22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہ قدیم (یعنی بیت اللہ) تک پہنچنا (اور ذبح ہونا) ہے

33۔ لکم فیھا ، اس قربانی میں ہدی سے پہلے نام کرنے سے ، منافع ، بہت سارے منافع ہیں، یعنی ان پر سوار ہونا ان کی نسل بڑھانا اور ان کے اون اور ان پر بوجھ لادنا، وغیرہ کے کاموں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ الی اجل مسمی، ان کو نام رکھنے ، قربانی کا جانور مقرر کرنے سے پہلے) اور ان کو ہدیہ کے لیے واجب کرنے سے، جب تم اس جانور کو اس کام کیلیے متعین کردو تو پھر اس سے یہ منافع حاصل نہیں ہوسکتے۔ یہ مجاہد کا قول ہے اور یہی قتادہ ک اورضحاک کا قول ہے اور یہی روایت مقسم نیابن عباس ؓ سے نقل کی ہے۔ عطاء بن ابی رباح، امام مالک اور مام شافعی ، امام احمد اور اسحاق نے آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ ان حضرات کا مسلک ہے کہ قربانی کے نامزد اونٹوں اور اونٹیوں پر سوار ہونا بوجھ لادنا اور ان کادودھ پینا، بشرطیکہ اس عمل سے ان کو ایذا نہ پہنچے جائز ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ خود پیدل چل رہا ہے تھا اور قربانی کے اونٹ کو ہنکا کرلے جارہا تھا، فرمایا اس پر سوار ہوجا، اس شخص نے عرض کیا حضور یہ قربانی کا اونٹ ہے فرمایا تیرابرا ہو۔ اسی طرح آپ نے اس شخص کو فرمایا کہ قربانی کے جانور سے دودھ کا استعمال کر۔ جب وہ اپنے بچے کو پلانے کے بعد باقی بچ جائے۔ اصحاب الری کا قول ہے کہ قربانی کے جانور پر سوار نہ ہو۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب تک اس کو ضررحاصل نہ ہو اور وہ اس پر سوار نہ ہو۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد شعائر حج اور مکہ میں حاضر ہونا ہے۔ اس میں تمہارے لیے تجارت کے منافع اور بازار ہیں، مقررہ مد ت تک کے لیے یہ جب ہے جب مکہ سے نکل جائیں۔ بعض نے کہا کہ ، لکم فیھا منافع، سے مراد اجر وثواب ہے ۔ حج کے مناسک مقررہ مدت تک ادا کرنے میں۔ جب تک حج کے دن پو ورے نہ ہوجائیں۔ اس وقت تک ثواب ملتا رہتا ہے۔ ، ثم محلھا ، اس سے مراد اس کا نحر کرنا ہے الی البیت العتیق ، اس کی قربانی بیت عتیق کے پاس کی اس سے مراد پورا حرم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فلاتقربوا المسجد الحرام ، سارکاسارا حرم ہے۔
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک امت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے انکو دئیے ہیں (انکے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں سو تمہارا ایک ہی معبود ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو

34۔ ولکل امۃ ، ، ایک صالح قوم ماقبل اقوام میں گزرچکی ہے۔ جعلنا منسکا ، حمزہ اور کسائی نے سین کے کسرہ کے ساتھ اس جگہ اور اس سورت کے آخر میں یہ اسم کے معنی میں ہے جیسے مسجد اور مطلع ہے اور وہ قربان گاہ ہے جہاں پر جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے ۔ دوسرے قراء نے سین کے فتحہ کے ساتھ مصدر پڑھا ہے جیسے مدخل اور مخرج ہے اس کا معنی ہے خون بہانا، اس کو قربت کے لیے ذبح کرنا۔ لیذکر اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام۔ اس کے نحر کے وقت اور اس کے ذبح کے وقت ا س کو بھیمہ، کے نام سے موسوم کیا کیونکہ یہ کلام نہیں کرتے تھے۔ بعضنے کہا کہ بہمیہ کے ساتھ ، نعم، کی قید لگائی ہے اور کچھ چوپائے انعام کے علاوہ بھی ہوں گے جیسے گھوڑا ، گدھا، خچر، بہائم ت وہیں لیکن ان کو انعام نہیں کہاجاتا اس لیے اس کی قربانی جائز نہیں۔ فالھکم الہ واحد، تم ان جانوروں کو اللہ کے نام پر ذبح کروجواکیلا ہے۔ فلہ اسلموا، اسی کی پیروی کرو اور اسی کی اطاعت کرو، وبشرالمخبتین، ابن عباس اور قتادہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے عاجزی کرنے والے تواضع کرنے والے۔ مجاہد کا قول یہ ہے کہ اللہ کی یاد میں مگن ، مطمئن ، خبث نشیبی مقام کو کہتے ہیں۔ اخفش نے اس کا ترجمہ کیا خشوع کرنے والے ۔ ابراہیم نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ اہل اخلاص کلبی نے اس کا ترجمہ کیا نرم دل لوگ۔ عمرو بن اوس نے کہا کہ مخبتین، وہ لوگ ہیں جو کسی پر ظلم نہیں کرتے اور اگر ان پر ظلم کیا جائے تو انتقام نہیں لیتے۔
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز آداب سے پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

تفسیر۔ 35۔ الذین اذاذکراللہ وجلت قلوبھم۔۔ اصابھم سے مراد بلائیں اور مصائب ہیں۔ المقیمی الصلات اوقات نماز میں نماز کو قائم کریں وممارزقناھم ینفقون، جو وہ صدقہ کرتے ہیں ۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو جب پہلو کے بل گرپڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیر فرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو

36۔ والبدن ، جمع ہے بدنہ کی۔ اس کو بدنہ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ بدن کی جسامت بڑی ہونے کی وجہ سے اس کو بدن کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، بدن الرجل بدناوبدانہ۔ جب وہ خوب موٹاتازہ ہوجائے یاجوزیادہ عمر رسید ہوجائے اور اس کا گوشت ڈھیلاپڑ جائے۔ عطاء اور سدی نے کہا کہ اونٹ گائے بدن ہیں بکریوں کو بدنہ نہیں کہاجاتا۔ جعلناھا لکم من شعائر اللہ۔ اللہ کے دین کے خاص نشانات ہیں ، ان کو شعائر سے مسمی کیا کیونکہ ان جانوروں کا شعار کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ لوہے کے ساتھ ہدی کے جانور کو نشان لگاناتا کہ معلوم ہوجائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے۔ لکم فیھا خیر، دنیا میں نفع اور آخرت میں اجر، فاذکرواسم اللہ علیھا، ان کے نحر کے وقت اللہ کا نام لینا، صواف، جب ان کے تین پائے باندھ دیے ہوں اور ان کو صنف میں کھڑا کریں اس کے اگلے پاؤں کو باندھ دیاجائے یا پچھلے پاؤں کو پھر اس کو نحر کرے۔ زیاد بن جبیر سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کو دیکھا کہ وہ ایک شخص کے پاس آئے انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا پھر اس کا نحر کیا فرمایا ایک شخص کو کھڑا کیا کہ وہ اس کو قائم کرے کیونکہ یہ سنت محمدیہ ہے۔ فکلوامنھا یہ امر اباحت کے لیے ہے۔ واطعموالقانع والمعتر، اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ قانع اور معتر کی مختلف تفاسیر۔ 1) عکرمہ ، ابراہیم، اور قتادہ کا بیان ہے کہ قانع وہ ہوتا ہے جو گھر میں بیٹھا رہے۔ متعفف، اسے کہتے ہیں جوا سے دیاجائے اسی پر قناعت کرے اور سوال نہ کرے اور معتر اس کو کہتے ہیں جو سوال بھی کرے۔ 2) عوفی نیابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے قانع وہ ہوتا ہے کہ وہ سوال نہ کرے اور معتر وہ ہے جو دوسرے پر نظر رکھے کہ اس سے کچھ ملے اور اس سے سوال کچھ نہ کرے۔ ان دونوں تفسیروں کا حاصل یہ نکلا کہ قانع قناعت سے ہے ، قنع قناعہ، کہاجاتا ہے وہ راضی ہوجائے جو کچھ اسے تقسیم کیا جائے۔ 3) ۔ سعید بن جبیر ، حسن ، کلبی کا قول ہے کہ القانع وہ ہے جو سوال کرے ، معتر وہ ہے جو ہاتھ توپھیلائے لیکن سوال نہ کرے۔ اس صورت میں ، قانع، قنع، یقنع، قنوعا، سے ہے جب وہ سوال کرے۔ 4) حسن نے، والمعتری، پڑھا ہے جو معتر کے مثل ہے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، عرۃ، واعترہ، وعداہ، واعتراہ ، اذا، جب وہ معروف چیز کا مطالبہ کرے۔ 5) ۔ ابن زید کا قول ہے کہ القانع سے مراد مسکین ہے اور المعتر اس کو کہتے ہیں جو مسکین نہیں ہوتا۔ لیکن وہ ایک قوم کے پاس آئے جس کے پاس ذبح شدہ جانور رکھے ہوئے ہوں تو وہ ان کے سامنے جاکران کے متعلق مانگے۔ کذالک، اس طرح جس طرح نحر کنے کے لیے جانور کو صف بستہ کھڑے رکھتے ہیں۔ ” سخرناھالکم، یہ تمہارے لیے نعمت ہے جن کے ذریعے سے تم ان جانوروں کے نحر کرنے میں قدرت رکھتے ہو۔ لعلکم تشکرون، تاکہ تم اس انعام کے سبب شکر اداکرو۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

خدا تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کردیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اسے بزرگی سے یاد کرو اور (اے پیغمبر) نیکو کاروں کو خوشخبری سنا دو

تفسیر۔ 37۔ لن ینال اللہ لحومھا، ولادمھاء ھا۔ زمانہ جاہلیت میں یہ رسم بد تھی کہ مشرک جب کسی جانور کی قربانی کرتے تو اس جانور کا خون کعبہ کے سامنے لے جاتے اور اس خون کے ذریعے سے کعبہ پر چھینٹے مارتے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یعقوب نے ، تنال وتنالہ، دونوں کے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ عام قراء نے اس کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ مقاتل نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ قربانیوں کے گوشت اور خون کو اٹھاکر اپنے پاس نہیں لے جاتا، بلکہ تمہارے اعمال صالحہ اللہ کے پاس جاتے ہیں۔ ولکن ینالہ التقوی منکم کذالک سخرھا لکم، اس سے مراد بدنہ ہے۔ لتکبرواللہ علی ماھداکم، اس بات پر اللہ کی کبریائی کا اعتراف کرو کہ اس نے اپنے دین کے نشانات اور آداب حج بتلائے ہیں۔ جانوروں کو تابع بنالینے کا راستہ دکھایا اور پھر انہوں نے یوں کہا، اللہ اکبر علی ماھدانا،۔ وبشرالمحسنین، ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد موحدین ہیں۔
Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

خدا تو مومنوں سے انکے دشمنوں کو ہٹاتارہتا ہے۔ بیشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا

38۔ ان یدافع عن الذین آمنوا۔ ابن کثیر اور اہل بصرہ نے یدفع، پڑھا ہے۔ اور دوسرے قراء نے ، یدافع، الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد بڑے بڑے مشرکین کو مومنین سے دور ہٹا دیں گے۔ ان اللہ لایحب کل خوان کفور۔ اللہ کی نعمت کی ناشکر کرنے والے کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ یاخوان کہا جاتا ہے امانت الٰہیہ میں بڑی خیانت کرنے والا۔ کفور اللہ کی نعمتوں کا ناشکری کرنے والا۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ ، خانو اللہ، سے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور اس کی نعمت کوٹھکرانا۔ زجاج کا قول یہ ہے کہ جو شخص ذبح کے وقت اللہ کے سوادوسرے کا نام لیتا ہے اور دوسرے کے نام پر قربانی کرتا ہے اور بھینٹ چڑھاکربتوں کا تقرب حاصل کرتا ہے وہ خوان کفور ہے۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور خدا (انکی مدد کرے گا وہ) یقینا انکی مدد پر قادر ہے

39۔ اذن، اہل مدینہ بصرہ نے اور عاصم نے ، اذن الف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے ۔ للذین یقاتلون ، اہل مدینہ ، ابن عامر وحفص نے یقاتلون ، تاء کے فتحہ کے ساتھ وہ مومنین جو مشرکین کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔ بعض ایک تفاسیر میں ہے کہ مکہ کے مشرک صحابہ کرم کو بہت زیادہ ایذائیں دیتے تھے صحابہ کرام نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو کسی کا سرپھٹا ہوتا کوئی زخمی ہوتا، کوئی پیٹ کرآتا، سب لوگ حضور سے شکایت کرتے کہ ہمارے ساتھ ایک سلوک کیا جارہا ہے۔ حضور ان کو تسلی فرماتے اور فرماتے صبر کرو ابھی مجھے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی یہ پہلی آیت ہے جس میں آپ کو قتال کا حکم دیا گیا۔ مقاتل کا بیان ہے کہ یہ آیت اس قوم کے متعلق نازل ہوئی جو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرکے گئے تھے تو یہ مشرکین ان لوگوں کو ہجرت کرنے سے روکتے تھے ا ن لوگوں کے خلاف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔ بانھم ظلموا “ اس سبب کے باعث کہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا اور مسلمانوں کو ایذاء دینے میں حد سے تجاوز کررہے تھے ، وان اللہ علی نصرھم لقدیر۔
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دئیے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعہ اور (عیسائیوں کے) گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے بیشک خدا توانا اور غالب ہے

40۔ الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق، یہ پہلے الذین سے بدل ہے۔ الاان یقولوا ربنا اللہ ، وہ اپنی بستی سے صرف اس وجہ سے نکالے گئے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ ” ولولادفع اللہ الناس بعضھم ببعض۔ اس سے مراد جہاد اور اقامت حدود ہیں۔ لھدمت، قراء اہل مدینہ نے دال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ تشدید کے ساتھ پڑھنے والے کثیر ہیں اور تخفیف کے ساتھ قلیل ہیں۔ صوامع ، مجاہد اور ضحاک کا قول ہے کہ صوامع سے مراد ہیں تارک الدنیا اور درویشوں کے عبادت خانے اروخانقاہیں۔ قتادہ نے کہا کہ صابیوں کے عبادت گھر مراد ہیں۔ وبیع، عیسائیوں کے گرجاگھر۔ وصلوات، یہودیوں کی عبادت گاہیں۔ عبرانی زبان میں یہودیوں کے عبادت خانوں کو صلوات کہاجاتا ہے۔ ومساجد یذکرفیھا اسم اللہ کثیرا۔ مساجد سے مراد ہیں مسلمانوں کی مسجدیں جو امت محمدیہ میں سے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر اللہ بعض کو بعض کے ذریعے سے دفع نہ کر تاتوہرنبی کے دور میں اس کی امت کے عبادت خانے ڈھادیے جاتے ۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں صابیوں کے عبادت ، گھر، حضرت عیسیٰ کے زمانے میں عیسائیوں کے گرجے اور صابیوں کے عبادت خانے اور عہد محمدی میں مسجدیں۔ ابن زید کا قول ہے کہ بالصلوات سے مراد اہل اسلام کی نمازیں ہیں کیونکہ ان کی صفوں میں دشمن بھی پہنچ جائیں تو اپنی نماز کو توڑ تے نہیں۔ ولینصرن اللہ من ینصرہ، وہ ان کے دین اور اس کے نبی کا مددگار ہے۔ ان اللہ لقوی عزیز۔
Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے

تفسیر۔ 41۔ الذین ان مکنھم فی الارض۔۔۔۔ زجاج کا قول ہے کہ یہ ماقبل نصرت کی صفت ہے۔ مکناھم، کا معنی ہے کہ ہم نے دشمن پر آپ کی مددد کی یہاں تک کہ آپ شہر میں ٹھہرے رہے۔ اس سے مراد صحابہ کرام ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہی امت محمدیہ ہے ۔ وللہ عاقبہ الامور۔ تمام مخلوق کا آخری امر اور ان کالوٹنا ان کی طرف ہوگا اور تمام بادشاہوں کی بادشاہت اس دن ختم ہوجائے گی۔ سوائی اللہ کی بادشاہت کے اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔
Ayahs 22:42–43

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی عاد اور ثمود کی قوم بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط

42۔ وان یکذبوک ، اگر آپ کو یہ جھٹلاتے ہیں ، فقد کذبت قبلھم قوم نوح وعاد وثمود، آپ سے پہلے اقوام بھی اپنے انبیاء کو جھٹلاچ کی ہے اس لیے آپ اس وجہ سے غم نہ کھائیں۔
Ayah 22:44

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے رہنے والے بھی اور موسیٰ بھی تو جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر ان کو پکڑ لیا تو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا

44۔ واصحاب مدین ، وکذب موسیٰ فاملیت للکافرین۔ یعنی ہم نے تمہیں مہلت دی اور تمہاری سزاؤں کو موخر کردیا۔ ثم اخذتھم ، پھر ہم نے تمہیں پکڑ لیا۔ فکیف کان نکیر۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی ہماری ان پر کیسی پکڑ ہوئی کہ ہم جھٹلانے والوں کو کس طرح عذاب دیتے ہیں اور کس طرح ہلاک کرتے تھے ، لہذا اس کے ذریعے سے ہم ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو نبی کریم کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کی تکذیب کرتے ہیں۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے انکو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (بہت سے) کنویں بیکار اور (بہت سے) محل ویران (پڑے ہیں )

45۔ فکاین ، اور ان کے ساتھ ۔ من قریۃ اھلکناھا، قراء اہل بصرہ اور یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ، اھلکناھا، نون اور الف کے ساتھ تعظیم کی بنا پر پڑھا ہے۔ ” وھی ظالمۃ “ اور اس کے اہل والے ظالم تھے۔ فھی خاویہ، ان کے اوپر گری پڑی ہیں۔ علی عروشھا، اس کی چھتیں ، وبئر معطلۃ، اور بہت سارے کنویں بےکار پڑے رہ گئے کوئی ان سے پانی نکالنے والا نہیں رہا۔ وقصر مشید۔ قتادہ ، ضحاک اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد اونچے بلند۔ جیسا کہ عربی محاورہ ہے، شاد بناہ، اس کی عمارت کو اونچا کیا۔ سعید بن جبیر، عطاء و مجاہد کا قول ہے کہ شید کا معنی ہے چونا، گچ، مصالحۃ، اس لیے مشید کا ترجمہ یہ ہوا چونے اور گچ سے چنے ہوئے۔ بعض نے کہا کہ ، بئرمعطلہ، اور قصر مشید دونوں یمن میں تھے ۔ قصر پہاڑ کی چوٹی پر تھا اور کنواں دمن کوہ میں۔ ہر ایک کے مالک کچھ لوگ تھے بڑے عیش و راحت میں غرق لیکن جب انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے ان کو تباہ کردیاقصر اورکنواں ویران ہوگیا۔ ابوروق نے ضحاک کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ کنواں حضرموت کے ایک شہر میں تھا شہر کا نام حاصورا تھا، یہ شہر چار ہزار مومنوں نے آباد کیا تھا، جو حضرت صالح کے ہم رکاب حضرت موت میں آگئے تھے۔ اسی حضرموت میں حضرت صالح کی وفات ہوگئی۔ اس لیے اس بستی کو حضرت موت کہنے لگے آپ کی وفات کے بعد لوگوں نے حاصورا کی تعمیر کی اور کنویں پر مستقل قیام کرلیا اور اپنے آدمیوں میں سے ایک شخص کو امیر اور حاکم بنالیا۔ مدت دراز تک رہتے رہے، نسلیں بڑھیں اور آبادی وسیع ہوگئی۔ آخر کچھ لوگ بگڑ گئے اور بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے حنظہ بن صفوان کو نبی بناکر بھیجا۔ حضرت حنظلہ قلی تھے لوگوں کا بوجھ اٹھاتے تھے آپ نے نصیحت کی قوم نے نہ مانی ، تکذیب کی اور بازار میں ان کو قتل کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو تباہ کردیا، ان کے محل ویران اور کنویں بیکار پڑے رہ گئے۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں

تفسیر۔ 46۔ افلم یسیروا فی الارض۔ اس سے مراد کفار مکہ ہیں کہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ماقبل امتوں کا کیا حشر کیا جنہوں نے انبیاء کرام کو جھٹلایا۔ ” فتکون لھم قلوب یعقلون بھا اور آذان یسمعون بھا، جو ہم نے ماقبل اقوام کا تذکرہ کیا ان سے عبرت حاصل کرو۔ فانھالاتعمی ۔۔ التی فی الصدور کو بطور تاکید کے ذکر کیا۔ جیسا کہ اللہ کا قول ہے ، یطیر بجناحیہ، اس کا معنی ہوگا کہ اعمی ضار سے مراد دل کا اندھا، اور اعمی البصر یہ دین کے امور میں ضرر نہیں دیتا۔ قتادہ کا قول ہے کہ آنکھ کی بینائی پہنچنے اور فائدہ اٹھانے کا ایک ذریعہ ہے اور دل کی بینائی حقیقت میں فائدہ بخش بینائی ہے۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا اور بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے

47۔ ویستعجلونک بالعذاب، ، یہ آیت نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی جس نے یہ دعا کی تھی اے اللہ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے توہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ ولن یخلف اللہ وعدہ، اس وعید کو بدر کے دن پورا کیا گیا۔ ” وان یوما عندربک کالف سنۃ مماتعدون۔ ابن کثیر ، حمزہ، وکسائی نے ” یعدون ، یاء کے ساتھ پڑھا ہے جیسا کہ پہلے ، یستعجلونک ، میں ہے دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ ، تعدون ، پڑھا ہے کیونکہ خطاب مستعجلین مومنین کو ہے اور سو رہ تنزیل سجدہ والی آیت میں ان کے ساتھ تاء سے موافقت کی ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ چھے دنوں میں ایک دن مراد ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ مجاہد اور عکرمہ کا قول ہے کہ ایام آخرت میں ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اس کی تائید حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا اے فقراء مہاجرین کے گروہ تم کو بشارت ہو کہ قیامت کے دن کو نور کامل حاصل ہوگا تم جنت کے اندر مال داروں سے آدھا دن پہلے داخل ہوں گے اور تمہارے رب کا ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہوگا۔ ابن زید کا قول ہے ، وان یوما عندربک کالف سنۃ مماتعدون، یہ دن آخرت کے ایام میں سے شمار کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، مقدارہ خمسین الف سنۃ مماتعدون۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ معنی آیت کا یہ ہے کہ جس عذاب کے یہ لوگ فوری طلب گار ہیں اس کا ایک دن شدت تکلیف اور طول میں انسانوں کی گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے۔ بعض حضرات نے اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ اللہ اپنے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا، لیکن اس نے عذاب کو اس دن تک موخر کررکھا ہے جو تمہارے ہزار سال کے برابر ہوگا، تو پھر یہ لوگ کس طرح عذاب میں جلدی کرتے ہیں جیسا کہ کہاجاتا ہے کہ شدت تکلیف کے دن لمبے ہیں اور خوشی کے دن بہت مختصر ہیں۔ عطا کی روایت میں ابن عباس ؓ عنہمانے اس آیت کا معنی یہ بیان کیا کہ اللہ کے پاس ایک دن اور تمہارے ایک ہزار سال مہلت دینے کے برابر ہیں کیونکہ اللہ قادر ہے جب چاہے گا پکڑ لے گا، کوئی چیز اس کے قبضہ سے باہر نہیں تاخیر کی وجہ سے کوئی چیز اللہ کے دست قدرت سے باہر نہیں ہوسکتی، عذاب کافوری نازل کردینا اور کچھ مدت موخر کردینا دونوں باتیں اس کی قدرت کے لیے مساوی ہیں۔
Ayahs 22:48–49

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور وہ نافرمان تھیں پھر میں نے انکو پکڑلیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو ! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں

تفسیر۔ 48۔ وکاین من قریۃ ، ،، ہم نے ان کو مہلت دی ۔ وھی ظالمۃ ثم اخذ تھا والی المصیر۔
Ayah 22:50

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور کام نیک کئے ان کے لئے بخشش اور آبرو کی روزی ہے

50۔ فالذین آمنواوعملوالصالحات لھم مغفرۃ ورزق کریم۔ رزق کریم سے مراد وہ اشیاء جو کبھی ختم نہ ہونے والی۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد جنت ہے۔
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں (اپنے زعم باطل میں) ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی وہ اہل دوزخ ہیں

51۔ والذین سعوا فی آیاتنا۔ اور جو لوگ رد کرنے کے لیے ہماری آیات کے متعلق کوشش کرتے رہتے ہیں ، معاجزین ، ابن کثیر اور ابوعمرو نے معجزین تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور سو رہ سبا میں بھی تاکہ وہ لوگوں کو ان کے ایمان سے ورغلائیں اور دوسرے قراء نے معاجزین الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد معاندین ہیں۔ قتادہ نے یہ مطلب بیان کیا کہ وہ اپنے خیال میں ہمیں ہراناچاہتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ نہ قیامت ہوگی اور نہ دوزخ اور نہ ہی جنت اور، یعجزوننا ، کا معنی یہ ہے کہ ہم ان کو فوت کردیں گے اور وہ ہم پر قادر نہیں ہوں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا۔ ” اولئک اصحاب الجحیم۔ کہ وہ ہمیں عاجز کردیں اور ہم پر غلبہ حاصل کرلیں، ہر ایک کے سامنے دوسرا عاجز ہوجائے دوسرا ہار جائے۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈالتا ہے جو وسوسہ شیطان ڈالتا خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے

52۔ وماارسلناک من قبلک من رسول ولانبی۔۔۔۔ ، حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ سے آپ کی قوم والوں نے رخ پھیرلیا اور کلام اللہ سے ان کو دور دور رہناحضور کو شاق گزرا تو آپ کے دل میں تمنا پیداہوئی کہ کاش اللہ کی طرف سے کوئی ایساطریقہ پیدا ہوجائے جس سے قوم والے آپ کے قریب آجاتے۔ آپ کو قوم والوں کے مسلمان ہوجانے کی بڑی رغبت تھی۔ چناچہ ایک روز آپ قریش کے جلسہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة نجم نازل ہوئی۔ آپ نے لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی جب پڑھتے پڑھتے آیت، افرائیتم الات والعزی ومنوۃ الثالثت الاخری، پر پہنچے تو شیطان نے وہ خواہش جو آپ کے سینے میں تھی زبان سے نکلوا دی اور آپ کی زبان سے آیت مذکورہ کے بعد نکل گیا۔ تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھں لترتجی۔ قریش نے جب یہ الفاظ سنے تو بڑے خوش ہوئے رسول اللہ اپنی تلاوت میں مستغرق رہے اور اسی طرح سورة ختم کرلی تو آخر سورة میں سجدہ کیا آپ کے سجدہ کی وجہ سے تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا اور کعبہ میں جو مشرکین تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا کوئی مسلمان یا مشرک بغیر سجدہ کے نہیں رہا، صرف ولید بن مغیرہ اور سعید بن عاص نے سجدہ نہیں کیا، اور ایک مٹھی کنکریاں اٹھاکر اپنی پیشانی سے لگالیں۔ بات یہ تھی کہ دونوں بہت بوڑھے تھے سجدہ کرنے کی ان میں طاقت نہ رہی تھی۔ اس کے بعد قریش منتشر ہوگئے اور اپنے معبودوں کا ذکر جو سنا تھا اس سے بڑے خوش ہوئے اور اب کہہ رہے تھے کہ اب تو محمد نے بھی ہمارے معبودوں کا زکر اچھے الفاظ میں کیا ہم کو اقرار ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اللہ ہی زندگی اور موت دیتا ہے وہی پیدا کرتا ہے اور رزق دیتا ہے لیکن ہمارے یہ معبود اللہ کے ہاں سفارشی ہیں۔ اب جبکہ محمد نے بھی ان کو ان کا حصہ دے دیاتواب ہم محمد کے ساتھ ہیں۔ جب شام ہوئی تو رسول اللہ کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور کہا، محمد آپ نے یہ کیا کیا، جو کلام میں آپ کے پاس اللہ کی طرف سے لایا تھا اس کے سوادوسرے کلام کی لوگوں کے سامنے تلاوت کی حضور یہ بات سن کر بہت غمگین ہوئے اور آپ کو اللہ کا بڑا دڑ لگا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت ، وماارسلناک من قبلک، نازل ہوئی ۔ اس میں اللہ نے آپ کو تسلی عطا فرمائی جو صحابی اس زمانہ میں حبش میں تھے ان کو جو اطلاع ملی کہ قریش نے بھی سجدہ کیا اور یہ بھی کہا گیا کہ قریش مسلمان ہوگئے تو ان میں سے اکثر لوگ اپنے قبائل میں واپسی کے ارادے سے چلے دیے اور بولے مکہ والوں سے ہمیں محبت ہے لیکن جب مکہ کے قریب پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ اہل مکہ کی مسلمان ہونے کی جو خبر ان کو پہنچی تھی وہ غلط تھی، چناچہ لوگ مکہ میں چھپ چھپا کر داخل ہوئے یا کسی کی پناہ لے کر۔ جب یہ آیت نازل ہوئی توقریش نے محمد کو اس بات پر ندامت ہے کہ انہوں نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی اور یہ دونوں حرف شیطان نے آپ کی زبان پر القا کیے ، اور ہر مشرک کی زبان پر بھی یہ لفظ تھا۔ اس لفظ کی وجہ سے مشرکین کا اور شر بڑھ گیا اور جو لوگ مسلمان تھے ان پر بہت گراں گزرا۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے جب اس نے پسند کیا جب اس نے دلی خواہش کی جب اس نے دل ہی دل میں ایسی بات کی جس کا علم اس کو نہیں دیا گیا تھا، ابن عباس کا قول ہے کہ ، القی الشیطان، کا معنی ہے وسوسہ کا راستہ پالینا، اور مراد نبی میں کچھ ڈال دینا۔ کوئی نبی ایسا نہیں ہوا کہ جب اس نے قوم کے ایمان لانے کی تمنا کی اور شیطان نے اس کی تمنا میں کوئی ایسی بات نہ ڈال دی ہو جو اس کی قوم کے لیے دل پسند ہو۔ اکثر اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ تمنی ، کا معنی ہے پڑھا اور امنیہ کا معنی ہے قرات یعنی پیغمبر نے جب اللہ کی کتاب پڑھی تو شیطان نے اس کی قرات میں مداخلت کی حضرت عثمان عنہ کی شہادت کے بعد ایک شاعر نے کہا، تمنی کتاب اللہ اول لیلہ، ، وآخرھا لاقی حمام المقادر۔ (شروع رات میں آپ نے کتاب اللہ کی تلاوت کی اور آخر رات میں موت مقدرہ سے ملاقات کی) ۔ اس بات میں اختلاف ہے کیا یہ نماز کے اندر تلاوت کی ہے یاباہر۔ بعض حضرات نے کہا کہ نماز میں قرات کی اور بعض نے کہا کہ نماز کے باہرقرات کی۔ ایک شبہ اور اس کا جواب۔ سوال : یہ بات کیسے ممکن ہے کہ آپ سے تلاوت میں ایسی غلطی واقع ہوجائے ؟ حالانکہ آپ معصوم تھے اور اصل دین میں آپ سے غلطی ممکن نہیں تھی، اللہ نے فرمایا، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولامن خلفہ، شیطان ان کے پاس نہیں آسکتا نہ آگے سے نہ پیچھے سے ؟ جواب : علماء نے اس سوال کے مختلف جوابات دیے ہیں۔ 1) ۔ بعض حضرات نے یہ جواب دیا کہ رسول اللہ نے یہ الفاظ نہیں پڑھے اور نہ ہی صحابہ کرام نے یہ الفاظ نکالے اور نہ نکلتے سنے ، صرف شیان نے آپ کی آواز بنا کر مشرکوں کے کانوں میں یہ الفاظ ڈال دیے مشرکوں نے خیال کرلیا کہ یہ الفاظ محمد نے کہے ہیں۔ 2) ۔ قتادہ کا قول ہے کہ آپ کی حالت اس وقت نیم بےہوشی کی تھی کہ القاء شیطانی کی وجہ سے یہ الفاظ آپ کی زبان سے سہوا نکل گئے لیکن فورا ہی اللہ نے آپ کو متنبہ فرمادیا۔ 3) ۔ بعض نے کہا کہ ایک شیطان جس کا نام ابیض تھا اس نے یہ حرکت کی تھی اور یہ ایک بڑی آزمائش تھی اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرح طرح سے آزمائش کرتا ہے۔ ثم یحکم اللہ آیاتہ، پھر ہم اس کے بعد اپنی آیات کو اور مضبوط کرتے ہیں۔ واللہ علیم حکیم۔
Ayah 22:53

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

غرض (اس میں) یہ ہے کہ جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں ذریعہ آزمائش ٹھہرائیے بیشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں

تفسیر۔ 53۔ لیجعل مایلقی الشیطان فتنہ، ، آزمائش اور مصیبت۔ للذین فی قلوبھم مرض، مرض سے مراد شک اور نفاق ہے۔ والقاسیۃ ، جامد ہیں۔ قلوبھم ، حق کے قبول کرنے سے وہ سخت ہیں اور اس سے مراد مشرک لوگ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہا کہ مشرکین نے جو کچھ سنا تھا اس سے ان کو خوشی ہوئی تھی۔ پھر اس کلام کو ختم کردیا گیا اور اس پڑھنے کی بناء پر ہم نے ان کی دشمنی میں مزید اضافہ ہی کیا اور ان لوگوں نے یہ گمان کیا کہ یہ محمد نے اپنی طرف سے بیان کیا ہے۔ پھر ان کو اس بات سے ندامت حاصل ہوئی۔ وان الظالمین ، ظالمین سے مراد مشرکین ہیں۔ لفی شقاق، اس سے مراد گمراہی ہے۔
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور انکے دل خدا کے آگے عاجزی کریں اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا انکو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

54۔ ولیعلم الذین اوتوالعلم ، اس سے مراد توحید اور قرآن ہے سدی کا قول ہے کہ اللہ کے منسوخ کردہ احکامات کی تصدیق کرنا ۔ انہ ، اس سے مراد محکم آیات قرآنی ہیں۔ الحق من ربک فیومنوابہ، یہ اعتقاد رکھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ فتخبت لہ قلوبھم۔ اس کے ذریعے سے اپنے دلوں میں سکون حاصل کرتے ہیں۔ وان اللہ لھاد الذین آمنوا الی صراط مستقیم۔ سیدھاراستہ اور وہ اسلام ہے۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر آواقع ہو

55۔ ولایزال الذین کفروا فی مریۃ منہ، وہ لوگ اس بات میں شک کے اندر پڑے ہوئے ہیں کہ یہ شیطان نے آپ کی زبان سے القا کیا اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے انہوں نے ہمارے بتوں کے متعلق ذکر خیر کیا، پھرا س سے رجوع کرلیا، ابن جریج کا قول ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں شک کرتے ہیں بعض نے کہا کہ وہ دین صراط مستقیم کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں ۔ حتی تاتیھم الساعۃ بغتہ، اس سے مراد قیامت ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد موت ہے۔ او یاتیھم عذاب یوم عقیم۔ ضحاک اور عکرمہ کا اس بارے میں یہ قول ہے کہ ایسا دن جس کی رات نہیں ہوگی۔ یوم عقیم، کی تفسیر۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یوم عقیم سے مراد بدر کا دن ہے اور ساعہ سے مراد قیامت کا دن۔ یوم بدر کو عقیم اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس دن کفار کو کوئی خیرحاصل نہیں ہوگی، اور اسی طرح ریح عقیم بغیر بارش کے ہوا کو کہتے ہیں۔ لغت میں عقیم ممنوع کے معنی میں آتا ہے جیسے کہ کہاجاتا ہے ، رجل عقیم، جب اس کو اپنے بیٹے سے روک دیا گیا ہو۔ بعض نے کہا کہ اس عظیم کام میں اس کا کوئی مثل نہیں کہ وہ فرشتوں کے ساتھ قتال کرے ۔ ابن جریج کا قول ہے کہ وہ رات تک انتظار نہیں کریں گے جب تک کہ شام سے پہلے پہلے وہ قتل نہ کردیے جائیں۔
Ayahs 22:56–57

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز بادشاہی خدا ہی کی ہوگی (اور) وہ ان میں فیصلہ کر دے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

56۔ الملک یومئذ، اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ للہ، اس کے ساتھ کوئی جھگڑنے والا نہیں، اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں، یحکم بینھم، پھر ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، فالذین آمنواوعملوالصالحات فی جنات النعیم،۔
Ayah 22:58

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے ان کو خدا اچھی روزی دے گا اور بیشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

58۔ والذین ھاجروا فی سبیل اللہ۔ جو لوگ اپنے وطن سے اور اپنے قبیلہ والوں سے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں اور اس ی رضا کے حصول کے لیے ہجرت کی۔ ثم قتلوا اوماتوا، قتلو تشدید کے ساتھ بھی ہے ۔ لیرزقنھم اللہ رزقا حسنا، رزق حسن سے مراد جو کبھی ختم ہونے والانہ ہو اور وہ جنت کا رزق ہے۔ وان اللہ لھو خیرالرازقین ، بعض نے کہا کہ اس قول کا مطلب دوسری آیت سے واضح ہے۔ بل احیاء عندربھم یرزقون۔
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ ان کو ایسے مقام سے داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور خدا تو جاننے والا (اور) بردبار ہے

59۔ لیدخلنھم مدخلایرضونہ، کیوں کہ اس میں ان کی من پسند اشیاء ہوں گی اور ایسی اشیاء ہوں گی جو آنکھوں کو لذت بخشیں۔ وان اللہ لیعلم ، ان کی نیتوں کو جانتا ہے۔ “ حلیم، وہ بڑے تحمل والا ہے فوری سزا نہیں دیتا۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ (بات خدا کے ہاں ٹھہر چکی ہے) اور جو شخص (کسی کو) اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو خدا اسکی مدد کرے گا بیشک خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

60۔ ذالک ، جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کیا۔ ومن عاقب بمثل ماعوقب بہ، ظالم کو اس کے ظلم کے بدلے میں جزا دی جائے گی۔ حسن نے اس کی تشریح اس طرح کی ہیے۔ من عاقب، جس نے مشرکوں کے ساتھ جنگ کی۔ ثم بغی علیہ، اس کو گھر سے نکال کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ وہ ظلم وجور جو مشرکین نے مسلمانوں کے ساتھ کیے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو ان کے گھروں سے نکالا گیا۔ اس آیت کا شان نزول مشرکین کے بارے میں ہوا، کہ کچھ مشرک مسلمانوں کی ایک جماعت پر 28، محرم کو لڑنے کے لیے چڑھ آئے۔ مسلمانون نے ماہ محرم کے احترام کی وجہ سے لڑنا مناسب نہ سمجھا اور مشرکوں سے درخواست کی کہ محر م میں جنگ نہ کرو لیکن مشرکوں نے یہ درخواست رد کردی اور مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ یہ مشرکوں کی طرف سے مسلمانوں پر زیادتی ہوئی ، مسلمان اپنی جگہ قائم رہے اور اللہ کی طرف سے ان کی مدد ہوئی اللہ کا فرمان ، لنیصرنہ اللہ، عقاب اول کی جزا کے معنی میں ہے۔ ان اللہ لعفو و غفور، مسلمانوں سے جو غلطی ہوئی گیء اللہ نے ان کے گناہوں کو معاف کردیا۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور خدا تو سننے والا اور دیکھنے والا ہے

61۔ ذالک، یہ مدد نصرت ، باان اللہ، وہ قادر ہے جس پر وہ چاہے اور اس کی قدرت کی یہ بھی نشانی ہے کہ ، یولج اللیل فی النھار۔۔۔۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اسلئے کہ خدا رفیع الشان اور بڑا ہے

62۔ ذالک بان اللہ ھوالحق ان مایدعون، اہل بصرہ ، حمزہ، کسائی ، حفص نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھ ا ہے۔ س سے مراد مشرکین ہیں۔ من دونہ ھوالباطل وان اللہ ھوالعلی ، وہ ہرچیز سے بلند وبالا ہے ، البیر، وہ عظیم الشان ہے اور عالی مرتبہ ہے ایسا کہ اس کا کوئی مثل نہیں۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ بیشک خدا باریک بین اور خبردار ہے

63۔ الم تر ان اللہ، ،، ، اس سے نباتات مراد ہیں۔ ان اللہ لطیف، اپنے بندوں کو رزق دیتا ہے اور اپنے بندوں کے لیے زمین سے سبزہ نکالا، خبیر، جو بندوں کے دلوں میں ہے اس کو جانتا ہے جب ان سے بادل ، بارش کو روک لیاجاتا ہے تو بندوں کے دلوں میں اس کے متعلق کیا ہوتا ہے۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے

64۔ لہ مافی السموات ومافی الارض، زمین میں خواہ اس کے بندے ہوں یا اور کوئی چیز اس کی ملکیت میں ہو۔ وان اللہ لھوالغنی ، اپنے بندوں سے ، الحمید، اس کے افعال میں، یعنی وہ اپنے افعال میں خود محمود ہے خواہ اس کی حمد کی جائے یا نہ کرے۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیر فرمان کر رکھی ہیں ؟ اور کشتیاں (بھی) اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گرپڑے مگر اسکے حکم سے بیشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

65۔ الم تر ان اللہ سخرلکم مافی الارض والفلک، ، اور تمہارے لیے کشتیوں کو مسخر کیا، تجری فی البحر، اور خشکی جن میں جو چوپائے ہیں جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ اور کشتیاں جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ ویمسک السماء ان تقع علی الارض، تاکہ وہ زمین پر نہ گرے۔ الاباذنہ ان اللہ بالناس لروف رحیم۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی پھر تم کو مارتا ہے پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکرا ہے

تفسیر۔ 66۔ وھوالذین احیاکم، تمہیں اس نے پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے تم کچھ نہ تھے۔ ثم یمینکم ، پھر تمہاری مدت پوری ہونے پر تمہیں موت دے دے گا۔ ثم یحییکم ، پھر وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا، قیامت کے دن ثواب اور عقاب کے لیے ، ان الانسان لکفور، انسان اللہ کی نعمتوں کاناشکر ا ہے۔
Ayahs 22:67–68

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر ایک امت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ تم سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اگر یہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ جو عمل تم کرتے ہو خدا ان سے خوب واقف ہے

67۔ لکل امۃ جعلنامنسکا ھم ناسکوہ، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ہر امت کے لیے ایک شریعت مقرر کردی تھی جس پر وہ چلتے تھے۔ بعض نے منسک کا ترجمہ تہوار کے ساتھ کیا ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قربان گاہ ہے جس میں وہ جانوروں کو ذبح کرتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ منسک سے مراد عبادت کی جگہ ہے اور بعض نے کہا مراکز انس جس سے وہ مانوس تھے۔ عربی میں منسک اس مقام کو کہتے ہیں جہاں کسی اچھے یابرے کام کے لیے لوگ جمع ہونے کے عادی ہوں۔ مناسک حج کو مناسک اس وجہ سے کہاجاتا ہے لوگ حج کے مقامات پر ہر سال آتے اور جمع ہوتے ہیں۔ ” فلاینازعنک فی الامر، ، ذبح کرنے کے معاملے میں۔ اس آیت کا نزول بدیل بن ورقاء یزید بن خنیس، اور بشر بن سفیان کے متعلق ہوا۔ ان لوگوں نے صحابہ کرام سے کہا تھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ جس جانور کو تم اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہو اس کو تو کھاتے ہو اور جس کو خدا براہ راست ماردیتا ہے اس کو نہیں کھاتے ، زجاج نے کہا بظاہر نزاع کی ممانعت مشرکوں کو ہے۔ لیکن حقیقت میں ممانعت کا رخ رسول اللہ کی طرف ہے ، عرب کہتے ہیں کہ فلاں شخص تم سے جھگڑانہ کرے یعنی تم میں سے۔ جھگڑا نہ کرو لیکن ایسا ان افعال میں ہوتا ہے جو طرفین سے صادر ہوں ، جب ایک فریق اپناحق چھوڑدے تو دوسرے کو اختیار نہیں، وادع الی ربک، اپنے رب کی طرف بلاؤ کہ وہ اللہ رب العزت پر ایمان لائیں۔ انک لعلی ھدی مستقیم۔
Ayah 22:69

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا قیامت کے روز ان کا فیصلہ کر دے گا

69۔ اللہ یحکم بینکم یوم القیامۃ فیما کنتم فیہ تختلفون، اس وقت تم لوگ پہچان لوگے کہ کیا حق ہے، اور باطل کیا ہے، اختلاف کا معنی ہے ، دوجھگڑا کرنے والوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کے خلاف ہوجانا۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خدا اس کو جانتا ہے ؟ یہ (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ سب خدا کو آسان ہے

70۔ الم تعلم ان اللہ یعلم مافی السماء والارض ان ذالک، سب کچھ وہ جانتا ہے ، فی کتاب ، لوح محفوظ میں۔ ان ذالک، اس کا علم تمام چیزوں میں ، علی اللہ یسیر۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ انکے پاس اس کی کوئی دلیل ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

71۔ ویعبدون من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطانا، سلطان سے مراد حجت اور دلیل ہے ، ومالیس لھم بہ علم، جو کچھ انہوں نے کام کیا وہ محض جہالت کی بناء پر کیا نہ کہ علم کی بنیاد پر ۔ وماللظالمین ، اس سے مراد مشرکین ہیں۔ من نصیر، ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگاجو اللہ کے عذاب سے ان کو بچاسکے۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں پر صاف طور پر ناخوشی کے (آثار) دیکھتے ہو قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں ؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور (وہ) برا ٹھکانا ہے

تفسیر۔ 72۔ واذا تتلی علیھم آیاتنا بینات۔ بینات سے مراد قرآن مجید ہے۔ تعرف فی وجوہ الذین کفروا لمنکر، غصہ اور ناگواری وترش روئی کی وجہ سے آثار انکار ان کے چہروں پر نمودار ہوجاتے ہیں۔ یکادون یسطون ، پکڑلیں گے یاضرر پہنچانے کے لیے تلاوت کرنے والوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ اور بعض نے کہا کہ وہ پھیلائیں گے ، بالذین یتلون علیھم آیاتنا، اس سے مراد محمد اور ان کے صحابہ جو آیات پڑھتے ہیں ان پر شدت غصہ کی وجہ سے ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ کہاجاتا ہے ، سطا علیہ، سطابہ ، دونوں ہم معنی ہیں سطو اورسطوۃ مصدر ہے اس پر حملہ کیا یاپکڑنے کے لیے جبر کیا۔ قل، اے محمد، افانبئکم بشر من ذلکم، یہ تمہارے لیے زیادہ بری اور زیادہ ناگوار ہوگی جو کچھ تم قرآن سے سنتے ہو، النار، اس سے مراد آگ ہے ، وعدھا اللہ الذین کفرواوبئس المصیر۔