10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کے جوابدہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں۔

تفسیر (41)” وان کذبوک “ اے محمد ﷺ ” فقل لی عملی “ اور میرے عمل کی جزاء ” ولکم عملکم “ اور اس کے عمل کی جزاء ” انتم بریتون ممااعمل وانا بری مما تعملون “ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” لنا اعمالنا ولکم اعمالکم “ اور ” لکم دینکم ولی دین “ کی طرح ہے۔ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جہاد کی آیت کی وجہ سے منسوخ ہوگئی ہے۔ پھر خبر دی کہ ایمان کی توفیق اس کے ساتھ ہے نہ کہ اس کے غیر کے ساتھ ۔
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔ تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سُنتے) سمجھتے نہ ہوں۔

(42)” ومنھم من یستمعون الیک “ اپنے ظاہری کانوں کے ساتھ تو وہ ان کو نفع نہیں دیتا ۔ ” افانت تسمع الصم “ مراد دل کا بہرا ہے۔ ” ولو کانوا لا یعقلون “ ۔
Ayah 10:43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں ؟

(43)” ومنھم من ینظر الیک “ اپنی ظاہری آنکھوں کے ساتھ ۔ ” افانت تھدی العمی “ مراد دل کے اندھے ہیں ۔ ” ولو کانوا لا یبصرون “ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی کریم ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ (علیہ السلام) اس کو سنانے پر قادر نہیں جس کی سماعت میں نے سلب کرلی ہو اور نہ آپ (علیہ السلام) اس کو راہ دکھا سکتے ہیں جس کی میں نے نگاہ سلب کرلی ہو اور نہ آپ اس کو ایمان کی توفیق دے سکتے ہیں جس کے بارے میں میں نے فیصلہ کردیا ہو کہ وہ ایمان نہ لائے گا ۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

(44)” ان اللہ لا یظلم الناس شیئاً “ اس لیے کہ وہ اپنے تمام افعال میں عادل ہے۔” ولکن الناس انفسھم یظلمون “ کفر اور معصیت کے ساتھ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” ولکن الناس “ نون کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” لکن “ اور ” الناس “ کو پیش دیا ہے اور باقی حضران نے ” ولکن الناس “ نون کے شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” لکن “ اور ’ ’ الناس “ زبر کے ساتھ ۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہ تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے اور راہ یاب نہ ہوئے۔

(45)” ویوم یحشرھم “ حفص (رح) نے یاء کے ساتھ اور دیگر حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” کان لم یلبشوا الاساعۃ من النھار “ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ گویا وہ دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر ایک گھڑی دن کی اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ گویا وہ اپنی قبروں میں نہیں ٹھہرے مگر دن کی ایک گھڑی ” یتعارفون بینھم “ ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے ۔ جب وہ قبروں سے اٹھائے جائیں گے جیسے دنیا میں پہچانتے تھے ۔ پھر جب قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے تو پہچان ختم ہوجائے گی اور بعض آثار میں ہے کہ انسان قیامت کے دن اپنے پہلو والوں کو پہچانتا ہوگا لیکن ہیبت اور خوف سے بات نہ ک سکے گا ۔ ” قد خسر الذین کذبوا بلقاء اللہ وما کانوا مھتدین “ یہاں خسارہ سے جان کا خسارہ مراد ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہے۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

تفسیر :(46)” واما نرینک بعض الذین نعدھم “ اے محمد ﷺ آپ کی زندگی میں تھوڑا سا عذاب آپ کو دکھا دیں ” او نتوفینک “ ان کو عذاب دینے سے پہلے آپ کو وفات دے دیں ” فالینا مرجعھم “ آخرت میں ” ثم اللہ شھید علی ما یفعلون “ پھر ان کو اس کا بدلہ دے گا ۔ آیت میں ” ثم “ وائو کے معنی میں ہے اصل عبارت تھی ۔ ” واللہ شھید “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بعض سے میرا خیال ہے کہ بدر کے دن ان کا قتل مراد ہے اور ان کے مرنے کے بعد عذاب کی تمام اقسام ۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا جب انکا پیغمبر آتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔

(47)” ولکل امۃ “ جو پہلے گزر چکی ” رسول فاذا جاء رسولھم “ اور انہوں نے اس کی تکذیب کی تو ” قضی بینھم بالقسط “ یعنی دنیا میں عذاب دیئے گئے اور عذاب کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ یعنی رسول کے آنے سے پہلے نہ کوئی ثواب اور نہ کوئی عقاب مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب قیامت کے دن ان کے وہ رسول آئیں جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا ۔ ” وھم لایظلمون “ نہ بغیر گناہ کے عذاب دیئے جائیں گے اور نہ بغیر حجت کے مؤاخذہ کیے جائیں گے اور نہ نیکیوں میں کمی کی جائے گی اور ان کی برائیوں پر زیادتی کی جائے گی۔
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب ؟

(48)” ویقولون “ یعنی شرک کرنے والے ” متیٰ ھذا الوعد “ جس عذاب کا اے محمد ﷺ آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ قیامت کا قائم ہونا مراد ہے۔ ” ان کنتم صادقین “ اے محمد ﷺ آپ اور آپ (علیہ السلام) کی اتباع کرنے والے۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لئے (موت) کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔

(49)” قل لا املک لنفسی ضرا ولا نفعا “ یعنی نہ نقصان کو دور کرنے کا اور نہ نفع حاصل کرنے کا ” الا ما شاء اللہ “ کہ میں اس کا مالک ہو جائوں ” لکل امۃ اجل “ مدت متعین کی گئی ہے۔ ” اذا جاء اجلھم “ ان کی عمروں کے فناء ہونے کا وقت ” فلا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “ نہ تو ایک گھڑی موخر ہوسکتی ہے اور نہ پہلے آسکتی ہے۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے ؟

(50)” قل ارایتم ان اتا کم عذابہ بیاتا “ رات کو ” اونھارا ماذا یستعجیل منہ المجرمون “ یعنی مشرک لوگ اللہ تعالیٰ سے کیا چیز جلدی طلب کر رہے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مجرم لوگ عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں حالانکہ وہ اس میں واقع ہوچکے ہیں اور حقیقی معنی یہ ہے کہ وہ عذاب کو جلدی طلب کر رہے تھے اور وہ کہتے تھے ” الھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء او ائتنا بعذاب الیم ‘ ‘ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں ” ما یستعجل “ یعنی مجرمین نہیں جانتے کہ وہ کیا جلدی طلب کر رہے ہیں جیسے آدمی اپنے غیر کو کہتا ہے جس نے برا کام کیا ہو کہ تو نے خود پر کیا بنایت کی ہے ؟
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ آ واقع ہوگا (تب اس پر ایمان لاؤ گے ؟ ) (اس وقت کہا جائیگا کہ) اور اب (ایمان لائے) اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

تفسیر (51)” اثم اذا ما وفع “ بعض نے کہا اس کا معنی ہے کیا وہاں اور اس وقت اور یہ حرف عطف نہیں ہے۔ عذاب اترے ” امنتم بہ “ یعنی اللہ پر نا امیدی کے وقت میں اور بعض نے کہا ” امنتم بہ “ یعنی تم عذاب کی تصدیق کرو گے ، اس کے اترنے کے وقت ” الان “ یہاں عبارت محذوف ہے یعنی تم کو کہا جائے گا ۔ اب جب عذاب واقع ہوگیا تم ایمان لاتے ہو ” وقد کنتم بہ تستعجلون “ تکذیب اور مذاق اڑا کر ۔ ورش نے نافع سے ” الان “ پڑھا ہے۔ اس ہمزہ کو حذف کر کے جو لام ساکن کے بعد ہے اور اس کی حرکت لام پر ڈالنے کے ساتھ اور پہلے ہمزہ کو مدد دی جاتی ہے ، عالان کے وزن پر اور اسی طرح آخری حرف ہے اور زمعہ بن صالح نے ” الان “ کو علان کی مثل روایت کیا ہے بغیر مد کے اور لام کے بعد ہمزہ اور باقی حضرات ۔” الان “ ہمزہ ممدودہ کے ساتھ پہلے میں اور لام کے بعد ہمزہ کو ثابت رکھ کر اور اسی طرح قالون اور اسماعیل نے نافع سے پڑھا ہے۔
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزا چکھو (اب تم انھیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دُنیا میں) کرتے رہے۔

(52)” ثم قلیل للذین ظلموا “ جنہوں نے شرک کیا ۔ ” ذوقوا عذب الخلد ھل تجزون الا بما کنتم تکسبون “ دنیا میں۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے ؟ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے۔ اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہ کرسکو گے۔

(53)” ویستنبئونک “ یعنی وہ خبر طلب کرتے ہیں آپ (علیہ السلام) سے اے محمد ﷺ ۔ ” احق ھو “ یعنی جو عذاب اور قیامت قائم ہونے کی آپ دھمکی دیتے ہیں ” قل ای و ربی “ یعنی ہاں میرے رب کی قسم !” انہ لحق وما انت بمعجزین “ عذاب سے بچنے والے کہا جاتا ہے عجز عن شی وہ شخص فلاں چیز سے عاجز ہوگیا ۔ یعنی وہ چیز اس سے فوت ہوگئی۔
Ayahs 10:54–56

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو پچھتائیں گے (اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جان بخشا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

(54) ” ولو ان لکل نفس ظلمت “ یعنی شرک کیا ۔ ” ما فی الارض لا فتدت بہ “ قیامت کے دن اور افتداء یہاں یہ ہے کہ اس چیز کو خرچ کریں جو عذاب سے نجات دے۔” واسروا الندامۃ “ ابو عبید (رح) فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ ندامت کو ظاہر کریں گے اس لیے کہ اس دن کوئی بناوٹ نہ ہو سکے گی اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ سردار کمزور لوگوں سے شرمندگی کو چھپائیں گے ، ان کی ملامت اور عار کے خوف سے ۔ ’ لمار او العذاب واقضی بینھم بالقسط وھم لا یظلمون “ ۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

تفسیر 57” یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ “ نصیحت ” من ربکم و شفاء لما فی الصدور “ یعنی دلوں میں جو جہالت کی بیماری ہے اس کی دواء اور بعض نے کہا ہے کہ ” لما فی الصدور “ کا مطلب یہ ہے کہ دلوں کے اندھے پن کے لیے شفاء ہے۔ ” وھدی “ گمراہی سے ” ورحمۃ للمومنین “ رحمت محتاج کو نعمت دینے کو کہتے ہیں کیونکہ اگر ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کو کوئی چیز ہدیہ کرے تو یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس پر رحم کیا ہے اگرچہ وہ ہدیہ نعمت کا ہو کیونکہ وہ نعمت کسی محتاج کو نہیں دی۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

(58)” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا فضل ایمان ہے اور اس کی رحمت قرآن ہے اور ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کا فضل قرآن ہے اور اس کی رحمت یہ ہے کہ ہمیں اس کا اہل بنایا ۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کا فضل اسلام ہے اور اس کی رحمت اسلام کو دلوں میں مزین کردینا ۔ خالد بن معدان (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کا فضل اسلام ہے اور اس کی رحمت سنتیں ہیں اور بعض نے کہا کہ اللہ کا فضل ایمان اور اس کی رحمت جنت ہے۔ ” فبذلک فلیفرحوا “ یعنی مؤمن خوش ہوں کہ اللہ نے ان کو اس کا اہل بنادیا ۔” ھو خیر مما یجمعون “ یعنی کافر جو مال جمع کر رہے ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے یہ دونوں کفار کے بارے میں خبر ہیں اور بعض نے کہا ہے مؤمنین کے بارے میں اور ابو جعفر اور ابن عامر نے ” فلیفر حوا “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ” تجمعون “ تاء کے ساتھ اور یعقو ب (رح) نے دونوں کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور اس قرأت کی وجہ یہ ہے کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ پس اسی کی وجہ سے مؤمن خوش ہوجائیں ، یہ اس مال سے بہتر ہے جو تم جمع کررہے ہو ، یہ خطاب مؤمنین کو ہے۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمہارے لئے جو رزق نازل فرمایا۔ تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھیرایا اور (بعض کو) حلال ' (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تمہیں اس کام کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افترا کرتے ہو ؟

(59)” قل ارأیتم ما انزل اللہ لکم من رزق “ یہاں پر تخلیق کو انزال ( اترنے) سے تعبیر کیا وجہ اس کی یہ ہے کہ ان چیزوں کی تخلیق بالائی ذریعہ یعنی بارش سے ہوتی ہے اور بارش اوپر ہی سے اترتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے رزق اتارا ہے رزق سے مراد کھیتی یا مویشی دودھ والے مراد ہیں۔ ” فجعلتم منہ حراما وحلالا “ یعنی جوانوں نے کھیتیاں اور جانور حرام کیے جیسے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ ، حام ۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ۔ ” وجعلوا اللہ ما ذرا من الحرث والانعام نصیبا ً ۔۔۔۔۔ قل اللہ اذن لکم “ اس حرام اور حلال کرنے کی ’ ’ ام “ بلکہ ” علی اللہ تفترون “ اور وہ ان کا قول ” واللہ امرنا بھا “ ہے۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر افترا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں ؟ بیشک خدا لوگوں پر مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

(60)” وما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب یوم القیامۃ “ کیا ان کا خیال ہے کہ اللہ نہ ان سے مواخذہ کرے گا اور نہ اس پر ان کو عذاب دے گا ۔” ان اللہ لذو فضل علی الناس ولکن اکثرھم لا یشکرون “۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔

تفسیر : 61” وما تکون “ اے محمد ” فی شان “ اعمال میں سے کسی عمل پر ” وما تتلوا منہ “ اللہ سے ” من قرآن “ اترنے والا ۔ اور بعض نے کہا ہے منہ یعنی قرآن کی شان میں آپ (علیہ السلام) کے بارے میں نازل ہوئی تھی پھر آپ (علیہ السلام) اور امت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔ ” ولا تعلمون من عمل الا کنا علیکم شھودا اذ تفیضون فیہ “ یعنی تم داخل ہوتے ہو اور گھستے ہو اس میں ۔ ھاء عمل کی طرف لوٹ رہی ہے اور افاضت کا عمل میں داخل ہونا ۔ ابن انباری (رح) فرماتے ہیں تم اس میں مشغول ہوتے اور بعض نے کہا ہے کہ کثرت کرتے ہو اور اضافہ کثرت کے ساتھ رفع کرنا۔” وما یعزب عن ربک “ نہیں ہوتا تیرے رب سے اور کسائی (رح) نے ” یعذب “ زاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح سورة سباء میں اور دیگر حضرات نے زاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح سورة سباء میں اور دیگر حضرات نے زاء کے پیش کے ساتھ اور یہ لغتیں ہیں ۔ ” من مثقال ذرۃ “ من صلہ اور ذرہ سرخ رنگ کی چھوٹی سی چیونٹی ” فی الارض ولا فی السماء ولا اصغر من ذلک “ ذرہ سے ” ولا اکبر “ حمزہ اور یعقوب رحمہما اللہ نے راء کے پیش کے ساتھ دونوں میں پڑھا ہے۔ المثقال کی جگہ پر عطف کرتے ہوئے ” من “ کے داخل ہونے سے پہلے اور دیگر حضرات نے ان دونوں کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ الا فی کتاب مبین اور وہ لوح محفوظ ہے۔
Ayah 10:62

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

(62)” الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “ اس میں اختلاف ہے کہ اس نام کے کون لوگ مستحق ہیں ، بعض نے کہا ہے کہ وہ لوگ جن کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

اولیاء اللہ کی علامات کیا ہیں (63)” الذین امنوا وکانوا یتقون “ بعض حضرات نے کہا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں ۔ ابومالک اشعری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تھا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء ان پر انبیاء اور شہداء ان کے قرب اور اللہ کے پاس مرتبہ کی وجہ سے قیامت کے دن رشک کریں گے۔ ابو مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جماعت کے ایک کونہ میں ایک دیہاتی شخص بیٹھا تھا وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور ہاتھ رکھ کر کہا اے اللہ کے رسول ! ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ ابو مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے چہرہ پر خوشی کے آثار دیکھے ، پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ بندے ہیں جو متفرق شہروں میں سے ہیں ان کے درمیان کوئی رشتہ نہیں جس کو جوڑ رہے ہوں اور نہ دنیا ہے کہ جس کا تبادلہ کر رہے ہوں ، وہ آپس میں اللہ کی وجہ سے محبت رکھتے ہیں ، اللہ ان کے چہروں کو نور کا کر دے گا اور ان کے لیے رحمن کے سامنے موتیوں کے منبر ہوں گے ، لوگ گھبرا رہے ہوں گے اور وہ نہ گھبرائیں گے اور لوگ ڈر رہے ہوں گے وہ نہ ڈریں گے اور ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ اللہ کے اولیاء کون لوگ ہیں ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ لوگ جن کو دیکھا جائے تو اللہ یاد آئے اور نبی کریم ﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے اولیاء میرے بندوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ وہ یاد کئے جائیں میرے ذکر کے ساتھ اور میں یاد کیا جائوں ان کے ذکر کے ساتھ ۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

مبشرات کیا چیزیں ہیں تفسیر (64)” لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرۃ “ اس بشریٰ میں اختلاف ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا “ کے بارے میں پوچھا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ اچھے خواب ہیں جن کو مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے دیکھے جاتے ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ نبوت میں سے مبشرات کے سوا کچھ نہیں باقی رہا تو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نیک خواب ۔ بعض نے کہا ہے کہ دنیا میں بشریٰ اچھی تعریف ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آدمی اپنی ذات کے لیے عمل کرتا ہے اور اس کو لوگ پسند کرتے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تو مومن کی جلدی خوشخبری ہے۔ زہری اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ملائکہ کا موت کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوش خبر یلانا ہے ، خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تنزل علیھم الملائکۃ ان لا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون “۔ عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ دنیا میں ” البشریٰ “ موت کے وقت فرشتوں کا خوشخبری لانا ہے اور آخرت میں مؤمن کی روح نکلنے کے وقت جو اس کو اللہ کی طرف لے جا رہا ہوگا وہ اللہ کی رضا مندی کی خوشخبری دے گا اور حسن (رح) فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو اپنی کتاب میں جنت اور اچھے ثواب کی خوشخبریاں دی ہیں وہ مراد ہیں اللہ تعالیٰ کے قول ” وبشر الذین امنوا وعملوالصالحات “ اور ” بشر المومنین “ اور ” ابشر وا بالجنۃ “ کی طرح ، اور بعض نے کہا ہے کہ دنیا میں کتاب اور رسول کے ساتھ ان کو خوشخبری دی کہ وہ اللہ کے اولیاء ہیں اور قبروں اور ان کے اعمال نامہ میں جنت کی خوشخبری دیں گے۔” لا تبدیل لکمت اللہ “ اس کے قول کو کوئی تغیر نہیں ہے اور اس کے وعدہ میں خلاف ورزی نہیں ہے۔ ” ذلک ھوالفوز العظیم “
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے۔ وہ (سب کچھ) سُنتا (اور) جانتا ہے۔

(65)” ولا یحزنک قولھم “ یعنی مشرکین کا قول نافع (رح) نے ” ولا یحزنک “ یاء کے پیش اور زاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” یحزنک “ یاء کے زبر اور زاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں ۔ کہا جاتا ہے ” حزنہ الشیء و احزنہ “ یہاں کلام مکمل ہوگئی ہے پھر نئی کلام شروع کرتے ہوئے فرمایا ہے ۔ ” ان العزۃ للہ “ یعنی غلبہ اور قدرت اللہ کی ہے ۔ ” جمیعاً “ وہی آپ (علیہ السلام) کا اور آپ (علیہ السلام) کے دین کا مدد گار ہے اور ان سے انتقام لے گا ۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ ” ان العزۃ للہ جمعیا ً “ یعنی اللہ جس کو چاہے عزت دے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ” واللہ العزۃ ولرسولہ واللمومنین “ اور رسول اللہ ﷺ کی اور مؤمنین کی عزت اللہ کی وجہ سے ہے تو تمام عزت اللہ کی ہوئی ۔ ” ھو السمیع البصیر “ ۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہے سب خدا ہی کے (بندے اور اس کے مملوک ہیں) اور یہ جو خدا کے سوا اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں چلتے محض ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

تفسیر :۔ 65۔” الا ان اللہ من فی السموات ومن فی الارض وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء “ یہ یا تو استفہام ہے معنی یہ ہوگا کہ کون سی چیز ہے جس کی اتباع وہ لوگ کرتے ہیں جو اللہ کے لیے شریک پکارتے ہیں ؟ اور بعض نے کہا ہے کہ وہ حقیقت کی اتباع نہیں کرتے اس لیے کہ وہ بتوں کی اس گمان پر عبادت کرتے ہیں کہ وہ شرکاء ہیں اور ہماری سفارش کریں گے حالانکہ معاملہ ان کے گمان کے مطابق نہیں ہے۔ ” ان یتبعون الا الظن “ ان کا گمان ہے کہ وہ ان کو اللہ کے قریب کردیں گے ۔” وان ھم الا یخرصون “ جھوٹ بولتے ہیں۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔

67۔” ھو الذی جعل لکم اللیل لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا “ روشن کہ اس میں دیکھا جائے ان کے قول ” لیل نائم “ اور ” عیشۃ راضیۃ “ کی طرح ہے ۔ قطرب کہتے ہیں عرب کہتے ہیں ” ظلم اللیل واضاء والنھار والبصریعی “ رات تاریکی والی اور دین روشنی اور بصارت والا ہوگا ۔ ” ان فی ذلک لآیات لقوم یسمعون “ عبرت کا سننا کہ یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن پر صرف عالم قدرت والا ہی قادر ہوسکتا ہے۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنالیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے (اے افترا پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں ؟

68۔ ” قالوا “ یعنی مشرکین ” اتخذ اللہ ولدا “ اور یہ ان کا قول کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ” سبحانہ ھو الغنی “ اپنی مخلوق سے ” لہ ما فی السموات وما فی الارض “ غلام اور مملوک ان عند کم نہیں ہے تمہارے پاس ” من سلطان “ حجت اور برہان من صلہ ہے اصل عبارت ” ما عند کم سلطان بھذا اتقولون علی اللہ مالا تعلمون “۔
Ayah 10:69

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھُوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

69۔ ” قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون “ نجات نہ پائیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ دنیا میں باقی نہ رہیں گے اور لیکن
Ayah 10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لئے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو عذاب شدید (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

70۔” متاع “ تھوڑا اس سے نفع اٹھا لیں اپنی عمروں کو ختم ہونے تک اور ( متاع) مرفوع ہے ضمیر کی وجہ سے یعنی ھو متاع ” فی الدنیا ثم الینا مرجعھم ثم نذیقھم العذاب الشدید بما کانوا یکفرون “۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنا دو ۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم ! اگر تم کو میرا (تم میں) رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں تو خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو ۔

تفسیر : 71۔ ” واتل علیھم نبا نوح “ یعنی اے محمد آپ اہل مکہ پر نوح (علیہ السلام) کی خبر پڑھیں ” اذقال لقومہ “ اور وہ قابیل کی اولاد تھے۔ ’ ’ یقوم ان کان کبر علیکم مقامی “ میری عمر کا لمبا ہونا اور تم میں ٹھہرنا ” وتذکیری “ اور میرا تمہیں نصیحت کرنا ” بآیات اللہ “ اس کے دلائل اور واضح نشانیوں کے ساتھ جس کی وجہ سے تم نے میرے قتل کا ارادہ کیا ” فعلی اللہ توکلت فاجمعوا امرکم “ یعنی اپنی تدبیر کو پختہ کرو اور اس پر پختہ ارادہ کرلو ۔ ” وشرکاء کم “ یعنی اپنے معبودوں کو بھی بلائو کہ وہ تمہاری مدد کریں تا کہ وہ بھی تمہارے ساتھ جمع ہوجائیں۔ اور زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی تم اپنے امر کو اپنے شرکاء کے ساتھ جمع کرو ۔ جب ” مع “ کو چھوڑ دیا گیا تو نصب دیا گیا اور یعقوب (رح) نے ” وشرکائو کم “ پر پیش پڑھا ہے یعنی تم اور تمہارے شرکاء اپنا امر جمع کرو اور قاری رویس نے یعقوب سے ” فاجمعوا “ الف وصلی اور میم کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ جمع یجمع سے ہے اور مراد ” فاجمعوا زوی امرکم “ ہے یعنی اپنے مشورہ والوں کو جمع کرو مضاف کو حذف کیا گیا اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا گیا اور معنی یہ ہے کہ اپنے سرداروں کو جمع کرو ۔ ” ثم لا یکن امر کم علیکم غمۃ “ یعنی خفیہ مبہم یہ ان کے قول ” غم الھلال علی الناس “ سے مشتق ہے یعنی چاند ان پر مخفی ہوگیا۔ ” ثم اقضوا الی “ یعنی جو تمہارے دل میں ہے کر گزرو اور اس سے فارغ ہو جائو اور کہا جاتا ہے ” وقضی فلان “ جب وہ مرجائے اور گزر جائے ” وقضی دینہ “ جب اس سے فارغ ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے کہ میری طرف قتل کرنے کے لیے متوجہ ہو جائو ۔ اور بعض نے کہا ہے تم جو کرنا چاہتے ہو کرلو اور یہ جادوگروں کے قول کی طرح ہے جو انہوں نے فرعون کو کہا تھا ” فاقض ما انت قاض “ یعنی جو کرنا چاہتا ہے کرلے ” ولا تنظرون “ اور مجھے مہلت نہ دو ۔ یہ عاجز کرنے کے طریقے پر کہا ، اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دی ہے کہ ان کو اللہ کی مدد پر پورا اعتماد تھا اپنی قوم کی تدبیر کا ذرا بھی خوف نہ تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی قوم اور ان کے معبود کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں مگر یہ کہ اللہ چاہے۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

اور اگر تم نے منہ پھیرلیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہو۔

72۔ ” فان تولیتم “ تم نے میرے قول اور نصیحت کو قبول کرنے سے اعراض کیا ۔ ” فما سالتکم “ اپنے لیے رسالت اور دعوت کی تبلیغ پر ۔ ” من اجر عوض ان اجری “ نہیں ہے میرا اجر اور ثواب ۔ ” الاعلی اللہ وامرت ان اکون من السملمین “ یعنی مؤمنین میں سے اور کہا گیا ہے کہ اللہ کے حکم پر سرجھکانے والوں میں سے۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے انکی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچالیا اور انھیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھُٹلایا ان کو غرق کردیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیسا انجام ہوا۔

73۔ ” فکذبوہ “ یعنی نوح (علیہ السلام) کو ” فنجیناہ ومن معہ فی الفلک وجعلنا ھم خلائف “ یعنی جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ہم نے ان کو ہلاک ہونے والوں کا خلیفہ بنادیا ۔ ” واغرقنا الذین کذبوا بآیاتنا فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین “ یعنی ان لوگوں کا آخری امر جن کو رسولوں نے ڈرایا پر وہ ایمان نہیں لائے۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

تفسیر : 74” ثم بعثنا من بعدہ رسلا “ یعنی نوح (علیہ السلام) کے بعد رسولوں کو ” الی قومھم فجائو ھم بالبینات “ واضح دلائل کے ساتھ ” فما کانوا لیومنوا بما کذبوا بہ من قبل ‘ ‘ جس کو نوح (علیہ السلام) کی قوم اس سے پہلے جھٹلا چکی تھی ۔ ” کذلک نطبع “ مہر کردیئے ہیں ۔ ” ھم علی قلوب المعتدین “
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے۔

75۔ ” ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ و ہارون الی فرعون وملائہ “ یعنی اس کی قوم کے معززین کی طرف ” بآیاتنا فاستکبروا وکانوا قوما ً مجرمین “۔
Ayah 10:76

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔

76۔ ” فلما جاء ھم “ یعنی فرعون اور اس کی قوم کے پاس آیا ۔ ” الحق من عندنا قالوا ان ھذا السحر مبین “۔
Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے۔

77۔ ” قال موسیٰ اتقولون للحق لماء جا کم اسحر ھذا “ اصل عبارت یوں تھی ” لماء جا کم سحر اسحر ھذا “ پہلے سحر کو حذف کردیا گیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کر رہی تھی ۔ ” ولا یفلح الساحرون “۔
Ayahs 10:78–80

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیر دو ۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو تم کو ڈالنا ہے ڈالو۔

78۔ ” قالوا “ یعنی فرعون اور اس کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو ” اجئتنا لتفلتنا “ تا کہ میں پھیر دے۔ ” عما وجدنا علیہ آباء نا وتکون لکما الکبیریائ “ بادشاہی اور سلطنت ” فی الارض “ مصر میں اور ابوبکر نے یکون یاء کے ساتھ پڑھا ہے ” وما نحن لکما بمومنین “ تصدق کرنے والے۔