Ayah 16:41آیت والذین ھاجروا کا شان نزول
(41)” والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا “ اللہ کے معاملے میں ان کو عذاب دیا گیا اور تکلیفیں دی گئیں۔ اس آیت کا نزول حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت خباب، حضرت عمار، عابس، جبیر، ابی جندل بن سہل رضوال اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں ہوا۔ مشرکین مکہ نے ان کو پکڑ کر بہت اذیتیں پہنچائیں۔
قتادہ کا (رح) کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول چند صحابہ ؓ کے متعلق ہوا جن پر مکہ والوں نے مظالم ڈھائے تھے اور ان کو گھروں سے نکال کر باہر کردیا انہی مظلوموں میں سے ایک جماعت ملک حبشہ کو چلی گئی۔ پھر اللہ نے ان کو مدینہ میں ٹھکانہ دے دیا۔ مدینہ کو ان کے لیے دارالحجرت بنادیا اور کچھ مومنوں کو ان کا مددگار بنادیا۔ ” لبنوئنھم فی الدین حسنہ “ اس ٹھکانے سے مراد مدینہ ہے۔
حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ وہ جب کسی مہاجر کو کچھ عطا فرماتے تھے تو کہتے تھے یہ لے لو اللہ تمہیں مبارک کرے یہ چیز تو وہ ہے جس کے دینے کا اللہ نے تم سے دنیا میں وعدہ کیا تھا اور آخرت میں تمہارے لیے رکھ چھوڑا ہے وہ بہت بہتر ہے۔ پھر آپ یہی آیت تلاوت فرماتے تھے۔ بعض کا قول ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی کریں گے۔ بعض نے کہا کہ دنیا میں بھلائی سے مراد ہے ایمان کی توفیق اور نیکی کی ہدایت۔” ولا جر الاخرۃ اکبراو کانو ایعلمون “… لو کانوا یعلمون “ سے مراد مشرکین ہیں کیونکہ مومنین تو آخرت کے اجر کے متعلق جانتے تھے۔
Ayah 16:42تفسیر (42)” الذین صبروا “ کافروں کی طرف سے ان پر جو مصائب و مشکلات آئی ہیں ان پر صبر کرتے ہیں۔” وعلی ربھم یتوکلون “
Ayah 16:43(43)” وما ارسلنا من قبلک الا رجالاً نوحی الیھم “ یہ مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اور وہ کہنے لگے کہ اللہ بہت بڑا ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی آدمی اللہ کا پیغمبر نہیں ہوسکتا، اللہ نے ہماری ہدایت کے لیے کسی فرشتے کو کیوں نہیں بھیجا ؟ ” فاسئلوا اھل الذکر “ اس سے مراد اہل کتاب کے مومن مراد ہیں۔” ان کنتم لا تعلمون “
Ayah 16:44(44)” بالبینات والزبر “ اس کا تعلق ما قبل آیت ” وما ارسلنا “ کے ساتھ ہے۔ پھر اس صورت میں عبارت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تم سے پہلے واضح نشانیاں اور کتابیں نہیں بھیجیں اور جن کی طرف بھیجی گئیں وہ کیا مرد نہیں تھے ؟ اور ہم نے اس سے پہلے بھی فرشتے نہیں بھیجے اور بعض نے کہا کہ اس کی تاویل یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد جن کی طرف ہم وحی کرتے ہیں۔ ہم نے ان کو بھیجا ہے واضح دلائل اور کتابیں دے کر۔ ” وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم “ اس ذکر سے مراد وحی ہے اور نبی کریم ﷺ وحی کو بیان کرنے والے ہیں اور اسی کتاب کی وضاحت سنت سے معلوم ہوتی ہے۔ ” ولعلھم یتفکرون “
Ayah 16:45(45)” افامن الذین مکروا “ جنہوں نے ان جیسے عمل کیے۔ ” السیئات “ اس سے پہلے مراد نمرود بن کنعان وغیرہ کفار کے مراد ہیں۔ ” ان یخسف اللہ بھم الارض او یاتیھم العذاب من حیث لا یشعرون “
Ayah 16:46(46)” اویا خذھم “ ان کو عذاب سے پکڑ لے۔ ” فی تقلبھم “ ان کو سفر کی طرف پھیر دیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ اختلاف سے کیا گیا اور ابن جریج کے نزدیک اس کا معنی اقبال و ادبار ( دونوں ہم معنی) مراد لیے ہیں۔” فما ھم بمعجزین “ وہ اللہ تعالیٰ سے ہرگز سبقت نہ کرسکتے۔
Ayah 16:47(47)” اویا خذھم علی تخوف “ تخوف کا معنی ہے گھٹانا ان کے اطراف اور ان کے مختلف قبیلے بعد از دیگرے کاٹے گئے یہاں تک کہ سب کو ہلاک کردیا گیا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” تخوفہ الدھر “ زمانے نے اس کو جسمانی و مالی نقصان پہنچایا۔ یہ بنو ہذیل کی لغت میں ہے۔ ضحاک اور کلبی رحمہما اللہ کا بیان ہے اس کا معنی خوف ہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان میں سے ایک جماعت کو ہلاک کردیا گیا تاکہ بعد میں آنے والے اس سے خوف زدہ ہوجائیں کہ ان کو بھی وہی ہلاکت پہنچ سکتی ہے جس طرح ان کو پہنچتی ہے۔ ” فان ربکم لرئوف رحیم “ اسی وجہ سے وہ جلدی نہیں کرتا عذاب دینے میں۔
Ayah 16:48تفسیر (48)” اولم یروا الی ما خلق اللہ من شئی “ حمزہ اور کسائی نے ” تروا “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح سورة عنکبوت میں ذکر کیا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” یتفیوا “ ابو عمر اور یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ظلالہ “ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں اور ایک طرف سے دوسری طرف وہ چکر لگاتے ہیں، دن کے اول حصے میں ایک طرف کو جھکتے ہیں اور دن کے آخری وقت میں دوسری جانب جھکتے ہیں اور یہ دونوں طرف بحکم الٰہی جھکتے ہیں۔ ان کا ایک طرف سے دوسری طرف میلان ہونا گویا اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا ہے اور اسی سے کہاجاتا ہے شام کے وقت سایہ مغرب سے مشرق کی طرف لوٹتا ہے۔ اس سایہ کا لوٹنا اور سجدہ کا میل کرنا جیسا کہ کہا جاتا ہے ” سجدت التخلہ “ کھجور کا درخت سجدہ کرنے لگا۔ یعنی پھلوں کا زیادہ بار پڑنے کی وجہ سے جھک گیا۔ ” عین الیمین والشمائل سجداً للہ “ قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ کا قول ہے یمین سے مراد دن کا اول حصہ اور شمال سے دن کا آخری حصہ مراد ہے۔ اس کا سایہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے۔ کلبی (رح) کا قول ہے کہ وہ سایہ جو طلوع شمس سے پہلے ہوتا ہے خواہ وہ دائیں طرف سے ہو یا بائیں طرف سے یا سامنے سے یا پیچھے سے۔ اسی طرح جب وہ طلوع ہو یا غروب ہو۔ جب یہ طلوع ہوتا ہے تو سامنے سے اور تھوڑا اوپر آجائے تو دائیں طرف سے اور اگر اس کے اوپر آجائے تو پیٹھ کے پیچھے اور غروب شمس سے پہلے اس کا سایہ بائیں طرف ہوتا ہے تو یہ ان کے سائے کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ جب سورج زوال ہوتا ہے تو ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ بعض نے کہا کہ ظلال سے مراد اشخاص کا سجدہ کرنا۔ اگر سوال کیا جائے کہ یمین کو واحد اور شمال کو جمع کے ساتھ ذکر کیوں کیا ؟ جواب دیا گیا کہ کلام عرب میں ایک چیز کی دو علامت کو ایک ہی چیز کی طرف بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم “ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” یخرجھم من الظمات الی لنور “ اور بعض کا قول ہے کہ یمین لوٹتی ہے اللہ کے اس فرمان کی طرف ” ما خلق اللہ “ اور لفظ ماواحد ہے اور الشمائل جمع ہے جو معنی کی طرف لوٹتی ہے۔ ” وھم داخرون “ اور وہ بھی عاجز ہیں۔
Ayah 16:49(49)” وللہ یسجد ما فی السموت وما فی الارض یہاں پر ان لوگوں کو غلبہ دیا گیا جو لا یعقل ہیں عقل مندوں کو۔ یہاں حکم اغلب کا ہے ۔ جیسا کہ مذکر کو مونث پر غلبہ دیا گیا ہے ( اور مذکر کو ذکر کرتے ہیں مونث کو ذکر نہیں کرتے )…” من دابۃ “ اس سے مراد ہر وہ جانور ہے جو زمین پر رینگ کر چلتا ہے اور اسی طرح کہاجاتا ہے کہ سجدہ طاعات کے لیے بولا جاتا ہے اور تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی مطیع ہیں خواہ وہ حیوانات میں سے ہو یا جمادات میں سے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” قالتا اتینا طائعین “ اور بعض حضرات کے نزدیک ان اشیاء کو سجدہ کرنے سے مراد تذلل اور مسخر ہونا ہے اور بعض نے کہا کہ سجود سے مراد ہے کہ ہر چیز میں اللہ کی پر حکمت صنعت کا ظہور جو اہل عقل کو دعوت سجدہ دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” سنریھم ایاتنا فی الافاق “…” والمائکۃ “ یہاں پر ملائکہ کو علیحدہ ذکر کیا حالانکہ آسمانوں اور زمینوں کے ذکر میں یہ بھی شامل ہیں۔ جواب یہ دیا ہے کہ ان کی شرافت اور کرامت کے باعث ان کو علیحدہ ذکر کیا۔
اور بعض نے کہا کہ ان کو موصوف کیا ہے دبیب کے ساتھ اور دبیب جسمانی حرکت کو کہتے ہیں کہ جب ان کے پر ہوں گے اور وہ اس میں اڑیں گے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد جو آسمانوں میں وہ اللہ کے لیے سجدہ کرتی ہے، اس سے فرشتے مراد ہیں اور جو زمین میں ہیں اس سے مراد جو پائے ہیں۔ ” وھم لا یستکبرون “
Ayah 16:50(50)” یخافون ربھم من فوقھم “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” وھو القاھر فوق عبادہ “… ویفعلون ما یومرون “ میں ہے کہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں عذاب ان کے اوپر سے نازل نہ ہوجائے۔
حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے، آسمان خوب چرچرایا اور اس کو خرب چر چرانا ہی چاہیے تھا، قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ، آسمان میں کہیں بھی چار انگلی کی جگہ ایسی نہیں کہ اس میں کوئی فرشتہ سجدہ میں پیشانی نہ رکھے ہوئے ہو۔ خدا کی قسم جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور بستروں پر عورتوں سے لذت اندوز نہ ہوتے اور میدانوں میں نکل کر اللہ کے سامنے چیختے چلاتے۔ حضرت ابوذر ؓ بولے کاش میں درخت ہوتا کہ اس کو کاٹ دیاجاتا۔ اور یہی روایت ابو عیسیٰ نے احمد بن منیع ابی احمد زبیدی نے اسرائیل کے ذریعے سے روایت کی اور کہا کہ آسمان پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں پر فرشتوں نے سجدہ نہ کیا ہو۔
Ayah 16:51تفسیر (51)” وقال اللہ لا تتخذوا…تا فارھبون “
Ayah 16:52(52)” ولہ ما فی السموت والارض ولہ الدین “ اس سے مراد اطاعت اور اخلاص ہے۔” واصباً “ دائم اور ثابت ہے۔ کسی شخص کے لیے ایسا نہیں کہ وہ اطاعت کے بغیر ہلاکت اور فنا سے بچ جائے کیونکہ اطاعت ایسی ہے کہ اس سے نہ زوال آتا ہے اور نہ ہی وہ منقطع ہوتی ہے۔ ” افغیر اللہ تتقون “ کیا تم ڈرتے ہو اللہ کے سوا کسی اور سے۔ استفہام انکار کے معنی میں ہے۔
Ayah 16:53(53)” وما بکم من نعمۃ فمن اللہ “ یعنی جو کچھ تمہیں نعمتیں عطا کی گئی ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہیں۔ ” ثم اذا مسکم الضر “ اس سے مراد قحط اور مرض ہے۔ ” فالیہ تجئرون “ یعنی دعا کے وقت تم اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور زاری کرو اور اللہ کی طرف رجوع کرو۔
Ayah 16:54(54)” ثم اذا کشف… تا … یشرکون “
Ayah 16:55(55)” لیکفروا “ تم ان نعمتوں کی ناشکری کرتے ہو۔ ” بما اتیناھم “ ” لیکفروا “ میں لا م عاقبت کے لیے ہے۔ یعنی ان کے شرک کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کی۔ ” فتمتعوا “ اس دنیا میں خوب عیش و عشرت کرو۔ اس کی بہت جلد ہی تم کو خبر ہوجائے گی۔” فسوف تعلمون “ یہ تمہارے کام کا انجام ہے اور ان کے لیے وعید ہے۔
Ayah 16:56(56)” و یجعلون لما لا یعلمون “ اس سے مراد بت ہیں۔ ” نصیباً رزقناھم “ اس سے مراد کھیتی، مویشی، پھل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ان بتوں کے لیے حصے مقرر کر رکھے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کے لیے ہے اور اس میں ہمارے بت شریک ہیں۔ ” تاللہ لتسئلن “ قیامت کے دن تم سے ضرور بضرور پوچھاجائے گا۔ ” عما کنتم تفترون “ ان کو تم نے دنیا میں جو معبود بنا رکھا تھا۔
Ayah 16:57تفسیر (57)” ویجعلون للہ البنات “ اس سے مراد خزاعہ اور کنانہ والے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ” سبحانہ ولھم ما یشتھون “ وہ اپنے لیے تو لڑکوں کو پسند کرتے تھے اور (نعوذ باللہ) اللہ کے لیے لڑکیاں۔ بعض حضرات نے کہا کہ یہاں ” ولھم ما “ میں ما محل نصب میں واقع ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ابتداء میں واقع ہو، اس صورت میں یہ مرفوع ہوگا۔
Ayah 16:58(58)” واذا بشراحدھم بالا نثی ظل وجھہ مسوداً “ ان کا چہرہ غم اور ناپسندیدگی سے متغیر ہوجاتا۔ ” وھو کظیم “ وہ غصے کی وجہ سے اور غم کی وجہ سے سرخ ہوجاتے نہ تو وہ غصے کی وجہ سے اپنے اوپر قابو پاسکتے تھے اور نہ اس کو ظاہر کرسکتے تھے۔
Ayah 16:59(59)” یتواری “ وہ اس کو چھپاتے پھرتا۔” من القوم من سوء ما بشر بہ “ غم اور عار کی وجہ سے وہ اپنی قوم سے چھپتا۔ پھر وہ اس پر غور و فکر کرتا۔ ” ایمس کہ “ یہاں کنایۃ ذکر کیا گیا ہے یہ ماقبل (ما) کی طرف سے رد ہے۔ ” علی ھون “ اس کو اپنے پاس روکے رکھے۔
ام یدسہ فی التراب کی تفسیر
” ام یدسہ فی التراب “ اس کو چھپائے یا زمین میں زندہ درگور کرلے۔ قبیلہ مضر اور بنی خزاعہ اور بنی تمیم لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔ ایک تو ان کو ناداری کا اندیشہ ہوتا تھا کہ لڑکیاں کچھ کما کر نہیں لا سکتیں اور دوسرا خوف ان کو یہ ہوتا تھا کہ غیر کفوان سے کہیں نکاح کرنے کا لالچ نہ کرنے لگیں۔ عرب کے بعض لوگوں کا دستور تھا کہ جب لڑکی پیدا ہوتی اور وہ اس کو زندہ رکھناچاہتا تو ان کو اون کا یا بالوں کا کرتہ پہنا کر جانور چرانے کی خدمت پر لگا دیتا تھا اور اگر قتل کردیناچاہتا تو چھے سال کی عمر تک اس کو چھوڑے رکھتا، جب وہ چھ سال کی ہوجاتی تو اس کی مال کو کہتا کہ اس کو بنا سنوار کر تیار کردے، پھر اس کو کہیں جنگل میں لے جاتا، وہاں پہلے سے ایک گہرا گڑھا کھود کر تیار رکھتا، جب لڑکی کو لے کر وہاں پہنچتا تو لڑکی سے کہتا دیکھ تو اس گڑھے میں کیا ہے، لڑکی دیکھنے کو جونہی جھکتی یہ سنگدل باپ پیچھے سے اس کو دھکا دے دیتا اوپر سے مٹی ڈال کر زندہ دفن کردیتا اور گڑھے کو ہموار کردیتا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” ایمس کہ علی ھون ام یدسہ فی التراب “ کا یہی مطلب ہے۔
فرزدق کے دادا صعصعہ کو اگر کہیں اس کی حس مل جاتی تو لڑکی کے باپ کے پاس لڑکی کے عوض کچھ اونٹ بھیج دیتا اور اس طرح وہ لڑکی کی طرف سے چھٹکارا پا لیتا۔ فرزدق نے بطور فخر اسی واقعہ کی طرف درج ذیل شعر کہا ہے :
وعمی الذی متع الوائدت فاحیا الوئید فلم یواد
میرا دادا تھا جس نے زندہ دفن کرنے والوں کو زندہ دفن کرنے سے روکا اور اور زندہ درگور ہونے والی کی زندگی عطا کی۔
” الا ساء ما یحکمون “ کیسی بری ہے جس کے بارے میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اپنے لیے تو بیٹے تصور کرتے ہیں اور ( نعوذ باللہ) اللہ کے لیے بیٹیاں۔ حالانکہ اللہ ہر چیز سے پاک ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” الکم الذکر ولہ الانثیٰ تلک اذا قسمۃ ضیزی “ بعض نے کہا کہ ان کا یہ بچیوں کو زندہ دوگور کرنے والا فیصلہ بہت برا ہے۔
Ayah 16:60(60)” للذین لا یومنون بالاخرۃ “ یعنی وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ بیٹیوں کو موصوف کرتے تھے اور اپنے لیے بیٹوں کو ” مثل السرئ “ اس کی بری صفت ہے کہ اپنے لیے لڑکوں کے محتاج ہیں اور لڑکیوں سے ناپسندیدگی اختیار کرتے ہیں اور فقر کے خوف سے ان کو قتل کرتے ہیں۔ ” وللہ المثل الاعلیٰ “ بلندی والی صفت وہ کلمہ طیبہ ہے اور وہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بعض نے کہا کہ مثل الاعلیٰ سے مراد تمام صفات کمالی وجلالی اور علمی اور قدرت اور بقاء والی صفات اسی ذات یکتا میں ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مثل السوء سے مراد آگ ہے اور المثل الاعلیٰ سے مراد گواہی دینا ہے کہ
Ayah 16:61تفسیر (61)” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمھم “ ان کو سزا دینے میں جلدی کرے یا مواخذہ کرنے میں جلدی کرے ان کے کفر کی وجہ سے اور نافرمانی کی وجہ سے ” ماترک علیھا “ زمین پر یہ کنایۃ ذکر کیا گیا ہے جو مذکور نہیں ہے۔” من دابتۃ “ حضرت قتادہ نے اس آیت کے متعلق لکھا ہے کہ ایسا حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوچکا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور چڑھ گئے وہ بچ گئے اور باقی ہلاک کردئیے گئے۔
ظلم کی وجہ سے چڑیاں بھی اپنے گھونسلے میں بھوکی مرجاتی ہیں
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ظالم صرف اپنے نفس کو ہی ضد پہنچاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کیوں نہیں، خدا کی قسم ! یہاں تک کہ ظالم کے ظلم کی پاداش میں چڑیاں اپنے آشیانوں میں بھوکی مرجاتی ہیں۔
ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ابن آدم کے گناہ کی وجہ سے جعل اپنے سوراخ میں عذاب میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر کافروں کے آبائو اجداد کو ان کے ظلم کی پاداش میں فوراً پکڑ لیتا تو نسل ہی منقطع ہوجاتی۔ ان کی اولادبھی زندہ نہ بچتی اور زمین پر کوئی باقی نہ رہتا۔ ” ولکن یوخرھم الی اجل “ ان کو ایک مدت تک مہلت دی گئی۔” مسمی “ ان کی مدت انتہا تک اور ان کی منزلوں کے بوسیدہ ہونے تک۔ ” فاذا جاء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “
Ayah 16:62(62)” ویجعلون للہ ما یکرھون “ اپنے لینے بیٹیوں کو ناپسند کرتے ۔” وتصف “ وہ کہتے ہیں ” السنتھم الکذب ان لھم الحسنیٰ “ اس سے مراد لڑکے ہیں ۔ محل نصب میں واقع ہے بدل ہونے کی وجہ سے۔ یمان نے کہا کہ حسنیٰ سے مراد ہے جنت، کافر کہتے تھے کہ محمد ( ﷺ) کے قول کے مطابق اگر قیامت ہوئی بھی تو ہمارے لیے جنت ہوگی۔” لا جرم “ یقیناً ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ ہے کیوں نہیں۔” ان لھم النار “ آخرت میں ان کے لیے آگ ہوگی۔ ” وانھم مفرطون “ حضرت نافع نے راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہے اسراف کرنے والے۔ ابو جعفر نے راء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اس کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ کے حکم کو ضائع کرنے والا اور دوسرے قراء کے نزدیک راء کے فتحہ اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے کہ ان کو آگ میں بھلا دیاجائے گا۔ ابن عباس ؓ کا قول یہی ہے اور سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ وہ رحمت اور نجات سے دور کردئیے جائیں گے۔ مقاتل (رح) کا قول ہے کہ دوزخ میں چھوڑ دئیے جائیں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ دوزخ میں جلد بھیج دئیے جائیں گے۔ فراء کا قول ہے کہ دوزخ میں سب سے پہلے بھیجے گئے۔ اس سے نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ میں تمہارا پیشرو ہوں گا اور حوض پر سب سے پہلے پہنچوں گا۔
Ayah 16:63(63)” تاللہ لقدر ارسلنا الی امم من قبلک “ جیسا کہ ہم نے بھیجا اس امت کی طرف۔” فزین لھم الشیطان اعمالھم “ اس سے برے اعمال مراد ہیں۔ ” فھو ولیھم “ ان کے مددگار ہوں گے۔” الیوم “ شیطان ان کا ولی تھا ان کے طاعت کے عوض۔ ” ولھم عذاب الیم “ ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہوگا۔
Ayah 16:64(64) ” وما انزلنا علیک الکتاب الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ “ دین اور احکام میں ان کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں۔” وھدی ورحمۃ لقوم یومنون “ جو ہم نے تمہارے اوپر کتاب نازل کی وہ محض واضح، ہدایت اور رحمت ہے۔ عدی اور رحمت کا عطف ” لتبین “ پر ہے۔
Ayah 16:65تفسیر (65)” واللہ انزل من السماء مائ “ اس سے مراد بارش ہے۔ ” فاحیا بہ الارض “ زمین کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نباتات کو اگاتے ہیں۔ ” بعد موتھا “ اس کے بنجر ہونے پر یا پودوں کے سوکھ جانے کے بعد ” ان فی ذلک لایۃ لقوم یسمعون “ جن کے دل سنتے ہیں نہ کان۔
Ayah 16:66(66) ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ “ اس میں ان کے لیے نصیحت ہے۔ ” نسقیکم “ نون کے فتحہ کے ساتھ یہاں مذکور ہے اور سورة مومنین میں بھی اسی طرح ہے اور دوسرے قراء نافع، ابن عامر، ابوبکر، یعقوب اور باقی کے نزدیک ان دونوں کے ضمہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اس میں دو لغتیں ہیں۔ ” مما فی بطونہ “ اس کی ضمیر کنایۃ انعام کی طرف لوٹ رہی ہے نعم انعام واحد ہیں اور لفظ نعم مذکر استعمال ہوتا ہے اور ابو عبیدہ واخفش نے ” نعم “ کو مذکر و مونث دونوں طرح ذکر کیا ہے اور جو اس کو مونث ذکر کرتے ہیں وہ جمع والا معنی ذکر کرتے ہیں۔ کسائی نے ” بطونہ “ کی ضمیر ما کی طرف راجع کیا ہے یعنی اس چیز کے پیٹ کے اندر سے جس کا ذکر اوپر کردیا گیا۔ مورخ نے کہا سب انعام کے پیٹ سے تو دودھ نہیں نکلتا اس لیے بعض مراد ہیں اور بعض ہی کی طرف بطور کنایہ ضمیر کا رجوع ہے۔ بعض کے نزدیک جنس انعام مراد ہے۔” من بین فرث “ وہ گوبر جو اوجھڑی کے اندر ہو اور جب وہ باہر آجاتا ہے تو اس کو (فرث) نہیں کہاجاتا۔” ودم لبنا خالصاً “ اور خالص دودھ جو خون اور لید سے نکلتا ہے لیکن اس میں نہ خون کی آمیزش ہوتی ہے اور نہ ہی لید وغیرہ کی بو ہوتی ہے۔ ” سائغاً للشاربین “ وہ آسانی کے ساتھ حلق سے اتر جاتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کو پینے سے اکتا جاتا ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جانور جب چارہ گھاس کھاتا ہے تو کھایا ہوا چارہ انتڑیوں میں جا کر ٹھہراتا ہے پھر وہاں اس کی مزید پسوائی ہوتی ہے پسینے کے بعد اس کا نچلہ حصہ تو گوبر ہوجاتا ہے اور بالائی حصہ خون اور درمیانی حصہ دودھ اور یہ سب کام جگر کے زیر تسلط ہوتا ہے۔ یہ اس کو تقسیم کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ خون رگوں میں جاری کردیاجاتا ہے اور دودھ تھنوں میں باقی گوبر کو وہیں رکھتا ہے۔
Ayah 16:67(67)” ومن ثمرات النخیل والاعناب “ اور تمہارے لیے اس میں عبرت ہے جس میں تمہیں پلاتے ہیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں ۔ کھجوروں کے پھلوں اور انگور کے شیروں سے۔ ” تتخذون منہ “ یہ ضمیر ما مخذوفہ کی طرف راجع ہے۔ عبارت یہ بنے گی ” ما تتخذون منہ… سکرا ورزقاً حسناً
رزقاً حسنا ً کی تفسیر
بعض لوگوں نے کہا کہ سکر سے مراد خمر ہے اور رزق حسن حسن سرکہ، چھوہارے اور کشمکش۔ یہ حکم خمر کی حرمت سے پہلے کا ہے۔ یہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، سعید جبیر ؓ حسن اور مجاہد رحمہما اللہ کا قول ہے اور شعی (رح) کا قول ہے کہ سکر سے پینے کی چیز مراد ہے اور رزق حسن سے کھانے کی چیز مراد ہے اور عوف کی روایت جو ابن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے ان کے ہاں سکر سے مراد حبشی ز بان میں سر کہ کو کہتے ہیں اور بعض حضرات کے نزدیک سکر سے مراد نبیذ مسکر ہے اور وہ سکرچھوہاروں اور کشمش کے گاڑھے پانی کا نام ہے اور یہی قول ضحاک اور نخعی رحمہما اللہ کا ہے اور جو لوگ نبیذ تمر کو مباح قرار دیتے ہیں اور جو حرام قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں اس سے مراد آیت اخبار ہے اور ” تتخذون منہ سکرا “ یہ منسوخ ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے فرماتے ہیں کہ سکروہ پھل ہے جو حرام کردئیے ہیں اور رزق حسن سے مراد حلال پھل ہیں۔ ابو عبیدہ (رح) کا قول ہے کہ سکر سے مراد ہے کہ کھانا جیسا کہ عرب بولتے ہیں کہ ” ھذا سکرلک “ یہ آپ کا کھانا ہے۔ ” ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلون “
Ayah 16:68تفسیر (68) ” واوحی ربک الی النحل “ اس سے مراد الہام کرنا، دل میں ڈالنا، نحل کہتے ہیں شہد کی مکھی کو۔ اس کی واحد نحلۃ آتی ہے۔ ” ان اتخذی من الجبال بیوتا ومن الشجر ومما یعرشون “ وہ اپنے لیے بناء تعمیر کرتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کے چھتے کو مکان کہنے سے اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ انسانی مکان کی طرح مکھیوں کے چھتوں میں بھی ضروری حصے ہوتے ہیں۔ ابن زید کا قول ہے کہ اس سے مراد کروم ہے۔
Ayah 16:69(69)” ثم کلی من کل الثمرات “ یہاں کل سے معنی عموم مراد نہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وائوتیت من کل شئی “…” فاسلکی سبل ربک ذللاً “ وہ راستے تیرے گویا یہ طرق کی صفت ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ شہد کی مکھی اپنے سردار کے ملنے کے بغیر آگے چھتے میں نہیں جاسکتی اور دوسرے حضرات کے نزدیک ” ذللاً “ یہ نحل کی صفت ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ اللہ کے حکم کی اطاعت میں لگی رہنا اور اپنے حکم کے زیر اثر راستوں پر چلنا۔ کہنے والوں کا قول ہے کہ مکھیوں کے سردار تمام مکھیوں کو ساتھ لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر منتقل ہوجاتے ہیں اور جہاں کہیں وہ رک جاتا ہے تو سب ٹھہر جاتی ہے۔ ” یخرج من بطونھا شراب “ اس سے مراد عسل ہے۔ ” مختلف الوانہ “ سفید، سرخ اور زردرنگ۔ ” فیہ شفاء للناس “ یہ قرآن پر عمل کرنے والوں کے لیے شفاء ہے۔
مجاہد نے فیہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع کی ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ قرآن میں لوگوں کے لیے شفاء ہے۔
شہد میں شفاء ہے
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا میرے بھائی کو اسہال کی شکایت ہے، فرمایا شہد پلائو، حسب الحکم اس شخص نے شہد پلایا، وہ پھر خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور عرض کیا، حضور ﷺ میں نے اپنے بھائی کو شہد پلایا تھا مگر شہد سے اسہال میں اور اضافہ ہوگیا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اس نے جا کر پھر شہد پلایا اور مریض اچھا ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ شہد ہر بیماری کی دوا ہے اور قرآن شفاء ہے اور دلوں کی بیماری کی قرآن شفاء ہے اور ایک روایت میں آیا ہے کہ تم دونوں شفائوں کو لازم پکڑو قرآن اور شہد سے۔ ” ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون “ جو اس میں غور و فکر کرتے ہیں۔
Ayah 16:70(70)” واللہ خلقکم ثم یتوفا کم “ پہلے آپ کو بچپن دیا پھر جوانی اور پھر بڑھاپا۔” ومنکم من یرد الی ارذل العمر “ مقاتل (رح) نے کہا کہ اس سے مراد بڑھاپا ہے۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد نوے سال ہے اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ارذل عمر 75 سال ہے اور بعض کا قول ہے کہ اسی سال عمر ارذل العمر ہے۔ ” لکیلا یعلم بعد علم شیئاً “ یعنی تمام معلومات کے ہونے کے باوجود سب کچھ بھول جائے۔ ” ان اللہ علیم قدیر “ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمیشہ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! تو مجھے بخل، سستی اور ارذل عمر اور عذاب قبر اور فتنہ دجال اور فتنہ محیاد و ممات سے پناہ دے۔
Ayah 16:71تفسیر (71)” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق “ کسی پر اللہ تعالیٰ نے رزق کو کشادہ کیا ہے اور بعض پر اس کو تنگ کیا ہے، کسی کو بہت کم دیا ہے اور کسی کو بہت زیادہ عطا کیا ہے۔ ” فما الذین فضلو ا برادی رزقھم علی ما ملکت ایمانھم “ اس سے مراد غلام ہیں۔ ” فھم فیہ سواء “ یہاں تک کہ وہ اور ان کے غلام برابر ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ’ ’ لا یرضون ان یکونو اھم ومما لیکھم فیما رزقھم اللہ سوائ “ وہ اس بات پر راضی نہیں کہ وہ اور ان کے غلام ان کے برابر ہوجائیں۔ لہٰذا وہ رزق اپنے غلاموں کو نہیں دیتے بلکہ غلام اپنا رزق کھاتے ہیں جو اللہ نے ان کو عطا فرمایا ہے اور انہوں نے اپنے غلاموں کو میرے ساتھ شریک قرار دیا، میری بادشاہت و سلطنت میں۔ یہ مشرکین پر واضح حجت دلیل ہے۔
قتادہ (رح) کا قول ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے مثال بیان کی ہے کہ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص تمہاری بیوی اور بستر میں شریک رہے اور تمہارے مال میں شریک رہے ( تو جب اپنے لیے ان شرکاء کو پسند نہیں کرتے) تو تم اللہ کی پیدا کردہ مخلوق کو ان کے ساتھ کیسے شریک ٹھہراتے ہو۔” افبنعمۃ اللہ یجحدون “ اس شرک کے ساتھ اور ابوبکر نے اس کو تاء کے ساتھ ذکر کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق “ اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 16:72(72)” واللہ جعل لکم من انفسکم ازوجاً “ اس سے مراد بیویاں ہیں۔ ’ ’ جعل لکم من انفسکم “ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ پھر باقی تمام عورتوں کو مردوں اور عورتوں کے نطفہ سے بنایا اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے یہ بیوی تمہاری ہی جنس سے پیدا کی ہیں۔ ” وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ “
آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال
ابن مسعود ؓ اور امام نخعی (رح) نے کہا کہ اس سے مراد داماد ہے اور ابن مسعود ؓ نے اسی طرح ذکر کیا ہے کہ ان کے نزدیک اس سے مراد خسر ہیں۔ اسی قول کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے تمہاری بیویوں سے تم کو نر اور مادہ اولاد عطا کی ہے اور ان کے نکاح کردینے سے خسر اور داماد تمہارے لیے مقرر کیے۔
عکرمہ، حسن، ضحاک رحمہم اللہ کے نزدیک سے مراد خادم ہیں۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ کارگزار کارندے مراد ہیں۔ عطاء کا قول ہے کہ وہ اولاد مراد ہے جو مددگار اور خادم ہوتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ وہ اولاد مراد ہے جو تمہاری خدمت اور کام کاج کرتی ہے۔ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ بنین سے چھوٹے بچے اور حفدۃ سے بڑی اولاد مراد ہے۔
مجاہد اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ حفدہ سے مراد اولاد کی اولاد ہے اور عوفی کی روایت ہے کہ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اپنی بیوی کے بچے مراد ہیں جو پہلے شوہر سے ہوں۔ ” ورزقکم من السطیات “ دنیا کی نعمتیں اور حلال چیزیں ہیں۔” افبالباطل “ اس سے مراد بت ہیں۔ ” یومنون وبنعمۃ اللہ ھم یکفرون “ اس سے توحید اور اسلام مراد ہیں۔ بعض نے کہا کہ باطل سے مراد شیطان ہے کہ اس نے بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ کی حرمت کا حکم دیا اور ” بنعمۃ اللہ “ سے مراد اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حلال قرار دیا ہے یہ لوگ اس کو حرام تصور کرتے ہیں۔
Ayah 16:73(73)” ویعبدون من دون اللہ مالا یملک رزقاً من السمواً “ آسمان سے رزق کا مطلب ہے بارش کا برسنا۔ ” والارض “ نباتات کا اگتنا ” شیئاً “ اخفش کا قول ہے کہ یہ رزق سے بدل ہے۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ رزق میں کسی چیز کے مالک نہیں، نہ ہی تھوڑے رزق کے مالک ہیں اور نہ ہی زیادہ رزق کے۔ فراء کا قول ہے کہ ” رزقاً “ مفعول مطلق اور ” شیئاً “ مفعول بہ ہے۔ عبادت یہ ہوگی ” الا یرزق شیئاً “ کہ ایک ذرہ برابر بھی یہ رزق نہیں دے سکتے۔ ” ولا یسطعیون ‘ ‘ اور یہ کسی چیز پر قادر نہیں کیونکہ یہ بت عاجز ہیں نفع اور نقصان دینے سے۔
Ayah 16:74تفسیر (74)” فلا تضربو اللہ الامثال “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جو اللہ کی مثالیں بیان کرتے ہو اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو وہ اکیلا ہے اس کا کوئی مثل نہیں۔ ” ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون “ جو تم اللہ کے متعلق مثالیں بیان کرتے ہو وہ تمہاری غلطی ہے۔ پھر اللہ نے مومن اور کافر کی مثال بیان کی۔
Ayah 16:75(75)” ضرب اللہ مثلاً عبداً مملو کالا یقدر علی شیئ “ یہ مثال کافر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مال دیا لیکن اس نے اس کو اچھی جگہ خرچ نہیں کیا۔ ” ومن رزقناہ منا رزقاً حسناً فھو ینفق منہ سراً و جھراً “ یہ مثال مومن کی ہے کہ اللہ نے ان کو مال عطا کیا۔ انہوں نے اس کو اس کی راہ میں خرچ کیا جس سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ پوشیدہ طورپر بھی اور اعلانیہ طورپر بھی خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں اس کو جنت عطا فرمائی۔” ھل یستو ون “ یہاں پر ھل یستویان نہیں فرمایا (من) کی وجہ سے کیونکہ یہ اسم واحد جمع، تثنیہ سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لا یستطیعون “ جمع کے ساتھ ذکر کیا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ کیا فقیرو بخیل ، غنی اور سخی برابر ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح کا فر سرکش اور مومن فرمانبردار ہوسکتے ہیں۔
ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ ” عبدا مملوکا “ سے مراد ابو جہل بن ہشام ہے اور ” من رزقناہ “ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ ” الحمد للہ بل اکثرھم لا یعلمون “ یہ بات اس طرح نہیں جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں نہ تو ان کے بتوں کے ہاتھوں میں کچھ ہے اور نہ یہ کچھ جانتے ہیں بلکہ اللہ ہی تمام نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے۔ لہٰذا وہی ہر ستائش کا مستحق ہے اس کے سوا اور کوئی نعمت دینے والا نہیں۔ حقیقی خالق اور رازق وہی ہے لیکن اکثر کفار نہیں جانتے پھر بتوں کی مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
Ayah 16:76” وضرب اللہ مثلاً رجلین احدھما ابکم لا یقدر علی شئی وھو کلی علی مولاہ “ کل بوجھ کو کہتے ہیں جو اپنے مولیٰ پر وبال ہو۔ ” ابن مایوجھہ “ اس کو جہاں بھی بھیجتا ہے وہ ٹھیک کام نہیں کرکے لاتا۔” لا یاتیہ بخیر “ کیونکہ جو کچھ اس کو کہاجاتا ہے وہ اچھے طریقے سے نہیں سمجھتا۔ یہ مثال بتوں کی ہے جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں نہ کچھ سمجھتے ہیں۔ ” وھو کل علی مولاہ “ اس کی عبادت کرتے ہیں اور وہ اٹھانے کے اور بیٹھنے کے اور خدمت گاروں کے محتاج ہیں۔ ” ھل یستوی ھو ومن یا مر بالعدل “ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔ یعنی اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی تمثیل دی ہے۔ ” وھو علی صراط مستقیم “ کلبی نے اس کا معنی بیان کیا ہے کہ وہ صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں کہ وہ انصاف کا حکم دیتے ہیں اور وہ صراط مستقیم ہے اور بعض نے کہا کہ یہ دونوں مثالیں کافر اور مومن کی ہیں۔ عطیہ نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے یہی لکھا ہے۔ عطاء کا قول ہے کہ ” ابکم “ سے مراد ابی بن خلف ہے اور ” ومن یامربالعدل “ سے مراد حضرت حمزہ، حضرت عثمان بن عفان، حضرت عثمان بن مظعون ؓ ہیں۔ مقاتل کا قول ہے کہ قبیلہ ربیعہ کا ایک شخص تھا جس کا نام ہاشم بن عمرو بن حارث تھا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا سخت دشمن تھا اور بہت ہی شریر تھا۔ اس کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا اور بعض نے کہ اس سے مراد حضرت عثمان اور ان کے کافر غلام اسید ابن ابوالعیص کے متعلق نازل ہوئی ۔ اسید کو اسلام سے سخت نفرت تھی اور اسلام کو ناپسندیدہ سمجھتا تھا۔
Ayah 16:77تفسیر (77)” واللہ غیب السموً والارض وما امر الساعۃ “ اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔ ” الا کلمح البصر “ جب وہ یہ لفظ کہے گا ” کن “ تو قیامت ہوجائے گی۔” اوھو اقرب “ بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ” ان اللہ علی کلی شیء قدیر “ یہ ان کافروں کے متعلق نازل ہوئیں جنہوں نے اس کی جلدی کے متعلق استہزاء کی۔
Ayah 16:78(78) ” واللہ اخرجکم من بطون امھاتکم “ کسائی وغیرہ نے (بطون) کی جگہ ” بیوت “ بھی پڑھا ہے۔” امھاتکم “ کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور حمزہ نے میم اور ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ اور میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” لا تعلمون شیئاً “ یہاں پر کلام تام ہوتا ہے۔ پھر آگے اللہ عزوجل فرماتے ہیں ” وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ “ ان تمام اشیاء کو مائوں کے پیٹوں سے نکلنے سے پہلے ہی بنادیا تھا۔ البتہ ان اشیاء کا علم اور دوسری چیزوں کا علم اس کے بعد دیا گیا۔
” لعلکم تشکرون “ کہ تم ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کرو، سننے اور دیکھنے اور دوسری تمام چیزوں کا۔ دیکھئے بچہ سنتا بھی ہے دیکھتا بھی ہے لیکن اس کو اس کا علم نہیں ہے۔ ان صفات کے علاوہ تمام جو ارغ ایسے ہی ہیں۔ گویا وہ وجود میں نہیں آئے۔ جیسے کہ کہاجاتا ہے کہ وہ حق نہیں سنتا اور جائے عبرت کو نہیں دیکھتا اور ثواب کا امیدوار نہیں۔ گویا کہ وہ ” صم، بکم، عمی، فھم لا یرجعون “ کا مصداق ہیں کہ وہ کسی نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔
Ayah 16:79(79)” الم یروا “ ابن عامر، حمزہ، یعقوب نے تاء کے ساتھ ( تروا) پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” الی الطیر مسخرات “ یعنی وہ تمہارے لیے بازو بچھائے ہوئے ہیں۔ ” فی جو السمائ “ آسمان اور زمین کی درمیانی ہوا۔ کعب احبار کا قول ہے کہ پرندے بارہ میل تک بلندی میں اڑ سکتے ہیں اس سے اوپر نہیں اڑ سکتے۔ ” ما یمسکھن “ وہ ہوا میں نہیں رک سکتے۔” الا للہ ان فی ذلک لایات لقوم یومنون “
Ayah 16:80(80)” واللہ جعل لکم من بیوتکم “ گھر خواہ پتھر کے ہوں یا مٹی کے ہوں۔ ” سکنا “ اور ان کو اپنے لیے ٹھہرنے کی جگہ بنائو۔ ” وجعل لکم من جلود الانعام بیوتاً “ اس سے مراد خیمے ، قباب ( گنبد نما گھر) چٹائیاں، خواہ وہ اون کی ہوں یا کھال کی۔ ” تستخفونھا “ جن کو اٹھانے میں آسانی ہوتی ہے۔” یوم ظعنکم “ اپنی سواریوں کو سفر پر بھیجنے کی غرض سے۔ ابن عامر اور اہل کوفہ نے عین کے ساکن کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے اس کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ویوم اقامتکم “ یعنی تمہارے شہروں میں۔ الحاصل دونوں صورتوں میں یہ گھر تمہارے لیے بوجھ کا سبب نہیں بنتے ۔ ” ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا اثاثا “ بھیڑوں کی اون اور اونٹنی سے حاصل شدہ روئی اس کو عربی میں وبر کہتے ہیں اور بال بکری کے ہوتے ہیں۔ یہ کنایہ انعام کی طرف راجع کی ہیں۔ ” اثاثا “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد مال ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد سامان ہے قتیمی (رح) کا قول ہے کہ اثاث تمام مال کو کہاجاتا ہے خواہ اس مال کا تعلق اونٹوں کے ساتھ ہو یا بھیڑ بکیروں کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ گھر کے سامان کو بھی اثاث کہتے ہیں۔ فرش، بستر، چادر ، کمبل، لباس وغیرہ مراد ہیں۔ ” ومتاعاً “ ایسا سامان جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ ” الی حین “ اس مدت تک جب تک وہ زندہ رہے اور بعض نے کہا کہ اس وقت تک جب کہ وہ بوسیدہ نہیں ہوا۔