56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 56:81

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

پروردگار عالم کی طرف سے اتارا گیا ہے

80 ۔” تنزیل مین رب العالمین “ یعنی قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔ ” منزل “ کا نام تنزیل رکھا گیا ہے لغت کی وسعت پر۔ جیسا کہ مقدور کو قدر کہا جاتا ہے اور مخلوق کو خلق۔
Ayah 56:82

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو ؟

81 ۔” افبھذا الحدیث “ یعنی قرآن۔ ” انتم “ اے اہل مکہ ” مدھنون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تکذیب کرنے والے ہو۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کافر ہو۔ اس کی نظیر ” ودوا لوتدھن فیدھنون “ اور مدھن اور مداھن بہت بڑا جھوٹا اور منافق اور یہ ادھان سے ہے اور وہ باطن ظاہر کے خلاف چلنا ہے۔ یہ اس کی اصل ہے۔ پھر جھٹلانے والے کو ” مدھنہ “ کہاجاتا ہے۔ اگرچہ وہ صراحۃ تکذیب وکفر کرے۔
Ayah 56:83

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ اسے جھٹلاتے ہو ؟

82 ۔” وتجعلون رزقکم “ تمہارا حظ وحصہ قرآن سے۔ ” انکم تکذبون “ حسن (رح) نے اس آیت کے سلسلے میں کہا : وہ بندہ تباہ ہوگیا جس کا کتاب اللہ سے نصیب صرف تکذیب ہے (یعنی کلام اللہ کی بس تکذیب کرتا ہے، کوئی ہدایت حاصل نہیں کرتا) ۔ مفسرین نے ایک جگہ رزق کا معنی شکر بیان کیا ہے۔ امام احمد اور ترمذی نے حضرت علی ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہی ارشاد بیان کیا ہے۔ ہیثم بن عدی نے کہا : ازدشنوء ہ کے محاورے میں لارزق کا معنی ہوتا ہے۔ ماشکر۔ اس نے شکر نہیں کیا۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ رزق سے پہلے لفظ شکر محذوف ہے اور رزق سے مراد ہے بارش۔ جب بارش ہوتی تھی تو عرب کہتے تھے ہم پر ستاروں کی تاثیر سے بارش ہوئی۔ اللہ کے حکم سے بارش ہونے کے وہ قائل نہ تھے۔ مطلب یہ ہے کہ بارش ہوتی تھی تو عرب کہتے تھے ہم پر ستاروں کی تاثیر سے بارش ہوئی۔ اللہ کے حکم سے بارش ہونے کے وہ قائل نہ تھے۔ مطلب یہ ہے کہ بارش ہونے کا تم شکریہادا کرتے ہو کہ تکذیب کرنے لگتے ہو۔ یعنی بجائے شکر کے کفران نعمت کرتے ہو۔ حضرت زید بن خالد جہنی کا بیان ہے کہ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ نے ہم کو صبح کی نماز پڑھائی۔ رات کو بارش ہوئی تھی جس کے کچھ نشانات تھے۔ حضور ﷺ نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں کی طرف ر خ کرکے فرمایا۔ کیا تم لو گ جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ حاضرین نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ( ﷺ ) ہی بخوبی جانتے ہیں۔ فرمایا اللہ نے فرمایا میرے بندوں میں کوئی مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور کوئی میرا انکار کرتا ہے جو شخص کہتا ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی۔ وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کا منکر ہے اور جو شخص قائل ہے کہ ہم اس ستارے کے ذریعہ سے بارش برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہے اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔
Ayah 56:84

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

بھلا جب روح گلے میں آپہنچتی ہے

83 ۔” فلولا “ پس کیوں نہیں۔ ” اذا بلغت الحلقوم “ یعنی نفس حلق تک پہنچ جائے موت کے وقت۔
Ayah 56:85

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور تم اس وقت کی (حالت کو) دیکھا کرتے ہو

84 ۔” وانتم حینئذ تنظرون “ مراد یہ ہے کہ تم اے اہل میت اس کی طرف دیکھتے ہو جب اس کا نفس نکل رہا ہوتا ہے اور کہا گیا ہے اس کے قول ” تنظرون “ کا معنی یعنی میرے امر کی طرف اور میری سلطنت کی طرف۔ تمہارے لئے اس کو دور کرنا ممکن نہیں ہوتا اور تم کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے۔
Ayah 56:86

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

اور ہم اس (مرنے والے) سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے

85 ۔” ونحن اقرب الیہ منکم “ علم اور قدرت اور رویت کے ساتھ اور کہا گیا ہے کہ اور ہمارے رسول جو اسکی روح قبض کرتے ہیں وہ اس سے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ ” ولکن لا تبصرون “ ان کو جو اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں۔
Ayah 56:87

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو

86 ۔” فلولا “ پس کیوں نہیں۔” ان کنتم غیر مدینین “ مملوک اور اکثر نے کہا ہے محاسبہ کرنے والے اور بدلہ پانے والے۔
Ayah 56:88

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

تو اگر سچے ہو تو روح کو پھیر کیوں نہیں لیتے ؟

87 ۔” ترجعونھا ان کنتم صادقین “ یعنی تم اس میت کے روح کو اس کے جسم کی طرف لوٹا دو حلقوم تک پہنچنے کے بعد۔ تو اپنے قول ” فلولا اذابلغت الحلقوم “ اور اپنے قول ” فلولا ان کنتم غیر مدینین “ کا ایک جواب دیا اور اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا قول ” فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم “ ہے کہ دونوں کا ایک جواب دیا گیا۔ اس کا معنی اگر معاملہ ویسے ہو جیسے تم کہتے ہو کہ نہ کوئی بعث ہوگا اور نہ کوئی حساب اور نہ کوئی معبود ہے جو بدلہ دے۔ پس کیوں نہیں تم اس کا نفس واپس لوٹا دیتے جو تمہارا عزیز ہے جب وہ حلق تک پہنچ جائے اور جب تمہیں یہ ممکن نہیں ہے تو جان لو کہ معاملہ تمہارے غیر کی طرف ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہیں پس تم اس پر ایمان لائو پھر موت کے وقت مخلوق کے طبقات کو ذکر کیا جائے گا اور ان کے درجات کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا :
Ayah 56:89

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

پھر اگر وہ (خدا کے) مقربوں میں سے ہے

88 ۔” فاما ان کان من المقربین “ اور وہ سابقین ہیں۔
Ayah 56:90

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبو دار پھول اور نعمت کے باغ ہیں

89 ۔” فروح “ یعقوب (رح) نے ” فروح “ راء کے پیش کے ذریعے پڑھا ہے اور باقی حضرات نے راء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ پس جس نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی اس کی روح ریحان میں نکلے گی اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں الروح رحمت ہے یعنی اس کے لئے رحمت ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی پس ان کے لئے زندگی اور بقاء ہے اور جس شخص نے راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اس کا معنی ” فلہ روح “ ہے یعنی اس کے لئے راحت ہے اور یہ مجاہد (رح) کا قول ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں فرح یعنی خوشی ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں مغفرت ورحمت ہے۔ ” وریحان “ استراحت ہے۔ مجاہد اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ فرماتے ہیں رزق۔ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ رزق ہے حمیر کی زبان میں کہا جاتا ہے میں نکلا۔ ” الطلب ریحان “ یعنی اللہ کے رزق کو تلاش کرنے اور دیگر حضرات نے کہا ہے یہ وہ پھول ہے جو سونگھا جاتا ہے۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ مقربین میں سے کوئی ایک دنیا سے جدانہ ہوگا حتیٰ کہ اس کو جنت کے ریحان کی ایک ٹہنی دی جائے گی۔ پس اس کو سونگھے گا، پھر اس کی روح قبض کی جائے گی۔ ” وجنۃ نعیم “ ابوبکر وراق (رح) اللہ فرماتے ہیں الروح آگ سے نجات پانا اور الریحان دار قرار میں داخل ہونا۔
Ayah 56:91

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے

90 ۔” واما ان کان “ وفات پانے والے۔ ” من اصحاب الیمین۔
Ayah 56:92

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

تو (کہا جائے گا کہ) تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام

91 ۔” فسلام لک من اصحاب الیمین “ یعنی اے محمد ! ﷺ آپ کے لئے سلامتی ہے ان میں سے۔ پس آپ (علیہ السلام) ان کا غم نہ کریں کیونکہ وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ ہوگئے ہیں یا آپ (علیہ السلام) ان میں وہ دیکھیں گے جو آپ (علیہ السلام) پسند کرتے ہیں سلامتی سے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے اور ان کی نیکیاں قبول کریں گے اور فراء (رح) اور ان کے علاوہ فرماتے ہیں ” فسلام لک انھم “ کہ وہ ” من اصحاب الیمین “ یا صاحب یمین کو کہا جائے گا۔ ” سلام لک انک “ (کہ تو)” من اصحاب الیمین “ اگر آدمی کہے ” انی مسافر عن قلیل “ تو تو اس کو کہے گا ” انت مصدق مسافر عن قلیل “ اور کہا گیا ہے ” فسلام لک “ یعنی تجھ پر سلام ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔
Ayah 56:93

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے

92 ۔” واما ان کان من المکذبین “ بعث کا۔ ” الضالین “ ہدایت سے اور یہ اصحاب ” مشئمۃ “ ہیں۔
Ayah 56:94

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

تو (اسکے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے

93 ۔” فنزل من حمیم “ پس جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے جہنم کا کھولتا ہوا پانی۔
Ayah 56:95

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

اور جہنم میں داخل کیا جانا

94 ۔” وتصلیۃ جحیم “ اور بڑی آگ میں داخل کرنا ہے۔
Ayah 56:96

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

یہ (داخل کیا جانا یقینا صحیح یعنی) حق الیقین ہے

95 ۔” ان ھذا “ یعنی جو حاضر ہونے والوں کا قصہ ذکر کیا گیا ہے۔ ” لھو حق الیقین “ یعنی ” الحق الیقین “ اس کی اضافت اپنی ذات کی طرف کی ہے۔