Ayah 27:8080۔ انک لاتسمع الموتی، اس سے مراد کفار ہیں۔ ولاتسمع الصم الدعا، ، ابن کثیر نے لایسمع یاء کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ الصم پڑھا ہے۔ رفع کے ساتھ اسی طرح سورة روم میں بھی پڑھا ہے۔ اور باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ان دونوں کے ضمہ کے ساتھ اور میم کے کسرہ کے ساتھ اور الصم کو منصوب پڑھا ہے اذاولوامدبرین، جب وہ اعراض کرتے ہیں۔
سوال : اذاولوامدبرین، ، کا کہنے کاکیافائدہ جب وہ بہرے ہیں توپیٹھ پھیر کر بھاگیں یا نہ بھاگیں ان کے لیے توکیافائدہ،۔
جواب : اس کلام مین مزید تاکید اور مبالغہ پیدا کرنے کے لیے ا اور بعض نے جواب دیا کہ جب بہرہ مجلس میں موجود ہو اگرچہ وہ آواز کے ذریعے بات نہیں سن سکتا، البتہ اشارروں کے ساتھ وہ سمجھ سکتا ہے۔ اور جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے تو وہ نہ سن سکتا ہے اور نہ ہی اشارے کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ جب بہرہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے پھر اس کو آواز دی جائے توہ نہیں سن سکتا، اس طرح کافر لوگ جب ان کو ایمان کی طرف بلایاجائے تو نہیں سنتے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ کافر انتہائی طور پر دعوت سے کتراتے ہیں اور بے رخی کیے ہوئے ہیں اس لیے مردوں کی طرح ہیں جن کو سنانے کا کوئی راستہ نہیں یاپشت پھیرے ہوئے بہروں کی طرح ہیں جن کو سنانا ممکن نہیں۔
Ayah 27:8181۔ وماانت بھادی العمی، ، اعمش اور حمزہ نے تھدی، تاء کے ساتھ فعل پر فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ العمی، یاء کے نصب کے ساتھ اور سو رہ روم مین بھی اسی طرح ہے۔ اور دوسرے قراء نے بھادی یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسم ہونے کی وجہ سے ۔ العمی، یاء کے کسرہ کے ساتھ ، عن ضلالتھم ، نہیں ہے۔ ان لوگوں کو راہ دکھانے والا، جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے اندھا کردے اور دل کو ایمان سے اندھا کردے۔ ان تسمع، نہیں سناسکتے۔ الامن یومن بایاتنا، مگر وہ جو قرآن کی تصدیق کرے یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ فھم مسلمون، اپنارخ خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف کردیتے ہیں۔
Ayah 27:8282۔ واذا وقع القول علیھم، جب ان پر عذاب آجائے گا، قتادہ نے کہا کہ اس کا معنی کیا ہے کہ جب ان پر ہمارا عذاب آجائے گا، اخرجنالھم دابۃ من لارض تکلمھم، اس کے کلام میں اختلاف ہے۔ سدی کا قول ہے کہ وہ کہے گا کہ سوائے اسلام کے سب مذاہب باطل ہیں۔ بعض نے کہا کہ اس کا کلام یہ ہوگا کہ ایک کے متعلق کہے گا یہ مومن ہے اور دوسرے کے متعلق کہے گا یہ کافر ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا کلام وہ ہے جو اگلی آیت میں مذکور ہے۔ ان الناس کانوا بایاتنا لایوقنون، ، مقاتل کا بیان ہے کہ وہ عربی زبان میں کلام کرے گا، اور اللہ کی طرف سے کہے گا، ان الناس کانوا بایاتنا لایوقنون۔ وہ لوگوں کو خبر دے گا، کہ اہل مکہ قرآن اور قیامت پر ایمان نہیں لائے۔ اہل کوفہ نے ، ان الناس ، الف کے فتحہ کے ساتھ ، ای بان الناس، ، اور دوسرے قراء نے کسرہ کے ساتھ جملہ مستانفہ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ خروج دابہ سے پہلے لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے۔ بعض اہل علم نے کہا کہ آیات سے مراد ہیں خروج دابہ اور دوسری علامات سے قیامت و احوال قیامت یہ سب آیات اللہ ہیں۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ خروج دابہ اس وقت ہوگا جب بھلائی کا حکم اور برائی کی ممانعت نہیں کی جائے گی۔
سعید بن جبیر ، عاصم الجحدری ، اور ابورجا ، العطاردی ، تکلمھم ، تاء کے فتحہ کے ساتھ لام کی تخفیف کے ساتھکلم سے پڑھتے ہیں بمعنی زخمی کرنا، ابوالجوزاء کا قول ہے کہ میں نیابن عباس ؓ سے پوچھا اس آیت کے متعلق، تکلمھم، او تکلم، فرمایا ہر ایک اسی طرح کرے گا، مومن بھی کلام کرے گا اور کافر بھی کلام کرے گا۔
علامات قیامت سے قبل چھ اعمال کرلو۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہی کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ چھ چیزوں سے پہلے اعمال کرو، الدخان، الدجال، ودابۃ الارض، وطلوع الشمس من مغربھا، وامر العامہ، خویصہ احدکم۔
دابۃ الارض کا خروج۔
حضرت عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلے جو نشان نموادار ہوگا، وہ مغرب سے طلوع آفتاب اور دن چڑے لوگوں کے سامنے دابۃ الارض کا خروج ہوگا۔ ان میں سے جو واقعہ بھی پہلے ہوگا دوسرا عنقریب ہی اس کے بعد ہوجائے گا۔
دابۃ الارض مومن وکافر کی نشاندہی کرے گا۔
حضرت شریحہ انصاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ میں قیامت تک میں تین بار دابۃ الارض کا خروج ہوگا۔ ایک بار یمن سے برآمد ہوگا، جس کی شہرت صحرا میں پھیل جائے گی۔ اور قریہ، یعنی مکہ میں بھی اس کا تذکرہ پہنچ جائے گا۔ پھر ایک روز سب سے بڑی عزت و عظمت والی مسجد یعنی مسجد حرام میں لوگ جمع ہوں گے کہ دابہ دکھائی دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ رکن اسود سے باب بنی مخروم تک درمیان میں دکھائی دے گا، اور مسجد کے ہرگوشہ میں موجود لوگو کو دیکھے گا، لوگ اس کو دیکھ کر بکھر جائیں گے لیکن ایک جماعت اس کے سامنے جمی رہے گی، وہ سمجھ لیں گے کہ وہ اللہ سے چھوٹ کر کہیں جا نہیں سکیں گے۔ دابہ اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے ان کی طرف سے گزرنے لگے گا، اور ان کے چہروں کو نشان زدہ کرکے ایساروشن کردے گا، جیسے چمکدار ستارے، پھر زمین کو پھاڑتا ہواچلاجائے گا، کہ اس کو پکڑنے والاپا نہیں سکے گا، اور نہ اس سے بھاگنے والاچھوٹ سکے گا، پھر کچھ لوگ اٹھ کر نماز پڑھنے لگیں گے۔ تو وہ پیچھے سے پڑے گا اور کہے گا فلاں اب تو نماز پڑھ رہا ہے پھر نمازی کے سامنے آکر اس کے چہرے پر نشان بنادے گا۔ پھر لوگ وہاں سے ہٹ کر اپنے گھروں میں چلے جائیں گے اور ساتھ ساتھ مل کر سفر کریں گے اور باہم باتوں میں شرکت کریں گے اور کافر اور مومن ایک دوسرے الگ ہوجائیں گے کافر کو کافر کہہ کر پکارا جائے گا ا ور مومن کو مومن کہہ کر پکارا جائے گا۔
حضرت ابوہریرہ سے راویت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا دابۃ برآمد ہوگا اس کے پاس موسیٰ کا عصا اور حضرت عیسیٰ کی انگشتری ہوگی مومن کے چہرے پر لاٹھی سے نشان سے چمک دار بنادے گا اور کافر کی ناک پر انگشتری کانشان بنا دے گا۔ یہاں تک کہ لوگ جمع ہوں گے تو ایک دوسرے کو کہے گا، اے مومن اور دوسرے کو کہے گا، اے کافر۔ (رواہ الترمذی) ۔
دابہ کی کیفیت۔
حضرت علی نے فرمایا وہ دابہ ایسا دابہ نہیں ہوگا، جس کی دم ہو بلکہ داڑھی والا دابہ ہوگا، گویا کہ آپ کا یہ کلام اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ آدمی ہوگا (چوپایہ نہیں) لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک وہ دابہ ہی ہوگا۔
ابن جریج کی روایت میں ہے کہ ابن الزبیر نے دابۃ الارض کے حالات اس طرح بیان کیے ہیں ۔ اس کا سربیل جیسا ہوگا۔ اس کی آنکھیں خنزیر کی آنکھوں کی طرح ہوں گی۔ اس کے کان ہاتھی کے کان جیسے ہوں گے۔ اس کے بارہ سینگ جیسے سینگ ہوں گے۔ اس کا سینہ شیر کا سینہ ہوگا، اس کا رنگ چیتے کا رنگ ہوگا، اس کی کوکھیں بلی کی کوکھوں کی طرح ہوں گی۔ اس کی دم مینڈھے کی دم کی طرح ہوں گی، اس کی ٹانگیں اونٹ کی ٹانگوں کی طرح ہوں گی، ہر دوجوڑوں کے درمیان بارہ ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ اس کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی اور سلیمان (علیہ السلام) کی انگشتری ہوگی۔ ہر مومن کے سجدہ کے مقام پر پیشانی یانک پر لاٹھی کی نوک سے نشان بنادے گا جس کی وجہ سے اس کا چہرہ جگمگا جائے گا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی سے ہر کافر کے چہرے کو نشان زدہ کردے گا۔ جس سے اس کا چہرہ کالاہوجائے گا۔ (یہ نشان اتنے واضح ہوجائیں گے کہ) بازاروں میں لوگ خریدوفروخت کرتے وقت (ایک دوسرے کی شناخت کریں گے اور کہیں گے اے کافر، یہ چیز کتنے کی ہے۔ اے مومن اس کی کیا قیمت ہے۔ پھر دابہ لوگوں سے کہے گا اے فلاں توجنتی ہے اے فلاں تو دوزخی ہے۔ یہی معنی ہے آیت ، واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دابۃ من الارض، کا، حضرت ابن عمر کا قول ہے کہ دابۃ الارض کوہ صفا کے ایک شگاف سے برآمد ہوگا۔
دابۃ کا خروج کہاں سے ہوگا۔
حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے سامنے دابۃ الارض کا تذکرہ آیا تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ وہ کہاں سے برآمد ہوگا۔ فرمایا سب سے بڑھ کر حرمت والی مسجد سے۔ اس وقت حضرت عیسیٰ طواف کررہے ہوں گے۔ مسلمان آپ کے ساتھ ہوں گے کہ قندیل کی حرکت کی طرح ان کے قدموں کے نیچے زمین مین لرزہ پیدا ہوگا اور مشرقی جانب کوہ صفا پھٹ کر اس سے دابہ برآمد ہوگا۔ سب سے پہلے اس کا سر نکلے گا، اس پر اون اور پر ہوں گے کوی پکڑنے والا اس تک پہنچ نہیں سکے گا، اور نہ بھاگنے والا اس سے چھوٹ سکے گا، وہ لوگوں پر مومن وکافرکانشان بنا دے گا، مومن کا چہرہ چمک دار ستارے کی طرح روشن ہوجائے گا، اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں وہ نشان ہوگا اور کافر کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں جو نشان ہوگاوہ کالا ہوگا اور دونوں آنکھوں کے درمیان میں کافر لکھا ہوگا۔
حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ دابہ ایک گھاتی سے برآمد ہوگا اس کا سر بادل کو چھوئے گا، اور اس کی ٹانگیں زمین کے اندر ہوں گی باہرنکلی بھی نہ ہوں گی اور وہ نماز پڑھتے آدمی کی طرف سے گزرے گا اور کہے گا نماز کی تجھے کیا ضرورت، پھر اس کی پیشانی پر نشان بنادے گا۔
حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ دابہ رات کو نکلے گا، اور لوگ جمع ہوکرمنی کی طرف چل رہے ہوں گے۔ سہیل بن صالح نے اپنے والد سے انہوں نے حضڑت ابوہریرہ سے انہوں نے نبی کریم سے روایت نقل کی ہے۔ فرمایا کہ اجیاد کی گھاٹی بری گھاٹی ہے۔ یہ دومرتبہ فرمایا یاتین مرتبہ ارشاد فرمایا۔ کہا گیا اے اللہ کے رسول ایسا کیوں ہے ؟ فرمایا اس سے دابہ برآمد ہوگا، اور تین چیخیں مارے گا، جن کو مشرق ومغرب کے درمیان سب سنیں گے اس کا چہرہ مرد کا چہرہ ہوگا، اور جسمانی بناوٹ پرندے کی مانند ہوگی جو اس کو دیکھے گا اس سے وہ کہے گا، اہل مکہ محمد (ﷺ ) پر اور قرآن پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
Ayah 27:83تفسیر۔
83۔ ویوم نحشر من کل امۃ فوجا، ، ہر جماعت کے گروہ میں۔ ہر جماعت کے گروہ میں، ممن یکذب بایاتنا، یہاں پر من ، تبعیضیہ نہیں ہے کیونکہ تمام جھٹلانے والوں کو اس دن جمع کیا جائے گا، فھم یوزعون، پہلے والوں اور آخروالوں سب کو روکاجائے گا، تاکہ سب جمع ہوجائیں پھر ان کو آگ کی طرف لیجائے جائے گا۔
Ayah 27:8484۔ حتی اذاجاء و، ، قیامت کے دن آئیں گے۔ قال ، اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا، ، اکذبتم بایاتی ولم تحیطوا بھا علما، انہوں نے اس کو نہیں پہچانا کہ جیسا کہ پہچاننے کا حق تھا۔ اماذاکنتم تعملون، ، جب انہوں نے اس میں غور و فکر نہیں کیا، آیت کا معنی یہ ہے کہ تم نے میری آیات کو جھٹلادیا، ان کو جاننے کے باوجود اور نہ ہی تم نے اس میں غور و فکر کیا ہے بلکہ تم نے اس کو جھٹلایا جاہل ہوتے ہوئے۔
Ayah 27:8585۔ ووقع القول، ، ان پر ہمارا عذاب واجب ہوگیا۔ علیھم بماظلموا، ، جس کو تم نے شریک کیا۔ فھم لاینطقون ، قتادہ کا قول ہے کہ وہ کیسے کلام کرتے ہیں اور ان پر کوئی حجت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ھذایوم لاینطقون ولایوذن لھم فیعتذرون، بعض نے کہا کہ وہ بولتے نہیں کیونکہ ان کی زبانوں پر مہر لگئی ہوئی ہے۔
Ayah 27:8686۔ الم یرواناجعلنا ، ہمیں پیدا کیا۔ اللیل لیسکنوا فیہ والنھار مبصرا، دن کے وقت وہ دیکھتا ہے ، ان فی ذالک لایات لقوم یومنون، جو اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 27:8787۔ ویوم ینفخ فی الصور، ، صور اس سینگ کا نام ہے جس میں حضرت اسرافیل (علیہ السلام) پھونکیں گے۔ حسن کا قول ہے کہ صور قرن کا نام ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ سب سے پہلے ارواح قرن میں جمع ہوئیں پھر اس میں صور پھونکا گیا، پھر وہ تمام ارواح جسموں میں چلی گئیں پھر وہ جسم دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔
ففزع من فی السماوات کی تفسیر۔
” ففزع من فی السماوات ومن فی الارض، جو کچھ زمین و آسمان میں سب بےہوش ہوجائیں گے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے، فصعفق من فی السموات ومن فی الارض، وہ سب مرجائیں گے ۔ اس کا بعض نے یہ معنی ذکر کیا ہے کہ ان پر پہلے گھبراہٹ طاری کردی جائے گی پھر وہ فوت ہوجائیں گے۔ بعض نے کہا کہ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) تین مرتبہ صورپھونکیں گے ۔ ایک نفخہ سے گھبراہٹ دوسرے نفخہ سے موت اور تیسرے نفخہ سے اٹھ کر سب رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔
الامن شاء اللہ سے کون لوگ مراد ہیں۔
” الامن شاء اللہ، اس اثناء میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے حضرت جبرائیل سے آیت، الامن شاء اللہ، کے بابت دریافت کیا تو حضرت جبرائیل نے کہا کہ ، وہ شہداء ہوں گے کیونکہ وہ اپنے رب ک پاس زندہ موجود ہیں ان کو فزع لاحق نہیں ہوگا، دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں وہ شہداء ہوں جو تلواریں لٹکائے ہوئے عرش کے اردگرد ہوں گے۔
سعید بن جبیر عطا نیابن عباس ؓ عنہماکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت جبرائیل سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا وہ شہداء ہوں گے جو تلواریں لٹکائے عرش کے اردگرد ہوں گے۔ بعض آثار میں آیا ہے کہ شہداء اللہ کے استثناء کردہ ہیں یعنی اللہ نے خود نفخہ صور کے اثر سے ان کو مستثنی کردیا ہے، کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ جن کا اللہ نے استثناء کیا ہے وہ جبرائیل ، اسرافیل، اور ملک الموت، ہیں ۔ نفخہ کے بعد کوئی بھی زندہ باقی نہیں بچے گا۔ مگر یہی چار فرشتے پھر اللہ تعالیٰ حضرت میکائیل (علیہ السلام) کی روح قبض کردیں گے پھر ملک الموت کی روح، پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی روح کو، آخر میں مرنے والے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہوں گے۔
روایت میں آتا ہے کہ اللہ رب العزت ملک الموت کو ارشاد فرمائیں گے کہ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کی روح قبض کرلے، پھر کہاجائے گا، جو اس کے بعد باقی ہے اس کی روح قبض کرلے۔ پھر جب ملک الموت کا فرشتہ باقی رہ جائے گا تو اللہ رب العزت فرمائیں گے اے ملک الموت ، تو وہ جواب دے گا، سبحانک ربی تبارکت وتعالیت یاذالجلال والاکرام، ، پھر جبرائیل ومیکائل کی روح قبض کرلیں گے وہ پہاڑ کی طرح گرجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اب کون باقی ہے ؟ ملک الموت عرض کرے گا، جبرائیل اور ملک الموت۔ اللہ فرمائے گا اے موت کے فرشتے، تومرجا موت کا فرشتہ مرجائے گا، اللہ فرمائے گا جبرائیل اب کون باقی ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) کہیں گے، تبارکت وتعالیت یاذالجلال والاکرام، تیری ذات کریم لافانی اور جبرائیل میت فانی۔ اللہ فرمائے گا موت تو تجھے بھی آنی ہے مرے بغیر چارہ نہیں، جبرائیل (علیہ السلام) فورا سجدہ میں گرجائے گا، دونوں بازو پھڑپھڑانے لگیں گے رسول اللہ نے فرمایا جبرائیل کی جسمانی ساخت میکائل کی جسمانیت پر ایسی ہے جیسے بڑے پہار پر چھوٹے ٹیلے پر۔
روایت میں آتا ہے کہ یہ چار فرشتوں کے ساتھ حاملین عرش بھی باقی بچ جائیں گے۔ پھر حضرت جبرائیل کی روح قبض کردی جائے گی، پھر میکائیل (علیہ السلام) کی ، پھر عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کی ، پھر حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کی ، پھر ملک الموت کی۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ینفخ فی الصور فصعق من فی السماوات ومن فی الارض الامن شاء اللہ، پھر دوسری باری صور پھونکاجائے گا، جب میں قبر سے اٹھوں گا تودیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ عرش کے پائے پکڑے ہوئے ہوں گے ، مجھے معلوم نہیں کہ اللہ رب العزت نے ان کو بےہوشی سے مستثنی رکھا ہے یا وہ مجھ سے پہلے قبر سے اٹھالیے گئے ، اور جس نے کہا میں یونس بن متی (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ) سے افضل ہوں اس نے جھوٹ بولا۔
” وکل ، ، موت کے بعد جو زندہ کیے گئے۔ اتوہ، اعمش، حمزہ، حفص، اتوہ، مقصور پڑھا ہے۔ تاء کے فتحہ کے ساتھ وہ آئے، دوسرے قراء نے مد کیسا تھ، اور طاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان، وکلھم اتیہ یوم القیامۃ فردا، داخرین، دبے جھکے رہنا۔
Ayah 27:88تفسیر۔
88۔ وتری الجبال تحسبھا جامدۃ، وہ ایک جگہ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔ وھی تمر مرالسحاب، ، حالانکہ وہ بادلوں کے چلنے کی طرح چلیں گے۔ پھر وہ زمین پر آجاتے ہیں اور زمین کے برابر ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ برے بڑے جسم بھی اگر تیزی سے ایک ساتھ ایک طرف حرکت کررہے ہوں گے تو ان کی حرکت محسوس نہیں ہوتی۔
” صنع اللہ “ منصوب ہے مصدر ہونے کی وجہ سے۔ الذی اتقن کل شی، نے ہرچیز کا اندازہ لگایا ہے۔ انہ خبیر بماتفعلون، ، ابن کثیر، اہل بصرہ نے یاء کیساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 27:8989۔ من جاء بالحسنۃ، جو ایک نیکی لائے گا، اخلاص کی نیت کے ساتھ اور وہ کلمہ شہادت، ، اشھد ان لاالہ الا اللہ، ہے ابومعشر کا قول ہے کہ ابراہیم بلااستثناء قسم کھاکر کہتے تھے۔ کہ الحسنہ، ، سے مراد لاالہ الا اللہ، ہے قتادہ نے کہا کہ اخلاص مراد ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ طاعت مراد ہے۔ فلہ خیرمنھا، ابن عباس کا قول ہے کہ جو شخص خیر کی طرف آئے گا تو اس کے لیے ایک نیکی قیامت کے دن بہتر ہوگی۔ وہ ثواب اور عذاب سے امن کی صورت میں ہوں گا۔ اگر ایمان میں کوئی بہترین چیز ہوتی تولاالہ الا اللہ کے علاوہ کوئی چیز نہ ہوتی۔ بعض نے کہا کہ ، خیرمنھا، سے مراد اللہ کی رضامندی ہے۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ، ورضوان من اللہ اکبر، ، مھمد بن کعب اور عبدالرحمن بن زید نے کہا کہ من تفضیلہ ہے۔ اس سے مراد ہے دس گنا سے سات سو گنا تک ثواب اور اس سے آگے جتنا اللہ چاہے۔ یہی قول بہتر ہے۔ کیونکہ دگنا ملنایہ کسی کسی کی خصوصیات میں سے ہے کیونکہ بندہ اپنے اعمال کے متعلق تو سوال کرتا ہے لیکن اضعاف کے متعلق سوال نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے شیطان انسان کو اس کے اعمال سے تو روکتا ہے نہ اس کے اعمال کے دگنے ثواب سے۔
نیکی کرنا بندے کا حق ہے اس پر ثواب عطا کرنا خواہ ایک نیکی عطا کرے یا اس کا دس گنا یہ اللہ کے اپنے فضل پر ہے وہ جس پرچا ہے جتنا فضل عطا کرے ۔ وھم من فزع امنون۔
اہل کوفہ نے ، من فزع، تنوین کے ساتھ پڑھا ہے میم کے فتحہ کے ساتھ اور دوسرے قراء نے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ یہ اعم ہے کیونکہ یہ امن تمام گھبراہٹ کے لیے ہو اس دن اور تنوین کے ساتھ ہو تو اس کا مطلب ہوگا کہ گویا کہ وہ ایک گھبراہٹ سے دوسری گھبراہٹ میں مبتلا ہوگئے اور اہل مکہ اس کو اس فتحہ کے ساتھ موسوم کرتے ہیں۔
Ayah 27:9090۔۔ ومن جاء بالسیئہ، ، اور جو شرک لے کر آئے گا، فکبت وجوھھم فی النار، ، ان کو آگ میں چہروں کے بل ڈالاجائے گا، جیسا کہ کہاجاتا ہے ، کبت الرجل، اذالقیتہ ، علی وجھہ، فانکب واکب، اور کہاجائے گا، جہنم کے داروغے سے ، ھل تجزون الاماکنتم تعملون، ، دنیا میں شرک سے۔
Ayah 27:91تفسیر،
91۔ انماامرت ، اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول سے حکم فرماتے ہیں کہ کہیں کہ مجھے اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ، ان عبداللہ رب ھذہ البلدۃ، اس سے مکہ شہر مراد ہے۔ الذی حرمھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو حرم بنایا اور امن والابنایا نہ اس میں کسی کا خون بہایا جائے گا اور نہ ہی اس میں کسی کے ساتھ ظلم کیا جائے گا، اور نہ ہی یہاں پر شکار کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی گھاس اکھاڑی جائے گی، ولہ کل شئی، خلق کے اعتبار سے ہو یا ملکیت کے اعتبار سے ۔ وامرت ان اکون من المسلمین۔
Ayah 27:9292۔ وان اتلوا القرآن، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ، اگر کسی کو ہدایت کے ذریعے نفع عطا کرو گے تاس کا فائدہ تمہیں ہی پہنچے گا۔ ومن ضل، اور جس نے کسی کو ایمان سے ہدایت کے طریقے سے گمراہ کیا۔ فقل انما انا من المنذرین، آپ انہیں کہہ دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والاہوں اور میرے اوپرصرف پہنچادینا ہے یہ آیت قتال والی آیت سے منسوخ ہے۔
Ayah 27:9393۔ وقل الحمدللہ ، انکی نعمتوں پر مارنے کی نشانیاں اس کی نظیر اللہ رب العزت کے اس فرمان میں ہے ، ساریکم آیاتی فلاتستعجلون، مجاہد کا قول ہے کہ ہم تمہیں آسمان اور زمین میں اور تمہارے اندر ہی ایسی نشانیاں پیدا کردیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، سنریھم آیاتنا فی الافاق وفی انفسھم، ،۔
” فتعرفونھا، ، تم نشانیاں اور دلائل کو پہچان لو گے۔ وماربک بغافل عماتعملون، ، ان کے لیے وعید ہے کہ ان کے اعمال کے مطابق ان کو بدلہ دے گا۔