33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 33:10

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

تفسیر 10۔ ، اذوکم من فوقکم، یعنی مشرق کی طرف سے وادی کی بالائی جانب سے ۔ یہ آنے والے بنی اسد بنی غطفان اور بنوقریظہ تھے۔ مالک بن عوف نصری اور عینیہ بن حصین فزاری ایک ہزار غطفانیوں کو لے کرمشرق کی طرف سے چڑھ آئے تھے۔ طلحیہ بن خویلداسدی بھی قبیلہ بنی اسد کو لے کر ان کے ساتھ موجود تھا۔ بنوقریظہ کالیڈرحیی بن اخطب تھا۔ ، ومن اسفل منکم، یعنی بطن وادی سے مغرب کی طرف سے بنی کنانہ اور قریش ان کے ساتھ آئے تھے۔ ابوسفیان ان کا کمانڈر تھا اور ابوالا عور عمروبن سفیان سلمی خندق کی جانب تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ ﷺ کو غزوہ خندق کی طرف آنے پر مجبور کیا، وہ بنی نضیر کا جلاوطن ہونا۔ ، واذزاغت الا بصار، جب اس کی طرف مائل ہوئے ۔ بعض نے کہا کہ وہ ہر چیز کی طرف مائل ہوئے ، وہ صبح کے وقت ان کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ ْْ ، وبلغت القلوب الحناجر، خوف کی وجہ سے پیپھڑے حلق کی طرف آنے لگے ، کلیجہ کا منہ کو آنا ایک مثل ہے جو شدت خوف کو ظاہر کرتی ہے۔ فراء کا قول ہے کہ جب وہ بزدل ہوئے اور ان پر خوف کا غلبہ پیدا ہوا جس کی وجہ سے ان کے پھیپڑے پھولنے لگے اس پھولنے کی وجہ سے دل اوپر کو حلق کی طرف اٹھنے لگتا ہے ۔ کلیجہ کا منہ کو آنا ایک شدت اور خوفناکی کی وجہ سے ہے ۔ ، وتظنون باللہ الظنونا، ظن کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ منافق گمان کرنے لگے تھے کہ اب محمد ﷺ کی اور مسلمانوں کی جڑاکھڑ جائے گی اور پختہ ایمان والے اللہ کے وعدے کو سچا جانتے تھے اور فتح اور ظفر کا ان کو یقین تھا اور ضعیف الایمان لوگ تذبذب میں مبتلاہوگئے تھے کہ جانے کیا ہوگا۔ قراء اہل مدینہ اور شام اور ابوبکر نے ، الظنونا، الف کے اثبات کے ساتھ پڑھا ہے وصلا بھی پڑھا ہے اور وقفا بھی پڑھا ہے کیونکہ مصاحف میں الف کے ساتھ مثبت ہے۔ قراء اہل بصرہ اور حمزہ نے بغیر الف کے ساتھ پڑھا ہے ۔ دوسرے قراء نے الف کے ساتھ حالت وقف میں پڑھا ہے وصل کی حالت میں نہیں۔
Ayah 33:11

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے

تفسیر 11۔ ، ھنالک ابتلی ، اس موقع پر مسلمانوں کا امتحان لیا گیا اور ان کو سخت جھنجھوڑدی گئی۔ ، المؤمنون، امتحان اس لیے لیا گیا تا کہ مخلص مسلمان ، ایمان والوں کو چھانٹ لیا جائے اور منافقوں کو اور کمزور ایمان والوں کو الگ کردیا جائے ۔ ، وزلزلوا زلزالا شدیدا، اور ان کو سخت جھنجھوڑدی گئی۔
Ayah 33:12

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ خدا اور اس کے رسول نے تو ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا

12، واذیقول المنا فقون ، یہ منافق معتب بن قشیر اور عبداللہ بن ابی وغیرہ تھے۔ ، والذین فی قلوبھم مرض، وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور اپنے اعتقاد کی کمزوری کی وجہ سے ، ماوعدنا اللہ ورسولہ الا غرورا، یہ اہل نفاق کا قول ہے کہ منافقوں نے کہا تھا کہ محمد ﷺ ہم کو ملک شام اور فارس کے محلات کی فتح کا وعدہ دے رہے ہیں باوجود یکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ڈر کے مارے ہم میں سے کوئی بھی اپنے پڑاؤ سے ہٹ نہیں سکتا۔ خدا کی قسم یہ وعدہ محض فریب ہے۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی کہ اے اہل مدینہ (یہاں) تمہارے لئے (ٹھہرنے کا) مقام نہیں تو لوٹ چلو اور ایک گروہ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگنے اور کہنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے

13، واذقالت طائفۃ منھم، اس سے مراد منافق ہیں۔ اوس بن قبطی اور ان کے دوست ہیں ۔ ، یا اھل یثرب ، اس دے مراد مدینہ ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا یثرب ایک قطعہ زمین کا نام ہے جس کے ایک حصہ میں مدینہ الرسول واقع ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کو یثرب کہنے کی ممانعت فرمائی اور ارشاد فرمایا یہ طابہ ہے ۔ حضور ﷺ نے مدینہ کو یثرب کہنا اس لیے پسند نہیں فرمایا کیونکہ یثرب کا لفظ ثربہ یثربہ سے مشتق ہے، ان کا معنی ملامت کرنا عار دلانا کسی جرم پر ذلیل کرنا۔ ، لامقام لکم ، کہ تمہارے لیے کوئی مکان نہیں ہے کہ جس میں تم اتر تے ہو اور اس میں قیام کرتے ہو۔ ، فارجعوا، اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤاور محمد ﷺ کی رفاقت چھوڑ دویایہ مطلب ہے کہ اسلام پر تمہارا قیام نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے شرک کی طرف لوٹجاؤبعض نے کہا کہ قتال سے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ ، ویستاذن فریق منھم النبی، اور وہ بنوحارثہ اور بنوسلمہ ہیں ۔ ، یقول لون ان بیوتنا عورۃ، کہ ہمارے گھرخالی ہیں ۔ ان پر دشمن کا حملہ ہوسکتا ہے اور چور بھی آکر مال لے جاسکتے ہیں ۔ ابو رجاء عطاردی نے (عورۃ) واؤ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ہمارے گھروں کی دیواریں چھوٹی چھوٹی ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے گھروں میں چور آسانی سے داخل ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور فرمایا :، وماھی بعورۃ ان یر یدون الا فرارا، ان کاراردہ بھاگ جانا ہے۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر ان سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً ) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں

تفسیر 14، ولودخلت علیھم ، اور اگر مدینہ میں ان کے اطراف میں سے کوئی ان پر آگھسے پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرورفتنہ کے مرتکب ہوجائیں ۔ ، من اقطارھا، مدینہ کے جوانب اور آس پاس سے اقطار ھا جمع ہے قطر کی۔ ، ثم سئلو ا الفتۃ ، فتنہ سے مراد شرک ہے۔ ، لاتوھا ، تو یہ ضرور کسی فتنہ کے مرتکب ہوجائیں گے۔ قراء اہل حجاز نے اس کی قرأت ، لاتوھا، مقصود پڑھی ہے۔ ، وما تلبثوابھا، جب تک ان کو فتنہ سے روک دیاجائے۔ ، الا یسیرا، وہ شرک کی اجابت کی طرف جلدی کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کے دل کو اچھی لگتی ہے۔ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حسن اور فراء کا قول ہے مدینہ میں صرف تھوڑی مدت ٹھہریں پھر انکو جلاوطن کردیاجائے یا ہلاک کردیا جائے۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کرچکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اس) کی ضرور پرسش ہوگی

15، ولقد کانواعا ھدوا اللہ من قبل، غزوہ خندق سے پہلے ۔ ، لایولون الا دبار، دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ یز یدبن رومان کا بیان ہے کہ جنگ احد کے دن بنی حارثہ نے ارادہ کیا کہ بنی سلمہ کو قتل کردیں گے لیکن جب ان کے حق میں آیت کا نزول ہواتو انہوں نے عہد کیا کہ آئندہ ایسی نہیں کریں گے ۔ قتادہ کا بیان ہے کہ کچھ لوگ غزوہ بدر سے غیر حاضر تھے لیکن جب انہوں نے اہل بدر کی خداداد عزت و برتری دیکھی تو کہنے لگے کہ آئندہ اگر اللہ نے ہم کسی لڑائی میں شریک ہونے کی توفیق دی تو ہم ضرور ضرور لڑیں گے انہی لوگوں کی طرف اللہ نے آیت مذکورہ میں اشارہ کیا ہے۔ لیۃ العقبہ میں بیعت کرنے والے صحابہ کی تعداد مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ وہ ستر افراد تھے جنہوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر لیلۃ العقبہ میں بیعت کی تھی ۔ ان ستر آدمیوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے بارے میں اور اپنے بارے میں کوئی شرط رکھیں جو آپ چاہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے تمہارے لیے یہ شرط (عہد ) لگاتاہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہارا عہد میرے لیے یہ ہے کہ جس چیز سے میں تمہیں روکوں اس چیز سے تم اپنے آپ کو بھی روکو اور اپنے گھروالوں کو اور اپنی اولاد کو بھی روکو۔ وہ کہنے لگے جب ہم ایسا کرلیں گے تو پھر ہمارے لیے کیا ہوگا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا میں تمہاری مدد اور آخرت میں تمہارے لیے جنت ہوگی ۔ وہ کہنے لگے ہم نے ایسا کردیا ہمارا آپ سے عہد ہے ۔ یہ بات ہم اپنی مرضی سے نہیں کہہ رہے کیونکہ لیلہ العقبہ میں سترا فراد نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی نہ اس میں کسی قسم کا شک ہے اور نہ کوئی ان کی طرح ایسی بات کرتا ہے ۔ پس یہ آیت اسی قوم کے متعلق نازل ہوئی جس نے اللہ کے عہد کی نافرمانی کی اورا پنے وعدہ کو توڑدیا۔ ، وکان عھد اللہ مسئولا، اور عہد کے متعلق ان سے پوچھا جائے گا۔
Ayah 33:16

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے جانے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے

16، قل ، ان سے کہہ دیجئے ، لن ینفعکم الفرار ان فرر تم من من الموت او القتل ، تم پر جو کچھ لکھا جا چکا ہے کیونکہ جس کی مدت پوری ہوجاتی ہے تو وہ از خود اپنی موت مرجاتا ہے یا وہ میدان جہاد میں قتل ہوجاتا ہے۔ ، واذا لا تمتعون الا قلیلا، دنیا میں زندہ رہ کر تم تھوڑی مدت تک یا تھوڑاسامزہ حاصل کرسکو گے ۔ دوسرامطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض میدان جنگ سے فرار تمہارے لیے مفید بھی ہو تو یہ فائدہ زیادہ مدت تک باقی نہ رہتا کیونکہ دنیا بہرحال فناء ہونے والی ہے۔
Ayah 33:17

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے (تو کون اس کو ہٹا سکتا ہے ؟ ) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو اپنا نہ دوست پائیں گے اور نہ مددگار

17، قل من ذا الذی یعصمکم من اللہ ، کون ہے جو تمہیں میرے عذاب سے بچائے ۔ ، ان ارادبکم سوئ، مسوء سے مراد شکست ہے۔ ، اوارادبکم رحمہ، رحمت سے مراد نصرت ہے۔ ، ولا یجدون نھم من دون اللہ ولیا، قریب جو ان کو نفع دے۔ ، ولا نصیرا، جو ان کو عذاب سے بچا نے کے لیے مددگار ہو۔
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

خدا تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو (لوگوں کو) منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کم

18، قد یعلم اللہ المعوقین منکم، وہ منافق جو لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دینے اور ہمراہ رہنے سے روکتے تھے۔ ، والقائلین لا خوانھم ھلم الینا، وہ کہتے کہ ہماری طرف آجاؤاور محمد (ﷺ) کو چھوڑ دوان کے ساتھ جنگوں میں شریک نہ ہو، ہم کو تمہارے مارے جانے کا اندیشہ ہے ۔ قتادہ کا بیان ہے کہ یہ لوگ منافق تھے جو انصار کو رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دینے سے روکنے تھے اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی گوشت کی طرح ہیں۔ ابوسفیان اور ان کے ساتھی ان کو لقمہ بنالیں گے۔ یہ شخص تو تباہ ہونے والا ہی ہے اس کو چھوڑدو۔ مقاتل کا بیان ہے کہ یہود یوں نے منافقین کے پاس پیغام بھیجا اور کہا تم ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھ سے اپنے آپ کو کیوں قتل کرانا چاہتے ہو، اس بار اگر ابوسفیان اور اس کے ساتھی قابو پاگئے تو ہم سے ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے تم لوگ ہمارے بھائی ہو ہمارے ہمسائے ہو ہم کو تمہارے متعلق اندیشہ ہے ہمارے ساتھ آملو۔ یہ پیغام سن کر عبد اللہ بن ابی بن ابی اپنے ساتھیوں کو لے کر مؤمنوں کی طرف متوجہ ہوا ان کو شرکت جنگ سے روکنے لگا اور ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کا خوف مسلمانوں کے دلوں میں بٹھا نے لگا ان منافقوں نے مسلمانوں سے کہا ، اگر ابوسفیان وغیرہ نے تم پر قابوپالیا تو تم میں سے ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے تم کو محمد (ﷺ) سے کیا الالچ ہے ان کے پاس تو خیر نہیں ہے۔ بس وہ تو تم کو قتل کرانا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ مل کر ہمارے بھائیوں یعنی یہودیوں کے پاس چلے جاؤ، منافقوں کے اس اغواء سے مسلمانوں کے ایمان میں کوئی کمزوری نہیں آئی بلکہ ایمان کی پختگی اور ثواب کی امید اور بڑھ گئی۔ اسی کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں ، ولا یا تون الباس، با س مراد جنگ ہے۔ ، الا قلیا ، مگر تھوڑے سے وہ بھی ریا اور دکھا وے کیلئے اگر یہ قلیل بھی اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہوجاتے تو کثیر ہوجاتے۔
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) انکی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دئیے اور یہ خدا کو آسان تھا

تفسیر 19، اشحۃ علیکم ، اللہ کے راستے میں دینے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں فقرنہ آجائے یا تمہاری فتح اور مال غنیمت حاصل ہوجانے میں بڑی کنجوسی کرتے ہیں ۔ ، فاذا جاء الخوف رائیتھم ینظرون الیک تدور اعینھم ، وہ آپ کو دیکھتے ہیں خوف وبزدلی کے باعث ۔ ، کالذی یغشی علیہ من الموت ، گویا کہ ان پر بیہوشی طاری ہے موت کے باعث ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب موت آجاتی ہے اور عقل ٹھکا نے پر نہیں رہتی اور اس کی آنکھیں ایک جگہ کھڑی ہوتی ہیں وہ دوسری طرف نہیں دیکھتے ۔ ، فاذا ذھب الخوف سلقوکم ، جب ان سے خوف دور ہوجاتا ہے وہ اذیت دینا شروع کردیتے ہیں ۔ ، بالسنۃ حداد، جمع ہے حدید کی ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے یعنی تمہاری تنقیص کرتے ہیں تمہاری غیبت کرتے ہیں ۔ قتادہ کا بیان ہے کہ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت تم سے زبان درازی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم لڑائی میں تمہاریساتھ تھے تم ہم سے زیادہ مال غنیمت کے حق دار نہیں ہو۔ گویا وہ مال غنیمت کے وقت کنجوس اور لڑائی کے وقت بزول ہیں ۔ اشحۃ علی الخیر، مال غنیمت کے وقت ہومؤمنین پر حرص کرتے ہیں۔ ، اولئک لم یؤمنوافاحبط اللہ اعمالھم، مقاتل نے اس کا معنی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جہاد کو باطل کردیا۔ ، وکان ذلک علی اللہ یسیرا،
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

(خوف کے سبب سے) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں رہیں (اور) تمہاری خبریں پوچھا کریں اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم

20، یحسبون، یہ لوگ منافقین ہیں ۔ ، الا حزاب ، اس سے مراد قریش غطفان کے یہود ہیں۔ ، لم یذھبوا، کہ وہ قتال سے نہیں پھرے بزولی اور جماعت درجماعت حالانکہ وہ پھر چکے ہیں۔ ، وان یاتی الا حزاب ، اگر وہ بھاگئے کے بعد دوبارہ قتال کرنے کے لیے آجائیں ۔ ، یودوالم انھم بادون فی الا عراب ، اگر وہ گروہ دوبارہ آجائیں تو پھر یہ پسند کریں کہ کاش ہم یہاتوں میں باہر صحراء میں جارہے ہیں ۔ ، یسالون عن انبائکم ، وہ خبریں پوچھتے رہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کیا ہوا۔ یعقوب نے اس کو ، یساء لون ، پڑھا ہے تشد ید اور مد کے ساتھ اور وہ اس کے بارے میں پوچھتے ۔ ، ولو کانو، اگر یہ منافقین ، فیکم ماقاتلو ا الا قلیلا، تھوڑاسا بھی قتال کرتے تو ان کا عذرباقی رہتا تو یہ شوراٹھا تے کہ ہم نے تو قتال کیا۔ کلبی نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ اگر یہ تھوڑے س بھی پتھر پھینک دیتے ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اگر یہ تھوڑاسا بھی قتال کرتے تو دکھا و اور ریا ہے۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو

تفسیر 21، لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ، عاصم نے ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں دولغتیں ہیں بمعنی قدوۃ یعنی طریقہ جس کی اقتداء کی جائے اس جگہ مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں تمہارے لیے خصائل حمیدہ موجو دہوں ۔ بعض نے کہا کہ قدوۃ اقتداء سے بنا ہے یہ اسم ہے جو مصدر کے قائم مقام ہے ۔ یعنی تم لوگوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اچھی ہمدردی لازم ہے جیسے رسول اللہ ﷺ نے دین کی مدد کی تم بھی ویسی دین کی مدد کرتے ہو۔ ان کا دانت مبارک جنگ میں شہید ہوا ان کو طرح طرح کی اذ یتیں پہنچائی گئیں مگر انہوں نے ہر دکھ پر صبر کیا اور تمہاری ہمددی کی۔ لہٰذ اتم بھی ان کی طرح مصائب وشدائد صبر کرو اور ان سے ہمدردی کرو اور ان کے طریقے پر چلو۔ ، لمن کان یرجو اللہ ، لکم کے بدلے میں لمن ذکر کیا تخصیص بعد العمیم کے لیے ، کہ پہلے مؤمنین کے لیے خاص کیا ، ان لوگوں کے لیے جو ایام اللہ خصو صاروز آخرت کی امید رکھتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اللہ کے ثواب اور اس کی ملاقات اور نعمت آخرت کا امید وار ہے ۔ مقاتل نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اور روز حشر سے جبکہ اعمال کا بدلہ ملے گا۔ ، والیوم الا خروذکر اللہ کثیرا، جو قیامت کے دن سے ڈراجس دن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور تمام مواطن میں اللہ کا ذکر کیا خواہ وہ خوشی میں ہو یا تنگی میں۔ پھر اس کے بعد مؤمنین کے وصف کی حالت کو بیان کیا جب وہ جنگ احزاب میں کافروں سے ملے۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی

22، ولما رأی المؤمنون الا حزاب قالوا، اللہ تعالیٰ کے حکم کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس کے وعدہ کو سچا جانتے ہوئے۔ ، ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ، جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا ، اس کا تذکرہ سورة بقرہ کے اندر بھی گزرچکا ہے۔ ، ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یا تکم مثل الذین خلوامن قبلکم، سے لے کر، الا ان نصر اللہ قریب، آیت میں یہ آتا ہے کہ جب مؤمنین اس مصیبت کو پہنچیں گے جبوہ جنگ احزاب میں پہنچے اور ان کو سختی پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے سچ کردکھایا۔ ، وما زادھم الا ایما نا وتسلیما ، اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے اور اس کے حکم کو تسلیم کرتے ہوئے ۔
Ayah 33:23

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار انہوں نے خدا سے کیا تھا اسکو سچ کر دکھایا تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا

23، من المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ ، یعنی ہم اللہ کے عہد پر ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کے وعدہ کو سچ کردکھائیں گے (پوراکریں گے) ۔ ، فمنھم من قضی نحبہ، جو اپنی نزر سے فارغ ہوگیا اور اپنے وعدے کو پورا کیا اور جہاد پر ثابت قدرہا ۔ یہاں تک کہ وہ کہ وہ شہید ہوگیا ۔ نحب کا معنی نذر بھی ہے اور موت بھی ۔ ، قضی نحبہ ، اس نے اپنی میعاد زندگی پوری کرلی یعنی مرگیا۔ نحب اگر بمعنی موت لیا جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ اس نے اپنا عہد پورا کردیا اور اسی حالت میں اس کو موت آگئی جیسے حضرت حمزہ ؓ اور ان جیسے صحابہ ۔ بعض علماء کے نزدیک ، قضی نحبہ، کا معنی یہ ہے کہ اس نے ایفائے عہد کے لیے اپنی پوری کوشش صرف کردی۔ عرب کا قول ہے ، نحب فلان مسیر ہ یومہ ولیلۃ، اس نے شب وروز چلنے میں اپنی پوری کوشش خرچ کردی ۔ محمد بن اسحاق نے اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ ، فمنھم من قضی نحبہ، سے مراد جو جنگ بدر اور احد میں شہید ہوئے اور ، ومنھم من ینتظر، سے مراد وہ مؤمنین ہیں جنہیں ان جنگوں میں شہادت نہیں ملی وہ دوامور میں سے ایک کا انتظار کرنے لگے ۔ شہادت یا نصرت خدا وندی ۔ ، وما بدلواتبدیلا، اور انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کی کوئی تبدیلی نہیں کی۔ فمنھم من قضی نحبہ کا شان نزول حضرات انس بن مالک ؓ کی روایت ہے کہ انس بن مالک ؓ کے چچا حضرت انس نضربدر کی لڑائی سے غیرحاضر رہے تھے ان کے لیے یہ بات بڑی تکلیف ووہ تھی اس لیے انہوں نے کہا تھا کہ سب سے پہلا معرکہ جس میں رسول اللہ ﷺ موجود تھے اور میں غیرحاضر رہا، آئندہ اگر اللہ نے مشرکوں سے جنگ کرنے میں مجھے حاضر ہونے کی توفیق دی تو میری کا رگزاری اللہ دیکھ لے گا۔ چناچہ احد کے دن جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو حضرت انس بن نضرنے کہا اے اللہ ! ان لوگوں نے یعنی ساتھیوں نے جو کچھ کیا میں تیرے سامنے اس کا عذر خواہ ہوں اور انہوں نے جو کچھ کیا اس سے تیرے سامنے اظہار بیزاری کرتا ہوں ، کچھ انصارومہاجرین نے اپنے ہتھیا راپنے ہاتھوں سے پھینک دیئے تھے۔ حضرت انس بن نضران کے پاس پہنچے اور کہا یہاں آپ لوگ کیوں بیٹھے ہیں ؟ صحابہ کرام ؓ نے جواب دیا رسول اللہ ﷺ شہید ہوگئے ۔ انس بن نضر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد جی کر کیا کروگے اٹھو اور جس دین کی خاطر رسول اللہ ﷺ شہید ہوئے تم بھی اسی پر شہید ہوجاؤ، اس کے بعد مشرکوں کی طرف رخ کرکے چل دیئے احد سے پرے حضرت سعد سے ملاقات ہوئی سعد نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ حضرت سعد کا بیان ہے کہ حضرت انس کافروں کی طرف متوجہ ہوئے اور وہ کام کیا جو میں نہیں کرسکا مجھ سے کہا سعد ۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ کہا اے ابو عمرو ! ہاہایہ جنت کی ہوا ہے ۔ قسم ہے اب نضر کی مجھے احد کے قریب جنت کی ہوا محسوس ہورہی ہے ۔ پھر آگے بڑھے اور اتنا لڑے کہ شہید ہوگئے ۔ آپ کے جسم پر تلوار تیر اور بھالے کی ضریوں کے کچھ استی (80) زخم لوگوں نے پائے۔ حضرت انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ آپ کی لاش کو کافروں نے مثلا کردیا تھا ۔ لوگوں نے لاش کو شناخت بھی نہیں کیا صرف آپ کی بہن بشامہ نے انگلیوں کے پورے دیکھ کر پہچانا۔ انس فرماتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ آیت، رجال شد قواما عاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہ، حضرت انس بن نضر اور ان جیسے لوگوں کے حق میں ہی نازل ہوئی تھی۔ حضرت خباب بن ارت سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی ہم میں سے بعض لوگ تو چلے گئے اور اپنی کوشش کا کوئی پھل (دنیا میں ) نہ کھاپائے جن میں سے ایک مصعب بن عمیر بھی تھے احد کے دن شہید ہوگئے تو سوائے ایک نمدہ کے اتنا کپڑانہ تھا کہ ہم ان کو کفن دے سکتے ۔ نمدہ بھی اتنا تھا کہ سر چھپاتے تھے تو قدم کھلتے تھے اور پاؤں پر دالتے تھے تو سر کھلارہتا تھا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا سرپر ڈال دو اور پاؤں کو اذخر (گھاس) چھپا دو اور کچھ لوگوں کی کوشش کا پھل پختہ ہوگیا جس کو وہ دنیا میں کھاگئے۔ حضرت جابربن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک باررسول اللہ ﷺ نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھ کر فرمایا جو شخص پسند کرتا ہو کہ روئے زمین (زندہ) چلتے پھر تے ایسے آدمی کو دیکھے جس نے اپنی نذرپوری کردی ہے تو وہ اس کو دیکھ لے۔ قیس بن جزام سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ کا ایک ہاتھ شل دیکھا ۔ جنگ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کو کافروں کے حملہ سے انہوں نے اس ہاتھ کے ذریعے محفوظ رکھا تھا۔
Ayah 33:24

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا (چاہے) تو ان پر مہربانی کرے بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر 24 ۔ ، لیجز ی اللہ الصادقین بصدقھم، تاکہ اللہ ان کی سچائی کا بدلہ عطافرمائے یا ان کی سچائی کے سبب ثواب عنایت کرے۔ صدق سے مراد ہے عہد کا پورا کر نا۔ ، ویعذ ب المنا فقین ان شاء اویتوب علیھم ، ان کو اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ہدایت کردے۔ ، ان اللہ کان غفورارحیما،
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور جو کافر تھے ان کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے

25، ورد اللہ الذین کفروا، اس سے مراد قریش اور غطفان ہیں ۔ ، بغیظھم ، جوان لوگوں کا ارادہ تھا وہ پورا نہیں ہوا جس کی وجہ سے وہ اپنے سینوں میں غصے سے بھرے ہوئے واپس لوٹ آئے۔ ، لم ینا لو اخیرا، ان میں کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔ ، وکفی اللہ المؤمنین القتال ، فرشتے اور ہوا، وکان اللہ قویا عزیزا، اس کی بادشاہت قوی ہے اور نافرمانوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔