56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 56:41

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بہت سے پچھلوں میں سے

ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین کی تفسیر 40 ۔” وثلۃ من الآخرین “ اس امت کے مومنین میں سے۔ یہ عطاء اور مقاتل رحمہم اللہ کا قول ہے۔ عروۃ بن رویم سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر ” ثلۃ من الاولین وقلیل من الآخرین “ نازل کی تو حضرت عمر ؓ روپڑے اور کہا اے اللہ کے نبی ! ہم اللہ کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اس کی تصدیق کی اور ہم میں سے کون نجات پائے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ثلۃ من الاولین وثلۃ من الآخرین “ تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو بلایا اور فرمایا تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل کیا ہے جو تونے کہا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہم اپنے رب سے راضی ہوئے اور ہم نے اپنے نبی کریم ﷺ کی تصدیق کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) سے ہم تک ایک ” ثلۃ “ ہے اور مجھ سے قیامت تک ایک ” ثلۃ “ ہے اور اس کو مکمل نہیں کریں گے مگر دو سیاہ لوگ اونٹوں کے چرانے والوں میں سے ان میں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم پر رسول اللہ ﷺ ایک دن نکلے تو فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں تو ایک نبی گزرے اور ان کے ساتھ ایک آدمی تھا اور ایک نبی گزرے اور ان کے ساتھ دو آدمی تھے اور ایک نبی گزرے ان کے ساتھ ایک جماعت تھی اور ایک نبی گزرے ان کے ساتھ کوئی نہ تھا اور میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے افق کو بند کردیا تو میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہو تو کہا گیا یہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی کے قوم کے ساتھ ہیں پھر مجھے کہا گیا اب دیکھیں تو میں نے دیکھا ایک بہت بڑی جماعت ہے جس نے افق کو بند کردیا ہے تو مجھے کہا گیا آپ یہ یہ دیکھیں تو میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے افق کو بند کردیا تو کہا گیا یہ آپ (علیہ السلام) کو بلند کردیا تو کہا گیا یہ آپ (علیہ السلام) کی امت ہے اور ان کے ساتھ سترہزار ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر لوگ متفرق ہوگئے اور ان کو بیان نہیں کیا گیا پھر نبی کریم ﷺ کے اصحاب نے ایک دن یاد کیا کہنے لگے ہم شرک میں پیدا ہوئے لیکن ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئے لیکن یہ ہماری اولاد نبی کریم ﷺ کو یہ بات پہنچی تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو بدفال نہیں نکالتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرتے اور داغ لگاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں تو عکاشہ بن محض کھڑے ہوئے اور فرمایا اور کہا کیا میں ان میں سے ہوں گا یارسول اللہ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں تو دوسرے شخص کھڑے ہوئے اور کہا گیا میں ان میں سے ہوں گا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تحقیق آپ سے اس بارے میں عکاشہ ؓ سبقت کرگئے ہیں اور اس کو عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آج کے دن مجھ پر انبیاء (علیہم السلام) پیش کیے گئے اپنے متبعین کے ساتھ حتیٰ کہ مجھ پر موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی بڑی جماعت لے کر آئے جب میں نے ان کو دیکھا تو انہوں نے مجھے تعجب میں ڈال دیا تو میں نے پوچھا اے میرے رب یہ لوگ ؟ کہا گیا یہ آپ (علیہ السلام) کے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے لوگ ہیں تو میں نے کہا اے میرے رب ! پس میری امت کہاں ہے ؟ کہا گیا آپ (علیہ السلام) اپنے دائیں جانب دیکھیں۔ پس اچانک مکہ کے ٹیلے لوگوں کی وجہ سے بند کردیئے گئے تھے۔ کہا گیا یہ آپ (علیہ السلام) کی امت ہے کیا آپ راضی ہیں، میں نے کہا میرے رب میں راضی ہوں، اے میرے رب ! میں راضی ہوں۔ کہا گیا اپنے بائیں جانب دیکھیں۔ پس اچانک افق لوگوں کی وجہ سے بند کردیا گیا۔ یہ آپ (علیہ السلام) کی امت ہے کیا آپ (علیہ السلام) راضی ہیں ؟ میں نے کہا اے میرے رب ! میں راضی ہوں تو کہا گیا ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے تو اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اگر تم طاقت رکھو تو ان ستر ہزار میں سے ہوجائو اور اگر تم عاجز ہوجائو اور کوتاہی کر بیٹھو تو ٹیلوں والوں میں سے ہوجائو اور اگر تم عاجز ہوجائو افق والوں میں سے ہوجائو کیونکہ تحقیق میں نے وہاں لوگوں کو دیکھا ہے کہ بہت بڑی تعداد میں جمع تھے۔ حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم راضی ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کیا تم راضی ہو کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو، ہم نے کہا جی ہاں۔ فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، میں جیسے سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں یا سیاہ بال سرخ بیل کی کھال میں اور ایک جماعت اس جانب گئی ہے کہ یہ دونوں ” ثلۃ “ اس امت میں سے ہیں اور یہ ابو العالیہ ، مجاہد اور عطاء بن ابی رباح اور ضحاک رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ان حضرات نے کہا ” ثلۃ من الاولین “ اس امت کے سابقین میں سے۔ ” وثلۃ من الآخرین “ اس امت سے آخر زمانہ میں۔ سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے اسی آیت کے بارے میں نقل کیا ہے۔ ” ثلۃ من الاولین وثلۃ من الآخرین “ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں میری امت میں سے ہیں۔
Ayah 56:42

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں

41 ۔” واصحاب الشمال ما اصحاب الشمال۔
Ayah 56:43

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

(یعنی دوزخ کی) لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں

42 ۔” فی سموم “ گرم ہوا۔ ” وحمیم “ گرم ابلتے ہوئے پانی۔
Ayah 56:44

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں

43 ۔” وظل من یحموم “ دھواں سخت سیاہ۔ عرب کہتے ہیں اسود یحموم جب سخت سیاہ ہو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ آگ سیاہ ہے اور اسی کے اہل سیاہ تر اور ہر چیز جس میں سیاہی ہو۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں ” الیحموم “ آگ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
Ayah 56:45

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) اور نہ خوشنما

44 ۔” لابارد ولا کریم “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں نہ ٹھنڈی جگہ اور نہ اچھا منظر ہے اور سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ نہ معزز ہے اور نہ اچھا۔ اس کی نظیر ” من کل زوج کریم “ ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں عمدہ۔
Ayah 56:46

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

یہ لوگ اس سے پہلے عیش نعیم میں پڑے ہوئے تھے

45 ۔” انھم کانوا قبل ذلک “ یعنی دنیا میں ” مترفین “ خوش عیش تھے۔
Ayah 56:47

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے

46 ۔” وکانوا یصرون “ قائم رہتے تھے۔ ” علی الحنث العظیم “ کبیرہ گناہ پر اور وہ شرک ہے۔ شعبی (رح) فرماتے ہیں ” الذنب العظیم “ جھوٹی قسم ” یمین غموس “ ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ قسمیں کھاتے تھے کہ وہ نہیں اٹھائے جائیں گے اور اس میں انہوں نے جھوٹ بولا۔
Ayahs 56:48–55

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اٹھنا ہوگا

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی ؟

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بیشک پہلے اور پچھلے

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

(سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

پھر تم اے جھٹلانے والے گمراہو !

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

تھوہر کے درخت کھاؤ گے

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر اسی سے پیٹ بھرو گے

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے

47 ۔” وکانوا یقولون ائذامتنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون “ ابو جعفر، نافع اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” ائذا “ استفہام کے ذریعے پڑھا ہے۔ ” انا “ استفہام کو چھوڑ کر اور دیگر حضرات نے دونوں میں استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 56:56

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں

55 ۔” فشاربون شرب الھیم “ اہل مدینہ اور عاصم اور حمزہ نے ” شرب “ شین کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ پس فتح مصدر کی بناء پر اور پیش اسم کی بناء پر جو مصدر کے معنی میں ہے۔ جیسے ضعف ” والھیم “ پیاسے اونٹ۔ عکرمہ اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” الھیام “ بیماری ہے جو اونٹ کو لگتی ہے جس کی وجہ سے وہ سیر نہیں ہوتا اور پانی پیتے پیتے مرجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے ” جمل اھیم “ اور ناقۃ ھیمائ “ اور ” الابل ھیم “ اور ضحاک اور ابن عینیہ (رح) فرماتے ہیں ” الھیم “ نرم زمین ریت والی۔
Ayah 56:57

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی

56 ۔” ھذا نزلھم “ یعنی جو زقوم اور حمیم ذکر کیا گیا ہے یعنی ان کا رزق اور ان کی غذا ہوگا۔ ” یوم الدین “ جس دن ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا پھر ان بعث میں حجت ذکر کی۔
Ayah 56:58

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے، تو تم (دوبارہ اٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے ؟

57 ۔” نحن خلقنا کم “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہم نے تمہیں پیدا کیا اور تم کچھ بھی نہ تھے اور تم اس کو جانتے ہو۔ ” فلولا “ پس کیوں نہیں۔ ” تصدقون “ بعث کی۔
Ayah 56:59

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو

58 ۔” افرایتم ما تمنون “ رحموں میں ٹپکاتے ہو نطفوں سے۔
Ayah 56:60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں ؟

59 ۔” ء انتم تخلقونہ “ یعنی جو تم منی ڈالتے ہو کیا تم اس کو انسان بناتے ہو۔ ” ام نحن الخالقون “۔
Ayah 56:61

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں

60 ۔” نحن قدرنا “ ابن کثیر (رح) نے دال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے اس کی شد کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ ” بینکم الموت “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں پس تم میں سے بعض وہ ہیں جو بڑھاپے کو پہنچتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو بچپن یا جوانی میں مرجاتے ہیں۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں اس کی تقدیر یہ ہے کہ اس نے اہل آسمان اور اہل زمین کو اس میں برابر کردیا ہے۔ اس تفصیل پر ” قدرنا “ کا معنی قفینا ہوگا۔ ” ومانحن بمسبوقین “ مغلوب عاجز تمہارے ہلاک کرنے سے تمہاری مثل کے ساتھ تمہیں بدلنے سے۔
Ayah 56:62

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں

61 ۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” علی ان نبدل امثالکم “ یعنی ہم لائیں مخلوق تمہاری مثل تمہارے بدلہ میں۔ ” وننشئکم “ ہم تمہیں پیدا کریں۔ ” فیما لاتعلمون “ صورتوں میں سے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جس مخلوق میں ہم چاہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم تمہاری صفات کو تبدیل کردیں پس تمہیں بندروخنزیر بنادیں۔ جیسا کہ ہم نے تم سے پہلے لوگوں کے ساتھ کیا۔ یعنی اگر ہم ارادہ کریں کہ ہم یہ کریں تو یہ ہم سے نہ چھوٹے گا اور سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں ” فیما لا تعلمون “ یعنی سیاہ پرندوں کے گھونسلوں میں جو برھوت یمن کی ایک وادی میں ہوتے ہیں۔ گویا کہ وہ درندوں کے چنگل میں۔
Ayah 56:63

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

62 ۔” ولقد علمتم انلشاۃ الاولیٰ “ پہلی تخلیق جب تم کچھ نہ تھے۔ ” فلولا تذکرون “ کہ میں قادر ہوں تمہارے لوٹانے پر جیسا کہ میں تمہارے دشمنوں پر قادر تھا۔
Ayah 56:64

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو کچھ تم بوتے ہو

63 ۔” افرایتم ما تحرثون “ یعنی زمین میں بیج ڈالتے ہو۔
Ayah 56:65

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

تو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اسے اگاتے ہیں ؟

64 ۔” ء انتم تزرعونہ “ تم اس کو اگاتے ہو۔ ” ام نحن الزارعون “ اگانے والے ہیں۔
Ayah 56:66

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ

65 ۔” لونشاء لجعلناہ حطاما “ عطاء (رح) فرماتے ہیں بوسہ جس میں کوئی دانہ نہ ہو اور کہا گیا ہے ٹکڑے ٹکڑے جس سے کھانے اور غذاء میں نفع نہ حاصل کیا جاسکے۔ ” فظلتم “ اس کی اصل ” فظلتم “ ہے دو لاموں میں سے ایک کو تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا۔ ” تفکھون “ ہم تعجب کرتے اس سے جو تمہاری کھیتی میں اترا اور یہ عطاء قلبی اور مقاتل رحمہم اللہ کا قوت ہے اور کہا گیا ہے تم اپنے نفقات پر شرمندہ ہوتے ہو اور یہ یمان کا قول ہے اس کی نظیر ” فاصبح یقلب کفیہ علی ما انفق فیھا “ ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں تم اس معصیت پر شرمندہ ہوتے ہو جو تم سے پہلے ہوچکی جس نے یہ سزا واجب کی اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں تم ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہو اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں تم غم کرتے ہو اور کسائی (رح) فرماتے ہیں وہ فوت ہوجانے والی چیز پر افسوس کرنا ہے اور یہ اضداد میں سے ہے۔ عرب کہتے ہیں ” تفکھت “ یعنی میں نعمتوں میں ہوں اور ” تفکھت “ یعنی میں غمگین ہوں۔
Ayah 56:67

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

(کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے

66 ۔” انا لمغرمون “ ابوبکر نے عاصم سے ” ائنا “ دو ہمزوں کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے خبر پر پڑھا ہے اور آیت کا مجاز ہے۔ ” فظلتم تفکھون “ اور تم کہنے لگے ” انا لمغرمون “ اور مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہم پر مصیبت آپڑی ہے اور ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) نے فرمایا ہے ” معذبون “ ہم عذاب دیئے گئے ہیں اور الغرام بمعنی عذاب اور ضحاک اور ابن کیسان رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہم نے اپنے اموال کا تاوان دیا ہے اور جو ہم نے خرچ کیا ہے وہ ہم پر تاوان ہوگیا ہے اور مغرم وہ شخص جس کا مال بغیر عوض کے چلا گیا ہو۔
Ayahs 56:68–69

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

بلکہ ہم ہیں ہی بدنصیب

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو پانی تم پیتے ہو

67 ۔” بل نحن محرومون “ یعنی ہم اس سے محروم کیے گئے جو ہم کاشت میں غلہ تلاش کرتے تھے۔
Ayah 56:70

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

کیا تم نے اسکو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں ؟

ء انتم انزلتموہ من المزن “ بادلوں سے اس کا واحد ” مزنۃ “ ہے۔ ” ام نحن المنزلون۔
Ayah 56:71

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟

لو نشاء جعلناہ اجاجا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سخت نمکین۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کڑوا۔ ” فلو لا تشکرون “۔
Ayah 56:72

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو

71 ۔” افرایتم النار التی تورون “ جو تم جلاتے ہو اور اس کو تم اپنے چقماق کی اوپر والی لکڑی سے نکالتے ہو۔
Ayah 56:73

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟

72 ۔” ء انتم انشاتم شجر تھا “ وہ جس سے آگ جلائی جاتی ہے اور وہ مرخ اور عفارودرخت ہے۔ ” ام نحن المنشنون۔
Ayah 56:74

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے

73 ۔” نحن جعلناھا “ ہم نے اس کو یعنی دنیا کی آگ کو پیدا کیا۔ ” تذکرۃ “ بڑی آگ کے لئے۔ جب اس کو دیکھنے والا دیکھے گا تو جہنم کو یاد کرے گا۔ اس کو عکرمہ اور مجاہد اور مقاتل رحمہم اللہ نے کہا ہے اور عطائؒ فرماتے ہیں نصیحت جس کے ذریعے مومن نصیحت حاصل کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدم کی آگ جو وہ جلاتے ہیں جہنم کی آگ کے ستر جزء میں سے ایک جزء ہے۔ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگر یہ یہوتی تو کافی تھی۔ فرمایا اس جہنم کی آگ کو اس دنیا کی آگ پر انہتر 69 جزء فضیلت دی گئی ہے۔ ” ومتاعا “ منفعت کا۔ ” للمقوین “ مسافروں کے لئے۔ المقوی زمین میں پڑائو ڈالنے والا اور ” القیٰ القواء “ چٹیل میدان جو آئادی سے دور ہو۔ کہا جاتا ہے قوت الدار جب وہ رہنے والوں سے خالی ہو اور معنی یہ ہے کہ اس سے جنگل کے رہنے والے لوگ اور مسافر نفع حاصل کرتے ہیں کیونکہ ان کا اس سے نفع حاصل کرنا مقیم لوگوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ رات کو آگ جلاتے ہیں تاکہ اس کے ڈر سے درندے بھاگ جائیں اور بھٹکے ہوئے مسافر راہ پالیں اور اس کے علاوہ بھی کئی منافع ہیں۔ یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور مجاہد اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ” للمقوین “ یعنی تمام لوگوں میں سے اس نفع اٹھانے والوں کے لئے خواہ مسافر ہوں یا مقیم وہ تاریکی میں اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور ٹھنڈے گرمائش حاصل کرتے ہیں اور سالن روٹی پکانے میں نفع حاصل کرتے ہیں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں مسافروں کے لئے پہنچنے کا ذریعہ ہے کہ اس کے ذریعے اپنے سفروں تک پہنچتے ہیں اس کو اپنے تھیلوں میں اٹھا لیتے ہیں اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں بھوکوں کے لئے۔ عرب کہتے ہیں ” اقویت منذکذاوکذا “ یعنی میں نے کچھ نہیں کھایا۔ قطرب (رح) فرماتے ہیں ” المقوی “ اضداد میں سے ہے ۔ فقیر کو ” مقو “ کہا جاتا ہے اس کے مال سے خالی ہونے کی وجہ سے اور مال دار کو ” مقو “ کہا جاتا ہے اس کی اپنے ارادہ پر طاقت کی وجہ سے۔ کہا جاتا ہے ” اقوی الرجل “ الرجل جب تونے اس کو مویشی دیئے ہوں اور اس کا مال زیادہ ہوگیا ہو اور وہ قوت کی حالت میں ہوگیا ہو اور معنی یہ ہے کہ اس میں مال داروں اور فقراء سب کے لئے نفع ہے اس سے کوئی مستغنی نہیں ہے۔
Ayah 56:75

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو

74 ۔” فسبح باسم ربک العظیم “
Ayah 56:76

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

مجھے تاروں کی منزلوں کی قسم

75 ۔” فلا اقسم بمواقع النجوم “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کا معنی اقسم ہے اور لا صلہ ہے اور عیسیٰ بن امر پڑھتے تھے فلا قسم تحقیق پر اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا قول ” لا “ اس کا رد ہے جو کفار قرآن کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ جادو ، شعر اور کہانت ہے اس کا معنی ہے معاملہ ویسے نہیں جیسے تم کہتے ہو، پھر قسم کو شروع کیا اور کہا ” اقسم بمواقع النجوم “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے بموقع پڑھا ہے واحد کا صیغہ اور دیگر حضرات نے بمواقع پڑھا ہے جمع کا صیغہ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے قرآن کے نجوم (حصے) مراد ہیں کیونکہ قرآن نبی کریم ﷺ پر متفرق حصوں میں نازل ہوا ہے اور مفسرین رحمہم اللہ کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ ستاروں کے غروب اور گرنے کی جگہ مراد ہے اور عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں ان کی منزلیں مراد ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں ان کا ٹوٹ کر بکھر جانا ہے مراد ہے قیامت کے دن۔
Ayah 56:77

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے

76 ۔” وانہ لقسم لو تعلمون عظیم۔
Ayah 56:78

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے

77 ۔” انہ “ یعنی یہ کتاب اور یہ موضع قسم ہے۔ ” لقرآن کریم “ غالب معزز ہے اس لئے کہ وہ اللہ کی کلام ہے ۔ بعض اہل معانی فرماتے ہیں کریم وہ جس کی یہ شان ہو کہ خیر کثیر دے۔
Ayah 56:79

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا) ہوا ہے

78 ۔” فی کتاب مکنون “ اللہ کے پاس لوح محفوظ میں محفوظ ہے شیاطین سے۔
Ayah 56:80

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں

لا یمسہ الا المطھرون کی تفسیر 79 ۔” لا یمسہ “ یعنی اس چھپی ہوئی کتاب کو۔ ” الا المطھرون “ اور وہ فرشتے ہیں جو پاکی کے ساتھ موصوف میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا گیا ہے اور یہ سعید بن جبیر (رح) اور ابوالعالیہ (رح) کا قول ہے اور قتادہ وابن زید فرماتے ہیں یہ فرشتے ہیں۔ حسان نے کلبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ لکھنے والے معزز فرشتے ہیں اور محمد بن فضل نے ان سے روایت کی ہے کہ اس کو صرف موحدین پڑھتے ہیں۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ابن عباس ؓ اس سے منع کرتے تھے کہ یہودو نصاریٰ کو قرآن کی قرات پر قدرت دی جائے۔ فرائؒ فرماتے ہیں اس کا ذائقہ اور نفع وہی شخص محسوس کرے گا جو اس پر ایمان لایا اور ایک قوم نے کہا ہے۔ اس کا معنی، اس کو نہیں چھوتے مگر وہ جو حدث اور جنابت سے پاک ہیں اور آیت کا ظاہر نفی ہے اور اس کا معنی نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا جنبی اور حائضہ اور بےوضو کے لئے قرآن کا اٹھانا اور چھونا جائز نہیں ہے اور یہ عطاء ، طائوس ، سالم، قاسم اور اکثر اہل علم کا قول اور اسی کے امام مالک اور شافعی رحمہما اللہ قائل ہیں اور حکم اور حماد اور امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں بےوضو اور جنبی کے لئے مصحف اٹھانا اور غلاف کے ساتھ چھونا جائز ہے اور پہلا اکثر فقہاء کا قول ہے ۔ عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ اس خط میں جس کو رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم کے لئے لکھا تھا، یہ تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک شخص اور قرآن سے مصحف ہے۔ اس کا نام قرآن رکھا ہے قرب جواز اور وسعت کی بناء پر ۔ جیسا کہ روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا اس نے قرآن کے ساتھ سفر کیا جائے، دشمن کی زمین کی طرف اور اس سے مصحف مراد لیا ہے۔