33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے

تفسیر 52، لایحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن ازواج ، ابو عمر و اور یعقوب نے ، لاتحل ، تاء کے ساتھ اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی ان نو بیویوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اختیار دیا اور بیویوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہی اختیار کیا تو اللہ نے ان کی قدردانی عطافرمائی۔ لا یحل لک النساء من بعد کی تفسیر جب رسول اللہ ﷺ نے بیبیوں کو اختیار دے دیا اور بیبیوں نے اللہ اور اس کے رسول کو ہی اختیار کیا تو اللہ نے ان کی قدردانی فرمائی اور پیغمبر کے لیے موجودہ بیبیوں کے علاوہ دوسری عورتوں کو حرام کردیا اور اس کی بھی ممانعت کردی کہ ان بیبیوں میں سے کسی کو طلاق دے کر کسی اور عورت سے نکاح کرسکیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا یہی قول ہے اس امر میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس ممانعت کے بعد کیا پھر دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کی اباحت کا کوئی حکم نازل کیا گیا یا نہیں ؟ عطاء نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے اللہ نے آپ کے لیے حلال کردیا تھا کہ جن عورتوں سے سوائے محرم کے آپ نکاح کرنا چاہیں کرسکتے ہیں ۔ آیت ، ترجی من تشاء منھن و توی الیک من تشاء ، میں اس کی اجازت دے دی گئی تھی کیونکہ یہ آیت اگرچہ ترتیب قرأت میں پہلے ہے لیکن نزول میں مؤ خر ہے ۔ ، لایحل لک النسائ، کے بعد آیت ، ترجی من تشاء ، نازل ہوئی تھی ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ عکرمہ اور ضحاک نے کہا آیت کا معنی یہ ہے کہ جن عورتوں کا صفات متقدمہ کے ساتھ ذکر کردیا گیا ہے، ان کے بعد دوسری عورتوں سے آپ کے لیے نکاح حلال نہیں۔ حضرت ابی بن کعب سے دریافت کیا گیا اگر رسول اللہ ﷺ کی (ساری) بیبیاں وفات پاجائیں تو کیا آپ کے لیے جدیدنکاح کرنا جائزتھا ؟ فرمایا : اس کی ممانعت کرنے والی کیا چیز تھی ؟ عرض کیا گیاـ: اللہ نے فرما دیا تھا :، لا یحل لک النساء من بعد ، فرمایا آیت ، یایھا النبی انا احللنا لک ازواجک الایہ ، میں اللہ نے ایک خاص قسم کی عورتیں آپ کے لیے حلال کردی تھیں۔ پھر (اور قسم کی عورتیں حرام کرنے کے لیے ) فرمایا :، لا یحل لک النساء من بعد ، (یعنی ایسی عورتوں کے علاوہ دوسری طرح کی عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں ۔ مترجم) ابو صالح نے کہا رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ نہ کسی اور اعرابی عورت سے نکاح کریں ، نہ کسی (عام) عربی عورت سے بلکہ اپنے قبیلہ کنبہ کی عورتوں سے نکاح کریں، چچا، پھوپھی کی بیٹیاں ہوں یاماموں خالہ کی ۔ قبیلہ والی تین سو عورتوں سے بھی نکاح کرسکتے ہیں۔ مجاہد نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مسلم عورتوں کے بعد کسی یہودن یا عیسائی عورت سے نکاح کرنا آپ کے لیے حلال نہیں نہ یہ جائز ہے کہ مسلمان عورتوں کو چھوڑ کر ان کی جگہ غیر مسلمہ سے نکاح کرو۔ مطلب یہ ہے کہ ام المؤ منین نہ کرئی یہو دی عورت ہوسکتی ہے نہ عیسائی عورت۔ ہاں ، کتابی مذہب کی باندیاں اس حکم سے متثنی تھیں۔ ضحاک نے ، ان تبدل بھن، کا یہ مطلب بتایا کہ جو بیبیاں آپ کے نکاح میں ہیں ان کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرنا آپ کے لیے حلال نہیں ۔ یعنی موجود بیبیوں کو طلاق دینے کی ممانعت کردی کیونکہ ان کو امہات المؤ منین بنادیا گیا اور دوسروں کیلئے ان کو حرام کردیا گیا، دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کی ممانعت نہیں کی۔ ابن زید نے آیت ، ولا ان تبدل بھن من ازواج ، کی تشریح میں کہا : جاہلیت کے زمانہ میں لوگ بیبیوں کی بدلی کرلیتے تھے۔ ایک شخص دوسرے سے کہتا تھا کہ اپنی بی بی سے میری بی بی بدل لو۔ مجھے اپنی بی بی دے دو میں اپنی بی بی تم کو دے دوں گا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ بیبیوں کا تبادلہ آپ کے لیے حلال نہیں ۔ اپنی بی بی دوسرے کے دے دوادوسرے کی بی بی خود لے لویہ جائز نہیں۔ ہاں باند یاں اس حکم سے مستثنی ہیں کوئی حرج نہیں ، اگر اپنی باندی دے کر اس کے میں دوسرے کی باندی لے لو ، بیبیوں کا تبادلہ حرام ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ عیینہ بن حصن بغیر اجازت لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس اندر آگیا، حضور ﷺ کے پاس اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ موجود تھیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اجازت داخلہ کیوں نہیں لی ؟ عیینہ نے کہا : یارسول اللہ ! جب سے میں جوان ہواہوں میں نے مصر (حجازی عرب) کے کسی شخص سے داخلہ کی اجازت نہیں لی۔ پھر کہنے لگا : آپ کے پہلو میں گوری عورت کون ہے ؟ فرمایا : عائشہ ہیں۔ وہ بولا : کیا ایک حسین زین عورت دے کر آپ سے اس کا تبادلہ نہ کرلوں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے یہ حرام کردیا ہے۔ عیینہ جب نکل کر چلاگیا تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : یارسول اللہ یہ کون تھا ؟ فرمایا : یہ ایک احمق ہے جس کا حکم مانا جاتا ہے جو حالت تم نے اس کی دیکھی اس کے باو جو دیہ اپنی قوم کا سردار ہے۔ ، ولواعجبک حسنھن، یعنی ان عورتوں کا حسن جن سے تم نکاح کے خواہش مندہو، تمہیں اگرچہ پسند بھی آئے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے لیے حلال نہیں کہ اپنی بیویوں میں سے کسی کو طلاق دے دو اور اس کی جگہ دوسری سے نکاح کرلو خواہ اس کی خوبصورتی آپ کو کیسی ہی بھلی معلوم ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ایسی (حسین) عورت جعفر بن ابی طالب کی بیوی بنت عمیس خشعمیہ تھی ۔ جب جعفر شہید ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے پاس اپنا پیام بھجوانا چاہا لیکن آپ کو اس کی ممانعت کردی گئی۔ ، الاما ملکت یمنک ، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس آیت کے نزول کے بعد صاحبزادہ ابراہیم کی والدہ حضرت ماریہ حضور ﷺ کی ملک میں داخل ہوئیں (مقوقس شاہ مصر نے دولو نڈیاں خدمت گرامی میں بطور ہدیہ بھیجی تھیں ، ایک سرین، دوسری ماریہ ۔ انہی ماریہ کے شکم سے حضور گرامی ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے تھے) ۔ ، وکان اللہ علی کل شیء رقیبا، اور اللہ ہر چیز کا پورا نگران ہے اس ہے لیے تم اللہ کے احکام کی پابندی کرو اور اس کی قائم کی ہوئی حد سے تجاوزنہ کرو۔ آیت میں دلیل ہے اس امر کی کہ مرد جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہو، اس کو دیکھنا جائز ہے۔ حضرت جابرراوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیام دینا چاہتا ہو تو اس کے لیے ایسے اعضاء کو دیکھنا جو نکاح کی دعوت دیں ممکن ہو تو ایسا کرے۔ (رواہابو داؤد) حضرت مغیر ہ بن شعبہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک عورت کو نکاح کاپیام بھیجا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اس کو دیکھ لیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں فرمایا : اس کی طرف دیکھ لو، تم دونوں میں اتفاق قائم رکھنے کے لیے یہ بات زیادہ مناسب ہے۔ (رواہ احمد، والترمذی ، والنسائی وابن ماجہ والدارمی) حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نے کسی انصاری عورت سے نکاح کرنا چاہا تو حضور ﷺ نے فرمایا : اس کی طرف دیکھ لو، انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے (یعنی پیلا پن) ۔ (رواہ مسلم شریف)
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے تھے (اور کہتے نہیں تھے) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو یہ تمہارے اور انکے (دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے) اور تم کو یہ شایان نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ انکی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو بیشک یہ خدا کے نزدیک بڑا گناہ (کا کام) ہے

آیت یا یھا الذین امنوالا تد خلواکاشان نزول تفسیر 53۔ ، یایھا الذین امنو الا تد خلوابیوت النبی الا ان یؤذن لکم ، اس آیت کا نزول زینب بنت حجش کے بارے میں ہوا۔ جب ان کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ولیمہ کیا۔ ابن شہاب (زہری) کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت انس ؓ نے بیان کیا جس وقت رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے میں اس وقت دس سال کا تھا۔ میری ماں رسول اللہ ﷺ کی خدمت پر میری موافقت کرتی تھیں ۔ میں نے دس سال حضور ﷺ کی خدمت کی اور حضور ﷺ کی وفات کے وقت میری عمربیس سال تھی ۔ حجاب کے واقعہ کا علم مجھے سب لوگوں سے زیادہ ہے۔ آیت حجاب کا نزول رسول اللہ ﷺ اور زینب بنت حجش کی خلوت گاہ میں ہوا۔ صبح کو رسول اللہ ﷺ حضرت زینب ؓ کے شوہرہونے کی حیثیت میں تھے، آپ نے لوگوں کو کھاناکھانے کیلئے بلایالوگوں نے آکر کھانا کھایا۔ الی آخرالحدیث ۔ زہری کی یہ روایت بھی بخاری کی روایت کی طرح ہے۔ بخاری کی دوسری روایت ہے کہ حضرت انس نے فرمایا : اس آیت کو یعنی آیت حجاب کو میں سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں۔ جب حضرت زینب ؓ کو رسول اللہ ﷺ پاس بیوی کی حیثیت میں بھیجا گیا تو آب کے گھر کے اندروہ موجود تھیں اور آپ نے کچھ کھانا تیار کرایا تھا اور لوگوں کو کھانے کے لیے بلوایا تھا (کھانے بعد بھی ) لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے اس پر اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی تو لوگ اٹھ گئے اور پردہ چھوڑ دیا گیا۔ ابو عثمان کا قول ہے کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ، آپ اس عورت کے دروازہ پر پہنچے جس سے شادی کی تھی ، وہاں اس کے پاس کچھ لوگ موجود تھے، آپ وہاں سے چل دیئے وہ لوگ چلے گئے تو آپ لوٹ آئے اور اندرچلے گئے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ چھوڑدیا۔ میں نے یہ واقعہ ابو طلحہ سے بیان کیا تو ابو طلحہ نے کہا : جیسا تو کہہ رہا ہے اگر واقعی یہی ہے تو اس کے متعلق کچھ ضرور نازل ہوگا ۔ چناچہ آیت حجاب نازل ہوگئی ۔ اس روایت کی ترمذی نے حسن کہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول ان مسلمانوں کے بارے میں ہو اجو آپ ﷺ کے پاس کھانا کھانے کی غرض سے پہلے ہی گھر میں آکر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر جب وہ کھانا کھاچکے تو دوبارہ وہ باہر نہ نکلنے جس کی بناء پر آپ ﷺ کو سخت اذیت اذیت پہنچی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، یایھا الذین امنو الا تدخلو ابیوت النبی الا ان یؤذن لکم ، یہاں تک کہ تم کو بلا یا نہ جائے۔ ، الی طعام ، اور تمہیں کھانے کی اجزاجازت دے دی جاتی اور تم اس سے کھاتے۔ ، غیر ناظرین اناہ، کھانے تیارہونے کے منتظرنہ رہو۔ جیسے کہاجاتا ہے، انی الحمیم، جب پانی خوب گرم ہوگیا کھولنے لگ گیا ۔ ، انی ، ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ جب اس کو فتحہ کے ساتھ پڑھیں گے تو اس پر مد کی جائے گی ۔ کہاجائے گا، الانائ،۔ اس میں دولغتیں ہیں۔ ، انی یانی ، وآن یئین ، جیسے ، حان یحین،۔۔۔۔۔۔۔ ، ولکن اذا دعیتم فاد خلوافاذا طعتم ، جب تم کھانا کھاؤ۔ ، فانتشروا، تموتم جداجدا ہوجاؤاور ان کو ان کے ٹھکانوں سے نکالو۔ ، ولا مستانسین لحدیث، کھانے کے بعد دیرتک باتیں کرتے نہ رہا کرو، یعنی کسی کا دل بہلا نے کے لیے مت بیٹھا کرو۔ ، ان ذلکم کان یئو ذی النبی فیستحیی منکم واللہ لا یستحیی من الحق، ان کو ادب سکھلانے اور حق کو بیان کرنے سے حیاء نہ کیجئے ۔ ، واذا سالتموھن متا عا فاسئلوھن من وراء حجاب ، اس کے پردے سے پیچھے ۔ اس آیت کے نزول کے بعد کسی کو بھی آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی کی طرف دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ، ذلکم اطھرلقلوبکم وقلوبھن ، تمہارے دلوں کے شک کو دور کرنے والا۔ ابن شہاب زہری نے عروہ سے اور حضرت عروہ نے عائشہ صدیقہ ؓ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات جب قضاء حاجت کے لیے باہر نکلتی تھیں تورات کو باہر نکل کرو سیع میدان میں جاتی تھیں۔ حضرت عمررسول اللہ ﷺ سے عرض کرتے تھے کہ امہات المؤمنین کا پردہ کر اد یجئے لیکن حضور ﷺ ایسا نہیں کرتے تھے۔ ایک رات کو عشاء کے وقت حضرت دودہ بنت زمعہ گھر سے برآمد ہوئیں ، عورت قدآورتھیں (اس لیے پہچان لی جاتی تھیں) حضرت عمر ؓ کو چونکہ پردے کا حکم نازل ہونے انتہائی خواہش تھی اس لیے آپ نے پکار کرکہا، ہم نے آپ کو پہچان لیا، اس پر اللہ نے آیت حجاب نازل فرمادی ۔ بغوی نے لکھا : آیت حجاب کے سبب نزول کا یہ صحیح واقعہ ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں بخاری کی یہ روایت ذکرکر دی گئی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : تین اتوں میں میری (رائے کی ) مطابقت اپنے رب کے (حکم کے ) ساتھ ہوگئی ۔ میں نے عرض کیا کہ کاش ! آپ مقام ابراہیم کو مقام نماز بنالیتے ، اس پر آیت، واتخذوامن مقام ابراھیم مصلی، نازل ہوئی۔ میں نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ! آپ کی عورتوں کے پاس نیک وبد ہر طرح کے آدمی آتے ہیں ، کاش آپ اپنی عورتوں کو پردہ میں رہنے کا حکم دیتے ، اس پر آیت حجاب نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس رقابت کی وجہ سے آپ کی عورتیں جمع تھیں ، میں نے عرض کیا :، عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن، یہ عبارت اسی طرح نازل ہوگئی ۔ نسائی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی یونہی یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ ، وما کان لکم ان تو ذوا رسول اللہ ، تمہارے اوپر یہ لازم ہے کہ کسی چیز کے ذریعے سے نبی کریم ﷺ کو اذیت نہ دو ۔ ، ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا، اس آیت کا نزول نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے کسی پر ہوا کہ انہوں نے کہا تھا کہ جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوجائے گی تو میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نکاح کروں گا۔ مقاتل بن سلیمان نے کہا کہ اس سے مراد طلحہ بن عبید اللہ ہے۔ اس پر اللہ عزوجل نے خبردی کہ یہ بیویاں تم سب پر حرام ہیں۔ ، ان ذالکم کان عند اللہ عظیما، یہ تم پر بڑا گناہ ہے۔ معمر نے زہری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ عالیہ بنت ظبیان نے ایک شخص سے نکاح کرلیا تھا اور اس کے پیٹ سے اس شخص کی اولاد بھی ہوئی تھی ۔ عالیہ وہی عورت تھی جس کو آپ ﷺ نے طلاق دے دی تھی، یہ واقعہ حرمت سے پہلے کا ہے۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو) کہ خدا ہر چیز سے باخبر ہے

تفسیر 54، ان تبذواشیئا او تخفوہ فان اللہ کان بکل شیء علیما ، اس آیت کا نزول اس شخص کے حق میں ہواجس نے رسول اللہ ﷺ کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نکاح کرنے کا ارادہ دل میں پوشیدہ رکھا تھا ، کمامر۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو امہات المؤمنین کے باپوں بھائیوں اور دوسرے قریب ترین رشتہ داروں نے کہا کہ آئندہ ہم بھی رسول اللہ ﷺ کی بیبیوں سے کلام کریں گے تو پردے کی آڑ سے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے اور (اے عورتو ! ) خدا سے ڈرتی رہو بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

55، لاجناح علیھن فی آبائھن ولا ابنا ئھن ولا اخوانھن ولا ابناء اخوانھن ولا ابناء اخواتھن ، ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں، اگر انہوں نے حجاب کو ترک کردیا ۔ ، ولا نسائھن ، اور مسلمان عورتوں کا ازواج مطہرات کے پاس جانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ کتابی عورتوں کو ان کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ بعض نے کہا کہ یہ عام ہے مسلمان عورتیں ہوں یاکتابی کیونکہ ، ولا نسائھن ، فرمایا کیوں کہ یہ سب انہی کی جنس سے ہیں۔ ، ولا ماملکت ایمانھن، اس بارے میں اختلاف ہے کہ غلام کی بیوی بھی ان کے لیے محرم ہے یا نہیں۔ بعض کہ محرم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ، ولا ماملکت ایمانھن، کی وجہ سے اور بعض نے کہا کہ وہ بھی اجنبی عورتوں کی طرح ہے۔ مراداس سے باندیاں ہیں نہ کہ غلام۔ ، واتقین اللہ ، ان احکام کی خلاف ورزی سے اللہ کا خوف کرو۔ ، ان اللہ کان علی کل شیء ، بندوں کے اعمال سے ۔ ، شھیدا، گواہ ہے۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو ! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو

56، ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی ، ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے آپ کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی پرر حمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے آپ کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یصلون برکت دیتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ اللہ کی طرف ۔ صلوۃ کا معنی ہے رحمت اور صلوۃ ملائکہ سے مراد ہے استغفار ، یایھا الذین امنو اصلواعلیہ ، ان کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ ، وسلم و اتسلیما، اور ان کو سلام کا تحفہ دو ۔ ابو العالیہ کا بیان ہے کہ اللہ کی صلوۃ کا مطلب ہے اس کا تعریف کرنا فرشتوں کے سامنے اور ملائکہ کے صلوۃ کا معنی ہے آپ ﷺ کے حق میں دعا کرنا۔ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے میری ملاقات حضرت کعب بن عجرہ سے ہوئی تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا (حدیث کا) ایک تحفہ میں تم کو پیش کروں جو رسول اللہ ﷺ سے میں نے خود سنی ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، ضروروہ تحفہ مجھے عنایت فرمایئے ۔ کعب نے کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا، یارسول اللہ ! آپ کو سلام کرنا تو اللہ نے ہمیں بتادیا لیکن آپ (اور آپ کے اہل بیت) پر دو ودکس طرح پڑھیں ؟ فرمایا کہو :۔ اللھم صل علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید، اللھم بارک علی محمد وعلی ال محمد کمابارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید، (متفق علیہ) مسلم کی روایت میں دونوں جگہ ، علی ابراھیم ، کا لفظ نہیں ہے (صرف، علی ال ابراھیم، ہے) حضرت ابو حمید ہ ساعدی روای ہیں کہ صحابہ نے کہا : یارسول اللہ ! ہم آپ پر دو ود کیسے پڑھیں تو فرمایا : کہو، اللھم صل علی محمد وازواجہ وذریتہ کما صلیت علی ابراھیم وبارک علی محمد وازواجہ وذریتہ کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید، (متفق علیہ) ۔ حضرت ابو حمید السا عدی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ کہا گیا اے اللہ کے رسول ! ہم آپ پر کیسے دو ود بھیجیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آپ لوگ کہو، اللھم صل علی محمد وازواجہ وذریتہ کما صلیت علی ابراھیم وبارک علی محمد وازاجہ وذریتہ کما بارکت علی ال ابراھیم انک حمید مجید، حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود ھتا ہوگا۔ (رواہ الترمذی) حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مجھ پر ایک بار دو ود بھیجے گا اللہ اس پردس باررحمت فرمائے گا۔ حضرت ابو طلحہ راوی ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، اس وقت حضور ﷺ کے چہرہ پر شگفتگی تھی۔ فرمایا : مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے آکر کہا آپ کا رب فرماتا ہے محمد ! (ﷺ) کیا تم اس بات پر خوش نہ ہوگے کہ تمہاری امت میں سے جو کوئی تم پر درود پڑھے گا، میں اس پردس رحمتیں نازل کروں گا اور تمہاری امت میں سے جو کوئی آپ سلام پڑھے گا ، میں دس بار اس پر سلامتی نازل کروں گا ۔ (رواہ النسائی ، والد ارمی) حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے کچھ فرشتے زمین پر گھومتے پھرتے ہیں ، وہ مجھے میری امت کا سلام پہنچا تے ہیں ۔ (رواہ النسائی والدارمی)
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اسکے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

تفسیر 57، ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیاوالا خرۃ واعدلھم عذابا مھینا ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے مراد ہیں یہودی عیسائی اور مشرک یہودی تو کہتے تھے، عزیز ابن اللہ اور یداللہ مغلولۃ اور، ان اللہ فقیرونحن اغنیاء ، اور عیسائی کہتے تھے، المسیح ابن اللہ، کہتے تھے، ان اللہ ثالث ثلثہ، اور مشرک کہتے تھے ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور بت اللہ تعالیٰ کے ساجھی ہیں۔ حدیث قدسی نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میرے بندے نے مجھے گالی دی ، اس نے کہا کہ اللہ کا بیٹا ہے حالا ن کہ میں اکیلا ہوں ، بےنیازہوں ، وہ ذات جو نہ جنا گیا اور نہ کسی کو اس سے جنا گیا اور اس کا کوئی ہم سر نہیں ۔ نبی کریم ﷺ سے روایت منقول ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ابن آدم زمانے کو گالی دیتا ہے اور میں زمانہ ہوں، اسی کے ہاتھ میں سب امور ہیں جو دن اور رات کو پلٹتا ہے۔ بعض نے کہا کہ اذیت پہنچا نے سے مراد ہے کہ اللہ کے اسماء صفات میں کج روی اختیار کرنا۔ عکر مہ کا بیان ہے کہ وہ خدا کو اذیت دینے والے مصور ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو میری تخلیق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے۔ ایک چھوٹی چیوٹنی تو بنالیں ایک دانہ یا ایک جو تو بنالیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے کہ جو (میرے) کسی ولی کی ہانت کرتا ہے، دوسری روایت کا لفظ ہے کہ جو (میرے) ولی سے دشمنی کرتا ہے ، وہ جنگ کے لیے میرے مقابلہ پر آتا ہے اور جو کام میں کرنے والا ہوتا ہوں اس میں مجھے (کبھی) اتنا تردو نہیں ہوتاجتنا تردد اپنے مؤمن بندہ کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے کہ وہ مرنا پسند نہیں کرتا اور میں اس کو ناراض کرنا نہیں چاہتا اور مرنا اس کے لیے لازم ہوتا ہے ۔ میرے مؤمن بندہ کو میرا قرب (کسی عمل سے) اتنا حاصل نہیں ہوتا جتنا دنیا سے بےرغبت رہنے سے ہوتا ہے اور بندئہ مؤمن میری کوئی عباد ت ایسی نہیں کرتا جیسی میرے عائد کیے ہوئے فرض ادا کرکے کرتا ہے۔ (یعنی فرض کی ادا ئیگی سب سے بڑی عبادت ہے، اس کے برابر کوئی عبادت نہیں ) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ، لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے کو زخمی کردیا۔ حضور ﷺ کا دانت مبارک شہید کردیا کسی نے ساحرکہا کسی نے شاعر کسی نے دیوانہ پاگل ۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

58، والذین یئوذوالمؤمنین والمؤمنات بغیر مااکتسبوا، یا ایسا عمل جو ان کی اذیت کا مو جب نبے ۔ مجاہدکا بیان ہے کہ بغیر کسی جرم پر ان کے اوپر الزام لادینا۔ اس سے ان کو اذیت پہنچانا۔ ، فقد احتملوابھتا نا واثمامبینا ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت علی ؓ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت کے شان نزول میں مختلف اقوال ضحاک اور کلبی کا بیان ہے کہ آیت کا نزول ان زنا کاروں کے حق میں ہواجو منافق تھے ، راتوں کو مدینہ کے راستوں میں گھوما کرتے تھے۔ جب رات کو عورتیں قضائے حاجت کے لیے گھروں سے باہر نکل کر (جنگل کی طرف) جاتی تھیں تو راستہ میں یہ ان کوستا تے تھے۔ اگر عورتیں خاموش رہتی تھیں تو یہ ان کے پیچھے لگ جاتے تھے اور اگر وہ جھڑک دیتی تھیں تو یہ رک جاتے تھے۔ حقیقت میں ان کا مقصد ہوتا تھا باندیوں کو چھیڑ نا لیکن لباس چونکہ باندی اور آزاد عورت کا ایک ہی جیسا ہوتا تھا کرتہ اور اوڑھنی پہن کر سب ہی نکلتی تھیں ، اس لیے ان کو شنا خت نہیں ہوتی تھی کہ کون باندی ہے اور کون آزاد عورت اس لیے آزاد عورتیں اس زد میں آجاتی تھیں ۔ عورتوں نے اس کی شکایت اپنے شوہروں سے کی اور شوہروں نے جاکررسول اللہ ﷺ کو اطلاع دے دی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ پھر اگلی آیت میں آزاد عورتوں کو باندیوں جیسا لباس پہن کر نکلنے کی ممانعت کردی گئی۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر 59، یایھا النبی قل لا زواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنین علیھن من جلا بیبھن ، جلباب کی جمع ہے، اس چادرکو کہنے ہیں جس کو عورت دوپٹے اور کرتے کے اوپر سے لپیٹ لیتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوعبیدہ ؓ نے فرمایا ، مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے چہروں اور سروں کو چادروں سے ڈھانک کر نکلیں، صرف ایک آنکھ کھلی رہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ آزاد عورتیں ہیں ۔ ، ذلک ادنی ان یعرفن ، کہ یہ آزاد عورتیں ہیں ۔ ، فلایؤ ذین ، ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کریں۔ ، وکان اللہ غفورارحیما، حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ ایک نقاب پوش باندی حضرت عمر ؓ کی طرف سے گزری ، آپ نے اس کا پردہ اٹھایا اور فرمایا کیا کمینی تو آزاد عورتوں جیسی تبنی ہے، پھر اس کا نقاب پھینک دیا۔
Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر) میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو انکے پیچھے لگا دینگے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

60، لئن لم بنتہ المنا فقون ، اپنی منافقت سے۔ والذین فی قلوبھم مرض، مرض سے مراد فجور (زنا) ہے۔ والمرجفون فی المدینۃ، جھوٹ کے ذریعے سے اور یہ اس وجہ سے کہ کچھ لوگ ان میں سے جو جنگوں میں آپ ﷺ کے ساتھ نکلتے ہیں ان کے دلوں میں ڈر، رعب پیدا کردیتے ہیں اور جب قتال کرنے لگ جاتے ہیں تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس دشمن آگیا ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں میں کوئی بری بات پھیل جائے، وہ جھوٹی خبریں اڑاتے تھے۔ ، لنغرینک بھم، ہم ان کو ان کے ساتھ جمع کردیں گے اور ان پر مسلط کردیں گے۔ ، ثم لا یجاورونک فیھا، وہ مدینہ مسلط کردیں گے تاکہ ان کو قتل کردیں اور ان سے مدینہ کو خالی کردیں۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے

61، ملعونین ، وہ ہر طرف پھٹکا رے ہوئے تھے ۔ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے ۔ ، اینما ثقفوا، جہاں بھی ملیں گے ان کی پکڑدھکڑ ہوگی۔ ، اخذواوقتلو اتقتیلا، یہ کثرت قتل پر دلالت کرتی ہے۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے اور تم خدا کی عادت میں تغیر و تبدل نہ پاؤ گے

62، سنۃ اللہ، گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ جاری رہا ہے۔ ، فی الذین خلوامن قبل ، ان منافقین سے پہلے اور ان لوگوں جیسا انہوں نے عمل کیا۔ ، ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا،
Ayahs 33:63–65

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک خدا نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کر رکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ابدالآباد رہیں گے نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار

63، یسئلک الناس عن الساعۃ قل انما علمھا عند اللہ وما یدریک ، کوئی بھی قیامت کے قائم ہونے کے وقت کسی چیز کے متعلق کوئی نہیں جانتا۔ ، لعل الساعۃ تکون قریبا،
Ayah 33:66

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں کہیں گے اے کاش ہم خدا کی فرمانبرداری کرتے اور رسول (خدا) کا حکم مانتے

66 یوم تقلب وجوھھم فی النار، کچھ لوگوں کو پیٹھ کے بل اور کچھ کو پیٹ کے بل ڈالا جائے گا، جب وہ چیخ وپکارر ہے ہوں گے۔ ، یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسول، دنیاوی زندگی میں ہم نے اطاعت رسول کیوں نہیں کی ؟
Ayah 33:67

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو راستے سے گمراہ کردیا

67، وقالور بناانا اطعنا سادتنا، ابن عامر اور یعقوب نے ، ساداتنا، تاء کے کسرہ کے ساتھ اور اس سے پہلے الف کے ساتھ پڑ ھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے فتحہ کے ساتھ ماقبل بغیر الف کے پڑھا ہے۔ ، وکبر اء نافاضلو نا السبیلا،۔
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر

تفسیر 68۔ ، ربنا اتھم ضعفین من العذاب ، ان کے عذاب سے دوگنادیا جائے گا۔ ، والعنھم لعنا کبیرا، عاصم نے کبیر ایاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ کلبی نے کہا ہے کہ بہت زیادہ عذاب کے ساتھ اور دوسرے قراء نے ثاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، اولئک علیھم لعنۃ اللہ والملا ئکۃ والناس اجمعین ،
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مومنو ! تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو (عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے

، یایھا الذین امنوالا تکونواکالذین اذواموسیٰ قبراہ اللہ مما قالوا، اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک کردیا جو انہوں نے کیا ۔ ، وکان عند اللہ وجیھا، وہ آبرو والا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نزدیک اس مقام پر تھے کہ جو مانگتے تھے اللہ عطاء فرمادیتا تھا۔ بعض نے کہا کہ وجیہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے مجبوب اور مقبول بارگاہ تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برأت کا واقعہ کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ وہی تھا جو حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : موسیٰ (علیہ السلام) بڑے حیاوار، شریف النفس اور اپنے (اندرونی ) جسم کو چھپا نے والے تھے، انتہائی شرم کی وجہ سے وہ اپنی (اندورنی) جلد بھی ظاہر نہیں کرتے تھے ۔ بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں نے کہا : موسیٰ (علیہ السلام) جو اتنا اپنے بدن کو چھپائے رکھتے ہیں ، ضروران کو کوئی جلدی اندرونی بیماری ہے یابرص ہے یاخصیوں میں پانی آگیا ہے ، یا کوئی اور مرض ہے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس غلط بات سے پاک ظاہر کرنا چاہا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ایک روز غسل کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے تنہائی میں کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے پھر غسل کیا ۔ غسل کے بعد جب کپڑے لینے کے لیے ہاتھ بڑھا یا تو پتھر آپ کے کپڑے لے کربھاگا، آپ لاٹھی لے کر پتھر کے تعاقب میں دوڑی اورکہنے لگے : پتھر میرے کپڑے پتھر میرے کپڑے ا اخرپتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ کر ٹھہر گیا لوگوں نے آپ کو برہنہ دیکھ لیا، آپ کا اندرونی بدن بہت خوبصورت اور بےعیب پایا، اس طرح اللہ نے ان لوگوں کی بدگمانی سے موسیٰ (علیہ السلام) کی برأت ظاہرکردی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کپڑے لے کر پہن لیے اور لاٹھی سے پتھر کو مارنے لگے۔ خدا کی قسم ! موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی کی ضرب سے پتھر پر تین چاریاپانچ نشان پڑگئے۔ آیت ، یایھا الذین امنو الا تکونواکالذین اذواموسی قبراہ اللہ مماقالوا، سے یہی مراد ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دینے سے یہ مراد ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے جب تیہ میں وفات پائی تو لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تہمت لگائی کہ آپ نے ہارون (علیہ السلام) کو قتل کیا ہے۔ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا فرشتے جب حضرت ہارون (علیہ السلام) کا جنازہ لوگوں کے (بنی اسرائیل کے) سامنے لائے اس وقت لوگوں کو یقین آیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون کو قتل نہیں کیا۔ (اخرجہ ابن منیع وابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم وابن مردویہ الحاکم عن ابن عباس علی بن ابی طالب) بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ مال (حنین کی جنگ کا) لوگوں کو تقسیم کیا۔ ایک شخص کہنے لگا : یہ تقسیم لوجہ اللہ نہیں ہوئی۔ میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس بات کی اطلاع پہنچادی ، سنتے ہی حضور گرامی اتنے ناراض ہوئے کہ غصہ کی علامت چہرئہ مبارک پر نمودار ہوگئی ، پھر فرمایا : اللہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی رحمت فرمائے ، ان کو اس سے زیادہ ایذاء پہنچائی گئی اور انہوں نے صبر کیا۔
Ayah 33:70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو

70، یایھا الذین امنو ا اتقو اللہ وقولوا قولا سدیدا، حضرت ابن عباس ؓ نے سدید اکا ترجمہ کیا ہے ، صحیح بات ۔ قتادہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے انصاف کی بات ۔ بعض نے کہا سیدھی بات۔ حسن نے کہا کہ سچی بات مراد ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ سیدید اسے مراداس کا قول لاالہ الا اللہ ہے۔
Ayah 33:71

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

وہ تمہارے سب اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک بڑی مراد پائے گا

، یصلح لکم اعمالکم ، ابن عباس ؓ نے فرمایا تمہاری نیکیاں قبول کرلے گا۔ مقاتل نے کہا کہ تیرے اعمال کر پاک کردے گا۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمینوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا

71، انا عرضنا الا مانۃ علی السموات والارض والجبال ، امانت سے مراد طاعت ہے اور وہ فرائض جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نازل فرمائے ہیں ۔ ، عرضھا علی السموات والا رض والجبال ، کا مطلب ہے کہ اگر ان فرائض کو ان پر پیش کیا گیا تو کہا کہ اگر ان کو ادا کروگے ثواب کو پہنچ جائے گا اور اگر ان کو ضائع کیا عذاب دیاجائے گا۔ امانت سے کیا مراد ہے حضرت ابن مسعود نے فرمایا : امانت سے مراد ہے نماز اداکرنا، زکٰوۃ دینا ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج صدق مقال ، ناپ تول میں انصاف اور ان سب سے زیادہ سخت امانتوں کی حفاظت ۔ مجاہد نے کہا : امانت سے مراد اداء فرائض اور حفاظت دین۔ ابو العالیہ کے نزدیک تمام اور امرونواہی مراد ہیں۔ زید بن اسلم نے کہا : امانت سے مراد روزہ غسل جنابت اور اندرونی شرائع (جیسے حسدنہ کرنا دل میں مسلمان سے عداوت نہ کرنا ، جب جاہ ومال نہ رکھنا وغیرہ تمام اخلاقی باطنہ) یعنی جن میں ریا کاری کا کوئی دخل نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر وبن عاص نے فرمایا : انسانی جسم میں سب سے پہلے شرم گاہ بنائی اور فرمایا : یہ امانت ہے بطور ودیعت میں تیرے سپرد کرتا ہوں ۔ کان بھی امانت ہے، آنکھ بھی امانت ہے اور جس می امانت (کی پاسداری ) نہیں اس کے پاس ایمان نہیں ۔ بعض اہل علم نے کہا : امانت سے مراد ہیں لوگوں کی باہمی امانتیں اور ایفاء وعدہ ۔ ہرمؤمن پر حق ہے کہ دوسرے مؤمن یا معاہد کے ساتھ دھوکہ نہ کرے، نہ چھوٹے معاملہ میں نہ بڑے معاملہ میں ۔ ضحاک کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس قول کی نسبت کی گئی ہے ۔ ان تمام اقوال کا مال یہ ہے کہ امانت سے مراد ہیں شرعی اوامرونواہی اور آسمان و زمین سے مراد آسمان و زمین ہی ہیں (ان کے باشندے مراد نہیں ہیں ) اور پیش کرنے سے مراد ہے خطاب لفظی مقالی (خطاب تکوینی فطری مراد نہیں ہے) بغوی نے لکھا : حضرت ابن عباس اور اکثر سلف کا یہی قول ہے۔ بغوی نے لکھا ہے اللہ نے زمین و آسمان سے فرمایا تھا کہ کیا تم بار امانت کو مع ان کے لوازم کے اٹھا تے ہو ؟ آسمان و زمین نے کہا لوازم امانت کیا ہیں ؟ اللہ نے فرمایا : اگر تعمیل کروگے تو تم کو اچھا بدلہ دیا جائے گا اور اگر نافرمانی کروگے تو سزاپاؤگے۔ آسمان و زمین نے عرض کیا :(ان لوازم کے ساتھ ہم برداشت ) نہیں (کرسکتے) اے رب ! ہم تیرے حکم کے پابند ہیں نہ ثواب چاہتے ہیں نہ عذاب ۔ آسمان و زمین نے یہ بات (نافرمانی کے) خوف اور دین خداوندی کی تعظیم کی وجہ سے کہی ۔ ان کو ڈرہوا کہ دین خداوندی کا حق ہم سے ادانہ ہوسکے گا (تو عذاب میں متلاہوں گے ) یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے بار امانت اٹھا نے کا حکم ان کو دیا تھا اور انہوں نے سرتابی کی۔ اللہ کی طرف عرض امانت کی برداشت اختیاری تھی لازمی نہیں تھی۔ اگر لازمی ہوتی تو آسمان و زمین ضرور اس بار کو اٹھا تے۔ بعض اہل علم نے کہا : جمادات ہمارے لحاظ سے بےعقل ہیں ، ہماری بات نہیں سمجھتے لیکن اللہ کے فرمان کو سمجھتے ہیں اور سمجھ کر اطاعت کرتے ہیں اور سربسجود ہوجاتے ہیں ۔ اللہ نے آسمان و زمین سے فرمایا : ، ائتیا طوعا اوکرھا، دونوں نے جواب دیا :، اتینا طائعین، دوسری آیت میں ہے :، وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الا نھار وان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ، کچھ پتھروں سے دریا پھوٹ کر نکلتے ہیں اور کچھ پتھر پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ پتھر اللہ کے خوف سے نیچے کو گرتے ہیں۔ ، الم تران اللہ یسجد لہ من فی السموت ومن فی الا رض والشمس والقمر والنجوم ولجبال والشجر والدو آب، بعض اہل علم کا قول ہے کہ اللہ عزوجل نے ان پر عقل وفہم کو ڈالا جب ان پر امانت کو پیش کیا گیا اور ان پر خطاب کو لازم کیا تو انہوں نے اس سے بزدلی اختیار کی اور اس کا بوجھ اٹھا نے سے انکار کردیا۔ بعض نے کہا، عرض علی السموات والارض ، سے مراد ہے کہ اس کے رہنے والوں پر پیش کیا گیا اور ان فرشتوں پر بھی جو آسمانوں اور زمینوں نے میں رہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ سب پر پیش کیا گیا علاوہ اعیان وغیرہ کے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واسئل القریۃ، یہاں پر بعینہ بستی مراد نہیں بلکہ بستی کے رہنے والے مراد ہیں۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور یہی قول علماء کا ہے۔ ، فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الا نسان ، اس امانت میں تخفیف کی جائے تا کہ اس کی ادائیگی میں آسانی ہوتا کہ عتاب سے بچ سکیں ۔ ، وحملھا الانسان ، اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ۔ حملھا الانسان کی تفسیر بعض علماء نے لکھا ہے کہ، حملھا الا نسان ، میں الانسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے فرمایا تھا کہ میں نے یہ امانت آسمان زمین اور پہاڑوں کے سامنے رکھی لیکن سب نے اٹھا نے سے انکار کردیا کیا تو اس کو مع اس کے لوازم لے لے گا ؟ آدم نے عرض کیا : اے میرے رب ! اس کے لوازم کیا ہیں ؟ اللہ نے فرمایا : اگر تو نیکی کرے گا تو اس کا ثواب پائے گا اور بدی کرے گا تو عذاب میں پکڑاجائے گا ۔ آدم نے امانت کو اٹھا لیا اور عرض کیا : میں اس بوجھ کو اپنے کاندھے پر لیتا ہوں۔ اللہ نے فرمایا : جب تو نے اس امانت کو قبول کرلیا تو میں بھی تیری مددکروں گا۔ تیری آنکھوں کے اوپر ایک نقاب ڈال دوں گاتا کہ جائز چیز پر نظر پڑنے کا جب تجھے ڈرہوتوآنکھ پر نقاب لٹکا لے (یعنی پلکیں جھکا لے اور آنکھیں بند کرلے) اور تیری زبان کے لیے دوجڑے اور ایک فقل بنادوں گا ، تجھے جب (اجائز بات زبان سے نکالنے کا) اندیشہ ہو تو قفل بند کردینا اور میں تیری شرم گاہ کے لیے لباس مقررکردوں گا شرمگاہ اس کے سامنے نہ کھولنا جس کے سامنے کھولنا میں نے حرام کردیا ہے۔ مجاہدنے کہا : برداشت امانت کے وقت اور جنت سے نکا لے جانے کے وقت کی درمیانی مدت صرف اتنی ہوئی ، جتنی ظہر وعصر کے درمیان ہوتی ہے ۔ بغوی نے لکھا ہے : نقاش نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ امانت کو اس بھاری پتھر سے تشبیہ دی گئی جو کسی جگہ پڑاہو۔ آسمان کو زمین کو اور پہاڑوں کو اس کے اٹھا نے کی دعوت دی گئی لیکن کوئی اس کے قریب بھی نہیں آیا اور سب نے کہہ دیا کہ ہم میں اس کو اٹھا نے کی طاقت نہیں ، پھر بغیر دعوت کے آدم آگئے اور انہوں نے پتھر کو ہلا کر کہا : اگر مجھے اس کو اٹھا نے کا حکم دیا گیا تو میں اس کو اٹھالوں گا۔ اللہ نے فرمایا : اٹھاؤ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اس کو اٹھا کر زانوں تک لے آئے ، پھر رکھ دیا اور کہا : خدا کی قسم ! اگر میں زیادہ اٹھانا چاہوں تو اٹھاسکتا ہوں۔ آسمان و زمین نے کہا (رح) : اٹھاؤ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس کو اٹھا کر اپنے کاندھے پر رکھ دیا اور پھر اتار کرنیچے رکھ دینے کا ارادہ کیا۔ اللہ نے فرمایا : ہرگز اس کو نیچے نہ رکھنا، یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی گردن میں قیامت تک بندھا رہے گا۔ ، انہ کان ظلوماجھولا، ظلم اپنے نفس کے اعتبار سے اور اللہ کے امر کو بھول جانے کے اعتبار سے اور اس امانت کو اٹھا نے میں جھولا ہیں۔ کلبی کا بیان ہے کہ ظالم اس وقت ہے جب وہ اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے اور، جھولا، اس وقت جب وہ اللہ تعالیٰ کی سزا سے بیخبر ہے، امانت کے ترک کرنے کے باعث ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ ، ظلوما، لنفسہ ہے اور جھولا اپنے انجام سے بیخبر ہونے کی وجہ سے ہے۔ زجاج اور دوسرے اہل معانی نے بیان کیا ہے کہ ، وحملھا الانسان ، میں دوقول ہیں۔ ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر امانت کا بوجھ رکھا اور آسمان و زمین اور پہاڑوں پر بھی امانت کا بوجھ ڈالا۔ بنی آدم کے حق میں امانت کا معنی ہے طاعات ، اختیار کرنا اور فرائض کو قائم کرنا اور آسمان و زمین و پہاڑوں کے حق میں امانت کا معنی ہے خضوع اور طاعت جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے اور بعض نے کہا اللہ کا فرمان ، فابین ان یحملنھا، سے مراد امانت کی ادائیگی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں نے امانت اٹھائی ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے امانت میں خیانت نہیں کی ۔ ، وحملھا الا نسان ، کا مطلب یہ ہے کہ اس نے میں خیانت کی جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ، فلان حمل الا مانۃ، وہ خیانت کی وجہ سے گنہگار ہوا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ولیحملن اثقالھم، حسن کا قول ہے کہ ، حملھا، سے مراد کافر اور منافق ہیں جنہوں نے امانت الٰہیہ میں خیانت کی ہے سلف کا قول اول ہے۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر 73۔ ، لیعذب اللہ المنافقین والمنافقات والمشرکین والمنشرکات، مقاتل کا بیان ہے کہ اللہ ان کو عذاب دے گا جنہوں نے خیانت کی اور عہد کو توڑا۔ ، ویتوب اللہ علی المؤمنین والمؤمنات وکان اللہ غفورارحیما، اللہ ان کو ہدایت دے گا اور ان پر رحم فر مائے گا امانت کی ادائیگی میں ۔ ابن قتیبہ نے آیات کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ہم نے امانت شرعی تکلیفات یا فطری استعدادکو پیش کیا تا کہ منافق کا نفاق اور مشرک کا شرک ظاہر ہوجائے اور اللہ ان کو عذاب دے اور مؤمن کے ایمان کا اظہارہوجائے اور اللہ ان پر رحم کرے اور اگر کسی طاعات میں ان سے قصورہوجائے تو اس کو بخش دے ۔ وعدہ کے موقع پر یتوب کہنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ فطرت کے لحاظ سے انسان ظلوم وجہول ہے اس لیے کچھ قصور اس سے ضرورہوگا۔