15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 15:41

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا راستہ ہے۔

تفسیر 41:۔” قال “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ” ھذا صراط علی مستقیم ‘ ‘ حسن (رح) کا قول ہے کہ حق کا سیدھا راستہ مراد ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے حق کا رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف راہ حق بھی اللہ کی طرف پہنچتی ہے کسی اور طرف نہیں مڑتی۔ اخفش (رح) کا قول ہے سیدھا راستہ بتانا مجھ پر ہے۔ کسائی کا قول ہے کہ ہذا سے اشارہ ابلیس کے راستے کی طرف ہوگا جو اس نے اپنے لیے اختیار کیا تھا یعنی اغواء اور گمراہ کرنے کا رستہ ، جیسے کوئی شخص اپنے مخالف سے کہتا ہے کہ تیرا راستہ مجھ پر ہے ، یعنی تو میرے ہاتھ سے نہیں بچ سکتا ۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ” ان ربک لبا لمرصاد “ بیشک آپ کا رب گھا ت لگائے بیٹھا ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ اس کے راستے میں سیدھا رہے، بیان کے ساتھ دلیل کے ساتھ توفیق اور ہدایت کے ساتھ ، ابن سیرین قتادہ اور یعقوب کے نزدیک صراط مستقیم علو ( بلندی) کا درجہ ہے۔ اس میں بعض کو رفیع کے ساتھ تعبیر کیا کیونکہ یا تو وہ خود صراط مستقیم تک پہنچ جائے گا اور یا وہ کسی اور کا ذریعہ بنے گا ۔
Ayah 15:42

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے۔

تفسیر 42۔” ان عبادی لیس لک علیھم سلطان “ اس سے مراد قوۃ ہے ۔ اہل معانی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ یعنی ان کے دلوں پر تمہارا کوئی بھی بس نہ چلے۔ سفیان بن عینیہ سے اس آیت کے متعلق پوچھا تو کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تمہارے نزدیک کوئی بس کہ تو ان کو گناہوں میں مبتلا کرے تو میں ان کو معاف کر دوں ، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو ہدایت یافتہ ہوگا اور اپنے آپ کو تجھ سے محفوظ رکھے گا ۔ ” الا من اتبعک من الغاوین “۔
Ayah 15:43

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے۔

43۔” وان جھنم لمو عدھم اجمعین “ ابلیس اور اس کی تابعداری کرنے والوں کے ساتھ جہنم کا وعدہ ہے۔
Ayah 15:44

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کیلئے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں۔

44۔” لھا سبعۃ ابواب “ اس کے سات کواڑ ہیں۔ دوزخ کے دروازے اور سات طبقات حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ دوزخ کے دروازے کیسے ہوں گے۔ پھر حضر ت علی ؓ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر اور انگلیوں کو الگ کرکے فرمایا، دوزخ کے دروازے اس طرح ہوں گے یعنی ہر دروازے کے اوپر ایک ایک دروازہ ہوگا، اللہ تعالیٰ نے جنت کو عرضاً پھیلایا ہے اور دوزخ کو ایک دوسرے کے اوپر۔ ابن جریج (رح) نے فرمایا کہ آگ کے سات طبقات ہیں۔ پہلا طبقہ جہنم، دوسرا الظی، تیسرا حطمۃ، چوتھا سعیر، پانچواں سقر، چھٹا جحیم ، ساتواں ہاویہ۔ ” لکل باب منھم جز مقسوم “ ہر طبقہ میں ایک قوم سکونت اختیار کرے گی۔ دوزخ کے ان سات طبقات میں کون لوگ ہوں گے ضحاک (رح) کا قول ہے کہ پہلے درجہ میں وہ اہل توحید ہوں گے جن کو گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں داخل کردیاجائے گا اور گناہوں کے بقدر وہ دوزخ میں رہیں گے، پھر نکال لیے جائیں گے۔ دوسرے درجے میں نصاری، تیسرے درجے میں یہودی، چوتھے درجے میں صابی، پانجویں درجہ میں مجوسی، چھٹے درجہ میں مشرک اور ساتویں درجہ میں منافق۔ اس لیے اللہ رب العزت کا فرمان ہے ” ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار “ روایت کیا گیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے ارشاد فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جہنم کے سات ابواب ہیں۔ ان میں سے ایک ان لوگوں کے لیے جنہوں نے میری امت پر تلوار سونتی یا فرمایا محمد ﷺ کی امت پر تلوار کھینچی۔
Ayah 15:45

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

(45) ” ان المتقین فی جنت و عیون “ وہ باغات اور چشموں میں رہیں گے۔
Ayah 15:46

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع) سے داخل ہوجاؤ۔

تفسیر (46)” ادخلوھا “ ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجائو۔ ” بسلام “ سلامتی کے ساتھ۔ ” آمین “ آئندہ موت، آفت اور یہاں نکلنے سے تم محفوظ ہو۔
Ayah 15:47

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی اس کو ہم نکال (کر صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔

(47) ” ونزعنا “ نکال دیں گے۔” ما فی صدورھم من غل “ یعنی کینہ، دشمنی، بغض اور حسد کو نکال دیں گے۔ ” اخوانہ “ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ ” علی سرر “ اس کی جمع سر یر آتی ہے۔ ” مقابلین “ وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے ان میں سے کوئی دوسرے کی پیٹھ کو نہیں دیکھے گا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ جنتی جب جنت کے اندر اپنے مومن بھائی سے ملنا چاہے گا تو مسہری اس کو لے کر وہاں پہنچ جائے گی، اس طرح دونوں ملاقات اور بات چیت ہوجائے گی۔
Ayah 15:48

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

(48)” لا یمسھم “ نہیں پہنچے گی ان کو ” فیھا نصب “ کوئی تھکاوٹ۔ ” وما ھم منھا بمخرجین “ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے، اس سے نکلیں گے نہیں۔
Ayah 15:49

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں۔

آیت نبی عبادی کا شان نزول (49) نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ توبہ کریں گے۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک دن صحابہ کرام ؓ کی جماعت کے پاس تشریف لائے۔ صحابہ کرام ؓ کو ہنستے دیکھ کر ارشاد فرمایا، دوزخ تم لوگوں کے سامنے ہے، پھر بھی ہنس رہے ہو، فوراً حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوگئے اور فرمایا محمد (ﷺ) آپ کا رب فرماتا ہے کہ تم کیوں میرے بندوں کو میری رحمت سے نا امید کرتے ہو، اس پر آیت نازل ہوئی۔
Ayah 15:50

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے۔

(50) ” وان عذابی ھو العذاب الالیم “ قتادہ ؓ نے فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کو فرمان معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر بندہ اللہ کی مقدار عفو کو جان لیتا تو حرام سے پرہیز نہ کرتا اور اگر اللہ کی مقدار عذاب کو جان لیتا تو خوف کے مارے اس کی جان ہی نکل جاتی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اگر مومن بندہ کو اللہ کے عذاب کا علم ہوجاتا تو پھر جنت کی امید ہی کسی کو نہ رہتی اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کی مقدار معلوم ہوجاتی تو جنت سے مایوس نہ ہوتا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تخلیق رحمت کے دن اللہ نے سورحمتیں پیدا کیں ، ننانوے رحمتیں اپنے پاس روک لیں اور ایک رحمت ساری مخلوق میں پھیلا دی جو رحمتیں اللہ کے پاس ہیں اگر ان سب سے کافر واقف ہوجائے تو جنت سے نا امید نہ ہو اور جو عذاب اللہ کے پاس ہے ، اگر مومن کو اس کا علم ہوجائے تو دوزخ سے بےخوف نہ ہو۔
Ayah 15:51

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنا دو ۔

تفسیر (51)” ونبھم عن ضیف ابراہیم “ ان کے مہمانوں کی اطلاع دے دو ۔ (ضیف) کا اطلاق واحد، جمع، تثنیہ، مذکر، مونث سب پر ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ ملائکہ ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کی بشارت دینے اور قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے۔
Ayah 15:52

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ ابر اہیم کے پاس آئے تو سلام کہا (انہوں نے) کہا ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے۔

(52) اذ دخلوا علیہ فقالو ا سلاما قال “ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” انا منکم وجلون “ ہم تم سے خوف زدہ ہیں کیونکہ ہماری طرف سے پیش کیا گیا کھانے سے تم نے انکار کردیا تھا۔
Ayah 15:53

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

(مہمانوں نے کہا) کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔

(53) ” قالو الالوجل “ یعنی نہ ڈرو۔ ” انا بشرک “ بلکہ ہم آپ کو خوشخبری دیتے ہیں حمزہ نے اس کو واحد ” بشرک “ نون کے فتحہ باء کے ساکن اور شین کے ضمہ اور بغیر تشدید کے پڑھا ہے اور باق قراء نے ” بشرک “ نون کے ضمہ باء کے فتحہ کسر کسور مشدد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” بغلام علیہم “ ایسے غلام کی جو چھوٹی عمر میں لڑکا ہوگا اور بڑی عمر میں بڑا عالم ہوگا۔ اس سے مراد حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تعجب ہوا کہ میں بھی بوڑھا ہوں اور میری بیوی بھی بوڑھی ہے۔
Ayah 15:54

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

(وہ) بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کہے کی خوشخبری دیتے ہو ؟

(54) ” قال ابشر تمونی “ ہم آپ کو لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ ” علی ان مسی الکبیر “ ہمارے بڑھاپے کی حالت میں ہمیں خوشخبری دیتے ہو۔ ” فم تبشرون “ کس چیز سے خوشخبری دیتے ہو۔ نافع نے نون کے کسرہ اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” بشرون “ اور ابن کثیر کے نزدیک کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ” تبشرونی ، نون کو نون میں مدغم کرکے پڑھا اور دوسرے قراء نے نون کے فتحہ اور تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
Ayah 15:55

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہو جئے۔

(55) ” قالوا بشرناک بالحق “ اس سے مراد سچائی ہے۔ ” فلا تکن من القالطین “
Ayah 15:56

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

(ابر اہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے میں مایوس کیوں ہونے لگا ؟ اس سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے۔

(56)” قال من یقنط “ ابوعمر، کسائی، یعقوب رحمہم اللہ نون کے کسرہ کے ساتھ اور دوسرے قراء نے نون کے فتحہ کے ساتھ پڑھا، اس میں دو لغتیں ہیں۔ ” قنط، یقنط “ باب ضرب ” قنط یقنط “ اور باب سمع سے۔ یعنی مایوس نہ ہو۔ ” من یقنط من رحمۃ ربہ الالضالون “ اس سے مراد خسارہ پانے والے ہیں۔ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا ایسا کبیرہ گناہ ہے جیسا غضب سے بےفکر ہوجانا۔
Ayah 15:57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

پھر کہنے لگے کہ فرشتوں تمہیں (اور) کیا کام ہے ؟

(57)” قال “ ان کو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا۔ ” فما خطبکم “ تمہارا معاملہ کیا ہے۔” ایھا المرسلون “
Ayah 15:58

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار (قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ اس کو عذاب کریں )

(58) ” قالو ان ارسلنا الی قوم مجرمین “ اس سے مراد مشرکین ہیں۔
Ayah 15:59

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچا لیں گے۔

(59)” الا ال لوط “ ان کی تابعداری اور ان کے دین کے پیروکاروں کو ” انا لمنجوم اجمعین “ رجم کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء حمزہ و کسائی نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 15:60

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

البتہ ان کی عورت (کہ) اسکے لئے ہم نے ٹھیرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی۔

(60)” الا امرتہ “ اس سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں۔ ” قدرنا “ قضاء کے معنی ہے۔ ” انھا لمن الغابرین “ وہ عذاب باقی رہنے والوں میں شمار ہوگا۔ استثناء نفی سے اثبات کی طرف ہے اور اثبات سے نفی کی طرف۔ اس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا استثناء کیا ہے کہ وہ بھی ان ہلاک شدگان میں شامل ہوں گی۔ ابوبکر (رح) نے یہاں پر ” قدرنا “ دال کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة نمل میں دال کی تخفیف کے ساتھ اور باقی قراء اس کو تشدید کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
Ayah 15:61

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے

تفسیر (61)” فلما جاء آل لوط المرسلون “
Ayah 15:62

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو (لوط نے) کہا تم تو نا آشنا لوگ ہو۔

(62)” قال “ ان سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا ” انکم قوم منکرون “ میں تمہیں نہیں جانتا۔
Ayah 15:63

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

وہ بولے کہ (نہیں) بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔

(63)” قالوا بل جنناک بما کانو فیہ یمترون “ کہ آپ اس عذاب کے بارے میں شک کرتے تھے وہ عذاب لے کر آئے ہیں کیونکہ ان کے لیے عذاب کا وعدہ کیا گیا اور آپ ان کو تصدیق نہیں کریں گے۔
Ayah 15:64

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں۔

(64) ” و اتیناک بالحق “ یعنی طور پر وہ اس عذاب کو لیکر آئے ہیں۔ ” وانا الصادقون “
Ayah 15:65

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور آپ میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جائیے۔

(65)” فاسر باھلک بقطع من اللیل واتبع ادبارھم “ ان کے پیچھے۔” ولا یلتفت منکم احدً “ یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی عذاب سے بچ کر نہ نکلے۔ بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے علامت بیان کی ہے جو آل لوط میں سے جو نجات یافتہ ہوں گے ۔” وامضو احیث تومرون “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ شام کو چلے جائو۔ مقاتل (رح) کے نزدیک زغر مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ اردن مراد ہے۔
Ayah 15:66

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔

(66) وقضینا الیہ ذلک الامر “ ہم نے لوط (علیہ السلام) کے پاس یہ حکم بھیجا کہ ان لوگوں کی جڑ صحیح ہونے سے پہلے ہی جڑ سے کاٹ دی جائے ہم نے اس کام کا فیصلہ کیا اور عمل کیا جو قوم لوط کے متعلق حکم دیا گیا۔ ” ان دابر ھولاء “ عبداللہ (رح) کے نزدیک یہی قرأت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں دابر ھولاء سے مراد ان کے اصول ہیں۔ یعنی ان کی جڑ کو بھی ختم کردی جائے گی۔ ” مقطوع “ جڑ سے ان کو کاٹا گیا۔ ” مصبحین “ جب صبح داخل ہوجائے۔
Ayah 15:67

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے۔

(67) وجاء اھل المدینہ “ اس سے سدوم بستی مراد ہے۔ ” یستبشرون “ لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں نے۔ یعنی اس بستی کے بعض لوگ بعضوں کو اپنی خواہشات کے پیش نظر ایک دوسرے کو خوشخبری دینے لگے۔
Ayah 15:68

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

(لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا۔

(68) ” قال “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا ” ان ھولاء ضیفی “ میزبان کے اوپر یہ حق ہے کہ وہ مہمانوں کی مہمان نوازی کرے، ان کا اکرام کرے، ” فلا تفضحون “ ان کے سامنے مجھے رسوا نہ کرو۔
Ayah 15:69

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور خدا سے ڈرو اور میری بےآبروئی نہ کیئجو۔

(69)” واتقو اللہ ولا تخزون “ ان کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرو۔
Ayah 15:70

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا ؟

(70) ” قالو اولم ننھک عن العالمین “ کیا ہم ان کو تمہارے کہنے پر چھوڑ دیں باوجودیکہ ہم تمہیں اس معاملے میں پہلے منع کرچکے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے آپ کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ کسی اجنبی خوبصورت کو اپنے شہر میں پناہ نہ دو ۔ ہم تو ان سے جو چاہتے ہیں کریں گے۔
Ayah 15:71

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)

تفسیر (71)” قال ھولاء بناتی “ یہ تمہارے لیے حلال بیویاں ہیں اگر تم قبول کرو تم حلال کو اختیار کرو اور حرام کو چھوڑ دو ۔ ” ان کنتم فاعلین “ جس کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے۔ یہاں حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنے قوم کے مردوں کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہاں کیونکہ نبی اپنی امت کے لیے والد کی جگہ ہوتا ہے۔
Ayah 15:72

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے۔

(72)” لعمرک “ اے محمد (ﷺ) تمہاری زندگی کی قسم ” انھم لفی سکرتھم “ حیرانگی اور اپنی گمراہی میں مست ہیں۔ ” یعمھون “ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ قتادہ ؓ کا قول ہے کہ وہ لعب و لہو میں پڑے ہوئے ہیں۔ ابو الجوزاء (رح) نے ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ محمد ﷺ کی جان سے زیادہ عزیز اللہ نے کسی اور کی جان نہیں پیدا کی اور آپ ﷺ کی زندگی کے علاوہ کسی اور کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔
Ayah 15:73

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا۔

(73)” فاخذتھم الصیحۃ مشرقین “ جب سورج ظاہر ہوا۔ عذاب کی ابتداء اس وقت ہوئی جب صبح ہوئی، اس وقت عذاب کی ابتداء ہوئی اور اس کا اختتام جب ہوا جب سورج طلوع ہورہا تھا۔
Ayah 15:74

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

اور ہم نے اس (شہر) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں۔

(74)” فجعلنا عالیھا سافلھا وامطرنا علیھم حجارۃ من سجیل “
Ayah 15:75

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لئے نشانی ہے۔

(75) ان فی ذلک لایات للمتوسمین “ ابن عباس ؓ کا قول ہے اس سے مراد دیکھنے والے اور مجاہد (رح) کا قول ہے شناخت کرنے والے، قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد عبرت حاصل کرنے والے۔ مقاتل (رح) نے کہا غور کرنے والے۔
Ayah 15:76

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور وہ شہر اب تک سیدھے راستے پر (موجود) ہے۔

(76)” وانھا “ قول لوط کی بستی ” لسبیل مقیم “ واضح راستہ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے ایسا راستہ جس کے نشانات واضح ہوں، مٹے ہوئے نہ ہوں نہ اس میں کوئی خفا ہو اور نہ ہی اس راستے سے بھول جانے کا اندیشہ ہو۔
Ayah 15:77

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانی ہے۔

(77)” ان فی ذلک لایۃ للمومنین “
Ayah 15:78

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے۔

(78) ” وان کان “ اور تھے ایکہ بستی والے ” اصحاب الایکۃ “ اس سے مراد گھنے درخت جھاڑ ی والے ” لظالمین “ کافر تھے۔ اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے جو گھنے جنگل میں رہتی تھی وہاں عموماً درخت گوگل کے تھے۔
Ayah 15:79

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بھی بدلا لیا اور یہ دونوں شہر کھلے راستے پر (موجود) ہیں۔

(79) فانتقمنا منھم “ ہم نے عذاب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سات دن گرمی کو مسلط کیا۔ پھر ان پر ایک بادل نمو دار ہوا، لوگ آرام لینے اور کچھ سانس لینے کے لیے بادل کے نیچے آئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بادل سے آگ برسائی اور سب جل بھن کر خاک ہوگئے۔ اس عذاب کو عذاب یوم الظلہ کہا گیا۔ ” فاخذھم عذاب یوم الظللۃ “…” وانھما “ قوم لوط اور اصحاب الایکہ یعنی سدوم اور ایکہ ” لبامام مبین “ کھلا ہوا راستہ واضح راستہ جس کو دیکھ کر مکہ والے عبرت حاصل کرسکتے تھے۔
Ayah 15:80

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔

(80) ” ولقد کذب اصحاب الحجر “ اصحاب الحجر سے مراد قوم ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم۔ حجر ایک وادی کا نام ہے جو مدینہ اور شام کے درمیان تھی۔ ” المرسلین “ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی تصدیق حضرت صالح (علیہ السلام) نے کی۔ یہاں لفظ جمع کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ جس نے ایک رسول کی تکذیب کی۔ گویا اس نے سب کی تکذیب کی۔