Ayah 16:121(121)” شا کر الا نعمہ اجتباہ “ اس کو اختیار کیا ۔ ” وھداہ الی صراط مستقیم “ اس سے مراد دین حق ہے ۔
Ayah 16:122(122)” وآتینا ہ فی الدنیا حسنۃ “ اس سے پیغمبری اور خالص دوستی مراد ہے ۔ بعض نے کہا کہ سچی زبان اور اس کی تعریف ۔ مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ اس سے مراد رود ہے جو آپ ﷺ نے اس امت کے لئے دُعا فرمائی کہ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل پر نازل کی گئی تھی ۔ آپ نے دعا کی تھی ” اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی آل ابراہیم “ ۔ بعض نے کہا کہ ایسی اولاد جو تکبر سے بری ہو ۔ بعض نے کہا کہ تمام امتوں میں قبولیت ” وانہ فی الاخرۃ لمن الصالحین “ اپنے آبائب کے ساتھ جنت میں (صالحین ) جگہ دے ۔ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے ۔ اصل عبارت اسی طرح ” وآتینا ہ فی الدنیا والآخرۃ حسنۃ وانہ لمن الصالحین “ ۔
Ayah 16:123(123)” لم اوحینا الیک “ اے محمد ! (ﷺ ) ہم نے آپ کی طرف وحی کی ۔” ان اتبع ملۃ ابراھیم حیفا ‘ ‘ حج کرنے میں اور اسلام لانے میں ” وما کان من المشرکین “ اہل اصول کا قول ہے کہ نبی کریم ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت پر مامور تھے مگر وہ امور جو اس شریعت میں منسوخ اور جو منسوخ نہیں ہوئے وہ ہمارے شریعت میں برقرار ہیں ۔ اس کی پابندی رسول اللہ ﷺ پر لازم تھی ۔
Ayah 16:124ہفتہ کی تعظیم نہ کرنے کی وجہ سے یہودیوں پر اللہ کی لعنت پڑی :
تفسیر :( 124)” انما جعل السبت علی الذین اخلتفو افیہ “ انہوں نے اس میں اختلاف کیا ۔ بعض نے اس کا معنی یہ کیا ہے کہ جن لوگوں نے ہفتہ کے دن میں اختلاف کیا ان پر لعنت ہے ۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ نے ہفتہ کے دن کی تعظیم اور حرمت صرف ان لوگوں کے لئے لازمی کی تھی جنہوں نے اس کے سلسلہ میں اختلاف کیا تھا یعنی یہودیوں پر ہفتہ کے دن کی تعظیم لازم کی تھی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہفتہ کا دن سب سے زیاد ہ عظمت والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کو پیدا کر کے جمعہ کے دن فارغ ہوگیا اور سینچر کے دن آرام کیا ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اتوار کا دن سب سے زیادہ عظمت والا ہے ، اللہ نے اسی روز مخلوق کو پیدا کرنے کا افتتاح کیا تھا ۔ عرض یہ کہ اللہ نے ان کے لئے جمعہ کی تعظیم فرض کی تھی مگر اللہ کے فرض کردہ دن کے علاوہ انہوں نے دوسرے ایام کی تعظیم کو اختیار کیا۔ کلبی (رح) کا قول ہے کہ بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم دیا تھا کہ ہر سات دن میں ایک روز یعنی جمعہ کے دن کوئی کام اور کوئی پیشہ نہ کریں صرف عبادت کیا کریں ، چھ دن اپنے کام کاج کیا کریں۔ بنی اسرائیل نے کہا ہم تو وہ دن چاہتے ہیں جس روز اللہ سارے عالم کی پیدائش سے فارغ ہوگیا تھا ۔ یعنی سینچر کا دن ۔ اللہ نے سینچر کا دن مقرر کردیا اور سختی کردی ۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے سامنے جمعہ کے دن کو پیش کیا کہنے لگے ہم کو تو یہ بات پسند نہیں کہ ہماری عید کے بعد ہی ان کی عید ہوجائے ۔ غرض عیسائیوں نے اتوار کا دن پسند کرلیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے جمعہ کا دن اس امت کو دے دیا اور اس امت نے عطاء الٰہی کو قبول کرل یا اور اللہ نے امت اسلامیہ کو اس دن کی برکات بھی عطا فرمادیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہم پیچھے ہیں ، قیامت کے دن آگے ہوں گے ۔ باوجود اس کے کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہم کو ان کے بعد ۔ پھر یہ ان کا دن تھا جو ان پر فرض کیا گیا تھا ، یعنی جمعہ کا دن مگر انہوں نے اس کی مخالفت کی لیکن اللہ نے ہم کو اس کی ہدایت کردی ، سب لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں ، یہودیوں کے لئے کل کا دن اور عیسائیوں کے لئے کل کے بعد کا دن (اتوار ) اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انما جعل السبت علی الذین اختلفوافیہ “ قتاد ہ کا قول ہے کہ جن لوگوں نے اختلاف کیا وہ یہود ہیں جنہوں نے بعض چیزوں کو حلال کردیا اور بعض کو حرام کردیا ۔ ” وان ربکم الیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانو افیہ یختلفون “ ۔
Ayah 16:125(125)” ادع الی سبیل ربکم بالحکمۃ “ اس سے مراد قرآن ہے ۔” والموعظمۃ الحسنۃ “ اس سے مراد قرآن کی نصیحتیں ہیں اور بعض نے کہا کہ ” موعظۃ حسنۃ “ سے مراد دعا ہے جس میں ترغیب اور ترہیب بھی ہو ۔ بعض علماء نے کہا کہ ” موعظۃ حسنۃ “ سے مراد ایسا نرم کلام ہے جس میں درشتی اور چڑ چڑا پن نہ ہو ۔ ” وجادلھم بالتیھی احسن “ ان کے ساتھ مناظرہ یا جھگڑا احسن انداز سے کرو ، ان کو اذیت دینے سے بچو اور رسالت کی تبلیغ میں اور حق کی طرف بلانے میں کوئی کمی نہ کرو ۔ یہ آیت قتال سے منسوب ہوگئی ہے ۔ ” ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعنم بالمھتدین “
Ayah 16:126(126)” وان عاقبتم فعا قبوا بمثل ماعوقبتم بہ “ ۔
وان عاقبتم فعا قبواکا شان نزول :
یہ آیات مدینہ میں نازل ہوئیں شہداء احد کے متعلق۔ اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب مسلمان نے مشرکوں کے فعل کو دیکھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے شہداء کے ساتھ مثلہ اور ان کے پیٹوں کو چیرا گیا ۔ احد کے شہداء میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں تھا جس کا انہوں مثلہ نہ کیا ہو ، سوائے حنظلہ بن راہب کے کیونکہ ان کا والد عامر الراہب ابو سفیان کے ساتھ تھا اس وجہ سے اس کو مثلہ کرنے سے چھوڑ دیا ۔ اس پر مسلمانوں نے کہا اگر ہم کو کسی روز ایسا موقع ہاتھ لگا تو ہم بھی ان کی حالت قابل رحم بنادیں گے ۔ جیسا کہ عرب میں سے کسی نے ایسا عمل نہیں کیا ہوگا ۔
آپ ﷺ اپنے چچا حمزہ بن عبد المطلب کے پاس کھڑے ہوئے اور دیکھا کہ ان کے ناک ، کان اور شرمگاہ اور پیٹ کو چیر دیا گیا ہے اور ہندبنت عتبہ نے حضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ نکال کر چبا یا لیکن اس کو نگل نہ سکی تو پھر باہر تھوک دیا ۔ اس وقت حضر نبی کریم صلی اللہ لعیہ وسلم اپنے چچا کی لاش کے قریب پہنچے اور فرمایا ، اگر یہ اسکو کھا لیتی تو وہ کبھی دوزخ میں نہ جلتی ۔ حضرت حمزہ ؓ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت معظم ومکرم ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے جسم کے کسی حصہ کو بھی جہنم میں داخل نہیں کرے گا ۔ جب نبی کریم ﷺ کی نظر حضرت حمزہ ؓ پر پڑی تو آپ ﷺ کا دل اتنا رنجیدہ ہوا جتنا کسی اور چیز کو دیکھ کر نہیں ہوا ۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تجھ پر اللہ کی رحمت ہو (اے ابو السائب ) مجھے معلوم ہے کہ آپ بڑے نیک کردار اور صلہ رحمی کرنے والے تھے ۔ اگر آپ کے بعد رہنے والوں کے رنجیدہ ہونے کا خیال نہ ہوتا تو مجھے اس بات سے خوشی ہوتی کہ آپ کو یونہی چھوڑ دوں تاکہ آپ کا حشر متعدد گرہوں کے اندر سے ہو ۔ خدا کی قسم ! اگر اللہ نے مجھے ان پر فتح عنایت کی تو آپ کی جگہ میں ان کے سر آدمیوں کو ضرور ضرور مثلہ کروں گا ، اس پر اللہ نے مذکورہ آیات نازل فرمائیں ۔ ” وان عا قبتم فعا قبوا “…” ولئن صبر تم لھو خیر للصابرین “ اگر تم ان کو معاف کرو گے تو تمہارا ان کے لئے معاف کردینا بہتر ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بل کہ ہم اس پر صبر کریں گے اور جس کا تم ارادہ کرتے ہو اس سے رُک جائو اور اپنی قسموں کا کفار دو ۔ ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے کہ اس آیت کا حکم برأت کے نزول سے پہلے تھا جبکہ حضور ﷺ کو خود آغاز قتال سے منع کیا گیا تھا اور لڑنے والوں سے لڑنے کا قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں ہوئی ۔ جن لوگوں نے ظلم کیا ہو ان کے ظلم کے مطابق انتقام لینے کا حکم آس آیت میں دیا گیا ہے ۔ یہی اس کا شان نزول ہے ۔ ظالم نے جتناز ظلم کیا ہو اس سے زیادہ انتقام لینا جائز نہیں ۔ بقدر ظلم بدلہ لیا جاسکتا ہے اور معاف کردینا بہتر ہے ۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
Ayah 16:127(127)” واصبر وماصبرک الا باللہ “ اس کی مدد دتوفق سے ” ولا تحزن علیھم “ ان کے اعراض کرنے کی وجہ سے ان سے رنج نہ کرو ۔” ولا تک فی ضیق مما یمکرون “ وہ کافر جو مؤمنوں کے خلاف مکاریاں کرتے ہیں ۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ۔ یہاں ابن کثیر نے اسی طرح پڑھا ہے اور نمل میں ضاد کے کسرہ ” ضیق “ کے ساتھ پڑ ھا ہے اور دوسرے قراء نے ضاد کے فتحہ کیساتھ پڑھا ہے ۔ اہل کوفہ کا قول ہے کہ اس میں دونوں لغتیں ہیں ۔ مثل رطل ، رطل کے اور ابو عمر نے کہا کہ ضیق ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہو تو غم کو کہتے ہیں اور کسرہ کے ساتھ ہو تو سختی کو کہتے ہیں اور ابو عبید ہ کا قول ہے کہ ضیق ضاد کے کسرہ کے ساتھ قلت معایش کو کہتے ہیں اور جو دل ، سینے میں درد اٹھے اس کو ضیق فتحہ کے ساتھ کہتے ہیں ۔ ابن قتیبہ کا قول ہے کہ یہ تخیف کے ساتھ ہے ۔ مثل ” ھین اور ھین “ کے ” لین اور لین “ کے ۔ اس قول کی بنا پر ضیق صفت کا صیغہ ہوگا یعنی تنگ امر ۔ آپ ان کی خاطر ان کے مکر کے باعث تنگ دل نہ ہوں ۔
Ayah 16:128(128)” ان اللہ مع الذین اتقو ا “ جن سے منع کیا گیا ۔ ” والذین ھم محسنون “ اللہ کی مدد نصرف کا ساتھ ہونا