Ayah 10:81تفسیر : 81۔ ” فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر ‘ ‘ ابو عمر و اور ابو جعفر نے ” آلسحر “ الف قطعی اور مد کے ساتھ استفہام کی بناء پر پڑھا ہے اور ” ما “ اس قرأت میں استفہام کے لیے ہے اور موصولہ نہیں ہے اور یہ مبتداء ہے اور ” جئتم بہ “ اس کی خبر ہے اور معنی یہ ہے کہ تم کون سی چیز لائے ہو ؟ اور باری تعالیٰ کا قول ’ ’ آلسحر “ اس سے بدل ہے اور باقی حضرات نے ” ما جئتم بہ السحر “ بغیر مد کے ہمزہ صلی کے ساتھ پڑھا ہے اور ” ما “ اس کی قرأت موصول ہے ” الذی “ کے معنی میں ” وجئتم بہ “ اس کا صلہ ہے اور یہ اپنے صلہ کے ساتھ موضع رفع میں ہے ابتداء کی وجہ سے اور باری تعالیٰ کا قول ” السحر “ اس کی خبر ہے یعنی ” الذی جئتم بہ السحر “ اور اس قرأت کی ابن مسعود ؓ کی قرأت تقویت کرتی ہے۔ ” ما جئتم بہ سحر “ الف اور لام کے بغیر ۔ ان اللہ سیبطلہ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین “۔
Ayah 10:8282۔ ویحق اللہ الحق بکلماتہ اپنی آیات کے ساتھ ولو کرہ المجرمون۔
Ayah 10:8383۔ ” فما امن الموسیٰ “ موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق نہیں ۔ ان آیات کے باوجود جو ہم نے ان کو دی تھیں ۔ ” الا ذریۃ من قومہ “ قومہ کی ھاء کے مرجمع میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے اور اس سے بنی اسرائیل کے وہ مؤمنین مراد ہیں جو مصر میں تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ وہاں سے نکلے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی اولادیں تھیں جن کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا آباء ہلاک ہوگئے اور اولاد باقی رہ گئی اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ قومہ کی ھاء فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے۔ عطیہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرعون کی قوم کے چند لوگ ایمان لائے تھے ان میں سے فرعون کی بیوی ، آل فرعون کا مؤمن شخص ، فرعون کا خزانچی اور خزانچی عورت اور فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آل فرعون کے قبطیوں کے ستر ہزار گھرای سے تھے جن کی مائیں بنی اسرائیل کی تھیں تو مراد اپنی ماں اور ماموئوں کے پیچھے چلے اور بعض نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو فرعون کے قتل سے بچ گئے تھے۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ جب فرعون نے بچوں کے قتل کا حکم دیا تو بنی اسرائیل کی جس عورت کا لڑکا پیدا ہوتا وہ قتل کے خوف سے وہ بچہ قبطی عورت کو دے دیتی تو ان لوگوں نے قبطیوں کے گھروں میں پرورش پائی اور جس دن جادوگر مغلوب ہوئے یہ بھی اسلام لے آئے۔ فراء فرماتے ہیں کہ ان کا نام ذریۃ اس وجہ سے رکھا گیا کہ ان کے با پ قبطی اور مائیں بنی اسرائیل سے تھیں ۔ جیسے اہل فارس کی اولاد جو یمن کی عورتوں سے پیدا ہوئی اس کو ابناء کہتے ہیں کیونکہ ان کی مائیں ان کے باپ کی جنس کے علاوہ سے ہیں ۔ ” علی خوف من فرعون و ملئھم “۔
بعض نے کہا ہے کہ فرعون سے آل فرعون مراد ہے کہ آل فرعون اور ان کے سرداروں کے خوف سے جیسے ” واسئل القریۃ “ کا مطلب ہوتا ہے بستی والوں سے سوال کریں اور بعض نے کہا ہے کہ ” ملئھم “ کی ضمیر سے مراد فرعون ہے اور یہ اگرچہ ایک ہے لیکن جب بادشاہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھی ابھی ساتھ سمجھ میں آتے ہیں ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ قدم الخلیفۃ بادشاہ آیا تو یہ مطلب نہیں کہ تنہا آیا بلکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہاں ” ذریۃ “ کے ملاء مراد ہیں کیونکہ ان خبر دی ہے کیونکہ اس کی قوم بھی اس جیسی تھی ۔ ” وان فرعون لعال ‘ تکبر کرنے والا ہے۔ ” فی الارض وانہ لمن المسرفین “ حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہے۔ اس لیے کہ وہ بندہ تھا لیکن اس نے رب ہونے کا دعویٰ کیا ۔
Ayah 10:84تفسیر : 84” وقال موسیٰ “ اپنی قوم کے مؤمنین کو ” یام قوم ان کنتم امنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین “ ۔
Ayah 10:8585۔” فقالوا علی اللہ توکلنا “ ہم نے بھروسہ اور اعتماد کیا، پھر دعا مانگتے ہوئے کہنے لگے ” ربنا لا تجعلنتا فتنہ للقوم الظالمین “ یعنی ان کو ہم پر غالب نہ کریں اور ہمیں ان کے ہاتھوں ہلاک نہ کریں کہ وہ گمان کرنے لگیں گے کہ ہم حق پر نہیں تو وہ سرکشی میں بڑھیں گے اور مجاہد رحمہ الہل فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی طرف سے عذاب نہ دیں تو قوم فرعون کہنے لگی کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو عذاب نہ دیئے جاتے تو وہ فتنہ میں پڑجائیں گے۔
Ayah 10:8686۔” ونجنا برحمتک من القوم الکافرین “۔
Ayah 10:8787۔” واوحیناالیٰ موسیٰ واخیہ “ ہارون (علیہ السلام) ” ان تبوا لقومکما بمصر بیوتا “ کہا جاتا ہے ” بو افلان لنفسہ بینا ومضجعا “ جب اس کو بنا لے وبواتہ جب میں نے اس کیلئے بنا لیا ۔ واجعلوا بیوتکم قبلۃ اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل صرف اپنے عبادت خانوں میں عبادت کرتے تھے اور یہ عبادت خانے ظاہر ہوتے تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) رسول بنا کر بھیجے گئے تو فرعون نے ان عبادت خانوں کو گرانے کا حکم دیا اور بنی اسرائیل کو نماز سے منع کردیا تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے گھروں میں مسجدیں بنالیں اور ان میں نماز پڑھیں ۔ یہ ابراہیم ، عکرمہ اور ابن عباس ؓ کا قول ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو فرعون کا ڈر ہوا ۔ اگر عبادت خانوں میں نمازپڑھیں تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ گھروں میں مسجدیں بنائیں قبلہ رخ ان می چھپ کر نماز پڑھیں اور مطلب یہ ہے کہ اپنے گھروں کے رخ قبلہ کی طرف کرو۔ ابن جریح نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کعبہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا قبلہ تھا۔ ” واقیموا الصلوٰۃ وبشر المؤمنین “ اے محمد ﷺ ۔
Ayah 10:8888۔” وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ “ دنیا کے سامان سے ” واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلواعن سبیلک “۔۔” لیضلوا “ کے لام میں اختلاف ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ لام کی ہے۔ معنی یہ کہ تو نے ان کو دیا تا کہ تو ان کو آزمائے تو وہ خود گمراہ ہوئے اور تیرے راستے سے گمراہ کیا ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لا ستیفنام ماء غدقا ً لففتنھم فیہ “ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ لام عاقبت ہے یعنی تا کہ وہ گمراہ ہوجائیں تو ان کے معاملہ کا انجام گمراہ ہونا ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فالتقطہ ال فرعون لیکون لھم عدوا وحزنا۔۔۔ ربنا اطمس علی اموالھم “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو ہلاک کر دے اور طمس بمعنی مٹا دینا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے مال ، کھیتیاں ، جواہر وغیرہ سب کچھ پتھرہو گیا ۔
محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں کہ ان کی صورتیں پتھر ہوگئیں ، آدمی اپنی بیوی کے ساتھ بستر میں سویا ہوا تھا وہ دونوں پتھر ہوگئے اور عورت روٹی پکا رہی تھی وہ پتھرہو گئی ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ دراہم اور دنانیر منقش پتھر ہوگئے جس طرح کے درہم ہوتے ہیں ۔ نصف ، ثلث وغیرہ اور عمر بن عبد العزیز (رح) نے ایک تھیلا منگوایا جس میں آل فرعون کے بقایا جات تھے تو اس میں سے ایک منقش انڈہ اور کھلا ہوا اخروٹ نکالا ، یہ دونوں پتھر کے تھے ۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال کھجور ، پھل ، آٹا ، غہ وغیرہ کو مسخ کر کے پتھر بنادیا یہ نو آیات میں سے ایک ہے۔ ” واشدد علی قلوبھم “ یعنی ان پر مہر لگا دے کہ وہ نرم بھی نہ ہوں اور ایمان کے لیے نہ کھلیں ۔ ” فلا یومنوا “ بعض نے کہا ہے کہ یہ جواب دعا ہونے کی وجہ سے فاء کے ساتھ منصوب ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا عطف ” لیضلوا “ پر ہے یعنی ” لیضلوا فلا یومنوا “ اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دعا ہے اور محلا ً مجزوم ہے گویا کہ فرمایا ” اللھم فلا یومنوا “۔۔” حتی یروا العذاب الالیم “ اور وہ غرق ہے۔
Ayah 10:89تفسیر : سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کو کفر پر موت دے۔
89۔” قال “ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو کہا ” قد اجیبت دعوتکما ‘ یہاں دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی ، حالانکہ دعا تو صرف موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا کر رہے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اور آمین کہنا دعا ہے اور بعض قصص میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور قبولیت کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا۔ ” فاستقیما “ رسالت اور دعوت پر اور میرے حکم کو جاری رکھو یہاں تک کہ ان پر اللہ کا عذاب آجائے۔” ولا تتبعان سبیل الذین لا یعلمون “۔
Ayah 10:9090۔” وجاوزنا ببنی اسرائیل البحر فاتبعھم “ ان کو پالیا ۔ ” فرعون و جنودہ کہا جاتا ہے ۔ ” اتبعہ و تبعہ “ جب اس کو پالے اور جا ملے اور ” اتبعہ “ شد کے ساتھ جب اس کے پیچھے چلے اور اس کی اقتداء کرے اور بعض نے کہا ہے یہ دونوں ایک ہیں ۔ بغیا وعدواء یعنی ظلما ً اور دشمنی سے اور بعض نے کہا قول میں سرکشی اور فعل میں دشمنی اور دریا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے لیے پھٹ چکا تھا۔
جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ سمندر تک پہنچا تو اس میں داخل ہونے سے ڈر گئے تو ان کے آگے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ایک خوبصورت گھوڑی پر آئے اور دریا میں گھس گئے تو ان کے پیچھے باقی گھوڑے بھی داخل ہوگئے تو جب ان کا آخری شخص داخل ہوا اور پہلا نکلنے ہی والا تھا کہ پانی ان پر مل گیا ۔ ” حتی اذا ادر کہ الغرق “ یعنی پانی نے اس کو ڈھانپ لیا اور اس کی ہلاکت قربت ہوگئی ۔ ” قال امنت انہ “۔
حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” انہ “ الف کی زیر کے ساتھ ہے یعنی میں ایمان لایا اور میں نے کہا ” انہ “ اور دیگر حضرات نے ” انہ “ زبر کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ” امنت “ کے اس پر واقع ہونے کی بناء پر اور حرف خبر کو مقدر ماننے کی بناء پر ، یعنی ” امنت بانہ “ تو باء کو حذف کردیا گیا اور فعل کو بغیر صلہ کے ملا دیا گیا تو یہ نصب کی جگہ میں ہے۔
” لاالہ الا الذی امنت بہ بنو اسرائیل وانا من المسلمین ‘ ‘ تو جبرئیل (علیہ السلام) نے اس کے منہ میں دریا کی کیچڑ ٹھونس دی۔
Ayah 10:91تفسیر : 91۔” الا ان وقد عصیت قبل و کنت من المفسدین “ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تو وہ کہنے لگا ” امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنو اسرائیل “ تو جبرئیل (علیہ السلام) کہنے لگے کہ اے محمد ﷺ اگر آپ مجھے دیکھتے کہ میں دریا کی کیچڑ اٹھا کر اس کو منہ میں ٹھونس رہا تھا۔ اس خوف سے کہ اس کو رحمت نہ پکڑے ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کے ہلاک ہونے کی خبر دی تو بنو اسرائیل کہنے لگے کہ فرعون نہیں مرا تو اللہ تعالیٰ نے سمندرکو حکم دیا تو اس نے فرعون کو ساحل پر ڈال دیا وہ سرخ چھوٹا ہوگیا تھا۔ گویا کہ وہ بیل ہے تو اس کو بنی اسرائیل نے دیکھ لیا اور اسی وقت سے اس کی لاش کو پانی قبول نہیں کرتا، پس یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول ۔
Ayah 10:9292۔ ’ ’ فالیوم ننجیک “ یعنی ہم تجھے بلند زمین پر ڈالیں گے۔ اور یعقوب (رح) نے ” ننجیک “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ببدنک “ تیرے جسم کے ساتھ جس میں روح نہ ہوگی اور بعض نے بدن یعنی ذرہ کے معنی میں ہے کہ اس کی ایک ذرہ مشہور تھی جس پر جواہرات جڑے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس کو اس کی ذرہ میں دیکھاتو موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کی ” لتکون لمن خلفک آیۃ “ عبرت اور نصیحت ” وان کثیراً من الناس عن آیاتنا لغافلون “۔
Ayah 10:9393۔ ’ ’ ولقد بوانا بنی اسرائیل ‘ ‘ ہم نے نبی اسرائیل کو اتارا فرعون کے ہلاک ہونے کے بعد ” مبوا صدق “ سچی منزل یعنی مصر اور بعض نے کہا اردن اور فلسطین یہی وہ مقدس زمین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی میراث بنایا ۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں مصر اور شام مراد ہے۔” ورزقنا ھم من الطیبات “ حلال چیزیں ” فما اختلفوا ‘ ‘ یعنی وہ یہود جو نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں تھے آپ (علیہ السلام) کی تصدیق میں اور اس بات میں کہ آپ (علیہ السلام) نبی ہیں ” حتی جاء ھم العلم “ یعنی قرآن اور بیان کہ آپ (علیہ السلام) اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ (علیہ السلام) کا دین حق ہے اور بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کہ ان کے پاس ان کا معلوم یعنی محمد ﷺ آگئے کیونکہ وہ آپ (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے ہی آپ ﷺ کو جانتے تھے تو آیت میں العلم بمعنی معلوم ہے جیسے مخلوق کو مخلوق کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ھذا خلق اللہ “ اور کہا جاتا ہے ہذا الدر ہم ضرب الامیر ہے یعنی مضروب الامیر ہے ۔ ’ ’ ان ربک یقضی بینھم یوم القیامۃ فیما کانوا فیہ یختلفون “ دین میں اختلاف کرتے ہیں ۔
Ayah 10:94تفسیر : 94” فان کنت فی شک مما انزل الیک “ یعنی قرآن ” فا سال الذین یقرون الکتاب من قلبک “ تو وہ آپ کو خبر دیں گے کہ ان کے پاس توریت میں بھی آپ (علیہ السلام) کو لکھا ہوا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اس سے مراد آپ (علیہ السلام) کے علاوہ لوگ ہیں جیسے عرب کی عادت ہے کہ وہ کسی کو خطاب کرتے ہیں اور مراد کوئی اور ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یایھا النبی اتق اللہ “ یہاں نبی کریم ﷺ کو خطاب کیا حالانکہ مراد مؤمنین ہیں کیونکہ آگے چل کر فرمایا ” ان اللہ کان بما تعملون خبیرا “ ۔۔۔ ” بما تعمل “ نہیں کہا تو معلوم ہوا مؤمنین مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں لوگ تین طرح کے تھے۔ ( 1) تصدیق کرنے والے (2) تکذیب کرنے والے (3) شک میں پڑے ہوئے۔ تو یہ خطاب اہل شک کو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے انسان اگر تو اس میں شک کرتا ہے جو ہم نے تیری طرف ہدایت اتاری ہمارے رسول محمد ﷺ کی زبان پر تو ان لوگوں سے پوچھ جو کتاب پڑھتے ہیں تیرے سے پہلے۔
ابن عباس ؓ اور مجاہد اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی جو اہل کتاب میں سے ایمان لے آئے ہیں ان سے پوچھ جیسے عبد اللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھ تو وہ عنقریب محمد ﷺ کے سچا ہونے پر اور آپ (علیہ السلام) کی نبوت پر گواہی دیں گے ۔ فراء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ ان کے رسول اللہ ﷺ کو بالکل شک نہیں ہے لیکن عرب کی عادت کے موافق کلام کی ہے کہ عرب لوگ غلام کو کہتے ہیں اگر تو میرا غلام ہے تو میرا کہنا مان اور بیٹے کو کہتے ہیں کہ اگر میرا بیٹا ہے تو اس اس طرح کر تو یہ کلام شک کی وجہ سے نہیں ہوتی ۔ ” لقد جاء ک الحق من ربک فلا تکونن من الممترین “۔
Ayah 10:9595۔” ولا تکونن من الذین کذبوا بآیات اللہ فتکون من الخاسرین “ اور یہ تمام خطاب ہیں نبی کریم ﷺ کو اور مراد اس سے آپ (علیہ السلام) کو غیر ہے۔
Ayah 10:9696۔ ” ان الذین حقت علیھم کلمۃ ربک “ بعض نے کہا ہے کہ اس کی لعنت اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول مراد ہے کہ یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ” لا یومنون “ ۔
Ayah 10:9797۔” ولو جاء تھم کل ایۃ “ دلالت ” حتی یروالعذاب العلیم “۔
اخفش فرماتے ہیں کل کے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے اس لئے کہ یہ مؤنث کی صرف مضاف ہے اور وہ اس کا قول آیۃ ہے اور لفظ کل مذکر اور مؤنث کیلئے برابر استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 10:9898۔ ” فلو لا کانت قریۃ “ اور معنی یہ ہے کہ نہیں تھے کوئی بستی والے اس لیے کہ استفہام انکار کی ایک قسم ہے۔” آمنت “ عذاب کے مشاہدہ کے وقت ” فنفعھا ایمانھا “ نا امیدی کی حالت میں ۔
98۔” الا قوم یونس “ کیونکہ اس وقت میں ان کو ان کے ایمان نے نفع دیا ۔ لفظ ” قوم “ استثناء منقطع کی وجہ سے منصوب ہے اور اصل عبارت ہے ” ولکن قوم یونس لما امنوا کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا و متعناھم الی حین “ اور وہ ان کی عمروں کے ختم ہونے کا وقت ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرلیا تھا یا نہیں ؟ تو بعض علماء نے فرمایا ہے کہ انہوں نے عذاب کی دلیل دیکھ لی تھی اور اکثر علماء اس بات پر ہیں کہ انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرلیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” کشفنا عنھم عذاب الخزی “ اور کشف چیز کے واقع ہونے کے بعد یا قریب ہونے کے بعد ہوتا ہے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ
” وقصۃ الآیۃ “ آیت کا قصہ جو عبد اللہ بن مسعود ، سعید بن جبیر ؓ ، وھب (رح) اور ان کے علاوہ حضرات نے بیان کیا ہے وہ یہ کہ قوم یونس (علیہ السلام) موصل کے علاقہ نینوی میں آباد تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت یونس (علیہ السلام) کو بھیجا کہ ان کو ایمان کی طرف دعوت دیں ۔ یونس (علیہ السلام) نے انہیں ایمان کی دعوت دی ، لیکن انہوں نے انکار کیا تو ان کو کہا گیا کہ آپ (علیہ السلام) ان کو خبرز دے دیں کہ عذاب ان کو تین دن کے بعد صبح کو آئے گا تو یونس (علیہ السلام) نے ان کو خبر دے دی تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے اس پر کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا تم دیکھو اگر یہ آج کی رات تم میں گزارتے ہیں تو یہ عذاب کچھ بھی نہیں اور اگر نہیں گزارتے تو جان لو کہ عذاب صبح کے وقت تم پر آئے گا تو اس رات کے درمیان میں یونس (علیہ السلام) وہاں سے چلے گئے۔
جب انہوں نے صبح کی تو عذاب ان کو ڈھانپ چکا تھا اور ان کے سروں پر ایک میل کے بقدر اوپر تھا اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان پر بڑے ہولناک سیاہ بادل تھے جن سے سخت دھواں نکل رہا تھا تو وہ نیچے اترا اور ان کے شہر کو ڈھانپ لیا اور ان کی چھتیں سیاہ ہوگئیں ۔ جب انہوں نے اس کو دیکھا تو عذاب کا یقین ہوگیا تو اپنے نبی حضرت یونس (علیہ السلام) کو تلاش کیا وہ نہ ملے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں توبہ ڈال دی تو وہ اپنی عورتوں ، بچوں ، جانوروں کو لے کر چٹیل میدان میں آگئے اور ٹاٹ کے کپڑے پہنے اور توبہ اور ایمان کو ظاہر کیا اور نیت کو خالص کیا اور ہر بچہ کو اس کی والدہ سے جدا کردیا خواہ انسان کا ہو یا جانور کا اور اونچی آواز سے رونے لگے کہ آوامزیں گڈمڈ ہوگئیں اور خوب گڑ گڑائے اور کہنے لگے جو دین یونس (علیہ السلام) لائے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عذاب دور کردیا ۔
یہ عاشورہ کا دن تھا اور یونس (علیہ السلام) شہر سے باہر قیام کر کے ان کے عذاب اور ہلاکت کا انتظار کر رہے تھے لیکن ایسی کوئی چیز نہ دیکھی اس قوم کا دستور تھا کہ جو جھوٹ بولے اور اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو اس کو قتل کیا جاتا تھا تو یونس (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنی قوم کے پاس واپس کیسے جائوں حالانکہ میں نے تو ان سے خلاف واقعہ بات کی ہے ؟ تو یونس (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے اور قوم پر غصہ ہوتے ہوئے وہاں سے چل پڑے اور ایک دریا پر آئے ، وہاں کچھ لوگ کشتی پر سوار تھے ، انہوں نے یونس (علیہ السلام) کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ کے سوار کرلیا ۔ جب کشتی دریا کے درمیان میں پہنچی تو رک گئی نہ آگے جائے نہ پیچھے ہٹے تو کشتی والے کہنے لگے کہ ہماری کشتی کی ایک حالت ہے تو یونس (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس کی وجہ پہچان گیا ہوں اس پر ایک بڑی غلطی والا شخص سوار ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ یونس (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تم مجھے دریا میں ڈال دو ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ (علیہ السلام) کو ایسے نہ ڈالیں گے تو انہوں نے قرعہ اندازی کی توہین مرتبہ یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا اور ایک مچھلی کشتی کے پاس منہ کھولے اپنے رب کے حکم کی منتظر کھڑی تھی تو یونس (علیہ السلام) فرمانے لگے کہ تم سب ہلاک ہو جائو گے ورنہ مجھے ڈال دو تو انہوں نے آپ (علیہ السلام) کو دریا میں ڈال دیا اور آپ (علیہ السلام) کو مچھلی نہ منہ میں لے لیا اور کشتی چل پڑی۔
اور روایت کیا گیا ہے کہ اللہ نے ایک بڑی مچھلی کو حکم دیا اور اس نے کشتی کا قصد کیا جب اس کو کشتی والوں نے دیکھا کہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑی ہے اور منہ کھولے کشتی والوں کو دیکھ رہی ہے جیسے کچھ تلاش کر رہی ہو تو اس سے ڈر گئے جب یونس (علیہ السلام) نے اس کو دیکھا تو دریا میں چھلانک لگا دی ۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یونس (علیہ السلام) قوم سے ناراض ہو کر بحر روم آئے تھے اور کشتی والوں نے یہ کہا تھا کہ یہاں کوئی گناہ گار شخص یا بھگوڑا غلام ہے اور کشتی کا یہی طرز ہے کہ اگر اس میں بھگوڑا غلام ہو تو وہ نہیں چلتی اور ہمارا طریقہ اس وقت یہ ہوتا ہے کہ ہم اس کو پہچاننے کے لیے قرعہ ڈالتے ہیں جس کا قرعہ نکلا اس کو پانی میں ڈال دیتے ہیں کیونکہ ایک کا ہلاک ہونا سب کے ہلاک ہونے سے بہتر ہے تو تینوں مرتبہ قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام نکا تو یونس (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں ہی عاصی اور عبد آبق ہوں تو اپنے آپ کو پانی میں ڈال دیا اور مچھلی نے آپ (علیہ السلام) کو نگل لیا ۔ پھر اس مچھلی سے بڑی مچھلی آئی اور اس نے چھوٹی کو نگل لیا اور اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ ان کے ایک بال کو بھی تکلیف نہ پہنچے کیونکہ میں نے تیرے پیٹ کو ان کا قید خانہ بنایا ہے نہ کہ تیرا کھانا ۔
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مچھلی آپ (علیہ السلام) کو نگل کر ساتویں زمین تک چلی گئی۔ آپ (علیہ السلام) چالیس راتیں اس کے پیٹ میں رہے تو کنکریوں کی تسبیح سنی تو اندھیروں میں پکارا ” ان لا الہ الا انت سبحانک انی کنت میں الظالمین “ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے ان کو سمندر کے ساحل پر رکھ دیا اور آپ (علیہ السلام) اس چوزے کی طرح تھے جس کے جسم پر بال نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر کدو کی بیل اگا دی جس کے نیچے سایہ لیتے تھے اور ایک پہاڑی بکری آ کر ان کو دودھ پلاتی تھی تو وہ بیل خشک ہو گیء تو یونس (علیہ السلام) رونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ آپ (علیہ السلام) بیل کے خشک ہونے پر روتے ہیں ایک لاکھ سے زائد لوگوں پر نہیں روتے جن کے بارے میں آپ (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ ان کو ہلاک کر دوں ؟ جب یونس (علیہ السلام) یہاں سے نکلے تو ایک غلام جانور چرا رہا تھا۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا اے لڑکے تو کون ہے ؟ اس نے کہا قوم یونس سے ہوں آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب تو ان کے پاس جائے تو کہنا کہ میں نے یونس (علیہ السلام) کو دیکھا ہے تو لڑکا کہنے لگا کہ اگر میرے پاس کوئی گواہی نہ ہوئی تو میں قتل کردیا جائوں گا تو یونس (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ زمین اور یہ درخت تیری گواہی دیں گے تو لڑکے نے کہا آپ (علیہ السلام) ان کو حکم دیں تو یونس (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس یہ لڑکا آئے تو اس کے حق میں گواہی دینا ، ان دونوں نے کہا ٹھیک ہے ، تو غلام واپس گیا اور بادشاہ کو کہا کہ میں یونس (علیہ السلام) کو ملا ہوں تو بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دیا تو لڑکے نے کہا میرے پاس گواہی ہے۔ میرے ساتھ کچھ لوگ بھیجو ، پھر ان کو لے کر زمین کے اس ٹکڑے اور درخت کے پاس گیا تو ان کو کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ کیا تمہیں یونس (علیہ السلام) نے گواہ بنایا تھا ؟ ان دونوں نے کہا ہاں تو قوم واپس گئی اور بادشاہ کو کہا کہ اس لڑکے کی گواہی درخت اور زمین نے دی ہے تو بادشاہ نے اس لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ بٹھا دیا اور کہا تو مجھ سے اس جگہ کا زیادہ حق دار ہے تو وہ لڑکا چالیس سال تک ان کا بادشاہ رہا ہے۔
Ayah 10:99تفسیر 99۔ ” ولو شاء ربک “ اے محمد ﷺ ” لا من من فی الارض کلھم جمعیا ً افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین “ یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی ہے کیونکہ آپ (علیہ السلام) کو یہ شدید تمنا تھی کہ سارے لوگ ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہی لوگ ایمان لائیں گے جن کے لیے سعادت لکھی جا چکی اور وہی گمراہ ہوں گے جن کے لیے شقاوت لکھی جا چکی ہے۔
Ayah 10:100100۔” وما کان لنفس “ کسی نفس کیلئے مناسب نہیں ہے اور بعض نے کہا نہیں ہے کوئی نفس ” ان تومن الا باذن اللہ “ ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ اللہ کے حکم کے ساتھ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں اللہ کی مشیت کے ساتھ اور بعض نے کہا اللہ کے علم کے ساتھ ’ ویجعل الرجس “ ابوبکر (رح) نے نجعل نون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ ۔ ” الرجس “ بمعنی عذاب ” علی الذین لا یعقلون “ اللہ کا حکم اور نہی ۔
Ayah 10:101101” قل انظروا “ یعنی ان مشرکین کو کہہ دیں جو آپ سے نشانیاں مانگتے ہیں کہ تم دیکھو ” ما ذا فی السموات والارض “ آیات اور دلائل اور عبرت ، پس آسمانوں میں سورج ، چاند اور ستارے وغیرہ ہیں اور زمین میں پہاڑ ، سمندر ، دریا ، درخت وغیرہ ہیں۔
” وما تغنی الآیات والنذر عن قوم لا یومنون “ یہ اس قوم کے بارے میں ہے جن کا ایمان نہ لانا اللہ کے علم میں ہے۔
Ayah 10:102تفسیر : 102” فھل ینظرون “ مکہ کے مشرکین یاد ہیں ” الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم “ پہلی امتوں کے تکذیب کرنے والوں کے مثل ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی اللہ کے وہ عذاب جو قوم نوح (علیہ السلام) وقوم عاد وثمود پر واقع ہوئے اور عربی محاورہ میں ایام کے لفظ سے عذاب بھی مراد لیا جاتا ہے اور انعامات بھی ، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وذکر ھم بایام اللہ “ یعنی ہر خیر اور شر جوان پر گزرے وہ ایام ہے۔” قل فانتظروا انی معکم من المنتظرین “
Ayah 10:103103” ثم ننجی رسلنا یعقوب “( ننجی) پڑھا ہے تخفیف کے ساتھ ” والذین امنوا “ ان رسولوں کے ساتھ عذب کے اترنے کے وقت ۔ یہاں ” ننجی “ مستقبل کا صیغہ ہے لیکن ماضی ” نجینا “ کے معنی میں ہے (گزشتہ زمانے میں ہم نے اسا کیا تھا اور یہی ہمارا دستور ہے) کذالکج جیسے ہم نے ان کو نجات دی ۔ ’ ’ حقا علینا ننج المومنین “ کسائی اور حفص و یعقوب نے ” ننجی “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تشدید کے ساتھ اور نجا اور انجی کا ایک معنی ہے۔
Ayah 10:104104” قل یا ایھا الناس ان کنتم فی شک من دینی “ جس کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں ، اگر یہ اعتراض ہو کہ کفار تو نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے دین کو باطل سمجھتے تھے پھر ان کو یہ کیسے دیا کہ اگر شک ہو ؟ جواب یہ ہے کہ ان کفار میں کئی لوگ شک میں تھے۔ آیت میں یہ وہ لوگ مراد ہیں یا جب ان سب نے آیات دیکھیں تو شک میں پڑے گئے تو اس وقت ان کو یہ کہا گیا ۔ ” فلا اعبد الذین تعبدون من دون اللہ “ یعنی بت ” ولکن اعبد اللہ الذی یتوفا ً کم “ تمہیں موت دے گا اور تمہاری روح قبض کرے گا ۔ ” وامرت ان اکون من المومنین “۔
Ayah 10:105105۔ ” وان اقم و جھک للذین حنیفا ً “ انب عباس ؓ فرماتے ہیں اپنے عمل کو اور بعض دین پر قائم ہو یکسو ہو کر ۔ ” ولا تکونن من المشرکین “۔
Ayah 10:106106۔” ولا تدع “ اور تو نہ عبادت کر ” من دون اللہ مالا ینفعک “ اگر تو ان کی اطاعت کرے۔ ” ولا یضرک “ اگر تو ان کی نافرمانی کرے۔” فان فعلت “ اگر تو نے غیر اللہ کی عبادت کی ” فانک اذا من الظالمین “ اپنا نقصان کرنے والوں میں سے جو عبادت کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھتے ہیں ۔
Ayah 10:107تفسیر : 107۔ ” وان یمسسک اللہ بضر “ پہنچے تجھے سختی اور مصیبت ۔ ” فلا کاشف لہ “ اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ” الا ھو وان یردک بخیر “ نرمی ، نعمت ، کشادگی ،” فلا راد لفضلہ “ پس نہیں ہے کوئی روکنے والا اس کے رزق کو ” یصیب بہ “ نفع اور نقصان میں سے ہر ایک ۔ ” من یشاء من عبادہ وھو الغفور الرحیم “۔
Ayah 10:108108۔” قل یایھا الناس قد جاء کم الحق من ربکم “ یعنی قرآن اور اسلام ” فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا “ اس کا وبال اس کی جان پر ہوگا ۔ ” وما انا علیکم بوکیل “ کفیل کہ تمہارے اعمال کی نگرانی کروں ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قتال کی آیت نے اس کو منسوخ کردیا ۔
Ayah 10:109109۔ ” واتبع ما یوحی الیک واصبر حتی یحکم اللہ “ آپ (علیہ السلام) کی مدد گار اور آپ (علیہ السلام) کے دشمنوں کو مغلوب کرنے اور آپ (علیہ السلام) کے دین کو غالب کرنے کا ” وھو خیر الحاکمین “ پس اس نے مشرکوں کے قتال اور اہل کتاب پر جزیہ کا حکم دیا جس کو وہ ذلت سے ادا کریں گے۔