56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 56:75–96

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

پس ہمیں ستاروں کی منزلوں کی قسم

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور اگر تم سمجھو تو یہ ایک بڑی قسم ہے

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

کہ بیشک یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

محفوظ کتاب میں (لکھا ہوا ہے)

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

پروردگار عالم کی طرف سے اتارا گیا ہے

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

تو کیا تم لوگ اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو !

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور اس کے جھٹلانے کو تم نے اپنا حصہ بنا رکھا ہے

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

پس کیوں نہیں سو جس وقت (روح) حلق تک آپہنچتی ہے

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت (کی حالت کو) دیکھا کرتے ہو

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

تو ہم (اس وقت) اس شخص کے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں و لیکن تم دیکھ نہیں سکتے

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

پھر اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو (تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں)

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

تو تم اس (روح) کو (بدن کی طرف) پھیر کیوں نہیں لاتے اگر تم سچے ہو

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

پھر اگر وہ مقربین میں سے ہوگا

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبو اور نعمت کا باغ ہے

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہوگا

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو (اس کے لئے کہا جائے گا) تیرے لئے سلامتی ہے کہ تو داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور اگر وہ شخص جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوگا

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور جہنم میں داخل کیا جائے گا

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

یقینا یہی صحیح (حق الیقین) بات ہے

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

تو آپ اپنے بزرگ پروردگار کے نام کی پاکی بیان کرتے رہیں

آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس آیت سے بھی استدلال کیا ہے اور احادیث مبارکہ سے بھی کوئی بھی بغیر وضو قرآن کو ہاتھ نہ لگائے یہ جائز نہیں کسی پر غسل واجب ہو تو پہلے غسل کرے یاخواتین ناپاکی کی حالت میں نہ لگائیں اور نہ اس کے کپڑے کو چھواجائے جو بطور غلاف چرھا ہوا ہوتا ہے ہاں اس کے اوپر ایک اور کپڑا جس میں بند کیا جاتا ہے اسے چھوسکتے ہیں یا پھر الگ رومال وغیرہ یا کپڑا ہاتھ میں لے کر خاتون دوپٹے کے آنچل سے یا مرد پہنے ہوئے کپڑے سے نہ پکڑے نیزالفاظ قرآن کا ادب بھی ہے ہاں بےوضو بغیر چھوئے تلاوت کرسکتا ہے مگر جنابت یا عورت ناپاکی کے دنوں میں تلاوت بھی نہ کرے۔ تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے قران رب جلیل کی طرف سے نازل کردہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے یہ بھی اس کی ربوبیت کا تقاضا تھا کہ روحانی غذا اور ایمانی ہدایت کا سامان بھی فرماتا اور تم اے کفار اسی بات کو بہت ہلکا اور بےوقت جانتے ہو اور تمہارے حصے میں اس کا انکار ہی آتا ہے یعنی بدبختو جب تمہیں ایمان لانے کی دعوت دی جارہی ہے وہ قبول نہیں کرتے اور اپنے لیے کفر پسند کرلیا ہے پھر اگر تمہیں عظمت باری سے انکار ہے تو جب تمہارے اعزہ و اقارب میں سے کوئی مرنے لگتا ہے اور اس کی جان حلق میں آپہنچتی ہے اور تم سب کے سب بیٹھے ٹک ٹک دیکھ رہے ہوتے ہو چاہتے ہو کہ یہ نہ مرے مگر کچھ کر نہیں سکتے بلکہ تمہاری نسبت اس کے حال سے اصل واقف تو ہم ہوتے ہیں تمہارا بس نہیں چلتا جب کہ وہ ہمارے دست قدرت میں ہوتا ہے مگر یہ حال تمہیں نظر نہیں آتا تو اگر تم جانتے ہو کہ تم کسی کے قبضہ قدرت میں نہیں تو پھر اپنے اسباب ووسائل استعمال کرکے اسے روک کیوں نہیں لیتے ۔ کیوں زندگی بچانے والی ادویات اپنااثر کھودیتی ہیں بلکہ اس وقت تمہارا کوئی زور نہیں بلکہ اس کا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ اگر تو وہ مرنے والامقربین میں سے ہو تو موت بھی باعث فرحت اور راحت بن جاتی ہے اور مہکتی خوشبوئیں اور سنواری ہوئی جنت اس کا استقبال کرتی ہے اور اگر دائیں طرف والوں میں سے ہو تو بھی ہر طرح کی سلامتی اور رحمت باری نصیب ہوتی ہے لیکن اگر جھٹلانے والا اور گمراہ ہوتوپھردوزخ کے کھولتے پانی نصیب ہوتے ہیں اور سیدھا جہنم میں گرتا ہے یہ سب وہ عذاب ہیں جو برزخ میں موت کے فورا بعد شروع ہوجاتے ہیں کہ قبر یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ اور دوزخ کے گڑھوں میں سے گڑھا بن جاتی ہے یہ بات قطعا یقینی ہے لہذا اے مخاطب اپنے رب کی پاکی بیان کرتا رہ جو بہت عظیم ہے اس سے تمام اذکار عملی لسانی قلبی اور دوام ذکر مراد ہے۔