68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 68:41

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے

40 ۔” پھر اپنے نب یعلیہ السلام کو کہا ” سلھم ایھم بذلک زعیم “ کفیل ہے یعنی کون ان کی ضمانت دے رہا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں وہ کچھ ہوگا جو مسلمانوں کے لئے ہے۔
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

کیا اس قول میں ان کے اور بھی شریک ہیں ؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو سامنے لائیں

41 ۔” ام لھم شرکائ “ یعنی ان کے پاس اللہ کے شریک ایسے رب ہیں جو یہ کریں گے اور کہا گیا ہے گواہ جوان کے لئے گواہی دیں جو ان کے دعویٰ کی تصدیق کریں۔ ” فلیاتوا بشر کا ئھم ان کانوا صادقین “۔
Ayah 68:43

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائیگا اور کفار سجدے کے لئے ہلائے جائیں کے تو سجدہ نہ کرسکیں گے

آیت یوم یکشف عن ساق کی تفسیر 42 ۔” یوم یکشف عن ساق “ کہا گیا ہے کہ یوم ظرف ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” فلیاتوا بشر کا ئھم “ کا۔ یعنی پھر ان کو اس دن میں لائیں تاکہ ان کو نفع دیں اور ان کی سفارش کریں۔ ” یوم یکشف عن ساق “ کہا گیا ہے عن ساق، کہا گیا ہیای سے امر سے جو سخت ہولناک ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ قیامت کی سخت ترین گھڑی ہوگی۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ” یوم یکشف عن ساق “ معاملہ کی سختی سے۔ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں : عرب کہتے ہیں ایسے آدمی کے لئے میں سخت وقت آجائے تو کہا جاتا ہے ” کشف الحرب بن ساق “ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چند لوگوں نے کہا یارسول اللہ ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں کیا تمہیں چاشت کے وقت صاف دن میں جس میں کوئی بادل نہ ہو سورج کے دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہو ؟ اور کیا تمہیں چودھویں رات کے چاندکودیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے۔ ایسی صاف رات میں جس میں بادل نہ ہوں، انہوں نے کہا نہیں یارسول اللہ (ﷺ ) آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تمہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دیکھنے میں کوئی تکلیف نہ ہوگی جیسا کہ تمہیں ان دونوں میں سے ایک کے دیکھنے میں نہیں ہوتی۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو آواز لگانے والا آواز لگائے گا کہ ہر امت جس کی عبادت کرتی تھی اس کے پیچھے جائے۔ پس اللہ کے علاوہ بتوں اور انصاب کی عبادت کرنیوالا کوئی باقی نہ رہے مگر سب کے سب جہنم میں جاگریں گے حتیٰ کے جب صرف اللہ کی عبادت بتوں اور انصاب کی عبادت کرنے والا کوئی باقی نہ رہے مگر سب کے سب جہنم میں جاگریں گے حتیٰ کہ جب صرف اللہ کی عبادت کرنے والے باقی رہ جائیں نیک وگناہ گار اور اہل کتاب کے علاوہ تو یہود کو پکارا جائے گا، پھر ان کو کہا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہم عزیز اللہ کے بیٹے کی عبادت کرتے تھے تو کہاجائے گا تم نے جھوٹ بولا اللہ تعالیٰ نے کوئی بیوی اور اولاد نہیں بنائی۔ پس تم کیا تلاش کرتے ہو ؟ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم پیاسے ہیں تو آپ ہمیں ہمیں پلائیں تو ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا کیا تم وارد نہیں ہوتے تو وہ جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ گویا کہ وہ سراب ہے اور اس کا بعض بعض کو کوٹ رہا ہے۔ پس وہ آگ میں گرائے جائیں گے۔ پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا تو ان کو کہا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے ہم اللہ کے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے تو ان کو کہا جائے گا تم نے جھوٹ کہا، اللہ تعالیٰ نے کوئی بیوی اور اولاد نہیں بنائی تو ان کو کہا جائے گا تم کیا تلاش کرتے ہو ؟ وہ کہیں گے ہم پیاسے ہیں اے ہمارے رب ! تو ہمیں پلادے تو ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا کیا تم وارد نہیں ہوتے۔ پھر وہ جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے گویا کہ وہ سراب ہے اس کا بعض بعض کو کوٹ رہا ہے۔ پس وہ جہنم میں گرائے جائیں گے حتیٰ کہ جب صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں جو صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے نیک وفاجر تو رب العالمین ان کے پاس آئیں گے اس ادنیٰ صورت میں اس میں سے جس میں انہوں نے اس کو دیکھا ہوگا۔ فرمائیں گے تم کس چیز کا انتظار کررہے ہو ؟ ہر امت نے اس کی اتباع کی جس کی اس نے عبادل کی تو کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم لوگوں سے دنیا میں جدا رہے حالانکہ ہم ان کے بہت ضرورت مند تھے لیکن ہم نے ان کے مصاحبت اختیار نہیں کی۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں۔ پس وہ لوگ کہیں گے ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں تجھ سے ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے، دو مرتبہ یا تین مرتبہ کہیں گے حتیٰ کے ان میں سے بعض پلٹنے کے قریب ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی نشان ہے جس کے ذریعے تم اس کو پہچان لو ؟ وہ کہیں گے جی ہاں پس اللہ تعالیٰ ساق سے کھول دیں گے۔ پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی طرف سے سجدہ کرتے تھے ان سب کو اللہ تعالیٰ سجدہ کی اجازت دے دیں گے۔ پس جو لوگ نفاق اور ریائ کی وجہ سے سجدہ کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان کی پیٹھ کو ایک طبق کردیں گے، جب بھی سجدہ کا ارادہ کریں گے اپنی گدی کے بل گرپڑیں گے۔ پھر وہ اپنے سر اٹھائیں گے اور تحقیق اللہ تعالیٰ اس صورت میں منتقل ہوچکے ہوں گے جس میں انہوں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ تو فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں۔ پس وہ لوگ کہیں گے آپ ہمارے رب ہیں، پھر جہنم پر جسر لگایا جائے گا اور شفاعت حلال ہوجائے گی اور وہ کہیں گے اے اللہ ! تو سلامتی دے تو سلامتی دے۔ کہا گیا یارسول اللہ ! اور جسر کیا ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا پھسلنے کی جگہ ہے اس میں ٹیڑھے لوہے کے کڑے اور کانٹے دار پودے جو نجد میں ہوتے ہیں۔ ان میں چھوٹے کانٹے ہوں گے اس کو سعدان کو کہا جاتا ہے۔ پس مومن آنکھ جھپکنے کی طرح گزریں گے اور بجلی کی طرح اور ہوا کی طرح اور پرندے کی طرح اور عمدہ گھوڑوں کی طرح اور اونٹوں کی طرح۔ پس نجات پانے والا محفوظ اور زخمی ہونے والا چھوڑا گیا ہے اور مکردس جہنم کی آگ میں ہوگا۔ حتیٰ کہ جب مومنین آگ سے نجات پاجائیں گے پس قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میرا نفس ہے تم میں سے کوئی شخص اپنے حق کی وصولی میں اللہ کی قسم کھانے میں سخت نہیں ہے جتنا قیامت کے دن مومنین اپنے ان بھائیوں کے لئے ہوں گے جو آگ میں ہیں وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! وہ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور نمازیں پھڑتے تھے اور حج کرتے تھے تو ان کو کہا جائے گا جن کو تم پہچانتے ہو ان کو باہر نکال لو۔ پس ان کی صورت کو آگ پر حرام کردیا جائے گا تو وہ بہت زیادہ مخلوق کو نکالیں گے۔ تحقیق آگ ان کی آدھی پنڈلی تک پہنچی ہوگی اور ان کے دونوں گھٹنوں تک۔ پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! اس میں ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا جن کے بارے میں آپ نے ہمیں حکم دیا تھا۔ پس وہ کہیں گے تم لوٹوپس جس کے دل میں تم دینار کے برابر خیر پائو تو اس کو نکال لو۔ تو وہ بہت زیادہ مخلوق کو نکالیں گے ۔ پھر کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے اس میں ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا جن کا آپ نے ہمیں حکم دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم لوٹو پس جس کے دل میں تم آدھے دینار کے برابر خیر پائو تو اس کو نکال لائو۔ پھر وہ بہت زیادہ مخلوق کو نکالیں گے، پھر کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا، جن کا آپ نے ہمیں حکم دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ کہیں گے تم لوٹ جائو پس جس کے دل میں تم ایک ذرہ کے برابر بھی خیر پائو تو اس کو نکال دو تو وہ خلق کثیر کو نکالیں گے ۔ پھر کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے ان میں کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جن کے بارے میں آپ نے ہمیں حکم دیا تھا۔ اللہ رب العزت سب کی سفارش کے بعد مٹھی بھر کر دوزخ سے نکالیں گے ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں اگر تم میری اس حدیث میں تصدیق نہیں کرتے تو اگر چاہو تو پڑھو ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضاعفھا ویوت من لدنہ اجرا عظیما “ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے فرشتوں نے سفارش کرلی اور انبیاء (علیہم السلام) نے سفارش کرلی اور مومنین نے سفارش کرلی۔ اب صرف ” ارحم الراحمین “ باقی رہ گئے تو اللہ تعالیٰ آگ سے ایک مٹھی بھریں گے اور ایسی کو جہنم سے نکالیں گے جنہوں نے کبھی کوئی خیر کا کام نہیں کیا ہوگا، تحقیق وہ کوئلے بن چکے ہوں گے، پھر ان کو جنت کی ایک نہر میں ڈالیں گے جس کو نہرالحیات کہا جاتا ہے پھر وہ ایسے نکلیں گے جیسے دانہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ میں نکلتا ہے۔ کیا تم اس کو نہیں دیکھتے کہ پتھروں کی طرف وہ ہوتا ہے اور جو سورج کی طرف ہو زرد دو سبز رنگ کا ہوتا ہے اور جو دن میں سے سایہ کی طرف سفید ہوتا ہے۔ فرمایا پھر وہ موتیوں کی طرح نکالے جائیں گے ان کی گردنوں میں مہریں ہوں گی ان کو اہل جنت پہچانیں گے، یہ لوگ اللہ کے آگ سے آزاد کردہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں بغیر عمل کے داخل کردیا ہے اور بغیر کسی خیر کے جو انہوں نے آگے بھیجی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم جنت میں داخل ہوجائو۔ پس جو تم اس میں دیکھو وہ تمہارا ہے تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! آپ نے تو ہمیں اتنا کچھ دیا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تمہارے لئے میرے پاس اس سے بھی افضل ہے تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! اس سے کون سی چیز افضل ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میری رضا، پس میں تم پر اب ناراض نہ ہوں گا۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہمارے رب اپنی پنڈلی سے کھولیں گے پس ان کو تمام مومن ومومنات سجدہ کریں گے اور وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں ریاء اور شہرت کے لئے سجدہ کرتے تھے تو وہ سجدہ کے لئے جائیں گے تو ان کی کمر ایک طبق ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ویدعون الی السجود فلا یستطیعون “ یعنی کفار و منافقین ان کی پشتیں بیل کی سینگوں کی طرح ہوجائیں گی وہ سجدہ کی طاقت نہ رکھیں گے۔
Ayah 68:44

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ حالانکہ (اس وقت) سجدے کے لئے بلائے جاتے تھے جب کہ وہ صحیح سالم تھے

43 ۔” خاشعۃ ابصارھم “ کیونکہ مومنین اپنے سروں کو سجدوں سے اٹھائیں گے اور ان کے چہرے برف سے زیادہ سفید ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ ” ترھقھم ذلۃ “ ان پر ندامت و حسرت کی ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ ” وقد کانوا یدعون الی السجود “ ابراہیم تیمی (رح) کہتے ہیں یعنی فرض نمازوں کی طرف اذان و اقامت کے ذریعے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں وہ ” حی علی الصلوٰۃ “ اور ” حی علی الفلاح “ سنتے ہیں ان کا جواب نہیں دیتے۔ ” وھم سالمون “ تندرست ہیں پھر بھی نماز میں نہیں آتے۔ کعب احبار (رح) فرماتے ہیں اللہ کی قسم ! یہ آیت جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 68:45

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں کو سمجھ لینے دو ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی .

44 ۔” فذرنی وھن یکذب بھذا الحدیث “ یعنی پس آپ مجھے اور قرآن کو جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں اور میرے اور ان کے درمیان میں راستہ چھوڑ دے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہی اپنے دل کو اس میں مشغول نہ کریں اس کو میرے سپرد کردیں کیونکہ میں آپ کو اس کے معاملہ سے کافی ہوں۔ ” سنستدرجھم “ عنقریب ہم ان کو عذاب میں پکڑیں گے۔ ” من حیث لا یعلمون “ پس وہ بدر کے دن عذاب دیئے گئے۔
Ayah 68:46

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت دیے جاتا ہوں میری تدبیر قوی ہے

45 ۔” واملی لھم ان کیدی متین۔
Ayah 68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے ؟

46 ۔” ام تسئلھم اجرا فھم من مغرم مثقلون۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اس سے) لپٹے جاتے ہیں ؟

47 ۔” ام عندھم الغیب فھم یکتبون۔
Ayah 68:49

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی (کا لقمہ ہونے) والے (یونس) کی طرح نہ ہونا کہ انہوں نے خدا کو پکارا اور وہ غم و غصے میں بھرے ہوئے تھے

48 ۔” فاصبر لحکم ربک “ ان کی تکلیف پر صبر کریں، اپنے رب کی قضاء کے لئے۔ ” ولا تکن “ تنگی اور جلدی میں۔” کصاحب الحوت “ اور وہ یونس بن متی ہیں۔ ” اذنادی “ اپنے رب کو اور مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ ” وھومکظوم “ غم سے بھرے ہوئے تھے۔
Ayah 68:50

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی انکی آوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا

49 ۔” لو لا ان تدار کہ “ اس کو پایا۔ ” نعمۃ من ربہ “ جب ان پر رحم کیا اور ان کی توبہ قبول کی۔ ” لنبذبالعرائ “ مچھلی کے پیٹ سے کھلی فضا میں پھینکے گئے۔ ” وھو مذموم “ مذمت کیے گئے اور گناہ پر ملامت کیے گئے۔
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

پھر پروردگار نے ان کو برگزیدہ کر کے نیکوکاروں میں کردیا

50 ۔” فاجتباہ ربہ “ ان کو چن لیا۔ ” فجعلہ من الصالحین
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے

آیت وان یکادالذین کفروا لیز لقونک کی تفسیر 51 ۔” وان یکاد الذین کفروا لیز لقونک بابصارھم “ کفار نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو نظر کے ذریعے تکلیف پہنچائیں تو آپ (علیہ السلام) کی طرف قریش کی ایک جماعت نے نظر کی اور کہنے لگے ہم نے اس کی مثل نہیں دیکھا اور دلیل میں غالب آنے والا کہا گیا ہے کہ بنواسد کی نگاہ بہت لگتی تھی حتیٰ کہ اونٹنی اور موٹی گائے ان میں سے کسی کے سامنے سے گزرتی تو وہ اس کو دیکھتا، پھر کہتا اے لونڈی تو برتن اور دراہم لے اور ہمارے پاس اس کا کچھ گوشت لے آئے تو وہ ٹھہرتی حتیٰ کہ موت واقع ہوجاتی ، پھر نحر کی جاتی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں عرب کا ایک شخص دو یا تین دن کچھ نہ کھاتا پھر اپنے خیمہ کی طرف اٹھاتا ، پھر اس کے سامنے سے اونٹ گزرتا تو وہ کہتا میں نے آج کے دن کی طرح کوئی اونٹ اور بکری اس سے اچھی نہیں دیکھی۔ پس وہ تھوڑا سا آگے جاتی حتیٰ کہ اس کا کچھ حصہ گر جاتا تو کفار نے اس سے سوال کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو نظر لگائے اور آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا کرے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) کو بچایا اور اتارا ” وان یکاد الذین کفروا لیز لقونک بابصارھم “ یعنی اور قریب ہے اور لام ” لیزلقونک “ میں ان کی جگہ داخل ہوا ہے اور اہل مدینہ نے ” لیزلقونک “ یاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کے پیش کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے ” زلقہ یزلقہ زلقا وازلقہ یزلقہ ازلاقا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کا معنی وہ آپ سے پار کردیں گے۔ کہا جاتا ہے ” زلق اسھم “ جب وہ جس سے پار ہوجائے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں وہ آپ کو اپنی آنکھوں سے تکلیف پہنچاتے۔ نضیر بن شمیل (رح) فرماتی ہیں ” یعینونک “ اور کہا گیا ہے وہ آپ کو پھسلا دیتے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں آپ کو پچھاڑ دیتے اور کہا گیا ہے آپ (علیہ السلام) کو پھیر دیتے اس سے جس پر آپ (علیہ السلام) ہیں رسالت کی تبلیغ وغیرہ سے۔ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں یہ مراد نہیں ہے کہ وہ آپ (علیہ السلام) کو اپنی آنکھوں کے ذریعے تکلیف پہنچائیں گے جیسا کہ نظر لگانے والا اپنی آنکھ سے اچھی لگنے والی چیز کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ یہاں تو یہ مراد ہے کہ وہ آپ (علیہ السلام) کو جب آپ (علیہ السلام) قرآن پڑھتے ہیں دشمنی اور بغض کی وجہ سے سخت نظروں سے دیکھتے ہیں۔ قریب ہے کہ آپ کو گرادیں۔ اور زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ اپنی سخت دشمنی کی وجہ سے بغض کی نگاہ کرتے ہیں۔ قریب ہے کہ وہ آپ (علیہ السلام) کو پچھاڑ دیتے۔ یہ کلام میں مستعمل ہے کہنے والا کہتا ہے ۔ ” نظر الی نظر ایکاد “ پھر ” عنی ونظر ایکاد یا کلنی “ ایسی نظر کی یہ مجھے پچھاڑنے کے قریب تھا اور مجھے کھانے کے قریب تھا۔ اس معنی کی صحت پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اس نظر کو قرآن کے سننے کے ساتھ ملایا گیا ہے اور وہ باری تعالیٰ کا قول ” لما سمعوا الذکر “ ہے اور وہ لوگ اس کو سخت ناپسند کرتے تھے تو آپ (علیہ السلام) کی طرف بغض کی تیز نگاہ ڈالتے تھے۔ ” ویقولون انہ لمجنون “ یعنی آپ (علیہ السلام) کی جنون کی طرف نسبت کرتے ہیں جب آپ (علیہ السلام) کو قرآن پڑھتے سنتے ہیں۔