40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 40:81–82

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ (کہیں جانے کی) تمہارے دلوں میں جو حاجت ہو ان پر (چڑھ کر وہاں) پہنچ جاؤ اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو تم خدا کی کن کن نشانیوں کو نہ مانو گے

تفسیر 80۔۔۔۔۔۔ ، اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوامنھا، ان میں سے بعض پر، ومنھاتاکلون ولکم فیھا منافع، ان کی اون، پشم اور ان کے بالوں اور دودھ میں۔ ، ولتبلغواعلیھا حاجۃ فی صدورکم، وہ تمہارے بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہراٹھا کرلے جاتے ہیں اور تاکہ تم ان پر اپنی ضرورت تک پہنچ سکو۔ ، وعلیھا وعلی الفلک تحملون، یعنی خشکی میں اونٹ پر اور سمندر میں کشتیوں پر۔ اس کی نظیرباری تعالیٰ کافرمان، وحملناھم فی البرالبحر،
Ayah 40:83

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین کی سیر نہیں کہ تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا (حالانکہ) وہ ان سے کہیں زیادہ اور طاقتور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے تو جو کچھ وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا

82، افلم یسیروافی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم کانوا اکثر منھم واشد قوۃ واثارافی الارض، یعنی ان کے محلات اور تعمیر کردہ عمارتیں۔ ، فمااغنی عنھم ، نہیں نفع دیا ان کو ، ماکانوایکسبون، کہا گیا ہے کہ یہ استفہام کے معنی میں ہے اور اصل عبارت یوں ہے کہ ان کی کمائی میں سے کس چیز نے ان کو نفع دیا ہے ؟
Ayahs 40:84–85

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

اور جب انکے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے

(83۔ 84) ۔۔۔۔۔ ، فلما جاء تھم رسلھم بالبینات فرحوا، وہ راضی ہوگئے۔ ، بما عندھم من العلم، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ان کا وہ قول ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ نہ ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور نہ ہم عذاب دیئے جائیں گے۔ اس کو علم کا نام دیا گیا ہے۔ ان کے دعویٰ کے مطابق ورنہ یہ حقیقت میں جہالت ہ۔ ، وحاق بھم ما کانوابہ یستھزء ون فلما راواباسنا قالوا امنا باللہ وحدہ وکفرنابما کنا بہ مشرکین، یعنی جو ہم اللہ کے برابر ٹھہراتے تھے اس سے ہم برأت ظاہر کرتے ہیں۔