Ayah 24:2929۔ لیس علیکم جناح ، ،، ، بغیر اجازت کے داخل ہونے کا حکم جن گھروں میں دیا گیا ہے وہ اس آیت میں مذکور ہیں، فیھا متاع لکم جس میں تمہارے نفع کی چیز ہے۔
غیرمسکونۃ سے کون سے گھرمراد ہیں۔
ان گھروں سے کون سے گھر مراد ہیں۔ اس بارے میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں ۔ قتادہ کا قول ہے کہ ان سے مراد وہ دکانیں کوٹھریاں اور مکانات ہیں جو قافلے والوں کے لیے بنادیے جاتے تھے۔ قافلے آتے جاتے وقت وہاں ٹھہرتے تھے اور اپناسامان رکھتے تھے ان مکانوں میں بغیر اجازت طلبی کے داخلے کو جائز کردیا گیا۔ اس صورت میں متاع یہ ہوگی کہ وہاں لوگ اترتے ہیں اور سامان رکھتے ہیں اور سردی گرمی سے بچتے ہیں۔
ابن زید نے کہا کہ ان سے مراد وہ تجارتی کوٹھیاں اور دکانیں ہیں جو بازاروں میں ہوتی ہیں جہاں خریدوفروخت کے لیے لوگ داخل ہوتے ہیں اور یہی منفعت ہے۔
ابراہیم نخعی (رح) کا قول ہے کہ بازار کی دکانوں میں داخل ہونے کی اجازت لیتی ضروری نہیں، ابن سیرین جب بازار کی کسی دکان پر جاتے تو فرماتے السلام علیکم میں داخل ہوجاؤں پھر داخل ہوتے۔
عطاء نے کہا اس سے مراد ویران کھنڈر ہیں اور متاع سے مراد ہے بول وبراز کے لیے جانا، بعض نے کہا کہ وہ تمام مکانات مراد ہیں جہاں کوئی باشندہ نہ ہو کیونکہ اجازت طلبی کا حکم صرف اسی لیے دیا گیا ہے کہ کسی ننگے کھلے پر نظر نہ پڑجائے۔ جن مکانوں کے اندر کوئی رہتا نہ ہو ان کے اندر داخل ہونے میں کسی برہنگی پر نظر پڑنے کا کوئی اندیشہ نہیں اس لیے اجازت طلب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ واللہ یعلم ماتبدون وماکنتم تکتمون، ،۔
Ayah 24:3030۔ قل للمومنین یغضوا من ابصارھم، جن عورتوں کی طرف دیکھناجائز نہیں ہے ان سے اپنی نظروں کو جھکانا، من صلہ ہے یعنی اپنی نظروں کو جھکائے رکھو۔ بعض نے کہا کہ ، من تبعیضیہ ہے، کیونکہ مومنین کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ کسی کونہ دیکھیں سب کی طرف سے آنکھیں بند رکھیں بلکہ جس کو دیکھنے کی اجازت نہیں اس کی طرف نظر اٹھانے کی ممانعت ہے بلکہ نامحرم کی طرف بالا ارادہ دوسری بار دیکھنے کی بندش ہے پہلی مرتبہ جو بلا ارادہ نظر پڑجائے اس کا گناہ نہیں۔ ویحفظوا فروجھم، جو عورتیں ان پر حلال نہیں ان سے پانی شرمگاہ کی حفاظت کریں۔
ابوالعالیہ کا بیان ہے کہ قرآن پاک میں جس جگہ بھی شرمگاہ کی حفاظت کرنے کا حکم آیا ہے وہاں زنا اور حرام سے بچنا ہے ۔ صرف اس مقام میں حفاظت سے مراد پردہ کرنا اور اپنی شرمگاہ کو چھپائے رکھنا ہے۔ ذالک، یعنی یہ اپنی نظروں کانیچے جھکانا اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا ہے۔ ازکی لھم، یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزہ ہے۔ ان اللہ خبیر بمایصنعون، وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
اچانک نظر پڑجائے تو اس کا حکم۔
حضرت بریرہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ نے حضرت علی سے فرمایا، علی پہلی نظر کے ساتھ دوسری دفعہ نظر نہ کرنا کیونکہ پہلی نظر تو تیرے لیے جائز ہے اس کے بعد دوسری نظر جائز نہیں۔ حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے اچانک نظر پڑجانے کا مسئلہ دریافت کیا ، حضور نے مجھے حکم دیا کہ نظر پھیر لیاکرو، حضرت ابوسعید خدری اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ کونہ دیکھے اور نہ ہی کوئی عورت دوسری عورت کے ننگ کو دیکھنے اور نہ ہی دوسرامرد اکٹھے ایک لحاف میں سوئیں۔ (جب وہ دونوں ننگے ہوں) اور نہ ہی دو عورتیں ایک لحاف میں سوئیں (جب کہ وہ ننگی ہوں) ۔
Ayah 24:31تفسیر۔
31۔ وقل للمومنات یغضض من ابصارھن، جن کودیکھناجائز نہیں اس سے آنکھیں بند رکھیں۔ ویحفظن فروجھن، ان مردوں کے سامنے جوان کے لیے حلال نہیں۔ بعض نے کہا ، یحفظن فروجھن، یعنی اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں تاکہ ا ن میں سے کوئی ان کونہ دیکھے۔
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ میں اور حضرت میمونہ آپ کے پاس موجود تھیں، جب حضرت ابن مکتوم ان کے بعد آئے۔ یہ واقعہ حجاب کے نزول کے بعد کا ہے۔ آپ نے ہم دونوں کو ارشاد فرمایا کہ ان سے پردہ کریں، میں نے کہا اے اللہ کے رسول ، کیا وہ اندھے نہیں ہیں وہ توہ میں نہیں دیکھ رہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم دونوں اندھی ہوگئی ہوں اور تم دونوں دیکھ نہیں رہی۔ ولایبدین زینتھن، وہ اپنی ظاہرہ۔ خفیہ زینت خضاب پاؤں میں لگانا، کانوں کی بالیاں، اور دوسری سج دھج، یہ لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اجنبی شخص کا انکودیکھنا جائز ہے۔ زینت سے مراد زینت کی جگہیں ہیں۔
الاماظھر منھا کی مختلف تفاسیر۔
الاماظھر منھا، اس سے مراد زینت ظاہرہ ہے۔ اس زینت کے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے جس کو اللہ نے استثناء فرمایا ہے۔
سعید بن جبیر، ضحاک، اوزاعی، کے نزدیک چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں ہیں۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ثیاب کپڑے ہیں۔ خذوازینتکم عند کل مسجد، اس زینت سے مراد بھی کپڑے ہیں۔
حسن کے نزدیک اس سے مراد چہرہ اور کپڑے ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرمہ ، انگوٹھی اور ہاتھوں میں مہندی وغیر ہ ہے۔ باقی رہی زینت جو ظاہری ہوتی ہے اجنبی مرد اس کو دیکھ سکتا ہے۔ جب کہ فتنہ خوف اور شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ انمیں سے کسی چیز کا بھی خوف پیدا ہوجائے تو نظروں کو جھکانا ضروری ہے۔ اس مقدار میں اس کو کھلانا جائز ہے کہ عورت اپنے بدن کو ظاہر کرے اس لیے کہ یہ ستر عورت نہیں۔ لیکن نماز کی حالت میں ان کو ڈھانپنا ضروری ہے عورت سارا بدن ستر ہے اس کو چھپانا ضروری ہے۔ ولیضربن بخمرھن، اپنی اوڑھنیوں کا کچھ حصہ گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔ علی جیوبھن، تاکہ اس کے ذریعے سے ان کے سینے اور ان کی گردن اور ان کے بال چھپے رہیں۔
حضرت عائشہ نے فرمایا سابق مہاجر عورتوں پر اللہ کی رحمت ہو۔ جب اللہ نے یہ آیت ، ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن، نازل فرمائی تو انہوں نے اپنی چادریں پھا ڑکر ان کے خمارہ بنالیے۔ ولایبدین زینتھن، یعنی وہ زینت جس کو ظاہر کرنا ممنوع ہے اس کو ظاہر نہ کریں جن کو نماز کے اندر اور نماز کے علاوہ کھولنا جائز نہیں۔ الالبعولتھن، ، ابن عباس اور مقاتل کے نزدیک کہ نہ ڈالو پردہ اور اوڑھنیاں نہ ہی اپنی زینت کو ظاہر کرومگر شوہروں کے لیے۔
مرد، مرد کو اور عورت، عورت کے کون کون سے بدن کو دیکھ سکتی ہے۔
” او آباء ھن او آباء بعولتھن، ،، ،، ،، اخواتھن۔ ان لوگوں کے لیے جائز ہے کہ وہ باطنی زینت دیکھ سکتے ہیں مگر ناف اور گھٹنے کے درمیان نہیں دیکھ سکتے۔ شوہر کے لیے اپنی بیوی کے پورے بدن کودیکھناجائز ہے لیکن اس کے فرج کو نہیں دیکھ سکتا مکروہ ہے۔
” او نسائھن، ، جائز ہے ایک عورت کا دوسری عورت کے بدن کو دیکھنا مگر ناف سے گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی، جیسا کہ محرم مرد کسی کے اتنی مقدار ستر کو نہیں دیکھ سکتا، یہ اس وقت ہے جبکہ عورت مسلمان ہو اورگر عورت کافرہ ہو تو اس کی ننگ کو مسلمان عورت دیکھ سکتی ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے۔
بعض حضرات کے نزدیک اس کا کشف عورت دیکھنا جائز ہے جیسا مسلمان عورت مسلمان کا دیکھ سکتی ہے کیونکہ یہ امور عورتوں کے متعلق ہیں۔ بعض نے کہا جائز نہیں کیونکہ اللہ نے فرمایا، او نسائھن، اور کافرہ عورتیں ہماری عورتوں میں داخل نہیں وہ دین کے معاملے میں ہمارے لیے اجنبی ہیں۔
لہذا اس اجنبی مرد کی طرح دور رکھاجائے گا، حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حضرت عبیدہ بن جراح کو لکھا کہ کتابی عورتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمام میں جانے سے روک دیں۔
کیا عورت کا غلام اپنے آقا کا محرم ہے۔
” او ماملکت ایمانھن، ، اس مسئلہ میں بھی آئمہ کا اختلاف ہے۔ بعض قوم نے کہا کہ عورت کا غلام اس کے لیے محرم ہے اس کے دخول جائز نہیں۔ اگرچہ وہ عفیف پاکدامن ہو اور وہ اپنے مولی کی ناف سے گھٹنے تک ستر کو نہیں دیکھ سکتا۔ یہ محارم کی طرح ہے جیسا کہ قرآن پاک کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ اور ثابت بن انس کی روایت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے ایک غلام سیدہ فاطمہ کو عطا فرمایا اور غلام کو ساتھ لے کر حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت حضرت سیدہ کے پاس صرف اتناکپڑا تھا کہ اگر سرچھپاتی توپاؤں کھل جاتے اور اگر ٹانگیں چھپاتی تھیں تو سر تک کپڑا نہیں پہنچتا تھا۔ جب رسول اللہ نے یہ بات دیکھی تو ارشاد فرمایا کوئی حرج نہیں تمہارا باپ اور تمہارا غلام ہے۔ (اس کا جواب بعض نے دیا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ غلام چھوٹی عمر کا ہو) بعض نے کہا ان کے ساتھ اجنبی غلام تھا۔
یہی قول سعید بن المسیب کا ہے اور کہتے ہیں کہ اس آیت سے مراد غلام مراد نہیں ہیں بلکہ باندیاں ہیں۔ ابن جریج کا قول ہے کہ ، نسائھن، سے مراد مسلمان آزاد عورتیں ہیں اور ماملکت ایمانھن، سے مراد ہیں باندیاں خواہ مسلمان ہوں یا نہ ہوں غلام مراد نہیں۔ لہذا کسی مسلمان عورت کا کسی مشرک عورت کے سامنے اپنی زینت کا انکشاف جائز نہیں ہوگا۔ ہاں اگر باندی ہو خواہ مشترکہ ہی ہو تو اس سے زینت کا اخفاضروری نہیں۔ اولتابعین غیراولی الاربعۃ من الرجال۔
ابوجعفر ، ابن عامر اور ابوبکر نے غیر کو منصوب پڑھا ہے۔ التابعین، کو معرفہ اور غیر کو نکرہ پڑھا ہے۔ بعض نے کہا کہ یہاں غیر، الا، کے معنی میں ہے معنی یہ ہوگا کہ اپنی زینت کو تابعین (وہ مرد جو طفیلی کے طور پر رہتے ہیں ) پر ظاہر کرسکتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جن میں کچھ رغبت نہ ہو۔ بعض حضرات نے ، غیرمجرور پڑھا ہے۔ اس صورت میں التابعین کی صفت ہوگی۔ والارباۃ، اور الارب، حاجت کو کہتے ہیں۔
غیراولی الاربۃ سے کیا مراد ہے۔
” اوالتابعین غیراولی الاربۃ من الرجال۔ سے مراد وہ لوگ ہیں جو خود کمائی کرکے نہ کھاسکتے ہوں بلکہ یہ لوگ گھروالوں کے تابع ہوتے ہیں تاکہ بچاکھچا کھاناان کو مل جائے ان لوگوں کو عورتوں کی طرف رغبت نہیں ہوتی یہ قول مجاہد ، عکرمہ، شعبی کا ہیابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ اس سے نامرد مراد ہیں۔
حسن کا قول ہے کہ ، غیراولی ، ، سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو انتشار نہ ہوسکتا ہو اورنہ عورتوں کی رغبت ان میں باقی رہی ہو اور نہ ان میں شہوت آتی ہو۔
سعید بن جبیر نے کہا کہ اس سے مراد ناقص العقل خبطی مراد ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ کٹا ہواذکر مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد مخنث ہے ۔ مقاتل کا بیان ہے بوڑھا کھوسٹ ، نامرد خصی اور ذکر بریدہ مراد ہے۔
حضرت عائشہ سے روایت ہے فرماتی ہے کہ رسول اللہ کی ازواج مطہرات میں ایک مخنث (بطور خادم تھا) ہم اس کو، اولی الاربعہ میں شمار کرتے تھے ایک نبی کریم ازواج مطہرات کے پاس آئے وہ مخنث ایک عورت کے متعلق صفات بیان کررہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو چار شکنیں ہوتی ہیں اور جب واپس جاتی ہے تواٹھ شکنیں ہوتی ہیں۔ اس پر نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ میں دیکھتاہوں یہ عورتوں کے محاسن سے واقف ہے اس کے پاس کوئی نہ آئے بلکہ اس سے پردہ کریں۔
” اواطفل الذین لم یظھروا علی عورات النسائ، ، طفل اور اطفال دونوں واحد اور جمع استعمال ہوتے ہیں۔ عورتو کے پردے کے مقامات کو انہوں نے کھولانہ ہو یا پردے کی باتوں کو ان کو ابھی واقفیت نہ ہوتی ہو۔ بعض نے کہا کہ بچے عورتوں کے معاملات پر واقف نہ ہوں۔ وہ جانتے ہی نہ ہوں کہ پردے کی بات کیا ہوتی ہے اور بعض نے کہا کہ وہ عورتوں کی امور کی طاقت نہ رکھتے ہو ۔ بعض نے کہا کہ بلوغت حدشہوت تک نہ پہنچے ہوں۔
” ولایضربن بارجلھن لیعلم مایخفین من زینتھن، ، عورت جب چلتی تھی توپاؤں زمین پر مارتی تھی کہ اس کی پازیب کی آواز لوگ سن لیں اس کی ممانعت کردی گئی۔ وتوبوا الی اللہ جمیعا، ، اللہ تعالیٰ کے امرونواہی کے معاملے میں ہم سے جو کوتاہی ہوگئی اس سے معافی طلب کریں۔ بعض نے کہا کہ اللہ کی اطاعت کی طرف رجوع کرو جس کا اس نے اس سورة میں حکم دیا اس پر عمل کرو اور جس سے منع کیا ہے اس سے رک جاؤ، ایہ المومنون لعلکم تفلحون، ، ابن عامر نے ، ایہ المومنون ، ایہ ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح ، بایہ الساحر، ا اور ایہ الثقلان ، ان دونوں مقامات پر ھا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے ھا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا کہ آپ خود ارشاد فرما رہے تھے لوگو، اپنے رب کی طرف رجوع کرو ، میں ہر روز سو بار اپنے رب کے سامنے توبہ کرتا ہوں۔
حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ ہم گنتے تھے کہ رسول اللہ اپنی مجلس میں سو بار فرماتے تھے ، رب اغفرلی وتب علی انک انت التواب الغفور ، اور ایک روایت میں تواب الرحیم، ہے ، اس کلام کا خلاصہ یہ ہوا کہ اس سورت میں عورات کا بیان ہے کہ جائز نہیں دیکھنے والے کے لیے وہ مرد کے ننگ کو دیکھے اور اس کے گھٹنے سے ناف تک دیکھے اور اسی طرح ایک عورت دوسری عورت کے ننگ کونہ دیکھنے۔ البتہ عورت ننگ کے علاوہ دوسری عورت کا پورا بدن دیکھ سکتی ہے جبکہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔
Ayah 24:32تفسیر۔
32۔ وانکحوالایامی منکم، ،، ، الایامی جمع ایم کی، اس مرد کو کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو اس عورت کو کہتے ہیں جس کا خاوند نہ ہو جیسا کہ کہاجاتا ہے رجل، ایم وامراۃ ایمہ، آیت کا معنی ہے اے مومنین کی جماعت، تم آزاد عورتوں کے ساتھ نکاح کرو۔ والصالحین من عبادکم وامائکم، یہ امر مندوب اور استحباب کے لیے ہے۔ اس شخص کے لیے مستحب ہے جو شخص نکاح کی طاقت رکھے اور وہ اپنے لیے نکاح والی عورت بھی پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ شادی کرے اور اگر نکاح کرنے کی طاقت نہ ہوتوپھرشہوت کو روزں کے ذریعے توڑے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ اے جو انوا کی جماعت تم میں سے جو لوگ نکاح کی طاقت رکھتے ہیں انکو چاہیے کہ وہ نکاح کریں کیونکہ یہ ان کی نظر کی حفاظت اور ان کی فرج کی حفاظت کا ذریعہ ہیں اور جو شخص نکاح کی طاقت نہیں رکھتے تو اس کے لیے روزے ہیں یہ اس کے لیے ڈھال ہے اور آپ کا ارشاد ہے کہ تم نکاح کرواضافہ کروکیون کہ میں اپنی امت کے ذریعے سے دوسری امت پر فخر کروں گا حتی کہ ساقط شدہ بچہ پر بھی۔ ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا جو میری فطرت کو پسند کرے تو وہ میری سنن کو اپنائے اور میری سنتوں میں سے ایک سنت نکاح کرنا بھی ہے۔
عبادت میں مشغول ہوناافضل ہے یا نکاح کرنا۔
اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ عبادت میں مشغول ہونا افضل ہے ؟ یا نکاح میں مشغول ہونا۔ امام شافعی کے نزدیک عبادت میں مشغول ہونا نکاح میں مشغول ہونے سے افضل ہے۔ دوسرے اصحاب کے نزدیک نکاح میں مشغول ہونا عبادت میں مشغول ہونے سے افضل ہے۔ ان کی دلیل حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وسید واحصوراونبیا من الصالحین۔ حصور کہتے ہیں کہ جو عورتوں کے پاس نہ آئے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایامی عورتوں کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر درست نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خطاب کیا ہے جیسے باندی یا غلام اپنی آقاؤں کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتے۔ والصالحین من عبادکم وامائکم ، یہی قول اکثر اہل علم صحابہ میں سے اور ان کے بعد کا ہے۔
اسی طرح مروی ہے حضرت عمر، حضرت علی، عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ و عائشہ اور فقہا محدثین میں سعید بن المسیب ، حسن ، شریح، ابراہیم نخعی، عمر بن عبدالعزیز اور سفیان ثوری، اوزاعی عبداللہ بن مبارک اور شافعی، احمد، اسحاق ، رحمہم اللہ کا قول ہے۔ بعض اصحاب الرائے کا قول ہے کہ آزاد عورت خود نکاح کرسکتی ہے۔ امام مالک (رح) اگر عورت گھٹیا ہوتوجائز ہے کہ وہ خود اپنانکاح کرائے۔ اگر وہ عورت شریف ہے توپھرخود نکاح نہیں کرسکتی۔ حضرت ابوموسی اشعری نبی کریم سے روایت کرتے ہیں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
حضرت عائشہ نبی کریم سے روایت نقل کرتی ہیں کہ رسول اللہ ارشاد فرمایا کہ جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔ تین دفعہ ارشاد فرمایا اگر اس نے ایسا کرلیاتو وہ شوہر کے لیے حلال ہوگی اور اس پر مہر واجب ہوگا، اور جس عورت کا ولی نہ ہو تو اس کا ولی سلطان، (بادشاہ) ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، ان یکونوا فقراء یغنھم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیم۔ بعض نے کہا کہ یہاں غنی سے مراد قناعت ہے۔ بعض نے کہا کہ دونوں کارزق، زوج کارزق، اور بیوی کا رزق مراد ہے۔ حضرت عمر کا قول ہے کہ تعجب ہے اس شخص کے لیے جو بغیر نکاح کے غنی طلب کرے کیو کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے، ان یکونوافقراء یغنھم اللہ من فضلہ، بعض حضرات سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غنی کا وعدہ نکاح کے ساتھ کیا ہے۔ اور تفریق زوجین کے ساتھ کیا ہے اللہ کا دوسری جگہ فرمان ہے، وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ۔
Ayah 24:33تفسیر۔
33۔ ولیستعفف الذین لایجدون نکاحا، ، تاکہ وہ حرام کاری سے بچتے رہیں اور زنا سے بچتے رہیں جو لوگ نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے خواہ مہر کے نہ ہونے کی وجہ سے خواہ نان نفقہ نہ ہونے کی وجہ سے ہو۔ حتی یغنیھم اللہ من فضلہ، اس پر اللہ رزق وسیع کردیتے ہیں۔ والذین یبتغون الکتاب، وہ مکاتبت کو طلب کرتے ہیں ۔ مماملکت ایمانکم فکاتبوھم۔
آیت کا شان نزول۔
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ روایت میں آتا ہے کہ حویطب بن عبدالعزیز کے غلام نے اپنے آقا سے سوال کیا کہ مجھے مکاتب بنادیجئے۔ انہوں نے اس سے انکار کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی توحویطب نے اپنے گلام کو سودینار ادا کرنے کی شرط پر مکاتب بنادیا اور بیس دینار اس کو خود دے دیے۔ چناچہ غلام نے سودینار ادا کردیے۔ یہ غلام جنگ حنین میں شہید ہوگیا۔ کتابت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مملوک غلام کو یہ کہے کہ میں نے تجھے اتنے مال پر مکاتب کیا ہے اور مال مقررہ پر اس کو موسوم کردے جو اس کو دو ماہ یا ایک ماہ میں ادا کرنے ہوں گے جب تو اتنا مال ادا کردے تو تم آزاد ہو اور غلام اسکوقبول کرلیتا ہے۔ جب وہ مال ادا کرلے تو وہ آزاد ہوجائے گا آزادی کے بعد جو مال غلام کے پاس ہوگا وہ اسی کے تابع ہوگا۔ اگر وہ غلام بدل کتاب ادا کرنے سے عاجز ہوگیا تو اس آقا سے بدل کتاب فسخ کرسکتا ہے اور دوبارہ مکاتبت سے غلامی کی طرف لوٹ جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہے گا، جب تک اس پر بدل کتابت کا ایک درہم بھی باقی رہے گا۔
بعض اہل علم کا قول ہے کہ اللہ کا فرمان ، فکاتبوھم ، یہ امر موالی پر واجب ہے کہ وہ اپنے غلام سے بدل کتابت کرلے جب وہ اس کا سوال کرے اپنی جان کی قیمت کے بقدر یا اس سے زیادہ۔ اگر غلام اپنی قیمت کے کم پر بدل کتابت کا کہے تو اس پر بدل کتابت کرنا واجب نہیں ہے۔
یہ قول عطاء عمر وبن دینار کا ہے۔ ابن سیرین نے اپنے آقاحضرت انس بن مالک سے درخواست کی کہ مجھے مکاتب بنادیجئے حضرت انس نے کچھ توقف کیا، ابن سیرین نے حضرت عمر سے جاکر شکایت کی۔ حضرت عمر درہ لے کر حضرت انس پرچڑھ دوڑے اور مکاتب بنانے کا حکم دیا۔ حضرت انس نے ابن سیرین کو مکاتب بنادیا۔ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ فکاتبوھم، والا امر وجوب کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ استحباب کے لیے ہے۔ کہتے ہیں کتابت جائز نہیں مگر مقررہ قسطوں پر۔ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک کم سے کم ادائیگی دوقسطوں میں ہوناضروری ہے اور قسط وار ادائیگی کی شرط لازم ہے فی الفور ادائیگی کا کوئی معنی نہیں کیونکہ غلام کو فورا مال کہاں سے مل سکتا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر معاوضہ کتابت فوری ادا کرنے کی شرط لگادی تب بھی صحیح ہے۔ ان علمتم فیھم خیرا، خیر کے معنی اختلاف ہے۔
ابن عمر کا قول ہے کہ اس کا معنی مال سے کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، ان ترک خیر، ا س سے مراد مال ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان کے کسی غلام نے آپ سے مکاتب بنادینے کی درخواست کی۔ حضرت سلیمان نے فرمایا کہ کیا تیرے پاس مال ہے ؟ غلام نے کہا نہیں، حضرت سلیمان نے اس کو مکاتب بنادیا اور فرمایا تو مجھے لوگوں کا میل کچیل کھلائے گا، زجاج کا قول ہے کہ اگر خیر سے مراد مال ہوتا تو، فیھم، نہ ہوتا، لھم ہوتا۔
ابراہیم بن زید اور عبید نے ، خیرا، کا ترجمہ کیا صدق اور امانت، طاوس ، عرم اور ابن دینار کی مراد مال اور امانت ہے امام شافعی کا قول ہے کہ عبد میں خیر کا معنی یہ ہے کہ وہ امانت داری کے ساتھ اپنابدل کتابت ادا کرے۔ اس طرح کی بدل کتابت ادا کرنے پر اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن کا حق اللہ پر واجب ہے۔ ایک وہ جو مکاتب کے بدل کتابت کی ادائیگی میں اس کی مدد کرے۔ دوسرا وہ شخص جو پاک دامنی کے لیے نکاح کرے اور تیسرا وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے محمد بن سیرین عبیدہ سے روایت کرتے ہیں کہ اگر تم جان جاؤ کہ کس چیز میں خیر ہے یعنی نماز قائم کرنے میں۔ بعض نے کہا کہ غلام ، عاقل بالغ ہو، اگر وہ غلام بچہ ہو یامجنون ہوتواس کی بدل کتابت جائز نہیں کیونکہ ان دونوں سے کوشش کرنا یاکرواناصحیح نہیں۔ امام ابوحنیفہ نے ایسابچہ جو بلوغت تک پہنچ رہا ہو اس کی کتابت صحیح ہے۔ واتوھم من مال اللہ الذی اتاکم۔ اس کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ خطاب موالی کو ہو کہ مولی کو چاہیے کہ وہ بدل کتابت میں اپنے غلام میں کچھ نرمی اختیار کرے۔ اور کچھ حصہ مکاتب سے معاف کردے۔ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر اور تابعین کی ایک جماعت کا یہی قول ہے ، امام شافعی نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
غلام سے بدل کتابت میں کچھ حصہ چھوڑ دے اس کی حق دار کابیان۔
اب اس کے لیے کتنا حصہ چھوڑے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ حضرت علی کا قول ہے کہ وہ اس کو چوتھائی حصہ چھوڑ دے۔
بعض حضرات نے حضرت علی کی روایت سے اس کو مرفوع بھی قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ ایک تہائی چھوڑ دے۔ بعض نے کہا کہ اس کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں جتنا چاہے معاف کردے۔ یہی قول امام شافعی کا ہے نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے ایک غلام کو 35 ہزار درہم معاوضہ مقرر کرکے مکاتب بنایا جب تیس ہزار ادا کرچکے تو آخر میں پانچ ہزار معاف کردیا۔
سعید بن جبیر کا قول ہے کہ حضرت ابن عمر جب کسی غلا م کو مکاتب بناتے تو آخر میں جو کچھ معاف کرنا ہوتا معاف کردیتے۔ شروع میں معاف نہیں کرتے تھے آپ کو یہ اندیشہ رہتا تھا اگر یہ غلام بدل کتابت ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے پھر غلامی میں حسب سابق آگیا تو معاوضہ کتابت جو حصہ وہ معاف کرچکے ہوں گے وہ پھر ان کی ملک میں آجائے گا، البتہ آخری ادائیگی کے وقت آپ کو حسب منشاء معاف کردینا زیادہ مرغوب تھا، بعض نے کہا کہ یہ امر استحباب کے لیے ہے وجوب والاقول زیادہ راجح ہے۔
” وفی الرقاب۔ یہی قول حسن اور زید بن اسلم کا ہے۔ اگر مکاتب بدل کتابت کی ادائیگی سے پہلے پہلے مرجائے توکیاوہ غلام ہوکرمرے گا، یامکاتب کا حکم لگایاجائے گا، اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک وہ غلام ہوکر مرے گا، اور اس سے کتابت مرتفع ہوجائے گی۔ برابر ہے خواہ وہ مال چھوڑ کرمرے یا مال نہ چھوڑے جیسا کہ بیع پر قبضہ کرنے سے پہلے پہلے وہ مبیع ہلاک ہوجائے یہ قول ابن عمر اور زید بن ثابت کا ہے۔
اوریہی قول عمر بن عبدالعزیز اور زہری کا اور قتادہ کا ہے اور یہی قول امام شافعی اور امام احمد کا قول ہے ۔ اور بعض حضرات کا قول ہے کہ اگر وہ کچھ بدل کتابت چھوڑ کرمرا اور اس کے پاس مال موجود ہو تو وہ آزاد سمجھاجائے گا، اور اگر اس کے پاس اس کی آزادی کے بعد مال بچ جائے تو یہ اس کی آزاد اولاد ہوگی۔ یہ قول عطا ، طاوس، نخعی، وحسن کا قول ہے ، اور یہی قول امام مالک، امام ثوری ، اور اصحاب الرائے کا ہے۔ ولوکاتب عبدہ، اگر کسی نے بدل فاسد کی کتابت کی اور اس نے وہ ادا کی تو وہ ادا سمجھی جائے گی کیونکہ اس کی آزادی اور ادائیگی کتابت پر معلق تھی ۔ اور وہ پائی گئی۔ پھر اس کی اولاد اس کے مال میں شریک رہے گی۔
آیت ولاتکرھو فتیاتکم کا شان نزول۔
عبداللہ بن ابی سلول منافق کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کی دوباندیاں تھیں معاذہ اور مسیکہ، یہ ان دونوں سے زناکروانا چاہتا تھا دونوں باندیوں نے خدا مت گرامی میں آکر اس کی شکایت کی تو اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی اپنی باندیوں سے زناکرواتے تھے جب اسلام آیاتومعاذہ نے مسیکہ سے کہا کہ جس کام میں ہم مشغول ہیں اسکی دو وجہیں ہیں ایک وجہ یہ اگر یہ کام بہترہوتاتوبہت سارے لوگ کرتے اور اگر یہ کام برا ہے توہم اس برے کام کو ترک کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک باندی عبداللہ کے پاس زنا کی کمائی میں سے ایک چادر لائی اور دوسری باندی دینا لے کرائی عبداللہ نے دونوں سے کہا کہ جاؤ ابھی کچھ اور کمائی کرکے لاؤ، باندیوں نے کہاخدا کی قسم اب توہم ایسا نہیں کریں گے۔ اسلام آچکا ہے اللہ نے زنا کو حرام کردیا ہے۔ جب عبداللہ بن ابی نے مجبور کیا تو خدمت گرامی میں حاضر ہوکر اپنادکھ بیان کیا اور یہ آیت اتری، ولاتکرھوا فتیاتکم اپنی باندیوں پر علی ، البغای، زنا پر ، ان اردنا تحصنا، ، اگر وہ پاک دامنی کا ارادہ کریں ۔ اس میں شرط نہیں کہ اگر وہ پاکدامنی کا ارادہ کریں توزنانہ کراؤ اور اگر پاکدامنی نہ کریں تو پھر بھی زنانہ کرواؤ، اس کا مطلب شرط والا نہیں کیونکہ ان پر زنا کرنے کے لیے مجبور کرنا درست نہیں ، اگرچہ وہ پاکدامنی کا ارادہ نہ کریں۔
” وانتم الاعلون ان کنتم مومنین، جب تم مومن ہو اوربعض نے کہا کہ احصان کی شرط لگائی اگر وہ محصن ہونے کا ارادہ نہ کرتے ہو تو پھر اس صورت میں وہ بغی ہوگی۔ تحصن پاک دامنی کو کہتے ہیں۔
حسن بن فضل کا بیان ہے کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ مطلب یہ کہ اگر بیویاں پاک دامن رہناچا ہیں تو ان کا نکاح کرادو اور اپنی باندیاں کو زنا پر مجبور نہ کرو۔ لتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا، تاکہ تم ان کے اس برے اعمال سے دنیا میں مال کماؤ یا اپن اولاد کو ان کاموں کے لیے بیچ دو ۔ ومن یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم۔ ا س سے مراد مکروہات ہیں ورنہ مکروہ کو کہتے ہیں۔ حسن (رح) نے جب یہ آیت پڑھی تو فرمانے لگے بخدا اللہ ان باندیوں کو معاف کردے۔
Ayah 24:34تفسیر۔
34۔ ولقد انزلنا الیکم آیات مبینت، ،، اس سے مراد حلال و حرام ہیں ، ومثلا من الذین خلوا من قبلکم، ان لوگوں کا حال مقابل گزری ہوئی قوموں کے حال کے مشابہ ہے جنہوں نے انبیاء کرام کو اور ان کے احکام کو جھٹلایا، یہ ان کے لیے ڈرانامقصود ہے کہ اگر تم نے تکذیب کی تو تو تمہیں بھی ماقبل اقوام کے ساتھ ملایاجائے گا، جو نتیجہ ان کا ہوا وہی تمہارا ہوگا ، وموعظۃ المتقین ، اس سے مراد مومنین جو شرک اور کبائر سے بچتے تھے۔
Ayah 24:35اللہ نور السموات کی تفسیر۔
35۔ اللہ نور السموات والارض، ،، ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ آسمان و زمین کا ہادی ہے اس کی رہنمائی سب حق کی طرف چل رہے ہیں اور گمراہی سے نجات پا رہے ہیں ۔ ضحاک کا قول ہے کہ زمین و آسمان کو منور کرنے والاجیسا کہ کہاجاتا ہے اللہ نے آسمان کو منور کیا فرشتوں کو منور کیا، انبیاء کرام (علیہم السلام) سے۔ مجاہد کا قول ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ابی بن کعب اور حسن ابوالعالیہ کا قول ہے کہ آسمان اور زمین کو مزین کیا آسمان کو مزین کیا سورج کے ساتھ اور چاند ستاروں کے ساتھ اور زمین کو مزین کیا انبیاء ، علمائ، صلحائ، اور مومنین کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ نباتات اور درختوں سے اس کو منور کیا اور بعض نے کہا کہ تمام اشیاء کو انہی سے منور کیا جیس ا کہ کہاجاتا ہے فلاں پر حمت یعنی اسی کی وجہ سے رحمت ہے۔
مثل نورہ میں نور کا مصداق۔
” مثل نورہ ، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا نور ہے جو مومن کے دل میں ہوتا ہے۔ اور اس نور کے ساتھ وہ ہدایت پاتا ہے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے وہ اپنے رب ب کی طرف سے نور ہے۔ حضرت ابن مسعود پڑھتے تھے، مثل نورہ فی قلب المومن، سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کرتے ہیں کہ مثل نورہ ، سے مراد جو اللہ تعالیٰ نے مومن کو عطا کیا ہے بعض نے کہا کہ نور کی ضمیر مومن کی طرف راجع ہے عبارت اس طرح ہوگی ، ای مثل نورہ قلب المومن، حضرت ابی نے فرمایا کہ مومن کے دل کے نور کی صفت۔ یہ مومن وہ بندہ ہے جس کے دل کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایمان اور سینہ کے اندر قرآن جمادیا۔ حضرت ابی یوں پڑھتے تھے، مثل نور من امن بہ۔
” المصباح فی زجاجہ، ، اس سے مراد قندیل ہے زجاج کا قول ہے کہ شیشے کے اندر نور اور آگ کی روشنی بہت زیادہ جھلکتی ہے۔ اس لیے لفظ زجاجہ ذکر کیا۔ پھر زجاجہ کا وصف زکر کیا، الزجاجۃ کانھا کوکب دری، ابوعمرو اور کسائی نے دری پڑھا ہے اور وہ پھینکنا ہے کیونکہ آسمان سے شیطان پر تارے برسائے جاتے ہیں۔ اس حالت کے ساتھ تشبیہ دی کیونکہ اس وقت یہ بہت زیادہ واضح اور روشن ہوجاتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ جب ستاروں کو پھینکنے کے لیے ہاتھ میں فرشتے پکڑتے ہیں تو اس وقت ان کی روشنی تیز ہوجاتی ہے۔ بعض نے کہا کہ جب وہ دوبارہ روشن ہو اس کو در کہتے ہیں بعض نے کہا کہ جب وہ بلند ہوطلوع ہونے کے ساتھ تو اس کو در کہتے ہیں۔ اور جیسے کہاجاتا ہے ، در علینافلان، وہ ظاہر ہوا۔ اکثر نحاۃ کے نزدیک اگر در ہواتویہ لحن ہے کیونکہ کلام عرب میں فعیل کے فاء کے ضمہ کے ساتھ اور عین کے کسرہ کے ساتھ نہیں ہے اکثر حضرات نے فاء کے ضمہ کو ثقیل سمجھتے ہوئے فاء کے کسرہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ دوسرے قراء نے دال کے ضمہ اور یاء کی تشدید کے ساتھ بغیر ہمزہ کے اس کا معنی ہے اس کی بہت تیز روشنی ۔ در کی طرف اس کی نسبت اس وجہ سے کی کہ اس کی صفات اور اس کی حسنات کے باعث۔ اگرچہ کوکب کی روشنی موتی کی روشنی سے زیادہ ہوتی ہے لکن کوکب کی روشنی کی وجہ سے اس کو موتی پر فضیلت دی ہے بعض نے کہا کہ پانچ ستارے جو سب سے بڑے ہیں، ان میں سے کسی ایک ستارے کو کوکب دری کہاجاتا ہے۔
بعض حضرات نے کہا کہ اسکودوسرے ستاروں سے تشیہ دی ہے چاند وسورج کے ساتھ تشبیہ کیوں نہیں دی اس کا جواب یہ ہے کہ سورج چاند کو گرہن لگ جاتا ہے جبکہ ستارے گرہن میں نہیں آتے۔
” یوقد، ، ابوجعفر ابن کثیر، ابوعمرو، یعقوب نے توقد، اور فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ من شجرۃ مبارکۃ زیتونہ، اس درخت کاتیل بہت بابرکت ہوتا ہے یہاں پر مضاف محذوف ہے اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے ، یکاد زیتھا یضی، شجرہ مبارکہ سے مراد زیتون کا درخت ہے جوکثیرالبرکت ہے اور اس میں بہت سارے منافع ہوتے ہیں۔ اس کاتیل چراغوں میں جلایاجاتا ہے اور نہایت مفید روشنی اس سے حاـصل ہوتی ہے اور اس کاتیل دوسرے کاموں میں بھی آتا ہے یہ بطور سالن کے بھی استعمال ہوتا ہے اس کاتیل نکالنے کے لیے خاص مشینری کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ ہر شخص باآسانی اس سے تیل نکال سکتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ زیتون کے تیل سے ناسوراچھا ہوتا ہے چوٹی سے جڑ تک۔ اس کے درخت میں تیل ہی تیل ہوتا ہے۔
اسد بن ثابت اور ابی اسلم انصاری سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کے زیتون کاتیل کھاؤ اور استعمال کرو یہ درخت مبارک درخت ہے۔
لاشرقیۃ ولاغربیۃ کی تفسیر۔
لاشرقیۃ ولاغربیہ، ، اس کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ نقل کیا ہے کہ اس کا درخت صرف مشرق میں واقع نہیں کہ صرف طلوع کے وقت اس پر روشنی پڑے اور نہ ہی صرف مغرب میں واقع ہے کہ صرف غروب ہوتے وقت اس پر روشنی پڑے اور طلوع ہوتے وقت روشنی نہ پڑے بلکہ وہ پہاڑ کی چوٹی یاکھلے آسمان میں وسیع میدان میں واقع ہے کہ ہر وقت اس پر دھوپ پڑتی ہے اس وجہ سے اس کے پھل نہایت پختہ اور تیل بہت صاف ہے۔ یعنی نہ تومشرق میں اور نہ ہی مغرب میں دونوں طرف سے حصہ لیتا ہے۔ اس وجہ سے اس کاتیل نہایت صاف و شفاف ہوتا ہے جیسا کہ کہاجاتا ہے فلاں نہ ہی بہت کالا ہے نہ سفید۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نہ تو وہ خالص کالا ہے اور نہ ہی وہ خالص سفید ہے۔ بلکہ اس میں یہ دونون چیزیں جمع ہیں۔ یہ رمان (انار) میں نہ زیادہ کھٹے ہیں اور نہ ہی میٹھے بلکہ اس میں حلاوۃ اور کھٹاس دونوں شامل ہیں۔ اسی طرح یہ زیتون بھی ہے۔ یہ قولابن عباس ؓ عنہماکا اور عکرمہ کا ہے۔
سدی اور ایک جماعت کے نزدیک اس کا یہ مطلب ہے کہ نہ وہ ایسے مقام میں ہے کہ ہر وقت اس پر دھوپ پڑتی ہو اور اس کو جلاڈالے اور نہ ایسی پوشیدہ جگہ میں ہے کہ سورج ہمیشہ اس سے غائب رہے کبھی اس پر دھوپ نہ پڑی ہو۔ اس وجہ سے وہ کچارہ گیا ہو۔ بعض حضرات نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ معتدل رہتا ہے کہ یہ مشرق میں نہیں کہ دھوپ اس کو ضرر دے اور نہ ہی مغرب میں کہ سردی اس کو نقصان پہنچائے۔ بعض حضرات نے کہا کہ وہ درخت نہ زمین کے مشرق میں واقع ہے اور نہ مغرب میں بلکہ درمیان میں ملک شام میں واقع ہے شام کا زیتون بہت عمدہ ہوتا ہے۔
حسن کا قول ہے کہ ایسا کوئی درخت دنیا میں نہیں جو شرقی ہو نہ غربی، اللہ نے اپنے نور کو تشبیہ ایسے درخت زیتون سے دی جو مغرب میں بھی ہوا اور مشرق میں بھی ہو۔ اس سے زیتون کا درخت ہے جس سے اللہ نے اپنے نورکوتشبیہ دی ہے۔ یکاد زیتھا ، اس کاتیل، یضی، صاف ستھرا ہے۔ ولولم تمسہ النار، ، پہلے اس سے اس کو آگ پہنچ جائے۔ نور علی نور، اس میں پہلے چراغ کی روشنی پھر اس طاقچہ کی چمک کی روشنی۔
تمثیل کی وضاحت۔
اس تمثیل کے معنی میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض کا قول ہے کہ اس سے نورمحمدی کی تمثیل ہے۔ ابن عباس نے کعب احبار سے فرمایا کہ یہ آیت مثل نورہ کمشکوۃ کے معنی کی تشریح کرو۔ کعب احبار نے کہا کہ اللہ نے اس آیت میں اپنے نبی کی حالت بطور تمثیل بیان کی ہے۔ مشکوۃ سے مراد ہے رسول اللہ کا مبارک سینہ اور شیشہ سے مراد ہے آپ کا دل اور مصباح سے مراد ہے نبوت اور یکاد سے نورمحمد جو لوگوں کے لیے واضح ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ نے نبوت کا دعوی نہ بھی کیا ہوتاتب بھی قریب تھا کہ آپ کا نور جگمگانے لگتا اور لوگوں کے سامنے آپ کا نبی ہوناخود آجاتا۔
سالم سے روایت ہے کہ وہ ابن عمر سے اس آیت کے متعلق دریافت کرتے ہیں ، فرمایا کہ مشکوۃ سے مراد جوف محمد، سینہ مبارک، زجاجہ سے مراد آپ کا دل اور مصباح سے نور مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ڈالا اور شجرہ مبارکہ سے مراد ہیں کہ حضرت ابراہیم کے شرقی وغربی نہ ہونے سے مرادیہ ہے کہ حضرت ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی اور نور علی نور کا مطلب یہ ہے کہ ایک نورتوحضرت ابراہیم کے دل کا نور ہے اور دوسرا نور رسول اللہ کے دل کا نور ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، وسراجامنیرا، ، شجرہ مبارکہ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں کیونکہ ان کی صلب میں سے بہت سے انبیاء کرام (علیہم السلام) آپ کے بعد گزرے ہیں حضرت ابراہیم نہ تو یہودی مذہب کے پیروکار تھے اور نہ عیسائی مذہب کے پیروکار تھے بلکہ دین حنیف پر تھے کیونکہ یہود مغرب کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اور نصاری مشرق کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے ، یکاد زیتھا یضی ولولم تمسسہ نارا، اس طرف اشارہ ہے کہ وحی آنے سے پہلے ہی رسول اللہ کے کمالات اور محاسن ظہور پذیر ہونے والے تھے۔
نور علی نور کی تفسیر۔
نور علی نور کا مطلب یہ ہے کہ نور اسل نور نسل کے ساتھ شامل ہوگیا۔ ایک تونورابراہیمی تھا پھر نورمحمدی اس کے ساتھ مل گیا، بعض حضرات نے کہا یہ مومن کے دل کے نور کی ایک تمثیل بیان کی ہے۔
ابوالعالیہ نے اس کی تفسیر حضرت ابی بن کعب کی طرف نسبت کرکے کی ہے کہ یہ مومن کی مثال ہے مومن کی ذات ایک مشکوۃ ہے زجاجہ مومن کا سینہ ہے مصباح اس کا دل ہے نورمصباح ایمان اور قرآن کی روشنی ہے جو مومن کے دل میں ہوتی ہے شجرہ مبارکہ سے یہ روشنی اخلاص اللہ کے مبارک درخت سے حاصل ہوتی ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی سرسبز شاداب درخت جو گھنے باغ میں دوسرے درختوں سے گھرہوا کہ سورج کے طلوع و غروب کے وقت دھوپ سے محفوظ ہو، مومن بھی ہر طرح کے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے۔ چار اوصاف اس کے خصوصی اوصاف ہوتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے اس کو کچھ ملتا ہے تو شکر ادا کرتا ہے نہیں ملتاصبر کرتا ہے۔ فیصلہ کرتا ہے تو انصاف کا کرتا ہے بات کہتا ہے توسچی کہتا ہے اس کا دل ایساچراغ ہوتا ہے جو آگ کو چھوجانے کے بغیر بھی ایسامعلوم ہوتا ہے کہ روشن ہوجانے کے قریب ہے یعنی ظہور حق سے پہلے ہی اس کی معرفت حق حاصل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس کا دل فطری طور پر حق پرست ہے وہ نوربالائے نور ہوتا ہے اس کا ایک قول نور ہوتا ہے اس کا علم ایک نور ہے اس کا آنانور ہے اور جانانور ہے اور قیامت کے دن وہ نور ہی کی طرف جائے گا۔
ابن عباس کا قول ہے کہ یہ اللہ کے نور کی مثال ہے جو مومن کے دل میں ہوتا ہے مومن کا دل فطرۃ ہدایت پر عمل کرتا ہے جب اس کو علم حاصل ہوجائے تو اس کی ہدایت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ نوربالائے نور ہوجاتا ہے یعنی مومن کا ایمان اور اس کا عمل نور ہی نور ہوجاتا ہے۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مرا د نور ایمان اور نور قرآن ہے ۔ حسن اور ابن زید نے کہا کہ یہ قرآن کی مثال ہے مصباح قرآن ہے جس طرح چراغ سے روشنی حاصل ہوجاتی ہے اسی طرح قرآن سے ہدایت حاصل ہوجاتی ہے۔ یھدی اللہ لنورہ من یشائ، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس سے مراد دین اسلام ہے یہ آنکھوں کا نور ہے بعض نے کہا اس سے مراد قرآن ہے۔ ویضرب اللہ لامثال للناس ، لوگوں کے لیے ان اشیاء کو بیان کرتے ہیں تاکہ ان کو سمجھنے میں آسانی ہو اور اس راستے کے پانے میں آسانی ہو۔ واللہ بکل شئی علیم۔
Ayah 24:3636۔ فی بیوت اذن اللہ، ان گھروں میں چراغ ہیں، بعض نے کہا کہ ان گھروں میں چراغ کے ساتھ روشنی کروبیوت سے مراد مساجد ہیں ، سعید بن جبیر اور حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے، کہ مسجدیں زمین پر اللہ کے گھر ہیں۔ یہ آسمان والوں کی نظر میں ایسی چمکیلی دکھائی دیتی ہیں جیسے زمین والوں کے لیے ستارے۔
صالح بن حبان نے بریدہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ صرف چار مساجد ہیں جنکو پیغمبر نے بنایا ہے۔ کعبہ کو حضرت ابراہیم نے ا اور حضرت اسماعیل نے اور حضرت اسماعیل نے بیت المقدس کو حضرت داؤد اور حضر ت سلیمان نے بنایا اور مسجد مدینہ اور مسجد قبا کو نبی کریم نے بنایا۔ مسجد قبا وہی مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے ہی تقوی پر رکھی گئی تھی۔
” ان ترفع “ مجاہد کا قول ہے اس بناء کی مثال اللہ کے اس فرمان میں ہے ، واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت، ، حسن نے کہا کہ آیت اذن اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس کے گھر کی تعطیم کی جائے۔ یعنی اس میں بےہودہ بات نہ کی جائے۔ ویذکر فیھا اسمہ ، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی کتابت کی تلاوت کی جائے۔ یسبح لہ، ابن عامر ابوبکر نے باء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس آیت میں وقف والاصال کیا ہے۔ دوسرے قراء نے باء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ، اس صورت میں تسبیح کرنا مردوں کا فعل قرار دیا، ہے ۔ یسبح لہ، اور وہ نماز پڑھے۔ فیھابالغدو والاصال، ، یعنی صبح اور شام ۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے صبح وشام کی تسبیح سے پانچویں فرض نمازیں، مسجدوں کی تعمیر انہی نمازوں کی ادائیگی کے لیے کی جاتی ہے۔ بالغدو والاصال سے مرادظہر اور عصر کی نماز ہے اور عشائین بھی۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد صلوۃ صبح اور صلوۃ عصر مراد ہے۔ اسی وجہ سے آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے دونوں ٹھنڈی نمازیں پڑھیں وہ جنت میں داخل ہوگا، ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ صبح کی تسبیح سے چاشت کی نماز مراد ہے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جو شخص باوضوفرض نماز کے لیے چل کرجاتا ہے۔ اس کا ثواب محرم حاجی کی طرح ہوتا ہے اور جو چاشت کی نماز کی غرض سے چل کرجاتا ہے اور صرف چاشت کی نماز کا ارادہ اس کو کھڑا کرتا ہے اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کے برابر ہوتا ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز علیین میں لکھ دی جاتی ہے کہ جبکہ ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی لغو بات نہ کی ہو۔
Ayah 24:37تفسیر۔
37۔ رجال “ ان میں مردوں کو خصوصی طور پر ذکر کیا کیونکہ عورتوں کا مساجد میں جانا نہ جمعہ کے لیے ہے ، اور نہ ہی جماعت کے لیے ، لاتلھیھم ، ان کی یاد سے وہ غافل نہ ہوں، تجارۃ، یہاں پر تجارت کو خصوصی ذکر کیا کیونکہ یہی بڑا عمل ہے جس کی مشغولیت کی وجہ سے انسان اور دوسری طاعات سے رہ جاتا ہے، تجارت سے مراد خریدنا ہے۔ اگرچہ تجارت کا لفظ خریدنے اور بیچنے دونوں پر بولاجاتا ہے۔ اسی وجہ سے لفظ تجارت کے بعد لفظ بیع کا تذکرہ نہیں کیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، واذا راؤ تجارۃ، اس سے مراد خریدنا ہے فراء کا قول ہے کہ تجارت کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو باہر ہے مال لانے والے ہیں اور بیع کا تعلق اس کے ہاتھ سے ہے۔
” ولابیع عن ذکراللہ۔ نماز کے لیے مساجد میں حاضر ہونا۔ واقام ، اس کو قائم کرنے کے لیے۔ الصلوۃ، اس سے مراد اس کے وقت میں ادا کرنا اس لیے کہ نما زکو وقت مقررہ سے موخر کرنے والا نماز کو قائم کرنے والا نہیں ہوتا۔ اقامت صلوہ کا اعادہ دراصل نماز کے اوقات خمسہ کو اچھی طرح یاد رکھنا۔ حضرت سالم نے ابن عمر کا قول نقل کیا ہے ک ہمیں بازار میں تھا اتنے میں نماز کی اقامت ہوئی لوگ اٹھ کردکانیں بندکرکے مسجد میں چلے گئے۔ انہی کے متعلق آیت، لاتلھیھم تجارۃ ولابیع، نازل ہوئی ، وایتاء الزکوۃ، اس سے مراد فرض زکوۃ ادا کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے جب ادا زکوۃ کا وقت آجاتا ہے تو زکوۃ کو روکتے نہیں۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ زکوۃ سے تمام اچھے اعمال مراد ہیں۔
” یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار، ، ان کے دل خوف اور مید کی طرف پلٹ جائیں گے ہلاک ہونے سے ڈریں گے اور نجات کی امیدہوگی اور ان کی آنکھیں گردوپیش کی طرف دیکھ کرچکرائیں گی اور ہر طرف پلٹ کر دیکھیں گی کہ کس طرف سے پکڑہوتی ہے دائیں جانب یا بائیں جانب سے اور کس رخ سے اعمال نامہ ملتا ہے۔ سیدھی طرف سے یا الٹی طرف سے یا پیچھے سے اور وہ اس وجہ سے بھی ڈرتے ہیں کہ ان اعمال نامہ سامنے سے ملے گا، یاپیٹھ کے پیچھے سے اور یہ سب کچھ قیامت کے دن ہوگا، بعض حضرات نے ، تتقلب، کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ کافروں کے دل میں اس کفر وشرک سے پلٹ جائیں گے جس پر دنیا میں قائم تھے اور ان کی آنکھوں سے پردے ہٹ جائیں گے اور وہ اشیاء ان کو دکھائی دے گی جس کا انکار کرتے تھے اور بعض حضرات نے کہا ا کی دل ان کے پیٹ میں ہی پلٹ جائے گا، اور وہ گلے کی طرف نکلے گا نہ وہ اپنی جگہ ٹھہر سکے گا اور نہ ہی وہ باہر نکلے گ اور ان کی آنکھیں خوف وشدت کی وجہ سے چندھیا جائیں گی۔
Ayah 24:3838۔ لیجزیھم اللہ احسن ماعملوا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے ذکر میں مشغول ہوں نماز ادا کریں ، زکوۃ دیں تاکہ اللہ انکوان کے اعمال کا اچھا بدلہ دیں، اس کا اچھا بدلہ انہوں نے اعمال کیے، ویزیدھم من فضلہ، ، اتنادے کہ جوان کے اعمال سے بڑھ کر ہو، واللہ یرزق من یشاء بغیر حساب ، پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کی مثال بیان فرمائی ہے۔
Ayah 24:3939۔ والذین کفروا اعمالھم کسراب بقیعہ، ، سراب اس ریت کو کہتے ہیں کہ جو ریگسانی میدان میں دوپہر کے وقت دھوپ میں آب رواں کی طرح دور سے نظر آتی ہے۔ اس کو تشبیہ دی ہے جاری پانی کے ساتھ جیسے دور سے نظرآتی ہے اس کو تشبیہ دی ہے جاری پانی کے ساتھ جیسے دور سے اس ریت کو دیکھنے والے کو پانی محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ اس کے قریب پہنچتا ہے تو کوئی پانی نہیں ہوتا۔ قیعہ ، اور قاع ہموار میدان کو کہتے ہیں اس کی جمع قیعان آتی ہے۔ یحسبہ الظمان، پیاسا شخص یہ گمان کرتا ہے۔ ماء حتی اذاجاء ہ وہ اس کو گمان کرتا ہے کہ یہ پانی ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ موضع سیراب میں آئے۔ لم یجدہ شیئا، یعنی گمان کے مطابق ا س کو کچھ نہ ملے۔ اسی طرح کافر گمان کرتا ہے کہ اس کا عمل اس کو نفع دے گا، لیکن جب اس کو ملک الموت پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت یہ اپے اعمال کا محتاج ہوتا ہے لیکن وہ اس وقت ایسے اعمال نہیں پاتا جو اس کو اس سے بےپروا کردے۔ اور نہ ہی وہ اعمال اس کو نفع دے سکتے ہیں۔ ووجد اللہ عندہ ، اس نے اللہ کا عذاب اپنے پاس پایا اور اللہ نے اس کے اعمال کے مطابق پورا پورابدلہ دیا۔ فوفاہ حسابہ، ا س کے اعمال کا بدلہ پورا پورا ، واللہ سریع الحساب۔
Ayah 24:4040۔” اوکظلمات ، ، کفار کی ایک اور مثال بیان کی ہے۔ ان کے اعمال کے فساد کی مثال اور ان کی جہالت کی مثال ایسی ہے جیسے اندھیرے ۔ فی بحر لجی، ، گہراجہاں پر پانی زیادہ ہوتا ہے۔ سمندر کا وہ حصہ جہاں پانی بہت ہے۔ یغشاہ ، جس میں موجیں چڑھی ہوتی ہیں۔ موج من فوقہ موج، پے درپے لہروں کا چڑھنا۔ من فوقہ ، سحاب، ابن کثیر نے ایک روایت کے مطابق سحاب، پڑھا ہے ظلمات مجرور ہے بدل ہونے کی وجہ سے ، او کظلمات ، سے ۔ ابوالحسن سے رویات ہے انہوں نے ، سحاب ظلامت، پڑھا ہے اضافت کی وجہ سے۔ دوسرے قراء نے ، سحاب ظلمات ، پڑھا ہے دونوں مرفوع ورتنوین کے ساتھ ۔ اس صورت یہ کلام سحاب پر مکمل ہوجائے گا، پھر دوبارہ کلام کی ابتداء ظلمات سے کی ہے۔
من فوقہ ظلمات کی تفسیر۔
” بعضھا فوق بعض، ، ایک اندھیرا بادلوں کا اور دوسرا اندھیرا موج کا اور تیسرا اندھیرا سمندر کا۔ یہ ایک دوسرے پر اندھیرے ہیں۔ یعنی موجوں کا اندھیرا سمند رکے اندھیروں پر پھیلا ہوا ہے۔ اور بادلوں کاندھیرا موجوں پرچھایا ہوا ہے۔ ظلمات سے مراد کفار کے اعمال ہیں۔ بحرلجی، ، سے مرادان کا دل ہے ۔ اور بالموج یغشی سے جہالت سے ان کا دل کا بھرا ہوا ہونا ہے اور سحاب سے مرادان کے دل پر مہر ہے۔ ابی بن کعب اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ کافر پانچ اندھیروں سے پلٹتا ہے۔ ا سکاکلام اندھیرا ہے اس کا عمل اندھیرا ہے۔ اس کا داخل ہونااندھیرا ہے۔ اس کا خارج ہونا اندھیرا ہے۔ اور وہ قیامت تک یہاں تک کہ وہ دوزخ میں پہنچ جائے گا، اذا اخرج، دیکھنے والے کو، یدہ لم یکدیراھا، ، یعنی اس کا قریب بھی نظر نہیں آتا ہو ہے اور اندھیرے کی شدت سے۔ فراء کا قول ہے کہ ، یکد، صل ہے وہ اس کونہ دیکھے۔ مبرد کا قول ہے کہ اتنی کوشش کے بعد بھی وہ اسکو دیکھ نہ پائے گا، جیسا کہ کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے کہ اندھیرے میں دیکھنے والے کو کچھ نظر نہ آئے حالانکہ وہ دیکھ رہا ہے اس دیکھنے سے محض اس کو مایوسی اور شدت ہی آئے گی۔ بعض نے کہا کہ اس کو قریب سے دیکھے تو پھر بھی اسکو کچھ نظر نہ آئے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے کہ قریب ہے شتر مرغ اڑنے لگا ہے۔ ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فمالہ من نور۔ ابن عباس کا قول ہے کہ جس کو اللہ نے دین اور ایمان عطا نہ کیا ہو اس کے لیے کوئی دین نہیں اور جس کو اللہ ہدایت نہ دے اس کے لیے کوئی ایمان نہیں اور اس کے کوئی ہدایت کا راستہ نہیں۔
مقاتل کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول عقبہ بن ربیعہ کے حق میں ہوا۔ عتبہ دور جاہلیت میں دین حق کا متلاشی تھا ٹات کا لباس پہنتا تھا لیکن جب اسلام آیاتو اس نے اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم عام ہے جمیع کفار کے لیے ۔
Ayahs 24:41–42تفسیر۔
41۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ ، ،، ،، وہ اپنے پروں کو ہوا میں پھیلائے ہوئے ہیں، حیوانوں میں بالخصوص پرندوں کا زکر اس لیے کیا کہ جو پرندے زمین پر ہوتے ہیں وہ تو، من فی السماوات والارض کے، ذیل میں شامل ہیں اور اگر ذکر نہ کرتے تو آسمانوں میں اور زمین میں رہنے والے پرندے اس میں شامل نہ ہوتے۔ کل قد علم صلاتہ وتسبیہ، ، مجاہد کا قول ہے کہ صلوۃ بنی آدم کے لیے اور تسبیح تمام مخلوقات کے لیے۔ بعض نے کہا کہ پرندوں کا پروں کو پھیلانا نماز ہے اور ان کا بولنا تسبیح ہے۔ کل قد علم، ، جو بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے اور اس کی نماز ادا کرتا ہے وہ اللہ کے علم میں ہے۔ اور بعض نے کہا کہ ہر ایک اپنی دعا اور پاکی بیان کرنے سے واقف ہے۔ واللہ علیم بمایفعلون، ،۔
Ayah 24:4343۔ الم تر ان اللہ یزجی، ،، اپنے حکم سے بادلوں کو ہنکاتا ہے۔ سحابا، جہاں ان بادلوں کو لے جانے کا ارادہ کرتا ہے ثم یولف بینہ، پھر ان بادلوں کے مختلف ٹکڑے کو جمع کرتا ہے۔ ثم یجعلہ رکاما، اس کو تہہ درتہہہ بنادیتے ہیں ، فتری الودق، ، پھر اس کے شگوفوں سے بارش کو نکالتے ہیں۔ یخرج من خلالہ، اسی کے درمیان سے خلال، جمع ہے خلل کی جیسے جبال جمع ہے جبل کی، وینزل من السماء من جبال فیھا من برد، ان پر نازل کرتے ہیں برساتے ہیں برے بڑے اولے۔ بعض نے کہا کہ من صلہ ہے۔ بعض نے کہا کہ اولوں کے بڑے بڑے تودے جو پہاڑوں کی طرح ہوتے ہیں۔ یہابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے ، بعض حضرات نے یہ قول ذکر کیا ہے کہ آسمانوں میں اولوں کے پہاڑ ہیں۔
بعض حضرات نے کہا کہ ، من جبال فیھامن برد، میں مفعول محذوف ہے اور وہ انزال ہے۔ عبارت یوں ہوگی ، ینزل من السماء من جبال فیھامن برد، اس مفعول کو اس لیے ذکر نہیں کیا کہ کیوں کہ مفہوم اس پر دلالت کررہا تھا۔
نحوییین حضرات کہتے ہیں کہ اس آیت میں تین مرتبہ من استعمال ہوا ہے ، من السماء ، اس میں من ابتدائیہ ہے دوسری جگہ، من جبال ، یہاں من تبعیضیہ ہے ، مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں بعض بادلوں کے پہاڑ سے بارش نازل نہیں کرتا ۔ من برد، من بیانیہ جنس کے لیے ہے۔ فیصیب بہ، وہ اولے پہنچ جاتے ہیں۔ من یشائ، اس کے ذریعے سے ان کی کھیتوں اور ان کے اموال کو ہلاک کردیتا ہے۔ ویصرفہ من یشائ، اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتا۔ یکادسنا برقہ، بادلوں پر گز لگنے سے جو چمک پیدا ہوتی ہے ، یذھب بالابصار، ، اس کی شدت روشنی ہے۔ وہ آنکھوں کی روشنی کو مدھم کردیتی ہے ابوجعفر نے یاء کے ضمہ اور ھاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 24:44تفسیر۔
44۔ یقلب اللہ اللیل والنھار، اللہ تعالیٰ ان کو پھیر دیتا ہے رات کے بعد دن کو لاتا ہے اور دن کے بعد رات کو لاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے ابن آدم دکھ پہنچاتا ہے۔ زمانے کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں حکم ہے میں ہی رات دن کا ادل بدل کرتا ہوں، ان فی ذالک ، یعنی جو اشیاء ہم نے ذکر کی ہیں، لعبرۃ لاولی الابصار، ، عقل والوں کے لیے اور بصیرت والوں کے لیے الل ہ کی قدرت و توحید کے دلائل ہیں، ان سے عبرت حاصل کرو۔