Ayahs 37:117–122117، واتینھما الکتاب المستبین ، یعنی ایسی کتاب دی جس میں اللہ کے احکام کھول کر بیان کیے گئے۔
Ayahs 37:123–124123(وان الیاس لمن المرسلین)
حضرت الیاس کا ذکر
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : الیاس ، ادریس ہی تھے (دونوں نام ایک ہی پیغمبر کے تھے ) مصحف ابن مسعود میں ، وان ادریس لمن المرسلین، لکھا ہوا تھا۔ عکر مہ کا قول بھی یہی ہے۔ باقی دوسرے علماء قائل ہیں کہ الیاس، ادریس کے علاوہ ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الیاس ، حضرت الیسع کے چچا کے بیٹے تھے۔
محمد بن اسحاق نے حضرت الیاس کا نسب اس طرح بیان کیا ہے : الیاس بن بشیربن فخاص بن عیر ازین ہارون بن عمران۔
محمد بن اسحاق کا بیان ہے : اصحاب روایت کہتے ہیں کہ جب الیاس سے پہلے جو پیغمبر تھے، ان کی وفات ہوگئی تو بنی اسرائیل میں نئی نئی بد عتیں بڑھ گئیں ، شرک پھیل گیا، بت نصب کردیئے گئے، بتوں کی پوجا ہونے لگی ۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے الیاس کو پیغمبربنا کربھیجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء (علیہم السلام) کی بعث اس غرض سے ہوتی تھی کہ تو ریت کے بھولے ہوئے احکام کا ازسرنوتا زہ کردیاجائے۔ بنی اسرائیل شام میں پھیلے ہوئے تھے، اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت یوشع بن نون نے جو ملک شام ، فتح کیا تھا تو وہاں بنی اسرائیل کو بسادیا تھا اور ان میں سے ایک سبط (خاندان) کو بعلبک اور اس کے اطراف میں آباد کردیا تھا، انہی میں سے الیاس پیغمبر ہوئے۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے الیاس (علیہ السلام) کو نبی بناکربھیجا۔ اس زمانہ میں بعلبک کا بادشاہ اجب تھا۔ اجب نے بنی اسرائیل کو بت پرستی پر مجبور کیا کیونکہ وہ خودبت پرست تھا، بعل نامی بت کی پوجا کرتا تھا ۔ یہ بت دس ہاتھ لمبا تھا اور اس کے چارمنہ تھے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے تنہا اللہ کی عبادت کی ، ان کو دعوت دیتے تھے لیکن آپ کی بات کوئی نہیں سنتا تھا، صرف بادشاہ کے حکم کو مانتے تھے اور بادشاہ بت کو مانتا اور اس کی پوجاکوصخیح قرار دیتا تھا۔ الیاس (علیہ السلام) بادشاہ کو بھی راہ راست دکھاتے اور اس کے احکام کی درستی کرتے رہتے تھے۔ بادشاہ کی ایک بیوی تھی جس کا نام ازبیل تھا ۔ بادشاہ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی لڑائی پر یا اور کسی غرض سے ملک سے باہر جاتا تھا تواز بیل کو اپنا جانشین بناجاتا تھا۔ عورت باہر نکل کر حکومت کرتی تھی اور انبیاء کی (بڑی دشمن اور) زبردست قتالہ تھی۔
کہاجاتا ہے کہ یحییٰ بن زکریا پیغمبر کو بھی اسی نے قتل کرایا تھا۔ اس کا ایک پیشکار تھا جو دانش مند مرد مؤ من تھا، اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے تین سو انبیاء (علیہم السلام) کو جن کو قتل کرنے کا ازبیل نے ارادہ کرلیا تھا۔ اس قتالہ کے پنجے سے رہائی دلائی تھی اور جن انبیاء (علیہم السلام) کو یہ قتالہ قتل کرچکی تھی ، ان کو تو قتل کرچکی تھی (ان کا تو ذکر ہی نہیں) یہ عورت بجائے خود باعصمت بھی نہیں تھی۔ سات اسرائیلی پیغمبروں سے نکاح کرچکی تھی اور ہر ایک کو دھوکے سے اس نے قتل کردیا تھا۔ اس کی عمر بہت تھی، روایت میں آیا ہے کہ اس کی ستراولادیں ہوئیں ۔
بادشاہ اجب کا ایک ہمسایہ بڑامرد صالح تھا جس کا نام مزدکی تھا۔ اس کا ایک چھوٹا ساباغیچہ تھا جس پر اس کا گزربسر تھا۔ اسی کی درستی اور اصلاح میں وہ مشغول رہتا تھا۔ یہ باغیچہ شاہی قصر کے برابر تھا، بادشاہ اور اس کی بیگم دونوں اس باغیچہ میں سیر و تفریح کرتے، وہاں کھاتے پیتے اور غسل کرتے تھے ۔ اجب اپنے ہمسایہ سے اچھا سلوک کرتا تھا لیکن اس کی بیوی ازبیل ہمسایہ سے جلتی تھی اور کسی حیلے بہانے سے اس کو قتل کردینا چاہتی تھی تاکہ باغیچہ چھین لے کیونکہ لوگوں میں باغیچہ کی بڑی شہرت تھی اور لوگ اس کی خوبصورتی کی بہت تعریف کرتے تھے۔ اجب اپنی بیوی کو روکتارہتا تھا۔ اس لیے بی بی کو مقصد برابری کا کوئی راستہ نہیں ملتا تھا ایک بارایسا اتفاق ہوا کہ بادشاہ دور کے سفرپرچلا گیا اور طویل مدت تک اپنے ملک سے غیر حاضررہا۔ از بیل نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور کچھ لوگوں کو حکما اس امر پر آمادہ کرلیا کہ وہ مزدکی کے خلاف شہادت دیں اور یہ کہیں کہ مزدکی نے بادشاہ کو ہمارے سامنے گالی دی ہے۔ اس زمانہ کا یہ قانون تھا کہ بادشاہ کو گالی دینے والے کی سزاقتل تھی ۔ ملکہ نے شہادت مرتب کرلی تو مزدکی کو طلب کیا اور اس سے کہا : تونے بادشاہ کو گالی دی ہے، مجھے یہ اطلاع ملی ہے۔ مزدکی نے انکار کیا تو ملکہ نے گواہوں کو بلوایا ، گواہوں نے مزدکی کے خلاف جھوٹی شہادت دی ۔ ملکہ نے مزدکی کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور اس کے باغیچے پر خودقبضہ کرلیا۔ اس بندئہ صالح کے (ناحق ، ظلما) قتل کیے جانے پر وہ لوگ غضب خداوندی میں متلاہوگئے۔ بادشاہ سفر سے واپس آیا تو ملکہ نے اس کو یہ خبر سنائی۔ بادشاہ نے کہا : تو نے اچھا نہیں کیا۔ میراخیال ہے کہ ہم آئندہ فلاح نہیں پائیں گے۔ ایک مدت سے وہ ہمارے پڑوس میں رہتا تھا اور ہم نے بھی اس کا پڑوس اچھی طرح نبھایا تھا اور ہر طرح کی ایذارسانی کو اس سے دوررکھا تھا کیوں کہ اس کا حق ہم پر واجب تھا لیکن تونے بدترین سلوک کے ساتھ اس کا کام تمام کردیا۔ عورت بولی : مجھے تو آپ کی وجہ سے غصہ آیا اور آپ ہی کے فیصلہ کے موافق میں نے فیصلہ کیا۔ بادشاہ نے کہا : کیا تیرے لیے برداشت کی گنجائش نہ تھی کہ اس کے حق ہمسائیگی کا لحاظ کرتی ؟ عورت نے کہا : اب تو جو کچھ ہوگیا، سو ہوگیا ۔ اللہ نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کو شاہ اجب اور اس کی قوم کے پاس یہ اطلاع دینے کے لیے بھیجا کہ اللہ کے ولی کو جب لوگوں نے ظلم سے قتل کردیا تو اس حرکت سے اللہ سخت ناراض ہوگیا اور اس نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اگر بادشاہ اور اس کی ملکہ اپنی حرکت سے توبہ نہیں کریں گے اور باغیچہ مزدکی کے وارثوں کو لوٹا کر نہیں دیں گے تو اللہ ان کو تباہ کردے گا باغیچہ کے اندرہی دونوں کی مردار لاشیں پھینک دے گا کہ ان کی ہڈیاں گوشت سے ننگی ہوجائیں گی۔
الیاس (علیہ السلام) نے حسب الحکم یہ پیام پہنچا دیا۔ بادشاہ یہ بات سن کر سخت غضبناک ہوگیا اور کہنے لگا : الیاس ! تو جس بات کی مجھے دعوت دے رہا ہے، وہ غلط ہے۔ فلاں فلاں بادشاہوں نے ہماری طرح بتوں کی پوجا کی ، اس کے باہ جود وہ کھاتے رہے، مزے اڑاتے رہے، حکوت کرتے رہے اور جس بات کو تو باطل (غلط اور بےحقیقت) قرار دے رہا ہے، ان کو اس باطل پرستی سے کوئی دنیوی نقصان نہیں پہنچا اور ہم اپنے خیال میں ان سے برتر نہیں ہیں۔ غرض باد شاہ نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کو قتل کرنے اور دکھ پہنچا نے ک ارادہ کرلیا۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کو جب بادشاہ کی شرارت کا احساس ہوگیا تو آپ اس کو چھوڑ کر چل دیئے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کہیں سکونت پذیرہوگئے ۔ بادشاہ بارہ بعل کی پوجا کرنے لگا۔ الیاس (علیہ السلام) کسی بڑے اونچے دشوار گزار پہاڑپر چڑھ گئے اور وہاں ایک غار میں داخل ہوگئے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ سات برس آپ خوف (اور خانہ بدروشی) کی حالت میں چھپتے پھر تے ، زمین کی گھاس اور دختوں کے پھل کھاکھا کر گزار دیئے ۔ بادشاہ کے آدمی آپ کی تلاش میں رہے، آپ کے پیچھے جاسوس بھی لگادیئے لیکن اللہ نے آپ کو پوشیدہ رکھا۔
سات سال پورے ہوگئے تو اللہ نے آپ کو برآمد ہونے اور قوم سے انتقام لینے کی اجازت عطافرمائی۔ چناچہ اجب کا سب سے پیارابیٹا جو باپ کا بہت زیادہ ہم شکل تھا، بحکم خدا اتنا سخت بیمار ہوگیا کہ باپ کو اس کی طرف سے ناامیدی ہوگئی ۔ جب نے اپنے معبود لعل سے دعا کی (لیکن کوئی فائدہ ہوا) اجب اور اس کی رعایا، سب بعل کی پرستش میں مبتلا تھے، اس کی تعظیم اس حدتک کرتے تھے کہ اس کی نگرانی اور خدمت کے لیے چار سومجاور مقررکررکھے تھے جن کو وہ انبیاء کہتے تھے۔ شیطان بعل کے پیٹ میں گھس کر بولتا تھا اور یہ خدام کان لگا کر اس کا کلام سنتے تھے۔ شیطان کوئی گمراہ کن قانون مجاوروں کے دلوں میں ڈال دیتا تھا اور مجاور وہ حکم لوگوں کو بتادیتے تھے، اسی لیے ان مجاوروں کو انبیاء کہاجاتا تھا۔
شہزادے کی بیماری جب شدت پکڑگئی تو اس نے مجاوروں سے درخواست کی کہ بعل سے اس کے بیٹے کی صحت کے لیے سفارش کریں۔ مجاوروں نے بعل سے دعا کی لیکن بعل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اللہ نے شیطان کو بت کے اندر گھسنے سے روک دیا، اس لیے بت بول نہ سکا اور مجاور اس کے سامنے گڑگڑاتے رہے ۔ جب مجاوروں کو زاری کرتے زیادہ وقت ہوگیا (اور کوئی نتیجہ نہ نکلا، یہاں تک کہ بت نے کوئی بات بھی نہ کی ) تو لوگوں نے اجب سے کہا : اطراف شام میں کچھ معبود اور ہیں ، آپ ان انبیاء کو ان کے پاس بھیجئے تاکہ وہ بعل سے سفارش کردیں ۔ بعل آپ سے سخت ناراض معلوم ہوتا ہے ، اگر ناراض نہ ہوتا تو جواب ضرورردیتا اور آپ کی دعا قبول کرلیتا ۔ اجب نے کہا : بعل مجھ سے ناراض کیوں ہے ؟ میں تو اس کی پوجا کرتا اور اس کے حکم کو مانتا ہوں۔ لوگوں نے کہا : بعل کی ناراضی کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اب تک الیاس کو قتل نہیں کیا۔ اس کے قتل کرنے میں آپ سے کو تا ہی ہوئی کہ وہ صحیح سالم بچ کرچلا گیا اور وہ آپ کے معبود کا منکر ہے۔ اجب نے کہا : میں الیاس کو کیسے قتل کرسکتا ہوں ؟ میں تو اپنے بیٹے کی بیماری میں لگا ہواہوں ۔ میری یہی مشغولیت الیاس کی تلاش سے روک رہی ہے اور الیاس کا مقام بھی مجھے معلوم نہیں کہ وہاں سے اس کو گرفتار کرلیا جائے۔ میرابیٹا اچھا ہوجائے تو الیاس کو ڈھونڈنے کی مجھے فراغت مل جائے گی۔ پھر میں اس کو کہیں پاکرقتل کردوں گا اور اپنے معبود کو راضی کرلوں گا۔ اس کے بعداجب نے چارسوانبیاء کو ملک شام کے بتوں کے پاس یہ درخواست کرنے کے لیے بھیجا کہ وہ اجب کے معبود سے بیٹے کو تندرست کردینے کی سفارش کردیں۔ حسب الحکم انبیاء روانہ ہوگئے۔ جب یہ لوگ سامنے جاؤ اور ان سے گفتگوکرو، ان سے کوئی خوف نہ کرو۔ میں ان کی شرارت کو تمہاری طرف پھیردوں گا (یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے) اور ان کے دلوں میں تمہارارعب ڈال دوں گا۔
حسب الحکم الیاس (علیہ السلام) پہاڑ سے اترآئے۔ جب ان کے سامنے پہنچے تو ان کو ٹھہرجانے کا حکم دیا، سب رک گئے۔
الیاس (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ نے مجھے تمہارے پاس اور ان لوگوں کے پاس جن کو تم اپنے پیچھے چھوڑکرآئے ہو، ایک پیام دے کر بھیجا ہے کہ لوگو ! اپنے رب کا پیام خوب سن لو اور واپس جاکر اپنے آقاکو بھی پہنچا دو اور اس سے کہہ دو کہ اللہ فرماتا ہے : اے اجب ! کیا تو نہیں جانتا کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ؟ میں ہی بنی اسرائیل کا خدا ہوں جس نے ان کو پیدا کیا اور رزق دیا ہے اور وہی ان کو زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے ۔ کیا وجہ ہے کہ تو دوسروں کو میراشریک قراردیتا اور میرے سوا ان سے اپنے بیٹے کی شفامنگتا ہے جن کے قبضے میں اگر میں نہ چاہوں تو کچھ بھی نہیں ۔ میں اپنے نام کی قسم کھاتا ہوں کہ بیٹے کے سلسلے میں تجھے ضرورغضب میں مبتلا کروں گا اور ضرور ضرور اس پر موت کو مسلط کردوں گا تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ میرے سوا کوئی بھی اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کا یہ کلام سن کر مجاور خوف زدہ ہوگئے اور لوٹ پڑے اور بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس کو بتایا کہ الیاس (علیہ السلام) ہمارے پاس اتر کر آیا تھا اور اس نے ہمیں ٹھہرجانے کا حکم دیا، ہم ٹھہرگئے ۔ ہمارے دلوں میں اس کا رعب بیٹھ گیا اور ہیبت چھاگئی ہماری زبانیں بندہوگئیں ۔ ہم اتنی تعداد میں تھے لیکن اس سے بات بھی نہ کرسکے ، نہ اس کی بات کا جواب دے سکے ۔ وہ ایک درازقامت، دبلاپتلا آدمی تھا، سرکے بال جھڑگئے تھے، بدن کی کھال کھردری ہوگئی تھی، بالوں کا بنا ہوا ایک کرتہ اور چغہ پہنے ہوئے تھا، کانٹوں سے اس نے کرتے کا گریبان سی لیا تھا۔ آخرہم آپ کے پاس لوٹ آئے۔ غرض حضرت الیاس (علیہ السلام) کی بات انہوں نے بادشاہ کو پہنچادی۔
اس کے بعد الیاس (علیہ السلام) کے زندہ رہتے ہوئے اجب کو اپنی زندگی بےسود معلوم ہونے لگی لیکن بغیر دھوکے اور فریب کے الیاس (علیہ السلام) تک اس کی سترس بھی ممکن نہ تھی ، اس لیے (اس نے ایک چال چلی) اپنی قوم کے پچاس طاقتور قوی آدمی مقررکیے اور ان کو ذمہ داربنادیا اور حکم دے دیا کہ فریب سے کام لیں اور دھوکے میں ڈال کر الیاس (علیہ السلام) کو قتل کردیں اور الیاس (علیہ السلام) کو جاکرلا لچ دیں کہ ہم اور وہ لوگ جن کو ہم اپنے پیچھے چھوڑآئے ہیں ، سب کے سب آپ پر ایمان لے آئے ہیں ۔ ایسی باتیں سن کر الیاس (علیہ السلام) کو اطمینان ہوجائے گا اور وہ دھوکاکھاجائیں گے اور اپنے آپ پر تم لوگوں کو قابودے دیں گے، تم ان کو لے کر بادشاہ کے پاس آجانا۔ حسب الحکم یہ لوگ روانہ ہوگئے اور جس پہاڑ میں الیاس (علیہ السلام) سکونت گزیں تھے گے ، تم ان کو لے کر بادشاہ کے پاس آجانا۔ حسب الحکم یہ لوگ روانہ ہوگئے اور جس پہاڑ میں الیاس (علیہ السلام) سکونت گزیں تھے جب اس پرچڑھے تو منتشرہوگئے اور انتہائی اونچی آواز سے الیاس (علیہ السلام) کو پکار نے لگے اور کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! آپ ہم پر کرم کیجئے اور ہمارے سامنے آجایئے ہم آپ پر ایمان لے آئے ہیں اور آپ کو سچا مانتے ہیں اور ہمارا بادشاہ اجب اور سارے لوگ بھی آپ پر ایمان لاچکے ہیں۔ تمام بنی اسرائیل آپ کو سلام کہتے ہیں اور نہوں نے کہا ہے کہ آپ کاپیام ہم کو پہنچ گیا اور جو کچھ آپ نے فرمایا، ہم نے اس کو جان لیا اور آپ پر ایمان لے آئے اور آپ کی دعوت کو قبول کرلیا۔ اب آپ ہمارے پاس آجائیے اور ہمارے ساتھ قیام فرمائیے۔ جو کچھ آپ ہم کو حکم دیں گے ہم اس کی اطاعت کریں گے اور جس بات سے روکیں گے، اس سے با زرہیں گے اب جبکہ ہم آپ پر ایمان لاچکے ہیں اور آپ کے فرمانبردار ہوگئے ہیں تو آپ کے لیے ہم سے الگ رہنے کی کوئی گنچائش نہیں ہے، ہمارے پاس واپس آجایئے۔
ان لوگوں کی باتیں ایک دھوکاتھیں ، ایک فریب تھا۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کے دل میں ان کا کلام بیٹھ گیا۔ آپ کو ان کے مؤمن ہونے کا خیال بھی ہوا اور (ایسی حالت میں) برآمدنہ ہونے سے اللہ کی ناراضگی کا اندیشہ بھی ہوالیکن اللہ کی طرف سے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ ابھی توقف کرنا چاہیے اور اللہ سے دعا کرنی چاہیے ۔ چناچہ آپ نے (دعا کی اور): اے اللہ ! اگر یہ لوگ اپنے قول میں سچے ہیں تو مجھے برآمد ہونے کی اجازت عطافرمادے اور اگر یہ جھوٹے ہیں تو ان کو مجھ سے بازرکھ اور ان پر ایسی آگ برساجوان کو سوختہ کردے۔ ابھی یہ لفظ پورے نہ ہونے پائے تھے کہ اوپر سے آگ برسنے لگی اور سب جل کر رہ گئے۔
اجب اور اس کی قوم کو جب یہ اطلاع ملی ، تب بھی اجب اپنے ارادئہ شر سے باز نہیں آیا اور دوبارہ فریب سے کام لیا اور پہلی جماعت کے برابر ایک اور جماعت مقرر کی جو پہلی جماعت سے زیادہ طاقتور، بڑی حیلہ ساز اور چالاک تھی۔ حسب ہدایت یہ لوگ چل دیئے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھیل گئے اور پکارنے لگے : اے اللہ کے نبی ! ہم اللہ کے غضب اور گرفت سے آپ کی پناہ چاہتے ہیں، وہ لوگ جو آپ کے پاس پہلے آئے تھے، ہم ان کی طرح نہیں ہیں۔ وہ تو منافق تھے، ہمارے مشورے کے بغیروہ آپ کو فریب دینے کے لیے آئے تھے۔ اگر ہم کو ان کی حرکت کا علم ہوجاتا تو ہم ان کو قتل کردیتے اور آپ کو تکلیف نہ اٹھائی پڑتی۔ اب اللہ نے ان کا کام تمام کردیا ، ان کو ہلاک کردیا اور ہمارا اور آپ کا ان سے انتقام لے لیا ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے ان کی باتیں سن کر سابق کی طرح اللہ سے دعا کی ، اللہ نے فورا ان پر آگ کی بارش کردی جس سے سب سوختہ ہوگئے۔
اس تمام کا روائی کے دوران شزادہ کی بیماری کی مصیبت شدید ہوتی رہی۔ بادشاہ نے جب دوسرے گروہ کے ہلاک ہوجانے کی خبر سنی تو اس کا غضب بالائے غضب ہوگیا اور خودالیاس (علیہ السلام) کی تلاش میں جانا چاہا لیکن بیٹے کی بیماری آڑے آئی اور خود نہ جاسکا۔ ایک شخص اجب کی بیوی کامیرمنشی یاسیکرٹری تھا اور (درپردہ) مؤمن تھا (لیکن بادشاہ کو اس کامؤ من ہونا معلوم تھا) بادشاہ نے اس کو بھیجنے کی تجویز اس خیال سے کی کہ الیاس (علیہ السلام) اس سے مانوس ہے اس کے ساتھ پہاڑ سے اترکر آجائے گا اور چونکہ سیکرٹری کامؤمن ہونا بادشاہ کو معلوم تھا اور یہ جاننے کے باوجود اس نے سیکرٹری کی طرف سے چشم پوشی محض اس کی کار گزاری، امانت داری اور درستی رائے کی وجہ سے کررکھی تھی، اس لیے نے سیکر ٹری پر یہی ظاہر کیا کہ میں الیاس (علیہ السلام) سے کوئی بدسلوکی کرنا نہیں چاہتا۔ سیکرٹری کے ساتھ اس نے کچھ آدمیوں کی ایک جماعت اور بھی کردی تھی اور اس بات پر آدہ کردیا تھا کہ اگر الیاس (علیہ السلام) ساتھ آنا نہ چاہے تو گرفتار کرکے، باندھ کے لے آئے اور اگر سیکرٹری پر اعتمادکرکے ساتھ آجائے تو پھر خوفزدہ کرنے اور ڈرانے کی ضرورت نہیں۔ سیکرٹری پر اس نے اپنی توبہ کا اظہار بھی کردیا تھا۔
اور کہہ دیا تھا کہ اب جبکہ میرے آدمی جل چکے اور میرابیٹا سخت بیما رہے اور یہ سب مصیبتیں مجھ پر آپڑی ہیں تو میں سمجھ گیا کہ یہ سب کچھ الیاس (علیہ السلام) کی بددعاکا نتیجہ ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ الیاس (علیہ السلام) ہم سب لوگوں کے لیے جو باقی رہ گئے ہیں ، بددعاکرے گا تو ہم سب ہلاک ہوجائیں گے، اس لیے تم الیاس (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ ہم نے توبہ کرلی ہے اور (اللہ کی طرف) رجوع کرچکے ہیں اور ہماری یہ توبہ اور رضاء رب کی طلب اور ترک اصنام کا عمل اسی وقت صحیح ہوگا جب الیاس (علیہ السلام) ہمارے پاس موجود ہوں، اوامرونواہی صادر کریں اور رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا راستہ بتائیں ۔ بادشاہ نے اپنے ساتھیوں کو بھی ہدایت کردی تھی اور اس کے حکم کے مطابق علیحد گی میں انہوں نے بھی سیکرٹری کے سامنے اعتراف کرلیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ جن بتوں کی ہم پہلے پوجا کرتے تھے، ان کی پوجاہم نے چھوڑدی ہے اور الیاس (علیہ السلام) کے اترکرآنے تک ہم نے اس معاملہ کو ملتوی کررکھا ہے تاکہ وہی آکر ان کو جلادیں اور برباد کردیں (ان باتوں میں سے کسی بات میں خلوص نہ تھا، بلکہ یہ سب کچھ بادشاہ کافریب تھا) ۔
غرض سیکرٹری اور اس کے ساتھ ایک جماعت سب روانہ ہوگئے اور حضرت الیاس (علیہ السلام) والے پہاڑپرسیکرٹری چڑھ گیا اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کو پکارا، آپ نے اس کی آواز پہچان لی، دل میں اس سے ملنے کا شوق پہلے ہی تھا ، آواز سن کر ملاقات کی ایک ہوک اٹھی فورا اللہ کی طرف سے وحی بھی آگئی کہ باہر نکل آؤ اور اپنے صالح بھائی سے ملو اور اس سے (دوستی کے) عہد کی تجد ید کرو۔ وحی آتے ہی حضر ت الیاس (علیہ السلام) سیکرٹری کے سامنے آگئے، سلام علیک کہا اور مصافحہ کیا اور خبر دریافت کی ۔ مرد مؤ من نے کہا : مجھے اس ظالم اور سرکش قوم نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اس کے بعد پوری سرگذشت بیان کردی اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ نہ ہوں گے اور میں تنہا واپس جاؤں گا تو مجھے خوف ہے کہ بادشاہ مجھے قتل کردے گا۔ اب جیسا چاہیں آپ مجھے حکم دیں ، میں اس کی تعمیل کروں گا۔ اگر آپ چاہیں تو میں بادشاہ سے کٹ کر آپ کے پاس ہی رہنے لگوں اور اس کو بالکل چھوڑدوں اور اگر آپ چاہیں تو آپ کے ہمرکاب رہ کر میں اس سے مقابلہ کروں اور اگر آپ کا ارادہ کچھ پیام دے کر مجھے اس کے پاس بھیجنے کا ہو تو میں آپ کا پیام بھی پہنچا دوں گا اور اگر آپ چاہیں تو اپنے رب سے دعاکریں کہ وہ ہمارے اس (الجھے ہوئے) معاملہ میں کشائش کا کوئی راستہ نکال دے۔
اللہ نے الیاس (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ جتنی حرکتیں کی ہیں ، سب فریب اور دھوکا ہیں ، وہ تمہارے اوپر قابوپانا چاہتے ہیں ۔ بادشاد اجب کو اگر اس کے بھیجے ہوئے نمائندے واپس جاکرخبر دے دین گے کہ اس مرد (مؤ من) کی تم سے ملاقات ہوگئی ہے اور وہ تم کو اپنے ساتھ نہ لے جاسکا ہے تو وہ اس شخص پر (تم سے مل جانے کی) تہمت لگائے اور سمجھ لے گا کہ مردمؤمن نے تمہارے معاملہ میں سستی سے کام لیا، اس لیے اس کے قتل ہوجانے کا اندیشہ ہے ۔ تم اس کے ساتھ چلے جاؤ، میں تم دونوں کی طرف سے اجب کو روک دوں گا، اس کے بیٹے کی مصیبت دگنی کردوں گاتا کہ بیٹے کہ سوا کسی اور چیز کی اہمت ہی اس کی نظر میں نہ رہے، پھر اسی بری حالت میں اس کے بیٹے پر موت کو مسلط کردوں ، جب وہ مرجائے گا تو اس وقت تو اس کے پاس سے لوٹ آنا۔
حضرت الیاس علیہ السلا یہ حکم ملنے کے بعد ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہوگئے اور سب لوگ اجب کے پاس پہنچ گئے۔ جونہی یہ لوگاپہنچے ، اللہ نے اجب کے بیٹے کی بیماری شدید کردی یہاں تک کہ موت اس کے گلوکیر ہوگئی۔ اس طرح اللہ نے اجب اور اس کے ساتھیوں کو الیاس (علیہ السلام) کی طرف توجہ کرنے کا موقع ہی نہیں دیا اور الیاس (علیہ السلام) بخیریت واپس آگئے۔ جب اجب کا بیٹا مرگیا اور لوگ اس کے مسئلہ سے فارغ ہوگئے اور غم میں بھی کچھ کمی آگئی تو اس وقت الیاس (علیہ السلام) کے سلسلے میں ان کی آنکھیں کھلیں اور سیکرٹری جو حضرت الیاس (علیہ السلام) کو لایا تھا، اس الیاس (علیہ السلام) کے متعلق دریافت کیا۔ سیکر ٹری نے کہا : مجھے الیاس (علیہ السلام) کا کوئی علم نہیں ۔ مجھے شہزادے کی موت اور اس کے غم نے فرصت ہی نہیں دی اور میراخیال تھا کہ آپ نے الیاس (علیہ السلام) کے متعلق کچھ اعتماد کرلیا ہوگا ۔ اس جواب پر سیکرٹری کی طرف سے اجب نے پہلوتہی کرلی کیوں کہ (گفتگو سے معلوم ہوگیا کہ سیکرٹری کو شہزادے کے مرنے کا) سخت غم تھا۔ جب حضرت الیاس (علیہ السلام) کو پہاڑوں میں رہتے ہوئے ایک طویل مدت گزرگئی اور ان کو دوسرے آدمیوں کے ساتھ رہنے کا شوق پیدا ہوگیا تو پہاڑ سے اترچل دیئے اور ایک اسرائیل عورت کے گھرجاکر ٹھہرے، یہ عورت مچھلی والے حضرت یونس بن متی کی ماں تھی۔ اس عورت کے گھر آپ چھ ماہ چھپے رہے، یونس اس وقت شیر خواربچہ تھا۔ یونس کی ماں حضرت الیاس (علیہ السلام) کی خدمت خود کیا کرتی تھی اور اپنے مال سے ان کی مدد کرتی تھی۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) تو پہاڑوں کی سکونت کے عادی ہوچکے تھے، یہاں گھروں کی تنگی میں رہنے سے اکتاگئے اور پہاڑپرہی چلاجانا آپ نے پسند کیا۔ آخرگھر سے نکل کر اپنی (کوہستانی ) جگہ پر لوٹ آئے۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) کی جدائی سے یونس کی ماں بیتاب ہوگئی اور آپ کے نہ ہونے سے وحشت زوہ ہوگئی ۔ پھر کچھ ہی مدت کے بعد جب اس نے اپنے یونس کادودھ چھڑایا تو یونس کا انتقال ہوگیا۔ اب تو یونس کی ماں پر مصیبت عظیم آپڑی اور الیاس کو تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکل کھڑی ہوئی اور برابر پہاڑیوں پرچڑھتی اور گھومستی پھر ی ۔ آخر آپ کو اس نے پالیا اور عرض کیا : آپ کے جانے کے بعد میرے بچہ کے مرنے کی مجھ پر بیتابی بڑھ گئی جس کی وجہ سے میری مصیبت میں بڑا اضافہ ہوگیا اور اس کے نہ ہونے سے میں بڑی دکھی ہوگئی، میرا اس کے سوا کوئی اور بچہ بھی نہیں ہے۔ آپ مجھ پر رحم کیجئے اور اللہ سے دعاکردیجئے کہ میرابیٹا زندہ ہوجائے ۔ میں نے اس کو دفن نہیں کیا ہے اور یونہی (کپڑے سے) ڈھانک دیا ہے اور اس کی موجود گی کو چھپارکھا ہے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) فرمایا، مجھے تو اس کا حکم نہیں دیا گیا ہے (یعنی مردے کو زندہ کرنے کی دعاکا حکم نہیں دیاگیا ہے) اور میں تو بندہ ہوں ، وہی کرتا ہوں جس کا مجھے حکم دیاجاتا ہے۔ عورت یہ جواب سن کر بےقرار ہوگئی اور گڑگڑانے لگی ۔ اللہ نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کے دل کو عورت کی (درخواست کی) جانب مائل کردیا۔ پوچھا : تیرابیٹا کب مرا ہے ؟ عورت نے کہا : سات روز ہوئے ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) اس کے ساتھ چل کھڑے ہوئے نے یونس بن متی کو زندہ کردیا۔ یونس زندہ ہوکراٹھ بیٹھے ، جونہی یونس اٹھ کربیٹھے فورا حضرت الیاس (علیہ السلام) اچھل کر اٹھے اور یونس کو چھوڑ کر چل دیئے اور اپنے مقام پر لوٹ گئے۔
جب قوم کی نافرمانی بہت طویل ہوگئی تو حضرت الیاس (علیہ السلام) ان کی نافرمانی سے بڑے تنگ دل ہوگئے ۔ اللہ نے سات سال کے بعد ان کے پاس وحی بھیجی ، آپ نزول وحی سے پہلے بڑے خوفزدہ تھے۔ اللہ نے الیاس (علیہ السلام) کو ندادی اور فرمایا : الیاس ! یہ غم اور بیتابی جس میں تو مبتلا ہے کیا ہے ؟ کیا تو میری وحی کا امین اور زمین پر میری برہان اور (ساری) مخلوق میں میرامنتخب کردہ نہیں ؟ (جو کچھ چاہے) مجھ سے مانگ لے، میں تجھے عطاکردوں گا۔ میں وسیع رحمت اور بڑے فضل والاہوں ۔ حضرت الیاس علیہ الیاس (علیہ السلام) نے عرض کیا : تو مجھے موت دے دے اور میرے اسلاف کے ساتھ مجھے ملادے۔ میں بنی اسرائیل سے تنگ آگیا ہوں اور بنی اسرائیل مجھ سے تنگ دل ہوگئے ہیں ۔ اللہ نے الیاس (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی اور فرمایا : یہ وہ دن نہیں کہ میں زمین اور اہل زمین کو تجھ سے خالی کردوں۔ زمین کا قیام اور بہبودی تو تیری اور تجھ جیسے دوسرے لوگوں کی (برکت کی) وجہ سے ہے، اگرچہ تم لوگ تھوڑے ہو، مجھ سے کچھ اور سوال کر، تیرا سوال پوراکردوں گا ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے عرض کیا : اگر تو موت نہیں دیتا تو بنی اسرائیل سے مجھے انتقام لینے کی قدرت عطافرمادے۔ اللہ نے فرمایا : تو کیا چاہتا ہے ؟ الیاس (علیہ السلام) نے عرض : سات سال تک بارش کے خزانے میرے قبضہ میں دے دے کہ میری دعاء کے بغیر کوئی بدلی ان پر نہ پھیلے اور میری سفارش کے بغیر ایک بوند بارش کی ان پر نہ ہو، اس کے بغیریہ فرمانبردار نہ ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا : الیاس ! میں اپنی مخلوق پر بڑا رحیم ہوں، اگرچہ وہ ظلم کرتے ہیں (مگر میں ان پر مہربانی کرتاہوں) الیاس (علیہ السلام) نے عرض کیا : تو چھ سال (بارش روک دے) اللہ نے فرمایا : میں اپنی مخلوق پر اس سے زیادہ مہربان ہوں۔ الیاس (علیہ السلام) نے عرض کیا : اچھا تو پانچ سال۔ اللہ نے فرمایا یہ (مدت) بھی میرے تقاضائے رحم سے زائد ہے، البتہ تین سال میں (بارش روک کر ان کی نافرمانی کا) بدلہ میں تجھے دے دوں گا، بارش کے خزانے تیرے قبضہ میں دے دوں گا۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے کہا : پھر میں کس طرح زندہ ہوں گا ؟ اللہ نے فرمایا : میں پرندوں کی ایک جماعت تیری خدمت پر لگادوں گا، سبزہ زار اور شاداب زمین سے وہ تیراکھانا پینا لاکرتجھے پہنچادے گی۔ اس کے بعد اللہ نے بارش روک دی ، نتیجہ میں جانور، چوپائے اور زمین کے کیڑے مکوڑے مرگئے ، درخت سوک گئے اور انسان سخت ترین مصیبت میں مبتلا ہوگئے۔ الیاس اس مدت میں حسب سابق اپنی قوم سے چھپے رہے۔ جہاں بھی ہوتے ، ان کا رزق وہاں رکھ دیاجاتا تھا۔ قوم والوں کو بھی اس کا احساس ہوگیا ۔ اگر کسی گھر کے اندر سے روٹی کی خوشبومحسوس ہوتی تو سمجھ جاتے کہ یہاں الیاس (علیہ السلام) آیا تھا۔ چناچہ وہاں الیاس (علیہ السلام) کو تلاش کرتے (اور الیاس (علیہ السلام) نہ ملتے تو) گھروالوں کو ان کے ہاتھوں سے بڑادکھ پہنچتا۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) نے فرمایا : تین سال تک بنی اسرائیل قحط کی مصیبت میں مبتلا رہیں گے۔ ایک روز کسی بڑھیا کی طرف سے آپ کا گزرہوا ، آپ نے اس سے فرمایا : کیا تیرے پاس کچھ کھانا ہے ؟ بڑھیا نے کہا : ہاں، کچھ آٹا اور تھوڑاساروغن زیتون ہ۔ رادی کا بیان ہے کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے دونوں چیزیں منگوالیں اور موجودہ چیزوں میں برکت کی دعا کی اور ان پر ہاتھ پھیردیا۔ فورا بڑھیا کا بورا آٹے سے اور مٹکے روغن زیتون سے بھر گئے (اور خود چل دیئے) لوگوں نے جب بڑھیا کے پاس یہ چیزیں دیکھیں تو پوچھا : یہ چیزیں تیرے پاس کہاں سے آئیں ؟ بڑھیانے حضرت الیاس (علیہ السلام) کا پوراحلیہ بیان کیا اور کہا : اس حلیہ کا ایک آدمی یہاں آیا تھا (اس کی دعاء سے ایسا ہوا) لوگ پہچان گئے کہ وہ الیاس ہی تھے ۔ آخر آپ کو تلاش کرکے ایک جگہ پالیا لیکن آپ بھاگ گئے اور کسی اسرائیلی کے گھر میں جاکر مقیم ہوگئے ۔ اس عورت کا ایک لڑکا سخت بیمار تھا جس کا نام الیسع بن اخطوب تھا۔ عورت نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کو مکان میں جگہ دی اور چھپالیا۔ آپ نے اس (رح) لڑکے کے لیے دعا کی ، لڑکا کا تندرست ہوگیا اور حضرت الیاس (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا اور آپ کے ساتھ ہولیا، پیچھے لگ گیا۔ جہاں الیاس (علیہ السلام) جاتے وہ لڑکا بھی ساتھ جاتا۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) اس وقت عمر رسیدہ اور کبیر السن ہوچکے تھے، الیسع نوجوان تھا۔ اللہ نے الیاس (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ تو نے بہت مخلوق کو بارش کو روک دینے کی وجہ سے ہلاک کردیا۔
وہ مویشی اور چوپائے اور پرندے اور کیڑے مکوڑے جو بے قصور تھے، بارش بندہوجانے کی وجہ سے مرگئے (بقول اہل روایت) الیاس (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب ! اب مجھے ہی تو اجازت دے دے کہ میں ہی ان کے لیے دعا کروں اور جس دکھ میں یہ پھنسے ہوئے ہیں اس سے رہائی میری ہی دعا سے ان کو مل جائے۔ اس طرح شاید یہ باز آجائیں اور جس شرک میں مبتلا ہیں، اس سے نکل آئیں ۔ جواب ملا : اچھا، یہ جواب پانے کے بعد حضرت الیاس (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے پاس گئے اور فرمایا : کوئی شک نہیں کہ تم لوگ بھوک اور دکھ سے ہلاک ہوگئے اور تمہارے گناہوں کی وجہ سے مویشی اور چوپائے اور پرندے اور کیڑے مکوڑے بھی مرگئے اور درخت بھی مردہ ہوگئے۔ تم سب بلاشبہ باطل پرست ہو، اگر تم کو اس کا ثبوت درکار ہے تو اپنے بتوں کو میرے سامنے نکال کرلاؤ۔ اگر وہ تمہاری دعائیں قبول کرلیں (اور بارش ہوجائے) تو بیشک تمہاری بات سچی ہوگی اور اگر وہ ایسانہ کرسکے توخودتم کو معلوم ہوجائے گا کہ تم باطل پرست ہو، اس وقت تم اپنے خود ساختہ شرک سے نکل آنا۔ پھر میں اللہ سے دعاء کروں گا اور وہ تمہاری یہ مصیبت جس میں تم پھنسے ہوئے ہو، دورکردے گا۔ قوم والوں نے کہا : آپ نے انصاف کی بات کی ۔ چناچہ وہ اپنے بتوں کو باہر نکال کرلے آئے اور ان سے دعائیں کیں لیکن جس مصیبت میں گرفتار تھے وہ دورنہ ہوئی ۔ پھر حضرت الیاس (علیہ السلام) نے دعا کی ، الیسع بھی آپ کے ساتھ شریک تھے، فورا سطح سمندر سے ایک ڈھال کے برابر بدلی اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی طرف بڑھی اور آفاق چھاگئی۔ پھر بحکم خدا اس سے اتنی بارش ہوئی کہ مردہ بستیوں میں جان پڑگئی اور اللہ نے ان کی فریادرسی کی۔ جب اللہ نے ان کا دکھ دردور کردیا، تب بھی انہوں نے وعدہ پورا نہیں کیا اور کفر کونہ چھوڑا اور اپنی بدترین حالت پر قائم رہے۔
الیاس (علیہ السلام) نے جب یہ حالت دیکھی تو (مایوس ہوکر) اللہ سے دعا کی اب مجھے ان لوگوں سے نجات دے (بقول اہل روایت ) جواب ملا : فلاں تاریخ کا انتظارکرو، مقرردن آجائے تو فلاں مقام پر چلے جانا اور جو سواری تمہارے پاس آجائے ، بےدھڑک اس پر سوارہوجانا۔
حسب الحکم الیاس (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ الیسع نکل کر اس مقام پر پہنچے جہاں پہنچنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اتشیں گھوڑا (اور بقول بعض) آگ کے رنگ کا گھوڑاپ اس آکرکھڑا ہوگیا۔ الیاس (علیہ السلام) کود کر اس پر سوار ہوگئے اور گھوڑا آپ کو لے کر روانہ ہوگیا۔ الیسع نے پکار کر کہا : حضرت ! میرے متعلق آپ کا کیا حکم ہے ؟ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے فضاء اعلیٰ کی بلند ی سے اپنی ایک تحریر پھینک دی۔ یہ علامت تھی کہ الیسع کو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے حضرت کا خلیفہ بنادیا گیا۔ حضرت الیسع کی حضرت الیاس (علیہ السلام) یہ آخری ملاقات تھی۔ اللہ نے الیاس (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کے اندر سے نکال کر اوپر اٹھالیا، الیاس کو کھانے پینے سے نیاز کردیا اور (فرشتوں جیسے) پر اور باز و عنایت کردیئے اور ان کو ملکی انسان بنادیاجوارضی (انسان ) بھی تھے اور سماوی (فرشتہ) بھی۔
شاہ اجب اور اس کی قوم پر اللہ نے ایک غیبی دشمن کو مسلط کردیا کہ لوگوں کی بیخبر ی میں اس نے ان پر حملہ کردیا اور اجب اور اس کی بیوی کو مزد کی کے باغ میں قتل کردیا اور اسی باغیجہ میں ان کی لاشیں پڑی رہیں کہ گوشت پارہ پارہ ہوگیا اور ہڈیاں بوسیدہ ہوگئیں ۔ اللہ نے وحی کے ذریعے سے اس واقعہ کی اطلاع الیسع کودے دی اور رسول بناکربنی اسرائیل کے پاس بھیجا ۔ بنی اسرائیل الیسع پر ایمان لائے، آپ کی عزت کی اور وفات تک آپ کی حکومت بنی اسرائیل پر قائم رہی۔
سری بن یحییٰ نے عبدالعزیز بن ابی الدرداء کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت خضرعلیہماالسلام دونوں بیت المقدس میں ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھتے ہیں اور حج کے موقع پر ہر سال دونوں ملتے ہیں ۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ الیاس بیانوں اور خضر سمندروں (کی ڈیوٹی) پر مقرر ہیں۔ (الیاس (علیہ السلام) جنگلوں میں بھولے بھٹکے کی رہنمائی کرتے ہیں اور خضرعلیہ السلام بحری مسافروں کی مدد کرتے ہیں) ، کذاذکرالبغوی فی تفسیر قولہ تعالیٰ : وان الیاس لمن المرسلین،
Ayah 37:125تفسیر 125۔ ، اتدعون، کیا تم عبادت کرتے ہو، بعلا، بت کا نام ہے جس کی وہ پوجا کرتے تھے۔ اس کی مناسبت سے ان کے شہرکو بعلبک کہاجاتا تھا۔ مجاہد، عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے کہ بعل اہل یمن کی لغت میں رب کو کہتے ہیں۔ ، وتذرون احسن الخالقین، وہ اس کی عبادت نہیں کرتے تھے۔
Ayah 37:126126، اللہ ربکم ورب آبائکم الا ولین، حمزہ ، کسائی وحفص و یعقوب کے نزدیک ، اللہ ربکم ورب ، غصب کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں بدل ہیں۔ بعض حضرات کے نزدیک مرفوع ہے جملہ مستا نفہ ہونے کی وجہ سے ۔
Ayah 37:127127، فکذبوہ فانھم لمحضرون، ان کو دوزخ میں حاضر کریں گے،
Ayahs 37:128–129128، الا عباد اللہ المخلصین ، ان کی قوم سے یا ان کے ساتھیوں کو عذاب سے بچالیں گے۔
Ayahs 37:130–134130، سلام علی الیا سین، نافع ابن عامرنے آل یاسین پڑھا ہے۔ ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے کسرہ کے ساتھ کیوں کہ مصحف میں مفعولا ہی نقل کیا گیا ہے اور دوسرے قراء نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ موصولا نقل کیا۔ جن حضرات نے آل یسین پڑھا ہے (جداجدا) انہوں نے اس مراد آل محمد لیا ہے لیکن یہ قول بعید ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد حضرت الیاس (علیہ السلام) ہیں۔ معروف قرأۃ وصل کے ساتھ ہے اور اس کی لغت میں اختلاف ہے۔
بعض نے کہا کہ الیاسین لغت میں الیاس ہے۔ مثل اسماعیل کی طرح ، اسماعین اور میکا ئیل سے میکائین۔ فراء کا قول ہے کہ الیاسن کی جمع ہے۔ اس سے ان کے اصحاب و اتباع مؤمنین مراد ہیں ۔ یہ بمنزلہ اشعربین ، اعجمیین کی طرح ہے ۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ سلام علی اور اسین اس سے، ادریس (علیہ السلام) اور ان کے تابعد ار مراد ہیں۔ وہ یہی پڑھتے ہیں۔
Ayah 37:135135، الا عجو زافی الغابرین، ان کے لیے عذاب باقی رہنے والا ہے۔
Ayah 37:136136، ثم دمرنا الاخرین، تدمیرکا معنی ہے ہلاکت۔
Ayah 37:137137، وانکم لتمرون علیھم، ان کے نقش وقدم اور ان کے ٹھکانوں پر سے گزرو۔ ، مصبحین، صبح کے وقت ۔
Ayah 37:138138، وبا للیل ، وہ ارادہ کرتے ہیں کہ وہ دن پر سے گزرتے ہیں اور رات ان پر سے گزرتی ہے جب وہ کسی سفر پر جاتے اور واپس آتے۔ ، افلا تعقلون ، کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے ۔
Ayah 37:139139، وان یونس لمن المرسلین، حضرت یونس (علیہ السلام) بھی انبیاء کرام میں سے تھے۔
Ayah 37:140140، اذابق الی الفلک المشحون، جب وہ کشتی سے بھاگنے لگے ۔ ابن عباس ؓ اور وہب کا بیان ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کر آئے تو ان پر وقت مقررہ پر عذاب نہیں آیا تو وہ اپنی قوم سے چھپ کر بھاگنے لگے، سمند رکارخ کیا اور کشتی پر سوار ہوگئے۔ جب کشتی سمندر کے درمیان پہنچی تورک گئی۔ کشتی کے ملاح نے کہا کہ اس میں کوئی بھاگا ہوا غلام موجود ہے جس کی وجہ سے کشتی نہیں چلتی ۔ انہوں قرعہ ڈالا تو حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکل آیا ۔ تین بار قرعہ ڈالا ، تینوں بار حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا۔ پھر حضرت یونس (علیہ السلام) کہنے لگے کہ میں ہی اپنے مالک سے بھاگا ہواہوں۔ پھر حضرت یونس (علیہ السلام) نے سمندر میں چھلانگ لگادی۔
ایک روایت میں اس طرح قصہ مذکور ہے کہ جب وہ سمند کے کنارے پہنچے تو آپ کے ساتھ زوجہ اور دوبٹیے تھے ، کشتی آئی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان کو اپنے ساتھ بٹھا نے کا ارداہ کیا کہ کشتی اور ان کی بیوی کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ موجوں کی نذر ہوگئی۔ پھر ایک اور موج آئی ، وہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے کو لے گئی ۔ ادھر سے ایک بھیڑیا آیاوہ ان کے چھوٹے بیٹے کو لے گیا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اکیلے رہ گئے ۔ پھر ایک اور کشتی آئی۔ اس میں آپ کو قوم کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے کنارے پر جا کر بیٹھ گئے۔ جب کشتی سمندر میں چلنے لگی تورک گئی ، قرعہ ڈالا گیا، اس کا بقیہ تفصیلی واقوہ سورة یونس میں گزرچکا ہے۔
Ayah 37:141141، فساھم، انہوں نے اس میں قرعہ ڈالا تا کہ جس کے حصے میں قرعہ نکلے وہ سمندر میں پھینک دیاجائے۔ فکان من المدحصنین ، وہ ہوگئے قرعہ ڈالنے والوں میں سے۔
Ayah 37:142تفسیر 142۔ ، فالقمہ الحوت، ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ ، وھو ملیم ، اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے ۔
Ayah 37:143143، فلو لا انہ کان من المسبحین، اگر وہ اس سے پہلے اللہ کی یادنہ کرتے رہتے اور وہ بہت زیادہ اللہ کو یاد کرنے والے تھے۔ ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا کہ وہ بہت زیادہ نماز پڑھنے والے تھے۔ وہب نے کہا کہ وہ بہت زیادہ عابد تھے۔ حسن کا قول ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں نماز نہیں پڑھ رہے تھے بلکہ اس سے پہلے وہ پڑھتے تھے اور بعض نے کہا کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں وہ اللہ کی تسبیح نہ کرتے ، سعید بن جبیر نے کہا کہ تسبیح سے مراد ہے، لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین،
Ayah 37:144144، للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون، اگر تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک آپ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے ۔
Ayah 37:145145، فنبذناہ، پس ہم نے ان کو ڈال دیا۔ ، بالعرائ، زمین پر۔ امام سدی (رح) نے کہا کہ ساحل پر ڈال دیا۔ عراء اس زمین کو کہتے ہیں جو درخت اور نباتات سے خالی ہو۔ ، وھو سقیم، چڑیا کے بچہ کی مانند ۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ آپ کا گوشت بسک گیا تھا ۔ ہڈیاں کمزور ہوگئیں ، بدن میں قوت باقی نہیں رہی تھی۔ اس بات میں اختلاف ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں کتنے عرصے رہے۔ مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ تین روز وہ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ عطاء کا قول ہے کہ سات روز۔ ضحاک کا قول ہے بیس دن۔ سدی ، کلبی و مقاتل بن سلیمان نے کہا کہ چالیس روز رہے۔ دفعبی کا قول ہے کہ چاشت کے وقت مچھلی نے نگلا تھا اور شام کو اگل دیا۔
Ayah 37:146146، انبتنا علیہ، اس کے لیے اور بعض نے کہا اس کے پاس ، شجرۃ من یقطین، کدو کی بیل تمام مفسرین کے نزدیک ہے۔ حسن اور مقاتل کا بیان ہے کہ جس درخت کا تنانہ ہو اور اس کی بیل زمین پر پھیلتی ہو اور سردی کے زمانہ میں باقی نہ رہتا ہو، وہ یقطین ہے۔
مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) درخت کے سائے میں رہنے لگے۔ ایک پہاڑی بکری آپ کے پاس آجاتی تھی۔ آپ صبح وشام اس کا دودھ پیتے تھے۔ آخرجب گوشت میں کچھ سختی آگئی ، بال اگ آئے اور قوت بھی آگئے تو آپ سوگئے لیکن جب بیدار ہوئے تو درخت سوکھ چکا تھا، دھوپ کی تپش بدن پر لگی تو آپ کو درخت کے سوکھ جانے کا بڑاغم ہوا اور رونے لگے۔ اللہ نے جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعے یہ پیغام بھیجا کہ تم کو ایک درخت کا تو اتنا غم ہے اور اپنی امت کے ایک لاکھ آدمیوں کا غم نہیں جو مسلمان بھی ہوگئے اور توبہ بھی کرچکے ہیں۔
Ayah 37:147147، وارسلناہ الی مائۃ الف، قتادہ کا قول ہے کہ مذکورہ بالا مصیبت سے پہلے حضرت یونس (علیہ السلام) کو نینوا علاقہ موصل کے باشندوں کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا گیا۔ بعض حضرات نے کہا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو مچھلی کے پیٹ سے نمودار ہونے کے بعد پیغمبربنا کربھیجا۔ بعض نے کہا کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد دوسری قوم کی طرف ان کو بھیجا گیا۔
، اویزیدون، مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ اوبمعنی بل کے ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ ایک لاکھ کی طرف معنی میں مستعمل ہے مگر مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اگر ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ ایک لاکھ ہیں یا زیادہ ہیں جیسے کوئی شخص کسی گروہ کو دیکھ کر کہتا ہے ۔ یہ ایک لاکھ ہیں یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ سب کچھ مخلوق کے تخمینے اور اندازے کے بغیر یقینی ہونے پر ہے۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے اور اس سے بھی زیادہ۔ مفسرین رحمہم اللہ کا اس بات میں اختلاف ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ تعداد کتنی تھی۔ اس سلسلہ میں آئمہ مفسرین رحمہم اللہ کے مختلف اقوال ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مقاتل کے نزدیک ایک لاکھ کے اوپر اور بیس ہزار تک ان کی تعداد تھی۔
حضرت ابی بن کعب ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، وہ بیس ہزار سے زیادہ تھے۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ وہ تیس ہزار سے کچھ زیادہ تھے اور سعید بن جبیر تابعی (رح) نے سترہزارتعدادبیان کی ہے۔
Ayah 37:148تفسیر 148۔ ، فامنوا، عذاب کے معائنہ کے بعد یونس (علیہ السلام) کی قوم ایمان لے آئی ۔ ، فمتعنا ھم الی حین، جب اس کی اجل پوری ہوگئی۔
Ayah 37:149149، فاستفتھم، اے محمد ! آپ اہل مکہ سے پوچھئے ، یہ سوال بطور تو بیخ کے ہے۔ ، الربک البنات ولھم البنون ، یہ اس وجہ سے کہ قبیلہ جہینہ اور قبیلہ بنوسلمہ دونوں کا یہ عقیدہ تھا کہ (نعوذ باللہ) فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ پر ایسا بڑا الزام ز ڈالتے ہیں، یہ الزام ظالم لوگ ہی کرسکتے ہیں، وہ کہتے تھے، جعلوا اللہ البنات ولا نفسھم النبین،
Ayah 37:150150، ام خلقنا الملائکۃ اناثا، یہ سوال بطور استہزاء کے ہے کہ کیا تمہاری نظروں میں ہم نے فرشتوں کو لڑکیاں پیدا کیا ہے۔ ، وھم شاھدون، کہ جب ہم ان کو پیداکر رہے تھے کیا اس وقت یہ لوگ حاضر تھے ؟ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے، اشھدواخلقھم، ہے۔
Ayahs 37:151–152151 ، الا انھم من افکھم، ایسے جھوٹ کی وجہ سے جس کا غلط ہونا ظاہر ہے۔ ، لیقولون،
Ayah 37:153153، اصطفی، ابوجعفرنے اس کو ماقبل والی آیت کے ساتھ ملاکرپڑھا ہے مشرکین کے قول کی خبرہونے کی وجہ سے اور اگر وصل پڑھیں تو اس صورت میں یہ ابتداء ہوگا۔ ، اصطفی، الف کے کسرہ کے ساتھ اور بعض قراء نے الف کے بغیر پڑھا ہے کیوں کہ الف استفہام وصل پر داخل ہوا ہے ۔ لہٰذا وصل دالاالف کو حذف کرکے استفہام والے الف کو باقی رکھا۔ ، البنات علی البنین،
Ayah 37:154154، مائکم کیف تحکمون، یہ کیسا حکم لگا رہے ہو، اللہ کے لیے تو بیٹیاں پسند کرتے ہو اور اپنے لیے بیٹے۔
Ayah 37:155155، افلا تذکرون، کیا تم اس پر غور نہیں کرتے۔
Ayah 37:156156، ام لکم سلطان مبین، کھلی ہوئی دلیل جو اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہو۔