرف ہے اور تمام مسلمانوں کا اس میں حق ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے تھے کہ زمین پر جو بھی مسلمان ہے اس کا اس فئی میں حصہ ہے سوائے غلاموں کے ۔ مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں عمر بن خطاب ؓ نے آیت ” انما الصدقات للفقراء و المساکین … علیم حکیم “ تک پڑھی۔ پھر فرمایا یہ ان لوگوں کے لئے ہے۔ پھر ” واعلما انما غنمتم من شیء فان اللہ خمسہ …… وابن السبیل “ تک پڑھا ۔ پھر فرمایا یہ ان لوگوں کے لئے ہے پھر پڑھا ” ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ … للفقراء والذین جاء وامن بعدھم “ تک پڑھی۔ پھر فرمایا اس آیت نے تمام مسلمانوں کا احاطہ کرلیا ہے۔ پس اگر میں زندہ رہا تو ضرور میرے پاس چرواہا آئے گا تو اس کا اس مال میں حصہ ہوگا، اس کی پیشانی پسینے میں غرق آلود نہیں ہوئی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” ان کنتم امنتم باللہ “ بعض نے کہا ہے مراد ” واعلموا انما غنمتم من شیء فان اللہ خمسہ وللرسول “ ہے۔ اس میں جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے تم اس کو قبول کرو۔ اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو ” وما انزلنا فی عبدنا “ یعنی اگر تم اللہ پر اور اس پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے یعنی باری تعالیٰ کا قول ” یسالونک فی الانفال …… یوم الفرقان “ یعنی بدر کے دن۔ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا۔ ” یوم التقی الجمص “ اللہ کی جماعت اور شیطان کی جماعت۔ یہ بدر کا واقعہ جمعہ کے دن سترہ رمضان المبارک کو ہوا تھا۔” واللہ علی کل شیء قدیر “ تمہاری قلت اور ان کی کثرت کے باوجود تمہاری مدد پر قادر ہے۔
Ayah 8:42تفسیر 42…(اذ انتم) یعنی اے مسلمانوں کی جماعت جب تم ٹھہرے تھے۔ (بالعدوۃ الدنیا) یعنی وادی کے اس حصہ پر جو مدینہ سے قریب تھا۔ دنیا اونی کی مئونث ہے۔ (وھم) یعنی تمہارے مشرک دشمن۔ (بالعدوۃ القصوی) وادی کے اس جانب جو مدینہ سے دور تھی اور ” القصویٰ “ اقصیٰ کی مئونث ہے۔ ابن کثیر اور اہل بصرہ نے ” بالعدوہ “ عین کی زبر کے ساتھ دونوں میں پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ان دونوں کی پیش کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ ” الکسوۃ “ اور ” الکسوہ “ اور ” الرشوۃ “ اور ” الرشوۃ “ کی طرح۔ (والرکب اسفل منکم) یعنی ابوسفیان کا تجارتی قافلہ سمندر کے ساحل کی طرف بدر سے تین میل دور تھا (ولوتوا اعدتم لاختلفتم فی المیعد) کیونکہ مسلمان تجارتی قافلہ کی نیت سے نکلے تھے اور کفار ان کو روکنے تو بغیر کسی وعدہ کے مڈبھیڑ ہوگئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” ولو تو اعدتم لاختلفتم فی المیعاد “ تمہاری قلت اور دشمن کے دین کو غالب کرنا اور دشمنوں کو ہلاک کر نا (لیھلک من ھلک عن بینۃ جو مرنے والا ہے وہ دلیل کا ثبوت دیکھ کر اور سبق آموز حقیقت کا معائنہ کر کے اور واضح دلیل کا مشاہدہ کر کے مرے (ویحیی من حی عن بینۃ ار جو زندہ رہے وہ بھی مشاہدہ حقانیت و صداقت کر کے زندہ رہے تاکہ کسی کو کوئی عذر و معذرت کا موقع باقی نہ رہے۔ جیسا کہ آیت میں (وما کنا معذبین حتی نبعت رسولا) محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ حجت قائم وہنے کے بعد جس نے کفر کرنا ہے کفر کیر اور جس نے ایمان لانا ہے ایمان لائے تو آیت میں ہلاکت سے مراد کفر اور حیاۃ سے مراد ایمان ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں تاکہ جو گمراہ ہو وہ دلیل سے اور جو ہدایت حاصل کرے وہ بھی واضح دلیل سے ہو۔ اہل حجاز ابوبکر اور یعقوب (رح) نے ” خبیبی “ دو یاء کے ساتھ ” خشی “ کی طرح پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ایک یاء مشدد کے ساتھ اس لئے کہ وہ ایک یاء کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ (وان اللہ لسمیع علیم)
Ayah 8:4343(اذیر یکھم اللہ) اے محمد ﷺ (فی منامک ) یعنی نیند میں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ آپ کی آنکھ میں کیونکہ آنکھ نیند کی جگہ ہے (قلیلاً ط ولو ارکھم کثیر الفشلتم ولتنازعتم فی الامر ولکن اللہ سلم) تمہیں مخالفت اور بزدلی سے (انہ علیم بذات الصدور) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں جو اللہ کی محبت ہے اس کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 8:4444…(واذا یریکموھم اذا لتقبتم فی اعینکم قلیلاً )
مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ دشمن کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور اپنے صحابہ کرام ؓ کو یہ خبر دی تو جب بدر میں ٹکرائو ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نگاہ میں مشرکوں کو کم دکھایا۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ وہ ہماری نگاہ میں اتنے کم ہوگئے کہ میں نے ایک صحابی کو کہا کہ یہ ستر کی تعداد لگتے ہیں اس نے کہا مجھے سو کی تعداد کے برابر لگتے ہیں، پھر جب ہم نے ایک کافر کو قید کیا تو اس سے ان کی تعداد پوچھی تو اس نے کہا ایک زہار تھی (ویقللکم فی اغینھم) سدی (رح) فرماتے ہیں کہ مشرکین کے کچھ لوگ کہنے لگے کہ تجارتی قافلہ حفاظت سے جا چکا ہے تم بھی واپس چلو تو ابوجہل کہنے لگا اب لوٹتے ہو جب محمد ﷺ اور ان کے ساتھی تمہارے سامنے آگئے ہیں ؟ تم واپس نہ جائو جب تک ان کو جڑ سے نہ اکھاڑدو، بیشک محمد ﷺ اور ان کے ساتھی تو اونٹ کا لقمہ ہیں تم ان کو نہ مارو بلکہ رسیوں سے باندھ دو ، یہ بات اس نے اپنی طاقت کی وجہ سے کہی تھی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ مشرکین کی نگاہ میں مسلمان تھوڑے دکھائے تاکہ لڑائی سے گریز نہ کریں اور مسلمانوں کی نگاہ میں مشرکین کو کم دکھایا تاکہ وہ ڈر نہ جائیں (لیقضی اللہ امراً ) اسلام کو بلند کرنا اور اہل اسلام کو عزت دینا اور مشرکین کو ذلیل کرنا۔ (کان مفعولاً ط والی اللہ ترجع الامور)
Ayah 8:45تفسیر 45(یایھا الذین امنوآ اذا لقیتم فئۃ) کافر جماعت سے (فائبتوا لڑائی کے وقت قتال میں ثابت قدم رہو (واذکروا اللہ کثیراً ) اللہ تعالیٰ سے نصرت اور کامیابی کی دعا کرو (لعلکم تفلحون) تاکہ تم کامیابی کی امیدی پر ہو جائو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم مراد پائو)
Ayah 8:4646(واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا ) بزدل یا کمزور ہو جائو گے (وتذھب ریحکم) مجاہد (رح) فرماتے ہیں تمہارے مدد۔ سدی (رح) کہتے ہیں تمہاری جرأت۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں تمہاری تیزی۔ نضر بن شمیل (رح) فرماتے ہیں کہ تمہاری قوت۔ اور اخفش (رح) فرماتے ہیں ”’ دولتکم “ اور ” الریح “ یہاں کنایہ ہے امر کے نافذ ہونے اور اس کے مراد پر جاری ہونے سے عرب کہتے ہیں ” ھیت ریح فلان “ جب اس کا حکم اس کی مراد پر متوجہ ہو۔ قتادہ اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ مدد کی ہوا ہے۔ مدد ہمیشہ ہوا کے ذریعے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجتے ہیں جو دشمن کے چہروں کو مارتی ہے اور اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول ہے ” میری باد صبا کے ذریعے مدد کی گئی ہے اور عاد و بود کے ذریعے ہلاک کئے گئے۔” اور نعمان بن مقرن ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوا۔ آپ (علیہ السلام) جب دن کے ابتدائی حصہ میں لڑائی نہ کرتے تو سورج کے زوال کا انتظار کرتے جب ہوائیں چلتیں اور مدد اترتی۔ (واصبروآ ط ان اللہ مع الصبرین) سالم ابوالنضر جو عمر بن عبید اللہ کے آزاد کردہ غلام اور ان کے کاتب تھے ان سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابی او فی ؓ نے خط لکھا تو میں نے عمر بن عبید اللہ کو پڑھ کر سنایا، اس میں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ ان بعض دنوں میں جن میں دشمن سے مقابلہ ہونا تھا سورج کے مائل ہونے کا انتظار کیا، پھر لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا۔
اے لوگو ! دشمن کی ملاقات کی تمنا نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگا کرو، پھر جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہوجائے تو صبر کرو اور خوب جان لو کہ بیشک جنت تلواروں کے سایوں کے نیچے ہے۔ (رواہ البخاری) پھر فرمایا کہ اے اللہ کتاب کو اتارنے والے بادلوں کو چلانے والے لشکروں کو شکست دینے والے ان کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔
Ayah 8:47تفسیر 47(ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارھم یطرا ورثآء الناس ویصدون عن سبیل اللہ ط واللہ بما یعملون محیط) بطرہ کا معنی ہے فخر اور اکثر صورثاء الناس) زجاج کا قول ہے کہ بطر کا معنی ہے نعمت باکر سرکشی کرنا اور شکر ادا نہ کرنا اور راء کا معنی دکھاوٹ یعنی اچھائی کو دنیا کے سامنے ظاہر کرنا اور اپنی برائی کو چھپانا۔ (ویصدون عن سبیل اللہ واللہ بما یعملون محیط) آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب وہ بدر کی طرف آئے تو ان کے لئے بڑا فخر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ ! یہ قریش اپنے غرور وتکبر کے ساتھ آئے ہیں تجھ سے جھگڑتے اور تیرے رسول کی تکذیب کرتے ہیں۔ اے اللہ ! پس تیری مدد جس کا تو نے وعدہ کیا تھا مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابو سفیان تجارتی قافلہ کو بچا گئے تو قریش کی طرف پیغام بھیجا کہ واپس آ جائو تو ابوجہل نے کہا اللہ کی قسم ! ہم بدر جائے بغیر واپس نہ آئیں گے، بدر عرب کے موسموں میں سے ایک موسم تھا وہاں ہر سال ایک بازار لگتا تھا ہم وہاں تین دن ٹھہریں گے اونٹ نحر کریں گے، کھانا کھلائیں گے ، شراب پئیں گے، لونڈیاں گانا سنائیں گی اور عرب ہمارے بارے میں سنیں گے تو ہمیشہ ہم سے ڈریں گے لیکن وہاں موت کے پیالے ان کو پلائے گئے شراب کی جگہ اور ان پر گانے والیوں کی جگہ نوحہ کرنے والیوں نے نوحے کئے تو اللہ تعالیٰ نے پانے بندوں کو ان جیسا ہونے سے روکا اور ان کو خلوص نیت کا حکم دیا۔
Ayah 8:4848(واذ زین لھم الشیطن اعمالھم) یہ ” تزیین “ تھی کہ جب وہ نکلنے لگے تھے تو بنو بکر کا خوف تھا جس کی وجہ سے وہ واپس جاتے ہی لگے تھے کہ شیطان اپنے شیطانوں کے لشکر کے ساتھ جھنڈا لے کر آگیا اور خود سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں تھا (وقال لاغالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم) یعنی تمہیں بنو کنانہ سے پناہ دیتا ہوں (فلما ترآء ت القتن) تو شیطان نے فرشتوں کے اثرات دیکھ لئے کہ وہ آسمان اتر رہے ہیں اور جان گیا کہ یہ لوگ ان اک مقابلہ نہ کرسکیں گے (نکص علی عقبہ) ضحاک کا قول ہے کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا۔ نضر بن شمیل کا قول ہے کہ قہقری پیٹھ پھیر کر بھاگا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ جب آپس میں آمنا سامنا ہوا تو اسی وقت شیطان مشرکین کی صف میں سراقہ کی شکل میں حارث بن ہشام کا ہاتھ پکڑے ہوا تھا تو وہ واپس لوٹنے گا تو حارث نے کہا کیا بےلڑے بھاگ رہا ہے ؟ وہ اس کو پکڑنے لگا تو اس نے سینے پر دھکا دیا اور بھاگ گیا اور مشرکین شکست کھا گئے۔
جب وہ مکہ آئے تو کہا کہ لوگوں کو شکست سراقہ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سراقہ تک یہ بات پہنچی تو اس نے کہا مجھ تک یہ بات پنچی ہے کہ تم کہتے ہو میں نے لوگوں کو شکست دلائی۔ اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے جانے کا علم نہ تھا، اب تمہاری شکست کی خبر پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کیا تو فلاں دن ہمارے پاس نہیں آیا تھا ؟ اس نے قسم کھالی کہ نہیں آیا تھا۔ جب وہ لوگ اسلام لے آئے تو پتہ چلا کہ وہ شیطان تھا (وقال انی بریء منکم) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ابلیس نے جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ چادر پہلے نبی کریم ﷺ کے آگے چل رہے ہیں اور آپ کے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام ہے ابھی اس پر سوار نہیں ہوئے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ابلیس نے ان کو سچ کہا کہ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے (انی اری مالا ترون) اس بات میں جھوٹا تھا کیونکہ اس کو اللہ کا کوئی خوف نہ تھا لیکن جب دیکھا کہ اب اس کے بس کی بات نہیں تو نکل گیا اور یہ اللہ کے دشمن کی عادت ہے کہ جب حق اور باطل کا آمنا سامنا ہو تو اپنے ماننے والوں کو حوالہ کر کے نکل جاتا ہے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں مجھے اللہ کا خوف ہے کہ وہ مجھے ہلاک ہونے والوں میں ہلاک نہ کر دے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کو ڈر ہوا کہ جبرئیل (علیہ السلام) اس کو پکڑ کر اس کی حالت لوگوں کے سامنے ظاہر کردیں گے تو وہ اس کی اطاعت نہ کریں گے اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ” انی اخاف اللہ یعنی میں جانتا ہوں کہ اللہ نے اپنے اولیاء سے جو وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے اس لئے کہ اس کو اس پر اعتماد تھا۔ ” واللہ شدید العقاب “ اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں تمہارے بارے میں اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والے ہیں اور بعض نے کہا ہے کلام اس کے قول ” اخاف اللہ “ پ ختم ہوگئی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” واللہ شدید العقاب “ طلحہ بن عبداللہ بن گرگریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان کبھی عرفہ کے دن سے زیادہ ذلیل، حقیر، گھٹیا اور غصہ میں نہیں دیکھا گیا اور یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ کی رحمت اترتے اور اللہ تعالیٰ کو بڑے گناہوں سے در گزر کرتے دیکھتا ہے لیکن بدر کے دن (انی خاف اللہ) تو عرض کیا گیا بدر کے دن اس نے کیا دیکھا تھا ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اس نے جبرئیل (علیہ السلام) کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھا تھا۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ (واللہ شدید العقاب)
Ayah 8:49تفسیر 49(اذ یقول المنفقون والذین فی قلوبھم مرض غرھولآء دینھم) یعنی مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈال دیا۔ یہ لوگ تھے جو مکہ میں کمزور تھے اسلام لا چکے تھے اور ان کے اقرباء نے ان کو ہجرت سے روک رکھا تھا۔ جب قریش بدر کی طرف نکلے تو ان کو زبردستی ساتھ لے آئے۔ جب انہوں نے مسلمانوں کی کم تعداد دیکھی تو شک میں مبتلا ہوگئے یامرتد ہوگئے اور کہنے لگے ان کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈالا ہے، یہ سب بھی مارے گئے ان میں سے قیس بن مغیرہ، ابو قیس بن القا کہ بن مغیرہ، مخزمیان حارث بن زمعہ بن اسود بن مطلب ، علی بن امیہ بن خلف حجحی، عاص بن منبہ بن حجاج۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (ومن یتوکل علی اللہ) یعنی اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دے اور اس پر اعتماد کرے (فان اللہ عزیز حکیم) اپنے دشمنوں کے ساتھ جو چاہے کرتا ہے حکمت والا ہے) اپنے دوست اور دشمن کے ساتھ یکساں معاملہ نہیں کرتا۔
Ayah 8:5050(ولوتری) اے محمد ﷺ (اذیتوفی الذین کفروا الملٓئکۃ یضربون) اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا موت کے وقت فرشتے کافروں کے چہروں پر آگ کے کوڑے مارتے ہیں اور بعض نے کہا کہ بدر میں جو کافر مارے گئے وہ مراد ہیں کہ ان کو مارتے تھے فرشتے (وجوھھم وادبارھم)
سعید بن جبیر ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ دبر سے ان کی پاخانہ کی جگہ مراد ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کنایہ اس کا ذکر کیا یہ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مشرکین جب مسلمانوں کی طرف رخ کرتے تھے تو فرشتے ان کو چہروں پر تلواریں مارتے تھے اور جب مڑ کر بھاگنے لگتے تو فرشتے ان کی پیٹھ پر مارتے۔ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے ا ن کا اگلا اور پچھلا حصہ یعنی تمام جسم مراد ہے اور ” توفی “ سے مراد قتل ہے (وذو قوا عذاب الحریق) بعض نے کہا کہ فرشتوں کے پاس لوہے کے گرز تھے جن سے کفار کو مارتے تھے ان کے زخموں پر آگ بھڑک اٹھتی تھی۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جہنم کے داروغے کہیں گے چکھو جلنے کا عذاب اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کو مرنے کے بعد یہ بات کہیں گے۔
Ayah 8:51تفسیر 51(ذلک) یہ مار جو تم کو پڑی ہے (بما قدمت ایدیکم) تو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہے (وان اللہ لیس بظلام للعبید)
Ayah 8:5252(کداب ال فرعون) مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی کفر کی عادت آل فرعون کی عادت کی طرح ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آل فرعون کو یقین ہوگیا تھا کہ موسیٰ علیہ اسللام اللہ کے نبی ہیں پھر بھی انہوں نے ان کی تکذیب کی اسی طرح یہ لوگ ہیں کہ محمد ﷺ ان کے پاس سچ لے کر آئے پھر انہوں نے تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی ویسے سزا بھیجی جیسے آل فرعون پر بھیجی تھی۔ (والذین من قبلھم کفروا بایت اللہ فاخذھم اللہ بذتوبھم ان اللہ قوی شدید العقاب)
Ayah 8:5353(ذلک بان اللہ لم یک مغیرا نعمۃ انعمھا علی قوم حتی یغیروا ما بانفسھم ) مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر کئے ہوئے انعامات اس وقت تک نہیں بدلتے جب تک وہ ناشکری اور کفر کر کے اپنی حالت نہ بدل لیں۔ جب وہ ایسا کریں تو اللہ بھی ان کی حالت تبدیل کر دے گا اور نعمت کو چھین لیتا ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی نعمت محمد ﷺ کہ ان کو قریش اور اہل مکہ پر بھیجا تو انہوں نے تکذیب کی اور کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو انصار کی طرف منتقل کردیا (وان اللہ سمیع علیم)
Ayah 8:5454(کداب ال فرعن والذین من قبلھم ط کذبوا بایت ربھم فاھلکنھم بذنوبھم) بعض کو زلزلہ سے ہلاک کیا، بعض کو دھنسا کر اور بعض کی صورت بگاڑ کر اور بعض کو آندھی سے اور بعض کو ڈبو کر ہلاک کیا۔ اسی طرح ہم نے بدر کے کافروں کو تلوار کے ساتھ ہلاک کیا جب انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا۔ (واعرقنا ال فرعن و کل کانوا ظلمین)
Ayah 8:55تفسیر 55(ان شر الدوآب عند اللہ الذین کفروا فھم لایئومنون) کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بنو فریظہ کے یہود میں سے کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی۔
Ayah 8:5656(الذین عھدت منھم ثم ینقضون عھدھم فی کل مرۃ) یہ بنو قریظہ والے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کیا ہوا عہد توڑدیا اور نبی کریم ﷺ کے خلاف جنگ میں مشرکین کی مدد کی ان کو ہتھیار دیئے، پھر کہنے لگے ہم بھول گئے تھے اور غلطی ہوگئی۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے دوبارہ معاہدہ کیا پھر انہوں نے عہد توڑا اور غزوہ خندق میں کفار کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے کے لئے ابھارا اور کعب بن اشرف مکہ گیا اور نبی کریم ﷺ کی مخالفت پر ان سے اتفاق کیا (وھم لایتقون)
Ayah 8:5757(فاما تثقفنھم فی الحرب فشر دبھم من خلفھم) مقاتل (رح) فرماتے ہیں اگر آپ (علیہ السلام) ان کو لڑائی میں پائیں۔ تو ان کو ایسی سزا دے کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کے پچھلوں کے لئے عبرت بنادیں اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ان کے ذریعے پچھلوں کو ڈرا دیں اور تشدید کی اصل جدا کرنا ہے۔ معنی یہ ہے کہ ہر عہد توڑنے والے کی قوت و جماعت کو متفرق کردیں۔ یعنی جن لوگوں نے آپ (علیہ السلام) کا عہد توڑا اور آپ (علیہ السلام) سے لڑائی کے لئے آئے ان کو قتل کریں اور ایسی سزا دیں کہ وہ عبرت بن جائیں جس کی وجہ سے ان کے پچھلے اہل مکہ و اہل یمن آپ (علیہ السلام) سے ڈریں۔ (لعلھم یذکرون) تاکہ وہ نصیحت و عبرت حاصل کریں اور عہد نہ توڑیں۔