Ayah 22:7373۔ یا ایھالناس ضرب مثل ، ضرب کا معنی ہے جعل ۔ جیسا کہ مقولہ مشہور ہے بادشاہ نے لوگوں کی ایک جماعت بھیجی یا بادشاہ نے ذمیوں پر جزیہ لازم کردیا، یعنی ان پر ڈال دیا۔ مشرکین نے بتوں کے ہی ساتھ ساتھ شریک کرلیا اور انہی بتوں کو شریک کرکے ان کی عبادت کرتے۔ فاستمعوالہ، آپ ان کی حالت اور ان کے وصف کو سن لو، پھر اس کو بیان کردیا، اور فرمایا، ان الذین تدعون من دون اللہ، اس سے مراد بت پرست ہیں جو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ، لن یخلقواذبابا، ان کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ان کو واحد ذکر کیا۔ وہ کسی چیز پر قادر نہیں ہوتیں، اس کی واحد اور جمع بھی استعمال ہوتی ہے، تھوڑی کے لیے ، اذبہ، اور کثیر کے لیے ذباب بولاجاتا ہے، جیسے ، غراب، واغربہ، اور غربان، ہے، ولواجتمعوا لہ اس کو پیدا کیا۔ وان یسلبھم الذباب شیئا لایستقذوہ منہ، ،
ابن عباس فرماتے ہیں کہ وہ اپنے بتوں کو زعفران کے ساتھ لیپ کرتے تھے ۔ جب وہ خشک ہوجاتا مکھی جاکر اس کو اٹھا کرلے آتی، سدی کا قول ہے کہ بتوں کے سامنے کھانارکھا ہوتا تھا اس میں مکھی گرجاتی تو وہ اس کو بھی کھاجاتے۔ ابن زید کا قول ہے کہ وہ اپنے بتوں کو زیورات وجواہرات سے مزین کرتے تھے اور ان پر خوشبو لگاتے تھے، بسا اوقات ان سے کوئی چیز گرجاتی تو وہ اس کو لے لیتی یا کوئی مکھی اس کو لے لیتی تو وہ معبود اس سے چھڑانے پر قادر نہیں تھے، اسی لیے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا، وان یسلبھم الذباب شیائ، اگر مکھی بتوں کے اوپر سے کوئی چیز اچک لے تو وہ اس سے چھڑانے کے قادر نہیں، ضعف الطالب والمطلوب۔
حضرتابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا طالب سے مراد ہے مکھی جو اس چیز کی طلب گار ہوتی ہے جس کو وہ بت سے چھینتی ہے اور مطلوب سے مراد ہے بت جس سے مٹھائی وغیرہ مکھی طلب کرتی ہے طالب کمزور اور مطلوب بالکل ہی بےبس اور بعض نے اس کے برعکس تفسیر کی ہے۔ طالب بت اور مطلوب مکھی لیکن بت تو بےجان ہیں وہ کسی چیز کی بھی طلب نہیں رکھتا، اس لیے اس کو طالب قرار دینا صرف ظاہری صورت کے لحاظ سے کہاجائے گا، اور طالب استنقاد فرض کرلیاجائے گا، ضحاک کا قول ہے کہ طالب سے مراد بت پرست اور مطلوب سے مراد بت ہیں۔
Ayah 22:7474۔ ماقدرواللہ حق قدرہ، اس طرح اس کی تعظیم نہیں کی جس طرح تعظیم کرنی چاہیے تھی ، اور اس کے پہچاننے کا جس طرح حق تھا اس طرح اسکو نہیں پہچانا، اور جن اوصاف کا حق تھا اور وہ اوصاف آپ نے بیان نہیں کیے اس لیے حقیرترین چیزوں کو اس کی عبادت میں شریک قرار دے لیا، ان اللہ لقوی عزیز۔
Ayah 22:75تفسیر۔
75۔ اللہ یصطفی ، منتخب کیے، من الملائکۃ رسلا، مرسل ، ملائکہ، جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، عزرائیل وغیرہ، ومن الناس ، اور انسانوں میں سے رسول منتخب کیے جیسے حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد اور ان کے علاوہ بھی ایک انبیاء کی جماعت ہے۔ یہ آیت اس وقت اتری جب مشرکوں نے کہا تھا، ء انزل علیہ الذکر من بیننا، کیا ہماری جماعت میں سے اس معمولی شخص پر قرآن اتارا گیا، اس کی تردید میں فرمایا کہ پیغمبر بنانے کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی جس کو چاہتا ہے پیغمبری کے لیے منتخب کرلیتا ہے ان اللہ سمیع بصیر، ان کے قول کو سننے والا، اور بصیر ہے ان کے لیے جن کو رسالت کے لیے منتخب کیا۔
Ayah 22:76مابین ایدیھم وماخلفھم کی مختلف تفاسیر۔
76۔ یعلم مابین ایدیھم، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے آگے پیچھے کی تشریح میں فرمایا جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا، وماخلفھم، اور جو کچھ انہوں نے پیچھے چھوڑا۔ حسن کا قول ہے کہ مابین ایدیھم، سے مراد جو کچھ وہ عمل کرچکے اور وماخلفھم سے مراد جو اس کے بعد وہ عمل کریں گے بعض نے کہا کہ ، مابین ایدیھم سے مراد فرشتے آسمانی کتابیں اور رسول ہیں جوان کے پیدا کرنے سے پہلے گزرچکے ہیں اور وماخلفھم سے مراد ان پیغمبروں کے بعد کے احوال سے اللہ واقف ہیں۔ والی اللہ ترجع الامور۔
Ayah 22:7777۔ یا ایھا الذین امنوارکعوا واسجدوا۔۔۔ اس سے مراد نماز پڑھو کیونکہ نماز ہی ایسی عبادت ہے جس میں رکوع اور سجود ہوتے ہیں۔ وعبدواربکم ، اور تم اکیلے رب کی عبادت کرو۔ ووافعلوالخیر، اور نیکی کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا اس سے مراد قرابت داروں سے اچھاسلوک کرنا ان کو جوڑے رکھنا، لعلکم تفلحون، تاکہ تم سعادت مندی اختیار کرو اور جنت کے حصول میں کامیاب ہوجاؤ۔
یہاں پر سجدہ تلاوت ہے کہ نہیں ائمہ کے اقوال ہیں۔
اس آیت کے پڑھنے کے بعد سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے یا نہیں اس کے متعلق اہل علم کا آپس میں اختلاف ہے ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اس کے بعد سجدہ واجب ہوتا ہے۔ یہ قول عمرو علی ، ابن مسعود اور ابن عباس کا ہے اور فقہاء میں سے ابن المبارک، شافعی، احمد واسحاق (رح) کا قول ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ اے للہ کے رسول کیا سو رہ حج کو یہ فضیلت ہے کہ اس میں دوسجدے ہیں ؟ فرمایا ہاں۔ جو دوسجدہ نہ کرے وہ ان آیتوں کونہ پڑھے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس جگہ سجدہ تلاوت نہیں یہ قول سفیان ثوری اور اصحاب الرائے کا ہے۔
قرآن پاک کے چودہ سجدے شمار کیے ہیں۔ اکثر اہل علم کے نزدیک ان میں سے تین تومفصلات اور بعض قوم کے نزدیک مفصل میں سجدہ نہیں۔ یہ قول ابی بن کعب اور ابن عباس کا ہے اور یہی امام مالک (رح) کا قول ہے صحیح روایات میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ کے ساتھ سورة اقراء میں سجدہ کیا، اور اذالسماء انشقت ، میں بھی اور حضرت ابوہریرہ متاخر الاسلام صحابی ہیں۔
سورہ ساد کے سجدہ میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی نے فرمایا کہ سجدہ شکر ہے اور سجو د قرآن میں سے نہیں ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اور بعض حضرات کا قول ہے کہ اس میں سجدہ ہے اور یہی روایت حضرت عمر سے مروی ہے اور یہی قول سفیان ثوری، ابن المبارک ، اصحاب الرئے ، امام احمد اور اسحاق کا قول ہے۔ ابن مبارک، اسحاق اور احمد ایک جماعت کا قول ہے کہ سجود قرآن پندرہ ہیں۔ انہوں نے سورة حج کے دونوں ، سجدوں، اور سو رہ ص میں بھی سجدہ کو شمار کیا ہیے۔ اس پر دلیل حضرت عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ نبی کریم نے قرآن میں پندرہ سجدے شمار کیے ہیں۔
Ayah 22:78وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ کی تفسیر۔
78۔ وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ۔ اللہ کے راستے میں دشمن کے خلاف لڑنا جیسا کہ لڑنے کا حق ہے اتنی طاقت کے ساتھ لڑنا کہ اپنی آخری حد تک کی طاقت لگ جائے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ کے دین میں کسی برا کہنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا ہی حق جہاد ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، یجاھدون فی سبیل اللہ ولایخافون لومۃ لائم، ضحاک اور مقاتل کا بیان ہے کہ اللہ کے لیے کام کرو، جیسا کہ کام کرنے کا حق ہے اور اس کی عبادت کرو جیسا کہ عبادت کا حق ہے مقاتل بن سلیمان کا بیان ہے کہ یہ اس آیت سے منسوخ ہے، فاتقواللہ ماستطعتم۔
اکثر مفسرین کا قول ہے کہ حق جہاد یہ ہے کہ نیت خالص اللہ کے لیے ہو۔ سدی نے کہا کہ حق جہادیہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے۔ عبداللہ بن مبارک کا بیان ہے کہ نفس اور نفسانی ہواوہوس سے جہاد کرنا ہی جہاد اکبر ہے اور حق جہاد ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے جب رسول اللہ تبوک سے واپس آئے تو فرمایا ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ اس صورت میں جہاد اصغر سے مراد جہاد مع الکفار ہے اور جہاد اکبر سے مراد نفس سے جہاد کرنا ہے۔ ھو اجتباکم، تمہیں اپنے دین کے لیے منتخب کرلیا۔ وماجعل علیکم فی الدین من حرج، کا معنی ہے تنگی ۔
بعض اہل تفسیر نے یہ بیان کیا ہے کہ مومن جب کسی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اللہ اس کے لیے گناہ کی سزا سے نکلنے کا راستہ ضرور بنادیتا ہے۔ توبہ کے ذریعے سے ہو یا دنیاوی سزا یا ادا حقوق کی صورت میں ہو یا کفارہ دے کر ہو۔ بہرحال اللہ نے دین اسلام میں ایسی تنگی نہیں رکھی کہ کس طرح اس گناہ سے پاک ہونے کی گنجائش ہی نہ ہو۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ تنگی نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے اداء فرائض کے اوقات میں کوئی اشتباہ نہیں رکھا، فرائض کو ادا کرنے کے لیے اوقات مقرر فرمادیے۔ مثلا ہلال رمضان ، ہلال فطروقت حج وغیرہ۔
مقاتل کا بیان ہے کہ تنگی نہیں کی، یعنی ضرورت کے وقت سہولت کا باب کھول دیا۔ مثلا سفر میں نماز کا قصر، پانی نہ ملنے یا نقصان رساں ہونے کی صورت میں تیمم سخت ضرورت کے وقت مردرار کو کھانا ، مجبوری کے وقت بیٹھ کر بلکہ لیٹ کر نمازوں کو ادا کرنا، یہی قول کلبی کا ہے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ تنگی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل پر سخت احکام کے جو بار تھے اور سخت بندشیں تھیں اللہ نے اس امت کو اس کو ساقط کردیا۔ ملہ ابیکم ابراہیم، ابیکم منصوب بنزع الخافض۔ ہے بعض نے کہا کہ منصوب علی الاغراء ہے یعنی تم پیروی کرو۔ اپنے باپ ابراہیم کے دین کی اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی پیروی کا حکم دیا، کیونکہ وہ بھی حضرت محمد کی ملت میں داخل ہیں۔
شبہ اور اس کا ازالہ۔
سوال : اگر یہ سوال کیا جائے کہ ملۃ ابیکم ، کہنے کی کیا وجہ ہے ؟ حالانکہ تمام مسلمانوں کا نسب حضرت ابراہیم کی طرف راجع ہے ؟
جواب : اس سے خطاب صرف عرب کو ہے کیونکہ وہ ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ بعض نے جواب دیا کہ یہ خطاب تمام مسلمانوں کو ہے اور حضرت ابراہیم سب کے لیے والد کی طرح ہیں۔ لہذا اس معنی کی بناء پر ان کا احترام تمام مسلمانوں پر واجب ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت بھی واجب ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ، وازواجہ امھاتھم، نبی کریم کا ارشاد منقول ہے کہ میں تمہارے لیے باپ کی طرح ہوں۔ ھوسماکم، اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام لکھا، المسلمین من قبل، قرآن کے نزول سے پہلے کتابوں میں۔ وفی ھذا، اور اس کتاب میں یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔
ابن زید کا قول ہے کہ ھو کی ضمیر ابراہیم کی طرف راجع ہے یعنی اس زمانے سے پہلے اپنے زمانے میں ابراہیم (علیہ السلام) تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ۔ اس وقت سے پہلے اور اس وقت میں۔ اسی طرح حضرت ابراہیم نے اپنی دعا میں کہ ا، ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک۔ اے ہمارے رب، ہم کو اپنامطیع بنادے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک مسلمان امت بنادے۔ لیکون الرسول شھیدا علیکم، اس سے مراد قیامت کا دن ہے کہ قیامت کے دن رسول اللہ شہادت دیں گے کہ ہم نے پیغام پہنچادیا تھا۔ وتکونوا، اور تم، شھداء علی الناس، کہ تمہارے رسولوں نے ان تک پیغام پہنچادیا ۔ فاقیموا الصلوۃ واتوالزکوۃ وعتصمواباللہ، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو مکمل بھروسہ۔ حسن کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھو۔
حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ اپنے رب سے مانگو وہ تمام مکروہات سے تم کو محفوظ رکھے گا، بعض نے کہا کہ اپنے رب سے دعا کرو تاکہ وہ دین پر تم کو ثابت قدم رکھے ، بعض نے کہا کہ اعتصام باللہ سے مراد کہ کتاب اللہ اور سنت رسول کو مضبوطی سے تھامے رکھے۔ ھومولکم ، وہی تمہارا مولی اور تمہارا مددگار ہے اور وہی تمہارا محافظ ہے ، فنعم المولی ونعم النصیر، جو تمہارا مددگار ہے۔