38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 38:69

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا

69، ماکان لی من علم بالملاء الا علی، اس سے مراد فرشتے ہیں۔ ، اذ یختصمون ، حضرت آدم (علیہ السلام) کی شان میں جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ، انی جاعل فی الارض خلیفۃ قالوا اتجعل فیھامن یفسد فیھا،
Ayah 38:70

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

میری طرف تو یہی وحی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

70، ان یوحی الی الا انما انا نذیرمبین، فراء کا قول ہے اگر توچا ہے تو بنالے ۔ ، انما ، موضع رفع میں واقع ہے۔ میری طرف وحی صرف اسی وجہ سے کی گئی تا کہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ڈراؤں ۔ ابو جعفر نے، انما، الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ وحی بھی ایک قول ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عائش حضرمی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے میں نے اپنے رب کو نہایت ہی حسین شکل میں دیکھا۔ رب نے مجھ سے فرمایا محمد ﷺ عالم بالا والے کس بات میں بحث کررہے ہیں ، میں نے عرض کیا، اے میرے رب ! تو ہی خوب جانتا ہے ، یہ بات دومرتبہ فرمائی۔ میرے رب نے میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنی ہتھیلی رکھ دی جس کی خنکی مجھے سینے کے اگلے حصہ میں بھی محسوس ہوگئی اور آسمان و زمین میں جو کچھ ہورہا تھا مجھے معلوم ہوگیا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت، وکذلک نری ابراھیم ملکوت السموات والارض ولیکون من المؤقنین، تلاوت فرمائی اور فرمایا اس کے بعد میرے رب نے پوچھا محمد ﷺ بالا والے کس بات میں بحث کررہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا، کفارات کے متعلق بحث کررہے ہیں۔ فرمایا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا پاؤں سے چل کر جماعت کی طرف جانا نماز کے بعد ، دوسری نماز کا انتظار کرنا اور ناگوار امور کے باوجود ٹھنڈے پانی سے پورا وضوکرنا۔ فرمایا جو ایسا کرے گا وہ بخیریت زندہ رہے گا۔ بخیریت مرے گا اور اس کے گناہ ایسے دور ہوجائیں گے جیسے اس روز تھے جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں پیدا ہوا تھا اور درجات میں سے ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا اور مسلمانوں کو سلام کرنا اور رات کو جب سب لوگ سوتے ہوں نماز کے لیے کھڑا ہونا ، رب نے فرمایا، کہواے اللہ ! میں تجھ سے پاک چیزیں مانگتا ہوں اور بری چیزیں چھوڑدینے کی توفیق چاہتا ہوں اور مسکینوں کی محبت کا خواستگارہوں اور اس بات کا طلب گارہوں کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر حم فرما اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے تو مجھے آزمائش میں ڈالنے سے پہلے ہی وفات دے دے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ محمد ﷺ کی جان ہے، بلاشبہ یہ سب باتیں سچی ہیں۔
Ayah 38:71

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ مٹی سے انسان بنانے والا ہوں

71، اذ قال ربک للملائکۃ انی خالق بشرامن طین، اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔
Ayahs 38:72–74

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

جب اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا

72، فاذا سویتہ، جب ہم نے اس کی خلقت کو پورا کیا۔ ، نفخت فیہ من روحی فقعوالہ ساجدین،۔۔۔۔۔۔۔
Ayahs 38:75–76

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسکے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا ؟ کیا تو غرور میں آگیا ؟ یا اونچے درجے والوں میں تھا

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں (کہ) تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا

75، قال یا ابلیس مامنعک ان لا تسجد لما خلقت بیدی استکبرت، الف استفہام کا ہے۔ الف وصل کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ ، ام کنت من العالین، اس سے مراد متکبرین ہیں ۔ یہ استفہام تو بیخ اور انکار کے طور پر ہے۔ اس نے سجدہ کرنے سے تکبر کیا اور سجدہ سے انکار کیا یا اس نے ایسی قوم کی طرح تکبر کیا جو سجدہ سے تکبر کرنے کی بناء پر سجدہ نہیں کرتے تھے۔
Ayahs 38:77–83

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت (پڑتی) رہے گی

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

کہا مہلت دی جاتی ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

کہنے لگا کہ مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو بہکاتا رہوں گا

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

سوا ان کے جو تیرے خالص بندے ہیں

77، قال فاخرج منھا، اس جنت سے ان کو نکال دو ۔ بعض نے کہا کہ ان کو آسمان سے نیچے اتاردو۔ حسن اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس خوبصورت بناوٹ سے نکل جاؤ جس میں تو بنایا گیا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا کہ یہ تشریح اچھی ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی بد صورتی سے بدل گئی۔ ، فانک رجیم ، بیشک توراندہ درگاہ ہوگیا۔
Ayahs 38:84–85

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

کہا (سچ) ہے اور میں بھی سچ کہتا ہوں

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا

84، قال فالحق والحق اقول، عاصم ، حمزہ، یعقوب نے، فالحق، فاء کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور اس کی خبرمحذوف ہے تقدیری عبارت یوں ہوگی، الحق منی، اور دوسراحق منصوب ہے، وانا اقول الحق، مجاہد کا یہی قول ہے۔ دوسرے قراء نے ان دونوں کو منصوب پڑھا ہے۔ ان کے منصوب ہونے میں اختلاف ہے۔ پہلا حق منصوب ہے اغراء کی وجہ سے گویا کہ یوں کہا گیا، الزم الحق، دوسراحق قول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ بعض نے کہا کہ پہلا (حق) قسم ہے ۔ عبارت یوں ہوگی :، بالحق، اور وہ اللہ عزوجل ہے اور یہ منصوب ، بنزع الخافض، ہے ۔ یہ حرف صفت ہونے کی وجہ سے ہے اور دوسراحق منصوب ہے قول کا مقولہ ہونے کی وجہ سے ۔ بعض نے کہا کہ اس میں تکرار قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قسم کھائی۔
Ayah 38:86

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں

86، قل مااسئلکم علیہ، رسالت کی تبلیغ پہنچانے پر، من اجروماانا من المتکلفین ، قرآن کو اپنی طرف سے بنانے والا نہیں ہوں ہر وہ چیز جس کو انسان اپنی طرف سے ایجاد کرے اس کو تکلیف کہتے ہیں۔ مسروق کا قول ہے کہ ہم حضرت ابن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص کوئی بات جانتا ہوتوکہہ دے اور معلوم نہ ہو تو (اللہ جانے) کہہ دے کیوں کہ جس بات کونہ جانتا ہو اس کے متعلق اللہ اعلم کہہ دینا بھی علم ہی کی ایک شاخ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا، قل مااسئلکم علیہ من اجروماانا من المتکلفین،
Ayah 38:87

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

یہ قرآن تو اہل عالم کے لئے نصیحت ہے

87، ان ھو، پس یہ قرآن ۔ ، الاذکر، نصیحت ہے، للعالمین، تما مخلوق کے لیے۔
Ayah 38:88

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور تم کو اس کا حال ایک وقت کے بعد معلوم ہوجائے گا

88، ولتعلمن، تم کفار مکہ کو۔ ، نباہ، سچی خبر معلوم ہوجائے گی۔ ، بعد حین، حضرت ابن عباس رض اللہ عنہما اور قتادہ کے نزدیک مرنے کے بعد مراد ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ قیامت کے دن جان لوگے۔ کلبی کا بیان ہے کہ جس چیز کا علم باقی ہے جب وہ ظاہر ہوجائے گا اور اس کا علم معلوم ہونا موت کے بعد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ مرنے کے وقت آدمی کے سامنے سچی خبرآجاتی ہے۔