11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لیکر (کہ اسی کے ہاتھ میں) اس کا چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر 41” وقال ارکبوا فیھا “ یعنی ان کو نوح نے کہا تم اس کشتی میں سوار ہو جائو ” بسم اللہ مجریھا و مرسھا ان ربی لغفوررحیم “۔ ضحاک کا قول ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب ارادہ کیا کہ کشتی روانہ ہوجائے تو بسم اللہ کہا کشتی چل پڑی اور جب کشتی کو ٹھہرانا چاہا تو بسم اللہ کہا کشتی ٹھہر گئی۔ حمزہ کسائی اور حفص نے (مجرسھا) میم کے فتحہ کے ساتھص مرسھاض میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ محمد بن محیص نے ( مجرسھا ومرساھا) دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے مادہ جرت اور رست ہے۔ عبادت اس طرح ہوگی ” بسم اللہ جریھا واسوھا “ یہ دونوں مصدر ہیں ۔ دوسرے قراء نے ” مجراھا مرساھا “ دونوں میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ عبارت اس طرح ہوگی ۔ بسم اللہ اجراء ھا وارسائو ھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان انزلنی منزلامبارکا واد خلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق اس سے مراد انزال ادخال اور اخراج ہے۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ انکو لیکر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ (کشتی سے) الگ تھا ' پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو۔

42” وھی تجری بھم فی موج کالجبال “ موج اس پانی کو کہتے ہیں جو تیز ہوا کے چلنے سے بلند ہوجائے اس کو پہاڑ کے ساتھ تشبیہ دی اس کے بڑا اور بلند ہونے میں ” ونادی نوح ن ابنہ “ کنعانک اور عبید بن عمیر نے کہا ہے کہ سام مراد ہے اور یہ کافر تھا ” وکان فی معزل “ کشتی پر سوار نہ ہوا تھا۔ ” یا بنی ارکب معنا “ نافع ، ابن عامر، حمزہ اور بزی رحمہما اللہ نے ابن کثیر سے اور ابو ب کرنے عاصم اور یعقو ب رحمہما اللہ سے ” ارکب “ باء کو ظاہر کر کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات باء کو میم میں ادغام کرتے ہیں ۔ ” ولا تکن مع الکافرین “ پس تو ہلاک ہوجائے گا ۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر اس پر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آ حائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔

اللہ تعالیٰ اس دن کسی پر رحم کرتے تو اس بچہ کی ماں پر ضرور کرتے 43۔” قال “ ان کے بیٹے نے ” سآوی “ عنقریب میں پناہ لوں گا الی جبل یعصمنی من الماء جو مجھے غرق سے بچائے گا قال کہا اس کو نوح (علیہ السلام) نے لا عاصم الیوم من امر اللہ اللہ کے عذاب سے ’ ’ الا من رحم “ بعض نے کہا ہے ” من “ محل نصب میں ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی محفوظ نہیں ہے مگر جس پر اللہ رحم کر دے جیسے باری تعالیٰ کا قول ” فی عیشۃ راضیۃ “ یعنی ” مرضیۃ “ ہے ۔ ” وحال بینھما الموج فکان من المغرقین “ اور روایت کیا گیا ہے کہ پانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے چالیس گزر بلند ہوگیا اور بعض نے کہا یہ پندرہ گز اور روایت کیا گیا ہے کہ جب گلیوں میں پانی زیادہ ہوا تو ایک بچہ کی ماں اس کی محبت میں بچہ کو پہاڑ کے تیسرے حصے تک لے گئی ۔ جب پانی پہاڑ کے ثلث تک پہنچ گیا تو وہ دو ثلث چڑھ گئی جب وہاں پانی پہنچ گیا تو وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئی ۔ جب پانی اس عورت کی گردن تک پہنچا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے بچہ کو بلند کرلیا لیکن پانی دونوں کو ڈبو گیا ۔ اگر اس دن قوم نوح (علیہ السلام) میں سے اللہ تعالیٰ کسی پر رحم کرتے تو اس بچہ کی ماں پر ضرور کرتے۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا۔ اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت۔

کشتی نوح کی ساخت تفسیر 44” وقیل “ یعنی طوفان کا معاملہ ختم ہونے کے بعد ” یا ارض ابلعی “ تو پی جا ” ماء ک ویا سماء اقلعی “ تو روک لے ” وغیض المائ “ خشک ہوگیا ۔ کہا جاتا ہے ” غاض الماء یغیض غیضا “ جب وہ ختم ہوجائے اور غاضہ اللہ یعنی جب اللہ اس کو خشک کر دے ” وقضی الامر “ قوم کی ہلاکت کے امر سے فارغ ہوگئے ۔ ” واستوت “ یعنی کشتی ٹھہر گئی ” علی الجودی “ یہ پہاڑ موصل کے قریب جزیرہ میں ہے۔ ” وقیل بعد “ ہلاکت ہے۔ ” للقوم الظالمین “ طوفان نوح سے بچنے والا ایک شخص اور روایت کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک کوے کو بھیجا تا کہ وہ زمین کی خبر گیری کر آئے تو وہاں کسی مردار کو دیکھ کر اس کو کھانے لگ گیا اور واپس نہ آیا تو کبوتر کو بھیجا تو وہ زیتون کا پتہ اپنی چونج میں پکڑ کر دونوں پائوں کو کیچڑ لگا کر آگیا تو نوح (علیہ السلام) نے جان لیا کہ پانی خشک ہوگیا ہے ۔ پھر کہا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے کوے کو بد دعا کی تو اسی وجہ سے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا اور وہ پتہ لے کر کبوتر کی گردن میں ڈال دیا اور اس کے لیے دعا کی تو اس وجہ سے وہ گھروں سے مانوس ہوتا ہے اور روایت کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) رجب کی دس تاریخ کو کشتی پر سوار ہوئے اور کشتی چھ ماہ چلتی رہی اور بیت اللہ کے پاس سے گزری تو سات چکر لگائے اور اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو بلند کرلیا تھا اور اس کی صرف جگہ باقی تھی اور کشتی سے عاشورہ کے دن اترے تو نوح (علیہ السلام) نے روزہ رکھا اور اپنے تمام ساتھیوں کو بھی شکرانے کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور بعض نے کہا ہے کہ کفار میں سے صرف عوج بن عنق غرق ہونے سے بچ گیا، پانی اس کی کمر تک پہنچا اس کی نجات کا سبب یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو ساگوان کی لکڑی کی ضرورت تھی تو اس کو نفل نہ کرسکے تو عوج اس لکڑی کو شام سے لے آیا تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دی۔
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار ! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اسکو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔

45” ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اھلی “ کیا آپ نے مجھ سے میری گھر والوں کی نجات کا وعدہ نہ کیا تھا ؟” وان وعدک الحق “ اس میں کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ۔” واینت احکم الحاکمین “ ایک قوم پر نجات اور دوسری پر ہلاکت کا فیصلہ کیا ۔ کسائی اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” عمل “ میم کی زیر اور لام کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے ( غیر) راء کے نصب کے ساتھ فعل کی بناء پر یعنی شرک اور تکذیب کا عمل اور دیگر حضرات نے میم کے زبر اور لام کے پیش اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے ( غیر) راء کے پیش کے ساتھ۔
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے۔ وہ تو ناشائستہ افعال ہے۔ تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔

46۔” قال “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یا نوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح “ کسائی اور یعقوب نے ( عمل) میم کے کسرہ اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ غیر منصوب فعل کی وجہ سے دوسرے قراء نے میم کے فتحہ اور لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور غیر کو بھی مرفوع پڑھا ہے۔ یعنی تمہارا مجھ سے نجات کے متعلق سوال کرنا یہ عمل غیر صالح ہے۔” فلا تسالن “ اے نوح ” ما لیس لک بہ علم “ اہل حجاز اور اہل شام نے ” فلا تسالنی “ لام کے زبر اور نون کے شد کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ حضرات ابن کثیر کے علاوہ نون کو زیر دیتے ہیں۔ ابن کثیر نون کو زبر دیتے ہیں اور دیگر حضرات نے لام کے جزم اور نون کی زبر اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور ابو جعفر ، ابو عمر و اور ورش نے یاء کو وصل کی صورت میں باقی رکھا ہے نہ کہ وقف کی صورت میں اور یعقوب (رح) نے اس کو دونوں حالتوں میں ثابت رکھا ہے۔ ” انی اعظک ان تکون من الجاھلین “ ابن کی تعیین میں اختلاف ہے۔ مجاہد اور حسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لڑکا نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں پیدا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی نوح (علیہ السلام) کو اس کا علم تھا اس لیے فرمایا ’ ’ ما لیس لک بہ علم “ اور حسن نے دلیل میں آیت ” فخانتا ھما “ پڑھی ہے۔ ابو جعفر باقر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا بیٹا تھا اور نوح (علیہ السلام) کو اس کا علم تھا اس لیے ” من اھلی “ کہا ہے ” منی ‘ نہیں کہا اور ابن عباس ؓ ، عکرمہ ، سعید بن جبیر ، ضحاک اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نوح (علیہ السلام) کا بیٹا تھا ان کی اپنی پشت سے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کے قول ” لیس من اھلک “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دین والوں میں سے نہیں ہے اور ” فخانتا ھما “ کا مطلب یہ ہے کہ دین اور عمل میں خیانت کی نہ کہ بستر میں ۔ ” انی اعظک ان تکون من الجاھلین “ یعنی پہلے کفار کی ہلاکت کی دعا کی پھر کافر کی نجات کا سوال کر رہے ہیں۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی مجھے حقیقت معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا۔

تفسیر : 47” قال “ نوح (علیہ السلام) نے کہا رب انی اعوذبک ان اسئلک ما لیس لی بہ علم والا تغفرلی وترحمنی اکن من الخاسرین “۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہونگی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر انکو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا۔

48” قیل یا نوح اھبط “ کشتی سے اترآ ” بسلام منا “ ہماری طرف سے امن و سلامتی کے ساتھ و برکات علیک برکت خیر کا ثابت ہونا اور بعض نے کہا ہے کہ یہاں برکت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کو قیامت تک باقی رکھا۔ ” وعلی ٰ امم ممن معک “ وہ لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ وہ خود بھی جماعتوں کی شکل میں تھے اور تمام اقوام انہی کی نسل سے پیدا ہونیوالی تھیں ۔ اس لئے ان کو امم فرمایا ۔ محمد کعب قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ قیامت تک ہر مومن اس لفظ ” امم “ میں داخل ہوگا ۔” وامم سنمتعھم “ یہ مبتداء ہے یعنی امتیں ہم ان کو عنقریب نفع دیں گے۔ ” ثم یمسھم منا عذاب الیم “ اور وہ کافر اور بدبخت لوگ ہیں۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (حالات) من جملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں (اور) اس سے پہلے نہ تم ہی ان جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

49۔” تلک من انباء الغیب “ غیب کی خبروں سے ’ ’ نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا “ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ” فاصبر “ اللہ کے حکم پر قائم ہونے اور رسالت کی تبلیغ پر ۔ جیسے نوح (علیہ السلام) نے صبر کیا ۔ ” ان العاقبۃ “ انجام سعادت اور مدد کے ساتھ ” للمتقین “ تقویٰ والوں کیلئے ہے۔
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عدا کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو۔

50۔” والی عاد “ یعنی ہم نے بھیجا عاد کی طرف ۔ ” اخاھم ھودا “ یہاں بھائی سے مراد نسبی ہیں ۔ دینی بھائی مراد نہیں جو انما المنون اخوۃ کے تحت شامل ہوتا ہے۔ ” قال یا قوم اعبدو اللہ تم اللہ کی توحید بیان کرو مالکم من الہ غیرہ ان انتم الا مفترون یعنی تم اپنے شریک ٹھہرانے میں جھوٹے ہو۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

میری قوم ! میں اس (وعظ ونصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں ؟

تفسیر 51۔” یا قوم لا اسئلکم علیہ “ رسالت کی تبلیغ پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ۔” اجرا “ عوض ” ان اجری “ نہیں ہے میرا ثواب الاعلی الذی فطرنی مجھے پیدا کیا ہے ” افلا تعقلون “۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے اور تمہاری طاقت بڑھائے گا۔ اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔

52۔ ” ویاقوم استغفر واربکم “ یعنی اس پر ایمان لائو ، استغفار یہاں ایمان کے معنی میں ہے۔ ” ثم توبوا الیہ “ اس کے غیر کی عبادت سے اور اپنے پچھلے گناہوں سے ” یرسل السماء علیکم مدرارا “ یعنی تم پر ضرورت کے وقت لگا تار بارش بھیجیں گے ۔ ” ویزدکم قوۃ الی قوتکم “ اللہ تعالیٰ نے ان سے تین سال کے لیے بارش روک دی اور ان کی عورتوں کو بانجھ کردیا تو ہود (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم ایمان لے آئو تو اللہ تعالیٰ تم پر بارش برسائیں گے تو تمہارا مال زیادہ اور تمہاری اولاد پیدا ہونے لگ جائے گی تو مال اور اولاد کے ذریعے تمہاری قوت بڑھ جائے گی اور بعض نے کہا ہے کہ بدن کی قوت کے ساتھ دین کی قوت مل جائے گی تو تمہاری قوت بڑھ جائے گی ۔ ” ولا تتولو مجرمین “ یعنی نہ پیٹھ پھیرے شرک کرتے ہو۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

قوم ہود کا واقعہ 53۔ ” قالوا یا ھود ما جئتنا بینۃ برھان “ اور واضح دلیل اپنے قول پر وما نحن بتارکی آلھتنا عن قولک وما نحن لک بمومنین “ تصدیق کرنے والے۔
Ayah 11:54

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

54۔ ” ان نقول الا اعتراک بعض الھتنا بسوء “ آپ نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا تو انہوں نے آپ سے انتقام لیا ہے کہ آپ کو مجنون کردیا ہے۔ ” وقال “ ان کو ہود (علیہ السلام) نے ” انی اشھد اللہ “ اپنی ذات پر ” واشھدوا “ میری قوم ” انی بری مما تشرکون “۔
Ayah 11:55

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے نہ دو ۔

55۔” ومن دونہ “ اس سے مراد بت ہیں ” فکیدونی جمعیا “ مجھے نقصان پہنچانے کی تم اور تمہارے بت تدبیر کرو ۔ ” ثم لاتنظرون “ مجھے مہلت نہ دو ۔
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔

56۔ ” انی توکلت “ میں نے اعتماد کیا ” علی اللہ ربی و ربکم ما من دابۃ الا ھو آخذ بنا صیتھا “۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ۔ فراء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا مالک اور اس پر قادر اور بعض علماء رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی پیشانی کو پکڑا ہوا ہے کہ وہ صرف اسی طرح متوجہ ہوتا ہے جو وہ اس کے دل میں ڈالتا ہے اور قتیبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس پر غالب ہے اس لیے کہ جو کسی کی پیشانی پکڑ لے وہ اس پر غالب ہوجاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ناصیہ کو ذکر کیا ہے اس لیے کہ عرب جب کسی انسان کی ذلت کو بیان کرنا چاہتے ہیں تو ناصیۃ کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ مثلاً کہتے ہیں ” ناصیۃ فلان بید فلان “ اور جب کسی انسان کو خوش ہو کر چھوڑنے کا ارادہ کرتے تھے تو اس کی پیشانی کے بال کاٹ دیتے تھے تا کہ وہ اس بات کو اس پر فخر سمجھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے عرف کے مطابق ان کو خطاب کیا ہے۔ ” ان ربی علی صراط مستقیم “ یعنی میرا رب اگرچہ ان پر قادر ہے لیکن ان پر ظلم نہیں کرتا اور احسان اور عدل والا معاملہ کرتا ہے۔ پس نیک کو اس کی نیکی اور برے کو اس کی برائی کا بدلہ دیتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ میرے رب کا دین سیدھے راستے پر ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہاں عبارت پوشیدہ ہے یعنی میرا رب تم کو ابھارتا ہے سیدھے راستے پر۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم رودگرانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔

تفسیر : 57” فان تولوا “ یعنی تتولوا اگر تم اس سے اعراض کرو جس کی طرف تمہیں بلاتا ہو ” فقد ابلغتکم ما ارسلت بہ الیکم ویستخلف ربی قوما ً غیر کم “ تم اعراض کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کر کے تمہارے بدلے دوسری قوم لے آئیں گے جو تم سے زیادہ فرمانبردار ہوگی اور اس کی توحید کی قائل اور عبادت کرے گی ۔ ” ولا تضرونہ شیئا ً “ یعنی تم اعراض کر کے اپنے آپ کا نقصان کر رہے ہو اور بعض نے کہا ہے کہ جب وہ تم کو ہلاک کر دے گا تو تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے کیونکہ تمہارا ہونا نہ ہونا اس کے ہاں براب رہے۔ ” ان ربی علی کل شی حفیظ “ یعنی ہر چیز کی حفاظت کرتا ہے وہ میری حفاظت کرے گا تم سے برائی پہنچنے سے۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے انکو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور انھیں عذاب شدید نجات دی۔

58” ولماء جاء امرنا “ جب ہمارا عذاب ” نجینا ھود ا والذین امنوا معہ “ یہ چار ہزار لوگ تھے۔ ” برحمۃ “ نعمت کے ساتھ ” منا ونجینا ھم من عذاب غلیظ “ یہ وہ ہوا ہے جس سے قوم عاد کو ہلاک کیا اور بعض نے کہا ہے کہ عذاب غلیظ قیامت کے دن کا عذاب ہے ، یعنی جس طرح ہم نے ان کو دنیا میں عذاب سے نجات دی اسی طرح ان کو آخرت میں نجات دیں گے۔
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔

59۔” وتلک عاد “ ضمیر کو قبیلہ کی طرف راجع کیا ہے ” جحدوا بآیات ربھم و عصوا رسلہ “ صرف ھود (علیہ السلام) کی لیکن جمع کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا ہے کیونکہ جس نے ایک رسول کی تکذیب کی وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے تمام رسولوں کی تکذیب کی ۔ ” واتبعوا امر کل جبار عنید “ جبار بمعنی متکبر اور عنید بمعنی وہ شخص جو حق کو قبول نہ کرے۔ کہا جاتا ہے عند الرجل بعند عنودا جب وہ انکار کردے کسی چیز کو قبول کرنے اگرچہ اس کو جانتا ہو اور ابو عبیدہ فرماتے ہیں ۔ عنید ، عنود ، عاند ، معاند ، مخالفت کرنے والے مقابل کو کہتے ہیں۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔

تفسیر 60” واتبعوا فی ھذہ الدنیا لعنۃ “ ان کے پیچھے لعنت لگائی گئی جو ان کو لا حق ہے اور ان کے ساتھ پھرتی ہے اور اللعنتہ دور کرنا اور رحمت سے ہٹانا لعنت رحمت سے دورہونا ۔ ” ویوم القیامۃ “ یعنی قیامت کے دن بھی دنیا کی طرح لعنت کیے جائیں گے ۔ ” الا ان عاد کفروا ربھم “ یعنی اپنے رب کا ، کہا جاتا ہے کفرتہ وکفرت ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے شکرتہ وشکرت لہ ونصحۃ و نصحت ہے ۔ الا بعد العاد قوم ھودبعض نے کہا ہے کہ اللہ کی رحمت سے دوری ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ہلاکت ہے اور ” بعد “ کے دو معنی ہیں ایک قرب کی ضد اور دوسرا معنی ہلاک ہونا ۔ پہلے معنی کا باب ۔ ” بعد یبعد بعدا “ ہے اور دوسرے بمعنی ہلاکت کے ہے، جیسے کہا جاتا ہے بعد یبعید بعد اور ایک باب یہ بھی ہے بعد یبعد بعدا و عبدا۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پید کیا اور اس میں آباد کیا۔ تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔

قوم ثمود کا تذکرہ 61۔ ” والی ثمود اخاھم صلحا “ ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے نسبی بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا یہاں دینی بھائی مراد نہیں ۔ قال یا قوم اعبدوا اللہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک جانو ۔” مالکم من الہ غیرہ ھو انشاکم “ تمہاری تخلیق کی ابتداء کی ۔ ” من الارض “ کیونکہ سب لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے ۔ ” واستعمر کم فیھا “ تم کو اس کا رہائشی بنایا۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ تمہاری عمر کو لمبا کیا یہاں تک کہ ان کی عمریں تین سو سال سے ہزار سال تک ہوتی تھیں اور اسی طرح قوم عاد کی عمریں لمبی تھیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” اعمر کم عمری “ سے ہے یعنی تمہارے لیے وہ چیزیں بنائیں جن سے تم زندہ رہ سکو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم کو اس میں ٹھہرایا ۔ ” فاستغفروہ ثم توبوا الیہ ان ابی قریب “ مؤمنین سے قریب ” مجیب “ ان کی دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوچنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں۔ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں قومی شبہہ ہے۔

62” قالوا “ یعنی ثمود والے کہنے لگے ” یا صالح قد کنت فینا مرجوا ً قبل ھذا “ یعنی ہمیں امید تھی کہ تو ہمارا سردار ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ میں امید تھی کہ تو ہمارے دین کی طرف لوٹ آئے گا کیونکہ ان کو یہ لگتا تھا کہ صالح (علیہ السلام) بھی اپنے قبیلے کے دین پر چلیں گے لیکن جب صالح (علیہ السلام) نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور بتوں کو چھوڑا تو ان کو لگا کہ ان کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں تو کہنے لگے ” اتنھانا ان نعبدما یعبد آبائو نا “ معبودوں کی ” واننا لفی شک مما تدعونا الیہ مریب “ شک میں واقع ہونے کی جگہ۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اسکے سامنے میری کون مدد کریگا ؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو۔

63۔ ” قال یا قوم ارایتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتانی منہ رحمۃ “ نبوت اور حکمت ” فمن ینصرنی من اللہ “ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا ۔” ان عصیتہ فما تزید واننی غیر تخسیر “ ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے تخسیر کا ترجمہ کیا ہے خسارے کو دیکھنا مطلب یہ ہے کہ تمہاری تکذیب سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ تم بہت نقصان اٹھائو گے ۔ بڑے خسارے میں رہو گے۔ حسین بن فضل کا قول ہے کہ حضرت صالح تو کبھی بھی خسارے میں نہیں رہے۔ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ تم میرے لئے خسارہ بڑھا رہے ہو ۔ بلکہ تخسیر کا معنی ہے کہ کسی کی طرف خسارہ کی نسبت کردینا خسارہ یاب قرار دینا ، جیسے تکفیر اور تفسیق کا معنی ہے کسی کو کافر اور فاسق قرار دینا کفر و فسق کی طرف منسوب کرنا ۔
Ayah 11:64

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم ! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اسکو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

تفسیر : 64” ویقوم ھذہ ناقۃ اللہ لکم ایۃ “ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ صالح (علیہ السلام) کی قوم نے مطالبہ کیا تھا کہ اس چٹان سے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی نکلے تو صالح (علیہ السلام) نے دعا کی تو اس چٹان سے اونٹنی نکلی اور نکلتے ہی اپنے جیسا بچہ جن دیا ۔ یہ پورا قصہ ہم سورة اعراف میں بیان کرچکے ہیں ۔ ” قذروھا تاکل فی ارض اللہ “ گھاس پھوس اور جڑی بوٹیاں تمہارے ذمہ اس کا خرچہ نہیں ہے۔ ” ولا تمسوھا بسوء فیا خذکم “ اگر تم نے اس کو مار ڈالا ۔ ” عذاب قریب “۔
Ayah 11:65

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھالوں۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔

65” فعقروھا فقال “ ان کو صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا ” تمتعوا “ عیش کرلو چند روز زندہ رہو ” فی دارکم ‘ ‘ اپنے محلوں اور کوٹھیوں میں تین دن ” ثلاثہ ایام “ پھر تم ہلاک ہو جائو گے ۔ ” ذلک وعد غیر مکذوب “ یہ وعدہ جو تمہارے ساتھ کیا گیا ہے چھوٹا نہیں ہے۔ مروی ہے کہ صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا کہ تم پر تین دن کے بعد عذاب آئے گا ۔ پہلے دن تم صبح کرو گے تو تمہارے چہرے زرد ہوں گے اور دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوں گے اور چوتھے دن عذاب آئے گا تو جیسے حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا تھا ویسے ہی ہوا۔
Ayah 11:66

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) بیشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے۔

66۔” فلما جاء امرنا نجینا صالحا والذین امنوا معہ برحمۃ منا ومن خزی یومئذ “ یعنی اس دن کے عذاب سے۔ ابو جعفر، نافع اور کسائی نے ( خزی یومئذ اور عذاب یومئذ “ میم کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے زبر کے ساتھ ” ان ربک ھو القوی العزیز “
Ayah 11:67

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

67۔” واخذ الذین ظلموا “ ظلم سے مراد کفر ہے ” الصیحیۃ “ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے ان پر ایک زوردار چیخ ماری تو وہ سب ہلاک ہوگئے اور بعض نے کہا ہے کہ ان پر آسمان پر چیخ آئی جس میں آسمانی بجلیوں اور زمین کی ہر چیز کی آواز تھی ۔ ان کے دل ان کے سینوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ اخذ مذکر ہے اور الصحیۃ مؤنث ہے یہاں پر الصحیۃ بمعنی الصیاح کی ہے۔ ” فاصبحوا فی دیارھم جاثمین “ بہت جلد ہلاک ہوئے۔
Ayah 11:68

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے

تفسیر : 68 ” کان لم یعنوا فیھا “ نہیں آباد رہے ۔ ” الا ان ثمود کفروا ربھم الا بعد الثمود “ کسائی (رح) نے ” لثمود “ دال کی جر اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے دال کی نصب کے ساتھ ، جنہوں نے جروی ہے تو اس وجہ سے کہ یہ کسی مذکر کا نام ہے اور جنہوں نے نصب دی ہے انہوں نے قبیلہ کا نام قرا ر دیا ہے۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابرہیم) بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دینے والے فرشتوں کی تعداد 69۔” ولقد جاء ت رسلنا ابراہیم بالبشری “ رسل سے فرشتے مراد ہیں ۔ ان کی تعداد میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ تین فرشتے تھے ، جبرئیل ، میکائل ، اسرافیل (علیہم السلام) اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ نو تھے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں بارہ تھے۔ محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں کہ جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ سات فرشتے تھے اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ نوجوان لڑکوں کی صورت میں گیارہ فرشتے تھے، چمکدار چہرے والے ، اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) کی خوشخبری لائے تھے اور بعض نے کہا ہے کہ قوم لوط کو ہلاک کرنے کی خبر لائگے تھے۔ ” قالوا سلاما ً قال سلام “ یعنی علیکم سلام اور بعض نے کہا ہے کہ حکایت کی وجہ سے موفوع ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وقولوا حطۃ “ پر رفع حکائی ہے۔ سورة الذاریات سین کے کسرہ بغیر الف کے ہے۔ بعض نے کہا سلم بمعنی السلام کے ہے، بعض نے کہا سلم بمعنی صلح کے ہے مطلب یہ ہے کہ ہماری تم سے دشمنی اور جنگ نہیں ہے۔ دوستی اور صلح ہے۔ ” فما لبث ان جاء بعجل حنیذ “ حنیذ بمعنی محنوذ یعنی جس کو زمین میں گڑھا کر کے پتھر پر بھونا گیا ہو اور یہ موٹا تازہ تھا اس سے چکنائی ٹپک رہی تھی ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ” فجاء بعجل سمین “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اکثر مال گائیں تھیں۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

جب دیکھا کہ ان کہ ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف (انکے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

70” فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ “ بھونے ہوئے بچھڑے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ” نکرھم نکر اور انکر خوشگوار حالت سے بدل کر کسی کا ناگوار حالت پر پہنچ جانا واو جس منھم خفیۃ مقاتل کا بیان ہے اوجس یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں پیدا ہوگیا ۔ وجوس کا اصل معنی ہے داخل ہونا یعنی خوف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں پیدا ہوگیا ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں جب مہمان آتا اور کچھ نہ کھاتا تو وہ گمان کرتے تھے کہ یہ خیر کے ارادہ سے نہیں آیا بلکہ شر کے ارادہ سے آیا ہے۔ ” قالو الا تخفف “ اے ابراہیم (علیہ السلام) ” انا “ اللہ کے فرشتے ہیں ۔ ” ارسلنا الی قوم لوط “۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔

فضحکت کی تفسیر میں ائمہ کے مختلف اقوال 71” وامراتہ “ ان سے مراد سارہ بنت ہاران بن احوریہ ابراہیم (علیہ السلام) کے چچا کی بیٹی تھیں ۔ ” قائمۃ “ پردے کے پیچھے ان کی بات سن رہی تھیں اور بعض نے کہا کہ مہمانوں کی خدمت کے لیے کھڑی تھیں اور ابراہیم (علیہ السلام) بیٹھے تھے۔ ” فضحکت “ مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” ضحکت “ بمعنی اسی وقت حیض آگیا عرب کہتے ہیں ” ضحک الارنب “ جب خرگوش کو حیض آجائے اور اکثر اس طرف گئے ہیں کہ آیت میں معرف ضحک یعنی ہنسنا مراد ہے ۔ اس ضحک کے سبب میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اپنے اور ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف دور ہونے کی وجہ سے ہنسی تھی ۔ جب انہوں نے کہا ڈرو نہ اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کھانا پیش کیا اور انہوں نے نہ کھایا تو ابراہیم (علیہ السلام) کو ان سے خوف ہوا کہ یہ چور نہ ہوں تو ان کو فرمایا کیوں نہیں کھاتے ؟ وہ کہنے لگے کہ ہم بغیر قیمت ادا کیے کھانا نہیں کھاتے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کی قیمت ہے۔ انہوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ تو وہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کھانے کی ابتداء میں اللہ کا نام لو اور کھا کر اس کی تعریف کرو تو جبرئیل (علیہ السلام) نے میکائل (علیہ السلام) کی طرف دیکھا اور کہا یہ اس بات کے حق دار ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا خلیل بنائیں۔ پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سارہ ؓ نے دیکھا کہ وہ کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگا رہے تو حضرت سارہ ؓ ہنس پڑیں اور کہا ہمارے مہمانوں پر تعجب ہے کہ ہم ان کے اعزاز میں ان کی خود خدمت کر رہے ہیں اور وہ ہمارا کھانا ہی نہیں کھاتے ۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ قوم لوط کی غفلت اور ان سے عذاب قریب ہونے پر ہنسیں اور مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے تین آدمیوں سے خوف کرنے پر ہنسیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر میں تھے اور نوکر چاکر بھی موجود تھے اور بعض نے کہا ہے کہ خوشخبری کی خوشی میں ہنسیں کہ ان کے اور ان کے خاوند کے اس بڑھاپے میں اولاد ہوگی ۔ اس قول پر آیت میں تقدیم و تاخیر ہوگی ۔ اصل عبارت یوں بنے گی ۔ ” وامراتہ قائمۃ فبشرنا ھا باسحق ومن وراء اسحق یعقوب فضحکت وقال یاویلتیء الدوانا عجوز ؟ “۔۔۔۔” فبشرنا ھا باسحق ومن وراء اسحق یعقوب “ اس سے مراد بیٹے کا بیٹا ہے تو یہ خوشخبری دی گئی کہ وہ بیٹا زندہ رہیں گے اور آگے اس بیٹے کی اولاد بھی دیکھیں گی۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا ؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

بچے کی ولادت کی خوشخبری کے وقت والدہ والد اسحاق کی عمریں تفسیر 72” قالت یاویلتا “ یہ کلمہ انسان تعجب والی چیز دیکھنے کے وقت کہتا ہے یعنی بڑا تعجب ہے۔” ا الدوانا عجوز “ ابن اسحاق (رح) کے قول میں ان کی عمر نوے سال تھی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ننانوے سال تھی ۔ ” وھذا بعلی “ یعنی میرا خاوند۔ زوج کو بعل کہا ہے کیونکہ وہ عورت کے معاملہ میں نگہبان ہوتا ہے۔ ” شیخا “ حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ ابن اسحاق کے قول کے مطابق اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں سو سال تھی اور اس خوشخبری اور بچے کی ولادت کے درمیان ایک سال وقفہ ہوا ۔” ان ھذا لشئی عجیب “۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہی۔ وہ سزا وار تعریف اور بزرگوار ہے۔

73۔” قالوا “ فرشتے کہنے لگے ۔ ” اتعججبین من امر اللہ “ معنی یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی شے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ہوجاتی ہے۔ ” (رح) وبرکاتہ علیکم اھل البیت “ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر والو بعض علماء نے کہا یہ جملہ دعائیہ ہے ۔ بعض نے کہا کہ خبر یہ ہے کہ رحمت سے مراد نعمت یا محبت اور برکت ہے اور برکات جمع ہے۔ برکۃ کی اور وہ ثبوت چیز ہے ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں ۔ ” انہ حمید مجید “ حمید جس کے افعال میں اس کی تعریف کی جائے۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوش خبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے۔

تفسیر : 74” فلما ذھب عن ابراہیم الروح خوف و جاء تہ البشری “ اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی خوشخبری آئی ۔ ” یجادلنا فی قوم لوط “ اس میں عبارت محذوف ہے۔ یعنی اخذوظل یجادلنا بعض نے کہا ہے کہ ہم سے گفتگو کرنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب سے جھگڑا نہیں کرسکتے۔ انہوں نے تو سوال کیا تھا اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے رسولوں سے جھگڑنے لگے او وہ جھگڑا یہ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کو فرمایا کہ اگر لوط (علیہ السلام) کے شہروں میں پچاس مؤمن ہوں تو کیا تم ان کو ہلاک کر دو گے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا اگر چالیس ہوں ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا اگر تیس ہوں ؟ انہوں نے کہا نہیں ، ایسے کرتے پانچ تک پہنچے ، پھر پوچھا کہ اگر وہاں ایک مسلمان شخص ہو تو کیا تم ان کو ہلاک کر دو گے ؟ تو انہوں نے کہا نہیں ۔ تو اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ۔ ” ان فیھا لوطا “ یعنی اس میں لوط (علیہ السلام) ہیں تو ان فرشتوں نے کہا کہ ہم جو لوگ وہاں ہیں ان کو خوب جانتے ہیں تو اس مکالمہ کی خبر اللہ تعالیٰ نے یوں دی :” یجادلنا فی قوم لوط “۔
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے ' نرم دل اور رجوع کرنیوالے تھے۔

75۔” ان ابراہیم لعلیم اوہ منیب “ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں میں چالیس لاکھ افراد آباد تھے تو اس وقت فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کہا ۔
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم ! اس بات کو جانے دو ۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے گا۔

76” یا ابراہیم اعرض عن ھذا “ یعنی اس گفتگو سے اعراض کریں اور یہ بحث چھوڑیں۔” انہ قد جاء امر ربک “ یعنی تیرے رب کا عذاب اور تیرے رب کا حکم ” وانھم اتیھم عذاب غیر مردود “ یعنی ان سے ہٹایا نہ جائے گا ۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ 77۔” ولماجاء ت رسلنا “ یہی فرشتے ” لوطا “ بےریش خوبصورت لڑکوں کی صورت میں ’ ’ سیء بھم “ یعنی ان کے آنے کی وجہ سے لوط (علیہ السلام) غمگین ہوگئے۔ ” وضاق بھم ذرعا “ یعنی دل کہا جاتا ہے۔ ضاق ذرع فلان بکذا ذرع کا معنی دل سے کیا ہے۔ جب وہ کسی ایسے ناپسند کام میں واقع ہوجائے جس سے نکلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو ، کیونکہ جب لوط (علیہ السلام) نے ان کے حسین چہروں اور عمدہ خوشبو کو دیکھا تو ڈرے کہ ان کی قوم ان سے برائی کا اراد کریں گے اور یہ بھی جان لیا کہ اب ان کا دفاع کرنا پڑے گا ۔ ” وقال ھذا یوم عصیب “ یعنی سخت گویا کہ شر اور آزمائش اس میں باندھے دیئے گئے ہیں۔ قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکلے لوط (علیہ السلام) کی بستی کی طرف تو دن چڑھے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے وہ اپنی زمین میں کاشت کر رہے تھے اور بعض نے کہا ہے کہ لکڑیاں جمع کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو کہا تھا کہ اس قوم کو تب تک نہ ہلاک کرنا جب تک ان کے خلاف لوط (علیہ السلام) چار گواہیاں نہ دے دیں تو انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے مہمان بنانے کا کہا ، لوط (علیہ السلام) ان کو لے گئے جب تھوڑا چلے تو انہوں نے کہا اس بستی والوں کے معاملہ کے بارے میں تمہیں کیا معلوم ہے ؟ انہوں نے پوچھا ان کا معاملہ کیا ہے ؟ تو لوط (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ زمین میں سب سے برا کام کرنے والی بستی ہے۔ یہ بات چار مرتبہ کہی ، جب وہ لوط (علیہ السلام) کے گھر داخل ہوئے اور روایت کیا گیا ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے لکڑیاں اٹھائیں اور فرشتے آپ (علیہ السلام) کے پیچھے چل پڑے جب قوم کی ایک جماعت پر گزرے تو انہوں نے آپس میں آنکھوں سے اشارے کیے۔ تو لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میری قوم اللہ کی مخلوق میں سب سے بری ہے۔ پھر دوسری جماعت پر گزرے تو انہوں نے بھی اشارے کیے تو لوط (علیہ السلام) نے پھر وہی بات کی ۔ پھر ایک اور جماعت پر گزرے تو وہی بات کی ۔ جب بھی لوط (علیہ السلام) یہ بات کہتے تو جبرائیل (علیہ السلام) فرشتوں کو کہتے تم گواہ ہو جائو ۔ یہاں تک کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر پہنچ گئے اور روایت کیا گیا ہے کہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے گھر آئے تو وہ گھر میں تھے اور ان کے آنے کا لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے علاوہ کسی کو پتہ نہ تھا تو لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے جا کر قوم کو بتادیا اور کہا کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر میں چند لڑکے ہیں ، میں نے ان جیسے چہرے کبھی نہیں دیکھے۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔ اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم ! (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لئے (جائز اور) پاک ہیں تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں ؟

تفسیر 78” وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ دوڑتے ہوئے آئے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ وہ لپکتے ہوئے آئے ۔ شمر بن عطیہ نے کہا کہ تیز چال اور لپکنے کے درمیان چال سے آئے ” ومن قبل “ لوط (علیہ السلام) کے پاس آنے سے پہلے۔” کانوا یعملون السیات “ مردوں کے پچھلے حصے میں آتے تھے ” قال “ ان کو لوط (علیہ السلام) نے کہا جب انہوں نے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کو لڑکے سمجھ کر بدفعلی کا ارادہ کیا ۔ ” یا قوم ھولاء بناتی ھن اطھر لکم “ نکاح کے ذریعے تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں ۔ اس وقت کافر کا مسلمان عورت سے نکاح جائز تھا۔ جیسے نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹیوں کا ناح عتبہ بن ابی لھب اور ابو العاصم بن ربیع سے کیا تھا وحی کے آنے سے پہلے اور یہ دونوں کافر تھے اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو اپنی بیٹیاں اسلام کی شرط کے ساتھ پیش کیں۔ اور مجاہد اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” بناتی ھن اطھر لکم “ سے ان کی بیویاں مراد ہیں ان کی نسبت اپنی طرف کی کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے اور ابی بن کعب ؓ کی قرأت میں ” النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسھم وازواجہ اماتھم “ کے آگے ’ وھو اب لھم “ کا لفظ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ان کو ٹالنے کے لیے کہا تھا نہ کہ حقیقتاً تو وہ اس بات پر راضی نہ ہوئے۔” فاتقوا اللہ ولا تخزون فی ضیفی “ اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے سامنے مجھے رسوا نہ کرو ۔ ’ الیس منکم رجل رشید “ نیک درست رائے والا عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ایسا آدمی جو لاالٰہ الا اللہ کہتا ہو اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ ایسا آدمی جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتا ہو۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں حاجت نہیں اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو۔

79” قالو القد علمت “ اے لوط (علیہ السلام) ” ما لنا فی بناتک من حق “ یعنی وہ ہماری بیویاں نہیں ہیں کہ نکاح کی وجہ سے ہم ان کے مستحق ہوں اور بعض نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے کہ ہمارے لیے ان میں کوئی حاجت اور مزہ نہیں ہے۔ ” وانک لتعلم ما نرید “ مردوں سے بدفعلی کا۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعہ میں پناہ پکڑ سکتا۔

80۔ ’ قال “ ان کو لوط (علیہ السلام) نے اس وقت ” لو ان لی بکم قوۃ “ بدن اور پیروکاروں کی قوت مراد ہے۔” او آوی الی رکن شدید “ یعنی ایسے قبیلہ میں ملتا جو تمہیں روکنے والا ہوتا اور ” لو “ کا جواب مضمر ہے یعنی ہم تم سے لڑائی کرتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد ہر نبی کو اس کے مضبوط قبیلہ میں بھیجا ہے۔ اعرج ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) کی بخشش کریں وہ مضبوط قبیلہ کی طرف ٹھکانہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔