11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا لوط ! ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سہے اپنے گھر والوں کو لیکر چل دو ۔ اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کرنا دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کی جو آفت تم پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان سے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے ؟

تفسیر :۔ ابن عباس ؓ عنہمامفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) نے اپنا دروازہ بند کرلیا تھا اور فرشتے آپ (علیہ السلام) کے ساتھ گھر میں تھے اور یہ سارا مناظرہ اور واسطے ان کو دروازہ کے پیچھے سے دیئے تھے اور وہ دیوار پھلانگنے کی کوشش کر رہے تھے جب فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو ان کی وجہ سے پریشانی میں دیکھا۔ نوح (علیہ السلام) کا فرشتوں سے مکالمہ 81۔” قالوا یالوط “ آپ کا قبیلہ مضبوط ہے ” انا رسل ربک لن یصلوا الیک “ آپ دروازہ کھول دیں اور ہمیں اور ان کو چھوڑ دیں تو آپ (علیہ السلام) نے دروازہ کھول دیا ، وہ داخل ہوئے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ان کو سزا دینے کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی تو جبرئیل (علیہ السلام) اس صورت میں کھڑے ہوئے جس میں تھے تو اپنے پر کھولے اور اپنے پر ان کے چہروں پر مارے تو ان کی آنکھیں اندھی ہوگئیں وہ راستہ نہ دیکھ سکتے تھے اور گھر نہ پہنچ پائے اور بچائو بچائو کہتے بھاگ گئے اور کہنے لگے کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر میں زمین کی سب سے بڑی جادوگر قوم ہے، انہوں نے ہم پر جادو کردیا ہے اور لوط (علیہ السلام) کو کہنے لگے اے لوط ( علیہ السلام) تو صبح ہونے دے تو دیکھ لے گا کہ ہم سے تجھے کیا چیز پہنچی ہے اور دھمکیاں دینے لگے تو فرشتوں نے کہا آپ (علیہ السلام) نہ ڈریں ہم ان کو ہلاک کرنے لیے بھیجے گئے ہیں تو لوط (علیہ السلام) نے پوچھا کہ ان کی ہلاکت کا وقت کون سا ہے ؟ انہوں نے کہا صبح تو لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں ، پس اگر تم ان کو ابھی ہلاک کر دو تو انہوں نے کہا ” الیس الصبح بقریب “ پھر کہنے لگے ” فاسر “ اے لوط (علیہ السلام) ” باھلک “ اہل حجا ز نے ” فاسیروان اسیر “ الف وصلی کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی قرآن میں آیا ہے سری یسری سے اور باقی حضرات نے الف قطعی کے ساتھ ” اسری یسری “ سے اور ان دونوں کا معنی ایک ہے اور وہ رات کو چلتا ۔ بقطع من اللیل ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رات کے حصہ میں اور ضحاک فرماتے ہیں بقیہ حصہ میں اور قتادہ فرماتے ہیں رات کا ابتدائی حصہ گزرنے کے بعد اور بعض نے کہا ہے وہ پہلا وقت سحر ہے۔ ” ولا یلتفت منکم احد الا امراتک “ ابن کثیر اور ابو عمر ورحمہما اللہ نے ” امراتک “ تاء کے پیش کے ساتھ التفات سے استثناء کی بناء پر پڑھا ہے۔ یعنی ” لا یلتفت منکم احد الاامراتک “ کیونکہ وہ متوجہ ہوگی اور ہلاک ہوجائے گی اور لوط (علیہ السلام) اس کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے اور اپنے ساتھ والوں کو کہا تھا کہ کوئی ادھر ادھر متوجہ نہ ہو ، اپنی بیوی کو نہ روکا جیسے ہی عذاب کی آواز آئی وہ اس طرح متوجہ ہوگئی اور کہنے لگے ہائے میری قوم ! تو اس کو ایک پتھر آ لگا اور وہیں مرگئی ۔” انہ مصیبھا ما اصابھم ان موعدھم الصبح “ یعنی ان کی ہلاکت کا وقت موعود صبح کا وقت ہے تو لوط نے فرمایا میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا ” الیس الصبح بقریب “۔
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہ بہ تہ (یعنی پے در پے) کنکر یاں برسائیں۔

قوم لوط کی بستی کی تعداد اور عذاب کا ذکر 82” فلما جاء امرنا “ ہمارا عذاب ” جعلنا عالیھا سافلھا “ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کو قوم لوط کی بستی کے نیچے داخل کر کے اس کو پلٹ دیا۔ یہ پانچ شہر تھے اور ان میں چار لاکھ لوگ آباد تھے اور بعض نے کہا ہے کہ چالیس لاکھ لوگ تھے تو ان سب شہروں کو اتنا بلند کیا کہ آسمان والوں نے مرغوں کی آوازیں اور کتوں کا بھونکنا سنا ، اتنا بلند جانے کے بعد باوجود نہ ان کا کوئی برتن الٹا گیا اور نہ کوئی سونے والا جاگا ۔ پھر اس کو پلٹ کر نیچے مارا ۔ ” وامطرنا علیھا “ ان کے متفرق لوگوں اور مسافروں پر اور بعض نے کہا ہے کہ ان کے پلٹنے کے بعد ان پر پتھر برسائے۔ ” حجارۃ من سجیل ‘ ابن عباس اللہ عنہما اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ” سنک کل “ فارسی کا لفظ ہے عربی بنایا گیا ہے۔ قتادہ اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سجیل بمعنی مٹی اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لنرسل علیھم حجارۃ من طین “ ہے ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا پہلا پتھر اور آخری مٹی تھا اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ پتھروں کی اصل مٹی تھی لیکن ان کو ٹھوس کردیا گیا تھا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی پختہ اینٹ کے اور بعض نے کہا ہے کہ سجیل آسمان دنیا کا نام ہے اور بعض نے کہا ہے کہ آسمان میں ایک پہاڑ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” وینزل من السماء من جبال فیھا من برد “ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” منضود “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لگا تار آئے ، یہ نضد سے مفعول ہے اور نضد بعض شی کا بعض کے اوپر رکھنا۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

قوم لوط کے ہر شخص کا نام اس کے نصیب کے پتھر پر تھا 83” مسومۃ “ یہ حجارۃ کی صف ہے حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے اور اس کا معنی ہے نشان لگے ہوئے۔ ابن جریج رحمہ للہ فرماتے ہیں کہ ان پر علامتیں تھیں زمین کے پتھروں سے ان کی شکل نہ ملتی تھی اور بعض نے کہا ہے کہ جس کو لگنا ہوتا اس کا نام پتھر پر لکھا ہوا ہوتا۔” عند ربک وماھی “ یعنی یہ پتھر ” من الظالمین “ یعنی مکہ کے مشرکین سے ” ببعید “ قتادہ (رح) اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی اس امت کے ظالمین سے، اللہ کی قسم ! اللہ نے ان پتھروں سے اس کے بعد کسی ظالم کو پناہ نہیں دی اور بعض آثار میں ہے کہ جو بھی ظالم ہوگا وہ پتھر والی زمین میں ہوگا ، اس پر پتھر پڑیں گے ، ایک وقت سے قیامت تک ، اور روایت کیا گیا ہے کہ پتھر ان کے متفرق لوگوں اور مسافروں کے پیچھے لگے رہے وہ جس شہر میں بھی تھے ان کو ہلاک کیا اور ان کا ایک شخص حرم میں داخل ہوگیا تو پتھر چالیس دن آسمان میں معلق رہا ۔ جب وہ نکلا تو اس کو لگا اور اس کو ہلا ک کردیا ۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا۔

تفسیر : 84” والی مدین “ اور ہم نے مدین کی اولاد کی طرف بھیجا ” اخاھم شعیبا قال یا قوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ ولا تنقصوا المکیال والمیزان “ ناپ تو نہ کرو۔ یہ شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔” انی اراکم بخیر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مال دار اور نعمتوں میں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ خوشحالی اور شادابی میں ہو تو ان کو نعمت کے زوال سے ڈرایا ۔ ” وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط “ جو تم کو گھیر کر ہلاک کر دے گا ۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے قوم ! ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو۔

85” ویاقوم اوفوا المکیال والمیزان “ ان کو پورا کرو ” بالقسط “ انصاف کے ساتھ میزان ترازو کی زبان برابر کر دو ، ” ولا تبخسوا “ تم نہ کم کرو ” الناس اشیاء ھم ولا تعثوا فی الارض مفسدین “۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لئے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

تفسیر : 86” بقیت اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو حلال مال اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے باقی رکھا ہے ماپ اور تول کو پورا کرنے کے بعد وہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے جو تم کمی کر کے لیتے ہو اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” بقیت اللہ “ یعنی اللہ کی طاعت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو کہ جو تمہارے پاس ہے وہ اللہ کے رزق اور اسی کی عطا سے ہے۔” وما انا علیکم بحفیظ “ وکیل اور بعض نے کہا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) نے یہ اس لیے کہا کہ ان کو قتال کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم انکو ترک کردیں۔ یا اپنے مال میں جو تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو۔

87۔” قالو یا شعیب اصاتک تا مرک ان نترک ما یعبد ابائونا “ جن بتوں کو ہم پوجا کرتے آ رہے ہیں ۔ ان کو چھوڑ دیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کثرت سے نماز پڑھتے تھے اس لیے کافروں نے آپ کی نمازکا تذکرہ کیا ۔” او ان نفعل فی اموالنا ما نشاء “ یا یہ کہ ہم اپنے مال میں جو کمی چاہے ، کمی ، زیادتی کرتے ہیں ، اس کو چھوڑ دیں اور کہا گیا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دراہم اور دنانیر کے کاٹنے سے منع کیا کہ یہ ان پر حرام ہیں تو انہوں نے یہ کہا ” انک لانت الحلیم الرشید “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو حلیم و رشید بطور طنز کہا تھا عرب لوگ ایک مفہوم کی تعبیر اس کی ضد سے کرلیتے ہیں ۔ اس شخص کو جس کو بچھوڈس لے ۔ سلیم کہتے ہیں اور خطرناک بیانان کو مغازہ ( کامیابی کی جگہ) کہتے ہیں ۔ بعض علماء نے کیا انہوں نے حلیم و رشید بطور استہزاء کے کہا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ آپ اپنے گمان میں حلیم و رشید ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ یہ بات انہوں نے صحیح معنی کے لیے ہی کہی تھی جیسے صالح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے کہا ” قد کنت فینا مرجوا قبل ھذا “۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو۔ (تو میں انکے خلاف کرونگا ؟ ) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک مجھ سے ہو سکے (تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں اور (اس بارے میں) مجھے تو فیق کا ملنا خدا ہی (کے فضل) سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

88۔” قال یا قوم ارایتم ان کنت علی بینۃ “ بصیرت اور واضح بیان میں ربی ورزقنی منہ رزقا حسنا “ حلال رزق سے مراد ہے اور بعض نے کہا بہت زیادہ رزق مراد ہے کیونکہ شعیب (علیہ السلام) کثیر المال تھے اور بعض نے کہا ہے کہ رزق حسن علم اور معرفت ہے۔ ” وما ارید ان اخالفکم الی ما انھکم عنہ “ یعنی میرا یہ ارادہ نہیں کہ تمہیں کسی کام سے روک کر خود وہ کروں۔” ان ارید “ جو میں تمہیں حکم کرتا ہوں اور نہی کرتا ہوں اس سے میرا ارادہ ” الا الا صلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ “ توفیق خیر اور اطاعت کے راستے کو آسان کردینا ۔ ” علیہ توکلت “ میں نے اعتماد کیا ” والیہ انیب “ جو مجھ پر مصیبت آئے گی اس کی طرف رجوع کروں گا اور بعض نے کہا ہے کہ آخرت میں ۔
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے قوم ! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں۔

89۔” ویا قوم لا یجر منکم شقاقی “ شقاق سے مراد میری مخالفت ” ان یصیبکم “ ان کاموں کے کرنے پر جن سے میں نے روکا ہے۔ ” مثل ما اصاب قوم نوح “ جیسے قوم نوح کو غرق کیا ” او قوم ھود “ ہوا سے ہلاک کیا ” او قوم صالح “ چیخ سے ہلاک کیا ” وما لوط منکم ببعید “ کیونکہ یہ قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت سے زمانہ کے اعتبار سے قریب تھے اور بعض نے کہا ہے کہ قوم لوط (علیہ السلام) کے گھر تم سے دور نہیں ہیں کیونکہ یہ قوم لوط (علیہ السلام) کے پڑوس میں تھے۔
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار سے بخش مانگو اور اسکے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے۔

تفسیر 90” واستغفروا ربکم ثم توبوا الیہ ان ربی رحیم ودود “ ودود کے دو معنی ہیں ۔ ایک یہ کہ مؤمنین سے محبت کرنے والا ہے اور دوسرا یہ کہ مؤمنوں کا محبوب ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) خطیب الانبیاء (علیہم السلام) تھے۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو۔ اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کہ سنگسار کردیتے۔ اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو۔

91” قالو ایا شعیب مانفقہ “ ہم نہیں سمجھتے ” کثیرا مما تقول وانا لنراک فینا ضیعفا “ کیونکہ ان کا نگاہ کمزور تھی تو اس ضعیف سے ان کی مراد کمزور نگاہ والا ہے۔” ولولا رھطک “ آپ (علیہ السلام) کا قبیلہ ، وہ اپنی قوم کی حمایت میں تھے ” لرجمناک “ ہم آپ کو قتل کردیتے ۔ رجم قتل کی قبیح ترین صورت ہے۔ ” وما انت علینا ہمارے نزدیک بعزیز “۔
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ قوم ! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے ؟ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے ؟ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

92” قال یا قوم ارھطی اعز علیکم من اللہ “ کیا میرے قبیلے کا مرتبہ زیادہ بارعب ہے تمہارے نزدیک اللہ سے۔ یعنی اگر تم میرا قتل میرے قبیلے کی وجہ سے چھوڑ رہے ہیں تو اللہ کی وجہ سے زیادہ مناسب تھا کہ تم میری حفاظت کرتے ۔ ” واتخذتموہ وراء کم ظھریا “ تم نے اللہ کے حکم کو پس پشت ڈال دیا اور اس کو چھوڑ دیا ۔ ” ان ربی بما تعملون محیط “۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور برادران ملت ! تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) کام کئے جاتا ہوں۔ تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے۔ اور جھوٹا کون ہے ؟ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

93۔” ویا قوم اعملوا علی مکانتکم یعنی اپنے تمکن و وقار پر جیسے کہا جاتا ہے ” فلان یعمل علی مکانتہ اذا عمل علی تودۃ وتمکن انی عامل سوف تعلمون “ کہ ہم میں سے کون اپنے اوپر ظلم کرنے والا ہے اور اپنے فعل میں غلطی کرنے والا ہے۔ ” من یاتیہ عذاب یخریہ ومن ھو کاذب وارتقبوا “ اور عذاب کا انتظار کرو۔ ” انی معکم رقیب “ انتظار کرنے والا ہوں ۔
Ayah 11:94

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو تو اپنی رحمت سے بچا لیا اور جو ظالم تھے ان کو چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

تفسیر : 94۔” ولما جاء امرنا نجینا شعیبا والذین امنوا معہ برحمۃ منا واخذت الذین ظلموا الصحیۃ “ بعض نے کہا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک چیخ ماری تو ان کی روحیں نکل گئیں اور بعض نے کہا ہے کہ ان کے اوپر آسمان سے چیخ آئی ان کو ہلاک کردیا ۔ ” فاصبحوا فی دیارھم جاثمین “ مردہ پڑے رہے۔
Ayah 11:95

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ مدین پر (ویسی ہی) پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی۔

95۔” کان لم یغنوا “ گویا کہ وہ نہیں مقیم رہے ” فیھا الا بعدا “ ہلاکت ” لمدین کما بعدت “ ہلاک ہوگئے۔” ثمود “ ۔
Ayah 11:96

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا۔

96۔ ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایاتنا وسلطان مبین “ واضح حجت کے ساتھ۔
Ayah 11:97

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا۔

97۔” الیٰ فرعون وملئہ فاتبعوا امر فرعون وما امر فرعون برشید “ ہر پسندیدہ اور قابل ستائش امر کو رشد اور ہر برے امر کو غی کہا جاتا ہے۔
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آ گے آگے چلے گا اور انکو دوزخ میں جا اتارے گا۔ اور جس مقام پر وہ اتارے جائیں گے وہ برا ہے۔

98” یقدم قومہ “ ان کے آگے ہوتا ہے ” یوم القیامۃاور دھم “ پس ان کو داخل کردیا ۔ ” النار وبئس الورد الموورد “ یعنی بری ہے داخل ہونے کی جگہ اور جو اس میں داخل کیے گئے۔
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس جہان میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی (پیچھے لگی رہے گی) جو انعام انکو ملا ہے برا ہے۔

99۔” واتبعوا فی ھذہ “ اس دنیا میں ” لعنۃ ویوم القیامۃ بئس الرفد المرفود “ مدد جو مدد کی گئی اور بعض نے کہا ہے کہ عطاء جو عطا دی گئی کیونکہ ان پر دو لعنتیں آئیں ، ایک لعنت دنیا میں اور دوسری آخرت میں آباد۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا۔

100۔” ذالک من انباء القریٰ نقصہ علیک منھا قائم “ قائم کا ترجمہ آباد اور حصید کا ترجمہ ویران اور بعض نے کہا ہے کہ ان میں سے قائم یعنی جن کی دیواریں باقی ہیں اور چھتیں گرگئی ہیں اور حصید جن کے آثار و نشانات مٹ گئے ۔ مقاتل کا قول ہے کہ قول سے مراد وہ ہیں جن کے نشان دکھائی دے رہے ہوں اور حصید سے مراد وہ ہیں جن کی نمود بھی دکھائی نہیں دیتی۔
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ انکے کچھ بھی کام نہ آئے اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے۔

101” وما ظلمناھم “ اور ہم نے عذاب اور ہلاکت کے ساتھ ظلم نہیں کیا ۔ ” ولکن ظلموا انفسھم “ کفر اور معصیت کے ساتھ خود اپنے اوپر ظلم کیا ۔ ” فما اغنت عنھم آلھتھم التی یدعون من دون اللہ من شیء لما جاء امر ربک “ امر ربک سے مراد تیرے رب کا عذاب ۔” وما زادوھم غیر تتبیب “ بربادی ، ہلاکت اور نقصان۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اسکی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی (اور) سخت ہے۔

تفسیر : 102۔ ” وکذلک “ اور اسی طرح ” اخذ ربک اذا اخذ القریٰ و ھی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید “ ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتے رہتے ہیں حتیٰ کہ جب اس کو پکڑتے ہیں تو بالکل مہلت نہیں دیتے ، پھر آپ (علیہ السلام) نے یہ آیت پڑھی ۔ وکذالک اخذ ربک اذا اخذ القری الآیۃ
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

ان (قصوں) میں اس شخص کے لئے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کئے جائیں گے۔

103” ان فی ذلک لایۃ عبرت ہے لمن خاف عذاب الآخرۃ ذلک یوم مجموع لہ الناس “ قیامت کے دن ” وذلک یوم مشھود “ اس کی گواہی آسمان اور زمین والے دیں گے۔
Ayah 11:104

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اسکے لانے میں ایک وقت معین تک تاخیر کر رہے ہیں۔

104” وما نوخرہ “ ہم اس دن کو مؤخر نہ کریں گے تم پر قیامت قائم نہ کریں گے۔ یعقوب نے وما یوخرہ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” الا لاجل معدود “ جو اللہ کو معلوم ہے۔
Ayah 11:105

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہو نگے اور کچھ نیک بخت۔

شقی کون ہے اور سعید کون 105۔” یوم یات “ یاء کو ثابت کھ کر اور حذف کر کے ” لا تکلم “ یعنی یہ اصل میں ” لا تتکلم نفس الا باذنہ فمنھم شقی و سعید “ یعنی پس بعض ان میں سے وہ ہیں جن کے لیے شقاوت مقدر ہوچکی اور بعض کے لیے سعادت مقدر ہوچکی ۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازہ پر نکلے جب ہم جنت البقیع میں تھے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں چھوٹی لاٹھی تھی۔ آپ (علیہ السلام) تشریف لائے اور بیٹھ گئے پھر اس کے ذریعے زمین کو کھودنے لگے ۔ پھر فرمایا کہ نہیں ہے کوئی جان سانس لینے والی مگر اس کی جگہ جنت یا جہنم سے لکھ دی گئی ہے مگر تحقیق اس کا شقی یا سعید ہونا لکھ دیا گیا ہے تو ایک آدمی نے سوال کیا اے اللہ کے رسول ! تو ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسہ نہ کرلیں اور عمل چھوڑ دیں ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں ۔ لیکن تم عمل کرتے رہو۔ پس ہر شخص کو توفیق دی گئی ہے اسی عمل کی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ بہر حال اہل شقاوۃ ۔ پس وہ توفیق دیئے جائیں گے اہل شقاوت کے عمل کی اور بہر حال اصل سعادت وہ توفیق دیئے جائیں گے اہل سعادت کے عمل کی ۔ پھر یہ آیت تلاوت کی ” فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنیٰ فسنیسرہ للیسریٰ واما من بخل واستغنیٰ وکذب بالحسنیٰ فسینیرہ للعسری “۔
Ayah 11:106

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں انکو چلانا اور دھاڑنا ہوگا۔

106” فاما الذین شقوا ففی النار لھم فیھا زفیر وشھیق “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زفیر شدید آواز اور شھیق ضعیف آواز اور ضحاک اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ زفیر گدھے کی آواز کی ابتداء اور شھیق اس کی آواز کا آخر اور ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ زفیر حلق میں اور شھیق سینے میں۔
Ayah 11:107

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

(اور) جب تک آسمان و زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔

اہل جنت اور اہل جہنم کا زمانہ 107” خالدین فیھا “ اس میں ٹھہرے رہیں گے ۔” مادامت السموت والارض “ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ جب تک جنت اور جہنم کے آسمان اور ان کی زمین باقی رہیں گے اور ہر وہ چیز جو تیرے اوپر ہو اور سایہ کرے تو یہ سماء ہے اور جس چیز پر تیرے قدم ٹک جائیں گے وہ ارض ہے۔ اہل معافی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ عرب کی عادت کے مطابق یہ ہمیشگی سے کنایہ ہے ، وہ کہتے ہیں میں تیرے پاس نہ آئوں گا جب تک آسمان اور زمین باقی ہیں ۔ الا ماشاء اللہ کے استثناء کی تفسیر ” الا ماشاء ربک “ ان دونوں استثناء کے بارے میں اختلاف ہے تو بعض فرماتے ہیں کہ یہ استثناء مؤمنین کے ان اہل شقاوت کے بارے میں ہے جن کو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کریں گے۔ پھر ان کو جہنم سے نکال دیں گے تو یہ استثناء غیر جنسی سے ہوگا ۔ اس لیے کہ جو لوگ جہنم سے نکالے جائیں گے وہ سعداء ہوں گے ان کا استثناء اللہ تعالیٰ نے جملہ اشقیاء سے کیا ہے جیسے کہ حدیث میں ہے کہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کئی اقوام کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم کی آگ کی سزا پہنچ گی پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کردیں گے تو ان کو جہنمی کیا جائے گا ۔ عمران بن حصین ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک قوم محمد ﷺ کی شفاعت سے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کی جائے گی ان کا نام جہنمی رکھا جائے گا اور بہر حال استثناء اہل سعادت کے بارے میں تو جنت میں داخل ہونے سے ان کے جہنم میں ٹھہرنے کی مدت کی طرف لوٹے گا اور بعض نے کہا ہے کہ استثناء کا تعلق موت اور بعث کے درمیان برزخ کے زمانے اور دنیا کی عمر سے ہے یعنی وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے سوائے دنیا کی زندگی اور برزخ کی زندگی کے جتنی اللہ چاہیں ۔ فراء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ استثناء اللہ تعالیٰ نے کیا ہے لیکن ایسا کریں گے نہیں جیسے تو دوسرے کو کہے اللہ کی قسم ! میں تجھے ضرور ماروں گا مگر یہ کہ میں اس کے علاوہ کوئی رائے رکھوں اور تیرا اس کو مارنے کا پختہ ارادہ ہو ۔ ” ان ربک فعال لما یرید “۔
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو نیک بخت ہوں گے ہے بہشت میں (داخل کئے جائیں گے اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ کہ خدا کی بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔

تفسیر : 108۔” واما الذین سعدوا “ حمزہ ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ” سعدوا “ سین کے پیش اور عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی سعادت دیئے گئے۔ اور دیگر حضرات نے سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” شقوا “ پر قیاس کرتے ہوئے۔” ففی الجنۃ خالدین فیھا ما دامت السموات والارض الا ما شاء ربک “ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ مگر وہ مدت جو وہ آگ میں ٹھہریں گے حتی ٰکہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے استثناء کو خوب جانتا ہے۔ ” عطاء غیر مجذوذ “ یعنی ختم نہ ہوگی ۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اہل جنت کے لیے وہ کیا چاہتے ہیں تو فرمایا ” عطاء غیر مجذوذ “ اور ہمیں یہ خبر نہیں دی کہ اہل جہنم کے لیے کیا چاہتے ہیں ۔ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جہنم پر ضرور ایک زمانہ آئے گا کہ ایسا کوئی نہ ہوگا اور یہ اس کے بعد ہوگا جب وہ اس جہنم میں کئی حقب رہ چکے ہوں گے اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی کی مثل روایت ہے اور اہل سنت کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ اگر یہ روایت ثابت ہے تو ایمان والوں میں سے کوئی جہنم میں نہ ہوگا ورنہ کفار کی جگہیں تو بھری ہوئی ہوں گی۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے ہیں۔ اور ہم ان کا انکا حصہ پورا پورا بلاکم وکاست دینے والے ہیں۔

تفسیر 109” فلا تک فی مریۃ “ شک میں ” مما یعبد ھولاء “ کہ یہ گمراہ ہیں ۔ ” ما یعبدون الا کما یعبد “ اس میں عبادت مقدر ہے یعنی ” کما یعبد آبائو ھم من قبل وانا لموفوھم نصیبھم “ ان کا جزاء کا حصہ غیر منقوص ۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہ میں (پڑے ہوئے) ہیں۔

110” ولقد اتینا موسیٰ الکتاب “ کتاب سے مراد تورات ہے ” فاختلف فیہ “ بعض نے تصدیق کی بعض نے تکذیب جیسے آپ (علیہ السلام) کی قوم نے قرآن کے ساتھ کیا ہے ۔ اپنے نبی (علیہ السلام) کو تسلی دی ہے۔ ” ولو لا کلمۃ سبقت من ربک “ ان سے عذاب کو مؤخر کرنے میں ” لقضی بینھم “ یعنی فی الحال عذاب دیئے جاتے اور ان کے عذاب اور ہلاک کرنے سے فراغت ہوچکی ہوتی ۔” وانھم لفی شک منہ مریب “۔
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) انکے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیگا۔ بیشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے۔

111۔” وان کلما لما۔۔۔۔۔ انہ بما یعلمون خیبر “۔ ابن کثیر اور نافع اور ابوبکر ( وان کلا) نون ساکن تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے نون کے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ( لما) یہاں پر سورة یٰسین اور سورة طارق میں تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر عاصم حمزہ نے اور اس جگہ ابو جعفر نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے ( لما) اصل میں ” لمن ما “ تھا نون کو میم سے بدل دیا ۔ تین میم جمع ہوگئے اول میم کو حذف کردیا ، پھر ایک میم کو دوسرے میم میں ادغام کردیا ، یہاں پر ما بمعنی من کے ہے۔ لوگوں کی جماعت کو کہا جاتا ہے ، بعض نے کہا کہ ماصلہ ہے ، یہ دو میموں کے درمیان زیادہ لایا گیا ۔ بعض نے کہا ما من کے معنی میں ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ لمن یوفینھم یہاں لما میں لام تاکید کیلئے ہے جو ان کی خبر پر داخل ہے اب تقدیر عبارت یوں ہوگی ۔ لیوفینھم ربک اعمالھم ان کے اعمال کا بدلہ انہ بما یعلمون خبیر۔
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ وہ تمہارے (سب) اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

ایمان لا کر پھر اس پر ڈٹ جائو تفسیر : 112’ فاستقیم کما امرت “ یعنی اپنے رب کے دین پر ڈٹے رہیں اور اس پر عمل کرنے اور اس کی طرف بلانے میں جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ ” ومن تاب معک “ یعنی جو آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے وہ بھی ڈٹے رہیں ۔ عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ استقامت یہ ہے کہ امر اور نہی پر قائم رہے۔ اور لومڑی کی طرح چالبازی نہ کرے۔ سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات کہیں کہ میں اس کے بارے میں آپ (علیہ السلام) کے بعد کسی سے سوال نہ کروں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو کہہ میں ایمان لایا اللہ پر پھر ڈٹ جا۔ ” ولا تطغوا ‘ ‘ یعنی میرے امر سے تجاوز نہ کرو اور میری نافرمانی نہ کرو اور بعض نے کہا ہے کہ غلو نہ کرو کہ میری امر و نہی پر زیادہ کرو ” انہ بما تعلمون بصیر “ اس پر تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر اس آیت سے سخت کوئی آیت نہیں اتری۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلا م نے فرمایا کہ مجھے سورت ہو د اور اس کی بہنوں ( ہم مثل سورتوں) نے بوڑھا کردیا ہے۔ دین پر چلنا آسان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیشک دین آسان ہے اور ہرگز اس دین سے کوئی شخص مقابلہ نہ کرے گا مگر یہ اس پر غالب آجائے گا ۔ پس تم ٹھیک ٹھیک چلو اور قریب ہو جائو اور خوش ہو جائو اور صبح اور شام اور رات کے کچھ حصہ میں مدد طلب کرو۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور جو لوگ ظالم ہیں انکی طرف مائل نہ ہونا نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آ لپٹے گی۔ اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں (اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے) تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی۔

113” ولا ترکنوا الی الذین ظلموا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تم نہ مائل ہو۔ ” الرکون “ محبت اور دل کا میلان ، ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم ان کے اعمال پر راضی نہ ہو ۔ سعد ی (رح) فرماتے ہیں کہ ظالم لوگوں سے دین میں مداہنت نہ کرو اور عکرمہ (رح) سے روایت ہے کہ ان کی اطاعت نہ کر۔ ” فتمسکم الناروما لکم من دون من اولیاء “ یعنی مدد گار جو تم کو اس کے عذاب سے بچا لیں۔ ” ثم لا تنصرون “۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح و شام) کے اوقات میں اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ان کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں۔

طرفی النھار وزلفا من اللیل کی تفسیر 114۔” واقم الصلوٰۃ طرفی النھار “ یعنی صبح و شام ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ دن کے دو طرف صبح اور ظہر اور عصر کی نماز۔ ” وزلفا من اللیل “ مغرب اور عشاء کی نماز اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ فجر اور ظہر کی نماز ایک طرف ہے اور عصر اور مغرب کی نماز ایک طرف ہے اور ” زلفا من اللیل “ یعنی عشاء کی نماز۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ دن کی دو طرفیں صبح اور عصر کی نماز اور ” زلفا من اللیل “ مغرب اور عشاء اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ دن کے دو طرف صبح اور شام یعنی صبح اور مغرب کی نماز ” وزلفا من اللیل “ یعنی اس کی گھڑی اس کا زلفۃ ہے اور ابو جعفر (رح) نے ” زلفا “ لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ان الحسنات یذھبن السیئات “ یعنی بیشک پانچ نمازیں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں۔ شان نزول میں صحابی کا واقعہ تفسیر : روایت کیا گیا ہے کہ یہ آیت ابو الیسر کعب بن عمرو انصاری ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک عورت کھجور خریدنے آئی ، میں نے اس کو کہا کہ گھر میں اس سے عمدہ کھجور ہے وہ میرے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تو میں نے اس کا بوسہ لے لیا ۔ پھر میں شرمندہ ہوا تو ابوبکر ؓ کے پاس آیا اور ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات چھپالے اور توبہ کر کسی کو نہ بتانا تو میں حضرت عمر ؓ کے پاس آیا ، ان کو یہ بات بتائی ۔ انہوں نے فرمایا اپنے اوپر پردہ کرو اور توبہ کر اور کسی کو یہ بات نہ بتا ، مجھ سے صبر نہ ہوا میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور یہ بات ذکر کی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو نے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے گھر والوں کے بارے میں خیانت کی ۔ حتیٰ کہ اس نے تمنا کی کہ وہ اس وقت ایمان لایا ہوتا حتیٰ کہ اس نے گمان کیا کہ وہ جہنم والوں میں سے ہوگیا تو آپ (علیہ السلام) نے سر جھکایا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی ۔ ” واقم الصلاۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل “ الایۃ ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی تو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کیا اسی کے لیے خاص ہے یا عام ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بلکہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا ۔ پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ (علیہ السلام) کی خبر دی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” واقم الصلاۃ تایذھبن السیئات “ نازل کی تو وہ شخص کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ میرے لیے ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میر ی تمام امت کے لیے ہے۔ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں جب کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم دیکھتے ہو کہ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر نہر ہو اس میں ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرے تو اس کے جسم پر کوئی میل رہے گی ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کچھ میل باقی نہ رہے گی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ، پس یہ پانچ نمازیں کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں ۔ ” ذلک “ یہ جو ہم نے ذکر کیا اور بعض نے کہا ہے کہ قرآن کی طرف اشارہ ہے۔” ذکر نصیحت للذاکرین “ یعنی جو اس کو یاد کرے۔
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کئے رہو کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

115۔” واصبر “ اے محمد ﷺ ! اس پر جو تکلیف آپ (علیہ السلام) کو پہنچے اور بعض نے کہا ہے کہ نماز پر صبر کریں ۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا۔” وامر اھلک بالصلونۃ واصطبر علیھا “۔ ” فان اللہ لا یضیع لجر المحسنین “ نیک اعمال کرنے والوں کے ثواب کو ضائع نہیں کرتا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی نماز پڑھنے والوں کے ثواب کو ضائع نہیں کرتی۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ؟ ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ انہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جن میں عیش و آرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

تفسیر : 116” فلو لا “ پس کیوں نہیں ” کان من القرون “ جن کو ہم نے ہلاک کردیا ۔” من قبلکم “ آیت تو بیخ کے لیے ہے۔ ” اولوا بقیۃ “ یعنی تمیز والے لوگ ، اور بعض نے کہا طاعت والے اور بعض نے کہا ہے خیر والے۔ کہاجاتا ہے ” فلان ذو بقیۃ “ جب اس میں کوئی خیر ہو۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ تم میں سے پہلی امتوں میں کیوں نہیں تھے۔ وہ لوگ جن میں خیر ہے کہ وہ فساد فی الارض سے روکتے ؟ اور بعض نے کہا ہے ” اولوا بقیۃ من خیر “ کہاجاتا ہے ” فلان علی بقیۃ من الخیر “ جب وہ اچھی خصلت و عادت پر ہو ۔ ’ ’ ینھون عن الفساد فی الارض “ یعنی فساد سے روکنے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ’ ’ الا قلیلا ً “ یہ استثناء منقطع ہے معنی یہ ہے کہ ” لکن قلیلا ھو “۔۔۔۔۔ ” ممن انجینا منھم “ اور وہ انبیاء (علیہم السلام) کے پیرو کار فساد فی الارض سے روکتے تھے۔ ” واتبع الذین ظلموا ما اتر فوا ‘ خوش عیش ہوتے فیہ اور المترف خوش عیش ناز و نعم والا اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں وہ مزین کیے گئے اور فراء (رح) فرماتے ہیں نعمتوں اور لذات اور دنیا کو ترجیح دینے کی عادت بنائے گئے۔ یعنی ظالم لوگوں نے اس کی اتباع کی جو ان کی نعمتوں اور لذات اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کی عادت بنی ہوئی تھی اور بعض نے کہا ہے کہ ان کو اپنے ظلم سے ہلاک نہیں کرتا ۔ جب وہ اچھے اعمال کرنے والے ہوں لیکن ان کو ان کے کفر اور کثرت سے گناہ کرنے کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے۔ ” وکانوا مجرمین “۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جبکہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہ ظلم تباہ کردے۔

117۔” وما کان ربک لبھلک القریٰ بظلمھم “ یعنی نہیں ہلاک کرے گا ان کے شرک کی وجہ سے۔ ” واھلھا مصلحون “ آپس میں کسی پر ظلم نہ کرتے ہوں انصاف کرتے ہوں اور ان کو اس وقت ہلاک کردیتا ہے جب وہ آپس میں ظلم کرنے لگیں۔
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔

118۔” ولو شاء ربک لجعل الناس “ اگر اللہ چاہتا سارے کے سارے لوگ ’ امۃ واحدۃ “ ایک دین پر ہوجاتے ۔ ” ولا یزالون مختلفین “ مختلف ادیان پر یہودی ، نصرانی ، مجوسی اور مشرک وغیرہ۔
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لئے اس نے انکو پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔

119۔” الامن رحم ربک “ مطلب یہ ہے کہ لیکن جس پر تیرارب رحم کرے تو ان کو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے ، پس وہ آپس میں اختلاف نہیں کرتے۔ ” ولذلک خلقھم “ حسن اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اور اختلاف کے لیے ان کو پیدا کیا ہے اور اشھب (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے امام مالک (رح) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ (رح) نے فرمایا ان کو پیدا کیا تا کہ ایک فریق جنت میں ہو اور ایک فریق دوزخ میں۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ رحمت کے لیے ان کو پیدا کیا ہے یعنی وہ لوگ جن پر رحم کیا ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ اہل رحمت کو رحمت کے لیے اور اہل اختلاف کو اختلاف کے لیے پیدا کیا ہے اور آیت کا حاصل یہ ہے کہ اہل باطل مختلف ہیں اور اہل حق متفق ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل حق کو اتفاق کے لیے پیدا کیا اور اہل باطل کو اختلاف کے لیے پیدا کیا ۔
Ayah 11:120

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

(اے محمد) پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور (یہ) مومنوں کے لئے نصیت اور عبرت ہے۔

تفسیر : 120۔” وکلا نقص علیک من انباء الرسل ما نثبت بہ فوادک “ معنی یہ ہے کہ جن چیزوں کی رسولوں کی خبروں اور ان کی امتوں کے تذکروں کی آپ کو ضرورت تھی تا کہ ہم آپ کے یقین کو زیادہ کریں اور آپ (علیہ السلام) کے دل کو مضبوط کریں کیونکہ نبی کریم ﷺ جب ان کو سنتے تھے تو اس میں آپ (علیہ السلام) کے دل کو صبر پر تقویت ملتی اپنی قوم کی تکلیف پر ۔ ” وجاء ک فی ھذہ الحق ‘ ‘ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں اور ان کے علاوہ حضرات فرماتے ہیں کہ اس سورت میں اور یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اس سورت کو خاص کیا ہے اعزاز کے لیے اگرچہ تمام سورتوں میں جو آیا ہے وہ حق ہے ۔ ” وموعظۃ وذکری للمومنین “۔