21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 21:80–81

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح کا) لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم لڑائی کے ضرر سے بچائے، پس تم کو شکر گذار ہونا چاہئے

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں

80۔ وعلمناہ صنعتہ لبوس لکم، ، لبوس ہر پہننے والی چیز کو کہتے ہیں عرفا اس کا استعمال اسلحہ کے لیے ہوتا ہے۔ اس جگہ لوہے کی زرہ مراد ہے قتادہ نے کہا کہ حضرت داؤد سے پہلے زرہ سپاٹ ہوتی تھی سب سے اول آپ نے جال دراز زرہ بنائی اور کڑیاں جوڑ کر جھول کی شکل دی۔ حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت داؤد اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ ” لتحصنکم ، ، تاکہ وہ صنعت یازرہ تم کو دشمن کے حملے سے محفوظ رکھے ۔ سدی نے کہا اسلحہ کی مار پڑنے سے تم کو محفوظ رکھے۔ من باسکم تمہارے دشمن کے حملے سے۔ ابوجعفر ، ابن عامر، حفص اور عاصم و یعقوب نے لتحصنکم ، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اس سے مراد صنعت کاریگری ہے ابوبکر اور عاصم نے نون کے ساتھ پڑھا ہے اور بعض قراء نے ا س کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور بعض نے ، لیحصنکم اللہ، پڑھا ہے ، فھل انتم شاکرون، یہ حضرت داؤد اور ان کے گھروالوں کو کہا گیا اور بعض نے کہا کہ یہ اہل مکہ کو کہا گیا کہ کیا تم اب بھی شکر نہیں خرو گے رسول اللہ کی اطاعت والی نعمت پر۔ ” ولسلیمان الریح عاصفۃ، ہم نے حضرت سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا، ہو ان کے حکم کے مطابق حرکت کرتی تھی ہوا کو قبضہ کرنا ہاتھ میں پکڑنا ممکن نہیں۔ البتہ اس کی حرکت سے اس کا احساس ہوتا ہے۔ ریح مذکر ومونثت بھی ہوتا ہے۔ عاصفہ، بہت تیز تند ہوا کو کہاجاتا ہے۔ سوال : بعض جگہ پر آیا ہے کہ ہوا ان کے حکم سے آہستہ اور نرم چلتی تھی اس کا جواب دیا گیا کہ ہوا آپ کے حکم کے تابع تھی جب آپ تیز چلنے کا حکم دیتے تو وہ تیز چلتی تھی۔ اگر حضرت سلیمان کہتے کہ تیز چلے توہ تیز چلتی۔ تجری بامرہ، الی الارض التی بارکنا فیھا۔ اس سے مراد شام ہے۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) چاہتے اس کے ذریعے سے کہیں چلے جاتے تھے پھر واپس ملک شام میں آجاتے ۔ وکنا بکل شئی عالمین، ان کو سکھلادیا ۔ عالمین ، اپنی اچھی تدبیر کے ساتھ۔ ہم نے سکھلادیا حضرت سلیمان کو اورہوا وغیرہ کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع بنادینے کی غرض یہ تھی کہ سلیمان (علیہ السلام) اپنے رب کے سامنے جھک جائیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت۔ وہب نے کہا کہ حضرت سلیمان کی مجلس پر پرندے چھائے ہوئے ہوتے تھے جن کھڑے ہوتے تھے اور اس شان و شوکت کے ساتھ آپ جلوہ افروز ہوتے تھے حضرت سلیمان بڑے مرد مجاہد تھے دنیا کے جس حصہ میں کسی بادشاہ کے ہونے کی آپ کو اطلاع ملتی آپ فورا وہاں پہنچ کر اس فرماں رواں کو اطاعت پر مجبور کردیتے۔ اہل روایت کا قول ہے کہ آپ جب کسی جہاد کا ارادہ کرتے تو آپ کے لیے پہلے تختے بصورت تخت بچھائے جاتے ۔ پھر اس پر خیمہ ڈیرہ قائم کیا جاتا پھر آپ اس پر آدمیون کو جانوروں کو اورجنگی سامان کو چڑھواتے پھر حسب الحکم تند ہوا تختوں کے نیچے آجاتی اور سب کو اوپر اٹھاتی اور اوپر پہنچ کر نرم بن جاتی تھی اتنی نرم رفتا ہوتی کسی کھیتی کی طرف سے گزر جاتی تو اس کی پتی بھی نہ ہلتی تھی اس کی رفتار سے گردوغبار بلکل نہ اڑتا تھا نہ کسی کو تکلیف ہوتی۔
Ayah 21:82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور دیووں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطہ مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

تفسیر۔ 82۔ ومن الشیطان ، ، اور ہم نے شیطان کو بھی حضرت سلیمان کے لیے مسخر کردیا تھا، من یغوصون لہ، وہ سمندر کے نیچے داخل ہوتے اور وہاں سے موتی نکال لاتے ۔ ویعملون عملا دون ذالک ، اور اس کام کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے۔ یعملون لہ مایشاء من محاریب وتماثیل، وکنالہ حافظین۔ ہم جنات کی نگرانی رکھے ہوئے تھے کہ کہیں وہ آپ کے حکم سے نکل نہ جائیں زجاج نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نگرانی رکھتے تھے کہ کہیں بنائی ہوئی چیزوں کو تباہ نہ کردیں۔ جب حضرت سلیمان کسی جن کو کسی آدمی کے ساتھ کام پر بھیجتے تو آدمی سے فرمادیتے جب اس کام سے یہ فارغ ہوجائے تو اس کو کسی اور کام پر لگادیناایسا نہ ہو کہ یہ کیے ہوئے کام کو برباد کردے جنات کی یہ عادت تھی کہ جب کسی کام سے فارغ ہوجاتے اور دوسرے کام میں مشغول نہ ہوتے توبنے ہوئے کام کو تباہ کردیتے۔
Ayah 21:83

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے ولا ہے

83۔ وایوب اذ نادی ، اور ایوب کا تذکرہ کیجئے۔ جب اس نے (مصائب میں) اپنے رب کو پکارا، اے رب مجھے دکھ لگا ہے نادی یعنی دعا کی۔ حضرت ایوب کا واقعہ۔ وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ حضرت ایوب رومی تھے ۔ آپ کا جد نسب اسی طرح تھا۔ ایوب ابن احرص بن رازخ بن روم بن عمیص بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) ۔ آپ کی والدہ حضرت لوط بن ہاران کی اولاد میں سے تھیں۔ آپ اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے اللہ نے آپ کے لیے دنیا وسیع کردی تھی ، سرزمین شام میں ایک گھاٹی جس کے اندر میدانی زمین بھی تھی اور پہاڑ ی بھی تھی آپ کی ملک تھی ، اونٹ ، گائے ، بیل بھینس بھیڑ ، بکریاں، گھوڑے ، گدھے ہر قسم کے بکثرت جانور آپ کے پاس تھے ۔ پانچ جوڑ بیلوں کے کھیتی کرنے کے لیے بھی آپ کے پاس تھے۔ ہر جوڑ کا خادم ایک غلام تھا اور ہر غلام کے بیوی بچے تھے ۔ بیلوں کی ہرجٹ کا سامان اٹھانے کے لیے ایک گدھی تھی اور ہرگدھی کے دو ، تین تین چار چار پانچ پانچ اور اس سے زیادہ بچے تھے ۔ اللہ نے آپ کو اہل و عیال لڑکے اور لڑکیاں بھی عطا کی تھیں آپ بڑے نیک ، پرہیزگار غریبوں پر رحم کرنے والے مسکینوں کو کھانا کھلانے والے ، بیواؤں کو خبر رکھنے والے ، یتیموں کی سرپرستی کرنے والے اور بڑے مہمان نواز تھے ۔ مسافرون کو خرچ دے کر وطن تک پہنچا دیتے تھے ، اللہ کی نعمتوں کا شکر اور اللہ کا حق ادا کرتے تھے اللہ نے شیطان مردود سے آپ کو محفوظ رکھا تھا۔ ابلیس دوسرے مال داروں کو عزت یاب لوگوں کو اللہ کی یاد سے غافل بنادیتا ہے۔ ابلیس نے سنا کہ ملائکہ حضرت ایوب پر دردود بھیج رہے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کا تذکرہ کیا اس وقت سے ابلیس میں حسد اور سرکشی پیدا ہوئی پھر وہ جلدی سے آسمان کی طرف گیا اور ایک جگہ رک کر کہنے لگا ، الٰہی میں دیکھتا ہوں تیرے بندے ایوب کو کہ تونے اس پر خوب انعام کیا اور اس کا شکرادا کیا اور اس کے ساتھ عافیت والامعاملہ کیا اور تو اس کی تعریف بھی کرتا ہے اگر آپ اس کو کوئی تکلیف میں مبتلا کردیں تو پھر جس حالت میں آپ اس وقت دیکھ رہے ہیں شکر و عبادت میں، وہ ایسی طاعت و عبادت چھوڑ دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جا میں نے تجھے اس کے مال پر مسلط کردیا، وہاں سے ابلیس مڑا ور اس نے حضرت ایوب کے تمام مال کو آگ سے جلا کر راکھ کردیا اور پھر بری شکل لے کر آیا حضرت ایوب نماز پڑھ رہے تھے اس نے کہا اے ایوب آگ آئی اس نے تمہارے اونٹوں کو اور تمہارے تمام اموال کو جلا کر راکھ کردیا، اس کے جواب میں حضرت ایوب نے کہا، الحمدللہ الذی ھو اعطاھا وھو اخذھا، تمام تعریفیں اس ذات کی ہیں جس نے مجھے یہ مال عطا کیا اور اس کولیا۔ اس کے علاوہ میں اور میرا مال بھی ایک دن فنا ہوجائے گا۔ ابلیس ذلیل ہوگیا اور کہنے لگا ، الٰہی تونے ایوب تندرستی دی ہے۔ جسمانی اذیت سے محفوظ رکھا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کی تندرستی ہے تو اللہ مال واولاد اور عنایت کردے گا۔ اس لیے مال واولاد کی ہلاکت کا اس پراثر نہیں پڑا تو مجھے اس کے جسم پر تسلط عطا کردے گا (تو اس کا قدم دگمگاجائے گا) اللہ نے فرمایا، جا میں نے ایوب کے جسم پر تجھے تسلط عطا کیا لیکن زبان اور دل پر تیرا تسلط نہیں ہے ، زبان ودل کے علاوہ باقی جسم کو تیرے زیر تسلط کردیا گیا۔ اللہ نے ابلیس کو یہ تسلط صرف اس لیے عطا فرمایا کہ ایوب (علیہ السلام) کے ثواب میں اضافہ ہو، صبر کرنے والوں کے لیے مثال ہو، ہر دکھ اور مصیبت پر صبر کرنے کی دوسروں کو تلقین ہو اورباامید ثواب ہراذیت پر ان کو صبر ہو۔ اللہ کا دشمن اجازت پاکر فورا آیا، ایوب (علیہ السلام) اس وقت سجدے میں تھے، سر اٹھانے نہ پائے تھے کہ ابلیس آگیا اور چہرے کی طرف سے آ کر ناک کے سوراخ میں ایک پھونک ماری جس سے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا جسم آگ کی طرح بھڑکنے لگا اور سر کی چوٹی سے پاؤں کی نوک تک ایسے دمبل نکل آئے جیسے بکری کی کلیجی اور ان میں کھجلی پیدا ہوگئی۔ حضرت ایوب نے ناخنوں سے اس کو کھجانا شروع کیا یہاں تک کہ سب ناخن گرگئے پھر کھردرے ٹاٹ سے کھجایا، ٹاٹ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ پھر نوک دار کھرے درے ٹھیکروں اور پتھروں سے کھجایا اور اتنا کھجایا کہ گوشت کٹنے لگا۔ بودینے لگا سڑ گیا بستی والوں نے آپ کو بستی سے باہر نکال کر ایک کوڑے پر جھونپڑی بناکر اس میں ڈال دیا اور سب نے چھوڑ دیا۔ صرف آپ کی بی بی رحمت بنت افرائیم بن یوسف بن یعقوب نے ساتھ تھا۔ بعض نے رحمت کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صاحبزادی کہا ہے۔ رحمت آپ کے پاس آتی رہیں اور آپ کی ضروریات فراہم کرکے لاتی رہیں۔ جب حضرت کے تینوں رفقاء الیقین ، یلدو اور صافر نے حضرت ایوب کی یہ ابتلائی حالت دیکھی تو وہ بھی کنارہ کش ہوگئے اور آپ پر تہمت لگائی مگر آپ کے دین کو نہیں چھوڑا۔ جب مصیبت بڑھ گئی تو ایک روز تینوں حضرات ان کے پاس آئے اور خوب سخت برا بھلا کہا اور کہنے لگے آپ کو اللہ کی طرف سے یہ گناہ کی سزا دی گئی اللہ سے توبہ کیجئے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھ آپ کے پاس ہی بیٹھتے تھے کہ یکدم ایک بادل چھا گیا ساتھیوں نے خیال کیا کہ شاید عذاب آیا ہے لیکن اندر سے آواز آئی اے ایوب، اللہ فرماتا ہے اور میں تیرے قریب ہوں اور ہمیشہ تیرے قریب ہی رہا، اٹھ اپنا عذر پیش کر اور اپنی برات کی بات کروا اور پنی طرف سے دفاع کرو اور کمر کس کر اٹھ کھڑا ہو اور اس مقام پر کھڑا ہو جس مقام پر کوئی طاقت ور کھڑا ہوکردوسرے طاقت ور کا دفاع کرتا ہے اگر تجھ سے ہوسکے۔ مجھ سے وہی جھگڑا کرسکتا ہے جو مجھ جیسا ہو اے ایوب تیرے نفس نے تجھے آرزو مند بنادیا کہ تو اپنی قوت سے اپنے مقصد کو پہنچ جائے گا تو کہاں تھا جس روز زمین نے کو میں نے پیدا کیا اور اس کی بنیاد پر اس کو قائم کیا کیا تو میرے ساتھ زمین کے کناروں کو پھیلارہا تھا ؟ کیا تو واقف ہے کہ میں نے کس انداز سے اس کو بنایا ؟ کس چیز پر اس کے اطراف کو قائم کیا، کیا تیری اطاعت کرکے پانی نے زمین کو اٹھایا ہے کہ کیا تیری حکمت سے زمین کا پانی سرپوش بنی ہوئی ہیی۔ تو اس روز کہاں تھا جب میں نے آسمان کو چھت کی شکل میں ہوا میں بلند کیا تھا اور نہ اوپر سے کوئی رسی ہے کہ آسمان سے بندھالٹک رہا ہے نہ نیچے سے ستون اس کو اٹھائے ہوئے ہیں کیا تو اپنی حکمت سے اس مقام تک پہنچ سکتا ہے آسمان کے نور کو بہاردے یا ستاروں کو چلادے ؟ کیا تیرے حکم سے رات ودن کا دل بدل ہورہا ہے ؟ کیا تو جانتا ہے کہ جو پانی میں آسمان سے اتارتا ہوں وہ کہاں سے آتا ہے ؟ کس چیز سے بادل پیدا ہوتا ہے ؟ برف کا خزانہ کہاں ہے ؟ اولوں کے پہاڑ کہاں ہیں ؟ دن کے اندر رات کا خزانہ کہاں ہے ؟ اور رات میں دن کا خزانہ کہاں رہتا ہے اور ہواؤں کا خزانہ کہاں ۃے ؟ درخت کس زبان میں باتیں کرتے ہیں ؟ کس نے انسان کے جوف سینہ یاپیٹ یاسر میں عقل پیدا کی اور کس نے کانوں اور آنکھوں کے یہ شگاف بنائے ؟ فرشتے کس کے اقتدار کے مطیع ہیں اور کس نے اپنی قہاری طاقت سے سب طاقت ور کو مغلوب کررکھا ہے کس نے اپنی حکمت سے رزق کی تقسیم کی ہے اللہ نے اسی طرح کے کلام میں اپنی آثار قدرت کا بکثرت اظہار فرمایا۔ ایوب (علیہ السلام) کا بارگاہ الٰہی میں دعا۔ ایوب (علیہ السلام) نے عرض کیا، الٰہی جو تفصیل تونے بیان فرمائی ہے، اس کو سمجھنے اور جواب دینے میری حالت اور میرا مرتبہ حقیر ہے میری زبان گنگ ہوگئی میری عقل اور دانش کند ہوگئی اور میری قوت کمزور پڑگئی۔ اے میرے معبود میں جانتاہوں کہ جو کچھ تونے بیان فرمایا وہ تیرے ہی دست قدرت کی کاریگری ہے اور تیری ہی حکمت ہے بلکہ تیری تدبیر حکمت صنعت اور قدرت اس سے بھی بڑی ہے کوئی چیز تجھے بےبس نہیں کرسکتی کوئی چیز تجھ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی میرے معبود مجھ پر دکھ ایسے پڑے کہ میں بےقابو ہوکربول پڑا مصیبت نے میری زبان چلادی کاش زمین پھٹ جاتی اور میں اس میں سماجاتا اور ایسی بات اپنے رب کی شان میں نہ کہتا جو میرے رب کی ناراضگی کا باعث ہوتی۔ کاش اس سے پہلے ہی سخت ترین دکھ سے پیدا ہونے والے غم کی وجہ سے میں مرچکا ہوگا۔ آج میں تیرے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور سخت دکھ سے تیری ہی جوار رحمت کا خواستگار ہوں مجھے اپنی پناہ میں لے لے۔ میں تجھ سے اپنے قصور کی معافی چاہتا ہوں مجھے معاف کردے میں آئندہ ہرگز کوئی ایسی بات نہیں کروں گاجوتیری مرضی کے خلاف ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعا کی قبولیت اور خوش خبری۔ اللہ نے ایوب (علیہ السلام) سے فرمایا تیرے بارے میں میرا علم پہلے ہی نافذ ہوچکا تھا اور میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے میں نے تیرا قصور معاف کیا، تیرے اہل و عیال اور مال کی واپسی کا حکم دے دیا بلکہ جتنا تیرے پاس تھا اتنا ہی مزید تجھے دے دیا تاکہ پیچھے آنے والوں کے لیے قدرت کی نشانی مصیبت زدہ لوگوں کے لیے عبرت اور صبر کرنے والوں کے لیے باعث عزت ہوجائے اپنی ایڑی زمین پر مار دیکھ یہ ٹھنڈا پینے کا اور انہانے کا پانی ہے۔ اس میں تیری شفا ہے اپنے ساتھیوں کی طرف سے قربانی پیش کر اور ان کے لیے دعائے مغفرت کر انہوں نے تیرے متعلق میری نافرمانی کی ہے یعنی تیرے متعلق خیال قائم کیا کہ تیرے رب نے تجھے چھوڑ دیا۔ حسب الحکم ایوب (علیہ السلام) نے زمین پر اپنی ایڑی ماری فورا ایک چشمہ پھوٹ نکلا ایوب (علیہ السلام) نے اس میں گھس کر غسل کیا اور فورا اللہ نے سارے دکھ درد دور کردیے۔ آپ چشمہ سے نکل آکر بیٹھ گئے اتنے میں سامنے سے آپ کی بی بی آگئی اور ایوب (علیہ السلام) جہاں پہلے پڑے تھے وہاں آپ کو تلاش کرنے لگی اور جگہ خالی پاکر متحیر اور دیوانی ہوکر ادھر ادھرڈھونڈنے لگی۔ آخر ایک آدمی کو بیٹھا دیکھ کر حضرت ایوب سے ہی پوچھنے لگی اللہ کے بندے تم کو اس بیمار کا کچھ پتہ ہے جو یہاں پڑا ہوا تھا ایوب (علیہ السلام) نے جواب دیا جی ہاں میں اس کو پہنچانتا ہوں نہ پہچاننے کی کوئی وجہ نہیں یہ کہہ کر آپ مسکرادیئے اور فرمایا وہ میں ہی تو ہوں ہنسنے سے بی بی نے پہچان لیا دوڑ کر گلے لگ گئی ۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں عبداللہ کی جان ہے بی بی ایوب (علیہ السلام) کے گلے سے اس وقت تک لپٹی رہی کہ سارے مویشی اور اولاد جو فنا ہوچکی تھی دوبارہ زندہ ہوکر ان کے سامنے سے گزر گئی اس کا تذکرہ آیت ذیل میں ہے۔ وایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الضر، وقت نداء میں آئمہ کا اختلاف ہے پکارنے کا سبب یہی تھا کہ ان کو تکلیف پہنچی اور اس کی مدت تکلیف میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کتنے عرصے بعد دعا کی۔ ابن شہاب نے حضرت انس سے مرفوعا نقل کیا ہے کہ حضرت ایوب اس آزمائش میں آٹھ سال تک رہے ۔ وہب کا بیان ہے کہ پورے تین سال مبتلا رہے۔ ایک دن بھی زائد نہیں ہوا۔ کعب احبار کے نزدیک حضرت ایوب سات سال آزمائش میں رہے۔ حسن بصری کے نزدیک حضرت ایوب سات سال تک اور چند ماہ بنی اسرائیل کے کوڑے پر پڑے رہے۔ آپ کے بدن میں کیڑے رینگتے تھے۔ سوائے بی بی رحمت کے کوئی پاس بھی نہیں جاتا تھا۔ صرف رحمت آپ کے ساتھ شریک تھیں آپ کے لیے کھانا لاتی تھیں اور جب ایوب (علیہ السلام) اللہ کی حمد کرتے تھے توبی بی بھی حمد میں شریک ہوتی تھی اس حالت میں بھی ایوب (علیہ السلام) ذکر میں مشغول رہتے تھے ۔ ابلیس یہ بات دیکھ کرچیخ پڑا اور اطراف زمین سے اپنے تمام لشکر کو بلاکرجمع کیا اور کہنے لگا کہ اس بندے میں مجھے عاجز کردیا ہے نہ میں نے اس کا مال چھوڑا اور نہ اولاد اس حالت میں بھی یہ صبر کرتارہا بلکہ پہلے سے زیادہ اس نے صبر کا اظہار کیا۔ پھر مجھے بدن پر بھی اختیار مل گیا تو میں نے اس کے بد ن کو پھوڑا بنا کر چھوڑ دیا کہ یہ کوڑے پر پڑا رہتا ہے اوسوائے اس کی بیوی کے اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتا اب میں تم سے فریاد کرتاہوں تم ہی میری مدد کرواب میں کیا کروں ابلیس کے ساتھیوں نے کہاوہ تدبیر کیا ہوئی جس کی وجہ آپ نے گزشتہ لوگوں کو برباد کرکے چھوڑا ۔ ابلیس نے کہا وہ ساری تدبیریں بیکار گئیں۔ مجھے کچھ اور مشورہ دو ۔ ابلیس کا حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کے پاس آنے کا واقعہ۔ بعض کتابوں میں آیا ہے کہ ابلیس نے عورت سے کہا تھا کہ تو مجھے ایک سجدہ کرلے میں تیرامال واولاد واپس کردوں گا اور تیرے شوہر کو بھلاچنگا کردوں گا عورت نے واپس آکر حضرت ایوب کو اس بات کی اطلاع دی حضرت ایوب نے فرمایا وہ دشمن خدا تیرے پاس دین سے بہکانے کے لیے آپہنچا ہے۔ پھر آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے تندرست کردے گا تو میں سوتازیانے تیرے ماروں گا، جب آپ نے دیکھا کہ ابلیس کو اب یہ خیال ہوچکا کہ آپ کی بیوی اس کو سجدہ کرلے گی اور اس نے بیوی کو اورمجھ کو کفر کی دعوت دی ہے اس وقت آپ نے دعا کی ، رب انی مسنی الضر ، چونکہ آپ کی بی بی نے رحمت نے مصیبت مین آپ کا ساتھ دیا تھا اور صبر کیا تھا اس لیے اللہ نے اس پر رحمت فرمائی اور اس کے لیے حکم میں تخفیف کردی اور حضرت ایوب کو قسم پوری کرنے کی تدبیر بتادی کہ ساشاخوں کا ایک گٹھا لے کر ایک دم رحمت کے ماردو اس طرح تمہاری قسم پوری ہوجائے گی۔ حضرت ایوب نے حکم کی تعمیل کی چھوٹی چھوٹی سوشاخوں کا ایک گٹھا بنا کر بیوی کو ایک مرتبہ ماردیا۔ وخذ بیدک ضغثا فاضرب ولاتحنث۔ ،
Ayah 21:84

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے

تفسیر۔ 84۔ فاستجبنالہ فکشفنا مابہ من ضر۔ تکلیف سے ان کو دور اس طرح کیا کہ اللہ عزوجل نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپناپاؤں زمین پر مارو جب انہوں نے پاؤں زمین پر مارا تو ایک چشمہ جاری ہوگیا جس کا پانی ٹھنڈا تھا ان کو حکم دیا کہ اس پانی سے غسل کرلیں حضرت ایوب نے ایسا ہی کیا اللہ نے ان کی ظاہری بیماری کو دور کردیا۔ جب انہوں نے اس چشمہ سے پانی پیا اندرونی تمام بیماریاں ختم ہوگئی پھر اس کے بعد تمام لوگوں سے حسین جمیل ہوگئے۔ واتنیہ اھلہ و مثلہ معھم، اس بارے میں مفسرین کا آپس میں اختلاف ہے۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماابن مسعود قتادہ، حسن اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اللہ نے بعینہ وہی مرے ہوئے اہل عیال زندہ کردیے تھے اور اتنے ہی اور بھی عطا فرمادیے تھے۔ ظاہر آیت اسی تفسیر پر دلالت کرتی ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اتنے ہی مویشی اور اولاد اسی مویشی اور الاد کی نسل سے پیدا کردیے۔ جن کو مرنے کے بعداللہ نے زندہ کیا تھا، اس مطلب کی تائید حضرت ابن عباس ؓ عنہماکے اس قول سے ہوتی ہے جو بروایت ضحاک آیا ہے کہ اللہ نے اس بیوی کو دوبارہ جوان کردیا اور اس کے بطن سے اس کے بعد چھبیس لڑکے پیدا ہوئے وہب نے کہا سات لڑکیاں اور تین لڑکے پیدا ہوئے۔ ابن یسار نے کہاحضرت ایوب کے سات لڑکے اور سات لڑکیاں ہوئیں۔ ” رحمۃ من عندنا، ، ہم نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے نعمت سے نوازا ۔ وذکری للعابدین ، نصیحت ہے عبادت گزاروں کے لیے اور عبرت ہے دوسرے لوگوں کے لیے۔
Ayah 21:85

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

تفسیر۔ 85۔ واسماعیل، ، یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے، (وادریس) یعنی اخنوع، وذالکفل کل من الصابرین، اللہ کے حکم پر۔ ذالکفل کون تھے ؟ ذی الکفل کون تھے ؟ پیغمبر تھے یا نہ تھے اس کے متعلق علماء کا اختلاف ہے عطاء کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر کے پاس وحی آئی کہ آپ کے انتقال کا وقت قریب آگیا ہے بنی اسرائیل کے سامنے اپنی حکومت رکھیے اور جو شخص اس بات کی ذمہ داری لے کہ وہ رات میں نماز پڑھے گا اور سستی نہ کرے گا، اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھے گا، کسل نہیں کرے گا اور لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرے گا اس کو غصہ نہیں آئے گا اس کو حکومت سپرد کردیجئے۔ پیغمبر نے بنی اسرائیل کے سامنے معاملہ رکھا، مجلس میں سے ایک نوجوان اٹھا اور عرض کیا میں یہ ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ اس جوان نے ذمہ داری قبول بھی کرلی اور اس کو پورا بھی کیا اور اللہ نے بھی اس کی قدر افزائی کی اور اس کو نبوت سے سرفراز دیا، اسی جوان کا نام ذوالکفل تھا۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ ابلیس ذوالکفل کے پاس آیا اور کہنے لگا میرا یک قرض دار ہے جو ادائیگی میں ٹال مٹول کررہا ہے آپ میرے ساتھ ذرا اٹھ کر چلیے اور میراحق وصول کرادیجئے۔ آپ اس کے ساتھ اٹھ کر چل دیے لیکن ابلیس وہاں پہنچ کر ذوالکفل سے علیحدہ ہوگیا اور آپ کو تنہا چھوڑ کر چل دیا بعض روایات میں آیا ہے کہ ابلیس نے حضرت ذوالکفل سے معذرت کی اور کہا میرامدعاعلیہ مجھ سے بھاگ گیا ۔ بعض اہل روایت نے کہا کہ ذوالکفل نبی تھے عبارت قرآنی کی رفتار سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ لیکن کون سے نبی تھے اس کی تعیین نہیں کی جاسکتی، بعض نے ذوالکفل زکریاکوہی قرار دیا ہے۔ حضرت ابوموسی نے کہاذوالکفل نبی نہیں تھے ایک نیک آدمی تھے۔
Ayah 21:86

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا، بلاشبہ وہ نیکوکار تھے۔

86۔ وادخلناھم فی رحمتنا، ، وہ انعامات جو ہم نے ان پر دنیا میں کیے، مثلا نبوت ، جنت کی سیر اور ثواب۔ انھم من الصالحین۔
Ayah 21:87

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور ذو النون کو (یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

87۔ وذالنون ، ، اور یاد کیجئے مچھلی والوں کو۔ اس سے مراد یونس بن متی ہیں ۔ اذ ذھب مغاضبا ، ، اس کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے ضحاک کا قول ہے کہ جب وہ انتہائی غصے سے چل دیے۔ حضرت یونس علیہ السلا م کا واقعہ۔ یہی روایت عوفی وغیرہ نے بھیابن عباس ؓ سے نقل کی ہے اور فرمایا ہے کہ حضرت یونس اپنی قوم کے ساتھ فلسطین میں رہتے تھے کسی بادشاہ نے ان پر حملہ کرکے اور ساڑھے نوقبیلوں کو قید کرکے لے گیا، اللہ نے شعیا نبی کے پاس وحی بھیجی کہ تم حرقیا بادشاہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ کسی طاقت ور نبی کو دشمنوں کے پاس بھیج کر بنی اسرائیل کی قید سے رہا کرادے۔ میں دشمنوں کے دلوں میں بنی اسرائیل کو رہا کرنے کا خیال پیدا کردوں گا۔ حرقیا کی سلطنت میں پانچ پیغمبر تھے۔ حضرت شعیا سے اس نے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے کس کو بھیجوں اس نے کہا یونس بن متی کو وہ طاقت ور بھی ہے اور امانت دار بھی۔ بادشاہ نے یونس کو بلوایا اور جانے کا حکم دیا۔ یونس (علیہ السلام) نے کہاکیا مجھے اللہ نے نامزد کیا ہے بادشاہ نے کہا کہ نہیں یونس نے کہاتو میرے سوا یہاں دوسرے طاقت ور پیغمبر بھی ہیں کسی اور کو بھیج دیں لوگوں نے آپ کی بات نہیں مانی اور جانے پر اصرار کیا، یونس (علیہ السلام) بادشاہ اور قوم سے ناراض ہوکر غصہ کی حالت میں کسی طرف کو چل دیے اور بحرروم میں کشتی پر سوار ہوگئے۔ عروہ بن زبیر اور سعید بن جبیرؓ اور علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یونس (علیہ السلام) اپنی قوم کو چھوڑ کر اللہ سے ناراض ہوکر چل دیے تھے اور اللہ سے ناراضگی کا سبب یہ تھا کہ یونس (علیہ السلام) نے حسب حکم خدا کو عذاب سے ڈرایا تھا اور عذاب کا وقت مقرر کردیاتھا لیکن جب قوم یونس نے علامات عذاب کو دیکھ کر توبہ کی تو اللہ نے عذاب کو ٹال دیا۔ یونس کو اس پر ناگواری گزری ان کو خیال ہوا کہ اب لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے شرم کے مارے قوم کو چھوڑ کر چل دیے ان کو کیا معلوم تھا کہ عذاب ٹل جانے کی وجہ کیا ہوئی ؟ آپ کی ناراضگی صرف اس سبب سے ہوئی کہ آپ کا جھوٹا ہوناقوم کی نظر میں محقق ہوگیا۔ آپ کو اندیشہ ہوا کہ آئندہ لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے۔ وہب نے کہا کہ یونس (علیہ السلام) نیک آدمی تھے پھر جب آپ پر نبوت کا بار ڈالا گیا تو آپ دب گئے اور بھاگ نکلے اس لیے اللہ نے آپ کو اولوالعزم پیغمبروں کی فہرست سے خارج کردیا اور رسول کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا آپ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبر کیجئے مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے۔ فظن ان لن نقدر علیہ، قدر کا معنی ہے فیصلہ الٰہی یعنی یونس (علیہ السلام) کو خیال ہوا کہ ہم اس کو سزا دینے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ یہی قول مجاہد قتادہ ضحاک اور کلبی کا ہے اور یہی روایت عوفی سے منقول ہے جو انہوں نیابن عباس ؓ سے نقل کی ہے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز مقدر کردی ہے۔ قدر یقدر قدرا اس کا معنی ایک ہی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، نحن قدرنا بینکم الموت ، جن لوگوں نے اس کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے جو عمرو بن عبدالعزیز اور زہری سے منقول ہے۔ فظن ان لن نقدر علیہ ، تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ عطاء اور بہت سے علماء کے نزدیک ایسے ہی ہے اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ یونس (علیہ السلام) کا یہ خیال ہوا کہ ہم اس پر بندش کی تنگی نہیں کریں گے۔ قدرت کے معنی اس جگہ تنگی کرنے کے ہیں۔ یہی معنی دوسری آیت میں بھی آئے ہیں۔ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر، یہاں اس کے معنی تنگی کے ہیں۔ ابن زید کا قول ہے کہ یہ جملہ سوالیہ ہے۔ حرف استفہام محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ کیا یونس (علیہ السلام) نے خیال کرلیا کہ ہم اس پر قابو نہیں پائیں گے۔ ظلمات جمع کی صیغہ ذکر کرنے کی وجہ۔ ” فنادی فی الظلمت ان لاالہ الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین “۔ ظلمات جمع کا صیغہ اس وجہ سے ذکر کیا کیونکہ ایک اندھیرارات کا، دوسرا اندھیرا سمندر کے پانی کا اور تیسرا اندھیرا مچھلی کے پیٹ کا تھا۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مرفوعا نقل کیا ہے کہ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا، یونس (علیہ السلام) کو پکڑ لے لیکن اس کے خراش نہ آئے نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ، حسب الحکم مچھلی نے آپ کو لے لیا اور اپنے مقام پر نیچے لے گئی۔ جب سمندر کی تہہ میں لے کر پہنچی تویونس (علیہ السلام) نے تسبیح (سبحان اللہ کہنے) کی آواز سنی ، دل میں خیال کیا یہ کیسی آواز ہے۔ اللہ نے وحی بھیجی یہ آواز سمندری جانوروں کی تسبیح کرنے کی ہے۔ یہ جان کر آپ نے بھی مچھلی کے پیٹ کے اندر ہی تسبیح کرنا شروع کردی۔ ملائکہ نے تسبیح یونس (علیہ السلام) کی آواز سنی تو عرض کیا، اے ہمارے رب ہم نے ایک عجیب زمین میں ایک ضعیف آواز سنی۔ دوسرے روایت میں آیا ہے کہ فرشتوں نے کہا آواز توجانی پہنچانی ہے اور زمین انجان ہے اللہ نے فرمایا یہ ہمارے بندے یونس کی آواز ہے جس نے میری نافرمانی کی تھی۔ میں نے اس کو مچھلی کے پیٹ میں قید کردیا فرشتوں نے کہا کہ یہ وہی نیک بندہ کے لیے شفاعت کی اور اللہ نے مچھلی کا حکم دیا کہ یونس کو اگل دے۔ مچھلی نے کنارے پر آکر یونس (علیہ السلام) کو اگل دیا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، فنبذناہ بالعراء وھوسقیم۔
Ayah 21:88

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

تفسیر۔ 88۔ فاستجبنالہ، جب ہم نے ان کو پکار کر سن لیا، ونجیناہ من الغم، ان اندھیروں سے نجات دی۔ ” وکذلک ننجی المومنین، ، مومنین کو بھی ہر مصیبت سے نجات دیتے ہیں۔ جب وہ ہمیں اخلاص کے ساتھ پکاریں اور مجھ ہی سے مدد طلب کریں ۔ ابن عامر ، عاصم نے ابوبکر کی روایت کے مطابق ایک نون اور جیم کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یاء کے سکون کے ساتھ چونکہ ان کے مصاحف میں ایک نون کے ساتھ ہی لکھا ہوا ہے۔ نحویوں کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ایک نون والی قرا ت درست ہے کہ نہیں وہ کہتے ہیں کہ بڑی غلطی ہے کیونکہ اگر یہ مفعول ، مالم یسم فاعلہ، ہوتا تو اس کی یاء ساکن نہ ہوتی اور لفظ مومنین مرفوع ہوتا اور ان میں سے بعض نے یہ کہا ہے ، فراء نے کہا کہ یہاں ایک اور وجہ ہے اور وہ اضمار مصدر کی وجہ سے۔ یاء ساکن ہے، نجی ، میں جیسا کہ ، بقی ، میں یاء ساکن ہے۔ قتیبی کا بیان ہے کہ جن حضرات نے ایک نون اور تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں ، ننجی ، تنجیہ کے معنی میں ہوگا الایہ کہ ان دونوں میں ادغام کیا گیا۔ نون کو تخفیفا حذف کردیا گیا، لیکن نحویوں کے نزدیک نون اور جیم کا مخرج دور دور ہونے کی وجہ سے ادغام نہیں ہوسکتا جبکہ ادغام تو اس صورت میں ہوتا ہے جب دونوں قریب المخرج ہوں۔ عام قراء نے ننجی ، دونوں نون کے ساتھ پڑھا ہے ۔ انجاء کے معنی میں ہوگا اور جن لوگوں نے ایک نون کے ساتھ ذکر کیا ہے چونکہ دوسرا نون ساکن تھا اور ساکن زبان پر ظاہر نہیں، اس لیے اس کو حذف کردیا تخفیف کی وجہ سے۔ حضرت یونس بن متی کوکب پیغمبر بنایا ؟ حضرت یونس بن متی کوکب پیغمبر بنایا ؟ اس بارے میں حضرت سعید بن جبیر (رح) کی روایتابن عباس ؓ سے مروی کہ مچھلی کے پیٹ سے رہائی کے بعد حضرت یونس کو پیغمبر بنایا گیا کیون کہ سورة الصافات میں پہلے، فنبذناہ بالعراء وھوسقیم۔ کے بعد وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ آیا ہے اور دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ ان کو نبوت مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ملی۔ اس پر دلیل یہ فرمان باری ہے۔ وان یونس لمن المرسلین ، اذ ابق الی الفلک المشحون۔
Ayah 21:89

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑو اور تو سب سے بہتر وارث ہے

89۔ و زکریا اذ نادی ربہ، کہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا۔ رب لاتذرنی فردا۔ ان کو اکیلا چھوڑ دیا کہ میرا کوئی لڑکا نہیں اور میرا وارث بنا۔ وانت خیرالوارثین اللہ تعالیٰ کی تعریف کی کہ مخلوق کے فنا ہوجانے کے بعدا للہ ہی باقی رہنے والا ہے۔
Ayah 21:90

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

90۔ فاستجبنالہ ووھبنالہ یحییٰ ۔ اس سے مراد لڑکا ہے۔ واصلحنالہ زرجہ۔ ہم نے آپ کو اولاد دی اس حال میں کہ آپ کی زوجہ بوڑھی ہوچکی تھیں۔ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اور بعض نے کہا کہ وہ پہلے بدخلق تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو حسن خلق سے نوازا۔ انھم وہ انبیاء (علیہم السلام) جن کا ذکر ہم نے اس سورت میں کیا ہے۔ کانوایسارعون فی الخیرات ویدعوننا رغبا۔ رغبا کا معنی ہے طمع، ورھبا بمعنی خوف اللہ کی رحمت کی طمع رکھتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔ وکانوالناخاشعین۔ وہ تواضع کرنے والے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو عاجزی سے کرنے والے۔ مجاہد کا قول ہے کہ ، خاشعین ، سے مراد وہ خوف ہے جو دل کے ساتھ لازم ہے (یعنی دل میں پیدا ہونے والاڈر۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کو ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

91۔ والتی احصنت فرجھا “ حرام اشیاء سے اس کی حفاظت کی۔ اس سے مراد مریم بنت عمران ہیں۔ فنفخنافیھا من روحنا، ہم نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اس کے سینہ بند میں پھونک ماریں اور پھر اس پھونک کے ذریعے ہم ان کے پیٹ سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو پیدا کریں گے۔ روح کی اضافت ان کی طرف کی عیسیٰ کی شرافت کی وجہ سے ۔ وجعلنا ھاوابنھا آیۃ للعالمین، اپنی کمال قدرت کی دلیل مخلوق کے سامنے واضح کرنا تھی کہ اللہ بغیر باپ کے اولاد دے سکتا ہے۔ یہاں پر، آیہ، واحد کا ذکر کیا، تثنیہ کا ذکر نہیں کیا۔ آیتین ، یا آیتان، نہیں فرمایا کیونکہ کلام کا معنی یہ ہیہ کہ ہم نے ان دونوں کی شان اور دونوں کے حکم کو نشانی بنائی ہے چونکہ آیت ایک ہی ہے اور یہ نشانی بھی ایسی کہ جو بغیر مرد کے ہے۔
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

92۔ ان ھذہ امتکم۔ تمہاری ملت اور تمہارے دین پر ہی ہیں۔ امۃ واحدہ، اور وہ ایک دین اسلام ہے۔ سلام کے علاوہ تمام ادیان باطل ہیں لفظ امت ام سے ماخوذ ہے ۔ ام کا معنی ہے قصد کرنا جو جماعت ایک مقصد پر متفق ہو یا دین وسنت پر متفق ہو اس کو امت کہا جاتا ہے ، وانا ربکم فاعبدون۔
Ayah 21:93

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

تفسیر۔ 93۔ وتقطعو ا امرھم بینھم۔ وہ دین میں اختلاف کرنے لگے تو وہ ٹکڑے ٹکڑے (فرقہ فرقہ ) ہوگئے کلبی کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے دین میں تفرقہ بازی شروع کردی۔ ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے لگے اور وہ ایک دوسرے پر گناہ ڈالنے لگے۔ تقطع یہاں پر تقطیع کے معنی میں ہے۔ کل الینا راجعون۔ ہم ان کو ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیں گے۔
Ayah 21:94

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

94۔ فمن یعمل من الصالحات وھو مومن فلاکفرفان لسعیہ، اس کی کوشش کا انکار نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی اس کے عمل کو باطل قرار دیاجائے گا، بلکہ اس کا ثواب دیاجائے گا۔ وانالہ کاتبون۔ اس کے عمل کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ بعض نے کہا کہ شکرگزاری کا مطلب ہے ثواب عطا کرنا اور کفران سے مراد ثواب کانہ ملنا ہے۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

95۔ و حرام علی قریۃ ، حمزہ کسائی ، ابوبکر نے حرم حاء کے کسرہ کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور باقی قراء نے الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں دونوں لغات ہیں۔ جیسے ، حلہ و حلال ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس بستی کو ہم نے تباہ کردیا اس کا دنیا میں واپس لوٹنا ممکن نہیں اس مطلب پر لایرجعون میں لام زائدہ ہوگا۔ اھلکناھا ، کہ جس بستی کو ہم ہلاک کردیں وہ واپس لوٹ کرآئے۔ اس صورت میں لاصلہ، ہوگا، اور دوسرے قراء نے کہا کہ حرام بمعنی واجب کے ہے۔ اس صورت میں لاثانیہ ہوگا۔ معنی یہ ہوگا کہ واجب ضروری ہے کہ ہم ان بستی والوں کو ہلاک کریں اور ان کے نیک اعمال ختم نہ کریں۔ انھم لایرجعون، دنیا کی طرف نہیں لوٹیں گے ۔ زجاج نحوی کا قول ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ ناممکن ہے کہ جب ہم کسی بستی کے ہلاک کرنے کا حکم صادر کردیں اور ان کے نیک اعملا کو قبول کریں وہ تو کبھی لوٹنے والے نہیں ہیں یعنی توبہ کرنے والے نہیں ہیں۔ اس معنی پر دلیل ماقبل والی آیت سے ہے جو ابھی اوپر گزری ہے۔ فمن یعمل من الصالحات۔۔۔ تا۔۔ عملہ۔ یعنی اس کے عمل کو ہم قبول کرلیں گے۔ پھر اس کے بعد اس آیت کو ذکر کیا کیونکہ کافر کا نیک عمل قابل قبول نہیں۔
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں

96۔ حتی اذا فتحت، ، ابن عامر ، ابوجعفر اور یعقوب نے ، فتحت، تاء کی تشدید کی ساتھ پڑھا ہے اس صورتمیں معنی تکثیر سے ہوگا اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ، یاجوج وماجوج، اس سے مراد یاجوج وماجوج کی دیوار کا کھل جانا ہے۔ وھم من کل حدب۔ حدب ہر اونچی جگہ سے اترنے کو کہتے ہیں۔ ینسلون، وہ جلدی جلدی اتریں گے ، اونچے اونچے ٹیلوں جیسے کہ بھیڑ کے بچے نمودار ہورہے ہیں اور وہ بہت تیز چلنے والے ہوں گے ۔ اس کنایہ کا ذکر کرنے کے بارے میں آئمہ مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت سے مراد یاجوج وماجوج ہیں۔ اس دلیل کی وجہ سے ہم جو نقل کرتے ہیں۔ حضرت نواس بن سمعان کی روایت ہیی کہ وہ رسول اللہ سے نقل کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یاجوج وماجوج کو بھیج دے گ اور وہ ہر ٹیلہ کی آڑ سے پھیل پڑیں گے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد تمام مخلوق ہے کہ جب وہ قبروں سے نکل کر میدان حشر کی طرف جمع ہوں گے اس پر دلیل حضرت مجاہد کی قرات ہے ان کے نزدیک ، حدب، نہیں بلکہ ، جدث ہے۔ جیم اورث کے ساتھ۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے۔ فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون۔ حضرت حذیفہ بن اسید غفاری کی روایت میں ہے کہ ہم لوگ کچھ باہم باتیں کررہے تھے کہ اچانک رسول اللہ برآمد ہوئے اور فرمایا کس چیز کا تذکرہ کررہے ہو، ہم نے عرض کیا ہم قیامت کا تذکرہ کررہے تھے فرمایا جب تک قیامت سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی پھر آپ نے دخان کا، خروج دجال کا، دابۃ الارض کا، مغرب کی طرف سے طلوع آفتاب کا، نزول عیسیٰ بن مریم کا، خروج یاجوج وماجو ج کا، تین مقامات پر زمین دھنسنے کا، ایک مشرق میں ، دوسرامغرب میں، تیسرا جزیرۃ العرب میں، اور آخر میں یمن سے ایک آگ کے برآمد ہونے کا جو لوگوں کو ہنکا کر میدان حشر کی طرف لے جائے گی، اس کا ذکر فرمایا۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور وہ کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ ہم (اپنے حق میں) ظالم تھے

تفسیر۔ 97۔ واقترب الوعد الحق، ، حق سے مراد قیامت ہے۔ فراء اور ایک علماء کی جماعت کا قول ہے کہ واؤ زائدہ ہے اوراقترب کو شرط کی جزاء قرار دیا ہے اس کا معنی یہ ہوگا کہ جب یاجوج ماجوج کو کھول دیاجائے گا، اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے اور پھیل جائیں گے تو اس وقت قیامت قریب آجائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، فلمااسلما وتلہ للجبین ونادیناہ ، ہم نے اس کو آواز دی۔ اس پر دلیل جو حضرت حذیفہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کسی نے بچھڑا پالا ہوگاتوخروج یاجوج وماجوج کے بعد وہ بچھڑا سواری کے قابل نہیں ہوگا کہ قیامت آجائے گی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ واؤ زائدہ ہے اور مابعد والی واؤ جزاء ہو ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کو کھولا جائے گا اس وقت سچا وعدہ قریب آجائے گا۔ اس وقت یہ کہیں گے ہم تو اس سے پہلے غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔” فاذاھی شاخصۃ ابصارالذین کفروا “ اس قول میں تین وجوہ جائز ہیں۔ (1) ۔ یہ کنایہ ہو دیکھنے سے پھر اس کے بعد ابصار کو بطور بیان کے نقل کیا ہیی۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ اس وقت ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ جیسا کہ کفر کرنے والوں کی آنکھیں پھٹی پھٹی کی رہ جائیں گی۔ 2) ۔ دوسرایہ کہ ان کی آنکھیں جان کر پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، فانھا لاتعمی الابصار،۔ 3) تیسراقول یہ ہے کہ ، ھی ، تک کلام مکمل ہوجائے۔ اس صورت میں اسکا معنی یہ ہوگا کہ وہ قریب اتنی زیادہ ہے گویا کہ حاضر ہے۔ ” شاخصہ ابصارالذین کفروا “ خبر مقدم ہے ابتداء ہونے کی وجہ سے۔ اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ کافروں کی آنکھیں اس وقت پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی کلبی کا قول ہے کہ اس دن کفار کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی شدت خوف کی وجہ سے ، وہ ادھر ادھر نہیں دیکھ سکیں گے اور اس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے ، یاویلنا قد کنا فی غفلۃ من ھذا۔ آج کے دن ، بل کناظالمین ، یہاں ظلم کا معنی بیان کیا ہے۔ عبادت کو اصل مقصود کے علاوہ جگہ پر کرنا۔ اللہ کے سوا غیروں کی عبادت کرنا، عبادت کا بےمحل استعمال ہے۔ اسلیے اس کو ظلم قرار دیا ہے۔
Ayah 21:98

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(کافر اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہونگے (اور) تم (سب) اس میں داخل ہو کر رہوگے

98۔ انکم، مشرکین کو خطاب ہے۔ وماتعبدون من دون اللہ، اس سے مراد بتوں کی پوجا کرنا ہے۔ حصب جھنم، اس کا ایندھن ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ اہل یمن کی لغت میں حصب جلائی جانے والی لکڑیوں کو کہاجاتا ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے جلائی جانے والی لکڑیاں ۔ ضحاک کا قول ہے کہ ان کو آگ میں پھینکاجائے گا جیسا کہ لکڑیوں کو آگ میں پھینکاجاتا ہے۔ حصب اصل میں پھینکنے کو کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے۔ ارسلناعلیھم حاصبا، ہم نے ان پر ہوا کے ذریعے پتھر برسائے ۔ حضرت علی ابن ابی طالب نے اس کو پڑھا، حطب جھنم وانتم لھاواردون، وہ اس میں داخل ہوں گے۔
Ayah 21:99

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

99۔ لوکان ھوء لائ، یہ بات ، الھہ، حقیقی معبود ہوتے ہیں۔ ماوردوھا، تو ان کو دوزخ میں داخل نہ کیا جاتا۔ وکل فیھاخالدون، عابد اور معبودین سب کو اس میں داخل کریں گے۔
Ayah 21:100

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں ان کو چلانا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

100۔ لھم فیھا زفیروھم فیھالایسمعون، ابن مسعود کی روایت نقل کی ہے کہ جب دوزخ کے اندر حبس دوام کے جہنمی رہ جائیں گے تو ان کو لوہے کے صندوقوں میں بند کرکے لوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی۔ پھر ان صندوقوں کو آہنی صندوقوں میں بند کردیاجائے گا، اور لوہے کی میخیں ٹھونک دی جائیں گی پھر ان صندوقونوں کو جہنم کے نچلے حصے میں پھینک دیاجائے گا، اور ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میرے سوا کسی کو عذاب نہیں دیاجارہا ہے۔ یہ بیان کرنے کے بعد حضرت ابن مسعود نے آیت مذکورہ تلاوت فرمائی۔
Ayah 21:101

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

تفسیر۔ 101۔ ان الذین سبقت لھم منا الحسنی، ، بعض حضرات نے کہا کہ یہاں، ان ، بمعنی ، الا، کے ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ مگر وہ جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے۔ اس سے مراد نیک بختی اور جنت میں رہنے کی خوشگوار زندگی یا اللہ کی طرف سے طاعت کی توفیق یا جنت کی بشارت ہے۔ اولئک عنھامبعدون، بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت اپنے عموم پر ہے۔ یعنی ہر وہ شخص جس کو اللہ کی طرف سے بھلائی حاصل ہو وہ نیک بخت اور اچھا درجہ پاتا ہے۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد ہر وہ شخص جو اپنے معبود کی عبادت کرتا ہے اور پھر وہ اللہ سے امید بھی لگائے رکھتا ہے۔ تو اس کی عبادت کو اللہ تعالیٰ اکارت کردیتے تھے۔ یہ اس وجہ سے کہ آپ ﷺ اور سرداران قریش حطیم میں موجود تھے اور کعبہ کے اردگرد، تین سوساٹھ، بت رکھے ہوئے تھے۔ نضر بن حارث گفتگو کرنے کو آگے بڑھا ۔ رسول اللہ نے اس سے کلام کیا۔ یہاں تک کہ اس کو خاموش کردیا۔ پھر آپ نے اس کو، انکم وماتعبدون ، سے تین آیات پڑھ کرسنائیں۔ پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اتنے میں سامنے سے ابن الزبعری آگیا ولید بن مغیرہ نے اس سے رسول اللہ کی بات نقل کردی ابن الزبعری نے رسول اللہ کی طرف رخ کرکے کہا کیا آپ کہتے ہیں، انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جہنم، حضور نے ارشاد فرمایا ہاں ابن زبعری نے کہا، کیا یہودی عزیر (علیہ السلام) اور عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کی اور بنوملیح ملائکہ کی پوجا نہیں کرتے۔ حضور نے فرمایا نہیں بلکہ شیطانوں کی پوجا کرتے ہیں۔ اس پر آیت ، ان الذین سبقت لھم مناالحسنی، نازل ہوئی۔ اس سے مراد عزیر (علیہ السلام) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور فرشتے ہیں۔ اولئک عنھا مبعدون، ابن زبعری کے حق میں اللہ نے فرمایا، ماضربوہ لک الاجدلا بل ھم قوم خصمون، اور ایک جماعت کے نزدیک اس آیت سے مراد بت ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، وماتعبدون من دون اللہ، اگر ا اس سے مراد فرشتے یا انسان ہوتے تویوں کہتے، ومن تعبدون من دون اللہ۔
Ayah 21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے، اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی ہر طرح کے عیش اور لطف میں) ہمیشہ رہیں گے

102۔ لایسمعون حسیسھا، ، اس کی آواز اور اس کی حرکت بھی نہ سن پائیں گے۔ یعنی ان کو جہنم سے اتنا دور رکھاجائے گا، کہ وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سن سکیں گے۔ حسن اور حسیس صوت خفی کو کہاجاتا ہے۔ وھم فیھا اشتھت انفسھم خالدون، اس میں وہ مقیم ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، وفیھا ماتشتھی الانفس وتلذ الاعین،۔
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا، اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

103۔ لایحزنھم الفزع الاکبر۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ فزع اکبر سے مراد صور کا آخری نفخہ ہے کیوں کہ اللہ نے فرمایا ونفخ فی الصور ففزع من فی السماوات ومن فی الارض۔ حسن کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بندے کو جہنم میں داخلے کا حکم دیا جائے گا، وہ وقت اس کے لیے فزع اکبر ہوگا۔ ابن جریج نے اس کا معنی بیان کیا کہ جب موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایاجائے گا، اور جنتیوں کو آواز دی جائے گی کہ تم جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو، تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو، تم اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہو تمہیں اس میں کبھی مرنا نہیں ہوگا۔ سعید بن جبیر اور ضحاک کا قول ہے کہ یہ وہ وقت ہوگاجب دوزخ کو اوپر سے سربند کردیاجائے گا، اور دوزخ کا سرپوش اس وقت بند کیا جائے گا، جب اس کے اندر سے ان لوگوں کو نکالاجائے گا، جن کو اللہ نکالناچا ہے گا، وتتلقاھم الملائکہ اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے جنت کے دروازوں پر ان کو مبارک باد دیں گے اور وہ کہیں گے ، ھذایوم کم الذین کنتم توعدون۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے، ہم ایسا ضرور کرنے والے ہیں

104۔ یوم نطوی السمائ۔ ابوجعفر نے تاء (تطوی) کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں کے ضمہ کے ساتھ اور واؤ کے فتحہ کے ساتھ ۔ عام قراء نے نون کے ساتھ اور دونوں کے فتحہ کے ساتھ واؤ کے کسرہ کے ساتھ، اور السمائ، منصوب ہے۔ کطی السجل للکتب۔ حمزہ کسائی اور حفص نے عاصم کے حوالے سے ، للکتب ، جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے للکتاب واحد کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ سجل سے کیا مراد ہے۔ سجل سے کیا مراد ہے۔ اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ سجل اس فرشتے کا نام ہے جو بندوں کے اعمال لکھا کرتا ہے ۔ اور للکتب ، میں لام زائدہ ہے۔ کطی السجل للکتب۔ ہے یہ ، ردف لکم ، کی طرح ہے اس میں لام زائدہ ہے۔ ابن عباس ؓ عہنما مجاہد اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ جس طرح لکھے ہوئے کثیر مضامین کی وجہ سے کاغذ کو لپیت دیاجاتا ہے سجل مساجلہ سے مشتق ہے۔ لکھی ہوئی تحریر کو کہتے ہیں جس کو باہم مل کر لکھا گیا ہو۔ یعنی ہم انسانون کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح کاغذ کو لکھنے کے لیے تہہ کیا جاتا ہے۔ اور، الطی، لپیٹنا ، یہ نشہ کے مقابل ہے۔ کمابدانا اول خلق نعیدہ، یعنی جس طرح ابتدائی طور پر ہم نے انکو ماؤں کے پیٹوں سے پیدا کیا، تم اس وقت برہنہ بدن غیرمختون برہنہ پاؤں ، تھے۔ اسی طرح قیامت کے دن تمہیں واپس اٹھایاجائے گا، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ولقد جئتمونا فرادی کماخلقنا کم اول مرہ، حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں تم لوگ برہنہ غیرمختون برہنہ پاؤں اٹھاکراللہ کی طرف پیدل لے جائے جاؤ گے۔ پھر آپ نے آیت ، کمابدانا اول خلق نعیدہ، تلاوت فرمائی۔ وعدعلینا، اناکنافاعلین، یعنی ہم ضرور بضرور دوبارہ ان کو اٹھائیں گے۔
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکو کار بندے ملک کے وارث ہوں گے

105۔ ولقد کتبنا فی الزبور من بعدالذکر ، سعید بن جبیر اور مجاہد کا قول ہے کہ زبور سے مراد تمام کتب الٰہیہ ہیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ یعنی لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد ہم نے اپنی تمام نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے ، زبور سے مراد توریت ہے اور ذکر سے مراد ہیں وہ تمام آسمانی کتابیں جو توریت کے بعد اتاری گئیں۔ شعبی کا قول ہے کہ زبور سے مراد زبور داؤد ہے۔ جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اتاری گئی۔ اور ذکر سے مراد توریت۔ یہ بھی کہا گیا کہ زبور سے مراد زبور اور ذکر سے مراد قرآن ہے۔ اور بعد، بمعنی قبل کے ہے۔ کقولہ تعالی، وکان وراء ھم ملک، ان کے سامنے والارض بعض ذالک دحاھا، یہاں بھی بعد بمعنی قبل کے ہے۔ ان الارض، اس سے جنت کی زمین مراد ہے۔ یرثھاعبادی الصالحون، مجاہد کا قول ہے کہ صالحین سے مراد امت محمدیہ ہے۔ اس پر دلیل نبی کریم کافرمان، الحمدللہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض۔ ابن عباس کا قو ہے کہ الارض سے مراد کافروں کی سرزمین جس کو مسلمانوں نے فتح کیا ہو۔ گویا یہ اللہ کی طرف سے پیشین گوئی ہے کہ دین اسلام غالب آئے گا، بعض حضرات کا قول ہے کہ الارض سے مراد ارض مقدسہ ہے۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

106۔ ان فی ھذا، اس قرآن میں ۔ لبلاغا، جن لوگوں نے قرآن کی پیروی کی اور اس پر عمل کیا تو اس کو وہ ثواب حاصل ہوجائے گا، اور بعض نے کہا منزل مقصود تک پہنچنا، جیسا کہ کہاجاتا ہے فلاں چیز اس کو پہنچ گئی۔ مطلب اس کو کافی ہوگئی اور قران جنت کے لیے زادراہ ہے۔ جیسا کہ مسافر کے لیے کھانا اور سواری زاد راہ ہے۔ لقوم عابدین۔ ان مومنوں کے لیے جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد علماء ہیں۔ کعب احبار کا قول ہے کہ اس سے امت اسلام مراد ہے جو پانچ وقت نمازیں پڑھتے ہیں اور رمضان کے روزے رکھتے ہیں۔
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور (اے محمد ! ) ہم نے تم کو تمام جہاں کے لئے رحمت (بناکر) بھیجا ہے

107۔ وماارسلناک الارحمۃ للعالمین۔ ابن زید کا قول ہے کہ اس سے مراد مومنین ک لیے رحمت چونکہ وہ مومنین کے لیے خاص طور پر رحمت بناکربھیجا گیا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ آپ سب کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے۔ ان لوگوں کے حق میں بھی جو ایمان لائے اور ان لوگوں کے حق میں بھی جو ایمان نہیں لائے۔ جو ایمان لائے ان کے لیے رحمت بایں طور پر کہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی شفاعت کریں گے اور کافروں کے لیے بایں طور پر رحمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا میں عذاب نہیں بھیجا، صورت کا مسخ ہونا، زمین میں دھنسائے جانا اور بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے عذاب سے مامون ہوگئے نبی کریم نے فرمایا کہ بیشک مجھے رحمت بناکربھیجا گیا اور سب کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آئی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے، تو تم کو چاہئے کہ فرمانبردار ہوجاؤ

تفسیر۔ 108۔ قل انما یوحی الی انما الھکم، الہ واحد فھل انتم مسلمون، کہ تم اطاعت کرنے والے ہو۔
Ayahs 21:109–110

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم سب کو یکساں (احکام الہی) سے آگاہ کردیا ہے اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (عن) قریب (آنیوالی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے

109۔ فان تولوا فقل اذنتکم، اگر وہ آپ کی دعوت سے روگرداں ہوجائیں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ جنگ کے معاملے میں تم جان چکے ہو اب ہماری اور تمہاری صلح نہیں ہوگی۔ علی سوائ، میں نے وحی کی کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی، سب کو برابر اطلاع دے دی، آذنتکم ، کہ ہم اور آپ دونوں برابر ہیں۔ یہ چیز جاننے میں اور بعض نے کہا کہ تم سب لوگ ایمان میں برابر ہو۔ وان ادری ، میں نہیں جانتا، اقریب ام بعید ما توعدون، اس سے مراد قیامت ہے۔
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)

111۔ وان ادری لعلہ، شاید کہ تم سے عذاب موخر ہوجائے ، فتنہ ، یعنی تمہارا امتحان ۔ لکم ، تا کے وہ تمہیں آزمائے تم تاخیر عذاب کی وجہ سے کیا کرتے ہو۔ ومتاع الی حین، اس وقت تک تم اس سے فائدہ اٹھاتے رہو۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(پیغمبر نے کہا) کہ اے میرے پروردگار ! حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے، اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے۔

112۔ قال رب احکم بالحق، حفص اور عاصم نے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ، قل رب احکم، پڑھا ہے یعنی ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کیجئے جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ سوال : یہ کیسے فرمایا، احکم بالحق ؟۔ جواب : حق یہاں پر عذاب کے معنی میں ہے کیونکہ وہ لوگ عذاب آنے کی جلدی کرتے تھے پھر اللہ نے بدر کے دن ان کو عذاب دیا اس کی مثال اللہ کافرمان، ربناافتح بیننا وبین قومنا بالحق، اہل معانی نے کہا کہ اس کا معنی ہے ، رب احکم بحکمک الحق، حکم کو حذف کرکے حق کو اس کا قائم مقام بنادیا۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان حق کا فیصلہ فرمائے گا خواہ وہ حق کا مطالبہ کریں یا حق کا مطالبہ نہ کریں طلب کا معنی ہے طالب سے حق کے مطابق فیصلہ کرنے کی رغبت رکھنا۔ وربنا الرحمن المستعان علی ماتصفون۔ جو تم محمد پر جھوٹ باندھتے ہو اور ان کی طرف باطل اشیاء کی نسبت کرتے ہو۔ الحمدللہ سورة انبیاء مکمل ہوئی۔