16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں اور (ایسے) کرتے (بھی) جو تم کو (اسلحہ) جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا پنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرماں بردار بنو۔

تفسیر (81)” واللہ جعل لکم مما خلق ظلالاً “ وہ گرمی سے بچنے کے لیے چھائوں میں بیٹھتے ہیں۔ خواہ وہ چھائوں درخت کی ہوں یا ٹیلے وغیرہ کی۔ ” وجعل لکم من الجبال اکناناً “ پہاڑ اور غار میں چھپنے کی جگہ۔” اکنانا کن “ کی جمع ہے چھپنے کا مقام، مکان وغیرہ۔ ” وجعل لکم سرابیل “ اور بنائے تمہارے لیے سوت، اون ، کنان، ریشم وغیرہ کے کچھ حصے۔” تقیکم “ جس سے تم بچتے ہو۔ ” الحر “ اہل معانی نے لھا ہے کہ تم اس سے سردی اور گرمی میں بچتے ہو۔ یہاں پر صرف (حر) کو ذکر کیا اور سردی کو اس پر چھوڑ دیا۔ ایک کو ذکر کرنے پر اکتفاء کیا۔ ” و سرابیل تقیکم باسکم “ اس سے مراد زرہیں، خود اور جنگی لباس۔ تم لڑائی میں اس سے اپنا بچائو کرتے ہو۔ ” کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون “ تاکہ تم ان کی طرف مخلص ہوکراطاعت کرنے والے بن جائو۔ عطاء خراسانی کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سمجھ کے موافق قرآن نازل کیا اور فرمایا دیکھو پہاڑوں میں پناہ گاہیں پیدا کرنے کا ذکر فرمایا اور میدان و صحرا جو پہاڑوں سے بڑے ہیں ان کا ذکر نہیں کیا اور چونکہ وہ خیموں اور بالوں والے تھے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا ” وینزل من السماء من جبال فیھا من برد “ اللہ آسمانی پہاڑوں سے اولے اتارتا ہے۔ یہاں برف کا ذکر نہیں کیا کیونکہ بارش برفباری سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ برف باری سے واقف بھی نہ تھے اور فرمایا ” تقیکم الحر “ آیت مذکورہ بالا میں گرمی سے حفاظت کو لباس کا فائدہ قرار دیا ہے، سردی کا ذکر نہیں کیا کیونکہ ان لوگوں کو گرمی سے ہی زیادہ واسطہ پڑتا تھا۔
Ayah 16:82

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے۔

(82)” فان تولوا “ اگر وہ آپ سے اعراض کریں تو آپ ان سے رنجیدہ اور تنگ دل نہ ہوں، آپ کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ ” فانما علیک البلاغ المبین “
Ayah 16:83

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر (واقف ہو کر) ان سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں۔

(83)” یعرفون نعمۃ اللہ “ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ بعض حضرات کے نزدیک نبی کریم ﷺ کی نبوت مراد ہے۔ ” ثم ینکرونھا “ پھر انہوں نے اس نعمت کو جھٹلا دیا۔ بعض نے کہا کہ اس نعمت سے مراد اسلام ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ اللہ نے اس سورت میں جن نعمتوں کا ذکر کیا ہے کافر ان کو پہچانتے ہیں ، پھر جب ان سے کہا گیا کہ اس بات کی تصدیق بھی کرو ان نعمتوں کے احکام کی تکمیل بھی کرو تو پھر اس کا انکار کرنے لگے اور کہنے لگے ہمیں تو یہ نعمتیں باپ دادا کی وراثت سے ملی ہیں۔ کلبی (رح) کا بیان ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اقرار کیا اور کہاں ہاں یہ نعمتیں اللہ ہی نے دی ہیں لیکن ہمارے معبودوں کی سفارش سے ملی ہیں۔ عوف بن عبداللہ کا قول ہے کہ نعمتوں کے انکار کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری اسباب کی طرف نعمتوں کی حقیقی نسبت کردینا مثلاً کوئی کہتا ہے کہ اگر فلاں بات ہوتی یہ کام ہوجاتا یہ کام نہ ہونے پاتا۔ ” واکثرھم الکافرون “ اور اکثر ان نعمتوں کو جھٹلانے والے ہیں۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ ان کے عذر قبول کئے جائیں گے۔

(84)” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “ شہید سے مراد پیغمبر ہے جو اپنی امت کے کفر و ایمان کی شہادت دے گا۔ ” ثم لا یوذن للذین کفروا “ پھر ان کو عذر پیش کرنے کی اجازت نہیں ملے گی اور بعض نے کہا کہ ان کو بات کرنے کی بالکل اجازت نہیں ملے گی۔” ولا ھم یستعتبون “ ان سے یہ بھی نہیں کہاجائے گا کہ اپنے رب کو راضی کرلو، روز آخر ت تو عمل کا دن ہی نہ ہوگا اور نہ ہی دنیا میں واپس جا کر تو بہ و عمل کی اجازت ہوگی۔ الحاصل یہ کہ اس دن ان کو اللہ کی رضا حاصل نہیں ہوگی اور یہ بات ثابت ہے کہ آخرت میں کافروں کے لیے رضا مندی کا دروازہ بند کردیاجائے گا۔
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو ان کے عذاب ہی میں تحفیف کی جائیگی اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی

تفسیر (85)” واذا رای الذین ظلموا “ ظلم سے مراد کفر کرنا، انکار کرنا مراد ہے۔ ” العذاب “ اس سے مراد جہنم ہے۔ ” فلا یخفف عنھم ولا ھم ینظرون “
Ayah 16:86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار ! یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ تو وہ (ان کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) ان سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔

(86)” واذا را الذین اشرکوا “ قیامت کے دن ” شرکاء ھم “ ان بتوں کو ” قالوا ربنا ھولاء شرکاء نا الدین کنا ندعو ا من دونک “ وہ دوست اور جوان کی عبادت کرتے ہیں۔ ” فالقوا “ ان بتوں کی طرف رخ کریں گے۔” الیھم القول “ اور ان کو کہیں گے ” انکم لکاذبون “ کہ تم ہمیں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے یا اس دعوے میں جھوٹے ہو کہ حقیقت میں تم ہماری پوجا کرتے تھے۔
Ayah 16:87

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

(87)” والقوا “ اور مشرک لوگ اللہ کے سامنے اس روز باتیں کرنے لگیں گے۔” الی اللہ یومذ السلم “ وہ اطاعت کرنے اور اس کے حکم کی فرمانبرداری کا اظہار کریں گے اور اس دن ان کے معبود ان کو کسی چیز کا فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔ ” وضل “ وہ گم ہوجائیں گی۔” عنھم ما کانو ایفترون “ اس طور پر کہ ان کی سفارش کریں۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا ہم ان کو عذاب پر عذاب دیں گے اس لئے کہ شرارت کیا کرتے تھے۔

(88)” الذین کفرواوصدوا عن سبیل اللہ “ وہ لوگوں کو راہ حق سے روکتے تھے۔ ” زردنا ھم عذاباً فوق العذاب “ عبداللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد بچھو ہیں جن کے ڈنگ کھجور کے لمبے درختوں کے برابر ہوں گے۔ سعید بن جبیر نے کہا سانپ ہوں گے، بختی اونٹی کی طرح اور بچھوہوں گے خچروں کے مثل جن کے ایک مرتبہ کاٹنے کا اثر چالیس سال تک ڈسا ہوا آدمی محسوس کرتا رہے گا۔ ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ عرش کے نیچے سے پگھلے ہوئے تانبے پیتل کے پانچ دریا نکلتے ہیں جو آگ کی طرح ہیں، ان دریائوں میں ان کو ڈبونے کی سزا دی جاتی ہے۔ تین دریائوں میں سے ایک رات کی مدت کے برابر اور دو دریائوں میں دن کی مدت کے برابر سزا پاتے رہیں گے۔ بعض حضرات نے کہا کہ گرمی کے عذب سے سردی کے عذاب کی طرف ان کو نکال کر لایاجائے گا۔ سردی کی شدت کی وجہ سے وہ چیخیں گے اور فریاد کریں گے اور دوزخ کی گرمی میں جانا پسند کریں گے اور بعض نے کہا کہ ان کے عذاب کو دگنا کر دیاجائے گا۔ ” بما کانو ایفسدون “ فساد سے مراد دنیا میں کفر ہے اور لوگوں کو ایمان سے روکنے سے، ان کے عاب کو دگنا کیا جاتا ہے۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑے کریں گے اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔

(89)” ویوم نبعث فی کل امۃ شھیداً علیھم من انفسھم “ اس سے مراد ہر امت کا پیغمبر ہے کیونکہ انبیاء کو ان کی امتوں کی طرف مبعوث کیا جاتا ہے۔ ” وجئنابک “ اے محمد ! (ﷺ) شھیدااً علی مولاء “ جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے آپ ﷺ ان کے گواہ ہیں۔ ” ونزلنا علیک الکتاب تبیاناً “ اس سے مراد بیان ہے۔ ” لکل شئی “ ہر دینی مسئلہ اس کی طرف احتیاجیت ہے خواہ اس کا تعلق امر، نہی، حلال، حرام، و حدود، احکام کے ساتھ ہو۔” وھدی “ گمراہی سے۔” ورحمۃ وبشری “ اور ان کے لیے خوشخبری ہے۔” للمسلین “
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور نامعقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

(90)” ان اللہ یامر بالعدل “ اس سے مراد انصاف ہے۔” والاحسان “ اور لوگوں پر احسان کا برتامئو کرنے کا حکم دیا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عدل سے مراد توحید ہے اور احسان سے مراد فرائض کی ادائیگی اور اسی طرح احسان سے مراد توحید میں خالص ہے۔ آپ ﷺ کے فرمان کا معنی یہی ہے کہ ” الاحسان… الخ “ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کر اس حال میں کہ تو اپنے رب کو دیکھ رہا ہے۔ مقاتل (رح) نے کہا کہ عدل سے مراد توحید اور احسان سے مراد لوگوں سے درگزر کرنا ہے۔ ” وایتاء ذی القربی “ اس سے مراد صلہ رحمی ہے۔ ” وینھی عن الفحشائ “ جو بات بری ہو خواہ اس کا تعلق بات چیت سے ہو یا فعل سے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد درنا ہے۔ ” والمنکر “ اس کو کہتے ہیں جو نہ شریعت سے پہچانا جاتا ہو اور نہ ہی سنت سے۔ ” والبغی “ اس سے مراد تکبر و ظلم ہے۔ ابن عینیہ کا قول ہے کہ ظاہر اور باطن کا برابر ہوجانا عدل ہے اور باطن کا ظاہر سے اچھا ہونا حسان ہے اور ظاہر بنسبت باطن کے اچھا ہو تو یہ فحشاء و منکر ہے۔” یعظکم لعلکم تذکرون “ تاکہ تم ان کی نصیحت حاصل کرو۔ ابن مسعود ؓ کا قول ہے کہ قرآن مجید میں سب سے زیادہ جامع آیت یہی ہے۔ ایوب نے عکرمہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ آیت ولید کو سنائی تو ولید بولا بھتیجے ذرا اس کو دوبارہ پڑھو۔ حضور ﷺ نے دوبارہ تلاوت فرمائی، ولید کہنے لگا خدا کی قسم ! اس میں عجیب شیرینی اور ایک خاص حسن ہے۔ اس کا بالائی حصہ ثمر آفریں اور نچلا حصہ خوشوں سے بھرا ہوا ہے، یہ انسان کا کلام نہیں۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو۔ اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے۔

تفسیر (91)” واوفو ابعھد اللہ اذا عاھدتم “ عہدیہاں پر یمین کے معنی میں ہے۔ شعی (رح) کا قول ہے کہ عہد یمین ہے اور اس کا کفارہ کفارہ یمین ہے ۔” ولا تنقضو ا الایمان بعدتو کیدھا “ اس کے پختہ ہوجانے کے بعد پھر اس قسم سے حانث ہوجائو۔ ” وقد جعلتہم اللہ علیم کفیلا “ اس قسم کو پورا کرنے کا گواہ۔ ” ان اللہ یعلم ما تفعلون “ اس آیت کے نزول میں اختلاف ہے، اگر اس کا حکم عام ہے اس صورت میں جن لوگوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اللہ نے ان کو اس بیعت کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول حلف جاہلیت کے متعلق ہوا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقض عہد کی مثال بیان فرمائی ہے۔
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا پھر اس کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا۔

(92)” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ “ اس کے بیٹھنے اور مضبوط کرنے کے بعد کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ یہ ایک عورت خرقائ ( توڑنے والی) تھی جو احمق اور بیوقوف تھی اور اس کا تعلق قریش سے تھا، اس کا نام ربطہ بنت عمرو بن سعد بن کعب بن زید بن مناۃ بن تمیم ہے۔ اس کا لقب جعر تھا۔ اس کے دماغ میں کچھ خرابی تھی اس نے ایک چرخہ ہاتھ بھر کا اور اس میں ایک میخ انگل بھر کی اور دمر کہ بہت بڑا بنا رکھا تھا وہ اون روائیں اور بالوں کی کتائی کرتی تھی اور اپنی باندیوں سے بھی کتواتی تھی، سب مل کر دوپہر تک کا تتی تھیں، دوپہر کو وہ سب کاتا ہوا دھاگہ کھول ڈالتی تھی۔ یہی اس کا روزانہ کا معمول تھا۔ اس واقعہ کے بعداس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ عورت جو کاتنے کا کام برابر کرتی تھی کاتنا ترک نہیں کرتی تھی اور کاتنے کے بعد کتے ہوئے سوت کو توڑنے سے بھی باز نہیں رہتی تھی تم اس کی طرح نہ ہوجائو یا تو عہد ہی نہ کرو اور کرو تو اس کو پورا بھی کرو، ہر دفعہ معاہدہ کرکے اس کو مت توڑو۔” انگاثا “ وہ اس کو توڑ دیتی تھی اس کا واحد نکث آتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اون کاتنے کے بعد اس کو توڑ دینا یا رسی کو توڑ دینا۔ ” تتخذون ایمانکم دخلا بینکم “ دخل بگاڑ دھوکہ ، خیانت کو کہتے ہیں۔ دخل لغوی اعتبار سے اس چیز کو کہتے ہیں جس کو کسی چیز کے اندر اس کو خراب کرنے اور بگاڑنے کے لیے داخل کیا جائے اور بعض نے کہا کہ دخل اور دغل یہ ہے کہ ظاہر میں تو وفائے عہد کرے اور باطن میں اس کو توڑدے۔” ان تکون “ کہ تم ایک دوسرے سے آگے بڑھ جائو۔ ” امۃھی اربیٰ “ تعداد افرادی اور مال میں زیادہ ” من امۃ “ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ عرب کا دستور یہ تھا کہ ایک قبیلہ یا ایک جماعت دوسری جماعت سے باہمی امداد کا بقسم معاہدہ کرلیتی تھی لیکن جب ان دونوں قبیلوں میں سے کسی کو اپنے حلیفوں کی دشمن جماعت زیادہ طاقتور یا مالدار نظر آتی ہے تو اپنے حلیفوں سے غداری کرکے حلیفوں کے دشمنوں سے جا کر مل جاتے تھے اور ان سے مخالفہ کرلیتے تھے، اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ ” انما یبلو کم اللہ بہ “ اللہ تمہیں اس کام کے متعلق آزماتا ہے کہ کیا تم اس پر پورا عہد نبھاتے ہو۔” ولیبینن لکم یوم القیامۃ ما کنتم فیہ تختلفون “ دنیا میں تم ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہو۔
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اس دن) ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائیگا۔

تفسیر (93)” ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ “ اس سے ملت واحدہ اسلام ہے۔ ” ولکن یضل من یشائ “ ان کو اس کے کاموں کے سبب رسوا کردیا یا اسلام سے عدول فرمانے کی وجہ سے اس کو اس سے دور رکھا۔ ” ویھدی من یشائ “ اس کی توفیق کے سبب ان پر اللہ نے فضیلت بخشی۔ ” ولتسئلن عما کنتم تعملون “ قیامت کے دن۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑکھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے راستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزا چکھنا پڑے اور بڑا سخت عذاب ملے۔

(94)” ولا تتخذو ا ایمانکم دخلاً “ ان کو دھوکہ دینا اور فساد برپا کرنا۔” بینکم “ کہ تم لوگوں کو دھوکہ نہ دو اور تم ان کی قسموں پر اعتماد کرلو اور تم ان کی طرف سے خوب مطمئن ہوجائو اور پھر وہ تم کو فریب و دھوکا دے کر قسمیں اور معاہدے توڑدے۔ ” فتزل قدم بعد ثبوتھا “ بےخوف اور مطمئن ہوجانے کے بعد تم ہلاک ہوجائو۔ عرب کا محاورہ ہے کہ عافیت کے بعد اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے یا سلامتی کے بعد کسی گڑھے میں گرپڑتا ہے تو کہتے ہیں اس کا قدم پھسل گیا۔ ” وتذوقوا السراء بما صددتم عن سبیل اللہ “ بعض نے کہا کہ تمہارے لیے لوگوں کے ساتھ نقض عہد کو آسان کردیا گیا ہے کہ تم ان کے ساتھ نقض عہد کرو۔ ” ولکم عذاب عظیم “
Ayah 16:95

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اسکے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو (صلہ) خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔

(95)” ولا تشترو ا بعھد اللہ ثمناً قلیلاً “ اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد تم ان چند چیزوں سے نہ توڑو کہ دنیا کا کچھ مال تمہیں مل جائے لیکن تم اس عہد کو پورا کرو۔ ” انما عند اللہ ھو “ اسی کے پاس تمہارے لیے ثواب جو تم نے عہد پورا کیا ہے۔” خیرلکم ان کنتم تعلمون “ ان دونوں عوضوں سے بڑھ کر یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔
Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجاتا ہے جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے (کہ کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔

(96)” ما عندکم ینفد “ جو کچھ دنیا میں ہے اور دنیا بھی فانی ہے۔ ” وما عنداللہ باقی ولنجزین “ ابو جعفر، ابن کثیر، عاصم نے نون کے ساتھ پڑا ہے اور دوسراے قراء یاء کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ” الذین صبروا “ عہد کی پاسداری میں خواہ خوشی میں ہو یا تنگی میں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی دنیا کو پسند کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آخرت کو پسند کرتا ہے وہ اپنی دنیا کا ضرر کرتا ہے۔ تم باقی رہنے والی چیز کو فناء ہونے والی پر ترجیح دو ۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص نیک عمل کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔

(97)” من عمل صالحاً من ذکر اونثیٰ وھو مومن فلنحینہ حیاۃ طیبۃ “ سعید بن جبیر ؓ اور عطاء کا قول ہے کہ اس سے مراد درزق حلال ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے قناعت مراد ہے۔ مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ اطاعت میں زندگی گزارنا مراد ہے۔ ابو بکر وراق کا قول ہے کہ اس سے مراد طاعت کی شیرینی پاکیزہ زندگی ہے ۔ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد جنت ہے۔ عوف نے حسن سے روایت نقل کی ہے کہ حسن نے فرمایا کہ جنت کے علاوہ کسی کی زندگی طیب نہیں ہوتی ۔” والنجز ینھم اجرھم یا حسن ما کانوا یعلمون “۔
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

تفسیر : 98۔” فاذا قرأت القرآن “ جب تم قرآن پڑھنے کا ارادہ کرلو ۔ ” فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔” اذا قمتم الی الصلوٰۃ فاغسلوا “ تعوذ پڑھنا قرأۃ قرآن کے وقت مسنون ہے اور یہی اکثر علماء کا قول ہے کہ قرآن کی تلاوت سے پہلے تعوذ پڑھاجائے اور حضرت ابوہریرہ ؓ کا ایک قول ہے کہ قرأت کے بعد تعوذ پڑھے۔ ان کے ہاں یہ الفاظ ہیں اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نماز میں داخل ہوجاتے تھے تو تین بار اللہ اکبر کبیرا ً اور تین بار الحمد للہ کثیرا ً اور تین بار ” سبحان اللہ بکرۃ واصیلا ًکہنے کے بعد اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھتے تھے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ۔ ” اللھم انی اعوذبک من الشیطان الرجیم من ھمزہ ولمزہ و نفخہ ونفثہ “ میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں شیطان مردود سے ، اس کی پھونک سے اور اس کے دم کرنے سے اور اس کے وسوسے سے۔
Ayah 16:99

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

کہ جو مومن ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں ان پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا۔

آیت ولاتکونوا کالتی نقضت غزلھا کا شان نزول 99۔” انہ لیس لہ سلطان “ نہ اس کے لیے ان کے پاس کوئی حجت اور ولایت ہوگی ۔ ” علی الذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون “ سفیان نے اس کا مطلب یہ نہ ان کے لیے اس دن کوئی مدد گار ہوگا جس پر یہ اپنے گناہ کا بار ڈال سکیں اور ان کو بخش دیں۔
Ayah 16:100

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسو سے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں۔

” انما سلطانہ علی الذین یتولونہ “ جو شیطان کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی ولایت میں داخل ہیں ۔” والذین ھم بہ مشرکون “ یعنی وہ اللہ کیس اتھ شریک کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ کنا بتۃ یہ شیطان کی طرف راجع ہے ۔ یعنی شیطان کی وجہ سے اس کے اغواء کے سبب شرک کرتے ہیں ۔
Ayah 16:101

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کوئی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم تو (یونہی) اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں۔

” واذا بدلنا آیۃ مکان آیۃ “ یعنی جب ہم ایک حکم کو بدل کر اس کی جگہ دوسرے حکم کو لے آتے ہیں ۔ ” واللہ اعلم ما بنزل “ وہی زیادہ جانتا ہے کہ میری مخلوق کے زیادہ مناسب کیا ہے کس احکام کو تبدیل یابدلنا ہے ۔ ” قالو انما انت “ یعنی اے محمد ! (ﷺ )” مفقر “ مشرکین نے کہا کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں سے مذاق کرتے ہیں ۔ آج ایک حکم دیتے ہیں اور کل اس کی ممانعت کردیتے ہیں یہ از خود تراش کر اللہ پر درو وغ بندی کرتے ہیں ۔ ” بل اکثرھم لا یعلمون “ قرآن کی حقیقت کو اکثر نہیں جانتے اور ناسخ منسوخ کے بیان کو بھی نہیں جانتے ۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لیکر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے۔

” قل نزلہ “ اس سے قرآن کریم مراد ہے ۔ ” روح القدس “ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں ۔ (رح) ” من ربک بالحق “ اس سے سچائی مراد ہے۔” لیثبت الذین امنوا “ تاکہ اس کے ذریعے مؤمنین کے دلوں کو ثابت قدم رکھے اور ان کے ایمان کو اور زیادہ پختہ کرے۔ ” وھدی وبشری للمؤمنین “ ۔
Ayah 16:103

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کیطرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔

تفسیر : ولقد نعم انھم یقولون انما یعلمو بشر “ ان کو یہ کلام آدمی سکھلا جاتا ہے یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے ۔ انما یعلمہ بشر کی تعیین میں مفسرین کے اقوال : اس بشر کی تعیین میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ مکہ میں ایک عیسائی عجمی غلام تھا جو لوہار تھا۔ اس کا نام بلعام تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آتے جاتے تھے ۔ مشرکوں نے آپ کو بلعام کے پاس آتا جاتا دیکھ کر کہا کہ اس کو بلعام سکھا دیتا ہے ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ بنی مغیرہ کا ایک غلام تھا جس کا نام یعیش تھا وہ کتابیں پڑھتا تھا، رسول اللہ ﷺ اس کو قرآن سکھاتے تھے۔ قریش کہنے لگے ان کو یعیش سکھا دیتا ہے ۔ قراء کا قول ہے کہ جو یطب بن عبد العزی کا ایک غلامت ھا جس کی زبان عجمی تھی، اس کا نام عائش تھا، مشرک کہنے لگے یہ عائش سے سیکھ لیتے ہیں ۔ آخر میں عائش مسلمان ہوگیا اور اسلام میں پختہ رہا ۔ ابن اسحاق نے بیان کیا کہ رسول اللہ علیہ وسلم مردہ پہاڑی کے قریب ایک رومی عیسائی غلام کے پاس بیٹھا کرتے تھے ، اس کا نام جبر تھا ، یہ بنی الحضر م قبیلہ میں سے کسی کا غلام تھا اور کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن مسلم حضرمی کا قول ہے ہمارے دو غلام تھے جو یمن کے تھے ۔ ایک کا نام یسار اور دوسرے کا نام جبر تھا، یسار کی کنیت ابو فکہیہ تھی، دونوں مکہ میں تلواریں بنایا کرتے تھے اور تورات و انجیل پڑھا کرتے تھے کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ ان کی طرف سے گزرتے تھے اور وہ پڑھتے ہوتے تو حضور ﷺ ٹھہر کر سننے لگتے ۔ ضحاک کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کفار دیکھ دیتے تو آپ ان دونوں غلاموں کے پاس جاکر بیٹھ جاتے اور ان کے کلام سے کچھ سکھ محسوس کرتے ۔ مشرک کہنے لگے محمد انہی دونوں سے سیکھ لیتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ نے مشرکوں کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا ۔ ” لسان الذی یلحدون الیہ “ ان کی طرف ماسئل ہوا یا ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ ” اعجمی “ عجمی وہ شخص جو فصاحت و بلاغت پر قادر نہ ہو ۔ اگر چہ وہ عجمی جگہ رہنے والا ہو ۔ عجمی یہ منسوب ہے عجم کی طرف ۔ اگر چہ وہ فصح ہو ۔ اعرابی بدوی کو کہیت ہیں عربی منسوب ہے عرب کی طرف ۔ اگر چہ وہ غیر فصیح ہو ۔ ” وھذا لسان عربی مبین “ اس سے مراد فصیح زبان ہے ۔ یہاں لسان سے قرآن مراد ہے اور عربی کہتے ہیں لغت لسان اور انہی سے مروی ہے کہ وہ شخص جو اسلام لے آئے اور اچھا سلام لائے، عربی اس کی طراشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
Ayah 16:104

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔

” ان الذین لا یؤمنون بآیات اللہ لا یھدیھم اللہ “ اللہ ان کو ہدایت نہیں دے گا۔ ” ولم عذاب الیم “ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دی کہ کفار ہی جھوٹ باندھتے ہیں ۔
Ayah 16:105

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ افترا تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں۔

” انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بآیات اللہ واولئک ھم الکذبون “ یہ سب لوگ جھوٹے ہیں نہ کہ محمد ﷺ اور انکے صحابہ ؓ ۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ جب پہلے یہ کہہ دیا ” انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون “ پھر آگے ۔ ” اولٰئک ھم الکذبون “ کا معنی کیا ہے ؟ جواب یہ کہ ” انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون “ ان کے فعل کی خبر دینا ہے اور ” وھم الکاذبون “ ان کی صفت ہے ۔ جیسے کوئی شخص دوسرے کو کہے کہ تونے جھوٹ بولا اور تو جھوٹا ہے ۔ ” ای کذبت فی ھذالقول “ کہ تم اپنی بات میں جھوٹ ہو ۔ حضرت عبد اللہ بن جراد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) کیا مؤمن زنا کرسکتا ہے ؟ فرمایا کبھی ایساہو سکتا ہے میں نے عرض کیا کیا مؤمن چوری کرسکتا ہے ؟ فرمایا کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کیا مؤمن جھوٹ بول سکتا ہے ؟ فرمایا نہیں ، اللہ نے فرمادیا ہے ۔ ” انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بآیات اللہ “
Ayah 16:106

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کیساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔

الا من اکرہ کا شان نزول : تفسیر : ’ ’ من کفر باللہ من بعد ایمانہ لا من اکرہ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول عمار ضی اللہ عنہ کے متعلق ہوا ۔ مشرکوں نے حضرت عمار کو اور ان کے والد حضرت یاسر کو اور ان کی ماں حضرت سمیہ کو اور حضرت صہیب ، حضرت بلال ، حضرت حبیب ، حضرت سالم کو پکڑ کر سخت ترین جسمانی دکھ دیئے ۔ حضرت سمیہ ؓ کو دو اونٹوں کے درمیان باندھ دیا گیا اور شرمگاہ میں نیزہ ڈال کر کاٹ دیا گیا۔ حضرت یاسر کو بھی قتل کردیا گیا ، اسلام میں سب سے پہلے یہی دو نوں شہید ہوئے ۔ حضرت عمار ؓ نے بامر مجبوری وہ بات زبان سے نکال دی جو مشرک چاہتے تھے ۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ بنی مغیرہ نے حضرت عمار کو پکڑ کر چاہ میمون میں غوطے دیئے اور کہا محمد کا انکار کر ۔ حضرت عمار ؓ نے وہی بات کہہ دی جو مشرک چاہتے تھے مگر آپ کا دل اس بات سے نفرت کرتا تھا، دل کو انکار رسالت گوارہ نہ تھا، کسی نیجاکررسول اللہ ﷺ کو اطلاع دے دی کہ عمار کا فر ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں ۔ حضرت عمار کے اندر تو چوٹی سے لیکر قدم تک ایمان بھرا ہوا ہے ۔ اس کے خون وگوشت میں ایمان سرایت کر گیا ہے ۔ آخر حضرت عمار ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا بات ہے ؟ عرض کیا یارسول اللہ ! (ﷺ ) بات بری ہے ، میں نے آپ کو برا کہہ دیا اور (بطور انکار کے ) آپ کا ذکر کر کیا۔ فرمایا اس وقت تمہار دل کی کیا حالت تم کو محسوس ہو رہی تھی۔ عرض کیا دل تو ایمان پر مطمئن تھا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے حضرت عمار ؓ کے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا ، اگر وہ دوبارہ تمہارے ساتھ ایسی حرکت کریں تو تم دوبارہ لوٹا سکتے ہو ۔ اس پر آیت نازل ہوئی ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول مکہ کے چند مسلمانوں کے حق میں ہوا تھا ، بعض صحابہ ؓ نے ان کو لکھا تھا کہ مکہ چھوڑ آئو، جب تک ہجر ت کر کے ہمارے پاس نہ آجائو گے ہم تم کو اپنے میں شمار نہیں کریں گے ۔ اس تحریر پر وہ لوگ مکہ چھوڑ کر مدینہ چل دیئے ، راستے میں ان کو قریش نے پکڑ لیا اور سخت دکھ دیئے ، مجبور اً بنفرت خاطر ناگواری کے ساتھ کلمات کہہ دیئے۔ مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ اس آیت کا نول عامر بن حضرمی کے غلام جبر کے حق میں ہوا ۔ ان کے آقا نے ان پر زبردستی کی تھی۔ مجبوراً جبر سے کلمہ کفر کہلوا دیئے تھے ۔ ” وقلبہ مطمئن بالا یمان “ پھر جبر کا آقا بھی مسلمان ہوگیا اور اسلام میں پختہ رہا اور جبر کو ساتھ لے کر اس نے بھی مدینہ کو ہجرت کرلی ۔” ولکن من شرح بالکفر صدرا “ اور جو شخص کفر کو دل سے اختیار کرلے ۔ ” فعلیھم غضب من اللہ ولھم عذاب عظیم “ علماء کرام اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص کو کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا گیا تو اس کے لئے زبان سے کلمہ کفر کہنا جائز ہے ۔ اگر اس کو زبان سے بغیر عقیدہ کے کہہ دیا تو یہ کفر نہیں اور اگر اس نے کلمہ کفر کہنے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ وہ قتل کردیا گیا تو یہ اس کے لئے افضل ہے ۔ بعض اہل علم نے مکرہ کی طلاق پر اختلاف ذکر کیا ہے تو بعض کے نزدیک طلاق واقع نہیں ہوگی۔
Ayah 16:107

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے کہ خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

” ذلک بانھم اتحبوا “ انہوں نے اس کو ترجیح دی۔ ” الحیؤ ۃ الدنیا علی الا خرۃ وان اللہ لا یھدی القوم الکافرین “ ان کو ہدایت نہیں دیتا ۔
Ayah 16:108

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

” اولئک الذین طبع اللہ علی قلو بھم وسمعھم وابصارھم واولئک ھم الغافلون “ …
Ayah 16:109

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔

” لا جرم “ لازمی بات ہے ۔ ” انھم فی الا خرۃ ھم الخاسرون “ وہ آخرت میں گھاٹے میں ہوں گے۔
Ayah 16:110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بیشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت والا ہے۔

تفسیر :” ثم ان ربک للذین ھاجروامن بعد ما فتتوا “ ان کو تکالیف دی گئیں اور سلام سے ان کو روکا گیا اور مشرکوں نے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا۔ ” ثم جاھدوا وصبر وا “ ایمان ، ہجرت اور جہاد پر صبر کرتے رہے ، ” ان ربک من بعدھا “ اس فتہ اور غفلت کے بعد ’ ’ لغفور رحیم “ اس آیت کا نزول عیاش بن ابی ربیعہ جو ابو جہل کے رضاعی بھائی اور ابو جندل بن سہیل بن عمرو اور ولید بن ولید بن مغیرہ ، سلمہ بن ہشام ، عبد اللہ بن ابی اسید ثقفی کے متعلق ہوا ۔ مشرکوں نے ان کو سخت اذیتیں دی تھیں ۔ انہوں نے مشرکوں کو ایذاء سیبچنے کے لئے کچھ ایسے الفاظ کہہ دیئے جو مشرک کہلوانا چاہتے تھے پھر مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے گئے۔ حسن اور عکرمہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے متعلق ہوا ۔ عبد اللہ رسو ل اللہ ﷺ کا تب تھا۔ پھر مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا اور کافروں سے جاملا تھا ۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے اس کو قتل کردینے کا حکم دے دیا تھا۔ عبد اللہ چونکہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کا اخیافی بھائی تھا۔ اس لئے اس نے حضرت عثمان ؓ سے پناہ کی درخواست کی ۔ حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی سفارش کردی اور حضور ﷺ نے اس کو پناہ دے دی ۔ اس کے بعد عبد اللہ پکا مسلمان ہوگیا اور وہ خوب اسلام میں پختہ رہا۔ اسی کے متعلق یہی آیت نازل ہوئی ۔ ابن عامر نے ” فتو ا “ فاء کے فتحہ اور ناء کے فتحہ کیساتھ ۔ یعنی کافر ہونے اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانے کے بعد ایمان لاکر انہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا۔
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا۔

” یوم تاتی کل نفس تجادل “ جھگڑا کرے گا اور محتاج ہوگا۔ ” عن نفسھا “ جو اس نے اپنے لئے آگے بھیجا ہوگا اس کے لئے وہ فکرمند ہوگا۔ اس کو کسی دوسرے کی فکر نہیں ہوگی ۔ ” و توف ی کل نفس ما عملت وھم لا یظلمون “ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کعب احبار سے فرمایا ہمارے اندر خوف پیدا کرو ۔ کعب احبار نے عرض کیا امیر المؤمنین اگر ستر پیغمبروں کے برابر عمل کر کے آپ قیامت کا دن پائیں گے تب بھی قیامت آپ پر بار بار ایسے حالات لائے گی کہ اس وقت آپ کو اپنی جان کے علاوہ کسی دوسرے کا خیال ہی نہیں رہے گا ۔ جہنم ایک ایسا دم کھینچے گی کہ ہر مقرب فرشتہ اور ہر بر گزیدہ نبی دوزا نو بیٹھ جائے گا یہاں تک کہ حضرت ابراہیم بھی کہہ اٹھیں گے میں تجھ سے صرف اپنی جان کی امان مانگتا ہوں اس کی تصدیق اللہ کی بھیجی ہوئی آیت میں موجود ہے ۔ ارشاد فرمایا : ” یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا “ روح اور بدن کی مثال اندھے اور اپاہج کی ہے عکرمہ نے اس آیت کے ذیل میں ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں میں باہم جھگڑا برابر ہوتا رہے گا یہاں تک کہ روح اور بدن میں بھی باہم جھگڑا ہوگا ، روح کہے گی اے میرے رب ! نہ مییر ہاتھ تھے جن سے میں پکڑتی نہ میرے پائوں تھے جن سے میں چلتی نہ میری آنکھ تھی کہ میں دیکھتی بدن کہے گا تو نے مجھے لکڑی کی طرح پیدا کیا تھا، میرے ہاتھ نہ تھے کہ میں پکڑ تا میرے پائوں نہ تھے کہ میں ان سے چلتا نہ میری آنکیں تھیں کہ میں ان سے دیکھتا ۔ جب یہ میری اندر نور کی شعا ع کی طرح آگئی تو میری زبان بولنے لگی ، میری آنکھ بینا ہوگئی اور میرے پائوں رواں ہوگئے ، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ، اللہ نے روح اور جسم کو اس طرح بنایا ہے جیسے ایک اندھا اور ایک اپاہج کسی کے باغ میں پہنچ گئے ، باغ میں درختوں پر پھل لگے ہوئے تھے ، اندھا تو پھلوں کو دیکھ ہی نہیں سکتا تھا اور اپاہج تو دیکھ سکتا تھا، پھلوں تک پہنچ نہیں سکتا تھا، آخر اندھے نے اپاہج کو اپنے اوپر سوار کرلیا ، اسی طرح دونوں نے پھل حاصل کر لئے روح اور بدن دونوں اسی طرح عذاب میں پکڑے جائیں گے۔
Ayah 16:112

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا۔

” وضرب اللہ مثلاً قریۃ کانت آمنۃ “ قریۃ سے مراد مکہ ہی ہے نہ اس میں رہنے والے کسی چیز کے محتاج ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کو ڈاکوئوں وغیرہکا خطرہ ہوتا ہے ۔ ” مطمئنۃ “ اپنی جگہ برقرار رہنے والے ، دوسری جگہ منتقل ہونے کے محتاج نہیں ، جیسے دوسری بستیوں کو ڈاکوئوں وغیرہ کا خطرہ ہوتا ہے تو وہ اپنی جگہ بدل دیتے ہیں ایسے یہاں بھی ہے ۔ ” یا تیھا رزقھا رغدا من کل مکان “ اس کی طرف بھیجا جاتا ہے خشکی کے راستے سے بھی اور سمندر کے ذریعہ سے بھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” تجئی الیہ ثمرات کل شئی “…” فکفرت بانعم اللہ “ جمع ہے نعمۃ کی اور بعض نے کہا کہ نعماء کی جمع ہے ۔ جیسے ” با ساء وابوس “ …” فا ذاقھا اللہ لباس الجوع “ ۔ مکی دور میں فاقہ کی حالت اللہ تعالیٰ نے ان کو بھوک کی آزمائش سات سال تک دی۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے تمام عرب نے مکہ کو کھانے پینے کا سامان بھیجنا بند کردیا ، ہر طرف سے رسد کی بندش ہوگئی اور اس قدرفاقوں کی نوبت آگئی کہ لوگوں نے جلی ہوئی ہڈیاں ، مردار جانور ، مردہ کتے ، اونتوں کے اون اور خون سے پکا ہوا مخلوق قوام تک کھالیا ۔ فاقوں کی وجہ سے نظر کی یہ حالت ہوگئی کہ آسمان کی طرف ناگہ اٹھا کر دیکھتے تھے تو دھواں سا نظر آتا تھا، اس حالت میں مجبور ہو کر سردار ان مکہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ دشمنی تو مردوں سے ہے عورتوں اور بچوں کا کیا قصور ہے ؟ آخر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو غلہ کی رسد پہنچانے کی اجازت دے دی اور عرب مکہ کو خوردنی جنس بھیجنے لگے ۔ اہل مکہ اس زمانے میں مشرک تھے ، لباس سے مراد ہے وہ اثر جو بھوک اور خوف کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے لاغری اور رنگ کا متغیر ہونا ۔ ” والخوف “ رسول اللہ ﷺ کے فوجی دستے کے حملے کرنے کا خوف ہوا۔ ” بما کانو ا یصنعون “ ۔
Ayah 16:113

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔

تفسیر :” ولقد جاء ھم الرسول منھم “ اس سے حضرت محمد ﷺ مراد ہیں ۔ ” فکذبوہ فا خذھم العذاب وھم ظالمون “۔
Ayahs 16:114–115

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس خدا نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو اگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(114)” فکلو ا مما رزقکم اللہ …تا …ایاہ تعبدون “ (115)” انما حرم علیم المیتہ …تا …غفوررحیم “
Ayah 16:116

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھال نہیں ہوگا۔

(116)” ولا تقرلوا لما تصف السنتکم الکذب “ اور نہ کہوتم اپنی زبانوں کے ساتھ جھوٹ یا جھوٹ کے وصف کیساتھ کوئی بات زبان سے نہ نکالو ، از خود کسی کو حلال اور کسی کو حرام بناتے ہو ۔ یہ محض تمہار کذب کی وجہ سے ہے نہ کہ کسی اور وجہ سے ۔ ” ھذا حلال وھذا حرام “ بحیرہ اور سائیہ ” لتفتر واعلی اللہ الکاذب “ اور وہ اللہ پر دورغ بندی کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حکم اللہ نے دیا ہے ۔” ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون “ وہ اللہ کے عذاب سے نجات نہیں دلا سکتے ۔
Ayah 16:117

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اسکے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا۔

(117)” متاع قلیل “ جو ان کے پاس تھوڑا سا سامان ہے یا ان کے لئے دنیا میں تھوڑا سا سامان بطور فائدے کے لئے تھا ۔ ” ولھم عذاب الیم “ آخرت میں ۔
Ayah 16:118

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو چیزیں ہم تم کو پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔

تفسیر :( 118)” وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیکم من قبل “ سورة انعام میں اس کا ذکر ہوچکا ہے ” وعلی الذین ھادواحرمنا کل ذی ظفر “ …” وما ظلمنا ھم “ ان چیزوں کے حرام کرنے کی وجہ سے ہم نے ان پر زیادتی نہیں کی ۔ ” ولکن کانوانفسھم یظلمن “ ان کی سرکشی کی وجہ سے ان پر کچھ اشیاء حرام کردی گئی تھیں ۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ اور نیکو کار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور (ان پر) رحمت کرنے والا ہے۔

(119)” ثم ان ربکم للذین عملوالسوء بجھالۃ ثم تابوامن بعد ذلکم واصلحوا “ اپنی توجہ پر استقامات ہونے کے باوجود کوئی گناہ سرزد ہوگیا ۔ ’ ’ ان ربکم من یعلھا “ ان کی جہالت کی وجہ سے یا خواہش نفس کی وجہ سے اور گناہ کے نتیجہ پر غور نہ کرنے پر ” لغفور رحیم “ تو اس گناہ کو معاف فرمادیں گے ۔
Ayah 16:120

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (لوگوں کے) امام (اور) خدا کے فرمانبرادار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

(120)” ان ابراھیم کان امۃ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معلم خیر تھے ۔ تمام دنیا کے لوگ آپ کی اقتداء کرتے تھے ۔ ’ د وہ تمام خصلتیں آپ (علیہ السلام) میں موجود تھیں جو کسی امت میں موجود نہیں تھیں۔ مجاہد کا قول ہے تنہا آپ ہی مؤمن تھے باقی سب لوگ کافر تھے ۔ قتادہ کا قول ہے وہ اہل دین میں سے نہیں جو ان کی پیروی نہ کرے ۔” قا تن اللہ “ اس سے مراد مطیع ہے ۔ اللہ کے اوامرکو قائم کرنے والا ۔” حنیفا “ دین اسلام پر قائم رہنے والا اور بعض نے کہا دین اسلام میں مخلص رہنے والا ۔ ” ولم یک من المشرکین “ ۔