40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

جو برے کام کرے گا اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے، اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں ان کو بیشمار رزق ملے گا

40، من عمل سیئۃ فلا یجزی الا مثلھا ومن عمل صالحا من ذخر او انثی وھو مؤمن فاولئک یدخلون الجنۃ یرزقون فیھا بغیر حساب، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ جنت میں جو خیر بھی دیئے جائیں گے اس کی کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی۔
Ayah 40:42

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

اور اے قوم ! میرا کیا (حال) ہے کہ میں تو تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے (دوزخ کی) طرف بلاتے ہو

تفسیر 41۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ویاقوم مالی ادعوکم الی النجاۃ، یعنی تمہیں کیا ہوگیا ہے جیسے عرب کہتے ہیں، مالی اراک حزینا ؟ ، یعنی (مالک) تجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تجھے غمگین دیکھ رہاہوں۔ اب مطلب یہ ہے کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہاراکیاحال ہے کہ میں تمہیں پر ایمان لانے کے ساتھ آگ سے نجات کی طرف بلاتا ہوں۔ ، وتدعوننی الی النار، اس شرک کی طرف جو جہنم کو واجب کرتا ہے۔ پھر تفسیر کرتے ہوئے کہا۔
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں، اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں

42، تدعوننی لاکفرباللہ واشرک بہ مالیس لی بہ علم وانا ادعوکم الی العزیز الغفار، ان لوگوں سے اپنے انتقام میں غالب ہے جس نے کفر کیا اور اہل توحید کے گناہوں کو بخشنے والا ہے۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں

43، لاجرم، ثابت ہے، ان ماتدعوننی الیہ، یعنی بتوں کی طرف، لیس لہ دعوۃ فی الدنیا ولافی الا خرۃ، سدی (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا وآخرت میں اس کی پکارپرلبیک کوئی نہیں کہے گا اور کہا گیا ہے کہ اس کی عبادت کی طرف دنیا میں کوئی دعوت نہیں ہے اس لیے کہ بت رب ہونے دعوی نہیں کرتے اور نہ اپنی عبادت کی طرف بلاتے ہیں اور آخرت میں وہ اپنے عبادت گزاروں سے برأت (بیزاری) ظاہر کریں گے۔ ، وان مردنا الی اللہ ، ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف ہے تو وہ ہر ایک کو وہی بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق ہے۔ ، وان المسرفین، مشرکین، ھم اصحاب النار،
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کرو گے اور میں اپنا کام خدا کے سپرد کرتا ہوں، بیشک خدا بندوں کو دیکھنے والا ہے

44، فستذکرون مااقول لکم، جب تم عذاب کا مشاہدہ کرلوگے تو اس وقت کایاد آنا تمہیں نفع نہ دے گا۔ ، وافوض امری الی اللہ، اور یہ اس وجہ سے کہا کہ انہوں نے اپنے دین کی مخالفت کرنے کی وجہ سے دھمکیاں دی تھیں ۔ ، ان اللہ بصیر بالعباد، حق اور باطل کو خوب جانتا ہے۔ پھرمؤمن ان کے بیچ سے چلا گیا، انہوں نے اس کو تلاش کیا لیکن وہ نہ ملا۔
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

غرض ! خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا

45، فوقاہ اللہ سیئات مامکروا، جو انہوں نے اس کے بارے میں برا ادہ کیا ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نجات پاگیا حالان کہ وہ قبطی تھا، وحاق، اترا، بال فرعون سوء العذاب، دنیا میں غرق ہوجانا اور آخرت میں دوزخ کے اندرچلے جانا۔
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

(یعنی) آتش (جہنم) کہ صبح وشام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو

46، اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ، النار، یہ مرفوع ہے السوء سے بدل ہونے کی ابناء پر، یعرضون علیھا غدواوعشیا، صبح اور شام کو۔ ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آل فرعون کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹوں میں ہیں ، دن میں دومرتبہ آگ پر پیش کی جاتی ہیں صبح اور شام آگ پر آتی ہیں اور کہاجاتا ہے اے آل فرعون ! یہ تمہارا ٹھکانہ ہے قیامت قائم ہونے تک اور قتادہ، مقاتل ، سدی اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ہر کافر کی روح آگ پر صبح وشام پیش کی جاتی رہے گی جب تک دنیا قائم ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک جب مرجاتا ہے تو اس پر اس کا ٹھکانہ صبح وشام پیش کیا جاتا ہے ۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو اہل جنت میں سے اور اگر اہل نار میں سے ہے تو اہل ناز میں سے۔ پھر اس کو کہاجائے گا یہ تیرا ٹھکانہ ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ تجھے اپنی طرف قیامت کے دن اٹھائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے ٹھکانے کی قیامت کے دن خبردیں گے۔ تو فرمایا : ، ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا، ابن کثیر ، ابن عامر، ابوعمرو اور ابوبکر رحمہم ، اللہ نے ، الساعۃ ادخلوا، الف وصلی کو حذف کرکے اور ابتداء میں اس کے پیش کے ساتھ اور خاء کے پیش کے ساتھ دخول سے پڑھا ہے۔ یعنی ان کو کہا جائے گا کہ تم داخل ہوجاؤاے، آل فرعون اشدالعذاب، اور دیگر حضرات نے الف قطعی اور خاء کی زیر کے ساتھ ادخال سے پڑھا ہے یعنی فرشتوں کو کہا جائے گا کہ تم آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کرو۔ ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ عذاب کی دیگر اقسام مراد ہیں جوان کے علاوہ ہیں جو وہ پہلے دیئے جاچکے ہیں جیسے غرق وغیرہ۔
Ayahs 40:48–49

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ ہم سے دور کرسکتے ہو

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے) خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے

تفسیر 47۔ ، واذیتحاجون فی النار، یعنی اے محمد ! آپ اپنی قوم کے لیے وہ ذکرکریں جب وہ جگڑیں گے یعنی جہنم والے جہنم میں ، فیقول الضعفاء للذین استکبروا انا کنالک تبعا، دنیا میں، فھل انتم مغنون عنانصیبا من النار، اور التبع کا لفظ اہل بصرہ کے قول میں واحد اور جمع استعمال ہوتا ہے اس کا واحدتابع بھی ہے اور اہل کوفہ فرماتے ہیں کہ یہ جمع ہے اس کا کوئی واحد نہیں اور اس کی جمع اتباع ہے۔
Ayah 40:50

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

اور جو لوگ آگ میں (جل رہے) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کرے

49، وقال الذین فی النار، جب ان پر عذاب سخت ہوگیا۔ ، لخزنۃ جھنم ادعواربکم یخفف عنا یوما من العذاب،
Ayah 40:51

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں، تو وہ کہیں گے تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (اس روز) بیکار ہوگی

50، قالوا، یعنی جہنم کے داروغے ان کو، اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینات قالوابلی قالو افاد عوا، تم ہی اب اپنے رب کو یعنی ہم تمہارے لیے اللہ سے دعانہ کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان سے عذاب ہلکانہ ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںـــــــ:، وما دعاء الکافرین الافی ضلال ، یعنی باطل ہوجائے گی اور گمراہ ہوگی اور ان کو کوئی نفع نہ دے گی۔
Ayah 40:52

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے

51، انا لننصررسلنا والذین امنوافی الحیوۃ الدنیا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں غلبہ کے ذریعے اور ضحاک رحمہ فرماتے ہیں کہ حجت کے ذریعے اور آخرت میں عذاب کے ساتھ اور کہا گیا ہے کہ دنیا وآخرت میں دشمنوں سے انتقام لے کر اور یہ تمام صورتیں انبیاء (علیہم السلام) اور مؤ منین کے لیے ہوچکی ہیں۔ یہ ان کے مخالفین پر ان کی حجت کے ذریعے مدد کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے دشمنوں پر غلبہ دے کر اور ان کو ہلاک کرکے بھی ان کی مدد کی اور انبیاء (علیہم السلام) کے قتل کیے جانے کے بعد ان کے دشمنوں سے انتقام لے کر بھی مدد کی۔ جیسے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے قتل کیے جانے کے بعد ان کی مدد کی گئی اور بدلہ میں سترہزارلوگ قتل کیے گئے تو ان تمام طریقوں انبیاء (علیہم السلام) ومؤمنین کی مدد کی گئی ہے۔ ، ویویقوم الاشھاد یعنی قیامت کے دن فرشتوں میں سے حفاظت کرنے والے کھڑے ہوں گے اور رسولوں کے لیے تبلیغ کی گواہی دیں گے اور کفار کے خلاف تکذیب کی گواہی دیں گے۔
Ayah 40:53

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

(یعنی قیامت کو بھی) جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت اور برا گھر ہے

52، یوم لا ینفع الظالمین معذرتھم، اگر وہ اپنے کفر کا عذربیان کریں گے تو ان سے قبول نہ کیا جائے گا اورا گر توبہ کرلیں تو ان کو نفع نہ دے گی۔ ، ولھم اللعنۃ ، رحمت سے دوری ہے۔ ، ولھم سوء الدار، یعنی جہنم۔
Ayahs 40:54–55

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت (کی کتاب) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

عقل والوں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے

تفسیر 53۔ ، ولقد اتینا موسیٰ الھدی، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ گمراہی سے ہدایت دی یعنی توریت ، واورثنا بنی اسرائیل الکتاب، کتاب سے مراد توریت ہے۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

تو صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح و شام اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

55، فاصبر، اے محمد ! ان کی تکلیفوں پر، ان وعد اللہ ، آپ کے غالب کرنے اور آپ کے دشمنوں کے ہلاک کرنے میں، حق، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ آیات قتال نے آیات صبر کو منسوخ کردیا ہے۔ ، واستغفرلذنبک، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور عبادت حکم ہے تاکہ اس کے ذریعے آپ (علیہ السلام) کے درجات زیادہ کریں اور آپ (علیہ السلام) کے بعد آنے والوں کے لیے سنت ہوجائے۔ ، وسبح بحمد ربک، آپ نماز پڑھیں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے ۔ ، بالعشی والابکار، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی عصر فجر کی نماز اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پانچ نمازیں۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

56، ان الذین یجادلون فی آیات اللہ بغیر سلطان اتاھم ان فی صدورھم، نہیں ہے ان کے دلوں میں اور صدردل کی جگہ کو کہتے ہیں اس سے دل کا کنا یہ کہنا ہے پڑوس کی وجہ سے ۔ ، الاکبر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کو آپ (علیہ السلام) کی تکذیب پر ان کے دلوں کا تکبر اور بڑائی ابھارتا ہے۔ ، ماھم ببالغیہ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اس تکبر کے تقاضاتک پہنچنے والے نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کوذ (رح) لیل کرنے والا ہے۔ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے دلوں میں صرف محمد ﷺ پر تکبر ہے اور یہ طمع ہے کہ وہ اس پر غالب ہوجائیں گے حالانکہ وہ اس مقصد کونہ پہنچ سکیں گے۔ مفسرین رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا کہ ہمارا ساتھی مسیح بن داؤد (اس سے ان کی مراد دجال تھا) آخری زمانہ میں نکلے گا تو اس کے بادشاہت خشکی وسمندروں تک پہنچ جائے گی اور بادشاہت ہماری طرف لوٹ آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ساستعذ باللہ، دجال کے فتنہ سے، انہ ھوالسمیع البصیر،
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

57، لخلق السموات والارض، اپنی عظمت کے باو جود، اکبر، مینوں میں بڑا ہے۔ ، من خلق الناس، یعنی موت کے بعدان کو دوبارہ لوٹا نے سے، ولکن اکثرالناس، یعنی کفار، لایعلمون، کیونکہ وہ اس سے اپنے خالق کی توحید پر استدلال نہیں کرتے اور ایک قوم نے کہا ہے کہ اکبر یعنی دجال کے پیدا کرنے سے عظیم ہے۔ ، ولکن اکثر الناس لا یعلمون، یعنی وہ یہودجودجال کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں۔ ہشام بن عامر (رح) سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے قیامت کے قائم ہونے تک کوئی فتنہ دجال سے بڑا نہیں ہے۔ دجال کے خروج کے متعلق احادیث حضرت اسماء بنت یزیدبن سکن کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دجال زمین پر چالیس سال رہے گا جس کا ایک سال اتنا (چھوٹا اور بےبرکت) ہوگا جیسے ایک ماہ مہینہ ایک ہفتہ کی طرح ہوگا اور ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن اتنا ہوگا جیسے آگ میں کھجور کی کوئی چھیپٹ جل جاتی ہے (بھڑک جاتی ) (رواہ البغوی فی شرح السنۃ والمعالم) حضرت ابوسعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میری امت (یعنی امت دعوت) کے سترہزارتاج پوش (حکام، بادشاہ، نواب وغیرہ) لوگ دجال کے پیچھے ہوجائیں گے۔ (رواہ البغوی فی شرح السنۃ والمعالم) حضرت ابوامامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس روز ستر ہزار یہودی تاج پوش آراستہ تلواروں والے دجال کے پیچھے ہوجائیں گے۔ حضرت اسماء بنت یزید انصار یہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف فرما تھے، آپ نے دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا : دجال کے سامنے تین سال ایسے آئیں گے کہ ایک سال تو آسمان ایک تہائی بارش کو روک لے گا اور زمین ایک تہائی روئیدگی کو روک لے گی اور دوسرے سال دوتہائی بارش اور دوتہائی روئیدگی رک جائے گی اور تیسرے سال (بالکل کال ہوجائے گا) بارش بالکل نہ ہوگی اور نہ زمین سے کچھ اگے گا، تمام کھر اور داڑھوں والے جانور مرجائیں گے۔ دجال کا شدید ترین فتنہ یہ ہوگا کہ وہ ایک اعرابی کے پاس جائے گا اور اس سے کہے گا اگر میں تیرے اونٹوں کو زندہ کردوں تو کیا پھر بھی تو مجھے اپنارب نہیں مانے گا ؟ وہ اعرابی جواب دے گا کیوں نہیں ۔ دجال شیطانوں کو اونٹوں کی شکل میں کردے گا جن کے خوبصورت تھن اور بہت بڑے بڑے کوہان ہوں گے۔ ایک آدمی کا بھائی مرچکا ہوگا اور باپ بھی ، دجال اس سے کہے گا، اگر میں تیرے باپ اور بھائی کو زندہ کردوں، تب بھی تو مجھے اپنا رب نہیں جانے گا ؟ وہ شخص کہے گا، کیوں نہیں ۔ دجال شیاطین کو اس کے باپ اور بھائی کی شکل میں لاکر پیش کردے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے کام سے باہر تشریف لے گئے ۔ کچھ دیر کے بعد لوٹ کر آئے تو لوگوں کو ایک خاص فکرو غم میں مبتلا پایا۔ حضور ﷺ نے جو حالت دجال کی بیان کی تھی اس سے لوگوں کو بڑی فکر ہوگئی تھی۔ آپ ﷺ نے دروازے کے دونوں باز وپکڑکر فرمایا : اے اسمائ ! کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! دجال کا جوذ کر آپ نے کیا اس کو سن کر ہمارے دل نکلے پڑتے ہیں ۔ فرمایا : اگر وہ میری زندگی میں آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا ، ورنہ ہر مئومن کا اللہ (نگہبان) ہے، میرے بجائے اللہ ہوگا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم آٹا گوندھتے ہیں اور روٹی پکانے نہیں پاتے کہ بھوکے ہوجاتے ہیں، پھر اس روزمؤمنوں کی کیا حالت ہوگی ؟ فرمایا : تسبیح خداوندی ان کے لیے کافی ہوگی جیسے آسمان والوں کے لیے کافی ہوتی ہے (یعنی روٹی پانی کی ضرورت ہی نہیں ہوگی) ۔ (رواہ احمد والبغوی فی المعالم) حضرت مغیرہ بن شعبہ راوی ہیں کہ دجال کے متعلق جتنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، اتنا اور کسی نے نہیں پوچھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا وہ تجھے ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ میں نے عرض کیا، لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کا (بھرا ہوا) دریاچلے گا ؟ فرمایا : اللہ کے لیے یہ بات اس سے بھی زیادہ آسان ہے (یعنی اللہ کو اپنے ساتھ روٹی اور پانی رکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے) ۔ متفق علیہ حضرت انس مالک ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ دجال مکہ اور مدینہ کے سواہرشہر میں جائے گا۔ مدینہ کے ہر راتے پر فرشتے صف باندھے کھڑے ہیں۔ اس کی چوکیداری کررہے ہیں، پھر مدینہ کی زمین اہل مدینہ کو تین جھٹکے دے گی تو اس دجال کی طرف ہر کافر اور منافق آدمی نکل جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کا ارادہ مدینہ کا ہوگا حتی کہ وہ احد کے پیچھے اترے گا۔ پھر فرشتے اس کا چہرہ شام کی طرف پھیردیں گے اور وہاں وہ ہلاک ہوجائے گا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال کے پیچھے میری امت کے ستر ہزار افراد چلیں گے۔ ان پر سیحان (خاص چادریں) ہوں گی اور اس کو ابوامامہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا دجال کے ساتھ اس دن سترہزار یہودی ہوں گے۔ وہ سب تاج والے اور مزین تلوار والے ہوں گے۔
Ayahs 40:59–60

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں اور نہ ایمان لانے والے نیکوکار اور نہ بدکار (برابر ہیں) (حقیقت یہ ہے کہ) تم بہت کم غور کرتے ہو

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

قیامت تو آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے

تفسیر 58۔ ، وما یستوی الا عمی والبصیر والذین امنوا وعملوا الصالحات ولا المسیء قلیلا ما تتذکرون، اہل کوفہ نے ، تتذکرون، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس لیے کہ آیات کا اول واخرقوم کی خب رہے۔
Ayahs 40:61–62

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کتراتے ہیں عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (کہ اس میں کام کرو) بیشک خدا لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

60، وقال ربکم ادعونی استجب لکم ، یعنی تم میری ہی عبادت کرو، میرے غیر کی نہیں۔ میں تمہاری بات قبول کروں گا اور تمہیں ثواب دوں گا اور تمہاری مغفرت کروں گا۔ جب آیت میں عبادت کو دعاء سے تعبیر کیا ہے تو ثواب کو قبولیت دعا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبرپرفرماتے ہوئے سنا کہ بیشک دعاء عبادت ہے۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے یہ آیت پڑھی، ادعونی استجب لکم ، ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو نہیں پکارتا، اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ دعاذکر اور سوال کرنا ہے۔ ، ان الذین یستکبرون عن عبادتی سید خلون جھنم داخرین، ابن کثیر اور ابوجعفررحمہما اللہ ابوبکر (رح) نے، سیدخلون، یاء کے پیش اور خاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے زیر اور خاء کے پیش کے ساتھ اور، داخرین، کا معنی گھٹیا وذ (رح) لیل ہوکر۔
Ayahs 40:63–64

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

یہی خدا تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اسی طرح وہ لوگ بھٹک رہے تھے جو خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے

62، ذلکم اللہ ربکم خالق کل شیء لا الہ الا ھوفانی تؤفکون، یعنی جس طرح تم دلائل قائم ہونے کے باوجود حق سے پلٹ رہے ہو (63) کذ (رح) لک اسی طرح ، ، یؤفک الذین کانوابایت اللہ یجحدون،
Ayahs 40:65–66

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی اچھی بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں یہی خدا تمہارا پروردگار ہے پس خدائے پروردگار عالم بہت ہی بابرکت ہے

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

وہ زندہ ہے اسکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے

تفسیر (64) ۔۔۔۔۔۔ ، اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا، بچھونا، والسماء بنائ، چھت گنبد کی طرح۔ ، وصورکم فاحسن صورکم، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ تم کو پیدا کیا پس تمہاری پیدائش کو حسین بنایا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اولادآدم کو سید ھا اور متناسب بنایا کہ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھا سکتا ہے اور ابن آدم کے علاوہ جاندار اپنے منہ سے پکڑکر کھاتے ہیں۔ ورزقکم من الطیات، کہا گیا ہے کہ یہ مویشیوں کے رزق کے علاوہ ہے۔ ، ذ(رح) لکم اللہ ربکم فتبرک اللہ رب العلمین ھو الحی لاالہ الا ھو فاد عوہ مخلصین لہ الدین الحمد للہ رب العلمین، فراء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ خبر ہے اور اس میں امر (حکم) پوشیدہ ہے۔ اصل یوں ہے کہ تم اس کو پکارو اور اس کی حمد کرو۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص لاالہ الا اللہ کہے وہ اس کے بعد الحمد للہ رب العالمین کہے۔ پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کافرمان۔ ، فادعوہ مخلصین لہ الدین الحمد للہ رب العالمین، ،
Ayah 40:67

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

(اے محمد ! ﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو میں ان کی پرستش کروں (اور میں انکی پرستش کیونکر کروں) جبکہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان رہوں

تفسیر 66۔ ، قل انی نھیت ان اعبدالذین تدعون من دون اللہ لماجاءنی البینت من ربی وامرت ان اسلم لرب العلمین، اور یہ اس وقت جب کفر کی طرف بلایا گیا۔
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو نکالتا ہے (کہ تم) بچے (ہوتے ہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو پھر بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تو تم میں سے پہلے مرجاتا ہے اور تم (موت کے) وقت مقرر تک پہنچ جاتے ہو تاکہ تم سمجھو

67، ھوالذیخلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم یخرجکم طفلا، یعنی بچے۔ ، ثم لتبلغوا اشد کم ثم لتکونواشیوخاومنکم من یتوفی من قبل، یعنی بوڑھا ہونے سے پہلے ۔ ، ولتبلغوا، تم سب، اجلا مسمی، متعین وقت تک جس سے تم آگے نہ بڑھ سکوگے۔ اس سے زندگی کا وقت موت تک مراد ہے۔ ، ولعلکم تعقلون، یعنی تاکہ تم اپنے رب کی توحید اور اس کی قدرت کو سمجھ لو۔
Ayahs 40:69–70

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

وہی تو ہے جو جلاتا اور مارتا ہے پھر جب کوئی کام کرنا (اور کسی کو پیدا کرنا) چاہتا ہے تو کہہ دیتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں یہ کہاں بھٹک رہے ہیں ؟

تفسیر (68۔ 69) ۔۔۔۔۔۔ ، ھوالذی یحی ویمیت، فاداقضی امرافانما یقول لہ کن فیکون الم ترالی الذین یجادلون فی ایت اللہ، یعنی قرآن میں کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ ، انی یصرفون، کیسے وہ دین حق سے پھیرے جاتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ وہ مشرکین ہیں اور محمد بن سیرین اور ایک جماعت سے روایت ہے کہ یہ آیت قدریہ (منکرین تقدیر) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayahs 40:71–72

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اس کو جھٹلایا وہ عنقریب معلوم کرلیں گے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی (اور) گھسیٹے جائیں گے

تفسیر (70۔ 71) ۔۔۔۔۔ الذین کذبوابالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا فسوف یعلمون اذالا غلل فی اعناقھم والسلسل یسحبون، گھسٹیے جائیں گے۔۔۔۔۔
Ayahs 40:73–74

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

یعنی کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جھونک دئیے جائیں گے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم (خدا کے) شریک بناتے تھے ؟

72۔۔۔۔ ، فی الحمیم ثم فی الناریسجرون، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے ذریعے آگ روشن کی جائے گی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ آگ کا ایندھن ہوجائیں گے۔
Ayah 40:75

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

(یعنی) غیر خدا کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے اسی طرح خدا کافروں کو گمراہ کرتا ہے

74، من دون اللہ، یعنی بتوں کی۔ ، قالواضلواعنا، وہ ہم سے گم ہوگئے۔ اب ہم ان کو نہیں دیکھتے۔ ، بل لم نکن لدعوامن قبل شیئا، کہا گیا ہے کہ وہ انکار کردیں گے اور کہا گیا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ بلکہ ہم اس سے پہلے کسی ایسی چیزکو نہیں پکارتے تھے جو نفع یا نقصان دیتی اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ ہم اس سے پہلے کچھ نہ کرتے یعنی ہماری ان بتوں کی عبادت ضائع ہوگئی۔ جیسا کہ جس شخص کی محنت بیکار جائے وہ کہتا ہے کہ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ، کذلک ، یعنی جیسے ان لوگوں کو گمراہ کیا۔ ، یضل اللہ الکافرین،
Ayah 40:76

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر (یعنی اسکے خلاف) خوش ہوا کرتے تھے اور اسکی (سزا ہے) کہ تم اترایا کرتے تھے

75، ذ(رح) لکم، وہ عذاب جو تم پر آیا۔ ، باکنتم تفو حون، اکڑتے تھے۔ ، فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تمرحون، اٹھلاکرچلتے تھے۔ یعنی بےجاخوشی میں پھولے نہیں سماتے تھے۔
Ayahs 40:77–78

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

(اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اسی میں رہو گے متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر ﷺ صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھا دیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں (یعنی کافروں پر عذاب نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو انکو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے

(76۔ 77) ۔۔۔۔۔۔ ، ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبیرین فاصبران وعداللہ ، آپ کی مدد کرنے کا۔ ، حق فامانرینکم بعض الذی نعدھم، آپ کی زندگی میں عذاب کا۔ ، اونتوفینک ، ان پر عذاب نازل کرنے سے پہلے۔ ، فالینا یرجعون،
Ayahs 40:79–80

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دئیے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کیے اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سواء کوئی نشانی لائے پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑگئے

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے چارپائے بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو

78، ولقد ارسلنا رسلا من قبلکم منھم منقصصنا علیک ، ان کی خبر قرآن میں ، ومنھم من لم نقصص علیک وماکان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ، اللہ کے حکم اور اس کے ارادہ کے ساتھ۔ ، فاذا جاء امر اللہ، اس کا فیصلہ انبیاء (علیہم السلام) اور امتوں کے درمیان۔ ، قضی بالحق وخسرھنالک المبطلون،