Ayahs 38:29–30تفسیر 29۔ ، کتاب انزلناہ الیک، یہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ۔ ، مبارک، اس میں بہت ساری خیر اور نفع ہیں۔ ، لیدبروا، تاکہ اس میں غور و فکر کرو۔ ، ایاتہ، اور اس میں تفکر کرو۔ ابو جعفر نے، لیتدبروا، پڑھا ہے ایک تاء کے ساتھ اور دال کی تخفیف کے ساتھ۔ حسن کا قول ہے کہ اس کی آیت میں اور اس کی اتباع کرنے والوں میں غور و فکر کرو۔
، ولیتذکر، اور چاہیے کہ نصیحت کریں۔ ، اولوا الالباب،
Ayah 38:31آیت ، الصفنت الجیاد، کی تفسیر
31، اذعرض علیہ بالشی الصافنات الجیاد، کلبی کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ومشق اور نصیبین والوں سے جہاد کیا اور وہاں سے ایک ہزار گھوڑے آپ کے ہاتھ لگے۔
مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی میراث میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہزار گھوڑے ملے تھے۔ عوف نے حسن (رح) کا قول نقل کیا ہے کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کے پاس گھوڑے جو سمندر سے نکلے ہیں ان کے پر تھے اور وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پہلی نماز پڑھی اور کرسی پر بیٹھے اور ان پر گھوڑے پیش کیے گئے اور انہی میں مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز چلی گئی اور سورج غروب ہوگیا اور عصر فوت ہوگئی اور اس طرح ان پر اللہ کا خوف طاری ہوا اور ان کو لوٹا دیاتو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) تلوار کے ساتھ گھوڑوں کو ذبح کرنے لگے تاکہ اللہ کا تقرب حاصل ہو، انہی کی وجہ سے وہ نماز سے مشغول ہوگئے۔ اس وقت گھوڑے ان کے لیے مبا تھے۔ اگر چہ ہمارے اوپر یہ حرام ہے جیسا کہ ہم چوپایوں کو ذبح کرتے تھے، پھر ان کے پاس سوگھوڑے رہ گئے۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ جب انہوں نے گھوڑوں کو ذبح کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہترچیز ہواکوان کے تابع بنادیا تھا۔ پھر وہ جہاں چاہتے ہیں چلتی ہے۔
ابراہیم تیمی کا قول ہے کہ وہ بیس گھوڑے تھے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد ایک سوبیس گھورے ہیں۔ ان کے پر بھی تھے۔ ، اذعرض علیہ بالعشی الصافنات الجیاد، صافن اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو تین ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے اور چوتھی ٹانگ کے سم کی فقط ایک نوک زمین پر لگی ہوتی۔
یہ اچھی صفت مانی جاتی ہے۔ بعض نے کہا کہ صافن کا معنی ہے کھڑا ہونا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اس بات پر خوش ہو کہ لوگ صف بناکر اس کے سامنے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے، جیاد کی واحد جواد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا سب آگے بڑھ جانے والے گھوڑے مراد ہیں۔
Ayah 38:3232، فقال انی احببت حب الخیر، کثیر مال مرادوہ گھوڑے جن کے معائنہ میں مشغول رہنے کی وجہ سے عصر کی نماز فوت ہوگئی تھی۔ عرب لوگ راء کی جگہ لام بول دیتے ہیں۔
جیسے ، اختلت، کی جگہ ، اخترت، کہہ دیتے تھے۔ خیل کو خیر اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ان کی پیشانی میں خیرہوتی ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ مال یا گھوڑے ان پر پیش کیے گئے۔
، عن ذکرربی ، نماز سے۔ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ ، حتی توارت بالحجاب، جب سورج چھپ جائے اور آنکھوں سے اوجھل ہوجائیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ حجاب ایک پہاڑ ہے جو کوہ قاف سے پرے ایک سال کی مسافت پر ہے۔
سورج اس کی آڑ میں غروب ہوتا ہے۔
Ayah 38:33مسحا بالسوق والاعناق کی تفسیر
تفسیر 33۔ ، ردوھا علی فطفق سحا بالسوق والاعناق، ابو عبیدہ کا قول ہے مسح سے مراد کاٹنا ہے۔ پھر وہ گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹنے لگے۔ یہ قول ابن عباس ، حسن ، قتادہ ، مقاتل اور اکثراہل تفسیر نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ انہوں نے کبھی گھوڑوں کو نہیں کاٹاجب ان کو کسی چیز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ بعض نے کہا کہ انہوں نے ان کو ذبح کیا اور ان کے گوشت صدقہ کردیا۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت سلیمان نے ان گھوڑوں کو جہاد کے لیے وقف کردیا تھا اور ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر وقف کی علامت کے طورپرداغ لگادیا تھا۔ زہری اور کیسان نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ان پر پڑا ہواغبار صاف کرنے کے لیے محبت اور پیار سے ہاتھ پھیرتے تھے لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ مشہور قول پہلا ہے۔ زہری نے حضرت علی ؓ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو، ردوھا علی، کہا تھا وہ فرشتوں سے کہا تھا یعنی آفتاب پرمؤکل جو ملائکہ تھے۔ بحکم خدا ان سے کہا تھا کہ سورج کو واپس لوٹالاؤ، پھر آپ نے عصر کی نماز بروقت پڑھ لی۔
Ayah 38:3434، ولقد فتنا سلیمان ، ہم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جانچ کی اور امتحان لیا اور اس واقعہ کا سبب وہ ہے جس کو محمد بن اسحاق نے وہب کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا امتحان
بغوی نے لکھا ہے کہ محمد اسحاق نے وہب بن منبہ کی روایت سے بیان کیا، وہب نے کہا : حضرت سلیمان نے سنا کہ سمندر میں کوئی جزیرہ ہے جس کا نام صیدون ہے، وہاں کا ایک بڑا بادشاہ ہے۔ جزیرہ کا محل وقوع چونکہ سمندر میں ہے اس لیے کوئی شخص صیدون تک نہیں پہنچتا (اور بادشاہ آزاد ہے ، کسی کاتابع نہیں) اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو وہ حکومت عطاکی تھی کہ ان کی حکومت سے بحروبر میں کوئی چیز باہر نہیں تھی ۔ آپ ہواپر سوار ہوکر ہر جگہ پہنچ جاتے تھے، یہ اطلاع ملنے کے بعد آپ ہواپر سوارہوکر اس شہر کی طرف روانہ ہوگئے اور جن وانس کے لشکر سمیت وہاں پہنچ کر اتر گئے، بادشاہ کو قتل کیا اور جزیرہ میں جو کچھ تھا، اس پر بطورمال غنیمت قبضہ کرلیا۔ من جملہ دیگر اشیاء کے آپ کو وہاں بادشاہ کی ایک لڑکی بھی ملی جس کو جرادہ کہاجاتا تھا، ایسی حسین و جمیل لڑکی کسی نے نہیں دیکھی ۔ آپ نے اپنے لیے اس کا انتخاب کرلیا۔ اول اس کو دعوت اسلام دی، وہ ناگواری خاطر کے ساتھ مسلمان ہوگئی، آپ نے اس سے نکاح کرلیا ۔ آپ کو اس سے اتنی محبت ہوگئی کہ اور کسی بیوی سے نہیں تھی۔ وہ لڑکی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس اتنے مرتبہ پر پہنچنے کے بعد بھی ہمیشہ غمگین رہتی، اس کا آنسو نہیں رکتا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے یہ بات تکلیف وہ تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا : اس کی کیا وجہ کہ تیراغم دور نہیں ہوتا اور آنسو نہیں تھمتے ؟ کہنے لگی : مجھے اپنے باپ کی ، اس کی حکومت کی اور اس پر جو مصیبت پڑی اس کی یاد آتی ہے جو مجھے غمگین بنائے رکھتی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا، اس کے عوض تو اللہ نے تجھے وہ ملک عطاکردیاجو اس کے ملک سے بڑا ہے اور ایسی حکومت عنایت کردی جو اس کی حکومت سے عظیم ہے اور مسلمان ہوجانے کی تجھے توفیق دی جو سب سے بہتر (نعمت) ہے۔
وہ کہنے لگی : ہاں ! یہ تو سب کچھ ہے، پھر بھی مجھے جب باپ کی یادآتی ہے تو وہ غم چھاجاتا ہے جو آپ دیکھتے ہی ہیں۔ اگر آپ حکم دے کر جنات سے اس مکان کے اندرجس میں میں رہتی ہوں ، میرے باپ کی مورتی بنوادیں اور میں صبح وشام اس کو دیکھتی رہوں تو امید ہے کہ میراغم دور ہوجائے گا اور میرے دل کو کچھ تسلی ہوگی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنات کو حکم دیا کہ اس کے باپ کی ایک مورتی اس کے گھر کے اندربنادو، کوئی فرق نہ ہو، جنات نے ایسی مورتی بنادی۔ اس عورت نے دیکھ لیا کہ بعینہ یہ اس کا باپ ہے۔ فقط اتنی بات ہے کہ اس میں جان نہیں ہے۔ پھر اس کو کرتہ پہنایا، صافہ باندھا اور چادراوڑ ھادی اور ویسے ہی کپڑے پہنا دیئے جو وہ (اپنی زندگی میں) پہنا کرتا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب اس کے گھر سے باہر نکل جاتے تو وہ صبح وشام اپنی لونڈیوں اور باندیوں کو ساتھ لے کرمورتی کے پاس جاتی اور جیسا باپ کی زندگی میں اس کا دستور تھا، اسی کے مطابق مورتی کو خودبھی سجدہ کرتی اور باندیاں بھی اس کے ساتھ سجدہ کرتیں ۔ چالیس روزتک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا کوئی علم نہ ہوا۔
آصف بن برخیاکواس کی اطلاع مل گئی ، آپ حضرت سلیمان (علیہ السلام ) کے گہرے دوست تھے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دروازے آپ کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے، جس وقت چاہتے ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جس گھر میں چاہتے داخل ہوجاتے ، کوئی آپ کو لوٹا نہیں سکتا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھر میں موجود ہوں یا نہ ہوں ۔
آصف بن برخیا کی آخری تقریر کی تفصیل
ایک روز حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے انہوں نے کہا، اے اللہ کے نبی ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں، ہڈیاں ضعیف ہوگئیں، عمرختم ہونے کے قریب آگئی، جانے کا وقت آگیا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے کسی ایک جگہ کھڑاہوکراللہ کے پیغمبروں کا تذکرہ کروں اور اپنی معلومات کے مطابق ان کے اوصاف بیان کروں اور انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق جو بعض باتیں لوگ نہیں جانتے ہیں ان کو بتاؤں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا :(جیسا چاہو) کرو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے آصف کی تقریرسنے کے لیے لوگوں کو جمع کردیا۔ آصف تقریر کرنے کھڑے ہوگئے۔ گزشتہ انبیاء کا ذکر کیا، ہر نبی کے خصوصی اوصاف جو اس میں تھے بیان کیے اور جو فضیلت اللہ نے اس کو (خاص طور پر) دی تھی، وہ ظاہر کی۔ تقریر کرتے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تذکرے پر آئے توکہا، آپ بچپن میں بڑے عقل مند، حلیم بڑے پرہیزگا اور بڑے پر حکمت حکم دینے والے تھے اور چھوٹی عمر میں ہرامرمکروہ سے بہت دور تھے۔ یہ کہہ کر تقریر ختم کردی۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو آصف بن برخیا کی طرف سے گھر میں ہونیوالے واقعہ کی تفصیل
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : آصف ! تم نے گزشتہ انبیاء کا تذکرہ کیا اور ہر عمر کے ان کے اچھے اوصاف بیان کیے لیکن جب میراتذکرہ کیا تو چھوٹی عمر کے میرے اچھے اوصاف تم نے بیان کیے اور بڑے ہونے کے بعد جو میرے اوصاف تھے، ان کی طرف سے خاموشی اختیار کرلی۔ آخر بڑاہوکر میں نے کون سی نئی بات کرلی ؟ حقیقت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے آصف کی تقریر کو برا محسوس کیا، اتنا کہ غصہ سے بھر گئے اور گھرجاکرآصف کو بلواکریہ بات کہی ۔ آصف نے جواب دیا : ایک عورت کی محبت کی وجہ سے آپ کے گھرکے اندر چالیس روز سے صبح کو اللہ کے سوادوسرے کی پوجا ہورہی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا ، کیا میرے گھر میں ؟ آصف نے کہا (ہاں) آپ کے گھر میں ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون ، میں تو جانتاہی تھا کہ تم نے جو کچھ کہاوہ بےوجہ نہیں کہا، یقینا تم کو کوئی اطلاع ملی ہے۔ پھر آپ اس عورت کے گھر میں گئے، بت کو توڑا، عورت کو سخت سزادی اور اپنا لباس اتار کر دوسرے کپڑے پہنے جن کا سوت صرف دوشیزہ (نابالغ، معصوم) لڑکیوں نے کاتا تھا اور دوشیزہ لڑکیوں نے ہی بنا تھا، کسی بالغہ نے چھوابھی نہ تھا۔ یہ لباس پہن کر تنہا جنگل کو نکل گئے، وہاں چولہے کی راکھ کا بستر بچھوایا، پھر توبہ کرنے کے لیے اس خاکی بسترپر بیٹھے اور کپڑوں سمیت اس پر لوٹے، اللہ کے سامنے گڑگڑائے اور زاری کی ، دعا کرتے رہے، روتے رہے اور جو کچھ گھر میں ہوا اس کی معافی مانگتے رہے۔ شام تک اسی میں مشغول رہے، شام ہوگئی توگھرواپس آگئے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کا شیطان لے جانا
اور چالیس دن تک حکومت پر قابض رہنا
آپ کی ایک ام ولد (وہ باندی جو بچہ کی ماں ہوگئی، آقا کی کوئی اولاد اس کے پیٹ سے ہوگئی) تھی جس کو امینہ کہاجاتا تھا۔ آپ بیت الخلاء جاتے یا کسی بی بی سے قربت صنفی کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنی مہرامینہ کے پاس رکھ دیتے تھے اور جب تک ضرورت سے فراغت کے بعد بالکل پاک نہ ہوجاتے، مہرکوہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے۔ اسی مہر سے آپ کی حکومت وابستہ تھی۔ ایک روزامینہ کے پاس مہررکھ کر بیت الخلاء کو چلے گئے ۔ آپ کے جانے کے بعد سمندری شیطان جس کا نام صخر تھا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں امینہ کے پاس آیا اور مہرطلب کی ۔ امینہ نے اس شکل میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل سے کوئی غیریت محسوس نہیں کی اور سلیمان (علیہ السلام) سمجھ کرمہردے دی۔ صخرنے وہ مہر اپنے ہاتھ مین پہن لی اور باہرجاکرحضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر بیٹھ گیا اور سارے پرندے، جنات اور انسان اس کے پاس آکر (حسب معمول) جمع ہوگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بیت الخلاء سے نکل کر امینہ کے پاس پہنچے اور کہا : امینہ ! میری انگوٹھی لاؤ، چونکہ ہر دیکھنے والے کو آپ کی حالت اور ہیئت بدلی ہوئی دکھائی دیتی ، اس لیے امینہ بھی نہ پہچان سکی اور بولی، تو کون ہے ؟ آپ نے فرمایا، میں سلیمان بن داؤد ہوں۔ امینہ نے کہا : تو جھوٹا ہے، ابھی سلیمان (علیہ السلام) میرے پاس آکرمہرلے کرگئے ہیں اور تخت حکومت پر اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ گناہ کا وبال آپہنچا۔ آپ بنی اسرائیل کے گھروں پر جاتے اور خانہ بخانہ چکر لگاتے اور کہتے کہ میں سلیمان بن داؤد ہوں لیکن لوگ (دیوانہ سمجھ کر) آپ کے اوپرمٹی ڈالتے اور گالیاں دیتے اور کہتے ، اس دیوانہ کو ذرادیکھو، کیا کہتا ہے ؟ اپنے کو سلیمان سمجھتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ حالات دیکھے تو سمندر کی طرف چلے گئے اور دریا کے ٹھیکیداروں کی مچھلیاں اپنے اوپر لادکربازار تک پہنچاتے اور صاحب مال آپ کو روزانہ دومچھلیاں مزدوری میں دے دیتا تھا۔ شام ہوتی تو آپ ایک مچھلی فروخت کرکے روٹیاں لے لیتے اور دوسری مچھلی بھون لیتے۔ چالیس روزاسی حالت میں رہے۔ چالیس ہی دنوں تک آپ کے گھر کے اندربت کی پوجاہوئی تھی۔
آصف اور دوسرے علماء بنی اسرائیل نے دشمن خدا کے احکام کو اس چلہ میں پہلے کے مقابلہ میں کچھ بدلا ہوا محسوس کیا۔ اس لیے آصف نے کہا : اے گروہ بنی اسرائیل ! کیا تم نے بھی ابن داؤد کے احکام کو کچھ پہلے کے مقابلے میں بدلا ہوا محسوس کیا جیسا میں محسوس کررہاہوں ؟ علماء نے کہا، جی ہاں ۔ کیا تم تو اتنا تو قف کرو کہ میں سلیمان (علیہ السلام) کی بیوی سے جاکرپوچھ لوں کہ کیا انہوں نے بھی اندرونی حالت میں کچھ تغیر محسوس کیا ہے۔ جیسا کہ ہم بیرونی عام حالت میں محسوس کررہے ہیں ؟ چناچہ آصف عورتوں نے جواب دیا، اس سے بھی زیادہ، وہ توہم میں سے کسی عورت کو خون کی حالت میں بھی نہیں چھوڑتا اور غسل جنابت بھی نہیں کرتا۔ آصف نے کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون، بلاشبہ یہ کھلی ہوئی سخت آز مائشی مصیبت ہے۔ آصف نے واپس آکر بنی اسرائیل ہے کہہ دیا کہ خاص احوال تو عام حالات سے بھی بڑھ کر ہیں۔ چالیس روز گزر گئے تو شیطان مردوداپنی جگہ سے اٹھ کردریاپر گیا اور دریا میں مہر پھینک دی جس کو ایک مچھلی نے نگل لیا اور کسی شکاری نے وہ مچھلی پکڑلی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دن کے ابتدائی حصہ میں (حسب معمول) اپنا کام کیا، شام ہوئی تو شکاری نے آپ کو ایک (معمولی) مچھلی دے دی اور دوسری وہ مچھلی جس کے پیٹ میں مہر تھی کے پیٹ میں مہر تھی ، دے دی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) دونوں مچھلیاں لے کر آگئے۔ معمولی مچھلی کے بدلے توروٹیاں لے لیں اور جس مچھلی کے پیٹ میں مہر تھی، اس کا بھوننے کے لیے پیٹ چاک کیا۔ پیٹ کے اندر سے مہرنکلی، آپ نے مہرلے کر ہاتھ میں پہن لی اور سجدہ میں گرگئے۔ اس کے بعد پرندے اور جنات آپ کے پاس آکر جمع ہوگئے اور آدمی بھی آپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ جو مصیبت ان پر آئی تھی یہ اسی بات کی پاداش میں تھی جو ان کے گھر کے اندرہوئی تھی۔ غرض آپ کو حکومت واپس مل گئی اور آپ نے اپنے گناہ سے علی الا علان تو بہ کی اور جنات کو حکم دیا کہ صخر کو پکڑکرلاؤ۔ شیاطین نے اس کو ڈھونڈنکالا اور پکڑکر حاضر کردیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پتھر کی ایک چٹان میں شگاف کرکے صخر کو اس میں بندکرکے اوپر سے ایک چٹان اور رکھ کرلو ہے اور رانگ سے اس کی مضبوط بندش کردی۔ پھر سمندر میں پھینک دینے کا حکم دے دیا۔ یہ ساراوہب کا بیان ہے۔
سدی کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سرگذشت کا سبب یہ تھا کہ آپ کی سو (100) بیبیاں تھیں، ان میں سے ایک کا نام جرادہ تھا۔ جراد ہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نظر میں سب سے زیادہ چہیتی اور سب سے پکی امانت دار تھی۔ آپ جب ضرورت کو جاتے تو اسی کے پاس مہررکھ دیا کرتے تھے۔ ایک دن جرادہ نے آپ سے کہا : میرے بھائی اور فلاں شخص کے درمیان کچھ جھگڑا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میرابھائی جب آپ کے پاس آئے تو آپ اس کے حق میں ڈگری دے دیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا، اچھا (آپ نے وعدہ کرلیا) لیکن کیا نہیں ۔ اس قول پر ہی آپ مبتلاء آزمائش کردیئے گئے۔ غرض ایک روز مہرجرادہ کودے کر بیت الخلاء کو چلے گئے۔ آپ کے پیچھے شیطان (یعنی کوئی جن ) آپ کی صورت بناکرآیا اور جرادہ سے مہرلے گیا اور جاکرحضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر بیٹھ گیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب بیت ا (رح) لخلاء سے ائے اور جرادہ سے مہرطلب کی تو اس نے کہا : کیا آپ نے ابھی لے نہیں لی تھی ؟ آپ نے کہا : نہیں ۔ پھر آپ یہاں سے نکل کر کہیں اپنے مقام پر چلے گئے اور چالیس روزتک شیطان لوگوں پر حکومت کرتارہا۔ لوگوں نے اس کے احکام کو (حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے احکام سے) بدلا ہوا محسوس کیا تو بنی اسرائیل کے علماء اور قراء آپ کی بیویوں کے پاس گئے اور ان سے کہ اہم کو احکام سلیمانی سے اس کے احکام غیرنظر آتے ہیں۔ اگر یہ سلیمان ہے تو یقینا اس کی عقل جاتی رہی ہے، عورتیں رونے لگیں۔ علماء اور قراء چلے آئے اور آکر تو ریت کھول کر اس کی تلاوت میں مشغول ہوگئے ۔ شیطان نے جو یہ دیکھا تو ان کے سامنے اڑکرروشندان میں جاپڑا، مہراس کے پاس ہی رہی ، پھر وہاں سے اڑکر سمند رکی طرف چلا گیا۔ مہراس کے ہاتھ سے سمندر میں گرگئی جس کو ایک مچھلی نے نگل لیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی شکاریوں کے پاس پہنچ گئے تھے اور بہت سخت بھوکے تھے۔ اس لیے ایک شکاری سے اس کے شکار کی ایک مچھلی کھانے کے لیے مانگی اور کہا، میں سلیمان ہوں۔ یہ بات سن کر ایک شکاری نے اٹھ کر آپ کے لاٹھی ماری اور سر پھاڑدیا۔ آپ سمند رکے کنارے بیٹھے خون دھونے لگے۔ دوسرے شکاریوں نے مارنے والے کو ملامت کی اور جو مچھلیاں پکڑی تھیں ان میں سے دومچھلیاں آپ کودے دیں۔ آپ نے دونوں کاپیٹ چاک کیا اور دھونے لگے۔ ایک مچھلی کے اندر سے آپ کو اپنی مہرمل گئی اور آپ نے اس کو پہن لیا۔
اس طرح اللہ نے آپ کو حکومت اور شان و شوکت واپس دے دی اور پرندے آپ کے گردگھومنے لگے۔ اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ سلیمان یہ ہیں اور اپنی حرکت کی معذرت کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا : نہ میں تمہاری اس معذرت کی تعریف کرتاہوں نہ تمہارے فعل پر تمہیں ملامت کرتاہوں ، یہ تو ہونا ہی تھا۔ اس کے بعد اپنی حکومت پر آگئے اور جس شیطان نے مہر اڑائی تھی اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ وہ گرفتاردیا۔ وہ گرفتارہوکر آگیا تو آپ نے لوہے کے ایک صندوق کو بندکرکے صندوق کو مقفل کرکے اس پر اپنی مہرلگا کر سمندر میں پھینگوادیا۔ آج تک وہ اسی حالت میں ہے اور زندہ بھی ہے۔
بعض روایات میں آیا ہے جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) فتنہ میں پڑگئے تو مہران کے ہاتھ سے نکل کرگرگئی۔ آپ نے دوبارہ ہاتھ میں ڈالی، تب نکل کر گرگئی اور چونکہ آپ کی حکومت انگوٹھی سے ہی وابستہ تھی اس لیے آپ کو مصیبت کا یقین ہوگیا۔ اتنے میں آصف آگئے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہنے لگے، آپ اپنے قصور کی وجہ سے آمائش میں پھنس گئے ۔ یہ مہر آپ کے ہاتھ میں 14 روز تک نہیں رکے گی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے تہہ خانے میں بھاگ کر چلے گئے اور آصف نے انگوٹھی اٹھا کر اپنی انگلی میں پہن لی تو انگوٹھی رک گئی (انگلی سے نکل کرنیچے نہیں گری) آیت، والقینا علی کرسیہ جسدا، میں جسد سے یہی مراد ہے۔ (یعنی جسد سے مراد ہیں آصف) آصف 14 روزتک حکومت پر قائم رہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی کے طریقہ پر حکومت کرتے رہے۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حکومت لوٹا کر عطافرمادی اور وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور دوبارہ اپنی انگوٹھی ہاتھ میں پہن لی۔
سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) تین روزتک لوگوں سے پردے میں رہے (کسی سے ملاقات کو نہیں آئے نہ سامنے آئے) اللہ نے وحی بھیجی اور فرمایا، تم تین روز لوگوں سے پردے میں رہو اور میرے بندوں کو معاملات پر نظر نہیں کی (اس لغزش پر) اللہ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا۔ اس سے آگے سعید نے مہرکاقصہ اور شیطان کے اس پر قبضہ کرلینے کا ذکر کیا ہے۔ حسن نے کہا : اللہ ایسانہ تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) کی بیبیوں پر شیطان کو مسلط کردیتا۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ ایک رات میں اپنی تمام بیویوں سے مجامعت کروں گا۔ ہر ایک عورت بیٹالائے گی تو میں اس کو جہاد کے لیے بھیج دوں گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تمام بیویوں کے ساتھ مجامعت کی تو ان تمام بیویوں میں سے صرف ایک نے ناتمام بچہ جنا اور اس کو کرسی میں ڈال دیا۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا، والقینا علی کرسیہ جسدا، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں ایک رات تمام بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک شاہ سوارلائے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھی نے کہا کہ آپ ان شاء اللہ کہہ دیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان شاء اللہ نہیں کہا اور بھول گئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سب بیویوں کے پاس گئے، ان سب میں سے صرف ایک ہی کو حمل ہواجونا تمام بچہ تھا، اللہ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر وہ ان شاء اللہ کہہ دیتے تو وہ سب اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔
حضرت ابوہر یرہ ؓ سے طاؤس روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنی سوبیویوں سے مجامعت کروں گا۔ فرشتے نے ان سے کہا کہ آپ ان شاء اللہ کہہ دیں لیکن انہوں نے ان شاء اللہ نہیں کہا اور بھول گئے۔ مشہور قصوں میں مشہور ہے وہ جسد جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی پر ڈالا گیا تھا وہ دراصل جن تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب، ان کو اپنی بادشاہت چالیس دنوں کے بعد ملی۔
Ayah 38:35تفسیر 35۔ ، قال رب اغفرلی وھب ملکالا ینبغی لاحد من بعدی، مقاتل اور ابن کیسان نے ترجمہ کیا ہے میرے زمانے کے بعد۔ عطاء بن رباح کا قول ہے کہ ، ینبغی لا حد من بعدی ، کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اب تونے مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کودے دی، اسی طرح آخری عمر میں مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کونہ دے دینا۔
، انک انت الوھاب، بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ سوال اس وجہ سے کیا تاکہ یہ آپ (علیہ السلام) کی نبوت کی نشانی اور دلالت رہے اور آپ کا یہ معجزہ ہمیشہ کے لے رہے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایسے معجزہ کا سوال اس وجہ سے کیا تا کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ ان کی توبہ قبول ہوچکی ہے۔ مقاتل بن حیان کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بادشاہ تھے اور، لا ینبغی لاحدمن بعدی، کہہ کرہوا، جنات اور پرندوں پر حکومت کرنا چاہتے تھے بعد والا کلام اسی مفہوم پر دلالت کررہا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاـــ: ایک دیو (شریر جن ) آج رات تھوک اڑاتا (بدبوپھیلاتا) ہوامیری نماز تڑاونے کے لیے آیا لیکن اللہ نے اس پر مجھے قابودے دیا اور میں نے اس کو پکڑ کرچاہا کہ مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح کو) تم سب اس کو دیکھ سکو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعایادآئی کہ انہوں نے درخواست کی تھی ، رب ھب لی ملکالا ینبغی لا حد من بعدی ، تو میں نے اس کو لوٹادیا۔ (متفق علیہ)
Ayah 38:36تفسیر 36۔ ، فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخائ، نرم رفتاروالی ہوا جو تندنہ ہو۔ ، حیث اصاب، اصاب کا معنی ہے ارادہ، جہاں کا وہ ارادہ کریں۔ جیسے عرب کہتے ہیں، اصاب الصواب فاخطاء الجواب ، اس صحیح جواب دینا چاہا لیکن جواب میں غلطی کی۔
Ayah 38:3737، والشیطان ، اور ہم نے شیطان کو آپ کے لیے مسخر کردیا۔ ، کل بنائ، ان سے جو چاہیں تعمیر کروالیں خواہ قلعے ہوں یا محلات ہوں۔ ، وغواص، اور جس سمند روں میں غوطے لگا کرموتی نکالتے ہیں ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی پہلے وہ شخص تھے جن کے لیے سمندروں سے موتی نکالے گئے تھے۔
Ayah 38:3838، وآخرین مقرنین فی الاصفاد، زنچیروں میں قید کیے ہوئے ہیں اور ہم نے شیطان کی ایک اور جماعت کو بھی آپ کے تابع بنالیا تاکہ آپ ان کو زنجیروں میں جکڑلیں۔
Ayahs 38:39–4039، ھذا عطاء نا، ہم نے ان کو کہا کہ یہ ہماری طرف سے عطاء کردہ تھا۔ ، فامنن او امسک ، فامنن سے مراد احسان ہے کہ اب یہ ہماری طرف سے آپ کے اوپر احسان ہے۔ آپ جس کو چاہیں دے دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔ ، بغیر حساب ، اس میں کوئی حرج نہیں کہ آپ جس کو چاہیں عطاکریں اور جس سے چاہیں روک لیں۔ حسن کا قول ہے اللہ نے جس کسی کو نعمت سے سرفراز کیا آخرکاروہ نعمت اس کے لیے انجام بدبن گئی سوائے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کیوں کہ ان کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی کو دیں تو ان کو ثواب ملے گانہ دیں تو انجام میں مؤ اخذ ہ نہ ہوگا۔ مقاتل نے کہا، ھذاعطاء نا، کا یہ مطلب ہے کہ یہ یعنی جنات کی تسخیر ہمارا خاص عطیہ ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے جس کو تم چاہوچھوڑدو اور جس کو اپنی بندش میں رکھنا چاہو چھوڑنے اور بندر کھنے کا تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔
Ayah 38:4141، واذکرعبد نا ایوب اذنادی ربہ انی مسنی الشیطان بنصب ، نصب کا معنی مشقت اور تکلیف ۔ ابوجعفر نے نون کے ضمہ اور صاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہیں ۔ قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے مشقت اور تکلیف جسم میں ہوتی ہے۔ یعنی اس کا تعلق جسم سے ہے۔ ، و عذاب ، مال میں ، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا ابتلاء آزئش انبیاء (علیہم السلام) کے قصوں میں ذکر کیا گیا۔ جب ان کی مدت آزمائش پوری ہوگئی تو ان سے کہا گیا :
Ayahs 38:42–4342، ارکض برجلک، اپنے پاؤں کو زمین پر ماریں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر اس سے چشمہ جاری ہوا۔ ، ھذامغتسل، اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اس پانی سے غسل کریں۔ پھر وہ چالیس قدم چلے۔ حکم ہوا کہ دوسراپاؤں زمین پر ماریں، اس سے دوسرا چشمہ نکل آیا اس سے انہوں نے پانی پیا، بارد، یعنی اس ٹھنڈے پانی سے، وشراب، اور اس سے پئیں۔
Ayah 38:4444، وخذبیدک ضغثا، ایک مٹھی بھردرخت کی ٹہنیاں یاگھاس کے تنکوں کو۔ ، فاضرب بہ ولا تحنث، اپنے ہاتھ میں لیں۔ یہ جب ہوا تھا کہ جب انہوں نے اپنی زوجہ کو مارنے کی قسم کھائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ ایک مٹھی بھرگھاس لیں اور اس سے ایک مرتبہ اس کو ماریں ۔ ، انا وجدناہ صابرانعم العبدانہ اواب،
Ayah 38:4545، واذ کرعبادنا، ابن کثیر نے عبدناپڑھا ہے۔ واحد کا صیغہ ہے اور دوسرے قراء نے عبادنا پڑھا۔ ، ابراھیم واسحاق و یعقوب اولی الا یدی، ابن عباس ؓ کا قول ہے قوت والے ہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں۔ ، والا بصار، اس سے مراد معرفت خداوندی کی تعبیر کی کیونکہ آنکھیں ہی خدا شناسی میں قوی ترین ذریعہ ہیں۔ قتادہ اور مجاہد کا قول ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو عبادت میں قوت دی اور دین میں ان کو بصیرت دی۔
Ayahs 38:46–4846، انا اخلصناھم، ہم نے آپ کو ان کے لیے چنا۔ ، بخالصۃ ذکری الدار، قراء اہل مدینہ نے ، بخالصۃ، اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات اس کو اضافت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں وہ اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ان کے لیے آخرت کے گھر کو خالص کردیا کہ اسی کے لیے ہم خالص کریں۔ وذکری بمعنی ذکر کے ہے۔ مالک بن دینا کا قول ہے کہ ہم نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور یا دنکال دی اور آخرت کی یاد محبت کے لیے ان کر مخصوص کردیا۔ قتادہ نے ان کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ وہ آخرت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اللہ عزوجل کی طرف تبلیغ دیتے ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ آخرت کا ڈررکھنے کے لیے ان کو مخصوص کرلیا گیا تھا۔ ابن زید نے کہا کہ جس نے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے یعنی ہم نے آخرت کی بہترین چیزوں کی یاد کے لیے ان کو مخصوص کرلیا تھا۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو خالص چن لیا مخلصین میں سے۔ جیسا کہ ہم نے آخرت کر ذکر کے متعلق نقل کیا ہے۔
Ayah 38:4949، ھذاذکر، یہ جو تمہارے اوپر تلاوت کیا جاتا ہے یہ مقدم الذکر واقعات انبیاء کے لیے ایک شرف ہے یا یہ قرآن جو پڑھا جارہا ہے ایک حسین یاددہانی ہے۔ ، وان للمتقین لحسن ماب،
Ayahs 38:50–5150، جنات عدن مفتحۃ لھم الابواب، ان کیلئے ابواب کھلے ہوئے ہیں۔
Ayah 38:5252، وعندھم قاصرات الطرف اتراب، یعنی ہم عمر، اس وقت سب کی عمر 33 سال ہوگی ۔ مجاہدکاقول ہے کہ سب آپس میں بہنوں بہنوں کی طرح ہوں گی۔ یہاں کی سوکنوں کی طرح ان میں جلن نہیں ہوگی اور نہ حسد ہوگا۔
Ayah 38:53تفسیر 53۔ ، ھذاماتوعدون، ابن کثیر نے یوعدون یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة ق میں بھی ۔ ابوعمر ونے اس سورت میں ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔ دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی آپ کہہ دیجئے مؤ منین سے ، یہ وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ، لیوم الحساب ، یعنی حساب کے دن۔
Ayah 38:5454، ان ھذالرزقنا مالہ من نفاد، کوئی فنایاختم ہونے والا نہیں ہوگا۔
Ayah 38:5555، ھذا، یہ حکم اسی طرح ہوگا۔ ، وان للطاغین، کافروں کے لیے، لشرماب، اس کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔
Ayah 38:5656، جھنم یصلونھا، اس میں وہ داخل ہوں گے۔ ، فبش المھاد،
Ayah 38:5757، ھذا، یہ عذاب ہے۔ ، فلیذوقوہ حمیم وغساق، یہ گرم کھولتا ہواپانی اور پیپ ہے۔ لہٰذا تم اسی سے مزہ چکھو۔ نعیم گرم پانی کو کہاجاتا ہے جس کو آخری حدتک گرم کیا ہو۔ حمزہ ، کسائی اور حفص نے کہا (غساق) تشدید کے معنی میں ہے اور دوسرے قراء نے بغیر تشدید کے پڑھا ہے۔ جن حضرات نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہو تو وہ اس کو اسم فعال کے وزن پر لیتے ہیں جیسے خباز اور طباخ ہے اور جنہوں نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے کہ اس صورت میں فعال کا اسم ہوگا جیسے عذاب ، غساق کے معنی میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، ایسی برفیلی سخت ٹھنڈک جو اس طرح دوزخیوں کو جلادے گی جس طرح آگ اپنی گرمی سے جلائے گی۔ مقاتل اور مجاہد رحمہما اللہ کا قول ہے کہ جس کی ٹھنڈک انتہاکوپہنچ جائے۔ بعض نے کہا کہ یہ ترکی زبان کا لفظ ہے اور ترکی زبان میں غساق انتہائی بدبودارچیز کو کہتے ہیں ۔ قتادہ نے کہا کہ غساق کا معنی ہے صباب یعنی سیال، یہاں مراد پیپ اور کچا خون جو دوز خیوں کی کھال اور گوشت اور زانیوں کی شرمگاہوں سے بہے گا۔
Ayah 38:5858، وآخر، اہل بصرہ میں الف کے ضمہ کے ساتھ اخری کی جمع ہے جیسے کبری اور کبر۔ ابو عبیدہ نے کہا چونکہ یہ جمع کی صفت ہے۔ دوسرے قراء نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ واحد کے مشابہ پڑھا ہے۔ ، من شکلہ، گرم پانی اور پیپ کی طرح ہوں گے۔ ، ازاج، یہ ان پر عذاب قسم قسم کا ہوگا۔
Ayah 38:5959، ھذافوج مقتحم معکم، حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ دوزخ کے کارندوں کا کلام ہوگا جو جہنمی لیڈروں سے وہ کہیں گے۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ کافروں کے پیشوا اور لیڈرجب دوزخ میں چلے جائیں گے تو ان کے بعد ان کے پیروکار بھی آکردوزخ میں داخل ہوجائیں گے۔ اس وقت دوزخ کے کارندے ان پیشواؤں سے یہ بات کہیں گے۔
کلبی کا بیان ہے کہ ان کو ہتھوڑوں کے ساتھ ماریں گے۔ اس مار سے بچنے کے لیے وہ اپنے آپ کو آگ میں ڈال دیں گے، لامرحبابھم، ان کی اتباع میں۔ ، انھم صالوا النار، وہ اس میں داخل ہوں گے۔
Ayah 38:6060، قالو ابل انتم لامرحبا بکم ، مرحب اور رجب کہتے ہیں کشادہ جگہ کو۔ عرب کا قول ہے، مرحباواھلاوسھلا،
آئیں خوشی کے ساتھ کشادہ جگہ میں اور اسی طرح کہتے ہیں، لامرحبابکم، یعنی تیرے لیے زمین کشادہ نہ ہو۔ ، انتم قلمتموہ لنا، اس عذاب کو یاداخلہ جہنم کو تم ہی ہمارے گھر آئے۔ بعض حضرات نے کہا کہ تم ہی یہ عذاب ہمارے لیے آگے لائے ہو کہ تم نے ہمیں کفر کی طرف دعوت دی جس کے باعث ہمیں جہنم میں جاناپڑا۔ ، فبئس القرار، جہنم تمہارے لیے برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 38:61تفسیر 61۔ ، قالوا، ان کے متبعین کہیں گے، ربنا من قدم لنا ھذا، یہ شریعت اور طریقہ۔ ، فزدہ عذابا ضعفا فی النار، ان پر دوزخ میں عذاب دگنا کردیا جائے گا۔ ابن مسعودؓ نے اس کی تفسیر بیان کی کہ ان پر سانپ اور بچھو چھوڑے جائیں گے۔
Ayah 38:6262، وقالوا، قریش کے بڑے بڑے سردار جو دوزخ میں ہوں گے کہیں گے، مالنا لانری رجالاکنا نعدھم ، دنیا میں ، من الاشرار، اس سے مراد فقراء مؤ منین ہیں ۔ حضرت عمار، حضرت خباب ، حضرت صہیب ، حضرت بلال ، حضرت سلیمان ؓ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں ان کو براسمجھتے تھے اور ان کی تحقیر کرتے تھے۔ آج وہ یہاں کیوں نظر نہیں آرا ہے۔
Ayah 38:6363، اتخذناھم سخریا، اہل بصرہ اور اہل کوفہ نے اور حمز ہ کسائی نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ مبتداء ہونے کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے الف کے قطع کے ساتھ فتحہ کے ساتھ استفہام کی وجہ سے۔ اہل معافی نے کہا کہ قرأت اولیٰ بہتر ہے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ہم ان حضرات کے ساتھ مذاق اور ٹھٹھا کرتے ہیں، استفہام نہیں ۔ ام بمعنی بل کے ہے اور جو حضرات ہمزہ کے فتحہ کو پڑھتے ہیں۔ اس صورت میں ام معادلہ ہوگا۔ ، ام زاغت عنھم الا بصار، سے ۔
فراء کا قول ہے کہ یہ ہمزہ استفہام ہے اس کا معنی تو بیخ اور تعجب کے لیے ہے۔ ، ام زاغت ، ان کی طرف مائل ہونا۔
عنھم الابصار، اس کا معنی یہ ہے کہ ہمیں کیا ہوگیا کہ ہم ان لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں دیکھ رہے جن کا ہم مذاق اڑا رہے تھے یا وہ اس میں داخل ہوگئے لیکن ہم نے ان کو نہیں دیکھا یا وہ ہماری آنکھوں سے اوٹ میں ہیں۔ ابن کیسان نے کہا کہ کیا وہ ہم سے ، بہتر ہیں لیکن ہم لوگ نہیں جانتے۔
Ayah 38:6464، ان ذ(رح) لک ، جو کچھ ہم نے ذکر کیا۔ ، لحق تخاصم اھل النار، دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا ایک سچ اور حقیقت بات ہے۔
Ayahs 38:65–6665، قل، اے محمد ! ان مشرکین مکہ کو کہہ دیجئے۔ انما انا منذر، ڈرانے والا ہوں۔ ، وما من الہ الا اللہ الواحد القھار،
Ayahs 38:67–6867، قل ، اے محمد ! ، ھو، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، نبؤاعظیم ، ابن عباس ؓ ، قتادہ، مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد ایک عظیم الشان خب رہے جس سے تم کترا رہے ہو۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، عم یتساء لون عن النباء العظیم، ،