27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے

علم من الکتاب کی مختلف تفسیریں۔ تفسیر۔ 40۔ قال الذی عندہ علم من الکتاب، ، اس کی تفسیر میں اختلاف ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد جبرائیل ہیں بعض نے کہا کہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جس کو اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے موید کیا تھا، اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد آصف بن برخیا ہیں جو صدیقت کے مرتبہ پر فائز تھے اللہ کا اسم اعظم ان کو معلوم تھا، جب اسم اعظم لے کر دعا کرتے تھے تو اللہ ان کی دعا قبول فرمالیتا اور ان کا سوال پورا کردیتا تھا، جویر اور مقاتل نے ضحاک کی وساطت سے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس بیان کی نسبت کی ہے کہ آصف بن برخیا نے نماز کے بعد حضرت سلیمان سے کہاجہاں تک آپ کی نظر پہنچے اپنی آنکھیں اٹھاکر دیکھئے، حضرت سلیمان نے نظراٹھا کر یمن کی طرف دیکھا اور آصف نے دعا کی فورا اللہ نے فرشتوں کو بھیج دیا فرشتوں نے تخت اٹھالیا اور زمین کو اندرہی اندر چیرتے لاکرحضرت سلیمان کے سامنے رکھ دیا۔ کلبی کا قول ہے کہ آصف نے سجدہ میں گرکراللہ کا اسم اعظم پڑھ کر دعا کی۔ فورا بلقیس کا تخت زمین کے اندر ہی اندر چل دیا، یہاں تک کہ حضرت سلیمان کی کرسی کے پاس برآمد ہوا۔ بعض روایت میں آیا ہے کہ یہ مسافت دومہنے کی راہ کے برابر تھی، آصف بن برخیا نے کیا دعا مانگی تھی، اس کی تعیین میں اختلاف ہے۔ مجاہد نے کہا کہ ، یاذالجلال والاکرام، یہ اسم اعظم تھا، کلبی کا بیان ہے یاحی یاقیوم ، حضرت عائشہ عنہا بھی یہی قول ہے۔ زہری کا قول ہے کہ جس کے پاس علم کتاب تھا اس نے اس طرح دعا کی تھی ، یا الھنا والہ کل شی الھاواحدہ لاالہ الاانت اثنتی بعرشھا، اے ہمارے معبود اور ہرچیز کے تنہا معبود تیرے سوا کوئی معبود نہیں میرے پاس ان کا تخت لے آ۔ محمد بن منکدر نے کہا ، الذی عندہ علم من الکتاب، سے خود حضرت سلیمان کی ذات مراد ہے۔ اللہ نے آپ کو علم وفہم عطا کیا تھا، انااتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک، حضرت سلیمان نے کہا کہ لے آ، اس نے کہا آپ نبی ہیں اور نبی کے بیٹے ہیں۔ آپ سے زیادہ کوئی بھی اللہ کے نزدیک نہیں زیادہ حقدار کہ آپ کوئی چیز طلب کریں تو وہ فورا آپ کے پاس نہ پہنچ جائے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تونے سچ کہا، پھر اس نے ایسا ہی کیا، وہ عرش کو حضرت سلیمان ک پاس اتنی جلدی لے آیا، قبل ان یرتد الیک طرفک ، آنکھ جھپکنے کے اندر اندر اور وہ اتنا اتنا دور تھا جتنا کہ آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، بعض نے کہا کہ جیسے دیکھنے والے کے لیے پلک جھپکنا، مجاہد کا قول ہے کہ نظر کو ہمیشہ دوام کے ساتھ دیکھنا، پھر وہ لوٹا خسارہ ہوکر ، وہب کا بیان ہے کہ اپنی آنکھوں کو جھکاکررکھو، فلما راہ ، جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عرش کو دیکھا، مستقرا، عندہ، شام سے ان کی طرف آنکھ جھپکنے سے پہلے لوٹایا گیا۔ ” قال ھذا من فضل ربی لیبلونیء اشکر، اس کی نعمتوں کا شکرادا کروں۔ ام اکفر، یا اس کی نعمتوں کا شکرادا نہ کروں۔ ومن شکر فانما یشکر لنفسہ، اس نفع کا شکر ادا کرنا چاہیے، یہ نعمت کے دوام اور اس کے مستوجب کا مدار ہے۔ شکر نعمت کی موجوگی یا اس نعمت کے چلے جانے پر کرتا۔ ومن کفر فان ربی غنی، اس کے لشکر سے بےپرواہ ہے۔ کریم، اور جو اس کی نعمتوں کا شکریہ نہ بھی ادا کرے اسکو بھی نعمت سے روکتا نہیں عطا کرتا رہتا ہے۔
Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے

41۔ قال نکروالھا عرشھا، اس کے عرش کو تبدیل کردو تاکہ اس کو دیکھتے ہی وہ اس کو پہچان نہ لے۔ قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس میں کمی اور زیادتی کرلو۔ روایت میں ایا ہے کہ اس کے نچلے والے حصے کو اوپر اوپر والے حصے کو نیچے کردو اور سرخ جواہر وموتیوں کی سبز موتیوں کے ساتھ اور سبز موتیوں کو سرخ موتیوں کے ساتھ بدل دو ۔ ننظر اتھتدی، عرش کو دیکھ کر اس کو پہچان لے گی، ام تکون من، یا وہ جاہلین میں سے ہوں گی، الذین لایھتدون، ،۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے تخت کی تبدیلی کیوں کی۔ حضرت سلیمان نے ایسا کیوں اس کے بارے میں وہب بن منبہ اور کعب وغیرہ کا بیان ہے کہ شیطان کو یہ اندیشہ تھا کہ حضرت سلیمان بلقیس سے عقد نہ کرلیں، اگر ایسا کرلیا توجنات کے سارے راز وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہہ دے گی کیونکہ اس کی ماں پری تھی وہ جنات کی خفیہ باتوں سے واقف تھی۔ پھر اگر کوئی اولاد ہوگئی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد اس کے زیرحکم رہنا پڑے گا، اور یہ نسل سلیمانی کی غلامی کبھی دور نہیں ہوگی۔ اس لیے حضرت سلیمان کو نفرت دلانے کے لیے شیطان نے حضرت سلیمان سے بلقیس کی مذمت کی اور کہا کہ اس کی عقل میں کمزوری ہے اس کے دونوں قد م گدھے کی سم کی طرح ہیں۔ اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں ۔ اس اطلاع کی بنیاد پر حضرت سلیمان نے تخت کی صورت بدل ڈالنے کا حکم دیاتا کہ بلقیس کی عقل کی جانچ ہوجائے اور پنڈلیاں دیکھنے کے لیے ایک شیشہ کا گھر بنانے کا حکم دیا۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

جب وہ آپہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت و شان کا) علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

42۔ فلما جاء ت قیل، ، اس کو کہا گیا کہ ، اھکذاعرشک قالت کانہ ھو، ، مقاتل کا بیان ہے کہ بلقیس نے اپناتخت پہچان لیا تھا لیکن اشتبا ہی الفاظ میں اسنے جواب اس لیے دیا کہ اس سے مشتبہ الفاظ ہی میں سوال کیا گیا تھا، عکرمہ کا قول ہے کہ وہ حکیم خاتون تھیں انہوں نے نعم اس لیے کہا کہ ان کی تکذیب نہ کی جاتی اور لا اس خوف سے نہیں کہا کہ اس سے بھی تکذیب کا اندیشہ تھا اس نے کہاگویا کہ یہ وہی ہے حضرت سلیمان نے اس کی عقل پہچان لیا کہ اس نے نہ تو انکار کیا اور نہ ہی اقرار کیا۔ بعض نے کہا اس کو اشتباہ اس وجہ سے ہوا کہ اس نے اپناعرش پیچھے ایسے گھر میں رکھا تھا، جو سات دروازوں کے اندرمقفل تھا اور اس کی چابیاں بلقیس کے پاس تھیں۔ اس کو کہا گیا کہ یہ تمہارا عرش ہے تمہارا اس کو بندکرکے آنا کوئی فائدہ مند اور کارگرثابت نہ ہوا۔ تو اس نے جواب دیا، واوتیناالعلم، کہ حضرت سلیمان کے نبی ہونے کے بارے میں مجھے نشانیاں مل چکی تھیں۔ کہ یہ نشانیاں انبیاء اور رسولوں کی ہی ہوسکتی ہیں۔ من قبلھا، اس عرش کی نشانی سے پہلے، اس کو لائے جانے سے پہلے، وکنامسلمین، حضرت سلیمان کے حکم کی تابعداری اور اطاعت گزار ہوں۔ بعض علماء نے کہا، واوتیناالعلم من قبلھا، وکنامسلمین، حضرت سلیمان اور آپ کے ساتھیوں کا کلام ہے یعنی ہم تو اللہ کی قدرت اور ہر حکم خدا کی صحت کوا اس واقعہ سے پہلے ہی جانتے ہیں۔ اور ہم اس کے بھیجے ہوئے دین پر قائم ہیں اور برابر اس کی اطاعت گزار اور فرمانبردار ہیں بعض اہل علم کا قول ہے کہ ہم کو بلقیس کے ایمان لانے اور آنے سے پہلے اطاعت گزار ہوجانے کا علم ہوچکا تھا اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی (سلیمان نے) اسکو منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

43۔ وصدھا ماکانت تعبد من دون اللہ، حضرت سلیمان نے ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کردیا جن کو وہ اللہ کے سواپوجتی تھی، حضرت سلیمان نے اس کو سورج کی پوجا کرنے سے روک دیا، اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ اس صورت میں مامحل رفع میں واقع ہے۔ بعض نے کہا کہ عقل کی کمزوری یا خرابی نے اس کو توحید سے نہیں روکا تھا۔ اسی لیے جن کا یہ کہنا غلط تھا کہ اس کی سمجھ میں فتور ہے۔ بعض نے کہا کہ حضرت سلیمان نے اس کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے روک دیا اس کے اور اس کی عبادت کے درمیان حائل ہوگئے۔ انھا کانت من قوم کافرین، ،، یہ جملہ مستانفہ ہے کہ اللہ نے حضرت سلیمان کو خبر دی کہ یہ اس کی قوم میں سے ہے جو سورج کے پجاری ہیں کیونکہ وہ انہی میں پیدا ہوئی تھی اور ان ہی پرورش پائی تھی اور کسی کی عبادت کرنے کو پہچانتی نہیں تھی مگر سورج کی عبادت کرنے کو ہی سمجھتی تھی۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں (سلیمان نے کہا) یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں

44۔ قیل لھا ادخلی الصرح، حضرت سلیمان نے سوچا کہ اس کی پنڈلیوں اور قدموں کا ان پر انکشاف آجائے کیونکہ شیطان نے اس کو اس پر اطلاعی کہ اس کے پاؤں گدھے کے پاؤں کی طرح ہیں اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں شیطان کو حکم دیا کہ وہ ایک قصر بنائے۔ بعض نے کہا اس کو ایک گھر بنانے کا حکم دیا۔ بعض نے کہا جس کا صحن سفید آبگینہ کا رکھا اور اس کے نیچے پانی چھوڑ دیا، پانی کے نیچے آبی جانور بھی چھوڑ دیے اور اپنے تخت کو صحن کے جانب بچھوایا اور تخت پر تشریف فرماہوگئے۔ جب بلقیس آئی اور اس نے صحن کو دیکھا تورکا ہواپانی خیال کیا اور پنڈلیوں سے کپڑاہٹادیا تاکہ پانی میں گھس کر سلیمان کے پاس پہنچے سلیمان نے اس کی پنڈلیوں دیکھی اور قدم بہت ہی خوبصورت دکھائی دیے البتہ پنڈلیوں پر بال تھے۔ سلیمان (علیہ السلام) نے دیکھ کر نظر پھیرلی۔ فلماراتہ حسبتہ لجہ، اور وہ پانی کا خیال کیا، وکشفت عن ساقیھا، اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا تاکہ میں اس میں داخل ہوسکوں۔ جب اس کی پنڈلیاں اور قدم دیکھے تو بہت ہی خوبصورت تھے اور دیکھتے ہی نظر ہٹالی اور آواز دی، قال انہ صرح ممرد، چکنا امرد بھی اسی سے بنا ہوا ہے۔ من قواریر، آبگینہ بنا ہواچکنا، پھر حضرت سلیمان نے اسلام کی طرف س کو دعوت دی، جب اس نے عرش کی حالت دیکھی تو اس نے قبول اسلام کرلیا۔ قالت رب انی ظلمت نفسی، کفر کے ساتھ اپنے اوپرظلم کیا، مقاتل کا بیان ہے کہ جب اس نے اپناتخت اور یہ سب نشانیاں دیکھیں تو اس کو معلوم ہوگیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے تو کہنے لگی ، رب انی ظلمت نفسی، کہ اے میرے رب میں نے اپنے اوپر دوسروں کو عبادت کرے ظلم کیا، واسلمت مع سلیمان للہ رب العالمین۔ خالص موحد ہوگئی۔ بعض حضرات نے آیت کی تفسیر میں کہا کہ جب بلقیس صحن پر پہنچی تو اس کو کنڈ سمجھی تو خیال کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) مجھے غرق کرنا چاہتے ہیں اس سے تو قتل ہونا آسان ہے پھر جب حقیقت ظاہر ہوگئی تو کہنے لگے میں نے سلیمان (علیہ السلام) پر بدگمانی کرکے اپنے اوپر ظلم کیا، اب میں نے توبہ کی اور اسلام لے آئی۔ مسلمان ہونے کے بعد بلقیس کے احوال کو علماء نے مختلف طور پر بیان کیا ہے۔ عون بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عیینہ سے دریافت کیا کہ کیا حضرت سلیمان نے بلقیس سے نکاح کرلیا تھا، ابن عیینہ نے کہا بلقیس کا واقعہ تو، اسلمت مع سلیمان للہ رب العالمین پر ختم ہوگیا۔ یعنی ہم کو اس سے زیادہ علم نہیں۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے

تفسیر۔ 45۔ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحا، ان عبداللہ، ، اکیلے اسی کی عبادت کرو، فاذاھم فریقان، اس سے مراد کافر ومومن ہیں۔ یختصمون، دین میں وہ جھگڑا کرتے ہیں مقاتل کا بیان ہے کہ انکے جھگڑے سے مراد وہ ہے جو سو رہ اعراف میں گزرچکا ہے۔ قال الملاء الذین استکبروا، ،، ، تا، ، ان کنت من المرسلین۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

(صالح نے) کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو ؟ (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

46۔ قال، ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا، یا قوم لم تستعجلون باالسیئہ، بلاء اور سزا، قبل الحسنۃ، عافیت اور رحمت مراد ہے۔ لولا، ھلا کے معنی میں ہے۔ تستغفرون اللہ، اپنے کفر سے توبہ کرلی۔ لعلکم ترحمون۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہو (صالح نے) کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے

47۔ قالوالطیرنا ، ، اگر اس سے بدشگونی حاصل کی۔ طیرنااصل میں تطیرنا تھا، بک وبمن معک، یہ اس وجہ سے کہ ان کے کلمہ متفرق ہونے کی وجہ سے۔ بعض نے کہا کہ جب اس کو سختی یا عذاب آجاتا ، بارش رک جاتی اور قحط آنے سے تو کہتے کہ یہ تکلف و سختی ان کی شئوم سے اور ان کی قوم کی شئوم سے آئی ہے۔ قال طائرکم عنداللہ، جو تمہیں خیر و شر پہنچایا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اس کے حکم سے پہنچا ہے جس نے تمہاری تقدیر میں خیر وشر لکھ دیا ہے نہ کہ ان ساتھیوں کی نحوست سے پہنچا ہے۔ اس کو طائر س اس وجہ سے کہا گیا کہ اللہ کا فیصلہ سرعت جلدی سے پہنچنے والا ہے۔ چونکہ قضاء قطعی سے زیادہ تیز کوئی چیز نہیں۔ اسی سرعت نزول کی وجہ سے اس کو طاہر کہا گیا ہے۔ حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے یہ نحوست تمہارے کفر وشرک کی وجہ سے تم کو پہنچی ہے نہ کہ ان لوگوں کی نحوست ہے بعض نے کہا اس کی خرابیاں تمہارے اعمال کی وجہ سے آئی ہیں۔ اس کو طاہر اس وجہ سے بھی کہا گیا کہ یہ جلدی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ بل انتم قوم تفتنون۔ ابن عباس کا قول ہے کہ وہ تمہیں خبر دیتے ہیں خیر اور شر کی۔ اس کی مثال اللہ کا فرمان ہے ، ونبلوکم بالشر والخیر فتنہ، محمد بن کعب قرطی نے فتنہ سے مراد عذاب لیا ہے۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے

48۔ وکان فی المدینہ، شہر سے مراد قوم ثمود کی بستی حجر ہے۔ تسعۃ رھط، اس کے شہر میں نوآدمیوں کی ایک جماعت تھی۔ یفسدون فی الارض ولایصلحون، وہ اونٹنی کے پونجی کاٹنے میں متفق ہوگئے تھے۔ یہ حضرت صالح کی قوم کے گمراہ کردہ لوگ تھے۔ ان میں سب سے بڑاغندہ اور سرکردہ قذار بن سالف تھا جو شقی ترین اور بدبخت تھا۔ اس نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹی تھیں اور یہ ٹولی برائی کے کاموں میں ہمیشہ مشغول رہتی۔
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ یم رات کو اس پر اور اسکے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں

49۔ قالواتقاسموا بااللہ، وہ قسمیں کھانے لگے۔ ایک نے دوسرے سے کہا، اے قوم والو، اللہ کی قسم اٹھاؤ، تقاسموا، مجزوم ہے امر ہونے کی وجہ سے اور بعض نے کہا یہ نصب کی جگہ پر واقع ہے۔ یعنی تم قسم اٹھاؤ اور پختہ قسمیں اٹھاؤ، اس کی تقدیر عبارت یوں ہوگی، قالوامتقاسمین باللہ، ہم صالح کو رات کے وقت ضرور قتل کردیں گے۔ اھلہ، اس کے آدمیوں کو یعنی جو لوگ ان پر ایمان لائے ان کو بھی قتل کردیں گے۔ لنبتینہ، ثم لنقولن، ، بعض حضرات نے تاء کے ساتھ لام کے ضمہ کے ساتھ خطاب کا صیغہ ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ لولیہ، انتقام کا وارث، ولی دم، ماشھدنا ، اس وقت موجود نہیں تھے۔ مھلک اھلہ، ان کو بھی ہلاک کردیں گے پھر یہ کہہ دیں گے کہ ہمیں کو معلوم نہیں کہ کس نے قتل کیا، کس نے ، میم کے فتحہ کے ساتھ کہ اس کے اہل کو ہلاک کردیا، وانالصادقون، ان کے اس قول نے کہ ہم وہاں پر حاضر نہیں تھے۔
Ayahs 27:50–51

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور وہ ایک چال چلے اور ہم بھی ایک چال چلے اور انکو کچھ خبر نہ ہوئی

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا ؟ ہم نے ان کو ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا

تفسیر۔ 50۔ ومکروامکرا، یعنی انہوں نے غداری کی کہ شب خون مارکرصالح (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالنے کا مشورہ طے کیا، ومکرنامکرا، اللہ نے ان کے مکرکابدلہ لیا، اہل کوفہ نے انا کے الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ جملہ مستانفہ ہوگا، دمرناھم، ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ ان کی ہلاکت کی کیفیت کے متعلق آئمہ کرام کا آپس میں اختلاف ہے ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ نے فرشتوں کو صالح (علیہ السلام) کے مکان کی حفاظت کے لیے بھیج دیا۔ جب ان نوآدمیوں نے تلواریں سونت کر صالح کے گھر پرچڑھائی کی تو فرشتوں نے ان پر پتھر برسائے۔ پتھرتوان کو نظر آتے تھے البتہ پتھر مارنے والے نظر نہیں آتے تھے آخر سب وہیں ڈھیر ہوگئے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ایک پہار کے دامن میں اکٹھے ہونے کے لیے بیٹھے تاکہ سب مل کر صالح کے مکان پر پہنچیں اللہ نے ان پر پہاڑ گرادی اور سب مرگئے۔ وقومھم اجمعین۔ اللہ نے ان سب کو ایک چیخ کے ساتھ ہلاک کردیا۔
Ayah 27:52

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں جو لوگ دانش رکھتے ہیں ان کے لئے ان میں نشانی ہے

52۔ فتلک بیوتھم خاویہ، منصوب حال ہونے کی وجہ سے۔ بماظلموا، ان کے ظلم اور کفر کے ساتھ، ان فی ذالک لایہ، اس میں عبرت ہے ، لقوم یعلمون، ہماری قدرت کو جانتے ہیں۔
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی

53۔ وانجیناالذین امنوا وکانوایتقون، ان میں سے نجات پانے والے چار ہزار تھے۔
Ayahs 27:54–55

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت (حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ احمق لوگ ہو

54۔ ولوطا اذ قال لقومہ ، ،، قبیح فعل، وانتم تبصرون، تم جانتے ہو کہ یہ فاحشہ ہے اور بعض نے کہا کہ وہ ایک دوسرے کو برہنہ حال میں دیکھتے تھے۔
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اسکے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو شہر سے نکال دو یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں

56۔ فماکان جواب قومہ، ،، ، مردوں کے پاس آنے سے ۔
Ayah 27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے انکو انکے گھر والوں کو نجات دی

57۔ فانجیناہ واھلہ الامراتہ قدرناھا، ہم نے ان پر فیصلہ مقدر کردیا، من الغابرین، وہ عذاب سے پانے والوں میں سے باقی رہیں گے۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

مگر ان کی بیوی کہ اسکی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی) اور ہم نے ان پر مینہ برسایا سو (جو) مینہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا برا تھا

58۔ وامطرنا علیھم مطرا، پتھروں کی بارش ، فساء ، برا ہے ، مطرالمنذرین۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے اور اسکے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ اسکا شریک ٹھہراتے ہیں

59۔ قل الحمدللہ، یہ خطاب نبی کریم کو ہے اس سے سابقہ امتوں میں سے کافروں کو غارت کردیا اور انبیاء کو نعمتوں سے نوازا ہے۔ ” وسلام علی عبادہ الذین الصطفی، ، مقاتل نے بیان کیا کہ اس سے مراد انبیاء مرسلین ہیں کو ین کہ انہی کے متعلق اللہ نے فرمایا وسلام علی المرسلین، امام مالک نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد صحابہ کرام ہیں۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد امت محمدیہ ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد تمام مومین ہیں سابقین ، لاحقین، مراد ہیں۔ ء اللہ خیرامایشرکون، ، اہل بصرہ اور عاصم نے یشرکون ، پڑھا ہے دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں خطاب اہل مکہ کو ہے۔ کفار کی ہلاکت کے بعد مشرکین پر حجت لازم کرنے کے لیے وہ یہ کہتے کہ کیا اللہ بہتر ہے جن کی عبادت کرتے ہو یا یہ بت بہت بہتر ہیں عبادت کے اعتبار سے۔ معنی آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نجات دی جس نے اللہ کی عبادت کی اور بتوں کی عبادت کرنے والوں کو عذاب سے کسی بت نے نہیں بچایا۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ؟ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اگائے تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ یہ لوگ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

تفسیر۔ 60۔ امن خلق السماوات والارض، ، اس کا معنی یہ ہے کہ کیا تمہارے معبود بہتر ہیں یا وہ بہتر ہے جو آسمان اور زمین کو پیدا کرنیو الا ہے۔ وانزل لکم من السماء مائ، اور اس نے آسمان سے پانی نازل کیا، فانبتنا بہ حدائق۔ اس سے مراد باغیچے ہیں۔ فراء کا قول ہے کہ حدیقہ اس باغ کو کہتے ہیں جس کی چار دیواری بھی ہو۔ اگر اس کی دیوار نہ ہو تو اس کو حدیقہ نہیں کہاجاتا۔ ذات بھجہ، یعنی اچھا منظر، بھجہ کہتے ہیں خوبصورت جسم کو دیکھنے سے شگفتگی طبع پیدا ہوتی ہے۔ ” ماکان لکم ان تنبتواشجرھا، ، یعنی کوئی درخت ان کے درختوں سے پیدا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اس پر قادر نہیں۔ ” ء الہ مع اللہ، ، استفہام انکاری ہے یعنی کا ان کے ساتھ کوئی معبود ہے۔ جوان کی بنائی ہوئی چیز پر قدرت رکھیں بلکہ ان کا تو کوئی الہ نہیں اور نہ ہی کوئی مددگار ہے۔ بل ھم قوم، اس سے مراد کفار مکہ ہے۔ یعدلون، وہ اس کیساتھ شریک کرتے ہیں۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اسکے بیچ میں نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی ؟ (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے

61۔ امن جعل الارض قرارا، اس کے اہل ٹھہرنے کے قابل نہیں بنایا۔ وجعل خلالھا، اس کے درمیان دریاجاری کیے۔ انھارا، وجعل لھارواسی، اور زمین کے لیے پہاڑوں کو میخیں بنادیا۔ وجعل بین البحرین، میٹھے اور نمکین دریا کو، حاجزا، ایک آڑ تاکہ ایک دوسرے میں مل نہ جائیں۔ ء الہ مع اللہ بل اکثرھم لایعلمون، اپنے رب کی توحید اور اس کی بادشاہت کو نہیں جانتے۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون بےقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اسکی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) مگر تم غور بہت کم کرتے ہو

62۔ امن یجیب المضطر، ، یعنی وہ شخص جو ای سے دکھ میں مبتلا ہوگیا ہے ، اذ دعاہ ویکشف السوئ، اس سے مراد تنگی اور مصیبت ہے۔ ویجعلکم خلفاء الارض، یعنی اہل علم نے کہا کہ انسانوں کو اللہ نے زمین پر جنات کا جانشین بنایا، اور بعض نے کہا کہ وہ تمہاری اولاد کو تمہارا خلیفہ بنائے گا اور بعض نے کہا کہ اللہ نے جنوں کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ ء الہ مع اللہ ، قلیلاماتذکرون، ابوعمر نے یاء کے ساتھ اور دوسرے حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے ؟ (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہر گز نہیں) یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے

63۔ امن یھدیکم فی ظلمات البر والبحر، ، جب تم سمندر کا سفر کرو۔ ومن یرسل الریاح بشرا بین یدیہ رحمتہ، بارش مراد ہے۔ ء الہ مع اللہ تعالیٰ عمایشرکون۔
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو

تفسیر۔ 64۔ امن یبدوا الخلق ثم یعیدہ، موت کے بعد دوبارہ اٹھایاجائے گا، ومن یرزقکم من السماء والارض، آسمان سے بارش برسانے میں اور زمین میں سے نباتات اگانے میں، ء الہ مع اللہ قل ھاتوا برھانکم، یہ بات تمہارے قول پر دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان کنتم صادقین۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے

65۔ قل لایعلم من فی السماوات والارض الغیب الا اللہ۔ اس آیت کا نزول مشرکین کے بارے میں ہواجب انہوں نے نبی کریم سے قیامت کے متعلق سوال کیا، ومایشعرون ایان، کب یبعثون ، اٹھایاجائے گا۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں

66۔ بل ادرک علمھم، ابوجعفر ابن کثیر اور ابوعمرو نے ، ادرک بروز افعل، پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہے بلغ بالحق، جیسا کہ کہاجاتا ہے ، ادر کہ علمی، جب اس سے ملاقات کی اور اس کو پہنچے۔ اس سے مراد وہ دنیا میں جو جہالت چھوڑ کر آئے اور اس کا علم ان سے ساقط ہوجائے۔ اس کا علم ان کو معلوم نہیں۔ ) تو آخر ت میں ان کو معلوم ہوجائے گا، مجاہد کا قول ہے کہ ان کے علم کا ادراک ہوجائے گا، فی الاخرہ، اور اپنی آنکھوں سے معائنہ کرنے کے بعد پہچان لیں گے۔ جب اس وقت ان کا علم ان کو نفع نہیں دے گا، مقاتل کا بیان ہے کہ بلکہ وہ قیامت کے دن آنکھوں سے دیکھ کر معائنہ کرلیں گے اور اس وقت دنیا میں کیے ہوئے اعمال پرشکوہ بھی نہیں کرپائیں گے۔ بل ھم فی شک منھا، یعنی ان کو قیامت کے دن کے بارے میں شک ہے۔ دوسرے قراء نے بل ادارک موصولا مشدودا، ، الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ جب وہ آخرت کے دن تدارک اور تتابع کرلیں گے بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کا علم مجمتع ہوجائے گا، جب قیامت کے دن معائنہ کرلیں گے۔ اس وقت ان کو شک ہوگا، اس صورت میں پہلے کے معنی میں ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ بطور استفہام کے طریقے پر ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ اپنے اعمال کا تدارک کرلیں گے۔ کیا ان کو علم قیامت کے معاملہ میں مکمل ہوگیا ہے ان کا پوراپورا علم حاصل ہوگیا۔ ایسان ہیں بلکہ قیامت کا علم ان کو حاصل نہیں ہوا۔ ابھی یہ علم قیامت تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ قیامت کا وجود ان کی علمی رسائی سے خارج ہے۔ اس مطلب کی تائید حضرت ابن عباس ؓ کی قرات سے ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی قرات میں بھی، ادراک ، آیا ہے یعنی بل کی جگہ بلی، کلمہ ایجاب اورادارک ، ہمہز استفہام آیا ہے جس کو وصل کے بعد، بل ادارک ، پڑھا ہے۔ اور حضرت ابی کی قرات میں ، ام تدرک آیا ہے۔ عرب بل کی جگہ ام کو اورام کی جگہ بل کو استعمال کرتے ہیں۔ اللہ نے ارشاد فرمایا، کہ جب ان کو قیامت کے دن اٹھایاجائے گا، ان کا آخرت کے بارے میں علم برابر ہوگا، اور نہ ہی ان کے لیے ثواب وغیرہ کا وعدہ کیا گیا ۔ اگرچہ ان کے علوم دنیاوی اعتبار سے مختلف تھے علی بن عیسیٰ اور اسحاق نے کہا کہ اس جگہ ، بل بمعنی لو کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو علم آخرت میں ان کو ہونا ہے ، اگر وہ دنیا ہی میں ہوجاتا تو شک نہ کرتے اب ان کو یقین نہیں ہے بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ بل ھم منھاعمون، عمی کی جمع ہے اور بینائی سے مراد دل کی نابینائی ہے ۔ کلبی کا بیان ہے کہ وہ اس دن سے جاہل ہیں۔
Ayah 27:67

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر قبروں سے نکالے جائیں گے ؟

67۔ وقال الذین کفروا، اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ اء ذا کناترابا، ،، قبروں سے زندہ کرکے نکالاجائے گا، اہل مدینہ نے اذا پڑھا ہے۔ ا ء نا استفہام ہے۔ ابن عامر اور کسائی نے ، ا ئنا، دونوں ہمزہ کے ساتھ اور دونون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور دوسرے قراء نے دونوں استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayahs 27:68–69

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اٹھنا اور کیسی قیامت ؟ ) یہ صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو دیکھو کہ گنہگاروں کا کیا انجام ہوا ہے ؟

68۔ لقد وعدنا ھذا، ، دوبارہ جی اٹھنے پر، نحن واباء نا، من قبل، حضرت محمد سے پہلے وہ کوئی چیز نہیں، ان ھذا نہیں، ہے یہ الااساطیر ا الاولین، پچھلوں کی گھڑی ہوئی کہانیاں۔
Ayahs 27:70–71

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ ان چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں دل تنگ ہونا

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا

70۔ ولاتحزن علیھم، ان کی تکذیب اور ان کے اعراض پر آپ غم زدہ نہ ہوں۔ ولاتکن فی ضیق ممایمکرون، یہ آیت استہزاء کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی یعنی آپ کو مکمل کامیابی ہوگی۔
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو

72۔ قل عسی ان یکون ردف، ، وہ نزدیک اور قریب ترین ہے۔ لکم ، بعض نے اس کا معنی ، تبعکم، سے کیا ہے اور اس پر لام داخل کیا، جیسا کہ سورة اعراف کی ایت میں، لربھم یرھبون، میں لام داخل ہے فراء کا قول ہے کہ لام صلہ زائد ہے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، نقدت لہ، بعض الذی تستعجلون، عذاب سے جلدی کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے بدرکادن ہے۔
Ayahs 27:73–74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے

73۔ وان ربک لذوفضل علی الناس، ، مقاتل کا بیان ہے ، اہل مکہ جب وہ عذاب کی جلدی کرتے تھے۔ ولکن اکثرھم لایشکرون، ، وہ اس پر شکر ادا نہیں کرتے۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

75۔ ومامن غائبۃ، یعنی وہ چیز جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو۔ فی السماء والارض ، الافی کتاب مبین، وہ لوح محفوظ میں موجود ہے۔
Ayahs 27:76–77

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں بیان کردیتا ہے

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک یہ مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے

76۔ ان ھذا القرآن علی بنی اسرائیل، یعنی ان کے لیے بیان کیجئے۔ اکثرالذی ھم فیہ یختلفون، ، دین کے کامون میں، کلبی کا بیان ہے کہ اہل کتاب کا باہم بعض مذہبی باتوں میں اختلاف تھا، اسی لیے فرقے فرقے بن گئے تھے ہر فرقہ دوسرے پر طعن کرتا تھا، قرآن نے آکر ان کے اختلافی مسائل کو بیان کردیا۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

تمہارا پروردگار (قیامت کے روز) ان میں اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ غالب (اور) علم والا ہے

78۔ ان ربک یقضی، فیصلہ کرتا ہے۔ بینھم ان لوگو کے درمیان اختلاف کو قیامت کے دن واضح کردے گا۔ ” بحکمہ، حق کے ساتھ۔ وھوالعزیز، روکنے والا نہیں اس پر جو وہ حکم وارد کرتا ہے۔ العلیم، وہ ان کے احوال کو جانتا ہے۔ اس سے کوئی بھی پوشیدہ نہیں ۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو

تفسیر۔ 79۔ فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین۔ جس کی حقیقت واضح ہے۔