15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 15:81

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھیر تے رہے۔

تفسیر (81)” واتیناھم ایاتنا “ آیات سے مراد اونٹنی کا بچہ ہے۔ پتھر سے اونٹنی کا برآمد ہونا اور بچہ دینا اور اس کا دودھ بکثرت سے ہونا۔ ” فکانوا عنھا معرضین “
Ayah 15:82

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمیان) سے رہیں گے

(82) ” وکانوا ینحتون من الجبال بیوتاً آمنین “ وہ لوگ پہاڑ تراش تراش کر ان میں گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں۔
Ayah 15:83

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا۔

(83)” فاخذتھم الصحیۃ “ اس عذاب کی چیخ ” مصبحین “ وہ اس بستی میں داخل ہوئے صبح کے وقت۔
Ayah 15:84

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔

(84)” فما اغنی عنھم ما کانو ایکسبون “ شرک اور برے اعمال ان کو اس عذاب سے نجات نہ دلا سکے۔ سالم بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے لیے حجر میں سے گزر رہے تھے تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے فرمایا تھا کہ جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ان کی بستی میں داخل ہو تو وہ روتے ہوئے جانا کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا۔ حضور ﷺ اس وقت اونٹنی پر سوار تھے، چادر سے منہ چھپا کر تیزی کے ساتھ اونٹنی کو دوڑاتے ہوئے وادی سے گزر گئے۔ یہ قول عبدالرزاق نے معمر رحمہما اللہ کے حوالے سے بیان کیا ہے۔
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہیں اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آ کر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو۔

(85)” وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق وان الساعۃ “ اس سے مراد قیامت ہے۔” لا تیۃ “ اس دن احسان کرنے والے کو احسان کے ساتھ بدلہ دیاجائے گا اور برائی کرنے والے کو برا بدلہ دیاجائے گا۔ ” فا صفع الصفح الجمیل “ آپ ان سے اعراض کریں اور ان سے بدلہ لینے میں جلدی نہ کیجئے۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار ہی (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے۔

(86)” ان ربک ھو الخلاق العلیم “ اپنی مخلوقات کو خوب جاننے والا ہے۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دوہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورة الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے۔

(87) ” ولقد اتیناک سبعاً من المثانی “ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ نے مثانی سے مراد سورة فاتحہ لی ہے۔ یہی قول قتادہ، عطائ، حسن اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ کا ہے۔ سبع مثانی اور قرآن عظیم کی تفسیر میں مختلف اقوال حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ام القرآن وہ سات آیات ہیں اور مثانی بار بار پڑھی جانے والی ہے۔ ” والقرآن العظیم “ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ سبع مثانی سے مراد فاتحۃ الکتاب ہے اور قرآن عظیم ہے۔ سورة فاتحہ کو مثانی کیوں کہتے ہیں ؟ ابن عباس ؓ، حسن، قتادہ کے نزدیک نماز میں بار بار یعنی ہر رکعت میں اس کو پڑھا جاتا ہے، اس لیے مثانی کہا گیا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کو مثانی اس وجہ سے کہاجاتا ہے کہ یہ بندے اور اللہ کے درمیان تقسیم کی گئی ہے۔ اس میں آدھی تو بندے کے لیے دعا ہے اور آدھی رب تعالیٰ کی ثناء ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں نے صلوۃ ( سورة فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے لیے آدھا آدھا تقسیم کردیا ہے۔ حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو مثانی اس وجہ سے کہا گیا کہ اس کا نزول دو مرتبہ ہوا۔ ایک مرتبہ مکہ میں اور دوسری مرتبہ مدنیہ میں۔ ہر دفعہ اس کے نزول کے وقت ستر (70) ہزار فرشتے نازل ہوئے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس کو مثانی اس وجہ سے کہا گیا کہ اللہ نے اسی سورة کا استثاء فرمایا اور اس کو اپنے پاس ذخیرہ رکھا اور سوائے اس امت کے کسی اور امت کو نہیں دیا۔ ابوزید بلخی کا قول ہے کہ اس کو سبع مثانی اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ سورة بھی شریروں اور بدکاروں کو بدکاری سے پھیر دیتی ہے۔ جیسا کہ عرب میں کہتے ہیں ” ثنیت العنان “ میں نے لگام کو پھیر دیا ، موڑ دیا۔ بعض نے کہا کہ مثانی ثناء سے ہے۔ سعید بن جبیر نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سبع مثانی سے مراد سبع طوال ہیں۔ ان میں پہلی سورة البقرۃ اور آخری سورة الانفال بمع سورة توبہ کے ۔ بعض نے کہا سورة یونس ہے انفال کی جگہ پر۔ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے توریت کی جگہ سبع طوال عطا فرمائے اور ” مئین “ عطا کی انجیل کی جگہ پر اور زبور کی جگہ مثانی عطا فرمائی اور مفصلات کے ساتھ مجھے فضیلت دی گئی۔ سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے نکل کرتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے ارشاد فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کو سبع طوال عطا کی گئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چھے عطا کی گئی تھیں۔ پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں تو وہ دو سورتیں اٹھا لی گئیں چار باقی رہ گئیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے مثانی کہنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ان ساتوں سورتوں میں فرائض، حدودو امثال، خیرہ شر اور عبرت آفرین الفاظ کا بار بار تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور طائوس (رح) کا قول ہے کہ قرآن سارا کا سارا مثانی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اللہ نزل احسن الحدیث کتاباً متشابھا مثانی “ قرآن کو مثانی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں واقعات وقصص کا بیان لوٹ لوٹ کر بار بار کیا گیا ہے۔ اس قول کی بناء پر سبع سے مراد سات سورتیں ہوں گی۔ اس تقدیر کی بناء پر اس سے مراد قرآن عظیم ہے اور بعض نے کہا کہ ” سبعاً من المثانی اور قرآن عظیم مراد ہے۔
Ayah 15:88

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا۔

(88)” لا تمدن عینیک “ یعنی اے محمد (ﷺ)” الی ما متعنا بہ ازواجاً “ اس سے مراد جوڑے ہیں۔ ” منھم “ کفار کو جن چیزوں سے نوازا آپ ان کی طرف رغبت اور طمع کی نظر سے نہ دیکھیں۔ ( آپ کو جو قرآن دیا گیا ہے اس کے مقابلے میں یہ ساری نعمتیں حقیر ہیں) ۔” ولا تحزن علیھم “ تم کو جو کافروں کی طرح دنیا میں عیش و عشرت نہیں ملی اس کی وجہ سے کچھ رنج نہ کرو۔ جہم بن اوس بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابن مریم سے سنا۔ یہ عبداللہ بن رستم کے پاس سے گزرے کہ انہوں نے ابن ابی مریم سے کہا کہ میں آپ کی مجلس میں بیٹھنا چاہتا ہوں اور آپ کی باتیں سننا چاہتا ہوں ، جب یہ چلے گئے تو ابن مریم نے کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی فاجر کی نعمت پر رشک نہ کرو، تم کو نہیں معلوم کہ مرنے کے بعداس کو کیا پیش آئے گا۔ اللہ کے ہاں اس کا قاتل موجود ہے جو نہیں مرے گا۔ وہب بن منبہ کو جب اس حدیث کی اطلاع ملی تو انہوں نے ابو دائود داعور کو بھیج کر دریافت کرایا کہ نہ مرنے والے قاتل کا کیا مطلب ہے ؟ ابن ابی مریم نے کہا اس سے مراد ہے دوزخ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے سے نیچے والے کو دیکھو، اوپر والے کو نہ دیکھو، اللہ کی جو نعمت تم کو حاصل ہے اس کو حقیر نہ سمجھنے کے لیے یہی زیادہ مناسب ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آیت ماقبل کے ساتھ متصل ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن کی نعمت دے کر احسان فرمایا تو اس رغبت فی الدنیا سے منع فرمایا۔ حضرت سفیان بن عینیہ نے نبی کریم ﷺ کے اس فرمان ” لیس منا من لم یتغن بالقرآن “ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جو شخص قرآن کی نعمت پا کر بےنیاز نہ ہوجائے وہ ہم میں سے نہیں۔
Ayah 15:89

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں۔

تفسیر (89)” وقل انی انا النذیر المبین “
Ayah 15:90

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا۔

(90) ” کما انزلنا علی المتقین “ فراء کا قول ہے تمہارا ان کو عذاب سے ڈرانا جائز ہے جیسے ” مقتسمین “ کے عذاب کی۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔
Ayah 15:91

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

(91)” الذین جعلو ا القرآن عضین “ یعنی اس کے اجزاء اور اعضاء کردئیے ۔ یعنی بعض پر وہ ایمان لے آئے اور بعض کا انکار کیا۔ مقتسمین اور عضین کی مختلف تفسیریں مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ” المقتسمین “ سے مراد یہودو نصاریٰ ہیں اور قرآن سے مراد وہ کتابیں ہیں جو اہل کتاب پڑھتے تھے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتاب کو پہچان تو لیا تھا مگر اس کو چھوڑ دیا تھا۔ بعض علماء نے کہا کہ ” المقتسمین “ سے مراد ہیں قرآن کے مختلف خیالات رکھنے والے کافر، کوئی قرآن کو جادو کہتا تھا کوئی شاعری، کوئی کہانت اور کوئی داستان پارینہ اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اقتسام سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق ان کے اقوال بٹے ہوئے تھے، کوئی آپ کو جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر، کوئی کاہن۔ مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ ولید اور مغیر نے سولہ آدمی مکہ کی گھاٹیوں ، مختلف راستوں اور موریوں پر اس غرض سے مقرر کردئیے تھے کہ جو کوئی باہر سے محمد ﷺ کے پاس آئے اس سے کہہ دیں کہ تم اس کے فریب میں نہ آنا، مقرر کردہ لوگوں میں سے کچھ لوگ تو کہیں یہ شخص دیوانہ ہے، کچھ کہیں کہ کاہن ہے اور کچھ شاعر کہیں خود ولید کعبہ کے دروازے پر جاکر بیٹھ گیا تھا، جب اس سے دریافت کیا گیا کہ کچھ لوگ ساحر کچھ شاعر کچھ مجنون کہتے ہیں تمہارا کیا فیصلہ ہے، ولید نے کہا یہ سب باتیں ٹھیک ہیں سب لو گ سچ کہتے ہیں۔ ” عضین “ اس کی اصل عضوۃ ہے۔ اسی سے ” عضی الشاۃ “ بولا جاتا ہے۔ بکری کے اعضاء جدا جدا کردئیے۔ اب اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو اجزاء اجزاء کردیا تھا۔ بعض نے اس کو جادو کہا اور بعض نے اس کو کہانت اور بعض نے اس کو پچھلوں کی کہانیاں اور بعض نے کہا کہ یہ ” عضۃ “ کی جمع ہے۔ کہاجاتا ہے ” عضۃ وعضین “ اور بعض نے کہا کہ ” عضین عضۃ “ کی جمع ہے اور ” عضۃ “ کی اصل ” عضھۃ “ تھی جیسے ” شفتہ “ اصل میں ” شفھۃ “ اور اسکی تصغیر ” شفیۃ “ ہے۔ یہاں ” عضۃ “ سے مراد جھوٹ اور بہتان ہے اور بعض نے کہا ” عقین عضۃ “ سے مشتق ہے سحر کو کہتے ہیں۔ بعض لوگوں نے ارادہ کیا کہ اس قرآن کا نام جادو رکھ دیں۔
Ayah 15:92

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے۔

(92)” فوربک لنسالنھم اجمعین “ قیامت کے دن ضرور بضر وران سے پوچھا جائے گا۔
Ayah 15:93

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے۔

(93)” عماکانوا یعملون “ محمد بن اسماعیل بخاری کا قول ہے کہ متعدد علماء کے نزدیک ” عما کانو ا یعملون “ سے مراد ہے۔ لا الہ الا اللہ کہ ہم اس کی باز پرس کریں گے۔ سوال کیا جائے کہ اس آیت اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے درمیان کیا تطبیق ہوگی۔ ” فیومذ لا یسال عن ذنبہ انس ولا جان “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کیا عمل کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے علم سے باخبر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ یہ ضرور پوچھے گا تاکہ یہ عمل تم نے ایسا کیوں کیا اور قطرب نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا کہ سوال کی دو قسمیں ہیں۔ (1) علم حاصل کرنے کے لیے جس کو استفہامیہ سوال کیا جاتا ہے۔ (2) زجرو توبیخ کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فیومذ الا یسال عن ذنبہ “ اس سے مراد استعلاء ہے۔” لنسا لنھم اجمعین “ میں زجروتوبیخ کے لیے سوال کرنے کی صراحت ہے۔ عکرمہ نے ابن عباس ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قیامت کا دن بہت طویل ہے جس میں متعدد مواقف راہ اور رو کے جانے کے مقامات ہوں گے۔ بعض مقامات پر اعمال کی بازپرس ہوگی۔ بعض مقامات پر کوئی سوال نہ ہوگا۔ یہی تاویل ان آیات کی ہے جس میں بولنے اور نہ بولنے کا تضاد معلوم ہوتا ہے۔ ایک آیت میں ہے ” ھذا یوم لا ینطقون “ اور دوسری آیت ” ثم انکم یوم القیامۃ عند ربکمک تختصمون “ قیامت کے دن تم رب کے پاس جھگڑا کروگے۔
Ayah 15:94

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو۔

فاصدع بما تومر کی مختلف تفاسیر (94)” فاصدع بما تومر “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ظاہر کردو ، اللہ نے اپنے رسول کو اظہار دعوت کا حکم دیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ اپنا کام کر گزریے۔ ضحاک نے کہا کہ اطلاع دیدو، اعلان کردو، اخفش نے کہا کہ قرآن کے ذریعے حق کو باطل سے جدا کردو، سیبویہ نے کہا کہ جیسا تم کو حکم دیا جارہا ہے اس کے موافق فیصلہ کرو۔ لغت میں صدع جدا کرنے اور فرق کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے دعوت کے اظہار کرنے کا حکم دیا ہے۔ عبداللہ بن عبیدہ کی روایت میں آیا ہے کہ اس آیت کی نزول سے پہلے رسول اللہ ﷺ اسلام و ایمان کی دعوت پوشیدہ دیا کرتے تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے ساتھی کھل کر سامنے آگئے۔ ” واعرض عن المشرکین “ سے یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔
Ayah 15:95

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لئے جو تم سے اسہزا کرتے ہیں کافی ہیں۔

(95)” انا کفیناک المستھزئین “ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کا حکم پکار کر سنائو، اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو، تمہارے لیے اللہ کافی ہے، تمہارے دشمنوں سے جیسے اللہ کافی ہے مذاق کرنے والوں کے متعلق استہزاء کرنے والے قریش کے بڑے بڑے سرغنہ آپ ﷺ کے ساتھ استہزاء کرنے والے رئوسا قریش کی تعداد پندرہ تھی۔ ولید بن مغیرہ یہ سب گروہ کا سرغنہ تھا اور دوسرے سردار عاص بن وائل سہمی، اسود بن مطلب بن حارث بن اسعد بن عبدالغزی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے بددعا کی تھی اور فرمایا تھا ” اللھم اعم بصرہ “ اے اللہ ! اس کو اندھا کردے، اس کو لاولد کردے۔ اسود بن عبد یغوث بن وہب بن عبد مناف بن زہرۃ۔ حارث بن قیس بن الطلالۃ۔ حضرت جبرئیل بنی کریم ﷺ کے پاس آئے، اس وقت ٹھٹھا کرنے والے کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ ولید بن مغیر آپ کی طرف سے گزرا۔ اتنے میں جبرئیل (علیہ السلام) آگئے اور رسول اللہ ﷺ کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوگئے اور کہا محمد (ﷺ) تمہارے نزدیک یہ کیسا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا برا بندہ ہے۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا آپ کا کام پورا کردیا گیا۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ نے کہا آپ کا کام پورا کردیا گیا۔ پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ولید کی پنڈلی کی طرف اشارہ کیا۔ چناچہ ایک روز ولید کسی خزاعی آدمی کی طرف سے ہوکر نکلا، وہ شخص اپنے تیروں کے پَر ٹھیک کر رہا تھا۔ ولید اس وقت یمنی چادر اوڑھے تہبند زمین میں کھینچتا ہوا چل رہا تھا۔ خزاعی شخص کے تیر کی بوری ولید کے تہبند سے اٹک گئی۔ انتہائی غرور کے ساتھ نیچے جھک کر بوری کو تہبند سے نکالنا گوارہ نہ کیا اور زور سے اپنی پنڈلی کو دے ٹپکا، بوری سے پنڈلی میں خراش لگ گئی اور اسی خراش سے یہ مرگیا۔ اس طرح عاص بن وائل بھی نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرا۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے دریافت کیا کہ یہ کیسا بندہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا۔ بُرا بندہ ہے۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے عاص کے پائوں کے تلوئو (رح) کی طرف اشارہ کرکے کہا آپ کا کام ہوگیا۔ چناچہ ایک روز عاص تفریح کرنے کے لیے اونٹنی پر سوار ہوکر اپنے دونوں لڑکوں کو ساتھ لے کر مکہ سے باہر نکلا اور کسی گھاٹی میں جا کر اترا، وہاں کپڑے کا کوئی ٹکڑا تھا، عاص نے اس پر قدم رکھا، کپڑے میں کوئی کانٹا تھا، کانٹا اس کے تلووے میں چبھ گیا۔ عاص فوراً چلایا کہ مجھے کسی کیڑے نے ڈس لیا، لوگوں نے تلوے کو دیکھا لیکن ڈھونڈے کے بعد کوئی بھی چیز نظر نہ آئی، ٹانگ سوج کر اونٹ کی گردن کی طرح ہوگئی، آخر وہیں اسی وقت واصل جہنم ہوگیا۔ اسی طرح اسود بن مطلب کا گزر بھی نبی کریم ﷺ کے پاس سے ہوا۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے سوال کرنے پر جواب دیا کہ یہ بُرا بندہ ہے اور حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے پہلے کی طرح کہا اور اسکی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا اور وہ نابینا ہوگیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک سبز پتہ اسود پر مارا، اس سے وہ اندھا ہوگیا اور آنکھوں میں اتنا درد ہوا کہ وہ اپنا سر دیوار پر مارنے لگا، آخر وہ اسی مرض میں مرگیا۔ کلبی (رح) کی روایت کا بیان ہے کہ اسود اپنے غلام کے ساتھ درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور اس کا سردرخت کے ساتھ پٹخنے لگے اور منہ پر کانٹے مارنے لگے۔ اسود نے خوب شور برپا کیا اور غلام سے مدد طلب کی۔ غلام نے کہا کہ مجھے تو کچھ نظر نہیں آتا، آپ خود ہی یہ حرکت کر رہے ہیں، اس پر وہ کہنے لگا کہ مجھے محمد (ﷺ) کے رب نے قتل کردیا، یہ کہتے کہتے مرگیا۔ اور اسود بن یغوث آپ ﷺ کے پاس سے گزرا۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ اے محمد ! (ﷺ) آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ فرمایا یہ بُرا بندہ ہے۔ باوجود یہ کہ میرے ماموں کا بیٹا ہے۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ اس کے متعلق فکر من مت ہوئیے اور اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا جس سے اس کا استسقاء بطن ہوگیا اور مرگیا۔ کلبی (رح) کی روایت میں ہے کہ اسود گھر سے نکلا، باہر گرمی کی لولگ رہی تھی، لو لگنے سے اس کا رنگ کالے حبشی کی طرح ہوگیا، گھر کو لوٹا تو گھر والوں نے اسے پہچانا بھی نہیں اور باہر نکال کر دروازہ بند کرلیا۔ اسی حالت میں وہ مرگیا اور مرتے مرتے کہتا رہا مجھے محمد (ﷺ) کے رب نے قتل کیا ہے۔ حارث بن قیس کے متعلق بھی رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ یہ برا بندہ ہے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے حارث کے سر کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ آپ کا کام کردیا گیا۔ اب آپ کو ضرورت نہیں۔ چناچہ اس کی ناک سے پیپ کی ریزش ہونے لگی، اسی سے وہ بھی مرگیا۔
Ayah 15:96

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو خدا کے ساتھ اور معبود قرار دیتے ہیں سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا۔

تفسیر (96) ” الذین یجعلون مع اللہ الھا اخر فسوف یعلمون “ بعض نے کہا کہ وہ لوگ استہزاء اور بعض قرآن کو مانتے اور بعض کو نہ مانتے یعنی تقسیم کرتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ، سورة نحل، سورة نمل اور سورة عنکبوت نازل فرمائی تو یہ لوگ جمع ہوکر کہنے لگے اور قرآن کے متعلق مذاق اڑانے لگے اور کہنے لگے کہ سورة البقرہ ہے یہ سورة النمل ہے اور کہتے دیکھو یہ سورة عنکبوت ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔
Ayah 15:97

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔

(97)” ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون
Ayah 15:98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو۔

(98) فسبح بحمد ربک “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اپنے رب کے لیے نمازپڑھئے۔ ” وکن من الساجدین “ ساجدین سے مراد ہیں تواضع اور اظہار فروتنی کرنے والے۔ ضحاک (رح) کا قول ہے کہ ” فسبح بحمد ربک “ سے مراد سبحان اللہ اور ” من الساجدین “ سے مراد نماز پڑھنے والے مراد ہیں۔ روایت کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی مشکل کام پیش آیا تو آپ ﷺ نماز کی طرف رجوع فرماتے۔
Ayah 15:99

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے۔

(99) واعبد ربک حتی یاتیک الیقین “ یقین سے مراد ہے موت۔ یعنی ہر زندہ کے لیے موت کا آنا یقین ہے۔ ایسا ہی سورة مریم میں مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا ” او صانی بالصلوٰۃ والزکوۃٰ مادمت حیاً “ حضرت جبیر بن نفیر کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے مال جمع کرنے اور تاجر نہ بن جانے کا حکم بذریعہ وحی نہیں دیا گیا بلکہ میرے پاس تو وحی بھیجی گئی کہ ” سبح بحمد ربک وکن من الساجدین واعبد ربک حتی یاتیک الیقین “ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت مصعب بن عمیر کو مینڈھے کی کھال اوڑھے اور اسی کا نطاق باندھے سامنے سے آتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا، اس کو دیکھو، اللہ نے اس کے دل کو نورانی کردیا۔ میں نے وہ وقت بھی اس کا دیکھا تھا کہ اس کے ماں باپ اس کو اعلیٰ قسم کی غذا کھلاتے پلاتے تھے۔ ایک جوڑا اس کے بدن پر دو سو درہم کا تھا لیکن اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت نے اس کی یہ حالت کردی جو تمہارے سامنے ہے۔ واللہ اعلم