Ayahs 37:80–8180، انا کذلک نجریالمحسنین، مقاتل کا بیان ہے کہ اللہ ان کو احسان کے ساتھ بدلہ دیں گے اور وہ احسان دونوں جہانوں میں ان کا بہترین تذکرہ ہے۔
Ayah 37:8282، ثم اغرقنا الا خرین، اس سے کفار مراد ہیں۔
Ayah 37:8383، وان من شیعتہ، اس سے مراد اہل دین وملت اور طریقہ ہے۔ ، لابراھیم ،
Ayah 37:8484، اذجاء ربہ بقلب سلیم، جو خالص ہوں شرک وشک وشبہ سے۔
Ayah 37:8585، اذ قال لا بیہ وقومہ ماذا تعبدون، یہ استفہام تو بیخ ہے۔
Ayah 37:8686، ائفکا آلھۃ دون اللہ تریدون ، یہ جھوٹ موٹ بہت ہی بڑاکذب ہے اور اللہ کے سواعبادت کرتے ہو۔
Ayah 37:8787، فماظنکم برب العالمین، جب تم غیر اللہ کی پوجا کرتے ہو تو اس وقت تمہارا اللہ رب العالمین کے متعلق کیا گمان ہے۔
Ayahs 37:88–8988، فنظر نظرۃ فی النجوم،۔۔۔۔۔۔ 89۔۔۔۔۔۔۔ فقال انی سقیم، حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ان کی قوم ستاروں کا علم سیکھتی تھی۔ ایسا معاملہ اس لیے اختیار کیا تا کہ وہ آپ کے انکار پر کچھ نہ کہیں ۔ دوسرے دن ان کا عیدکا دن تھا اور ان کے جمع ہونے کا دن تھا ، وہ تہوار کے دن جانے سے پہلے اپنے بتوں کے پاس جاتے اور ان کے لیے بچھونا بچھا تے اور ان کے لیے طرح طرح کے کھانے ان کے سامنے بنا کررکھتے۔
اور ان کا یہ گمان تھا کہ کھانا وہ متبرک کرتے ہیں ۔ پھر میلے سے واپس آکر کھاتے ہیں تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے کہ کیا کل آپ ہمارے ساتھ میلے میں چلیں گے۔ پھر حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں بیمارہوں ۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہے کہ میں طاعون زدہ ہوں ۔ چونکہ وہ لوگ طاعون زدہ سے بھاگتے تھے۔ حسن نے کہا کہ اس کا معنی ہے میں مریض ہوں ۔ مقاتل نے بیان کیا کہ مجھے تکلیف ہے۔ ضحاک کا بیان ہے کہ میں عنقریب بیمار ہونے والا ہوں۔
Ayah 37:90تفسیر 90۔ ، فتولواعنہ مد برین، جب وہ اپنے میلے چلے گئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے بت خانے میں داخل ہوئے اور بتوں کو توڑدیا۔
Ayahs 37:91–9291، فراخ الی آلھتھم، پھر ان کی طرف سے خفیہ طور پر واپس آئے۔ راغ نہیں فرمایا ۔ راغ کہتے ہیں چالا کی سے مڑجانا۔ ، فقال ، بطوراستہزاء کے بتوں سے کہا۔ ، الا تاکلون ، اس کھانے کو کیوں نہیں کھاتے جو تمہارے سامنے ہے۔
Ayah 37:9393، فراغ علیھم ضربا لیمین ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دائیں ہاتھ کے ساتھ ان کو شدید ضرب لگائی کیونکہ کام کاج میں دایاں ہاتھ بائیں سے زیادہ اقوی ہے۔ بعض نے کہا کہ بالیمین سے مراد ہے مضبوطی کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ یمین سے مراد قسم ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قسم کھائی تھی اور کہا تھا ، تاللہ لا کی دن اصنا مکم بعد ان تولوامدبرین،
Ayah 37:9494، فاقبلوا الیہ، ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے ۔ ، یزفون، بھا گتے ہوئے جلدی سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تا کہ ان کو گرفتار کریں ۔ اعمش اور حمزہ نے یا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، دونوں لغات ہیں ۔ بعض نے کہا کہ یاء کے ضمہ کے ساتھ کہ وہ جلد ی سے بتوں کو جانوروں پر سوار کرنے والے ہیں۔
Ayah 37:9595، قال، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے دلیل بیان کرتے ہوئے کہا، اتعبدون ماتنحتون، کیا تم اہی کی پوجا کرتے ہو جن کو تم اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو۔
Ayah 37:9696، واللہ خلقکم وماتعملون، تمہارے ہاتھوں کا بتوں کو تراشنے والا عمل ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندوں کے افعال بھی اللہ تعالیٰ نے پیداکیے۔
Ayah 37:9797، قالوا ابنو لہ بنیانافالقوہ فی الجحیم، وہ کہنے لگے کہ ابراہیم کے لیے ایک آتش خانہ تعمیر کرو۔ اس میں اس کو ڈال دو ۔ مقاتل نے کہا کہ قوم ابراہیم نے پتھروں کا ایک احاطہ قائم کیا، دیواروں کی بلند ی تیس ہاتھ اور چوڑائی دس ہاتھ رکھی۔ پھر اس احاطہ میں لکڑیاں بھردیں اور لکڑیوں میں آگ لگادی۔
Ayah 37:9898، فارادوابہ کیدا، کیدا سے مراد شر ہے۔ وہ شریہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلادیں۔ ، فجعلنا ھم الاسفلین، ان کو ذلیل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو صحیح سالم کردیا اور ان کے مکرکورد کردیا۔
Ayah 37:9999، وقال ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا، انی ذاھب الی ربی ، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ میں اس دارالکفر سے ہجرت کرنے والا ہوں اور جہاں میرے رب کی رضا ہوگی وہیں رہوں گا۔ پھر آگ سے نکلنے کے بعد کہنے لگے۔ جیسا کہ رب العزت نے ارشاد فرمایا، انی معاجرالی ربی، ۔۔۔۔۔۔۔ (سیھدین) جس طرف مجھے میرے رب نے جانے کا حکم دیا ہے اور وہ شام کا ملک ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جب ارض مقدسہ میں پہنچے تو اپنے رب سے ولد کے متعلق دعا کی۔
Ayah 37:100تفسیر 100۔ ، رب ھب لی من الصالحین، یعنی مجھے لڑکادیجئے جو نیک صا (رح) لح ہو۔
Ayah 37:101101، بشرناہ بغلام حلیم، وہ بچپن میں غلام اور بڑے ہونے کے وقت حلیم ہے۔ اس میں خوشخبری ہے کہ وہ نبی ہی ہوں گے اور وہ زندہ رہیں گے اور وہ بڑھاپے تک پہنچیں گے۔ یہاں کہ حلم تک پہنچ جائیں۔
Ayah 37:102102، فلما بلغ معہ السعی ، ابن عباس ؓ و قتادہ کا بیان ہے کہ مطلب یہ ہے کہ میرے ساتھ پہاڑ کی طرف چلئے ۔ مجاہد نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جوان ہوئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ چلنے کے قابل ہوگئے۔ جب وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہاتھ بٹا نے لگے اور ان کے کاموں میں مدد گار ہونے لگے۔ کلبی کا بیان ہے کہ وہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے تھا ۔ یہی قول حسن مقاتل بن حیان اور ابن زید کا ہے ۔ وہ کہنے لگے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگے ۔ اس وقت ان کی عمر میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ اس وقت آپ کی عمرتیرہ ساتھی اور بعض نے کہا سات کی عمر تھی۔ ، قال یابنی انی اری فی المنام انی اذبحک،
ذبیح اللہ حضرت اسما عیل (علیہ السلام) تھے یا اسحاق (علیہ السلام)
علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذبح کرنے کا حکم دیا وہ کون تھے۔ اہل کتاب کے اتفاق رائے میں ہے کہ اسحاق ذبیح اللہ ہیں اور ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے کہ اسحاق ذبیح اللہ ہیں۔ صحابہ میں سے حضرت عمر، حضرت علی، ابن مسعود اور ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے اور تابعین میں سے کعب احبار، سعید بن جبیر ، قتادہ اور مسروق ، عکرمہ ، عطاء ، مقاتل ، زہری اور سدی رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے اور یہی روایت عکرمہ کی سعید بن جبیر (رح) سے بھی مروی ہے جو ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ شام میں وقوع پذیرہوا۔
سعید بن جبیر رحمہ الہ کا بیان ہے کہ ملک شام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کرنے کا خواب دکھایا گیا تھا۔ آپ اسحاق (علیہ السلام) کو ساتھ لے کرم کہ کی طرف چل دیئے اور ایک مہینے کی مسافت صبح سے دوپہرتک طے کرکے قربان گاہ منی میں پہنچ گئے۔ پھر جب اللہ نے آپ کو (بجائے اسحاق (علیہ السلام) کے) مینڈھاذبح کرنے کا حکم دے دیا اور آپ (علیہ السلام) نے مینڈھاذبح کردیا تو دوپہر سے شام تک ایک ماہ کی راہ آدھے دن میں چل کر شام میں پہنچ گئے ۔ آپ کے لیے اللہ نے وادیوں اور پہاڑوں کو لپیٹ دیا۔ جن لوگوں نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ مانا ہے وہاں دوسرے لوگوں کا قول ہے ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں اور اسی طرف عبد اللہ بن عمر ؓ گئے ہیں ۔ یہی قول سعید بن مسیب شعبی، حسن بصری ، مجاہد ، ربیع بن انس ، محمد بن کعب القرظی کا بیان ہے ۔ کلبی کا بیان ہے کہ یہ روایت عطاء بن ابی رباح یوسف بن ماھک ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ مفدی کا قول ہے کہ ذبیح اللہ سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔
یہ دونوں قول آپ ﷺ سے مروی ہیں۔ جن حضرات کے نزدیک حضرت اسحاق (علیہ السلام) ذبیح اللہ ہیں وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں، فبشرناہ بغلام حلیم،۔۔۔۔۔۔ ، فلما بلغ معہ السعی، ذبح کرنے کا حکم دیا جس کے بارے میں خوشخبری دی ہے اور قرآن میں ھضرت اسحاق (علیہ السلام) کے سوا کسی کی خوشخبری نہیں دی گئی ۔ جیسا کہ سورة ہود میں ہے ۔ ، فبشرناہ باسحاق، جن حضرات کے نزدیک حضرت اسما عیل علیہالسلام ذبیح اللہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو بشارت دی اور فرمایا، فبشرناہ با سحاق لبیا من الصالحین، یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مذبوح اور ہیں ۔ اسی طرح سورة ہود میں ارشاد فرمایا، فبشرناھا باسحاق ومن وراء اسحاق یعقوب ، جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دی تو ان کے ساتھ ان کے بیٹے یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت دی ، کیسے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ کہا جاسکتا ہے ؟ حالانکہ ان کو بیٹے کی خوش خبری دی گئی۔
قرظی کا قول ہے کہ حضرت عمر بن عبد العز یز (رح) نے ایک یہودی عالم سے دریافت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے کس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہودی عالم نے کہا اسماعیل (علیہ السلام) کو، پھر کہا امیر المؤ منین یہودی اس بات کو جانتے ہیں لیکن اے قوم عرب ! یہودیوں کو اس بات میں حسدہوتا ہے کہ وہ تمہارے باپ کو ذبیح اللہ مانیں ۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ اسحاق (علیہ السلام) تھے ۔ اسما عیل (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ مینڈھا جس کی قربانی کی گئی تھی اس کے دونوں سینگ کعبہ اندر آویختہ تھے جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے قبضہ میں تھے ۔ جب حضرت عبدا للہ بن زبیر اور حجاج کی لڑائی میں کعبہ کو آگ لگی تو وہ سینگ بھی جل گئے ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ شروع اسلام میں مینڈھے کا سرمع سینگوں کے معلق تھا اور میزاب کعبہ خشک تھا۔ اصمعی کا بیان ہے کہ میں نے ابوعمر وبن علاء سے پوچھا ، ذبیح اللہ اسماعیل (علیہ السلام) تھے یا اسحاق (علیہ السلام) ؟
ابو عمر ونے کہا اصمعی تمہاری عقل کہاں چلی گئی، اسحاق (علیہ السلام) مکہ میں کب تھے ، اسماعیل (علیہ السلام) نے ہی تو اپنے باپ کے ساتھ مل کر کعبہ بنایا تھا ۔ باقی رہی بات ذبح والے قصہ کی ۔ سدی کا قول ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا اور فرمایا، رب ھب لی من الصالحین، اے میرے رب ! مجھے نیک اولا دعطافرما اور اس کی خوشخبری دی ۔ فرمایا بشارت آتے ہی آپ نے نذرمانی ، فرمایا اللہ کے لیے قربان کیا جائے گا۔ جب بچہ پیدا ہوا اور وہ چلنے کے قابل ہواتو حکم ہوا کہ اپنی نذرکو پورا کیجئے ، یہی وہ سبب تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنیکاحکم دیا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے کہاچلو اللہ کے لیے قربانی کریں گے، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) رسی اور چھری لے کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ چل دیئے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کو پہاڑوں میں لے گئے۔ پہاڑوں میں پہنچ کر بیٹے نے پوچھا، اباجان ! آپ کی قربانی کا جانور کہاں ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے قربان کررہا ہوں۔
، قال یابنی انی اری المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری قال یا ابت افعل ماتؤمر،
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب کب آیا
محمد بن اسحاق نے بیان کیا جب حضرت ابراہیم ، حضرت ہاجرہ اور حضرت اماعیل (علیہم السلام) کے پاس جانا چاہتے تھے تو براق پر سوار ہوکرصبح کو شام سے روانہ ہوتے اور دوپہر کو مکہ میں پہنچ کر قیلو لہ کرتے ۔ پھر جب مکہ سے واپس آتے تو دوپہر کے بعد چل کر شام کو شام میں پہنچ جاتے اور یہیں رات گزارتے تھے۔ جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوگئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جو آرزوحضرت اسماعیل علیہ السلا سے وابستہ تھی کہ اپنے رب کی عبادت اور حرمات الٰہیہ کی تعظیم کریں گے۔ اس کے پورا ہونے کی امید ہوگئی تو خواب میں آپ کو حکم دیا گیا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کردو۔ اس حکم کی صورت یہ ہوئی کہ ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کی شب میں آپ نے خواب میں دیکھا کہ اللہ نے اسما عیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ صبح کو اٹھے تو سوچ میں پڑگئے (کہ کیا یہ حکم خداوندی تھا) صبح سے شام تک اسی سوچ میں رہے کہ یہ خواب رحمانی ہے یا شیطانی ، اسی لیے ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو یوم الترویہ (سوچ کا دن) کہاجاتا ہے۔ جب شام ہوگئی اور آپ سوگئے تو دوسری بار بھی آپ نے وہی پہلا خواب دیکھا۔ جب صبح کو اٹھے تو پہچان گئے کہ یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے۔ اسی لیے اس (نویں) تاریخ کو عرفہ (پہچاننے کا دن) کہاجاتا ہے۔ ، کذا اخرج البیھقی فی شعب الا یمان من طریق الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس، محمد بن اسحاق وغیرہ کا بیان ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے فرمایا : رسی اور چھری لے لو، ہم اس گھاٹی میں لکڑیاں جمع کرنے جارہے ہیں۔ جب کوہ ثبیر کی گھاٹی میں پہنچے تو تنہائی ہوئی تو آپ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اس حکم کی اطلاع دی جو آپ (علیہ السلام) کو ملا تھا۔
مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تین رات یہی خواب دیکھے ۔ آخرجب آپ کو یقین آگیا کہ یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے۔
(ماذاتری) حمزہ اور کسائی نے تری تاء کے ضمہ اور راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا یعنی کس طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا تاکہ اللہ ان کے صبر کو جان لیں اور اس نیکی پر آپ کی عزیمت حاصل ہوجائے ۔ باقی واقعہ گزر گیا ۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے فرمایا (ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین)
Ayah 37:103(103) ، فلما اسلما ، جب دونوں نے اللہ کے حکم کو مان لیا اور امر خداوندی کے سامنے جھک گئے ۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اور حضرت اسما عیل (علیہ السلام) نے اپنی جان کو اللہ کے سپرد کردیا۔
وتلہ للجبین کی تفسیر
، وتلہ للجبین ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل (علیہ السلام) کو زمین پر لٹا دیا۔ ابن عباس ؓ عنہماکا بیان ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو کروٹ کے بل لٹادیا۔ اسماعیل (علیہ السلام) نے باپ سے کہا : ابا ! میرے بندھن کس کر باندھنا تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے میرے طرف سے سمیٹے رکھنا تاکہ میراخون اچھل کر آپ کے کپڑوں پر نہ پڑجائے اور میرے اجر میں کمی آجائے اور ان کے خون کو دیکھ کر میری ماں رنجیدہ ہوجائے اور چھری کو تیز کرلینا اور میرے حلق پر تیزی سے چلا دینا تاکہ میرے لیے دشواری نہ ہو کیوں کہ موت سخت چیز ہے اور آپ جب میری ماں کے پاس جائیں تو ان کو میراسلام کہنا اور اگر آپ میرا کرتہ میری ماں کے پاس لے جانا چاہتے ہوں تو لے جائیں ، اس سے ان کو بڑی تسلی ہوگی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : میرے پیارے بیٹے ! اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے تو میرابہت اچھا مددگار ہے۔
پھر بیٹے نے جو کچھ کہا تھا، باپ نے ویساہی کیا۔ اول بیٹے کو پیار کیا، پھر باندھ دیا اور رونے لگے ، پھر اسماعیل (علیہ السلام) کے حلق پرچھری رکھ دی لیکن چھری سے حلق پر نشان بھی نہ پڑا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حلق ر چھری تیز ی سے چلانے لگے لیکن چھری کچھ نہ کاٹ سکی۔ آپ (علیہ السلام) نے چھری کو دو تین بارپتھر سے تیز کیا لیکن چھری (کچھ بھی) نہ کاٹ سکی۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی کے حوالہ سے بیان کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قوت کے ساتھ کئی باراسماعیل (علیہ السلام) کے حلق پرچھری چلائی لیکن چھری نے (کچھ بھی) نہیں کاٹا۔ اسماعیل (علیہ السلام) کے حلق پر اللہ نے تا بنے کی تخستی لگا دی (جس پر چھر ی کا کوئی اثرہی نہیں ہوا) اہل روایت نے بیان کیا ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اس وقت کہا : ابا ! مجھے چت کردو۔ آپ کی نظر میرے چہرہ پر پڑے گی تو آپ کو پیار آجائے گا اور آپ کے دن میں رقت پیدا ہوجائے گی جو حکم کی تعمیل میں رکاوٹ پیداکردے گی اور چھری پر میری نظرپڑے گی تو بیتابی بےقراری میرے اندرپیدا ہوجائے گی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایساہی کیا اور جب گردن پر چھری رکھی تو چھری (کی دھار) لوٹ گئی۔
عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسما عیل (علیہ السلام) کو منہ کے بل لٹایا تھا۔
ایں خانہ ہمہ آفتاب است
محمد بن اسحاق نے اپنے رواۃ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا اردہ کرلیا تو شیطان نے کہا : اگر میں اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر والوں کو نہ بہکا سکا تو پھر کبھی ان کی اولاد میں سے کسی کونہ بہکاسکوں گا۔ یہ ارادہ کرکے وہ لڑکے کی ماں (حضرت ہاجرہ) کے پاس پہنچا اور کہنے لگا : کیا تم کو معلوم ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تمہارے بیٹے کو کہاں لے گئے ہیں ؟ ماں نے کہا : دونوں اس گھاٹی سے لکڑیاں لینے گئے ہیں ۔ شیطان نے کہا : نہیں ، خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے بلکہ ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کرنے لے گئے ہیں ۔ ماں نے کہا : ایسا نہیں ہوسکتا ، وہ توبیٹے سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کے دل میں بیٹے کی بڑی محبت ہے ۔ شیطان نے کہا وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ ماں نے کہا : اگر ان کے رب نے یہ حکم دیا ہے تو حکم رب کی اطاعت کرنی ہی بہت رہے۔ شیطان یہاں سے (مایوس ہوکر) بیٹے کے پاس پہنچا۔ بیٹا اس وقت باپ کے پیچھے پیچھے جارہا تھا۔ شیطان نے اس سے کہا لڑکے ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہاراباپ تم کو کہاں لے جارہا ہے ؟ لڑکے نے کہا : ہم گھر کے لیے ایندھن کی لکڑیاں اس گھاٹی سے لینے کہا : اس کا خیال ہے کہ اس کے رب نے اس کو اس بات کا حکم دیا ہے۔ لڑکے نے کہا (رح) : ایسا ہے تو اس کو اپنے رب کے حکم کی اطاعت بسروچشم کرنی ضروری ہے (میں بھی اس پر راضی ہوں) ۔
جب لڑکے نے شیطان کا مشورہ نہ مانا تو شیطان نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف رخ کیا اور کہنے لگا : شیخ ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کا : میں ایک کام سے اس گھاٹی میں جانا چاہتاہوں ۔ شیطان بولا : خدا کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ شیطان نے خواب میں آکر تم کو اپنے لڑکے کے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ حضر ت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت پہچانے کہ یہ شیطان ہے، بولے ، دشمن خدا ! میرے پاس ہٹ جا، میں ضرور ضرور اپنے رب کے حکم پر عمل کروں گا۔ شیطان غضبناک ہوکرلوٹ گیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے گھروالوں کے معاملے میں کچھ بھی کامیاب نہ ہوسکا، اللہ نے ان سب کو شیطان سے محفوظ رکھا۔
ابو الطفیل نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کے ذبح کردینے کا حکم دیا گیا (تو) اس مشعر پر شیطان (روکنے کیلئے) آپ کے سامنے آگیا لیکن آپ آگے نکل چکے تھے۔ پھر آپ جمرئہ عقبہ پر پہنچے وہاں بھی شیطان سامنے آگیا۔ آپ نے اس کے سات پتھریاں ماریں ، شیطان چلا گیا۔ پھر آپ جمرئہ وسطی پر پہنچے وہاں بھی شیطان آگے آگیا۔ آپ نے اس کے سات کنکریاں ماریں، شیطان چلا گیا اور پھر جمرئہ کبری کے پاس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شیطان کو پایا، یہاں بھی آپ نے اس کے سات سنگ ریزے مارے اور شیطان چلا گیا ۔ اس کے بعد اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے چل دیئے۔
پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کا حکم بجالائے۔ ، فلما اسلما وتلہ للجبین،
Ayah 37:104تفسیر 104۔ ، ونادیناہ ان یا ابراھیم، اس میں واؤ زائد ہے۔
Ayah 37:105105، قد صدقت الرؤیا، یہاں پر کلام تام ہوگیا ۔ پھر آگے ارشاد فرمایا :
، انا کذلک نجزی المحسنین، جس طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جزادی ثواب عظیم ذبح کا عطا کیا اور ذبح اسماعیل (علیہ السلام) سے درگزر کی اور سارے جہاں پر ان کی برتری عنایت کی ۔ اسی طرح ہم تمام نیکی کرنے والوں کو جزادیتے ہیں ، مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان کیا اور ان کے بیٹے کو ذبح کرنے سے معاف کردیا۔
Ayah 37:106106، ان ھذالھوالبلاء المبین، ظاہرکو اختیار کیا چونکہ اس کے ذریعے سے ظاہر ہوجاتا ہے انسان کا مخلص وغیر مخلص ہونا۔ مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ بلاء سے مراد نعمت ہے۔ اللہ نے بیٹے کی جگہ مینڈھے کو ذبح کرنے کا حکم اللہ کا بڑا انعام ہے۔
شبہ اور اس کا ازالہ
سوال : صدقت الرؤیاکی سے فرمادیا حالانکہ انہوں نے اس کو ذبح نہیں کیا ؟
جواب : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب کو بایں طور سچا کردکھایا کہ ان کے نزدیک جس کا اختیار تھا وہ پورا کرلیا اور مطلب یہاں ان دونوں کا تسلیم ہوجانا ہے اور وہ ان دونوں سے متحقق ہوگیا۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب صرف یہ دیکھا تھا کہ میں بیٹے کو ذبح کررہا ہوں ، خون بہاتے نہیں دیکھا تھا۔ بیداری میں اس کو پورا کردیا۔ اس مطلب پر تصدیق رؤیا کا حقیقی مفہوم مراد ہوگا اور اول مطلب پر مجازی معنی مراد ہوگا۔
Ayah 37:107تفسیر 107۔ ، وفدیناہ بذبح عظیم ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلانظر آئے جن کے ساتھ ایک سینگوں والا مینڈھا تھا ۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ آپ کے بیٹے کا فدیہ ہے اس کی قربانی کردیجئے ۔ اس کے بعد جبرئیل علیہ السلانے تکبیر کہی اور مینڈھے نے بھی تکبیر کہی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے نے بھی تکبیر کہی ۔ پھر منی کی قربان گاہ میں جاکرمینڈھے کو ذبح کردیا۔ بجائے کے فدیہ پیش کرنے والے تو حقیقت میں حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) تھے لیکن قربانی کا جانور اللہ عطاکردہ تھا اور اللہ ہی نے جانور کے بجائے اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا اس لیے ، فدینہ، میں فعل فدیہ کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ۔
اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا بیان ہے کہ وہ مینڈھا جنت کے اندر چالیس خریف رہا تھا ۔ سعید بن جبیر تابعی (رح) نے کہا کہ جس مینڈھے کی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جگہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قربانی پیش کی تھی ۔ یہ وہی مینڈ ھا تھا جس کی آدم (علیہ السلام) کے بیٹے ہابیل نے قربانی پیش کی تھی ۔ یہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ سعید بن جبیر (رح) نے کہا کہ اس کو عظیم ہونے کا حق تھا۔ مجاہدرحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اس کا نام عظیم تھا کیونکہ وہ مقبول تھا۔ حسین بن فضل کا بیان ہے اس کے عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے تھا۔ بعض نے کہا کہ وہ عظیم تھا باعتبار ثواب کے ۔
Ayahs 37:108–111108، وترکنا علیہ فی الاخرین، یعنی ان کا ذکرخیر آنے والوں میں رکھیں گے۔
Ayah 37:112112، وبشرناہ باسحاق نبیا من الصالحین، جنہوں نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ قرار دیا۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اس قصہ کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو نبی ہونے کی بشارت دی اور جو حضرات حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ مانتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نبوت کی خوشخبری سنائی ۔ عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں کہ ان کو دومرتبہ خوش خبری دی گئی۔ ایک مرتبہ ان کی پیدائش اور دوسری مرتبہ ان کو نبوت ملنے کے وقت۔
Ayah 37:113113، وبارکنا علیہ ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد میں ، وعلی اسحاق، ان کی نسل سے بہت سے انبیاء کرام (علیہم السلام) پیدا ہوئے۔ ، ومن ذریتھما محسن ، اس سے مؤ من ہونا مراد ہے۔ ، و ظالم لنفسہ، اور ناشکرے ہیں ۔ ، مبین، اور ان کا کفر ظاہ رہے۔
Ayah 37:114114، ولقد مننا علی موسیٰ وھارون، اور ہم نے آپ کو نبوت جیسی نعمت عطافرمائی۔
Ayah 37:115115، ونجینا ھما وقومھما، اس سے بنی اسرائیل مراد ہیں ۔ ، من الکرب العظیم، بڑاغم تھا اور وہ بڑا غم فرعون سے بچنے کا تھا کہ اللہ ان کو فرعون سے دورکردے اور بعض نے کہا کہ غرق ہونے والا غم۔
Ayah 37:116116، ونصرناھم، اس سے مراد موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اور ان دونوں کی قوم ہے۔ ، فکانوا ھم الغالبین ، قبطیوں پر غالب ہوجائیں گے۔