Ayah 21:4141۔ ولقد استھزی برسل من قبلک فحاق، جس چیز کی وہ استہزاء کرتے تھے اسی کی سزا اور عذاب ان پر نازل ہوا۔ بالذین سخروا منھم ماکانوا بہ یستھزون۔
Ayah 21:4242۔ قل من یکلوکم ، ، تمہاری کون حفاظت کرتا ہے۔ باللیل والنھار من الرحمن، اگر اس کی طرف سے تم پر عذاب نازل ہوگیا، ابن عباس کا بیان ہے کہ اگر رحمن تم کو عذاب دیناچا ہے گا تو تمہارا بچاؤ کون کرے گا ؟ بل ھم عن ذکر ربھم ، ذکر سے مراد قرآن اور اللہ تعالیٰ کی نصیحت ہے۔ معرضون۔
Ayah 21:4343۔ ام لھم، یہ صلہ ہے۔ الھۃ، تمنعھم من دوننا، اس میں تقدیم و تاخیر ہے ، تقدیری عبارت یہ ہوگی کیا ان کے علاوہ کے لیے کوئی معبود ہے جو تمہیں اس عذاب سے روکے گا ؟ پھر ان کے معبودوں کے ضعف کو بیان کیا۔ فرمایا، لایستطیعون شر انفسھم، کہ وہ اپنے آپ سے کوئی اذیت دور نہیں کرسکتے تو اپنے پجاریوں کی حفاظت کس طرح کریں گے ؟
” ولاھم منا یصحبون، ، ابن عباس نے اس کا ترجمہ، یمنعون ، سے کیا ہے۔ مجاہد نے ، یصحبون ، ، کا ترجمہ کیا ہے ، ینصرون، کے ساتھ یعنی ان کی مدد نہیں کی جائے گی ۔ قتادہ نے کہا کہ ان کے ساتھ اللہ کی طرف سے اذن شفاعت اور مدد نہ ہوگی۔
Ayah 21:44تفسیر۔
44۔ بل متعنا ھولائ، ہم نے کفار کو خوب مہلت دی۔ وآباء ھم، دنیا میں ان کے باپ دادا کو بھی خوب منافع دیے اور بعض نے کہا کہ ہم نے ان کو خوب نعمتیں دیں۔ حتی طال علیھم العمر، یعنی ان کی مدت زندگی طویل ہوگئی۔ افلا یرون انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا، ہم مشرکین کی سرزمین کو گھٹا رہے ہیں ۔ اور مومنین کے اطراف کو بڑھا رہے ہیں ۔ اس سے مراد نبی کریم کا ظہور اور مشرکین کے علاقوں کو فتح کرنا ہے زمین درزمین ، مشرکین کی زمین مسلمانوں کے قبضہ میں آنے لگیں۔ افھم الغالبون، تو کیا ایسی حالت میں کافر مسلمانوں پر غلبہ پاسکیں گے۔
Ayah 21:4545۔ قل انما انذرکم بالوحی، کہ میں تمہیں قرآن کے ذریعے سے ڈراتا ہوں ۔ ولایسمع الصم الدعا ، ابن عباس نے تاء کے ضمہ کے ساتھ اور میم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الصم، منصوب ہے۔ خطاب نبی کریم کو ہے کہ کافر بہرے ہیں آپ کی پکار کو نہیں سمجھتے۔ دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ اور ان دونوں کے فتحہ کے ساتھ اور میم کے فتحہ کے ساتھ اور اس صورت میں ، الصم، مرفوع ہوگا۔ اذاماینذرون ، ان کو ڈرایا جاتا ہے۔
Ayah 21:4646۔ ولئن مستھم، اگر ان کو تھوڑا سا عذاب چھوجائے۔ نفخہ، ابن عباس نے ، نفخہ، کا ترجمہ کیا ہے کنارہ، بعض نے کیا تھوڑا سا۔ ابن جریج نے کہا کہ ایک حصہ مراد ہے۔ نفخ فلان فلاں، فلاں نے فلاں ، کو اپنے مال میں سے ایک حصہ دے دیا، اور بعض نے ، نفحہ کا معنی کیا ہے مارنا، نفحت الدابہ برجلھا، گھوڑے نے اپنی ٹانگ ماری ، لغوی اعتبار سے ، نفحہ، خوشبو کی لپٹ کو کہتے ہیں۔
” من عذاب ربک لیقولن یاویلنا انا کناظالمین۔ ہم نے ان کو اس وجہ سے ہلاک کیا کہ وہ مشرکین ہیں۔ جب وہ اپنی ہلاکت کو دیکھ لیں گے تواسوقت اپنے شرک کا اقرار کرلیں گے۔
Ayah 21:4747۔ ونضع الموازین القسط، قسط سے مراد عدل ہے۔ لیوم القیامۃ فلاتظلم نفس شئیا، ان کی نیکیوں سے کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ اور نہ ہی ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا، اور بعض احادیث میں ہے کہ میزان کی ایک زبان اور دو پلڑے ہوں گے۔
روایت میں آتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے رب سے درخواست کی کہ مجھے میزان دکھادیجئے، اللہ نے انکو میزان دکھادی کہ اس کا ہر پلڑا اتنا تھا کہ مشرق سے مغرب تک اس کی وسعت تھی۔ حضرت داؤڈ (علیہ السلام) اس کو دیکھ کر بےہوش ہوگئے ۔ جب ہوش آیاتوعرض کیا الٰہی ایسا کون ہے جو اپن نیکیوں کے ساتھ اس پلڑے کو بھر سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا داؤد جب میں اپنے بندے سے راضی ہوں گا تو ایک چھوہارے کو خیرات کرنے سے اس کی نیکیوں کے پلڑے کو بھردوں گا۔ وان کنا ، اگرچہ وہ چیز، مثقال حبہ، ایک دانے کے بقدراس کا وزن ہو۔ من خردل، اہل مدینہ نے مثقال کے لام کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ ایک مدینہ کے قراء نے مثقال لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور سو رہ لقمان میں بھی اسی طرح ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اگر وہ ایک مثقال دانے کے برابر بھی ہو۔ دوسرے قراء نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ اتینا بھا، ہم اس کو بھی حاضر کردیں گے۔ اور اس کا بدلہ دیں گے۔ وکفی بناحاسبین، سدی کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ محصنین گنتی میں احاطہ کرنے والے سے کیا ہے۔
حضرتابن عباس ؓ عنہمانے اس کا ترجمہ جاننے والے یادر کھنے والے سے کیا ہے۔ یعنی یاد رکھنے والے جو شخص کسی چیز کی گنتی کرتا ہے ، یقینا اس چیز کا اس کو علم ہوجاتا ہے اور وہ چیزیں اس کو یاد ہوجاتی ہیں۔
Ayah 21:48تفسیر۔
فرقان کا مصداق۔
48۔ ولقد اتینا موسیٰ وھارون الفرقان، وہ کتاب جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے اور وہ توریت ہے۔
1) ابن زید کا قول ہے کہ فرقان سے مراد دشمنوں پر مدد کرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ وماانزلنا علی عبدنا یوم الفرقان۔
2) اس سے مراد بدر کا دن ہے ، اس لیے فرمایا، وضیاء ، اس میں واؤ داخل کیا ہم نے موسیٰ کو نصرت اور روشنی دی اور وہ توریت ہے اور جن حضرات نے کہا کہ فرقان سے مراد توریت ہے وہ کہتے ہیں کہ ، ضیاء میں واؤ زائدہ ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوگا کہ ہم نے توریت روشن عطا کی اور بعض نے کہا کہ یہ توریت کی دوسری صفت ہے ، وذکرا ، اور یہ یہ یاد دلاتی ہے ، للمتقین، ،۔
Ayah 21:4949۔ الذین یخشون ربھم بالغیب۔ جوبن دیکھے اس سے ڈرتے ہیں۔ وھم من الساعۃ مشفقون، وہ خوف زدہ ہیں ڈرنے والے ہیں۔
Ayah 21:5050۔ وھذا ذکر مبارک، ، اس سے مراد قرآن ہے جو اس کو یاد کرے گا اس کے لیے نصیحت ہے اور باعث برکت ہے اس شخص کے لیے جو اس سے برکت حاصل کرے اور اس سے خیر کا طلب گار ہو۔ انزلناہ افانتم، اے اہل مکہ، لہ منکرون، وہ انکار کرنے والے ہیں ۔ استفہام توبیخ کے طور پر ہے۔
Ayah 21:5151۔ ولقد اتینا ابراہیم رشدہ، قرطبی نے اس کا معنی اصلاح سے کیا ہے۔ من قبل، موسیٰ و ہارون سے پہلے۔ بعض اہل تفسیر نے من قبل کی تشریح کی ہے ۔ بالغ ہونے سے پہلے جب کہ حضرت ابراہیم بچہ ہی تھے اور غار سے باہر آئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے بچپن ہی میں ابراہیم کو نبوت عطا کردی تھی، اسی طرح حضرت یحییٰ کے متعلق فرمایا ، وآتیناہ الحکم صبیا، ، وکنا بہ عالمین۔ ہم جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم ہدایت اور نبوت کے اہل ہیںَ
Ayah 21:5252۔ اذ قال لابیہ، وقومہ ماھذہ التماثیل، ، اس سے مراد صورتیں ہیں مورتیاں ہیں۔ التی انتم لھاعاکفون۔ جن کی عبادت کرنے پر وہ قائم ہیں۔
Ayah 21:5353۔ قالواوجدنا اباء نا لھاعابدین، پس تم نے ان کی اقتداء کی۔
Ayah 21:5454۔ قال، ابراہیم نے کہا، لقد کنتم انتم واباء کم فی ضلال مبین، یعنی تم سب کھلی ہوئی غلطی پر ہو۔
Ayah 21:5555۔ قالواجتئنا بالحق ام انت من الاعبین۔ تمہاری بات مبنی برحق تو نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم دل لگی کررہے ہو۔
Ayah 21:5656۔ قال بل ربکم رب السموات والارض الذی فطرھن ، ان کو پیدا کیا، وانا علی ذالکم من الشاھدین، یہ وہی اللہ ہے جو مستحق عبادت ہے اور بعض نے کہا کہ میں بھی شہادت دینے والوں میں سے ہوں کہ وہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ہے۔
Ayah 21:5757۔ وتا اللہ لاکیدن اصنامکم، ان کو توڑنے کی کوئی تدبیر کروں گا۔ بعد ان تولوا مدبرین، یعنی جب ان کو پیچھے چھوڑ کرمیلے میں چلے جاؤ گے تو میں ان کو نقصان پہنچانے اور توڑنے کی کوئی تدبیر کروں گا۔
مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم نے یہ بات چپکے سے کہی تھی سوائے ایک شخص کے اور کوئی نہیں سن سکا، تھا، اسی نے یہ بات پھیلا دی کہ اس نے کہا تھا کہ ایک نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے ، بتوں کا ذکر کررہا تھا ہم نے خود سنا تھا۔ سدی نے کہا کہ قوم نمرود کا سالانہ تہوار ایک میلہ ہوتا تھا جب وہ میلہ سے واپس آتے تھے تو سیدھے بتوں کے پاس آتے تھے ان کو سجدے کرتے تھے پھر گھروں کو جاتے تھے۔ حسب معمول جب میلہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم سے ان کے باپ نے کہا تم بھی اگر ہمارے ساتھ میلے کو چلو تو بہتر ہے ہمارا دین تم کو پسندآئے گا۔ باپ کے کہنے سے حضرت ابراہیم ان کے ساتھ ہولیے، کچھ ہی راستہ طے کیا تھا کہ آپ نے خود کو اپنے کو زمین پر گرا لیا اور کہنے لگے میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ میرے پاؤں میں چوٹ آگئی ہے۔ جب سب لوگ چلے گئے اور صرف کمزور لوگ پیچھے رہ گئے تو حضرت نے پکارکروہ الفاظ کہے جن کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے لوگوں نے آپ کے الفاظ سن لیے۔ پھر حضرت ابراہیم لوٹ آئے اور بت خانہ کی طرف پہنچے تمام بت ایک بڑے کمرے میں قطار بند رکھے ہوئے تھے ، بت خانہ کے دروازے کے سامنے سے بڑا بت تھا۔ اس کے برابر اس سے چھوٹا، پھر اس کے برابر اس سے چھوٹا، اسی طرح سب کی قطار تھی اور سب کے سامنے تیار کھانا بھی رکھا ہوا تھا، کھانا اس لیے سب کے سامنے چنا گیا تھ ا کہ بتوں کی وجہ سے کھانے میں برکت آجائے۔ اور میلہ سے واپس آکر سب لوگ اس کوکھائیں۔
حضرت ابراہیم نے بطور استہزاء بتوں سے فرمایا کہ تم کھاتے کیوں نہیں جب کوئی جواب نہیں ملا تو فرمایا کہ تم بولتے کیوں نہیں، اس کے بعد بتوں کی طرف مڑے اور دائیں ہاتھ سے اس قسم کی وجہ سے جو بتوں کو توڑنے کے سلسلے میں آپ نے کھائی تھی اور فرمایا، تاللہ لاکیدن اصناکم، بتوں پر ضرب لگائی ، آیت میں آیا ہے ، فراغ علیھم ضربا بالیمین۔ اور یمین دائیں ہاتھ کو بھی کہتے ہیں اور قسم کو بھی۔
Ayah 21:58تفسیر۔
58۔ فجعلھم جذاذا، کسائی نے جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جذاذ جمع کا صیغہ ہے یہ جذ سے ماخوذ ہے۔ جذ کا معنی ہے کاٹنایہ مثل خفیف وخفاف کے ہے۔ اور دوسرے قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، مثل حطام ورفات کے ہوگا۔ الاکبیرا لھم، اس بڑے کو نہیں توڑا اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ بعض نے کہا کہ کلہاڑا اس کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا، وہاں 72 بت تھے ان میں سے بعض سونے کے تھے اور بعض چاندی کے تھے۔ بعض ان میں سے لوہے کے تھے اور بعض پیتل کے اور بعض لکڑی کے اور بعض پتھر کے اور ان بتوں میں سے بڑا بت سونے کا تھا ان کی آنکھوں میں جواہرات تھے یاقوت کے۔
” لعلھم الیہ یرجعون، ، کہ شاید وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف (دریافت کرنے کے لیے ) لوٹیں۔
الیہ یرجعون کی ضمیر کامرجع۔
1) ۔ الیہ کی ضمیر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے حضرت ابراہیم بتوں سے دشمنی رکھنے اور بت پرستی کی مخالفت کرنے میں مشہور تھے اس لیے حضرت نے بتوں کو توڑ دیا، اور بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ یہ خیال کرتے ہوئے جب یہ لوگ واپس آئیں تو میرے پاس آئیں گے اس وقت میں ان کو جتلادوں گا کہ تمہارے معبود ایک آدمی کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے۔
2) ۔ الیہ، کی ضمیر بڑے بت کی طرف راجع ہے مطلب یہ ہے کہ بت پرست لوگ جب میلہ سے واپس بڑے بت کے پاس آئیں گے تو اس سے دریافت کریں کہ چھوٹے بتوں کی یہ حالت کس نے کی۔ معبود کو علم ہونا اور جواب دینا چاہیے، وہ معبود ہی کیا جو نہ کچھ جانے نہ جواب دے آخر جواب نہ پاکر خود ہی ذلیل ہوں گے۔
3) ۔ الیہ، کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے مطلب یہ کہ جب بتوں کی بےبسی ان پر ظاہر ہوگی توشاید اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔
Ayah 21:5959۔ قالو من فعل ھذا بالھتنا انہ لمن الظالمین، جس نے بتوں کی یہ حالت کی وہ بڑا مجرم ہے۔
Ayah 21:6060۔ قالو، وہ لوگ کہنے لگے جن لوگوں نے حضرت ابراہیم سے یہ بات سنی تھی، وتا اللہ لاکیدن اصنامکم، ، سمعنا فتی یذکرھم، ہم ایسے جوان کو جانتے ہیں جو ہمارے معبودوں پر عیب اور برائی کررہا تھا۔ یقال لہ ابراہیم۔ ان لوگوں کا گمان تھ ا کہ اسی نے ہی ایسا کیا ہے۔ پھر نمرود اور اس کے بڑے بڑے اشراف اور اس کی قوم حضرت ابراہیم کے پاس پہنچی۔
Ayah 21:6161۔ قالوافاتو بہ علی اعین الناس ، ، نمرود نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ اس کے قول فعل کی شہادت دیں۔ لعلھم یشھدون، کہ یہ کام اس ہی نے کیا، اس پر یہ گواہی دیں کیونکہ ان کے مذہب میں بغیر گواہوں کے کسی کو پکڑا نہیں جاتا، یہی حسن، قتادہ اور سدی کا بیان ہے ۔ محمد بن اسحاق نے اس کا ترجمہ یوں کیا کہ ، یشھدون، کا مطلب یہ ہے کہ لوگ آئیں اور دیکھیں کہ ہم ان کو کیسی سخت سزادیتے ہیں ، غرض لوگ جب ابراہیم کے پاس آئے تو کہنے لگے : کہ کیا تونے ہمارے معبودوں کا یہ حشر برپا کیا ہے۔
Ayah 21:6262۔ قالوا “ کہنے لگے ان کو، ء انت فعلت ھذا بالھتنا یا ابراھیم۔
Ayah 21:6363۔ قال، ابراہیم نے کہا کہ ، بل فعلہ کبیرھم ھذا، حضرت ابراہیم کو بڑے بت پر غصہ تھا اور آپ کو اس سے نفرت بھی زیادہ تھی کیونکہ لوگ اس کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اور ابراہیم کا ارادہ ان پر حجت قائم کرنا تھا اسی وجہ سے انہوں نے پوچھا، فاسئلوھم ان کانواینطقون، کہ ان سے پوچھو کہ یہ فعل کس کا ہے ؟۔
حضرت ابراہیم کا بتوں کو توڑنے کا واقعہ۔
حضرت ابراہیم کو بڑے بت پر بڑا غصہ تھا، اور اس سے آپ کو نفرت زیادہ تھی کیونکہ وہ لوگ اس کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اس لیے بت شکنی کی نسبت آپ نے بڑے بت کی طرف مجازا کردی، یایوں کہاجائے کہ آپ نے بت شکنی پر تعریض اقرار نما کی استہزاء کے طرز میں خود بت توڑنے کا اقرار کرلیا، گویا حضرت ابراہیم نے یوں جواب دیا میں نے نہیں کی بلکہ اس بڑے بتنی کی۔ یایوں کہاجائے کہ بت پرستوں کا یہ اعتقاد تھا کہ بڑے بت کی موجودگی میں چھوٹے بتوں کی پوجا سے بڑا بت ناراض ہوتا ہے ، آپ نے ان کے عقیدہ کی نقل کردی۔ قتیبی نے کہا کہ معنوی حیثیت سے، کبیرھم ھذا، کا تعلق ، فسئلوھم ان کانو ا ینطقون، سے ہے مطلب ہے کہ اگر یہ بول سکتے ہیں تو ایسا بھی کرسکتے ہیں اور بول نہیں سکتے تو ایسا کر بھی نہیں سکتے۔ گویا اس ضمن میں آپ نے بت شکنی کا اقرار کرلیا، اور بتوں کا عجز ظاہر کردیا، قتیبی کی یہ توجیہ غلط ہے کیونکہ کسائی نے کہا ہے ابراہیم نے اعرض کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے بعد اگر ضمنی اقرار مانا جائے گا تو ایسا ہوگا جیسے کوئی کہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا بل کہ میں نے کیا اور ظاہر ہے کہ یہ منفی مثبت کا اجتماع غلط ہے پھر حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث میں بھی ثابت ہے کہ ، فعلہ، پر وقف نہیں ہے بلکہ ، فعلہ، کا تعلق ، کبیرھم سے ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تین جگہ ذومعنی کلام کیا۔
حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے رسول اللہ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے تین بار کے علاوہ (صورۃ بھی) جھوٹ نہیں بولا ، دو بار ذات خداوندی کے متعلق، (1) انی سقیم، کہا تھا (2) اور بل فعلہ کبیرھم کہا تھا اور (تیسری بار کا واقعہ یہ ہوا کہ ) کسی روز ابراہیم اور سارہ کا گزر کسی ظالم بادشاہ کی طرف سے ہوا۔ بادشاہ سے کہا گیا کہ یہاں ایک شخص (نووارد) ہے جس کے ساتھ بہت ہی حسین عورت ہے ۔ بادشاہ نے حضرت ابراہیم کو بلوایا اور دریافت کیا کہ یہ کون عورت ہے ؟ ابراہیم نے کہا میری بہن ہے۔ پھر واپس آکرسارہ سے کہا اگر اس ظالم کو معلوم ہوجاتا کہ تم میری بیوی ہو تو وہ تم کو مجھ سے چھین لیتا اب اگر تم سے وہ دریافت کرے تو تم یہی کہنا کہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کی بہن ہوں۔
واقعہ یہ ہے کہ تم میری اسلامی بہن ہو۔ روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا اور کوئی مومن نہیں ، چناچہ بادشاہ نے سارہ کو بلوایا اور ابراہیم (علیہ السلام) نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے ، سارہ کو اس ظالم ک پاس پہنچایا تو اس نے سارہ پر دست درازی کرنی چاہی لیکن فورا پکڑ لیا گیا، (یعنی غیبی پکڑ ہوگئی) یہاں تک کہ پاؤں زمین پر پٹکنے لگا اور سارہ سے درخواست کی میرے لیے اللہ سے دعا کردے، میں تجھے اچھا ہوکر کوئی دکھ نہیں دوں گا، سارہ نے اللہ سے دعا کی، اللہ نے بندش کھول دی، دوبارہ پھر اس نے ہاتھ بڑھایا اور پہلے کی طرح یا اس سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ پکڑا گیا۔ اس نے پھر دعا کی درخواست کی اور ضررنہ پہنچانے کا وعدہ کیا سارہ نے پھر دعا کی اور اللہ نے رہائی دے دی۔ رہائی کے بعد بادشاہ نے کسی دربان کو بلایا اور کہاتو میرے پاس انسان کو نہیں بلکہ جن کو لے کر آیا ہے اس کے بعد اس نے ہاجرہ کو خادمہ کے طور پر سارہ کودے کر رخصت کردیا۔ سارہ ابراہیم کے پاس پہنچیں تو آپ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے آپ نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کیا خبر ہے ؟ سارہ نے کہا اللہ نے کافر کے فریب کو اسی کے سینہ پر پلٹ دیا اور اس نے خدمت کے لیے ہاجرہ (مجھے) دی ہے ؟۔
حضرت ابوہریرہ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد کہا، اے ماء السماء کی اولاد (آسمانی پانی مراد خالص نسب کا دعوی کرنے والا) یہ (ہاجرہ) ہی تمہاری ماں ہے۔ متفق علیہ۔ جیسا کہ حضرت یوسف نے آواز دی ، انہوں نے اپنے بھائیوں سے حالانکہ وہ چور نہیں ہیں۔
Ayah 21:64تفسیر۔
64۔ فرجعوا الی انفسھم، ، اس وقت انہوں نے اپنی عقلوں کی طرف رجوع کیا اور غور و فکر کیا کہ ابراہیم کی بات حق ہے اور ہم غلطی پر ہیں۔ فقالوا ہم نہیں دیکھتے کہ جیسا کہ انہوں نے کہا، انکم انتم الظالمون، ان کی عبادت کے ساتھ جو نہ بات کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ تم ظالم ہو اوریہ شخص حاضر ہے اور یہ تمہارے معبود بھی حاضر ہیں لہذا تم ان سے سوال کرو۔
Ayah 21:6565۔ ثم نکسوا علی روسھم، ، بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی زبانوں پر حق جاری کردیا ۔ پہلی بات میں پھرا ن پر بدبختی غالب آگئی ۔ یہی اس کا معنی ہے ، ثم نکسو علی روسھم، پہلے انہوں نے اپنے نفسوں کے ساتھ جو ظلم کیا اس کا اقرار کرنے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے جیسے کہاجاتا ہے۔ نکس المریض، جب وہ اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے اور وہ کہنے لگے، لقد علمت ماھولاء ینطقون، پھر ہم کیسے ان سے سوال کریں۔ جب یہ بولتے ہی نہیں۔ جب حضرت ابراہیم کی حجت مکمل ہوگئی تو ان سے کہا۔
Ayah 21:6666۔ قال، ، ان کافروں کو کہا، افتعبدون من دون اللہ مالاینفعکم شیئا، اگر تم ان کی عبادت کرو گے ، ولا یضرکم، اگر تم ان کی عبادت کو چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں کچھ ضرر نہیں پہنچائیں گے۔
Ayah 21:6767۔ اف لکم، یعنی ہلاکت ہو اور تمہارے لیے گندگی ہو۔ ولماتعبدون من دون اللہ افلاتعقلون، کیا تمہارے پاس کوئی عقل و شعور ہے جس کے ذریعے سے تم اس کو پہچان لیتے۔ اب کیسے تمہارے اوپر حجت تام ہوگئی اور جواب دینے سے عاجز آگئے۔
Ayah 21:68ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالے جانے کا قصہ۔
68۔ قالواحرقوہ وانصرو آلھتکم ان کنتم فاعلین۔ اور کہنے لگے کہ اس کو آگ میں جلادو اگر تم اپنے معبودوں کی مدد کرتے ہو۔ ابن عمر نے کہایہ اس شخص نے کہاجواکراد بستی کا تھا بعض نے کہا کہ اس کا نام ھیزن تھا۔
بعض نے کہا اس کا نام ہنون ہے، اللہ نے اس کو زمین میں دھنسادیا اور وہ قیامت تک دھنستا چلاجائے گا، بعض نے کہا یہ بات نمرود نے کی تھی جب نمرود اور اس کی قوم کا متفقہ فیصلہ ہوگیا کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں جھونک دیاجائے تو آپ کو گرفتار کرکے کوٹھری میں بندکردیا گیا اور باڑہ کی طرح ایک احاطہ بنایا یاقریہ کو ثی میں ایک بہت بڑا گڑھا کھودا گیا اور ٹھوس قسم کی لکڑیاں آپ کو جلانے کے لیے وہاں اکٹھی کی گئی اور عوام جوش اس حد تک بڑھ گیا کہ بیمار منت مانتا کہ اگر میں اچھا ہوا تو ابراہیم کو جلانے کے لیے لکڑیاں دوں گا۔ عورتیں اگر مراد مانگتی توکہتی تھیں اگر ہماری مراد پوری ہوگیء توہم ابراہیم کو جلانے والی آگ میں لکڑیاں ڈالیں گے لوگ وصیت کرتے تھے کہ ہمارے بعد لکڑیاں خرید کر ڈھیر میں شامل کردینا عورتیں چرغہ کات کر اس کی مزدوری سے لکڑیاں خرید کر باامید ثواب ڈھیر میں شامل کرتی تھیں۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس طرح ایک ماہ تک لوگ لکڑیاں جمع کرتے رہے۔ جب حسب منشاء لکڑیاں جمع کرچکے توڈھیر میں ہر طرف سے آگ لگادی ، آگ بھڑک اٹھی جب خوب تیز ہوگئی اور اس حد تک پہنچ گئی کہ پرندہ بھی آگ کے اوپر سے نہ اڑ سکتا تھا اس خوف کہ کہیں وہ جل نہ جائے تو انہوں نے مزید سات روز تک بھڑکنے دیا اور ابراہیم کو اس میں ڈالناچاہا لیکن سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آ گ میں کیسے پھینکیں۔ ابلیس نے آکر منجیق (گوپھن یاچرخی) قائم کرنے کی تدبیر بتائی لوگوں نے چرخی بنائی اور سب اونچی عمارت کی چوٹی پر اس کو قائم کیا اور ابراہیم کو باندھ کر اس میں بٹھایا یہ دیکھ کر آسمان و زمین ملائکہ اور سوائے جن وانس کے ساری مخلوق چیخ پڑی اور عرض کیا، اے ہمارے رب، ابراہیم (علیہ السلام) تیراخلیل ہے اور آگ میں اس کو ڈالاجارہا ہے اس کے سواروئے زمین پر اور کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں ہے ، ہم کو اجازت مل جائے توہم اس کی مدد کریں، اللہ نے فرمایا ، ابراہیم میراخلیل ہے اس کے سوا اور کوئی میراخلیل نہیں اور میں ہی اس کا معبود ہوں میرے سو اس کا کوئی معبود نہیں اگر وہ تم میں سے کسی کی مدد کا خواستگار ہو یا دعا کرے تو جس سے وہ مددطلب کرے وہ اس کی مدد کرسکتا ہے میری طرف سے اس کو اجازت ہے اور اگر میرے سوا وہ کسی سے مددکاطلب گار نہ ہو تو میں اس کی حالت کو خوب جانتا ہوں۔ میں ہی اس کا کارساز ہوں۔ میرے اور اس کے درمیان تم حائل نہ ہوجونہی لوگوں نے حضرت ابراہیم کو آگ میں پھینکناچاہا تو وہ فرشتہ جو پانی کا خازن (کارندہ) تھا آیا اور اس نے حضرت ابراہیم سے کہا اگر آپ چاہیں تو میں آگ بجھادوں اور ہواکاموکل بھی آیا اور اس نے کہا اگر آپ کی منشاء ہو تو میں آگ کو ہوا میں اڑادوں ، حضرت ابراہیم نے کہا مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں میرے لیے اللہ کافی ہے وہی میرا کارساز ہے۔
حضرت ابی بن کعب کی روایت میں ہے کہ جب لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کے لیے مضبوطی سے باندھا تو آپ نے کہا، لاالہ الاانت سبحانک لک الحمد ولک الملک لاشریک لک، اس کے بعد منجیق میں رکھ کر آپ کو آگ کی طرف پھینک دیا گیا، اسی دوران جبرائیل نے سامنے آکر کہا، ابراہم اگر ت میں مدد کی ضرورت ہو تو میں موجود ہوں ، حضرت ابراہیم نے کہا مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ، جبرائیل نے کہا پھر اپنے رب سے درخواست کیجئے ؟ حضرت ابراہیم نے کہا مجھے سوال کی کیا ضرورت ہے میری حالت کا اس کو علم ہے میرے لیے یہی کافی ہے۔
کعب احبار کا بیان ہے کہ ہرچیز نے ابراہیم کی آگ بجھانے میں حصہ لیا سوائے گرگٹ کے یہ آگ کو پھونکیں مار رہا تھا (تاکہ مزید اشتعال پیداہو) سعید بن مسیب نے حضرت ام شریک کی روایت بیان کی ہیی کہ رسول اللہ نے گرگٹ کو قتل کردینے کا حکم دیا اور فرمایا یہ ابراہیم پر (بھڑکتی آگ) میں پھونکیں ماررہا تھا (اورآگ کو بھڑکارہا تھا) ۔
Ayah 21:69تفسیر۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے آگ کاٹھنڈا ہوجانا۔
69۔ قلناینارکونی برداوسلما علی ابراہیم، ،(ہم نے حکم دیا اے آگ توٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا ابراہیم کے لیے ) حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمای اگر اللہ سلامانہ فرماتا تو آگ کی (انتہائی سردی کی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) مرجاتے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا کہ سلاما (کونی) کی خبر نہیں ہے بلکہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے یعنی ہم نے ابراہم کو کامل طور پر سالم رکھا، بغوی نے لکھا ہے کہ بعض آثار میں آیا ہے کہ اس روز تمام روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوجاتی میں کہتاہوں بظاہرآگ کی خاصیت سلب نہیں ہوئی تھی جلانے کی خاصیت حسب معمول موجود تھی لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے وہ ضرر رساں نہیں رہی تھی۔ علی ابراہیم ، کا لفظ اسی پر دلالت کرتا ہے۔
سدی نے کہا ملائکہ نے حضرت ابراہیم کے بازو پکڑ کر زمین پر بٹھادیا، آپ نے وہاں اچانک شیریں پانی کا چشمہ اور خوبصورت سرخ گلاب کے پھول اپنی نظر کے سامنے دیکھے۔ کعب کا بیان ہے کہ آگ سے حضرت کے جسم کا کوئی حصہ متاثر نہیں ہوا صرف بندھن کی رسی جل گئی ۔ اہل روایت نے کہا ہے کہ ابراہیم وہاں سات روز تک رہے۔ منہال بن عمرو کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم نے کہاجس آرام اور راحت کے ساتھ میں چند روز آگ میں رہا اتنے آرام سے کبھی نہیں رہا۔
ابن یسار نے کہا اللہ نے سایہ کے موکل کو ابراہیم کی صورت عطا فرماکر بھیجا جو آکر ابراہیم کے پہلو میں آپ کی وحشت کو دور کرنے کے لیے بیٹھ گیا، اور بحکم خدا حضرت جبرائیل جنت کی ایک قمیص اور مسند لے کرآئے، قمیص حضرت ابراہیم کو پہنایا اور مسند پر بٹھایا اور خود بھی آپ کے ساتھ مسند پر باتیں کرنے کے لیے بیٹھ گئے اور اللہ کی طرف سے پیام پہنچایا اور کہا آپ کا رب فرماتا ہے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ میرے دوستوں کو آگ ضرر نہیں پہنچایا کرتی ۔
کچھ مدت کے بعد نمرود نے ایک اونچی عمارت کے اوپر سے حضرت ابراہیم کو جھانک کر دیکھا اور آپ کو باغ میں بیٹھاپایا اور ایک فرشتہ کو بصورت انسان آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوادیکھا اور آپ کے چاروں طرف آگ ہی آگ تھی جو لکڑیوں کو جلارہی تھی ۔ یہ منظر دیکھ کر پکارا اور کہا ابراہیم تیرا معبود بہت بڑا ہے جس کی قدرت اس حدتک ہے کہ وہ تیرے اور اس کے آگ کے درمیان حائل ہوا جو میں دیکھ رہاں ہون۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو اس سے نکل بھی سکتا ہے ؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا، ہاں، نمرود نے کہا تجھے اس بات کا ڈر ہے اگر وہاں رہے گا تو آگ تجھے دکھ پہنچائے گی ؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا نہیں۔ نمرود نے کہاتوپھراٹھ کر وہاں سے نکل آ، حضرت ابراہیم اٹھ کھڑے ہوئے اور آگ میں قدموں سے چل کر باہر آگئے۔ نمرود نے کہا ابراہیم وہ کون آدمی تھا جو تمہارے پہلو میں میں نے بیٹھا دیکھا تھا ؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا وہ سایہ کاموکل تھا میرے رب نے آگ کے اندر میری وحشت کو دور کرنے کے لیے اس کو میرے پاس بھیج دیا تھا۔ نمرود نے کہا میں تیرے معبود کے لیے کچھ قربانی پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں نے اس کی قدرت دیھی اور طاقت کا ظہور تیرے معاملے میں دیکھ لیا ہے کہ جب تونے اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے انکار کردیا اور اس کی توحید پر قائم رہا تو اس نے تیرے ساتھ کیساسلوک کیا، میں اس کے نام پرچار ہزار گائیں قربان کروں گا۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا جب تک تو اپنا مذہب چھوڑ کر میرے مذہب کو اختیار نہیں کرلیتا میرا رب تیری قربانی قبول نہیں کرے گا۔ نمرود نے کہا کہ میں اپنی سلطنت تو نہیں چھوڑ دسکتا، (مذہب تبدیل کروں گا تو سلطنت چھوڑنا پڑے گی) ہاں قربانی ضرور پیش کروں گا۔ چناچہ نمرود نے چار ہزار گائیں کی قربانی کی اور پھر ابراہیم سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اللہ نے ابراہیم کو محفوظ رکھا شعیب ، جبائی کا بیان ہے کہ جس وقت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا اس وقت آپ سولہ سال کے تھے۔
Ayah 21:7070۔ وارادو بہ کیدا فجعلناھم الاخسرین، بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی کوشش خسارے میں پڑگئی اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا اس کا کچھ حاصل نہ ہوا اور بعض نے کہا کہ اللہ نے مچھروں کی فوج بھیج دی جو اس پر اور اس کے گھروالوں پر عذاب بن گئی جس نے ان کے گوشت کھالیے اور ان کا خون چوس لیا اور ان مچھروں میں سے ایک مچھر اس کے دماغ میں گھس گیا جو اس کی ہلاکت کا سبب بنا۔
Ayah 21:7171۔ ونجیناہ ولوطا، ، حضرت ابراہیم کو نمرود سے اور ان کی قوم کو عراق کی سرزمین سے نجات دی۔ الی الارض التی بارکنافیھا للعالمین، اس سے شام مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت عطا فرمائی۔ سرسبزی، کثرت اشجار، اور کثرت پھل اور نہروں کے ساتھ اور ان برکتوں میں سے کہ ان کی نسل سے بہت سے انبیاء کو مبعوث فرمایا ، حضرت ابی بن کعب نے ارض مبارکہ کہنے کی یہ وجہ بیان کی کہ وہاں شیریں پانی کی کثرت ہے اور صخرہ بیت المقدس کے نیچے سے ایک چشمہ جاری ہے۔
ارض شام کی فضیلت۔
بروایت قتادہ بیان کیا کہ حضرت عمر نے حضرت کعب سے فرمایا تم مدینہ میں منتقل کیوں نہیں ہوجاتے وہ تو رسول اللہ کا مقام ہجرت ہے اور روضہ مبارک بھی وہیں ہے۔ کعب نے کہا امیر المومنین میں نے اللہ کی کتاب توریت میں پڑھا ہے کہ ارض شام تمام زمین میں اللہ کا خزانہ ہے اور وہیں اللہ کے خاص بندوں کا خزانہ ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا میں نے خود رسول اللہ کو فرماتے سنا کہ آئندہ ہجرت ہوگی لوگ وطن چھوڑ کر بھاگیں گے پس بزرگ مرتبہ والے لوگ ابراہیم کے مقام ہجرت کی طرف چلے جائیں گے ۔ دوسری روایت میں آیا ہے ابراہیم کے مقام ہجرت سے جو لوگ چمٹے رہیں گے وہ زمین کے تمام باشندوں میں برگزیدہ ہوں گے اور باقی زمین پر برے لوگ رہ جائیں گے ان کی زمینیں ان کو باہرنکال پھینکیں گی، اللہ ان سے نفرت کرے گا ، بندروں اور سوروں کے ساتھ ایک آگ ان کو ہنکائے گی جہاں وہ رات کو قیام کریں گے آگ بھی رات کو ان کے ساتھ رہے گی۔ اور جہاں وہ دوپہر کو ٹھہریں گے آگ بھی دوپہر کو ان کے ساتھ ٹھہرے گی۔ (رواہ ابوداؤد) ۔
محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اللہ نے جب ابراہیم کے لیے آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی بخش کردیا تو یہ منظر دیکھ کر آپ کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لے آئے لیکن نمرود اور اس کے حکام کا خوف تھا۔ اس لیے انہوں نے ایمان کا اعلان نہیں کیا) منجملہ ان کے آپ کے بھتیجے لوط بن ہاران بن تامدخ بھی ایمان لائے ۔ حضرت ابراہیم کے باپ کا نام تارخ تھا جو حضرت لوط کا داد اتھا۔ تارخ بن ثالث تھا، ثالث کو ناخور بھی کہاجاتا تھا۔ حضرت ابراہیم کے چچا کی بیٹی سارہ بنت ہاران بھی ایمان لے آئی تھی۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے قریہ کو ثی (علاقہ عراق) کو چھوڑ دیا اور لوط وسارہ کو لے کر ترک وطن کردیا۔ آپ کا یہ ترک وطن اللہ کے واسطے تھا اپنے دین کو محفوظ رکھنے کی غرض سے تھا اور اطمینان سے اپنے رب کی عبادت کرنے کے لیے تھا آپ نے فرمایا ، انی مھاجر الی ربی، لوط کے مومن ہونے کا ذکراللہ نے ، آیت فامن لہ لوط، میں فرمایا ہے کو ثی سے چل کر آپ حران پہنچے۔ کچھ مدت وہاں قیام کیا پھر وہاں سے چل کرمصر پہنچے۔ پھر مصر سے شام کی طرف چل دیے اور علاقہ فلسطین میں سبع کے مقام پر اترے۔ یہاں سے موتفکا ت کی بستیاں (سدوم وغیرہ) جو بحیرہ میت کے ساحل کی پانچ بستیاں تھیں اور حضرت لوط موتفکہ میں اترے۔ ایک دن اور ایک رات چلے یا اس سے قریب۔ اللہ نے ان کو نبی بناکر مبعوث کیا، یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی اور لوگوں میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت ابراہیم کی طرف ہجرت کی۔
Ayah 21:72تفسیر۔
72۔ ووھبنالہ اسحاق و یعقوب نافلہ۔ مجاہد اور عطا نے کہا ہے کہ نافلہ کا معنی ہے عطیہ، اسحاق اور یعقوب دونوں اللہ کے عطا کردہ ہیں اس صورت میں نافلہ دونوں سے حال ہوگا۔ حسن اور ضحاک نے کہا کہ ، نافلہ کا معنی ہے کہ الصالحین، اسحاق (علیہ السلام) کے بعد حضرت یعقوب کو زیادہ ذکر کیا، یہ بیٹے کے بیٹے ہیں نافلہ بھی زیادتی کو کہتے ہیں۔ وکلا جعلنا صالحین، اس سے مراد ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔
Ayah 21:7373۔ وجعلناھم آئمۃ یھدون بامرنا، ، ہم نے ان کو بھلائیوں اور اعمال میں لوگوں کا پیشوا بنایاجو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کو ہدایت کرتے تھے اور ہمارے دین کا راستہ بتاتے تھے۔ واوحینا الیھم فعل الخیرات۔ وہ عمل جس نے شریعت کو اچھا قرار دیا تھا۔ واقام الصلوۃ نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وایتاء الزکوۃ، زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا۔ وکانولنا عابدین، وہ عبادت کرنے اور موحد ہونے میں مخلق تھے۔
Ayahs 21:74–7574۔ ولوطا آتیناہ ، اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو دیا۔ بعض نے کہا کہ یادکرو لوط کو کہ ہم نے ان کو عطا کیا۔ حکما، مقدمات کے درمیان فیصلے کرنے کا علم، وعلما، ونجیناہ من القریۃ التی کانت تعمل الخبائث، اس سے مراد بستی سدوم ہے۔ اس بستی والے لوگ لواطت کرتے تھے اور بڑی بڑی مجلسوں میں دبر سے اونچی آواز (گوز) نکالتے تھے اور یہ لوگ ایسے اعمال کرتے تھے جو شریعت میں منع کردہ ہیں۔ انھم کانوا قوم سوء فاسقین۔
Ayah 21:7676۔ ونوحا اذ نادی ، ، جب اس کو پکارا ، من قبل، ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) سے پہلے، فاستجبنالہ فنجیناہ واھلہ من الکرب العظیم، ابن عباس کا قول ہے کہ ڈؤبنے سے اور قوم کی جانب سے تکذیب سے نجات دی ۔ بعض نے کہا کہ حضرت نوح کی عمر تمام انبیاء سے زیادہ ہوئی اور سختیاں بھی سب سے زیادہ برداشت کیں اور کر ب غم سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔
Ayah 21:7777۔ ونصرناہ اور ہم نے ان کی مدد کی اور ان کو روک دیا۔ من القوم الذین کذبوا بایتنا، اور وہ لوگ برائی کے ذریعے سے اس تک پہنچے ۔ ابوعبیدہ نے کہا جس قوم میں یہ خرابیاں پائی جائیں، انھم کانوا قوم سوء فاغرقنا ھم اجمعین۔
Ayah 21:78تفسیر۔
78۔ وداود و سلیمان اذ یحکمان فی الحرث، حرث کی تفسیر میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ ابن مسعود اور ابن عباس اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے کہ یہ کھیتی انگوروں کی بیل کی تھی اور جس پر حرث کا لفظ دلالت کرتا ہے قتادہ کا بیان ہے کہ وہ کھیتی تھی۔ اذ نفشت فیہ غنم القوم، اس نے رات کو بکریاں چرائیں پھر اس کو فاسد کردیا۔ نفش کہاجاتاہے کہ رات کو بکریاں چرانا، اور ھمل کہاجاتا ہے بغیر چروائے کے بکریوں کا چرنا، وکنالحکمھم شاھدین، اس کا علم نہیں ہے اور اس کو دیکھتے تھے ہم ، یہ ہم سے کیسے مخفی ہوسکتا ہے ۔ فراء نے کہا کہ صرف حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) مراد ہیں۔ جمع کا صیغہ بول کر تثنیہ کا صیغہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، فان کان لہ اخوۃ فلامہ السدس۔ اگر میت کے چند بھائی ہوں تو اس کی ماں کا کل مال کا چھٹا حصہ ہوگا۔ اخوہ سے مراد کم ازکم دوبھائی ہیں۔
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہماالسلام کا ایک کھیت کے بارے میں فیصلہ۔
حضرتابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قتادہ اور زہری نے بیان کہ دوآدمی حضرت داؤد کے پاس آئے ایک کھیت کا مالک تھا اور دوسرابکریوں کا مالک۔ کھیت والے نے کہا اس کی بکریاں رات کو چھوٹ کر میرے کھیت میں پڑگئیں اور سارا کھیت چرگئیں۔ کچھ بھی باقی نہ رہا۔ حضرت داؤد نے فیصلہ کیا کہ کھیت کے عوض وہ بکریاں کھیت والے کودے دی جائیں، حضرت داؤد کے پاس سے دونوں حضرت سلیمان کے پاس آئے، حضرت سلیمان نے پوچھاتم دونوں کے مقدمہ کاکیافیصلہ ہوا، جو فیصلہ حضرت داؤد نے کیا تھا دونوں نے بیان کردیا، حضرت سلیمان نے فرمایا اگر تمہارا مقدمہ میرے سپرد کردیاجاتا میرا فیصلہ کچھ اور ہوتا۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت سلیمان نے یہ بھی کہا تھا کہ میرا فیصلہ دونوں کے لیے فائدہ بخش ہوتا۔ حضرت سلیمان کے اس قول کی اطلاع حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بھی ہوگی۔ آپ نے سلیمان کو بلوا کر فرمایا تم فیصلہ کرو۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ حضرت داؤد نے اپنی نبوت اور حق پدری کا واسطہ دے کر فرمایا مجھے بتاؤ وہ کیا فیصلہ ہے۔ جو فریقین کے لیے سود مند ہے ؟ حضرت سلیمان نے کہا بکریاں کھیت والے کو دیے دیجئے اور کھیت بکریوں کے مالک کے سپر د کردیجئے ، کھیت والا بکریوں کے دو ودھ اون اور نسل سے اتنی مدت تک فائدہ اندوز ہوتا رہے جتنی مدت تک کھیت بکریوں والے کی سپردگی میں رہے۔ بکریاں کا مالک کھیت کو درست کردے اس میں بیج بکھیر دے اور جب کھیتی تیار ہوکراصلی حالت پر آجائے تو تیار کھیت کھیت والے کودے دے اور اپنی بکریاں واپس لے لے۔ حضرت داوڈ نے فرمایا صحیح فیصلہ یہی ہے جو تم نے کیا۔ پھر آپ نے یہ فیصلہ جاری کردیا۔ روایت میں آتا ہے کہ فیصلہ کرنے کے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عمر گیارہ سال کی تھی۔
حرام بن سعد بن محیصہ سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب کی اونٹنی باغ میں داخل ہوگئی۔ اس میں نقصان کردیا، آپ نے ارشاد فرمایا کہ باغ والے دن کے وقت اس کی حفاظت کریں (اورجانوروں والے رات کو اپنے جانوروں کی حفاظت کریں) اگر رات کے وقت کسی کا جانور کسی کا نقصان کردے تو وہ ذمہ دار ہے۔ اصحاب الری کا قول ہے کہ اگر جانور کے ساتھ اس کا مالک نہ ہو تو پھر مالک پر ضمان نہیں ہوگا خواہ وہ دن کو نقصان پہنچائے یا رات کو نقصان پہنچائے۔
Ayah 21:7979۔ ففھمناھا سلیمان، ، ہم نے حضرت ابراہیم کو اس فیصلہ کا طریقہ سکھادیا۔ وکلا ، اس سے مراد داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ہیں۔ اتینا ، حکما وعلما، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اگر یہ آیت نہ ہوتی تو فیصلہ کرنے والے ہلاک ہوجاتے لیکن ٹھیک تعریف کرنے والوں کی اللہ نے تعریف کی ہے اور اس اجتہاد کی تعریف کی ہے۔
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت داؤد کا فیصلہ اجتہاد سے تھا یانص کے ساتھ۔ اسی کے ذریعے سے سلیمان نے فیصلہ کیا۔ بعض نے کہا کہ حضرت سلیمان نے اجتہاد کے ساتھ فیصلہ کیا ہے اور بعض نے کہا کہ انبیاء کرام کے لیے بھی اجتہاد کرنا جائز ہے تاکہ ان کو بھی مجتہدین کا ثواب حاصل ہوجائے۔
مگریہاں پر حضرت داود سے خطا ہوگئی اور سلیمان مصیب ہوئے اور بعض مفسرین نے کہا کہ انبیاء سے خطا ہوجاتی ہے لیکن اس کو شمار نہیں کیا جاتا اور علماء ان اشیاء میں اجتہاد کرتے ہیں جو قرآن وسنت میں نہیں پاتے ، پھر اگر اس اجتہاد میں غلطی واقع ہوجائے توپھران پر کوئی گناہ نہیں۔
عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جب فیصلہ کرنے والافیصلہ کرتا ہے اپنے اجتہاد سے اگر اس کا اجتہاد درست ہوجائے تو اس کو دوہرا اجرملتا ہے اور جب اس نے اجتہاد کے ذریعہ فیصلہ کیا اور اس میں غلطی واقع ہوگئی تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان وحی کے ذریعے سے فیصلہ کرتے تھے اور حضرت سلیمان کا فیصلہ حضرت داؤد کے فیصلہ کے لیے ناسخ ہوتا تھا۔
بعض حضرات کے نزدیک انبیاء اجتہاد کے ذریعے فیصلہ کرنے سے مستغنی ہیں کیونکہ ان پر وحی کا نزول ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ اسی وجہ سے فیصلہ میں کسی نبی سے غلطی واقع نہیں ہوسکتی۔ بعض حضرات نے اس آیت کے ظاہر سے کہتے ہیں کہ ہر مجتہد مصیب ہے اور حدیث میں مجتہد کے لیے ثواب کا وعدہ ہے جب وہ خطا کرلے۔ یہی اصحاب الری کا قول ہے اور ایک جماعت کا قول ہے کہ ہر مجتہد مصیب نہیں بلکہ جب کسی مسئلہ میں مجتہدین کا اختلاف ہوجائے تو ان میں سے کوئی ایک مصیب ہوگا نہ کہ معین شخص۔ اگر ان میں سے ہر ایک شخص مصیب ہوتا تو پھر تقسیم کا کوئی معنی نہیں۔ آپ (علیہ الصلوۃ والسلام) کا فرمان ہے کہ مجتہد نے اپنے اجتہاد میں خطا کردی تو اس کے لیے ایک اجر ہوگا۔ اس پر یہ اشکال وارد نہیں ہوگا کہ اگر اس کا اجتہاد درست ہوگیا توپھروہ مصیب ہوگابل کہ اجتہاد فی نفسہ عبادت ہے۔
داؤد اور سلیمان علیہماالسلام کادوعورتوں کے درمیان فیصلہ۔
شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا میں نے سنا رسول اللہ فرما رہے تھے دو عورتیں تھیں ہر ایک کا ایک ایک بچہ تھا اس کے ساتھ تھا۔ بھیڑیا آیا، ایک بچہ کو لے گیا ایک عورت نے دوسری سے کہا ، بھیڑیاتوتیرے بچے کو لے کرگیا ہے میرابچہ محفوظ ہے۔ دوسری نے اس کی تردید کی تیرے بچہ کو لے کرگیا ہے۔ میرابچہ یہ ہے جو موجود ہے۔ دونوں نے جھگڑا کیا اور حضرت داؤد کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ نے بڑی کو ڈگڑی دے دی اور چھوٹی ہار گئی ۔ اس کے بعد دونوں کا گذر حضرت سلیمان کی طرف سے ہوا اور آپ سے تفصیل سے بیان کیا حضرت سلیمان نے فرمایا میرے پاس چھری لے آؤ ، میں بچہ کو دوٹکڑے کرکے دونوں کو بانٹ دوں گا، یہ سنتے ہی چھوٹی بولی آپ پر اللہ کی رحمت ہو، یہ بچہ بڑی کا ہی ہے اس کودے دیجئے۔ حضرت سلیمان نے بچہ چھوٹی کو دلوادیا۔
” وسخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطیر۔ جب حضرت داؤد تسبیح پڑھتے تھے باہر جاتے تھے تو ان کے ساتھ پرندے پہاڑ بھی تسبیح پڑھتے تھیابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا وہب نے کہا کہ حضڑت داوڈ کی تسبیح کے جواب میں پہاڑ میں اللہ کی پاکی بیان کرتے تھے اور پرندوں کا بھی یہی حال تھا، قتادہ نے کہا یعنی حضرت داؤد نماز پڑھتے تھے توپہاڑ بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا حضرت داؤد درختوں اور پتھروں کی تسبیح کو سمجھتے تھے ۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ، یسبحن ، مباحت سے ماخوذ ہے۔ اور سباحت کا معنی ہے تیرنا، چلنا) حضرت داؤد (علیہ السلام) چلتے تھے توپہاڑ بھی آپ کے ساتھ چلتے تھے۔
کہا گیا ہے کہ داؤد جب ذکر کرتے کرتے سست پڑجاتے اور بد میں کچھ کسل آجاتا تو آپ کے ساتھ پہاڑ تسبیح پڑھنے لگتے تاکہ پہاڑوں کی تسبیح سن کر داؤد (علیہ السلام) میں ذکرالٰہی کرنے کی تازہ چستی پیدا ہوجائے اور پرندے بھی آپ کے ساتھ تسبیح میں مشغول رہتے ۔ الطیر کا عطف الجبال پر ہے ، پرندوں کی تو پھر بھی ظاہری زبان ہوتی ہے وہ کچھ نہ کچھ بولتے ہی ہیں لیکن پہاڑوں کی کوئی زبان ظاہر نہیں ہوتی، پہاڑوں کا تسبیح خداوندی میں مشغول ہونا بہت ہی تعجب آفریں ہے اس لیے الجبال کا ذکر الطیر سے پہلے کیا۔ وکنافاعلین۔ حضرت داود کو علم و حکمت کی فہمائش اور پہاڑوں اور پرندوں کی تسخیر ہمارا فعل ہے۔
تفسیر۔