Ayah 33:33تفسیر 33، وقرن فی بیوتکن ، اہل مدینہ عاصم نے، وقرن، قاف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جن حضرات کے نزدیک قاف پر فتحہ ہے ان کے نزدیک آیت کا معنی یہ ہے کہ اپنے گھروں کو لازم پکڑو۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے، قررت بالمکان اقرقرا، اور اسی طرح یہ بھی کہاجاتا ہے ، قررت ، اس میں دونوں لغات ہیں ۔ ، ولا تبرجن ، مجاہد اور قتا دہ کا بیان ہے تبرج اٹھلا کر چلنا۔ ابن ابی نجیح کا قول ہے کہ تبرج کا معنی اٹھلا کر چلنا ۔ بعض نے کہا کہ زینت کا اظہار اور اپنے محاسن کو مردوں کے سامنے ظاہر کرنا ۔
جاہلیت اولی کی تفسیر
، تبرج الجاھلیۃ الا ولیٰ ، جاہلیت اولیٰ کے معنی میں اختلاف ہے۔ شعبی کا بیان ہے کہ آپ ﷺ سے اوپر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے تک جاہلیت اولیٰ کا دور تھا۔ ابو العالیہ کا بیان ہے کہ حضرت داؤعلیہ السلام اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا زمانہ جاہلیت اولیٰ کا زمانہ تھا۔ عورتیں ایسی قمیصیں پہن کر نکلتی تھیں جو دونوں طرف سے بغیر سلے ہوئے ہوتے تھے اور ان کا بدن دونوں طرف سے برہنہ نظر آتا تھا ۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا کہ جاہلیت اولیٰ کا وہ زمانہ تھا جو حضرت نوح حضرت ادریس (علیہما السلام) کے درمیان تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل سے دوقبیلے ہوئے ایک پہاڑ پر رہتا تھا ، دوسرامیدانی علاقے میں ۔ پہاڑی مردوں کے چہرے شگفتہ اور گورے تھے مگر عورتیں بدصورت تھیں اور میدانی باشندوں کی عورتیں حسین تھیں اور مردبد صورت۔
ایک بار ابلیس انسانی شکل میں ایک میدانی باشندے کے پاس آیا اور اس کے پاس نوکر ہوگیا اور خدمت کرنے لگا ، پھر اس نے چرواہوں کی بانسری جیسی ایک چیز بنائی اور ایسی آواز سے بجا نے لگا جو لوگوں نے کبھی نہیں سنی تھی ۔ آس پاس کے لوگوں کو آواز پہنچی تو وہ سنتے کے لیے جمع ہوگئے اور اس کو ایک تہوار بنالیا جہاں مقررہ وقت پر جمع ہونے لگے۔ اس طرح بن سنور کر عورتیں مردوں کے سامنے آنے لگیں اور مرد عورتوں کے سامنے۔ ایک روز کوئی پہاڑی اس تہوار میں پہنچ گیا اور اس نے مردوں عورتوں کو یکجادیکھا اور عورتوں کا حسن اس کی نظر کے سامنے آیا۔ اس نے جا کر پہاڑی باشندوں سے اس کا تذکرہ کیا۔ اس کے بعد پہاڑی باشندے بھی اپنے مسکن چھوڑکرمیدانی لوگوں کے ساتھ ہی آب سے اور آپس میں بدکاریاں ہونے لگیں ۔ آیت میں تبرج جاہلیت اولیٰ سے یہی مراد ہے لیکن اولیٰ کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ جاہلیت دوم بھی کوئی گزری ہے ۔ کبھی اولیٰ کا لفظ بغیر اخری کے بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے آیت ، اھلک عاد ن الا ولی، میں اولیٰ کا لفظ ہے ۔ ، عاد اخری ، کوئی قوم ہوئی پھر بھی قوم عاد کو ، عاد الا ولیٰ ، فرمایا۔ یا جاہلیت سے مراد قبل ازاسلام کا دور ہے (جس کی کوئی حدبندی نہیں ) ۔
، واقمن الصلوۃ واتین الزکوۃ واطعن اللہ ورسولہ ، (اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ یعنی تمام اوامر ونواہی کی پابندی کرو، یہی تقوی ہے جو تمہارے فضیلت یا ب ہونے کی ضروری شرط ہے) ۔
، انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیر ا، (اے اہل بیت (نبی ) ! اللہ تم سے گند گی کو دور کرنا اور کا مل طور پر تم کو پاک کرنا چاہتا ہے) ۔
رجس کی وضاحت
رجس سے مراد ہے عمل شیطانی یعنی گناہ اور ہر وہ حرکت جس میں کوئی شرعی یا ایسی طبعی برائی ہو جو اللہ کونا پسند یدہ ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ، سعید بن جبیر کی روایت سے بھی یہی آیا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے (اہل البیت کے مفہوم کے تعیین کے لیے ) آیت، واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ، تلاوت فرمائی۔ (رواہ ابن ابی حاتم وروی ابن جریر عن عکرمہ نحوہ)
حضرت ابو سعید خدری اور تابعین کی ایک جماعت کا قول ہے جن میں مجاہد اور قتادہ بھی شامل ہیں کہ اہل بیت ہیں۔ حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن ، حضرت حسین ؓ ، کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیاہ بالوں کی اونی چادراوڑھے باہر تشریف لے گئے چادر پر کجاوے کے نقوش تھے ، اتنے میں حسن بن علی ؓ آئے تو حضور ﷺ نے ان کو چادر میں لے لیا ، پھر حسین بن علی ؓ آئے تو حضور ﷺ نے ان کو بھی چادر میں لے لیا ، پھر (سیدہ) فاطمہ آئیں تو حضور ﷺ نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا ۔ پھر علی ؓ آئے تو آپ ﷺ نے ان کو بھی داخل کرلیا۔ پھر فرمایا :، انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا، (رواہ مسلم)
حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت ہے کہ جب آیت، انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت، نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علی اور فاطمہ ، حسن و حسین ؓ کو طلب کیا اور اپنی چادر مبارک میں داخل کیا پھر فرمایا اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے گندگی کو دور کردے اور ان کو کا مل طور پر پاک کردے ۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت حسن اور حسین ؓ کو بلوایا، پھر فرمایا یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں بھی اہل بیت میں سے ہوں، فرمایا کیوں نہیں ، ان شاء اللہ ۔ حضرت زید بن ارقم نے فرمایا رسول اللہ ﷺ اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت وہ سب لوگ تھے جن پر صدقہ کا مال لینا حرام کردیا گیا تھا۔ یعنی اولا دعلی ، اولاد جعفر ، اولاد عقیل ، اولاد عباس اور اولادحارث بن عبدالمطلب ؓ
Ayah 33:34تفسیر 34۔ ، واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایات اللہ ، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، والحکمۃ ، قتادہ نے اس کا معنی سنت سے کیا ہے۔ مقاتل کے نزدیک آیات اللہ سے مراد ہے قرآن کے احکام ومواعظ۔ ، ان اللہ کان لطیفا خبیرا، وہ لطیف ہے ان کے اولیاء پر اور تمام مخلوقات پر خیبر ہے۔
Ayah 33:35آیت کا شان نزول
35، ان المسلمین والمسلمات، رسول ﷺ کی (بعض) بیبیوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ نے قرآن میں مردوں کا ذکر تو اچھائی کے ساتھ کیا ہے، عورتوں کا ذکر اچھائی کے ساتھ نہیں کیا تو کیا ہمارے اندر کوئی قابل ذکر بھلائی نہیں ؟ ہم کو اندیشہ ہے کہ اللہ ہماری طاعت کو بھی قبول نہیں کرتا ۔ اس پر آیت ، ان المسلمین والمسلمات، الخ نازل ہوئی۔
مقاتل نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ اور حضرت آسیہ بنت کعب انصاریہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا، یارسول اللہ ! ہمارا رب (قرآن میں ) مردوں کا تو ذکر کرتا ہے اور عورتوں کا کہیں ذکر نہیں کرتا ، اس سے ہم کو اندیشہ ہے کہ عورتوں میں کوئی بھلائی ہی نہیں ہے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیس جب اپنے شوہر حضرت جعفر بن ابوطالب کے ہمراہ حبشہ سے واپس آئیں اور رسول اللہ ﷺ کی بیبیوں کے پاس گئیں تو ان سے دریافت کیا : کیا ہمارے معاملہ میں قرآن کی کوئی آیت اتری ہے ؟ امہات المؤمنین ؓ نے جواب دیا : نہیں ۔ اسماء فورارسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں پہنچیں اور عرض کیا، یارسول اللہ ! عورتیں بڑے گھاٹے میں ہیں ، بڑی نامراد ہیں ۔ فرمایا : کس وجہ سے یہ بات کہہ رہی ہو ؟ عرض کیا : حضور ﷺ ! مردوں کا جس طرح قرآن میں ذکر کیا جاتا ہے عورتوں کا اچھائی کے ساتھ (قرآن) کہیں ذکر ہی نہیں ہوتا ۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
، والمؤمنین والمؤ منات والقانتین، یعنی طاعات کے پابند لوگ مرد ہوں یا عورتیں ۔ ، والقانتات والصادقین ، وہ اپنے قول وعمل کے سچے اور ایسے عمل کرنے والے جن کو سچاماناجائے ۔ ، والصادقات والصابرین، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ ، والصابرات والخاشعین ، تواضع کرنے والے غرورنہ کرنے والے مردوعورتیں ۔ ، والخاشعات ، نماز میں خشوع اختیار کرنے والے اور نماز میں خشوع سے مراد ہے کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھنے والے۔ ، والمتصدقین ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو رزق دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں ۔ ، والمت صدقات ، والصائمین والصائمات ، الحافظین فروجھم، جوان کے لیے حلال نہیں۔
، والحافظات والذاکرین اللہ کثیرا والذاکرات، مجاہد کا قول ہے کہ بندہ اس وقت اللہ کی بکثرت یاد کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے جب کھڑے بیٹھے ، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا ہو، کسی وقت اللہ کی یاد میں سستی نہ کرتا ہو، اس کے بغیر کثیر الذکر بندوں میں سے نہیں ہوتا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، مفردون آگے بڑھ گئے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا، یارسول اللہ مفردون کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں۔
عطاء بن ابی رباخ فرماتے ہیں کہ جو اپنے کام کو اللہ کے سپر د کردے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں داخل ہے۔ ، ان المسلمین والمسلمات، اور جس نے اس بات کا اقرار کرلیا کہ اللہ اس کا رب ہے۔ محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں اس نے دل و زبان سے اس کی مخالفت نہیں کی ۔ وہ ، والمؤ منین والمؤ منات ، میں شامل ہے اور جس نے اللہ کی اطاعت کی غرض میں اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی سنت میں وہ اللہ کے اس فرمان میں داخل ہے، والقانتین والقانتات، اور جو شخص صبر علی الطاعات کرے اور معصیت سے ڈرتا رہا دکھ پر صبر کیا ، وہ اس فرمان، والصابرین والصابرات، میں داخل ہے اور جس شخص نے نماز پڑھی کہ اس کو دائیں بائیں کی بھی شناخت نہیں ہوئی وہ، والخا شعین والخاشعات، میں داخل ہوگیا اور جو ہر ہفتے میں ایک درہم صدقہ کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ، والمتصد قین والمت صدقات، میں داخل ہوگیا اور جس نے ہر ماہ چاندنی راتوں (یعنی 13، 14، 15، تاریخوں کے) روزے رکھے وہ والصائمین والصائمات، میں داخل ہوگیا اور جس نے حرام سے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا وہ ، ولحافظین فروجھم والحافظات، میں شامل ہوگیا اور جس نے پانچوں نمازیں اداکیں ان کے حقوق کی وجہ سے وہ اللہ کے اس فرمان، والذا کرین اللہ کثیرا والذا کر ات ، میں داخل ہوگیا۔ ، اعداللہ لھم مغفرۃ واجرا عظیما،
Ayah 33:36تفسیر 36، وماکان لمؤمن ولا مؤ منۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لھم الخیر ۃ من امرھم، اس آیت کا نزول زینت بنت حجش اسدیہ اور اس کے بھائی کے متعلق ہوا۔ ان کے بھائی کا نام عبد اللہ بن حجش تھا اور ان کی ماں امیہ بنت عبدالمطلب آپ ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ ﷺ نے حضرت زینت کے ہاں نکاح کا پیغام بھیجا اور وہ اس پر راضی ہوگئی۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ آپ ﷺ نے اپنے لیے مجھے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے۔ اس لیے راضی ہوگئیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ زید کی طرف سے پیغام بھیجا ہے تو آپ کونا گوار ہوا اور انکار کردیا اور زینت کے بھائی عبد اللہ بن حجش نے بھی یہ رشتہ پسند نہیں کیا۔ حضرت زینت اور ان کے بھائی عبد اللہ کی ماں امیہ عبدالمطلب تھی ، امیہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں کمامر۔ اس پر اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ ، وماکان لمؤمن، اس سے مراد عبد اللہ بن حجش اور، ولا مؤ منۃ، اس سے ان کی بہن زینت ہیں۔ ، اذا قضی اللہ ورسولہ امرا، جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا ارادہ کریں وہ نکاح کرنا ہے زینت کا زید کے ساتھ ۔ ، ان یکون لھم الخیرۃ من امر ھم ، خیرۃ اختیار کو کہتے ہیں معنی اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جوار ادہ ہے اس کے ارادے تک نہیں پہنچ سکتا یا کوئی بھی اس کے کام سے نہیں روک سکتا جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے۔ ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلالا مبینا ، صحیح راستے سے کھلم کھلا ہٹا ہوا ہونا ، پھر جب انہوں نے یہ بات مان لی اور اس پر راضی ہوگئے تو اس وقت یہ بھی تسلیم ہوگئی۔
اور اس نکاح کا معاملہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں اور اپنے بھائی کے ہاتھ میں کردیا۔ حضرت زینت ؓ کا نکاح حضرت محمد ﷺ نے زید کے ساتھ کردیا۔ اس نکاح میں آپ ﷺ نے حضرت زینب ؓ کو دس دینار اور ساٹھ درہم ایک دوپٹہ اور اوڑ ھنی اور ایک ازار اور پچاس مد کھانے کے اور تیس صاع کھجور کے عطا کردیئے۔
Ayah 33:37واذ تقول للذی انعم اللہ کا شان نزول
37، واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ انعمت علیہ امسک علیک زوجک ، ایک روزرسول اللہ ﷺ کسی کام سے (حضرت زینب ؓ کی طرف) گئے ۔ زینت گوری اور قریش کی حسین ترین عورت تھیں۔ اس وقت صرف کرتہ اور دوپٹہ پہنے کھڑی تھیں ۔ حضور ﷺ کی جو نظر ان پر پڑی تو اچھی معلوم ہوئیں اور دل کو بھاگئیں ۔ فورازبان سے نکلا : سبحان اللہ ! اللہ دل کو پلٹنے والا ہے ۔ اس کے بعد لوٹ آئے۔ جب حضرت زید آئے تو ان سے حضور ﷺ نے اس بات کا تذکرہ کردیا۔ زید سمجھ گئے اور اسی وقت سے ان کے دل میں زینت کی طرف سے کراہت پیداگئی ۔ کچھ مدت بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضرہو کر عرض کیا : یارسول اللہ ! (ﷺ) میں اپنی بیوی کو الگ کرنا چاہتا ہوں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ایسا کیوں ؟ کیا زینب کی تم کوئی ناشائستہ حرکت دیکھی ؟ زید نے کہا، نہیں ، خدا کی قسم ! میں نے ان کی طرف سے نیکی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا مگر و ہ اپنی شرافت نسب کی وجہ سے مجھ پر اپنی بڑائی جتلاتی ہیں اور زبان سے مجھے دکھ دیتی ہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اس کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ ابن جریر نے ابوزید کی روایت سے یہ واقعہ یوں ہی بیان کیا ہے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
(فائدہ) یہ روایت جس کو امام بغوی (رح) نے ذکر کیا ہے اس کے متعلق مفسرین نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کے متعلق یہ جو ذکر کیا جاتا ہے کہ زید کی شادی کروانے کے بعد آپ کا دل ان کی طرف مائل ہوگیا تھا یہ دعوی باطل ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنے چچا کی بیٹی حضرت زینب کے حسن سے بیخبر نہیں تھے۔ آپ ﷺ مکہ میں حضرت زینب ؓ کے اسلام نے سے پہلے ان کو جانتے تھے۔ اس وقت حضرت زینب ؓ پردہ بھی نہیں کرتی تھیں۔ دوسرایہ کہ اگر یہ بات سچ بھی مان لی جائے تو پھر آپ ﷺ حضرت زید کے لیے خطبہ نکا ح دینے کے بجائے اپنے لیے نہ بھیجتے ؟ یہاں پر اس بات کرنے میں آپ ﷺ کو مانع بھی کوئی چیز نہیں تھی بلکہ حضرت زینب ؓ اور ان کے بھائی دونوں نے یہی گمان کیا تھا کہ آپ ﷺ نے اپنے لیے خطبہ نکاح بھیجا ہے ۔ جب ان دونوں کو معلوم ہوگیا کہ زید کے لیے نکا ح کا پیغام بھیجا تو وہ دونوں خاموش ہوگئے ۔ ان دونوں کے حق میں اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ، وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لھم الخیر ۃ من امر ھم، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت زینب ؓ راضی ہوگئیں اور مان لیا ۔ پھر حضرت زید کے ساتھ ان کا نکاح کردیا گیا۔
حاشاوکلا کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ کے دل میں اپنے بیٹے کی بیوی کی محبت آجائے جہاں پر منہ بولے بیٹے کو اپنے بیٹے کی طرح کہاجاتا ہے حالانکہ والدین اپنے بیٹے کی بیوی سے مانوس بھی رہتے ہیں ۔ پھر یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ آپ ﷺ نے اس کو اپنی طرف منسوب کیا ہو۔ ، واللہ تعالیٰ اعلم قد عصمہ فی خواطرہ رافعالہ، حافظ ابن حجر (رح) نے بھی اس طرح کی روایت سے تعرض کیا ہے ۔ حاصل یہ کہ جو بھی آپ ﷺ نے دل میں پوشید ہ رکھا وہ اللہ تعالیٰ کی خبر ہے کہ حضرت زینب کو آپ کے نکاح میں دے دیں گے ۔ باقی یہ بات دل میں پوشیدہ اس وجہ سے رکھی گئی تاکہ لوگوں کی زبانوں میں یہ بات افشاء نہ ہوجائے کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکا ح کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا اردہ یہ تھا کہ وہ زمانہ جاہلیت کے اس کام کو باطل کرنا چاہتے تھے اور وہ یہ کہ اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیں ۔ یہ کام اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے صادر فرمایا جو مسلمانوں کے امام ہیں۔
، واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ ، جس پر اللہ نے انعام کیا (اسلام لانے کی نعمت کے ساتھ) ۔۔۔۔۔۔ ، وانعمت علیہ ، اور وہ انعامات جو تیرے اوپر کیے گئے ۔ مثلا تیری تربیت کی گئی تجھے آزاد کردیا گیا یعنی زید بن حارثہ کو۔ ، امسک علیک زوجک ، زینب بنت حجش کو اپنے پاس روکے رکھو۔ ، واتق اللہ ، زینت حجش کے متعلق اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں اور ان کو اپنے سے جدانہ کریں ۔ ، وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ ، یعنی تمہارے نفس نے اس کو چھپائے رکھا۔ جب تک اللہ اس کو ظاہر نہ کردیں ۔ بعض نے کہا کہ آپ کے دل میں بات چھپائے رکھی ۔ قتادہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے دل سے چاہا کہ زید زینت کو طلاق دے دیں ۔ ، وتخشی الناس ، ابن عباس ؓ اور حسن کا قول ہے تیری حیاء کے باعث ۔ بعض نے کہا کہ لوگوں کے سرداروں سے ڈریں کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اس نے پہلے اپنے منہ بولے بیٹے سے کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو پھر اس کی بیوی کے ساتھ نکا ھ کرلیا۔
، واللہ احق ان تخشاہ، حضرت ابن عمر اور ابن مسعود اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ پر اس آیات سے زیادہ کوئی آیت دشوار نہیں گزری ۔ مسروق کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ خدا کے فرستادہ حصہ وحی سے کوئی حصہ چھپاتے تو اس آیت ، وتخفی فی نفسک ما اللہ مبد یہ۔۔۔۔۔۔۔ الا یہ ، کو پوشدہ رکھتے۔ سفیان بن عینیہ نے بیان کیا کہ علی بن زید بن جد عان نے کہا : مجھ سے امام زین العابد ین علی بن امام حسن نے پوچھا کہ آیت ، وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ، کے متعلق حسن کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا حسن کہہ رہے تھے کہ جب زید نے آکر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! میں زینب کو چھوڑنا چاہتا ہوں ، حضور ﷺ کو زید کی یہ بات (دل سے تو) پسند آئی لیکن (ظاہر میں ) زبان سے فرمایا :، امسک علیک زوجک واتق اللہ ، امام زین العابد ین نے فرمایا : ایسا نہیں ہے ۔ اللہ نے آپ کو پہلے سے اطلاع دے دی تھی کہ زید، زینب کو طلاق دے دیں گے اور زینب آپ کی بیوی ہوجائیں گی۔ چناچہ جب زید نے آکر کہا کہ میں زینب کو طلاق دینا چاہتا ہوں تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :، امسک علیک زوجک ، یہ بات اللہ کو پسند نہ آئی اور بطور عتاب اللہ نے فرمایا : جب ہم نے آپ کو بتادیا تھا کہ زینب آپ کی بیوی ہوگی تو پھر آپ نے زید سے کیوں کہا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو ، طلاق نہ دو ۔ آیت کا یہ مطلب شان انبیاء کے موافق ہے (اس سے نبی پر کوئی دھبہ نہیں آتا) اور عبارت بھی اسی کے مطابق ہے کیونکہ اللہ نے فرمادیا کہ جو بات تم نے چھپائی تھی، ہم اس کو ظاہر کرنے والے ہیں لیکن سوائے اس کے کہ فرمادیا : زوجنکھا، (ہم نے تمہارا نکاح زینب سے کردیا) اور کوئی بات ظاہر نہیں کی ۔ اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دل میں زینب کی محبت چھپائے رکھی ہوتی یا دل کے اندر یہ بات مخفی کرلی ہوتی کہ زینب کو زید طلاق دے دے تو اللہ (حسب وعدہ) اس کو ضرور ظاہر کردیتا۔ حقیقت میں جب بوحی الٰہی آپ کو معلوم ہوگیا کہ زید ، زینب کو طلاق دے دیں گے اور زینب سے آپ کا نکاح ہوجائے گا تو) آپ کو زید سے یہ بات کہتے ہوئے شرم محسوس ہوئی کہ جو بیوی تیرے نکاح میں اور تیرے پاس ہے وہ میری ہوجائے گی ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت زینب کی محبت کو دل میں مخفی رکھا کہ زید طلاق دے دیں گے تو میں نکاح کرلوں گا لیکن دل میں جو بات بغیر اختیار کے پیدا ہوجائے اس کو قابل ملامت اور اس کو برا نہیں قراردیا جاسکتا ۔ قلبی میلان میں کوئی گناہ نہیں دل کا جھکاؤاور وجدان محبت تو طبعی اور فطری چیز ہے ۔ باقی ، امسک علیک زوجک واتق اللہ الایہ، فرمایا یہ تو اچھے کام کا مشورہ ہے امربا لمعروف ہے اس میں کوئی گناہ نہیں ۔
، واللہ احق ان تخشاہ ، اس سے یہ اشکال نہیں کیا جاسکتا کہ رسول اللہ ﷺ کے دل میں اللہ کا خوف اور مثیت الٰہی نہیں تھی جبکہ ماقبل میں حدیث گزری ہے کہ آپ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا، انا اخشاکم اللہ واتقاکم ، کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ کا خوف و خشیت رکھتا ہوں ۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شان میں فرمایا ہے ، یخشونہ ولا یخشون احدا الا اللہ ، وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے لیکن اس جگہ جب لوگوں سے ڈرنے کا ذکر کیا تو یہ بھی فرمادیا کہ تمام امور و احوال میں خدا سے ڈرنا ہی سزاوار ہے۔ فلما قضی زید منھا وطرا، جب زیدکا اس نے دل بھرگیا۔ ، زوجنا کھا، یہاں پر حاجت کے پورا ہونے کا ذکر فرمادیا تا کہ جان لے کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت زینب ؓ دوسری ازواج مطہرات پر فخر کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تمہارے نکاح تو تمہارے اولیاء نے کرائے اور میرانکاح اللہ تعالیٰ نے ساتھ آسمان اوپر کیا۔
شعبی کا بیان ہے کہ حضرت زینب نبی کریم ﷺ سے کہتی تھیں کہ مجھے آپ کے سلسلہ میں تین چیزوں سے امتیاز حاصل ہے ، وہ امتیاز کسی بیوی کو حاصل نہیں کہ میرا اور آپ ﷺ کا دادا ایک تھا ، میرانکاح آپ کیساتھ اللہ نے آسمان پر کیا میرے نکاح کے سفیر حضرت جبرئیل تھے۔
حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جیسا ولیمہ حضرت زینب ؓ کا کیا ایسا کسی اور بی بی کا نہیں کیا۔ زینب ؓ کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔
حضرت انس ؓ کا ہی بیان ہے کہ زینب بنت حجش کے زفاف میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو پیٹ بھر کر گوشت روٹی کھلائی ۔ مسلم ، احمد ، نسائی ، ابو لیعلی ، ابن ابی حاتم ، طبرانی نے حضرت انس ؓ کا بیان نقل کیا ہے اور یہ روایت مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ ذکر کی ہے کہ جب زینب کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے زید سے فرمایا : جاکر زینب سے میراتذکر ہ کرو (یعنی پیام پہنچاؤ) زید گئے اور جس وقت پہنچے ہیں ، اس وقت زینب ؓ آٹا خمیر کررہی تھیں ۔ زید کا بیان ہے کہ میں نے زینب کو دیکھا تو ان کی اتنی عظمت میرے دل میں پیدا ہوئی کہ میں سامنے سے ان کو دیکھنے کی تاب نہ لاسکا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے نکا ح ارادہ سے ان کا ذکر کیا تھا۔ چناچہ میں نے فور ا ان کی طرف اپنی پشت کرلی اور ایڑیوں کے بل مڑ کر کہا : زینب ! مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا ہے ، حضور ﷺ نے تم کو یاد کیا ہے ۔ حضرت زینب ؓ نے کہا : میں اپنے رب سے مشورہ کے بغیر کچھ کرنے والی نہیں ۔ یہ جواب دینے کے بعد حضرت زینب ؓ اٹھ کر مسجد (یعنی اندرون خانہ جو نماز کی جگہ مقررکررکھی تھی اس ) کی طرف گئیں اور آیت ذیل نازل ہوئی۔
، لکیلا یکون علی المؤمنین حرج، حرج سے مراد گناہ ہے ۔ ، فری ازواج ادعیائھم اذا قضوامنھن وطرا، ادعیاء جمع داعی کی ہے اس سے مراد متبنی بیٹا ہے۔ یعنی زینب زوجہ زید سے ہم نے آپ کا نکاح اس لیے کر ایاتا کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ منہ بولے بیٹوں کی (مطلقہ ) بیویوں سے نکاح ہے خواہ وہ بیٹے اپنی بیویوں سے قربت کرچکے ہوں حقیقی بیٹے کی بیوی کا حکم اس کے خلاف ہے۔ ، وکان امر اللہ مفعولا، اور اللہ کا فیصلہ تولا محالہ پورا ہونے والا تھا۔ جیسا زینب کے معاملے میں ہوا۔
Ayah 33:38تفسیر 38۔ ماکان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کردی۔ ، سنۃ اللہ، منصوب ہے حرف جر کے مخدوف ہونے کی وجہ سے ۔ اصل عبارت یوں تھی، کسنۃ اللہ ، بعض نے کہا کہ منصوب بنابر اغراء ہے فعل محذوف کی وجہ سے ۔ ، ای الزمواسنۃ اللہ ،۔۔۔ ، فی الذین خلوامن قبل ، ماقبل انبیاء کرام (علیہم السلام) سے بھی اس با ت کا مواخذہ نہیں کیا گیا جو اشیاء ان کے لیے حلال کردی گئی تھیں۔ کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد ہیں حضرت داؤد (علیہ السلام) کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) بھی ایک عورت کی طرف مائل ہوگئے تھے جس سے انہوں نے نکاح کرلیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب سے رسول اللہ ﷺ کا نکاح کردیا۔
ازواج کی طرف اشارہ ہے جیسے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کی بیبیاں کثرت سے تھیں ۔ ، وکان امر اللہ قدرامفدورا، اس کا فیصلہ تجویز کردہ ہے جو ماقبل میں گزرچکا ہے۔
Ayah 33:3939۔ ، الذین یبلغون رسالات اللہ، وہ سب انبیاء ایسے تھے جو اللہ کے پیغام کو پہنچا تے تھے ۔ ، ویخشونہ ولا یخشون احدا الا اللہ ، وہ لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتے تھے اور ان کے آئمہ بھی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کیا تھا اور ان پر فرض کیا تھا۔ ، وکفی باللہ حسیباوہ مخلوقات کے اعمال کے محافظ اور ان کے اعمال کا محاسبہ کرنے والے ہیں۔ جب آپ ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کیا تو لوگوں نے یہ باتیں کہنا شروع کردیں کہ دیکھو محمد (ﷺ) نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔
Ayah 33:4040، ماکان محمد ابا احد من رجا لکم ، رجال سے مرا زید بن حارثہ ہے ۔ یعنی آپ ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں کہ جن کی وجہ سے ان کی بیویوں سے نکاح حرام ہو۔
سوال : قاسم طیب طاہر اور ابراہیم رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے تھے اور حضرت حسن و حسین ؓ بھی حضور ﷺ کے صاحبزادے (مانے گئے) تھے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حسن ؓ سے فرمایا کہ یہ میرابیٹا سید ہے ؟۔
جواب : چار بیٹوں کی وفات بچپن میں ہوگئی تھی کوئی بھی حدبلوغ کو نہیں پہنچا کہ اس کی رجل کہاجاتا ۔ صحیح یہ بات ہے جو ہم نے کہی ہے مراداس سے یہ ہے کہ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ۔ ، ولکن رسول اللہ وخاتم النبین ، جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت فرمائی۔ ابن عامر اور ابن عاصم نے (خاتم) تاء کے فتحہ کے ساتھ اسم پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے کسرہ کے ساتھ فاعل پڑھا ہے کیونکہ آپ ﷺ کے آنے سے انبیاء کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر نبیوں کا سلسلہ ختم نہ ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ آپ کے بیٹے کو آپ کے بعد نبی بناتے۔
عطاء نے ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب اللہ نے یہ فیصلہ کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبی بنانا نہیں ہے تو حضور ﷺ کو کوئی لڑکا یعنی مرد (اولاد) عنایت نہیں کیا۔
، کان اللہ بکل شیء علیما ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک خوبصورت قصر ہو، اس کی عمارت حسین ہو لیکن یہ بھی کہیں کہ ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے ۔ پس اس ایک اینٹ کے مقام کو میں نے درست کردیا اور مجھ پ رپیغمبروں کے آنے کا سلسلہ ختم کردیا۔
حضرت جبیر بن مطعم کا بیان ہے ، میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے (میرے بہت نام ہیں ) میں محمد ہوں ، احمد ہوں، ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا ، میں حاشر ہوں کہ لوگوں کا حشر میرے قدموں پر ہوگا ، میں عاقب ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
Ayah 33:41تفسیر 41۔ ، یایھا الذین آمنوا اذکر واللہ ذکرا کثیرا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ، ذکر کے علا وہ اللہ نے ہر فرض کی ایک حد مقررکردی ہے اور عذر کے وقت معذور لوگوں کو چھوڑدیا ہے مگر ذکر کی کوئی آخری حد مقرر نہیں کی اور سوائے دیوانہ کے کسی کو معذور نہیں قرار دیا بلکہ تمام حالتوں میں ذکر کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے، فاذکروا اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبکم ، اللہ کی یاد کروکھڑے بیٹھے اور پہلو کے بل لیٹے ہوئے اور فرمایا ہے، اذ کروا اللہ ذکرا کثیرا، اللہ کی یاد بکثرت کیا کرو، رات میں دن میں خشکی میں ، سمندر میں ، صحت میں ، بیماری میں پوشیدہ اور ظاہر۔ مجاہد نے کہا کہ ذکر کثیر یہ ہے کہ کبھی اللہ کونہ بھولے۔
Ayah 33:4242، وسبحوہ، اس کے لیے نماز پڑھو۔ ، بکرۃ ، صبح کی ، واصیلا، اور عصر کی ۔ کلبی کا بیان ہے کہ یعنی ظہر، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھو۔ مجاہد کا قول ہے کہ تسبیح سے مراد ہے ، سبحان اللہ ، والحمد للہ ، ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ، پڑھنا ۔ لفظ تسبیح تمام جملے مراد ہیں جن کو بطور تسبیح کے پڑھاجاتا ہے ۔ تسبیح تحمید تہلیل ، تکبیر وغیرہ ۔ بعض حضرات نے کہا کہ ، ذکر اکثیرا، سے مرادوہ الفاظ ہیں جن کو باو ضو بےوضو، جنبی اور محدث پڑھ سکتا ہے۔
Ayah 33:4343۔ ، ھو الذی یصلی علیکم وملائکتہ، کی صلوۃ کی نسبت اگر اللہ کی طرف کی جائے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے اور صلوۃ کی نسبت اگر فرشتوں کی طرف کردی جائے تو اس سے مراد استغفار ہوتا ہے مؤمنین کے لیے ۔ سدی کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ کیا ہمارا ر ب صلوۃ کرتا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ سوال بہت شاق گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی، ان سے کہہ دو کہ میں صلوۃ کرتا ہوں مگر میری صلوۃ بمعنی رحمت ہے جو ہر چیز کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔ بعض کے نزدیک اللہ کی بندے پر صلوۃ کا معنی ہے بندے کے ذکر خیر کو لوگوں میں پھیلانا۔ بعض نے کہا کہ اللہ کی طرف سے بندہ کی ثناء ہونا صلوۃ اللہ ہے بعض نے کہا کہ اس پر تعریف کرنا ۔
حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت، ان اللہ وملا ئکتۃ یصلون علی النبی ، نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ نے جو شرف خصوصیت کے ساتھ آپ کو عطا فرمایا ہم کو اس میں ضرور شریک فرمادیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ، لیخرجکم من الظلمات الی النور، کفر کی ظلمت سے نور ایمان کی ظلمت کی طرف نکال دیں ۔ یعنی اپنی رحمت اور ملائکہ کی دعا سے کفر و معاصی سے نکال کر ایمان و طاعات کے نور کی طرف ہمیشہ تم کو لاتارہتا ہے۔ ، کان بالمؤمنین رحیما،
Ayah 33:44تفسیر 44۔ ، تحیتھم ، مؤ منین کا سلام۔ ، یوم یلقونہ، جس دن وہ اللہ کو دیکھیں گے، یہ ہوگا۔ ، سلام ، اللہ کی طرف سے بطور تحیہ ان کو سلام کیا جائے گا اور اللہ ان کو تمام ناگوارباتوں سے امن و سلامتی میں رکھے گا۔
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں، تحیتھم یوم یلقونہ ، جس وقت ان سے ملک الموت ملے گا وہ کسی مؤمن کی روح اس وقت تک قبض نہیں کرتے جب تک اس پر سلام نہ بھیج دیں ۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا : جب ملک الموت مؤمن کی روح قبض کرنے کے لیے آتا ہے تو کہتا ہے، ان ربک یقرئک السلام ، کہ تمہارے رب نے تجھے سلام بھیجا ہے۔ بعض نے کہا کہ ملک الموت یہ کہتا ہے کہ تجھے فرشتے سلام بھیجتے ہیں اور قبروں سے نکالے جانے کے دن کی خو شخبر ی سناتے ہیں ۔ ، واعد لھم اجرا عظیما ، اس سے مراد جنت کی خوشخبری ہے۔
Ayah 33:4545، یا یھا النبی انا ارسلنا ک شاھدا ومبشرا ونذیرا، شاہد اسے مراد انبیاء کرام (علیہم السلام) کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی رسالت والا پیغام پہنچا دیا ہے۔ ، ومبشرا، اور انبیاء پر ایمان لانے والوں کو جنت کی خوشخبری دینے والے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو دوزخ سے ڈرانے والا۔
Ayahs 33:46–4746، وداعیا الی اللہ ، اس کی توحید اور اس کی طاعت کی طرف دعوت دینے والے ۔ ، باذنہ ، اس کے حکم سے ۔ ، وسراجا منیرا، رسول اللہ ﷺ کو روشن چراغ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح رات کی تاریکی میں چراغ جلایا جاتا ہے اور اس کی روشنی سے راستہ نظرآجاتا ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے بھی روشنی اور ہدایت حاصل کی جاتی ہے ۔
Ayah 33:4848، ولا تطع الکافرین والمنا فقین، اس کی تفسیر ماقبل میں اس سورة کی ابتداء میں ذکر کی جاچکی ہے۔ ، ودع اذا ھم ، حضرت ابن عباس ؓ عنما اور قتادہ کا قول ہے کہ ان کی اذیت پر صبر کرے ۔ زجاج کا بیان ہے کہ ان سے جھگڑ انہ کیجئے ان کو دکھ پہنچا نے کا خیال نہ کیجئے ، یہ قتال کی آیت سے منسوخ ہے ۔ ، و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا، وہی تمام امور کی حفاظت کرنے والا ہے۔
Ayah 33:4949، یایھا الذین آمنو ا اذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن، یہ آیت اس بات پر دلا لت کرتی ہے کہ طلاق نکاح سے پہلے واقع نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح پر مرتب کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی غیر عورت سے اس طرح کہا ہے کہ جب میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے ۔ پھر اس سے نکاح کرلیا تو نکاح سے پہلے دی ہوئی طلاق کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور اگر اس طرح کہا کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اسے طلاق ہے پھر کسی عورت سے نکاح کرلیا تو طلاق واقع ہوگئی ۔ یہ قول حضرت علی ، حضرت ابن عباس ، حضرت جابر، حضرت معاذ ، حضرت عائشہ صدیقہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ہے۔ سعید بن مسیتب ، سعد بن جبیر عروہ قاسم طاؤس عکرمہ عطاء سلیمان بن یسار مجاہد شعبی قتادہ اور اکثر علماء رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔
حضرت امام شافعی (رح) اسی کے قائل ہیں ۔ حضرت ابن مسعو دؓ سے روایت ہے کہ ان دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوجائے گی ۔ یہ قول ابراہیم تخعی اور اصحاب الرائے کا ہے اور ربیعہ مالک اور اوزاعی کا قول ہے کہ معین عورت کو توطلاق واقع ہوجائے گی۔
عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لوگوں نے ابن مسعود ؓ کی طرف غلط نسبت کی ہے اور اگر واقعی انہوں نے کسی معین عورت کے متعلق کہاہو کہ فلاں عورت سے میں نکاح کروں تو اسے طلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے، یایھا الذین امنوا اذانکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن ، اس نے ، اذا طلقتموھن ثم نکھتموھن ، نہیں فرمایا۔
امام شافعی (رح) کے مسلک کی تائید کے لیے ایک حدیث نقل کی ہے جو حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی ۔ ، من قبل ان تمسوھن، مس سے مراد جماع ہے ۔ ، فما لکم علیھن من عد ۃ تعتدونھا، تم اس کو شمار کرو حیض کے ساتھ یا مہینوں کے اعتبار سے ، فمتعوں ھن، ان کو تم دو کہ تم نے ان سے فائدہ اٹھا یا ہے۔ حضرت عباس ؓ نے فرمایا یہ حکم اس وقت ہے جب مہر کی مقدار مقررنہ کی ہو، اگر مہر مقرر ہو تو آدھا واجب ادا ہوگا ۔ متاع لازم نہیں ہوگا۔
قتادہ کا بیان ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے ، آیت، فنصف مافرضتم، اس کی ناسخ ہے دونوں قولوں کا مال ایک ہی ہے کہ اگر بغیر جماع کیے کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مہر کی مقرر مقدار تھی تو آدھا مہردیا جائے گا۔ اس صورت میں متعہ نہ واجب نہ مستحب ۔ بعض کے نزدیک نصف مہر کے ساتھ متعہ مستحب ہے۔ اس قول کی بنیا دپر متعوھن کا امراستحباب کے لیے ہوگا۔ ، وسرحوھن سراجا جمیلا، اور ان کے راستے کو اچھے طریقے سے چھوڑ دوبغیر کسی تکلیف و نقصان دینے کے ۔
Ayah 33:50تفسیر 50، یایھا النبی انا احللنالک ازواجک اللاتی آتیت اجورھن، اس سے مراد مہر ہے۔ ، وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک ، اس آیت میں کفار پر رد ہے۔ کفار یہ کہتے تھے کہ ان کو پہلے قید کیا، پھر ان سے نکاح کرایا جیسے صفیہ اور جو یریہ جبکہ حضرت ماریہ کسی جہاد سے گرفتارکرکے نہیں لائی گئی تھیں بلکہ مقو قس شاہ مصر نے بطور ہدیہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ان کو بھیجا تھا۔ ، وبنا ت عمک وبنات عماتک ، اس سے مراد قریش کی عورتیں ہیں ۔ ، وبنات خالک وبنات خالاتک ، خاندان بنوزہرہ کی بیٹیاں۔ ، اللاتی ھاجرن معک ، جنہوں نے مدینے کی طرف ہجرت کی اور جن عورتوں نے ان میں سے کسی عورت کے ساتھ ہجرت نہیں کی اور مدینہ آئی، ان سے رسول اللہ ﷺ کا نکاح جائز نہیں تھا۔
حضرت ابوصالح کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ام ہانی بنت ابو طالب نے فرمایا جب مکہ فتح ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ۔ میں نے معذرت کی، آپ ﷺ نے مراعذر قبول کرلیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو میں رسول اللہ ﷺ کے لیے حلال ہی نہیں رہی کیونکہ میں مہاجرات میں سے نہیں تھی ، طلقاء میں سے تھی۔ پھر ہجرت کی شرط منسوخ ہوگئی ۔ آپ ﷺ کے حلال ہونے کے لیے۔
، وامراۃ مؤ منۃ ان وھبت نفسھا اللنبی ان اراد النبی ان یستنکحھا خالصۃ لک من دون المؤمنین ، یعنی آزاد عورت اپنے آپ کو بغیر مہر کے آپ ﷺ کے لیے حلال کردے اور اگر کوئی غیر مسلمہ خوا پنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے لیے ہبہ کردے تو آپ کے لیے اس کو نکاح میں لانا جائز نہیں تھا۔
آیت وامرأۃ مومنہ کی تفسیر
علماء مفسرین کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں کہ کسی غیرمسلمہ سے رسول اللہ ﷺ کا نکاح جائز تھا یا نہیں تھا ، علماء کی ایک جماعت عد م جواز کی قائل ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے ، وامر اۃ مؤ منۃ، فرمایا ہے اور ، ھاجرن معک ، کا معنی ، اسلمن معک، سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلمہ عورتوں سے نکاح حضور ﷺ کے لیے حلال نہیں کیا گیا۔
نکاح کن الفاظ سے منعقد ہوتا ہے
اور اسی طرح نکاح منعقد ہوجاتا ہے اپنے آپ کو کسی کے لیے ہبہ کرنے کے ساتھ بغیر ولی اور بغیر گواہوں اور بغیر مہر کے ۔ البتہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان کو نکاح میں لانے کا ارادہ ضروری ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے :، خالصۃ لک من دون المؤمنین، چارشادیوں سے اوپر اور نکاح میں لانے کا ارادہ ضروری ہے ۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے : اہل علم کا اس بات میں اختلاف ہے کہ باندی اپنے آپ کو ہبہ کردے تو اس کا کیا حکم ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک اس کے اور یہی قول ربیعہ مالک اور شافعی کا ہے اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے لفظ ہبہ تملیک کے ساتھ ۔ یہ قول ابراہیم نخعی اور اہل کوفہ کا ہے اور جن حضرات نے کہا کہ اس کا نکاح نہیں منعقد ہوگا مگر لفظ نکاح اور تزویج کے ساتھ۔
نبی کریم ﷺ کے نکاح کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا ان کے ساتھ بھی لفظ ہبہ کے ذریعے سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے یا نہیں۔ بعض حضرات کے نزدیک منعقد ہوجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، خالصۃ لک من دون المؤمنین ، دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا مگر لفظ نکاح اور لفظ تزویج کے ساتھ باندی کے حق میں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ان اراد النبی ان بستکحھا، آپ ﷺ کے ساتھ اختصاص مہر کے بغیر قبول کرنے میں ہے نہ کہ لفظ نکاح کے ساتھ۔
آئمہ کرام کا اس بات میں اختلاف ہے کہ کیا آپ ﷺ کے پاس بیویوں کے موجود ہونے کے باوجود کوئی عورت اپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کردے تو وہ قبول کرسکتے ہیں یا نہیں ۔ عبد اللہ بن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس اس وقت کوئی عورت نہیں تھی جب ان کے لیے ہبہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی عورت ان کے پاس آئی ۔ عقد نکاح یا ملک یمین کے سبب۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، ان وھبت نفسھا ، یہ شرط ہے اور اس کی جزاء یہی ہے جو ماقبل میں گزرچکی ہے ۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ہبہ شدہ عورتیں موجود تھیں ۔ اس بارے میں بھی آئمہ مفسرین کا آپس میں اختلاف ہے کہ امام شعبی کا قول ہے کہ یہ حضرت زینب بنت خزیمہ الہلا لیہ ہیں ، ان کو ام المسا کین بھی کہا جاتا ہے۔
قتادہ کا بیان ہے کہ یہ میمونہ بنت حارث ہیں ۔ علی بن الحسین، ضحاک اور مقاتل کے نزدیک یہ ام شریک بنت جابر ہیں جو قبیلہ بنواسد سے ہیں ۔ عروۃ بن زبیر کا قول ہے کہ یہ خولہ بنت حکیم قبیلہ بنو سلیم سے تھیں ۔ (یہ وہ عورتیں تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کے لیے ہبہ کردیا تھا) ۔
، قد علمنا مافرضنا علیھم ، یعنی مؤ منین پر جو کچھ ہم نے واجب کردیا۔ ، فی از واجھم ، اپنی بیویوں کے متعلق جو احکام ان پر نازل کردیئے کہ تم چار سے زائد عد عورتیں بیک وقت نہیں رکھ سکتے ، وہ بھی ولی اور گواہوں اور مہر سے ۔ ، وما ملکت ایمانھم، اور وہ احکام جو ہم تمہارے اوپر ملک یمین کے ذریعے واجب کیے ہیں ۔ ، لکیلا یکون علیک حرج ، یہ آیت اول سورة کی اس آیت کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ، احللنا لک ازواجک ـ وما ملکت یمینک ، یہ تمہارے لیے ہبہ ہے تا کہ آپ کسی حرج یا تنگی میں مبتلا نہ ہوں۔ ، وکان اللہ غفورارحیما،
Ayah 33:5151، ترجی ، تم اس کو مؤ خر کرو۔ ، من تشاء منھن وتووی ، اور تمہاری طرف اس کو ملائے۔
ترجی من تشاء کی تفسیر
، الیک من تشاء ، اس آیت میں اہل تفسیر کا اختلاف ہے۔ سب زیادہ مشہور قول یہ ہے کہ اس آیت کا نزول باری تقسیم کرنے کے سلسلہ میں ہوا۔ پہلے عورتوں میں برابری کرنا رسول اللہ ﷺ پر واجب تھا ، اس آیت کے نزول کے بعد برابری رکھنے کا حکم ساقط کردیا گیا اور عورتوں کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کو پورا اختیار دے دیا گیا۔
ابو زید اور ابن زید نے کہا اس آیت کا نزول اس وقت ہواجب بعض امہات المؤمنین نے رسول اللہ ﷺ کے سلسلہ میں رشک کیا اور بعض نے زیادہ مصارف طلب کیے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک سب سے ترک تعلق کرلیا تھا یہاں تک کہ آیت تخییر نازل ہوئی اور اللہ نے حکم دے دیا کہ عورتوں کو اختیار دے دو کہ وہ دنیا کو پسند کرلیں یا آخرت کو جو دنیا کو پسند کریں ان کے راستہ میں رکاوٹ نہ پیداکرو (ان کو آزاد کردو) اور جوا للہ اور اس کے رسول ﷺ کو اختیار کریں ان کو اپنے پاس رکھو لیکن شرط یہ ہے کہ اللہ کے رسول کو اختیار ہوگا کہ ان میں سے جس کو چاہیں گے رسول اللہ ﷺ اپنے پاس رکھیں گے اور جس کو چاہیں گے دور رکھیں گے ۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ جس کی باری چاہیں مقرر کریں ، چاہیں نہ کریں اور مصارف و باری کی تقسیم میں جس کو چاہیں ترجیح دیں ، یہ سارے اختیا رات رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہوں گے۔ یہ خصوصیت صرف رسول اللہ ﷺ کو عطاکی گئی تھی۔ امہات المؤمنین نے یہ تمام شرائط مان لیں اور ان شرائط پر آپ کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئیں۔
اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کیا کسی بیوی کو باری کی تقسیم سے خارج کردیا تھا یا نہیں ؟ اس میں روایات کا اختلاف ہے۔ بعض کا قول ہے کہ باوجود کامل اختیار مل جانے کے رسول اللہ ﷺ نے سوائے حضرت سودہ کے اور کسی بیوی کو باری کی تقسیم سے خارج نہیں کیا۔ حضرت سودہ خو اپنے حقوق سے دستبر دار ہوگئیں اور انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کودے دیا۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ اختیار ملنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بعض بیویوں کو باری کی تقسیم سے خارج کردیا تھا۔ ابن جریرنے بوساطت منصور ابورزین کی روایت بیان کی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو امہاتالمؤ منین کو اندیشہ ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ ہم کو طلاق دے دیں لیے سب نے کہا کہ یارسول اللہ ! (ﷺ) آپ اپنی ذات میں اور مال میں جتنا چاہیں ہم کو دیں اور ہم کو ہمارے حال پر رہنے دیں (طلاق نہ دیں) اس پر آیت ، ترجی من تشاء الخ، نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے بعض عورتوں کو پیچھے ڈال دیا اور بعض کو اپنے قرب میں رکھا جن کو قریب رکھا، ان میں عائشہ ، حفصہ اور ام حبیبہ ، سودہ ، صفیہ ، میمونہ جویریہ ؓ ۔ ان کے لیے جب آپ چاہتے تھے باری تقسیم کردیتے ہے۔
مجاہد نے کہا، ترجی من تشاء منھن ، کا مطلب یہ ہے کہ آپ جس بیوی سے بغیر طلاق دیئے کنارہ کش رہنا چاہیں کنارہ کش رہیں اور کنارہ کش ہونے کے بعد اگر پھر اس کو بغیر تجد ید نکاح کے اپنے پاس واپس لانا چاہیں تو لاسکتے ہیں۔
بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اپنی امت کی جس عورت سے آپ نکاح کرنا چاہیں ، کرسکتے ہیں اور نکاح نہ کرنا چاہیں تو نہ کریں ۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ جب کسی عورت کو اپنا پیام بھیجتے تھے تو جب تک خود ہی اپنے پیام سے دستبر دار نہ ہوجائیں ، کسی دوسرے شخص کے لیے اس عورت کو پیام بھیجنا جائزنہ تھا۔
بعض نے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ جو مؤ من عورتیں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کردیں آپ ان میں سے جس کو چاہیں قبول کرلیں اور اپنے پاس جگہ دیں اور جس کو قبول نہ کرنا چاہیں رد کردیں ۔
ہشام نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جن عورتوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے لیے ہبہ کردیا تھا، ان میں سے خولہ بنت حکیم بھی تھیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : کیا عورت کو شرم نہیں آتی کہ مرد کے لیے اپنے کو ہبہ کرتی ہے ؟ پھر جب آیت ، توی الیک من تشاء منھن الخ، نازل ہوئی تو انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کا رب آپ خواہش جلد پوری کردیتا ہے۔
، ومن ابتغیت ممن عزلت فلاجناح علیک ، اور جن سے آپ کنارہ کش ہوگئے ، اگر ان میں سے پھر کسی کو طلب کرلیں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ یعنی جن بیویوں کو (بغیر طلاق کے) آپ نے اپنے سے دور کردیا تھا، اگر ان میں سے کسی کو پھر اپنے پاس رکھنا چاہیں تو کوئی گناہ نہیں۔
، ذلک ادنی ان تقر اعینھن ولا یحزن ویرضین بما اتیتھن کلھن ، اس میں زیادہ تو قع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ آزدہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی آپ ان کودے دیں گے اس پر سب کی سب راضی رہیں گی۔
، ذلک، یعنی یہ اختیار جو آپ کو دیا گیا ہے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی رکھنے اور آزردہ خاطرنہ ہونے اور سب کے راضی رہنے سے بہت زیادہ قریب (تعلق رکھنے والا) ہے کیونکہ اس میں سب برابر ہیں (سب کا اختیار آپ کو ہے کوئی خود مختار نہیں رہی) پھر اگر آپ ان میں سے کسی کو اپنے پاس بلالیں گے تو وہ آپ کے اس فعل کو آپ کی مہربانی سمجھے گی اور جس سے کنارہ کش ہوجائیں گے تو وہ اس کو حکم خدا سمجھے گی بلکہ اس میں بھی آپ کی مہربانی سمجھے گی کہ آپ نے اس کو صرف اپنے قرب سے ہٹا دیا نکاح سے تو خارج نہیں کیا حالانکہ آپ کو اس کی ضرورت نہیں تھی (طلاق دے سکتے تھے) ۔
، اللہ یعلم مافی قلوبکم ، اور اللہ کو تم لوگوں کے دلوں کی باتیں معلوم ہیں ۔ اس میں اس بی بی کے لیے وعید ہے جو رسول اللہ ﷺ کی منشاء پر راضی نہ ہو۔
بعض اہل علم نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تمہارے دلوں کے اندر جو بعض عورتوں کی طرف جھکاؤاور میلان ہوتا ہے اللہ اس سے واقف ہے اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کی آسانی کیلئے یہ اختیاران کو دے دیا ہے۔