24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا تو ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

45۔ واللہ خلق کل دابہ، ،، حمزہ اور کسائی نے خالق کل پڑھا ہے اضافت کے ساتھ اور دوسرے قراء نے خلق کل ، فعل پڑھا ہے۔ من مائ، ماء سے مراد نطفہ ہے ہر وہ حیوان جو دنیا میں ہے اس کو نطفہ سے پیدا کیا ہے مگر فرشتے اور جن انکامشاہدہ پانی کے ساتھ پیدا ہونے کا نہیں کیونکہ فرشتے تسبیح سے اور جنات آگ سے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض حضرات نے کہاہرچیز کا اصل پانی ہے کہ اللہ نے اول پانی کو پیدا کیا، پھر اس کے کچھ حصے کو ہوابنادیا، جس سے فرشتے بنے اور کچھ حصہ کو آگ میں تبدیل کردیا جس سے جنات کی تخلیق ہوئی اور کچھ حصہ کو مٹی بنادیا گیا جس سے حضرت آدم کی ساخت ہوئی اور مٹی سے ہی تمام جانور بنائے گئے۔ فمنھم من یمشی علی بطنہ، ، کچھ جانور پیٹ کے بل چلتے ہیں جیسے سانپ ، مینڈک ، مچھلی، گنڈا وغیرہ۔ ” ومنھم من یمشی علی اربع، ،، جیسے بہام چوپائے۔ یہاں پر یہ ذکر نہیں کیا کہ جو چار ٹانگوں سے زائد ٹانگوں پرچلتے ہیں جیسے حشرات الارض کیونکہ صورۃ ووہ بھی اپنی ٹانگوں پر ہی چلتے ہیں جیسا کہ چوپائے چلتے ہیں، من یمشی ، من توذوی العقول کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ ان کے لیے جو، لایعقل، ، ہیں۔ مثلا سانپ چوپائے وغیرہ لیکن یہاں پر دابہ کا ذکر کیا ہے اور دابۃ مین لوگ بھی داخل ہیں کیونکہ یہاں پر جمع کا لفظ ذکر کیا ہے۔ اس میں ذو العقول اور غیرذوالعقول دونوں کا زکر ہے لیکن چونکہ ذو العقول کوغیرذوالعقول پر غلبہ حاصل ہے اس وجہ سے اکٹھاذکر کیا۔ ویخلق اللہ مایشاء ان اللہ علی کل شئی قدیر۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

تفسیر۔ 46۔ لقدانزلنا ہم نے اس کو تمہاری طرف نازل کیا، آیات مبینات واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

47۔ ویقولون آمنا باللہ وبالرسول واطعنا، ، اس سے مراد منافقین کہتے ہیں ثم یتولی ، اللہ کی اطاعت سے رسول کی اطاعت سے وہ اعراض کرتے ہیں۔ فریق منھم من بعد ذالک، ، ان کے اس قول کے بعد کہ انہوں نے ، امنا، کہا اور وہ اللہ کے علاوہ کو پکارنے لگے۔ ” ومااو لئک بالمومنین، ، اس آیت کا نزول بشر منافق کے بارے میں ہوا۔ اس کا اور ایک یہودی کے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوگیا یہودی نے کہا کہ چلومحمد سے فیصلہ کروائیں، منافق کہتا ہے کہ محمد کے پاس فیصلہ لے کر نہیں جاتا بلکہ کعب بن اشرف یہودی کے پاس چلتے ہیں اور وہ کہتا تھا کہ مجھے محمد کے فیصلے منظور نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے

48۔ واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم، ، رسول کی طرف تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں۔ اذافریق منھم معرضون، ، آپ ﷺ کے فیصلے سے اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ ان کے حکم فیصلہ کو ماننے سے اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

49۔ وان یکم لھم الحق یاتوالیہ مذعنین۔ اطاعت کرنے والے اور ان کے حکم کی پیروی کرنے والے ۔ یعنی اگر یہ منافقین اپنے معاملے میں حق پر ہیں توبھاگتے ہوئے آپ سے فیصلہ کرواتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہوتا تھا کہ جس طرح یہ امور سے حق سے فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح ہمارے حق میں بھی حق کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے ؟ (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں

50۔ افی قلوبھم مرض ام ارتابو، ، وہ شک میں مبتلا ہیں یہ استفہام ذم اور توبیخ کے لیے ہے ۔ یعنی وہ اس طرح ہیں، ام یخافون ان یحیف اللہ علیھم ورسولہ، ، ظلم کا خوف رکھتے ہیں۔ بل اولئک ھم الظالمون۔ بلکہ وہ اپنے اوپر ہی حق سے اعراض کرنے اور ظلم کرنے والے ہیں۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

51۔ انما کان قول المومنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ، اللہ کی کتاب اور رسول کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ لیحکم بینھم، یہ بطور خبر کے نہیں لیکن یہ شریعت میں ادب کی تعظیم کا لحاظ کرتے ہوئے کہ مناسب یہی ہے کہ مومنین ایسے ہی ہوں، یقولوا، منصوب ہے ان کی وجہ سے، ان یقولواسمعنا واطعنا، ، ہم نے دعا کوسنا اور ہم نے اس کا جواب اطاعت کے ساتھ دیا۔ واولئک ھم المفلحون، ،۔
Ayah 24:52

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

52۔ ومن یطع اللہ ورسولہ ویخش اللہ، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ خواہ اس فرمانبرداری میں اس کو دکھ پہنچے یاخوشی حاصل ہو۔ نیک اعمال کی بناء پر اور دکھ اور رنج پہنچے گناہ کی وجہ سے۔ ویتقہ، اور اس کے بعد اس سے بچا رہے۔ فاو لئک ھم الفائزون، ، وہ نجات پانے والے ہیں۔ ابوعمرو اور ابوکر نے ھاء سے کے ساکن کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے اس کے کسرہ کی صورت میں یامحذوف ہوجاتی ہے تو اس سے ماقبل والے کو ساکن کردیتے ہیں۔ لم اشتر طعاما، اصل میں اشتری تھا، یاء کو حذف کیا اور یاء دونوں ساکن تھی ، اس لیے راء کو ساکن ہی رکھا۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) بیشک خدا تمہارے اعمال سے خبردار ہے

تفسیر۔ 53۔ واقسموا بااللہ جھد ایمانھم، ، اپنی قسموں میں خوب کوشش کرنا یاجلدی کرنا اور اللہ کی قسم کے اوپر اور کوئی قسم نہیں، لئن امرتھم لیخرجن، ، چونکہ منافقین رسول اللہ سے کہا کرتے تھے کہ آپ جہاں بھی ہوں گے ہم آپ کے ساتھ ہوں گے اگر آپ جہاد یاغزوات کے لیے نکلیں گے ہم آپ کے ساتھ نکلیں گے۔ اگر آپ قیام کریں گے توہم بھی یہی آپ کے ساتھ ٹھہرجائیں گے۔ اگر آپ ہم کو جہاد کا حکم دیں گے توہم جہاد کریں گے۔ اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو کہیں قل ، لاتقسموا، ، یعنی تم قسمیں نہ اٹھاؤ یہاں پر کلام پورا ہوگیا، طاعۃ معروفہ، یہ طاعت خواہ قول کے ساتھ ہو یالسان کے ساتھ یہ تمہاری اعتقادی نہیں۔ تمہاری اس اطاعت کی حقیقت سب کو معلوم ہے۔ ایسا کام ہمیں معلوم جو نیکی کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں اور ایسا کہتے ہیں کہ جو وہ کرتے نہیں۔ یہ مجاہد کا قول ہے کہ بعض نے طاعت معروفہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کھلی ہوئی خالص اطاعت زبانی خلاف ورزی سے بہتر اور افضل ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ تمہاری طرف سے اچھی اطاعت ہونی چاہیے۔ بعض نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم سے اطاعت کرنے کی قسمیں مطلوب نہیں بلکہ طاعت معروفہ مطلوب ہے۔ ان اللہ خبیر بماتعملون۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے

54۔ قل اطیعوا اللہ واطیعوالرسول فان تولوا، ، اگر تم اللہ ورسول کی اطاعت سے روگردانی کرو گے، فانما ماحمل، ، جس کا رسول کو مکلف بنایا گیا ہے اور جس کا حکم انہیں دیاگیا یعنی تبلیغ الرسالہ کا۔ وعلیکم ماحملتم اور ت میں جس کا مکلف بنایا گیا یعنی اس کے حکم کو قبول کرنا اور اس کی اطاعت کرنا، وان تطیعوہ تھتدوا وماعلی الرسول الاالبلاغ المبین۔ واضح تبلیغ، ان کے ذمہ کھول کر بیان کرنا ہے۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں

55۔ وعداللہ الذین آمنو منکم وعملوالصالحات لیستخلفنھم فی الارض، ابوعالیہ کا بیان ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد آپ مکہ میں دس سال ٹھہرے رہے۔ صحابہ اجمعین بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ اللہ کی طرف سے کفار کی اذیت پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی۔ مسلمان صبح وشام کفار سے خوف زدہ ہوتے پھر مسلمان کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر جہاد کا حکم دیاگیا لیکن مسلمانوں پر یہ خوف جاری رہتا کہ اب ہمیں ہمیشہ جہاد ہی کرنا پڑے گا، کبھی اسلحہ چھوڑنے کا حکم نہیں ہوگا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ کبھی ہمیں امن حاصل ہوگا، اور ہم اپنااسلحہ اپنے اوپر سے اتاریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، وعداللہ الذین امنوا منکم، ،، ، لام یمین کی قسم میں سے ہے۔ عبارت یوں ہے، واللہ لیستخلفنھم، کہ اللہ تمہیں ضرور بضرور اس زمین کا وارث بنادے گا۔ اورا ن نیکوکاروں میں سے بعض کو عرب وعجم کی زمین کا مالک بنادے گا، اور ان کو واجب اطاعت، بادشاہ، اور حاکم ضرور کرے گا۔ کمااسختلف الذین من قبلھم، ابوبکر اورعاصم نے تاء کے ضمہ کے ساتھ اور لام کے کسرہ کے ساتھ مجہول پڑھا ہے اس صورت میں یہ مفعول مالم یسم فاعلہ۔ ہوگا۔ دوسرے قراء نے تاء کے فتحہ اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ کمااستخلف الذین سے مراد حضرات انبیاء کرام جو گزرچکے ہیں مثلا، داؤد و، سلیمان علیہم السلام، بعض حضرات نے کہا کہ ، کمااستخلف الذین من قبلھم سے مراد بنی اسرائیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جبابرہ پر کامیابی عطا کی اور شام پر ان کو فتح دی اور ان کی زمینوں کا ان کو وارث بنادیا، اور ان کے گھروں کو ہلاک کردیا، ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے ان کی یہ تشریح کی ہے کہ ان کو ملکی وسعت عطا کرے گا، اور دوسرے ممالک پر ان کا قبضہ ہوجائے گا اور اپنے دین کو تمام مذاہب پر غالب کرے گا۔ ” ولیبدلنھم ، ، ابن کثیر ، ابوبکر، یعقوب نے تخفیف کے ساتھ مصدر ابدال سے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں مصدر تبدیل سے ہوگا، اور اس میں دونوں لغات ہیں۔ بعض نے کہا کہ تبدیل ایک حال سے دوسرے حال کی طرف تبدیل ہونا ہے۔ اور ابدال کہتے ہیں کہ کسی چیز کو ایک چیز کے ساتھ بدلنا۔ من بعد خوفھم امنا، یعبدوننی خوف کے بعد امن نصیب کرے گا، لایشرکون بی شیئا، اللہ تعالیٰ انکے ساتھ وعدہ کیا اور ان کے لیے دین کو ظاہر کردیا اور ان کی مدد کی اور ان کو خوف سے امن کی طرف بدل دیا، اور تمہیں زمین پر پھیلادیا۔ آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہ کا بیان ہے کہ میں نے آپ کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے بعد خلافت تیس سال ہے۔ پھر ملوکیت ہوجائے گی، حضرت سفینہ نے کہادوسال حضرت ابوبکر خلیفہ رہے پھر عمر ؓ دس سال رہی، پھر حضرت عثمان ؓ کی خلافت بارہ سال رہی، پھر حضرت علی کی خلافت چھ سال رہی ، علی بن جعد فرماتے ہیں کہ میں نے حماد سے کہا کہ کیا حضرت سفینہ نے یہاں تک ہی حدیث بیان کی اس سے آگے نہیں بیان کیا۔ انہوں نے کہاجی ہاں۔ ومن کفر بعد ذالک، اس سے مراد کفران نعمت ہے نہ کہ کفر کا اصطلاحی معنی۔ فاولئک ھم الفاسقون، اس سے مراد اللہ کی نافرمانی کرنے والے۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ سب سے پہلے اس نعمت کی ناشکری کرنے والے وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت عثمان کو شہید کردیا۔ جب حضرت عثمان کو انہوں نے شہید کردیا تو اللہ نے وہ نعمت بھی بدل ڈالی جوان کو عطا فرمائی تھی۔ چناچہ خوف ان پر طاری ہوگیا اور بھائی ہونے کے باوجود آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگا۔ حمید بن ہلال کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام نے حضرت عثمان کی بابت فرمایا جب سے رسول اللہ مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت سے آج تک فرشتے تمہارے اس شہر کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں، اب اگر تم عثمان کو قتل کرو گے تو خدا کی قسم فرشتے چلے جائیں گے اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے ، جو شخص عثمان کو شہید کرے گا، خدا کی قسم جب وہ اللہ کے سامنے جائے گا توکوڑھی ہوکرجائے گا اللہ کی تلوار نیام کے اندر ہے اگر اللہ نے نیام سے اس کو نکال دیا تو خدا کی قسم پھر تم سے ہٹاکر وہ کبھی یا روز قیامت تک نیام میں داخل نہیں کرے گا، کیونکہ جب بھی کوئی نبی شہید کیا گیا سترہزار آدمی مارے گئے اور جب بھی کوئی خلیفہ شہید کیا گیا پینتیس ہزار آدمی قتل کیے گئے۔
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

تفسیر۔ 56۔ واقیموالصلوۃ واتولزکوۃ واطیعوالرسول لعلکم ترحمون، ،، یہ کام اس امید پر کریں گے کہ اللہ ان پر رحمت نازل فرمائے گا۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور ایسا خیال نہ کرنا کہ کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

57۔ لاتحسبن الذین کفروا، ، عامر اور حمزہ نے ، لایحسبن ، یاء کے ساتھ پڑھا ہے کافر لوگ یہ گمان نہ کریں اپنے اوپر ، معجزین فی الارض ، دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں خطاب حضرت محمد کو ہے کہ اے محمد آپ گمان نہ کریں کہ یہ کافر لوگ آپ کو عاجز کردیں گے۔ وماواھم النار ولبئس المصیر۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

مومنو ! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ (یعنی تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو اور (تیسرے) عشاء کی نماز کے بعد (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے نہ ان پر کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور حکمت والا ہے

آیت مبارکہ کا شان نزول۔ 58۔ یا ایھا الذین آمنوالیستاذنکم ، ،، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ رسول اللہ نے ایک انصاری غلام کو دوپہر کے وقت حضرت عمر کو بلانے کے لیے بھیجا حضرت عمر کے پاس پہنچاتوایسی حالت میں دیکھا کہ حضرت عمر کو اس حالت میں دکھایاجانا ناگوار گزرا۔ اس پر یہ آیت ، والذین لم یبلغوا منکم، نازل ہوئی۔ مقاتل کا بیا ہے کہ حضرت اسماء بنت مرثد کا ایک غلام تھا جو اکثر حضرت اسماء کے پاس ایسے وقت میں آجاتا تھا کہ اس وقت غلام کا آنا حضرت اسماء کو ناگوار گزرتا تھا۔ حضرت اسماء رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یارسول اللہ ہمارے خادم اور خدام ایسے وقت ہمارے پاس آجاتے ہیں کہ اس وقت ان کا آناہم کو ناگوار ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یا ایھا الذین امنوالیستازنکم ، ، اسمیں لام امر ہے۔ الذین ملکت ایمانکم، اس سے مراد غلام اور باندیاں ہیں۔ والذین لم یبلغوالحلکم منکم، اس سے مراد آزاد عورتیں ومرد ہیں۔ اس سے بچے مستثنی ہیں اور وہ بچے جو عورتوں کے احوال سے واقف نہیں یا اس سے وہ بچے مراد ہیں جو عورتوں کے احوال سے تو واقف ہیں البتہ بلوغت تک نہ پہنچے ہوں۔ ثلاث مرات، ان کو چاہیے کہ یہ تین اوقات میں گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت طلب کریں۔ ان تین اوقات کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے۔ من قبل صلوۃ الفجر وحین تضعون ثیابکم من الظھیرہ۔ ان اوقات میں جب وہ تمہارے پاس آنے کا ارادہ کریں۔ ومن بعد صلوۃ العشائ، ان تین اوقات کو اس لیے خاص کیا کیون کہ یہ تین اوقات ہی خلوت کا باعث ہیں۔ انہی اوقات میں انسان کپڑے اتارتا ہے بسا اوقات ان تین اوقات میں جسم کا وہ حصہ بھی ظاہر کرتا ہے جو ہر ایک کے سامنے ظاہر نہیں کیا جاتا، ان اوقات میں غلاموں ، بچوں کے لیے اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم دیا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ہر حالت میں اجازت لے کر داخل ہونے کی اجازت کا حکم ہے۔ ثلاث عورات لکم، ، حمزہ اور کسائی نے ثاء کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں ثلاث عورات ، بدل ہوگاثلث مرات سے ۔ دوسرے قراء نے ثاء کے مرفوع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ تین اوقات تمہارے لیے پردے کے ہیں ان تینوں اوقات کو عورات اس وجہ سے کہا گیا کہ کیونکہ ان تین اوقات میں انسان اپنے کپڑے اتارتا ہے۔ اور اس کی عورت ظاہر ہوجاتی ہے۔ لیس علیکم نہیں تمہارے لیے کوئی حرج ، ولاعلیھم، اور نہ ہی غلاموں ، خادموں اور بچوں کے لیے۔ ” جناح، ، ان اوقات کے علاوہ بغیر اجازت کے داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ بعدھن، ان تین اوقات کے بعد، طوافوان علیکم، اس سے مراد غلام خادم تمہارے پاس آتے جاتے ہیں اور بغیراجازت کے آپ کے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں۔ بعضکم علی بعض، کذالک، ،، تا۔۔ علیم حکیم۔ اس آیت کے حکم میں اعلماء کا اختلاف ہے۔ آیت مبارکہ کا حکم۔ بعض حضرات نے کہایہ حک مسوخ ہے حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ لوگوں کے گھروں پر نہ پردے تھے نہ حجاب بچے اور خادم یوں ہی اندر آتے جاتے تھے اور گھروالوں کو ای سے حال میں دیکھ لیتے تھے کہ جو گھروالوں کے لیے ناگواری کا سبب ہوتا تھا اس وجہ سے اللہ نے داخلہ کی اجازت طلب کرنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے مسلمانوں کے لیے مالی وسعت کردی اور انہوں نے دروازوں پر پردے بنالیے۔ اب طلب اجازت کی ضرورت نہیں رہی، بعض علماء کا خیال ہے کہ آیت کا حکم منسوخ نہیں ہے سفیان نے موسیٰ بن عائشہ کا بیان نقل کیا ہے کہ موسیٰ نے کہا میں نے شعبی سے دریافت کای کہ کیا یہ آیت منسوخ ہے شعبی نے کہا نہیں خدا کی قسم میں نے کہالوگ اس پر عمل نہیں کرتے، شعبی نے کہا کہ اللہ المستعان، سعید بن جبیر نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ خدا کی قسم یہ منسوخ نہیں ہوئی بلکہ لوگوں نے اس کے موفق عمل کرنے میں سہل سے کام لیا۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

تفسیر۔ 59۔ واذابلغ الاطفال منکم الحلم، ، اس سے مراد احتلام ہے جو آزاد مردوں کی بلوغت کی نشانی ہے۔ فلیستاذنوا، ان کے پاس آنے کی تمام اوقات میں داخلے کی اجازت طلب کریں۔ کمااستاذن الذین من قبلھم ، آزاد اور بڑے لوگ۔ بعض نے کہا کہ ا س سے مراد ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ (علیہ السلام) ہین۔ کذالک یبین اللہ لکم آیاتہ، ، آیات سے مراد دلائل ہیں بعض نے کہا کہ اس کے احکام مراد ہیں ۔ واللہ علیم، ان کے پیدائش کے متعلق تمام امور کو جانتے ہیں۔ حکیم ، ان تمام امور کی تدبیر کرنے والے ہیں۔ سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ آدمی کو اپنی ماں کے پاس بھی داخلے کی اجازت لے کرجانا چاہیے، اس آیت کا نزول اسی سلسلہ میں ہوا جب یہ آیت نازل ہوئی تو حذیفہ ؓ سے پوچھا کہ کیا وہ شخص اپنی والدہ کے پاس اجازت لے کرجاتا ہے انہوں نے فرمایا جی ہاں، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو وہ ایسی چیز بھی دیکھ سکتا ہے جو اس کو ناپسندیدہ ہو۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اور وہ دوپٹے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں اور اگر اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور خدا سنتا جانتا ہے

60۔ والقواعد من النسائ، ، وہ عورتیں مراد ہیں جو حاملہ ہونے اور حیض آنے سے ناامیدہوچ کی ہوں چونکہ حمل اور حیض سے انقطاع کی صفت عورتوں ہی کے لیے مخصوص ہے مردوں سے اشتباہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے حامل اور حائض کی طرح عورت کے لیے لفظ قاعدے کے بجائے عربی میں مستعمل ہے۔ بعض نے کہا کہ قعدن عن الازواج ہے۔ اللاتی لایرجون نکاح، انکے بڑھاپے کی وجہ مردان کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ ابن قتیبہ کا قول ہے کہ عورت کو قاعدے کے نام سے موسوم کیا کیون کہ جب وہ بوڑھی ہوجاتی ہے تو اکثر اوقات وہ بیٹھی رہتی ہیے۔ ربیعہ نے کہا کہ ا سے مراد وہ بوڑھی عورتیں ہیں جن سے مرد نفرت کرتے ہیں ان کے بڑھاپے کی وجہ سے، کوئی ان کی طرف رغبت نہیں کرتا، جو عمررسیدہ عورت ایسی ہو کہ اس کے اندر کچھ جمال باقی ہو تو وہ اس آیت سے خارج ہے۔ ” فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن، ، مردوں کے سامنے وہ اپنے بعض کپڑے ان مردوں کے سامنے اتارسکتی ہیں جیسے ، اوڑھنی، چادر، جو عام طور پر کپڑوں کے اوپرباندھی جاتی ہے۔ حضرت ابن مسعود اور ابی بن کعب کی قرات میں ، من ثیابھن ، آیا ہے، ان یضعن من ثیابھن۔ ” غیر متبرجات بزینہ، ، بغیرپردے کے وہ باہر آئیں۔ رداء ان عورتوں کے لیے زینت ہے اور تبرج کہتے ہیں عورت اپنے محاسن کو ظاہر کرے جن کو چھپانا اس کے لیے ضروری ہے۔ وان یستعففن، ان کو اوڑھنی اور چادر کی تلقین نہ کرنا۔ خیرلھن واللہ سمیع علیم۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اسکا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو (یہ) خدا کی طرف سے مبارک (اور) پاکیزہ (تحفہ) ہے اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

61۔ لیس علی الاعمی حرج ولاعلی الاعرج حرج ولاعلی المریض حرج، ، علماء نے اس آیت کی تفسیر کے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ لیس علی الاعمی کی مختلف تفاسیر۔ حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ جب یہ آیت ، یا ایھا الذین امنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ، نازل ہوئی توبیماروں ، لنگڑوں اور اندھوں کے ساتھ کھانے سے مسلمانوں پر دشواری آپڑی تو مسلمانوں نے کہا کہ کھاناتوہرمال سے اونچادرجہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے خلاف حق کھانے سے منع کیا ہے۔ نابینا آدمی، توعمدہ کھانے کو دیکھ ہی نہیں سکتا، اور لنگڑا ٹھیک طور پر بیٹھ نہیں سکتا، اور مزاحمت نہیں کرسکتا اور بیمار توکھانا اٹھانے سے ویسے ہی کمزور ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس تاویل کی بنیاد پر علی بمعنی فی کے ہوگا، یعنی نہیں ہے اندھے پر اور اپاہج اور بیمار پر تمہارے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی حرج۔ سعید بن جبیر اور ضحاک کا قول ہے کہ لنگڑے ، اندھے اور بیمار لوگ تندرست لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے سے خود گریز کرتے ہیں کیونکہ تندرست لوگ ان سے نفرت کرتے اور ان کے ساتھ کھانے کو براسمجھتے تھے۔ اندھا کہتا تھا کہ ممکن ہے میں زیادہ کھاؤں اور دوسرے کے لیے کم بچے۔ لنگڑا کہتا تھا ہ مجھے بیٹھنے کے لیے دوآدمیوں کی جگہ گھیرنا پڑے گی، اس سے دوسروں کو تنگی ہوگی۔ اس پر اس آیت کا نزول ہوا، مجاہد کا قول ہے کہ ا س آیت میں ان لوگوں کے کھانے کے لیے رخصت دی ہے جن کے پاس گھروں میں آنے کی اجازت ہے۔ یہ اس وجہ سے تھی کہ یہ لوگ کسی شخص کے گھر میں کھاناطلب کرنے کے لیے ان کے گھروں میں داخل ہوتے تھے جب ان کے گھر میں کھانا نہ ملتا تھا تو وہ اپنے ماں باپ کے گھر جاتے اور اس زمانے میں لوگ اسی طرح کھانادینے کو پسند نہیں کرتے تھے بلکہ ان کو دوسرے گھروں کی طرف موڑ دیتے تھے کہ فلاں گھر میں جاؤ، اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ سعید بن المسیب کا بیان ہے کہ مسلمان جب جہاد کو جاتے تھے تو اپنے پیچھے کچھ اپاہج لوگوں کو چھوڑ کر اپنے گھروں کی کنجیاں ان کودے جاتے تھے اور کہہ دیتے تھے کہ تم کو ہماری طرف سے اجازت ہے کہ ہمارے گھروں کے اندر جو کچھ ہے توم اس میں سے کھاسکتے ہو، لیکن ان لوگوں کو دشواری پیش آتی تھی وہ کہتے تھے گھر والے جب یہاں موجود نہیں توہم ان کے گھروں کے اندر داخل نہیں ہوں گے۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ، حسن کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول جہاد سے رہ جانے یعنی جہاد میں مذکورہ بالا معذوروں کے نہ جانے کی اجازت کے لیے ہوا اور پھر ختم ہوگیا۔ آئندہ کلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ولاعلی انفسکم ، یہ کلام منقطع ہے۔ سوال : جب اللہ کا یہ فرمان نازل ہوا، لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل، ، تو وہ کہنے لگے کہ ہم میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی سے کھائے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، ولاعلی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم، تمہارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم ان کے گھروں سے کھاؤ، ان دونوں آیت میں بظاہرتعارض معلوم ہورہا ہے۔ جواب : اموالکم عیالکم، سے مراد اپنے گھروالے، بیویاں مراد ہیں ، کیونکہ عورت کا گھر شوہر کے گھر کی مانند ہوتا ہے، ابن قتیبہ کا قول ہے کہ تمہاری اولاد کے گھروں سے مراد نسبی اولاد کے گھر ہیں ان کو اباء کی طرف منسوب کیا۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آیا، انت ومالک لابیک، تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے۔ ” او بیوت اباء کم او بیوت امھاتکم، ،، ،، تا، ،، ، مفاتحہ۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد کسی شخص کا وکیل ہے جس کو انسان اپنے سامان کی ذمہ داری یا اپنے مویشی کے چرانے کی ڈیوتی لگائی ہو۔ اس شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ بھوکا پیاسا رہے بلکہ اس کے مال سے کھاپی سکتا ہے ، البتہ اس کو کہیں اپنے لیے ذخیرہ نہیں کرسکتا، اور نہ ہی بیچ سکتا ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ اپنے غلاموں، باندیوں کے گھرمراد ہیں۔ آقا اپنے غلام کے گھر کا مالک ہوتا ہے، اور اس کے خزانوں کا بھی مالک ہوتا ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، وعندہ مفاتیح الغیب، اس سے مراد وہ کھولنے کے آلات ہیں۔ عکرمہ کا قول ہے کہ جب آدمی کنجی کا مالک ہوجاتا ہے تو اس مال کا خزانچی بن جاتا ہے اس لیے اگر اس میں کچھ کھالے تو کوئی حرج نہیں، سدی کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو اپنے غلہ وغیرہ کانگران متصرف بنادے تواگریہ نگران اس میں سے کچھ کھالے تو کوئی حرج نہیں، بعض لوگوں نے کہا، ماملکتم مفاتحہ، سے مراد یہ ہے کہ جو کھانے پینے کی چیزیں تم نے جمع کررکھی ہیں ان کو کھاسکتے ہو۔ مجاہد اور قتادہ نے یہ مطلب بیان کیا کہ تم نے اپنے گھروں کے اندر جو کھانے کی چیزیں رکھ چھوڑی ہیں جن کے تم مالک ہو ان کو کھانا تمہارے لیے ممنوع نہیں۔ ” او صدیقکم ، ، وہ شخص محبت میں سچا ہو، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس آیت کا نزول حارث بن عمرو کے حق میں ہوا تھا، حارث رسول اللہ کے ساتھ کسی جہاد پر جانے لگے تو نگرانی مالک بن زید کے سپرد کردی گئی جب وہ واپس آئے تو مالک کو بہت دبلا اور کمزور پایا، وجہ دریافت کی تو مالک نے کہا کہ میں نے آپ کے گھر میں موجود غلہ کھانا جبکہ آپ کی اجازت بھی نہیں تھی اس لیے برا سمجھا، اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ حسن اور قتادہ اس آیت کی بنا پر اس بات کے قائل تھے کہ دوست کے گھر میں داخل ہوکر اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے کوئی چیز کھالینا جائز ہے اور اس آیت کا مطلب ، لیس علیکم جناح ان تاکلوا ، یہ درجات کا بیان ہے کہ جب تم اس میں داخل ہوجاؤ، اور کوئی شخص وہاں نہ پاؤ تو وہاں صرف بیٹھ کر کھاسکتے ہو۔ لے کرجانے کی اجازت نہیں۔ لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا، اس آیت کا نزول بنی لیث بکر بن عمرو کے باری میں ہوا اورہ بنی کنانہ کی ایک بستی میں رہتا تھا وہ اکیلے کھانا پسند نہیں کرتا تھا جب تک اس کے ساتھ کوئی اور مہمان نہ آجائے مہمان مل جاتا توکھاناکھالیتا ورنہ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ صبح سے بیٹھتے بیٹھے شام ہوگئی اور کھاناسامنے رکھا رہامگر اس شخص نے نہیں کھایا، اونٹنیوں کے تھنوں میں دودھ بھرارہتا مگر وہ تنہانہ پیتا، جب کوئی مہمان ہم مشرب ہونے کے لیے آجاتاتوپی لیتا، دن بھر مہمان کے نہ ملنے اور تنہا کھانے کی وجہ سے بھوکاپیاسارہتا آخر جب شام ہوجاتی کچھ کھالیتا، یہ قول قتادہ اور ضحاک، ابن جریج کا ہے۔ عطاء خراسانی نے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ مال دار لوگ غریب قرابت داروں یادوستوں کے گھر جاتے تھے اور وہ کھانا پیش کرتے تھے تو مال دار لوگ کہتے تھے بخدا ہم یہ گناہ نہیں کریں گے کہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوں ، ہم مال دار ہیں اور تم نادار ہو، اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی، عکرمہ اور ابوصالح کی روایت ہے کہ انصار کا دستور تھا کہ جب ان کا کوئی مہمان ہوتا اس وقت تک کھانا نہ کھاتے تھے جب تک مہمان کھانے میں ان کے ساتھ شریک نہ ہوجاتا۔ اس آیت میں ان کو اجازت دے دی گئی کہ جس طرح چاہیں کھائیں اکٹھے ہوکر یا الگ الگ کھائیں۔ ” فاذا دخلتم بیوتا فسلمواعلی انفسکم، ،، بعض بعض کو سلام کریں اور جب کوئی شخص گھر میں داخل ہو تو اپنے اہل والوں کو سلام کرے۔ یہ قول جابر، طاوس، زہری، قتادہ ، ضحاک، عمرو بن دینار، کا ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ جب تم میں سے کوئی گھر میں داخل ہو تو اپنے گھروالوں پر سلام کرے۔ وہی زیادہ حق دار ہیں کہ ان کو سلام کیا جائے اور جب تم میں سے کوئی گھر میں داخل ہوتوگھر میں کوئی موجود نہ ہو تو پھر اس طرح سلام کرو، السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین، ، اگر کوئی شخص گھر میں داخل ہوتوگھر میں کوئی نہ ہو تو اس کو سلام اس طرح کرو ، السلام علیناوعلی عباد اللہ الصالحین، ،، السلام علی اھل البیت ورحمۃ اللہ، ہم پر ہمارے رب کی طرف سے سلامتی ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو گھروالوں پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔ حضرت عمرو بن دینار حضرت ابن عباس ؓ عنہماکے متعلق اس آیت کے بارے میں نقل کرتے ہیں جب تومسجد میں داخل ہوتویوں کہہ، السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین، ،، تحیۃ من عنداللہ، منصوب ہے، مصدر ہونے کی وجہ سے عبارت اس طرح تھی، ای تحیون تحیہ، مبارکۃ طیبۃ، ، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا، مبارکۃ طیبہ، سے مراد ہے اچھی خوبصورت۔ بعض حضرات نے کہا کہ سلام کے جواب کو برکت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے خیر میں زیادتی اور ثواب کی امید کی جاتی ہے۔ کذالک یبین اللہ لکم الایات لعلکم تعقلون۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو وہی ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لیے بغیرچلے نہیں جاتے اے پیغمبر ﷺ جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دیدیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مان گا کرو کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر۔ 62۔ انما المومنون الذین آمنوابااللہ ورسولہ واذا کانوامعہ، ، جب تم مومنین رسول اللہ کے ساتھ ہو، علی امر جامع ایسا کام جسمیں اجتماعیت ضروری ہے ، جیسے جنگ میں حاضر ہونا ، نماز، جمعہ، عیدین یا کسی کام کے مشورہ کے لیے وغیرہ، لم یذھبوا، ا س کام کو چھوڑ کر متفرق نہیں ہوجاتے ، اور جس کام کے لیے وہ جمع ہوئے اس سے روگرداں نہیں ہوجاتے۔ ” حتی یستاذنوہ، مفسرین کا قول ہے کہ جب رسول اللہ جمعہ کے روز منبر پر تشریف فرما ہوتے اور کوئی شخص مسجد سے باہرنکلنا چاہتا کسی حاجت یاعذر کی وجہ سے تو اس وقت تک وہ مسجد سے باہر نہ نکلتا یہاں تک کہ وہ آپ کے ایک طرف کھڑا ہوجاتا۔ آپ اس کے کھڑے ہونے سے سمجھ جاتے۔ پھر اس کو اجازت دیتے۔ آپ جس کو چاہتے اجازت دے دیتے۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ تم میں سے کوئی بھی آپ کو نام لے کر نہ پکارے ، جیسا کہ تم لوگ ایک دوسرے کو ناموں سے پکارتے ہو۔ مجاہد کا بیان ہے کہ جمعہ کے روز امام خطبہ کسی کو اجازت دیناہاتھ کی انگلی کے اشارے سے ہوتا ہے۔ بعض اہل علم کا بیان ہے کہ اجتماعی امور میں تمام مسلمان ایک امام کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، اس کی مخالفت نہ کریں اور نہ ہی اس کو چھوڑ کرجائے مگر اس کی اجازت کے ساتھ ، لیکن جب اس نے امام سے اجازت طلب کی تو امام کو اختیار حاصل ہے چاہے تو وہ اس کو اجازت دے اور چاہے نہ دے۔ یہ اس وقت ہے جب اس مقام سے کوئی منع کرنے کا سبب نہ پایاجائے۔ ہاں اگر ایسا سبب پایاجائے جس ک لیے امام سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ، مثلا کوئی عورت مسجد میں بیٹھی ہو اور اس کو حیض آجائے یا کوئی شخص جنبی ہوجائے یا کوئی ایسامرض لاحق ہوجائے تو بتائے بغیر جاسکتا ہے۔ ” ان الذین یستاذنوک، ،، ،۔ ہر کام کے لیے اجازت لے کرجائیں، فاذن لمن شئت منھم، جانے کے لیے اجازت دے دینا اس کا معنی یہ ہے کہ اگر آپ چاہیں تو ان کو اجازت دے دیں اور اگر چاہیں تو اجازت نہ دے دیں۔ واستغفرلھم اللہ ان اللہ غفور رحیم۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو بیشک خدا کو وہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑجائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو

63۔ لاتجعلوادعاء الرسول بینکم ، ،، ،،۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے فرماتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ تم کو انکی بددعا سے ڈرتے رہنا چاہیے ، ان کی بددعا موجب عذاب ہے دوسروں کی بددعا کی طرح نہیں ہے مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ تم آپ کو نام لے کر نہ پکارو تم میں سے بعض بعض کو پکارتے ہیں اس طرح نہ پکارو، یامحمد، یاعبداللہ، لیکن تعظیم اور تکریم کے ساتھ بلاؤ، بلکہ یوں کہو، یانبی اللہ، یارسول اللہ (ﷺ ) ” قد یعلم اللہ الذین، ،، جو پوشیدہ طریقے سے نکالتے ہیں۔ منکم لواذا، ایک دوسرے کی آڑ میں جائیں جب ان کو کسی کا خوف آجائے پھر وہ خوف چلاجاتا ہے ، لواذا مصدر ہے ، لاوذ، یلاوذہ، ملاوذۃ، ولواذا، بعض نے کہا کہ خندق کے کھودنے کے وقت منافقین اس طرح اپنے آپ کو چھپ چھپا کر نکل جاتے تھے ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ایک دوسرے کی پناہ پکڑنا، آڑلینا۔ منافقوں کے لیے جمعہ کے دن مسجد میں ٹھہرنا اور رسول اللہ کا خطبہ سننا گواہ نہیں تھا، اس لیے وہ بعض صحابہ کرام کی آڑ لے کرمسجد سے پوشیدہ طور پر نکل جاتے تھے۔ ” قد یعلم اللہ ، یہ تہدید اور مجازاۃ کے لیے ہے۔ فلیحذرالذین یخالفون عن امرہ، ، ان کے کام میں عن صلہ ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہے کہ وہ اس حکم سے اعراض کرتے تھے اور بغیراجازت کے مجلس سے چل پڑتے تھے ۔ ان تصیبھم فتنہ ، کہ ان پر کوئی مصیبت یا آزمائش نہ آپڑے مجاہد کا قول ہے کہ فتنہ سے مراد ہے دنیاوی مصیبت اور دکھ اور عذاب الیم سے مراد ہے آخرت کا عذاب۔ او یصیبھم عذاب الیم، آخرت میں ان کو تکلیف ہوگی بعض نے کہا کہ دردناک عذاب ہوگاجس عذاب کی دنیا میں جلدی کرتے ہیں۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے جس (طریق) پر تم وہ اسے جانتا ہے اور جس روز لوگ اسکی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو عمل وہ (لوگ) کرتے رہے وہ ان کو بتادے گا اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

تفسیر۔ 64۔ الاان للہ مافی السماوات والارض، سب اسی کی ملکیت ہے اور ہم اس کے بندے ہیں۔ قد یعلم ماانتم علیہ ، یعنی ایمان ہو یا نفاق سب کو وہ جانتا ہے ، قدصلہ ہے ، ویوم یرجعون الیہ، اس سے مراد قیامت کا دن ہے ، فینبئھم بماعملوا، خواہ اس کا تعلق خیر سے ہو یا شر سے ، واللہ بکل شئی علیم، حضرت عائشہ کی روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا عورتوں کو بالاخانہ نہ پر نہ رکھو، اور ان کو لکھنانہ سکھاؤ ان کو چرخہ کاتنے کی اور سو رہ نور کی تعلیم دو ۔ الحمدللہ سورة نور کی تفسیر مکمل ہوئی۔