Ayahs 5:67–77رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔
اسرار و معارف :
یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں ادھر مشرکین عرب کے لاتعداد خدا اسلام کی توحید پرستی کی زد پر ہیں پھر اقوام عالم میں کہیں آگ کی پوجا ہے کہیں سورج کی پرستش کہیں بتوں کی خدائی اور کہیں خود انسانوں ہی کو پوجا جا رہا ہے ایسی حالت میں کس کس سے بگاڑی جائے اور کس کو بعد میں اور کس کو پہلے رکھا جائے یہ بہت نازک فیصلہ تھا اسلام کی ایک چھوٹی سی ریاست منصہ شہود پہ آ رہی تھی ادھر مکہ مکرمہ والوں سے دشمنی ہے تو کیا ایسی بات نہ کی جائے جس سے یہود و نصاری خفا ہوتے ہوں یا ان سب کی پرواہ تو نہ کی جائے مگر قیصر و کسری کے مذاہب یا مذہب کے نام پر جاری رسومات کو تو فی الحال نہ چھیڑا جائے۔ مبادا اس چھوٹی سی سلطنت پہ وہ چڑھ دوڑیں تو ارشاد ہوا میرے حبیب ! یہ فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے کہ کس وقت کیا کہنا ہے اور کیا بات کرنی چاہئے یا کس چیز کا اعلان کیا جائے آپ اس کا غم نہ کریں ہاں جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل ہو وہ لوگوں تک پہنچا دیں کہ اس میں سے اگر تھوڑی سی بات بھی رہ گئی تو سارا پیغام بےمعنی ہو کر رہ جائے گا گویا آپ نے حق رسالت ادا نہ فرمای ارہی لوگوں کی دشمنی جو یقینی ہے مشرکین بھی یہود و نصاری بھی اور دنیا کے دوسرے کفار بھی تڑپ اٹھیں گے مگر انسانوں سے آپ کی حفاظت کرنا یہ اللہ کی ذمہ داری ہے وہ جس کا پیغام آپ پہنچا رہے ہیں وہی آپ کی حفاظت فرمائے گا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ سارا کفر مل کر آپ ﷺ کا کچھ نہ بگاڑ سکا بلکہ روز بروز اسلام پھیلتا چلا گیا حتی کہ آپ ﷺ حج پر تشریف لے گئے۔ یہی حجۃ الوداع کہلاتا ہے اور یہی حج اکبر بھی کہ اس روز جمعہ تھا اور آپ نے تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جسے منشور انسانیت کہا جاتا ہے اور واقعی انسانی حقوق اور انسان کے اپنے رب سے تعلقات دنیا و آخرت ، عقائد اور اعمال مختصر ترین الفاظ میں جواہرات اور ہیروں کا ہار ہے جو لسان نبوت نے پرودیا اور اس کے آخر میں ارشاد فرمایا۔ الا ھل بلغت۔ لوگو ! کیا میں نے بات پہنچانے کا حق ادا کردیا ؟ سب نے عرض کیا بیشک یا رسول اللہ ! تو آسمان کی طرف انگلی مبارک اٹھا کر تین بار فرمایا۔ اللھم اشہد۔ اے اللہ ! گواہ رہنا اور فرمایا اب جو حاضر ہیں وہ ان تک پہنچا دیں جو یہاں حاضر نہیں ہیں جس سے مراد وہ لوگ بھی تھے جو اس دور میں تھے مگر اس وقت میدان عرفات میں نہ تھے وہاں بھی تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار صحابہ موجود تھے اور وہ لوگ بھی جو اکناف و اطراف عالم میں تھے جہاں ابھی اسلام نہیں پہنچا تھا اور وہ بھی جو ابھی دنیا میں نہیں آئے تھے سو پہلا کام صحابہ کرام نے یوں کر دکھایا کہ انہی کا حصہ ہے۔ آپ حج سے واپسی پر تقریبا اسی روز اس دنیا میں رہے پھر وصال فرمایا۔ آپ ﷺ کے وصال سے ربع صدی کے اندر اندر دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا جہاں اللہ کے بندوں نے اللہ کا پیغام پہنچا نہ دیا ہو ذرا تفصیل سے اس لیے لکھ دیا کہ شیعہ اس آیت کا نزول حج سے واپسی پہ بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے راستے میں واپسی پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت علی کی خلافت کا اعلان کیا اور جو صحابہ ساتھ تھے سب سے بیعت لی۔ علی الحائر مشہور شیعہ عالم نے اس موضوع پہ رسالہ لکھا کہ اڑھائی لاکھ صحابہ سے ایک ایک کرکے بیعت لی گئی۔ اگر خیمہ میں آنے جانے بیعت کرنے پہ ایک ایک منٹ لگا کر تین منٹ فی آدمی اڑھائی لاکھ آدمیوں کو وقت دیا جائے تو وہ غالبا ڈیڑھ سال کے قریب عرصہ بنتا ہے جبکہ آپ صرف اسی یوم دار فانی میں رہے اور وصال فرمایا نیز تبلیغ کی تصدیق بندوں سے کرائی شہادت اللہ سے لی وہاں اللہ بھی گواہ بن گیا پھر خیال آیا کہ نہیں یار ! ایک بات خلافت والی رہ گئی اور پھر بتانے سے کیا حاصل جب بعد میں تو ان میں سے کسی نے بات تک نہ کی اور ابوبکر صدیق کی بیعت کرلی خود حضرت علی نے کرلی تو کوئی کیا کرتا مگر اس تحریک فاسدہ کا مقصد تو آپ ﷺ کی رسالت کو ناکام بنانا ہے ان کے منہ میں خاک آپ کی رسالت کی کامیابی یہ تو ارض و سماء رات دن اور بہار و خزاں تک گواہ موجود ہیں لہذا آپ اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے ظاہر ہے جو آپ نے یوم عرفہ سے پہلے پہنچا دیا تھا کہ پھر وہاں تکمیل دین کی آیہ کریمہ نازل ہوئی اور جب تک کفر یعنی انکار یا اکڑ باقی ہے ان کو اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب نہیں فرماتا۔
اور ان یہود و نصاری کو واضح کردیجئے کہ ان کے تو صرف نام ہیں اصل میں یہ کچھ بھی تو نہیں نہ یہودی نہ نصرانی کہ نہ عقائد اس مذہب کے مطابق ہیں اور نہ اعمال تو کم از کم اگر یہودی رہنا ہے تو تورات پر عمل کرو نصرانی رہنا ہے تو انجیل کو تو اپناؤ ۔ اب دونوں کتابوں میں آپ ﷺ کا ذکر بھی ہے ایمان لانے کا حکم بھی ہے اور نزول قرآن کی خبر بھی۔ اب ان کتابوں کو اپنانے کا مطلب بھی یہ ہوگا کہ قرآن پہ ایمان لے آئیں مگر یہ انکار کیے جا رہے ہیں اور ان میں اکثر کافر تو پہلے بھی تھے کہ نام فرقوں کے تھے عقیدہ و عمل کچھ بھی نہ تھا پھر قرآن کا انکار انہیں اس دلدل میں مزید گہرا دھکیل گیا اور مزید سخت ہوگئے عملاً سرکشی میں بھی اور عقیدۃ انکار میں بھی سو ایسے کفار پر آپ دکھ محسوس نہ کیا کریں۔ کہ یہ راستہ ان کی اپنی پسند ہے کسی نے ان پر ٹھونسا نہیں ہے نہ مسلط کیا ہے اگر وہ باختیار خود اس طرف جانا چاہتے ہیں تو آپ رنج نہ کریں۔ ہاں جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں اور اسلام اور ضروریات دین کا اقرار کرلیا ہے وہ ہوں یا یہود ، وہ قوم جس پر کبھی تورات نازل کی گئی تھی یا صابی علماء کے نزدیک (یہ ایک ستارہ پرست قوم تھی) لیکن اپنے آپ کو حضرت داود (علیہ السلام) اور زبور کا پیروکار بتاتے تھے یا نصرانی جن پر انجیل نازل کی گئی اب سب کے لیے ایک ہی راتہ ہے کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آئیں یعنی وہ ایمان جس کی دعوت حضرت محمد ﷺ دے رہے ہیں ماجاء بہ محمد ﷺ ورنہ مسلمان کہلانے والا بھی اگر نام سے مسلمان کہلاتا رہے اور عقائد میں نئی راہ تلاش کرلے تو اس کے گمراہ ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں اور یہ دوسرے سب لوگ اپنی کتابوں سے تو پہلے منحرف ہوچکے بلکہ خود کتابوں میں تحریف کرچکے اب اگر یہ ایمان اور عقیدہ درست کرلیں اور خلوص کے ساتھ آپ ﷺ کی پیروی اختیار کریں عملی زندگی میں اطاعت کا ثبوت فراہم کریں۔ تو اللہ کی رحمت آج بھی ان کا ہاتھ تھام لینے کو تیار کھڑی ہے اور آخرت میں بھی انہیں نہ ڈر ہوگا آئندہ سے اور نہ گذشتہ پہ رنج کہ سب کچھ کا حاصل ، اللہ کی رضا انہیں نصیب ہوجائے گی۔ بعض منکرین حدیث نے اس آیہ کریمہ سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ یہودی نصرانی صابی ہندو وغیرہ اپنے مذہب پر رہ کر نیکی کریں تو نجات ہوسکتی ہے ان ظالموں کو یہ خبر نہیں کہ خود مسلمان کہلا کر نجات سے محروم ہو رہے ہیں اس نئی بات کی ایجاد انہیں اسلام سے خارج کردے گی کہ ایمان اور عمل صالح دونوں اپنی جگہ رسالت مآب ﷺ ہی سند ہیں اور ان کے بغیر صحت کا کوئی ثبوت ہی نہیں نہ ایمان کی درستی کا اور نہ عمل کی درستی کا کوئی ثبوت ہے سوائے اس کے کہ کہا جائے کہ آپ ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے پھر آپ کے بغیر گذارہ کیسے ؟ بنی اسرائیل سے تو عہد لیے جاتے رہے یہ وعدے کرتے رہے اور توڑتے بھی رہے ہم نے ان سے عہد لیا کہ انبیاء و رسل کی اطاعت کروگے پھر ان کی طرف رسول بھیجے جب تعلیم رسالت ان کی خواہشات نفس کے خلاف پڑی تو یہ لوگ بدل گئے بعض انبیاء و رسل کا انکار کیا اور بعض کو تو ظلماً قتل کردیا اور لطف کی بات یہ کہ اتنا بڑا ظلم کرنے کے بعد انہیں کوئی فکر بھی لاحق نہ ہوئی اور ایک طرح سے خوش ہوگئے کہ شاید ہم نے بہت بڑا کام کیا ہے اب ہمیں کوئی روکنے والا ہی نہیں لیکن خدا کی گرفت سے نہ بچ سکے بخت نصر ہی ان پر عذاب بن کر ٹوٹا اور انہیں تباہ کردیا جو زندہ بچے قید کرکے لے گیا پھر انہیں خدا یاد آیا اور اللہ کا کرم دیکھو انہوں نے معافی چاہی پھر عطا کردی مگر یہ ایسی بدبخت اور بدنصیب قوم تھی کہ پھر اللہ کے احکام سے اندھے اور بہرے بن گئے۔ اور انبیاء کے قتل سے ہاتھ رنگے حتی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل پر بھی تیار ہوگئے بلکہ اپنی طرف سے تو کرچکے ہیں اور انہی میں کا ایک گروہ اس بات پہ مبتلائے کفر ہوا کہ اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا تسلیم کرلیا اور معبود مان لیا اور انہیں عبادت کا حقدار ثابت کرنے لگے حالانکہ خود عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم یہ تھی کہ اے بنی اسرائیل ! اللہ کی بندگی اور عبادت کرو اور اس لیے کرو کہ وہ میرا بھی اور تمہارا بھی پروردگار یعنی پالنے والا ہے جو شخص پیدا ہوتا ہے اور موت سے ہمکنار ہوسکتا ہے جو کھانے کی احتیاج رکھتا ہے اسے پینے کی ضرورت ہے ہوا کی ضرورت ہے غذا کی ضرورت ہے اور سلسلہ ضروریات اور اس کے نتائج اتنے لمبے ہیں کہ پھر نیند کی ضرورت پیدا ہوتی ہے جو زندہ انسان کو مردہ بنا دیتی ہے کیا ایسا ہی معبود ہوا کرتا ہے حالانکہ حق یہ ہے کہ نہ کھانے والے بھی محتاج ہیں مثلاً فرشتے وہ بھی معبود نہیں بندے ہیں مگر غذا کی محتاجی تو ایسی ہے کہ ہر کس و ناکس کے سامنے کھلی کتاب کی طرح موجود ہے اور خود عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات میں ہے اللہ میرا رب ہے اور تم سب کا بھی اور یہ بھی انہوں نے واضح کردیا تھا کہ جو بھی اللہ سے شرک کرے گا اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے اور جنت ہی اللہ کی رضامندی اور خوشنودی کی دلیل ہے لیکن شرک کرنے والے کا ٹھکانا تو دوزخ ہوگا جو اللہ کے غضب اور غصے ناراضگی کے اظہار پہ دلالت کرتی ہے اور ایسے ظالموں کا جو شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلاء ہوئے کوئی مددگار بھی نہیں ہوگا اگر توبہ کے بغیر موت ہوگئی تو آخرت میں کوئی ان کی دوستی کو نہیں بڑھے گا۔ اور یہ تو کھلا کفر ہے کبھی کہتے ہیں ایک میں تین ہیں کبھی تین میں ایک ہے۔ کبھی بیٹا ہونا قرار دیا اور کبھی خود خدا ہونے کا اقرار کرلیا یہ سب دھوکہ ہے اور بغیر اللہ کے کوئی دوسرا عبادت کا استحقاق نہیں رکھتا اکیلا اللہ عبادت کا مستحق ہے اور بس اگر یہ ان کلمات کفر سے باز نہ آئے اور توبہ نہ کی تو اس کفر پہ ان کو بہت دردناک سزا ہوگی یہ کیوں اللہ سے رجوع نہیں کرتے اور ایسی الٹی سیدھی باتوں سے کیوں باز نہیں آتے اور اللہ سے کیوں بخششیں طلب نہیں کرتے اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ تو معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے دیکھئے اس کی رحمت عامہ اگر کافر کی منتظر ہے کہ کفر سے توبہ کرے تو اسے ڈھانپ لوں بھلا مومن کو کب محروم کرے گی اگر گناہ سے باز آجائے اور اللہ سے ہدایت اور نیکی کا طالب ہو اور بخشش و رحمت کے لیے جھولی پھیلا دے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں اور ہر رسول کے پاس معجزات بطور ثبوت نبوت ہوتے ہیں اگر خود ان کی پیدائش عجیب ہے تو معجزہ ہے جو ان سے پہلے گذرنے والے رسولوں سے بھی صادر ہوتے رہے ہیں یعنی رسول اور نبی سے معجزے کا اظہار کیا اسے الہ یا معبود بنا دے گا ؟ یا اس کی نبوت کا گواہ ہوتا ہے اور وہ خود اللہ کی الوہیت کی طرف دعوت دیتا ہے ایسے ہی اس کی والدہ محترمہ و ڈیقہ تھیں سبحان اللہ ! یعنی نبی نہ تھیں ورنہ ان کی بھی نبوت کا تذکرہہوتا ہے مگر صدیقہ تھیں جو بعد نبوت ولایت کا بلند ترین منصب ہے اور اعلی ترین مقام بھی ہے آخری دائرہ راہ سلوک کا بھی دائرہ صدیقیت ہے اس کے بعد کچھ دوائر ہیں جو اس کے اندر ایک طرف ہیں اس سے نیچے ہر اوپر والا دائرہ نیچے والے دائرے کو محیط ہے لیکن صدیقیت ایک منصب بھی ہے اور بطور منصب کے بھی ولایت کے آخری مناصب کا بھی سردار اور انتہا ہے۔ سو حضرت مریم صدیقہ تھیں اور مقام صدیقیت دیکھو ! فرشتوں سے ہم کلامی کا شرف اظہار کرامات اور اللہ سے بات کرنے کا اعزاز دنیا میں نصیب ہوا لیکن ان سب عطمتوں کے ساتھ وہ انسان تھے کھانا کھاتے تھے اور صرف کھانے کا تجزیہ کیا جائے تو ایک کھانے سے سینکڑوں قسم کی احتیاج لازم آجاتی ہے دیکھو ! ہم نے کس قدر وضاحت سے ان کے حالا بیان کردئیے کہ انہیں غلط فہمی نہ رہے مگر ان کی غلط روش کو دیکھیں کہ گمراہی میں ہی بڑھے جا رہے ہیں۔ ان سے کہیے کہ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو وہ تمہیں نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان سے بچا سکتا ہے اس لیے کہ خود اپنے نفع نقصان پہ اس کا اختیار نہیں تمہیں کیا دے گا ؟ خود محتاج ہے اپنی ضرورتوں میں اپنے نفع نقصان میں اپنے وجود اپنی بقاء میں تو وہ تمہیں کیا دے گا ؟ ہاں ! اللہ کی عبادت کرو ، اسے سزاوار ہے اس سے مانگو کہ سب کی سن رہا ہے سن سکتا ہے اور ہر ایک کے حال سے واقف ہے۔
اے اہل کتاب ! اپنے مذہب میں حد سے آگے مت بڑھو کہ بندوں کو خدا ثابت کرنے لگو یعنی یا تو اس قدر مخالفت کی کہ انبیاء کو قتل تک کرنے سے گریز نہ کیا اور اتنا ظلم ڈھایا کہ زمین کانپ اٹھی یا یہ عقیدت کہ نبی کو خدا ثابت کرنے پہ تلے کھڑے ہیں یہ دونوں انتہائیں غلط ہیں اور دین اعتدال کا نام ہے ہر رسم اور ہر رواج دین نہیں ہوتا نہ انسان اپنی پسند سے اس میں گھٹا بڑھا سکتا ہے بلکہ دین انبیاء کی تعلیم کا نام ہے جس قدر بات نبی سے ثابت ہو وہ دین ہے۔ جو اپنی پسند سے لوگ اپنا لیں وہ دین نہیں بن سکتی وہ گمراہی بدعت اور زیادتی ہے اگر محض رسم سمجھ کر عمل کریں تو صرف گناہ ہے اگر ثواب سمجھ کر عمل کریں تو بدعت ہے جو گناہ کے ساتھ عقیدے اور ایمان کو بھی خراب کرتی ہے سو ایسے لوگوں کی خرافات پہ مت چلو جو ان کے اپنے نفس کی ایجاد تھیں جیسے ہمارے ہاں پیروں نے مختلف رسومات اپنا لی ہیں پھر بعض پر تو انٹرنیشنل پیر برادری کا اتفاق ہے مثلا عرس شریف ، حالانکہ اس کا کوئی ثبوت بندہ کی نظر سے نہیں گذرا ایسے ہی گیارھویں شریف پھر بڑی گیارھویں شریف اور چھوٹی گیارھوی شریف اور ان سب رسومات کے ساتھ نہ صرف دنیا کی کامیابی وابستہ ہے بلکہ اللہ کی رضامندی اور اولیاء اللہ کی تائید کے جھوٹے وعدے بھی کئے جاتے ہیں سو ایسے گمراہ لوگوں کو پیچھے مت چلو جو نہ صرف خود گمراہ ہوئے بہت سوں کو گمراہ کرگئے اور سیدھے راستے سے نہ صرف خود بھٹکے بلکہ ایک کثیر مخلوق کو بھٹکانے کا باعث بن گئے۔
Ayahs 5:78–86رکوع نمبر 11 ۔ آیات 78 تا 86 ۔
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کے کفار پر تو ہر عہد کے نبی نے اللہ کی ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ان پر لعنت کی گئی حضرت داود (علیہ السلام) سے انہیں وہی پیغام دلوایا گیا جو عیسیٰ (علیہ السلام) نے دہرایا اور یہ مسلسل اظہار نا رضا مندی کسی نسلی امتیازیا ذاتی تعصب یا رنگ کے فرق پر نہ تھا بلکہ اس کی وجہ ان کا کفر تھا اور اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور حدود الہی سے تجاوز کرنا اس کا باعث تھا یہ ایسے بد نصیب تھے کہ کسی کو برائی سے روکتے بھی نہ تھے خواہ خود نہ بھی کرتے ہوں یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو خود برائی نہیں کرتے تھے مگر انہیں دوسرے کی برائی سے دکھ نہیں ہوتا تھا اسے روکنے کے لیے کوشش نہیں کرتے تھے اور یہ بجائے خود کتنی بڑی برائی ہے کہ انسان برائی کو پھیلنے سے نہ روکے اور اسے برا نہ جانے تو یہ بھی برائی کے ساتھ ایک طرح کا تعاون ہے اور یہ تو اس سے بڑھ کر کافروں سے دوستی کرتے تھے اور ا ن کے مکروہ افعال میں شریک ہوتے تھے جیسے آجکل کا مسلمان کہ شکل و صورت سے لے کر لباس اور آداب و خصائل تک یہود و نصاری کا بندہ بےدام بنا ہوا ہے حتی کہ ان کے لباس کو عرب ریاستوں میں بھی عزت سے دیکھا جاتا ہے اور مشرقی لباس جاہلانہ سمجھا جاتا ہے یہ سب کچھ انسان اپنے لیے ہی اپنی اخروی زندگی کے لیے ہی تو بھیج رہا ہے مگر یہ جو کچھ بھیج رہے ہیں بہت ہی برا ہے کہ اس پر جو نتیجہ بنے گا بہت نقصان دہ ہوگا اسکے نتیجے میں تو اللہ کے غضب کا نشانہ بننا پڑے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب میں مل جل کر رہنا ہوگا جیسے انہوں نے یہاں کفار کے ساتھ مل جل کر رہنا شروع کیا ہے یہ سب کچھ تو اللہ کی نا رضامندی کا باعث بنا تو رضائے الہی کے لیے کیا کیا جائے فرمایا کیا ہی اچھا ہو کہ وہ اپنا عقیدہ درست کرلیں۔ یعنی اللہ کے ساتھ ایمان لائیں اور اللہ کے رسول کے ساتھ ایمان لائیں اور بالکل وہ عقیدہ اختیار کریں جو نبی کریم ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اور اللہ کی کتاب پر ایمان لائیں اس کے ساتھ کافروں کی دوستی سے باز آجائیں اور چھوڑ دیں یعنی عقیدہ کی اصلاح عمل کی اصلاح اور کفار یا بری صحبت کی بجائے نیک مجلس اختیار کریں تو بات بن سکتی ہے مگر ان میں سے تو اکثر بدکار ہیں اور نافرمان ان میں زیادہ ہیں۔
اور یہود بہ نسبت نصاری کے مسلمانوں کی دشمنی میں بہت سخت ہیں مشرکین بھی یعنی نصرانی بھی یہودی بھی اور مشرک بھی تینوں ہی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں مگر نصاری یہودیوں اور مشرکین کی نسبت کم کینہ توز ہیں اور وہ اس طرح کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا ترس ہیں اور اس دور میں بھی یہود کی نسبت نصاری میں سے زیادہ لوگوں کو ایمان نصیب ہوا تھا اس لئے کہ ان میں خدا م سے ڈرنے والے بعض عالم اور تارک الدنیا درویش ایسے ہیں جو تکبر نہیں کرتے یعنی علماء و مشائخ ہیں بعض میں خلوص و للہیت ہے اور ایسے وجود ہیں جو اللہ کے لیے کام کرتے ہیں اور اپنی ذاتی اغراض یا دنیاوی لذت کے لالچ میں دین فروشی نہیں کرتے ایسے علماء و مشائخ کی وجہ سے ان میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو قابل اصلاح ہوتے ہیں اور اسلام دشمنی میں یہودیوں اور مشرکوں کی طرح سخت نہیں ہوتے اگرچہ ان میں بھی دین فروش علماء و مشائخ بھی ہیں مگر بعض مخلص بھی ہیں جن کا اخلاص ان کے متعلقہ افراد کے قلوب میں بھی نرمی پیدا کرتا رہتا ہے یعنی علماء و مشائخ قوم کا دل ہوا کرتے ہیں اگر بگڑ جائیں تو قوم تباہ ہوجاتی ہے سدھر جائیں تو معاشرہ سدھرتے دیر نہیں لگتی۔
ان رہبان و قسیین یعنی علماء و مشائخ نصاری کے حق پر ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حق کی تعلیمات ان پر اثر کریں کسی بھی شخص کا خواہ وہ پیر ہو یا شیخ ، عالم ہو یا مفتی ، نیک ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نیک بات اس کو پسند آجائے اور جہاں نیکی نہ ہو خواہ بات میں یا کام میں وہاں نہ اس کا جی لگے نہ وہ اسے پسند ہو اور نہ متاثر کرسکے یہی دلیل یہاں نصاری کے علماء و مشائخ کی پارسائی پہ دی جا رہی ہے در اصل واقعہ یہ ہوا کہ اہل مکہ کی چیری دستیوں سے تنگ آ کر آپ ﷺ نے مسلمانوں کو ہجرت حبشہ کا حکم دیا کہ وہاں کا بادشاہ نجاشی مذہباً نصرانی تھا مگر اس کے انصاف کی شہرت تھی تو ابتداء گیارہ آدمی پھر تقریبا بیاسی آدمی مکہ سے ہجرت کرکے خواتین بچے مرد حبشہ چلے گئے اہل مکہ یہ بھی برداشت نہ کرسکے اور ایک وفد ترتیب دیا۔ جو تحائف لے کر شاہ نجاشی کے دربار میں پہنچا اور مکہ سے وہاں ہجرت کرکے آنے والوں کو مذہبی بھگوڑہ ظاہر کیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں واپس کیا جائے بادشاہ نے مسلمانوں کو بھی طلب کرلیا حضرت جعفرت بن ابی طالب نے اسلام کی دعوت کا نقشہ مختصر ترین الفاظ میں ایسے دلنشیں انداز میں کھینچا کہ بادشاہ کے آنسو رواں ہوگئے اور کہنے لگا اگر یہ درست ہے تو یہ نبی ہی کی تعلیمات معلوم ہوتی ہیں ایسے انسانوں کو اپنے ملک سے نکل جانے کا حکم نہیں دے سکتا۔ اہل مکہ کا وفد معہ تحائف واپس کردیا پھر مدینہ منورہ میں یہ لوگ واپس آئے تو شاہ نجاشی نے ستر آدمیوں کا وفد ہمراہ کیا جو سب عالم اور نیک لوگ تھے جب آپ ﷺ کی خدمت عالیہ میں پہنچے آپ ﷺ سے قرآن حکیم سنا تو آنکھوں سے جھڑیاں لگ گئیں اور ایمان لے آئے جا کر نجاشی کو بتایا وہ بھی مسلمان ہوگیا یہاں ان کی نیکی پارسائی نیک نیتی اور خلوص کا تزکرہ ہے مگر بات اصولی بیان فرمائی جا رہی ہے جو بھی اس اصول پہ پورا اترے وہ اس خطاب کا مستحق ہے کہ پہلے دین عیسیٰ ی پہ تھے مگر جیسے خدمت نبوی میں پہنچے اور قرآن کریم جو آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے سنا تو آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے اس لیے کہ ان کے قلوب میں حق و باطل کی پہچان باقی تھی دل مان گیا کہ یہ حق ہے اور فوراً عرض کیا۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان نہ لائیں جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کریم ہمیں اپنے نیک اور صالح بندوں میں داخل فرما لے ، تو نیکی کی بنیاد ہی ایمان پر ہے پہلے ایمان ہو خلوص دل کے ساتھ پھر عمل ہو اور وہ بھی خلوص قلب کے ساتھ تو یہ صالحین میں داخلے کا راستہ ہے اگر کوئی عمل اس کے خلاف کرکے اپنے بڑا بزرگ ہونے کے زعم میں مبتلاء ہے تو وہ یا بیوقوف ہے یا منافق کہ زہر کھا رہا ہے اور دعا لمبی عمر کی مانگ رہا ہے یہی حال کفر یا گناہ میں مبتلاء ہونے کا ہے تو جو لوگ عملاً یعنی عقیدے کے اعتبار سے بھی اور کردار کے اعتبار سے بھی اپنی اصلاح خلوس کے ساتھ کرلیتے ہیں پہلے خواہ عیسائی رہے ہوں یا کسی اور قسم کے کفر میں مبتلاء جب ایمان لے آئے تو پہلی بات ختم پھر عملاً اطاعت کی راہ اپنائی تو نہ صرف دنیا میں بلکہ اخروی اور ابدی زندگی میں بھی اللہ کی بےپناہ نعمتیں اور جنت اور اس کی راحتیں عطا فرماتے ہیں کہ خلوص دل سے کام کرنے کا صلہ یہی ہے اور رہ گئے وہ لوگ جو ہماری باتوں کی تکذیب کرتے ہیں جھٹلاتے ہیں جب نبی کی بات کو نہ مانا تو یہ اللہ ہی کی بات کو نہ ماننا ٹھہرا تو اس کے بھی دو درجے ہیں اگر انکار ہی کردیا تو کافر ہو کر ہمیشہ کے لیے دوزخ کا مستحق ٹھہرا اور اگر انکار نہ کیا مگر عمل بھی نہ کیا تو سخت گناہگار اور فاسق ہے اللہ چاہے تو بخش بھی دے اور چاہے سزا دے مگر دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا کبھی نہ کبھی جان چھوٹ سکے گی۔
Ayahs 5:87–93رکوع نمبر 12 ۔ آیات 87 تا 93 ۔
اسرار و معارف : چونکہ نصاری میں رہبانیت کا ذکر چل رہا تھا اور یہ خیال بھی نہ کیا جائے کہ عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں ہاں یہ فرمایا گیا کہ یہودیوں میں بہت ہی کم لوگ اصلاح پذیر ہوئے اتنے کم کہ قوم کے مقابلے میں قابل ذکر تعداد نہیں ، لیکن عیسائیوں میں پھر ان کی نسبت زیادہ لوگ مشرف باسلام ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں تارک الدنیا قسم کے لوگ تھے جنہیں کوئی لالچ نہ تھا حق کو دیکھا اور قبول کرلیا تو وہ ان کا اپنا دین تھا بہرحال اچھا وہی جو اسلام قبول کرلے ورنہ کوئی خوبی ہے نہ اسلام دوستی۔ اس بات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ رہبانیت یا لذیذ چیزوں کو چھوڑ دینا یا گھر بار ترک کردینا یا شادی نہ کرنا وغیرہ بھی قرب الہی کے لیے بڑے مددگار عوامل ہیں تو فرمایا ہرگز نہیں ! اسلام میں ایسی باتوں کی گنجائش ہے نہ ضرورت بلکہ جو چیز جس طرح سے اللہ نے حلال کردی ہے اس طرح سے حاصل کرکے اسے کھانا یا استعمال کرنا ہی اطاعت ہے اور اگر کوئی اپنی مرضی سے اس کے خلاف کرے گا تو وہ اللہ کی قائم کردہ حدود کو توڑنے کا مجرم گردانا جائے گا مثلا اچھاکھانا ترک کردے یا باوجود حیثیت کے اچھا لباس ترک کردے یا باوجود قدرت کے شادی نہ کرے کہ اس طرح زیادہ نیکی ملے گی نیکی تو کیا خاک ملتی ایسے گستاخ کو اللہ کریم کبھی پسند ہی نہیں فرماتے یعنی اپنی طرف سے نیکی اور بدی کی حدود مقرر کرنا گستاخی ہے نیز جو شے اللہ نے حلال کی ہے کھانے کی اجازت دی ہے اسے انسان کیسے حرام کرسکتا ہے۔ ہاں ! نیکی یہ ہے کہ خوب کھاؤ پیو مگر اللہ کے ک دئیے ہوئے رزق میں سے اور اللہ کے دئیے ہوئے رزق سے مراد رزق حلال ہے کسی سے چھین کر نہیں کسی سے رشوت لے کر نہیں کسی کو دھوکہ دے کر نہیں بلکہ معروف طریقے سے ملازمت کرکے تجارت کرکے کاشتکاری یا مزدوری کرکے جو رزق اللہ نے دیا ہے وہ حلال بھی ہے اور اسے طیب یعنی پاک بھی رکھو ناپاک کی ملاوٹ نہ ہونے دو کہ حلال میں حرام ملا دو یا گھروں میں دین کی واقفیت کی شدید کمی کی وجہ سے خواتین ہی پاک پلید کے فرق کو نہ جانتی ہوں مثلاً کسی خاتون پر غسل واجب ہے مگر اسے طریقہ ہی معلوم نہیں تو ادا نہیں کرپائی اب ظاہر ہے وجود پاک نہ ہو تو ناپاک ہاتھ جس کھانے میں داخل ہوگا وہ بھی ناپاک ہوجائے گا یا مثلاً ایک چھوٹی سی شے ہے ناخن پہ لگانے والی پالش یہ ناخن کو اوپر سے ڈھانپ لیتی ہے اب وضو ہو یا غسل اسے صاف نہ کرو تو نیچے ناخن خشک رہے گا۔ اور دونوں ادا نہ ہوں گے نہ جسم پاک نہ ہاتھ ، رزق حلال بھی ہو جب یہ ہاتھ داخل ہوگا طیب نہ رہے گا۔ ایسے ہی کوئی ناجائز آمدن اس میں ملا دو پھر حلال نہ رہے گا لہذا رزق کو حلال رکھو اور پاکیزہ ، اور کھاؤ پیو۔ کہ تقوی اللہ کی اطاعت کا نام ہے بھوکا مرنے کا نہیں اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مقام تقوی حاصل کیا جائے ایسا تعلق پیدا کیا جائے اللہ کریم سے کہ پھر اس کی نافرمانی کو جی نہ چاہے اور یہ اطاعت سے حاصل ہوسکتا ہے لہذا جس کام کی اللہ نے اجازت دی ہے حدود شرعیہ کے اندر رہتے ہوئے ضرور کرو ، چھوڑنے کی حالتیں تین ہیں کسی حلال شرعی کو حرام جاننا یہ کفر ہے حلال شرعی پہ قسم کھا لینا کہ آئندہ نہیں کھاؤں گا یا استعمال نہیں کروں گا۔ ناجائز ہے قسم توڑ دے اور کفارہ دے تیسری قسم یہ ہے کہ بعض چیزیں حلال ہوتی ہیں مگر حکماء بعض لوگوں کو ان کی پرہیز بتاتے ہیں۔ یا بعض چیزیں روحانی طور پر بعض لوگوں کو نقصان دہ سمجھ کر مشائخ کچھ عرصہ کے لیے روک دیتے ہیں یہ شرعاً جائز اور درست ہے۔
رما معاملہ تمہاری قسموں کا۔ ان کے قائم رہنے اور نہ رہنے کا۔ تو ایک قسم تو ان کی بےہودہ اور فضول ہے جس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ مثلاً کسی کے منہ سے قسم کا لفظ نکل گیا یا گذشتہ واقعہ پر اپنے علم کے مطابق قسم کھالی مگر بعد میں ثابت ہوا کہ واقعہ درست نہ تھا دھوکہ ہوا۔ ایسی قسموں پہ نہ گناہ ہے نہ کفارہ۔ ایک قسم ہے گذشتہ واقعہ سے باخبر تھا مگر عمداً جھوٹ پر قسم کھائی اس پر بھی کھفارہ نہیں مگر یہ جھوٹ اور گناہ کبیرہ ہے۔ ایک قسم ہے جو تم آئندہ کے لیے کھالیتے ہو مگر پھر پوری نہیں کرسکتے اور توڑ دیتے ہو قسم کا توڑنا اس کی خلاف ورزی ہے وہ کسی طبعی سبب سے ہو یا خارجی سبب سے مگر جو کچھ وعدہ کیا تھا اس پہ پورا نہ اترا تو ایسی صورت میں کفارہ ادا کرنا ہوگا جس کی ایک صورت یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائیں دو وقت اوسطاً جیسا آپ کے گھر میں پکتا ہے۔ اگر یہ نہیں کرسکتے تو دس مساکین کو کپڑا پہنا دیں جس سے ان کا ستر ہوجائے ایک لمبا چوغا ہوجائے یا ایسا پاجامہ جو ناف تک ڈھانپ لے تو بھی کفارہ ادا ہوگیا اور اگر یہ بھی مشکل ہے تو آپ کے پاس غلام یا لونڈی ہو تو اسے آزاد کردیں اگر یہ بھی میسر نہیں تو پھر تین دن روزے رکھیں اور حنفیوں کے نزدیک یہ روزے مسلسل ہونے چاہئیں تو یہ اس قسم کا کفارہ ہوجائے گا جو تم پوری نہ کرسکے یا جسے تم نے توڑ دیا اور اصل بات یہ ہے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو جس کی ایک صورت یہ ہے کہ بات بات پر قسم نہ کھاؤ اور خوب سوچ سمجھ کر قسم کھاؤ پھر جب کھا ہی چکے تو اسے پورا کرنے کی کوشش کرو یہ سب طریقے جو تمہیں تعلیم فرمائے جاتے ہیں ادائے شکر کے مختلف انداز ہیں اور اللہ کریم چاہتے ہیں کہ تم ان کے شکر گذار بندے بن جاؤ۔ اور اب بات کا دوسرا پہلو بھی زیر بحث آجائے کہ جس طرح جھوٹی قسم گناہ کبیرہ ہے یا قسم کو توڑنا گناہ ہے اور کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے ایسے ہی معاشرے میں کچھ خرابیاں بھی روز مرہ کا معمول بنی ہوئی ہیں حالانکہ وہ اپنے نقصان کے اعتبار سے بہت خطرناک اور تباہ کن ہیں جیسے شراب کہ معمولی بات سمجھی جاتی ہے ایسا مشروب جو حواس مختل کردے اور ہوش جاتا رہے یا جواء یا پانسے کے تیر ، یہ لاٹری تھی اس دور کی جس کے انداز یہ تھے کہ کچھ لوگ مل کر اونٹ خریدتے ذبح کرتے پھر جتنے آدمی ہوتے اتنے تیر لیکر جو اس مقصد کے لیے رکھے ہوتے تھے ان میں سے کسی پر دو حصے کسی پر زیادہ اور بعض خالی چھوڑ دیتے پھر ایک تیر نکالتے اور ایک ایک آدمی کے نام پر نکالتے جس کا خالی نکلتا وہ خالی رہتا اور کسی کو زیادہ مل جاتا یہی موجودہ لاٹری کی صورت تھی اس میں ایک صورت قرعہ اندازی کی ہے وہ درست ہے ایک چیز کے دو حصہ دار ہیں برابر حصہ کردیا اب کونسا ٹکڑا کس کو ملے قرعہ ڈال لو یا حج کی سیٹیں کم ہیں حق کسی کا بھی دوسرے سے زیادہ نہیں سب ایک جیسے شہری حقوق رکھتے ہیں طلب کرنے والے زیادہ ہیں۔ تو قرعہ ڈال لو اس میں کسی کا حق ضائع نہیں ہوتا یعنی شراب ، جواء بت پرستی اور تیروں وغیرہ یہ ایسے قبیح افعال اور گندے کام ہیں کہ کچھ انسانیت باقی ہو تو خود انسان برداشت نہیں کرتا اور اسے گھن آتی ہے۔
انسان کہ اشرف المخلوات ہے اللہ نے کائنات اس کے لیے مسخر کردی ہے اور سورج چاند ستارے تک اس کی خدمت پہ لگے ہیں موسم ہوا زمین نباتات جمادات حیوانات سب اس کی خدمت پہ مقرر کردئیے اب یہ کسی جانور کو یا سورج کو یا آگ کو یا پتھر کو پوجنا شروع کردے تو کتنی الٹی بات ہے کہ مقصد تخلیق ہی کے خلاف اور عظمت تخلیق بھی تباہ تو جس طرح بت پرستی قابل نفرت ہے نشہ اس سے زیادہ قابل نفرت ہے کہ شعور سے بیگانہ ہو کر آدمی جانور بھی نہیں رہ جاتا اس کی سطح سے بھی گرجاتا ہے اور یہی حال جوئے اور لاٹری سے یعنی ناجائز اور حرام ذریعوں سے دوسروں کا مال کھانے سے ہوتا ہے اور یہ سب افعال نہ صرف گندے کام ہیں بلکہ یہ شیطان کے کام ہیں اور اے مسلمانو ! تمہیں خصوصاً ان سے دور رہنا چاہئے۔ تاکہ تم دائمی کامیابی حاصل کرسکو کیونکہ شیاطین کی کوشش تو یہی ہے کہ وہ تمہارے درمیان دشمنی اور دلوں میں بغض پیدا کردے جو شراب اور جوئے کے ذریعے وہ باآسانی کرسکتا ہے کہ ہوش شراب نے کھو دی اور مال جوئے میں چلا گیا اول تو اسی جگہ لڑائی ہوگی ورنہ دلی بغض لے کر اٹھے گا۔ اور کبھی نہ کبھی بات لرائی تک پہنچے گی اور یہ لڑائیاں اور دشمنیاں تھیں اللہ کے ذکر سے روکیں گی۔ شراب پی کر ہوش نہ ہوگی تو ذکر کیا خاک کرے گا جوا کھیلے گا مال ہارے گا لاٹری ڈالے گا مال ہارے گا دل میں بغض کی آگ بھڑک رہی ہوگی ذکر الہی کیا خاک کرسکے گا اور ذکر چھوٹا تو نماز گئی جب نماز بھی گئی تو اب عقائد کی باری ہے غرض اس طرح انسان قدم بقدم تباہی کی طرف بڑھتا چلا جائے گا۔ تو کیا یہ سب کچھ جان لینے کے بعد اب تم رک جاؤگے۔ اور واقعی صحابہ کرام نے جو کتاب الہی کے مخاطب اول بھی تھے اور جن کی گھٹی میں یہ چیزیں رچی بسی ہوئی تھیں انہیں چھوڑ کر اور ترک کرکے دکھا دیا کہ محبوب پہ نچھاور ہونا کسے کہتے ہیں۔
دین کیا ہے ؟
اور دین یہ ہے کہ انسان اللہ کی اطاعت کرے وہ اس طرح کہ جس طرح اللہ کا رسول تعلیم فرمائے اور پھر اس کی بےنیازی سے ڈرتا رہے کہ اس کا دربار عالی ہے اور ہمارا طاعات بھی اس قابل نہیں کہ کسی شمار قطار میں ہوں لیکن اگر کسی نے یہ راہ چھوڑ دی تو وہ یہ بھی خوب سمجھ لے کہ اس کے ایسا کرنے سے اللہ کا کچھ نہیں بگڑے گا نہ اس کی عظمت میں کوئی فرق آئے گا اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کا نقصان ہوگا کہ آپ ﷺ کا فریضہ اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے بغیر کسی لگی لپٹی کے بغیر کسی غلط فہمی کے اور بس۔ منوانا آپ کا کام اور فریضہ نہیں ہے یہ سننے والے کا کام ہے کہ وہ قبول کرتا ہے کہ نہیں۔ اور اللہ کریم کا کام ہے کہ مخلوق سے خود حساب لے گا اور ایمان لانے سے قبل یا ایمان لانے سے پہلے حرام کا حکم نازلہونے سے قبل اگر کوئی مسلمان وہ چیز جو اب منع کردی گئی ہے کھاتا تھا یا شراب پیتا تھا۔ مگر اب حرام ہوگئی تو نہیں پیتا تو حکم آنے سے پہلے کے کام پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ بلکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے آدمی ایمان لاتا ہے اور نیکی اختیار کرتا ہے۔ تو اسے تقوی یعنی اللہ کریم کے ساتھ ایک قسم کا تعلق نصیب ہوتا ہے پھر اس کیفیت میں مزید ترقی کرتا چلا جاتا ہے تو درجہ احسان پا لیتا ہے ، تقوی یہ تھا کہ ایک کیفیت تھی جس کی وجہ سے اللہ کریم کی نافرمانی کرنا محال تھا اور ہمہ وقت اطاعت پہ کمر بستہ رہنے کو جی چاہتا تھا پھر اسی اطاعت میں مسلس ترقی میں درجہ احسان پر پہنچا دیا یعنی اب کیفیت یہ ہے جیسے اللہ کو روبرو دیکھ کر کام کر رہے ہوں یا عبادت کر رہے ہوں بلکہ یہی درجہ احسان ہر کام کو عبادت بنا دیتا ہے جیسا صحابہ کے بارے میں ارشاد ہے۔ تراھم رکعا سجدا۔ کہ اے مخابط ! تو انہیں مسلسل رکوع سجود میں پائے گا حالانکہ انہوں نے سیاست و سپاہ گری سے لے کر تجارت و کاشتکاری تک دنیا کا ہر کام کیا تو پھر یہ ہر آن رکوع سجود سے کیا مراد ہوگی یہی کیفیت احسان کہ ہر کام کے کرنے میں وہ خلوص تھا کہ اللہ کو روبرو پاتے تھے۔ چناچہ ان کا ہر کام عبادت کا درجہ حاصل کرگیا اور یہ نعمت صحبت نبوی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کا صدقہ تھا۔ اس لیے یہ فیض صحبت کہ لایا اور یہ کیفیات سینہ بسینہ نقل ہوتی چلی آئیں۔ یہ شیخ کا کام ہے کہ طالب کو حضور تک پہنچائے اور پھر یہ اللہ کا کام ہے کہ ایسے لوگوں کو وہ اپنا محبوب بنا لیتا ہے پھر اللہ ان سے محبت کرنے لگتا ہے۔
Ayahs 5:94–100رکوع نمبر 13 ۔ آیات 94 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
در اصل حرام اور حلال مقرر کرنے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کریم کو اس کا اختیار ہے وہ چاہے جس چیز سے منع کردے یہ اس کی شوکت کا اظہار بھی ہے مگر اس نے امت مرحومہ پر صرف وہ چیزیں حرام کردی ہیں جو یا تو جسمانی لا ظ سے نقصان دہ تھیں یا روحانی اعتبار سے یا پھر دونوں طرح سے بیک وقت نقصان دہ تھیں ورنہ پہلی امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اچھی اور حلال چیزیں بھی بطور سزا حرام کی جاتی رہیں یہاں بھی حرمت کا ایک پہلو ایسا ہے جس میں مسلمانوں پر اچھی اور مفید چیز بھی حرام کردی جاتی ہے مگر عذاب یا سزا کے طور پر نہیں کی جاتی۔ اور نہ لمبے عرصے کے لیے کی جاتی ہے مثلاً روزے میں کھانا پینا اور بعض دوسری جسمانی ضروریات جائز طریقے سے پوری کرنے سے روک دیا تو ایک مقررہ وقت یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک تھا۔ اور ایک مقررہ مہینہ ماہ رمضان کا ہمیشہ کے لیے نہیں اب اس میں کئی روشن پہلو ہیں عظمت باری عز اسمہ کا اظہار بھی ہے کہ حقیقی مالک وہی ہے ہم تو بندے ہیں جو حکم ہوگا تعمیل کریں گے دوسرے اس کے طفیل انسان پر رحمت اور بخشش کی بارش برستی ہے اور تیسرے کہ اس کی روحانی تربیت ہو رہی ہے اور روحانی قوت درجہ کمال کو پاسکتی ہے اور بھی کتنی برکتیں شمار کی جاسکتی ہیں جو قرآن میں حدیث شریف میں موجود ہیں اور ایسی بھی ہوں گی جن تک ہماری نگاہ نہیں پہنچتی یہی حال حالت احرام میں شکار کا ہے عرب صحرائی ملک ہے شکار ملتا بھی بہت تھا اور صحابہ ؓ شکار کے عادی بھی تھے اللہ کریم نے حد حرم میں ہمیشہ کے لیے اور حالت احرام میں تھا۔ تو اس پر جزا واجب ہوگی۔ اور وہ اسی جانور کے مثل ہوگی اب اس کی مثل کیا ہے کفارہ میں اس کی تعیین وہاں کے دو عادل آدمی جو نیک بھی ہوں اور بات سمجھنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں اور اسی علاقہ سے ہوں کہ وہاں کے ماحول کے مطابق جانوروں کی قیمتوں وغیرہ سے واقف ہوں وہ مقرر کریں گے کہ اس کا کفارہ بھیڑ ہے بکری یا دس بکریاں یا اونٹ وغیرہ۔ فقہاء کے مطابق ایک آدمی بھی کردے تو جائز ہوگا مگر شرط یہ ہے کہ آدمی نیک بھی ہو اور معاملہ فہم بھی یہی وجہ ہے کہ مشائخ صرف نیکی پہ صاحب مجاز مقرر نہیں کرتے بلکہ نیک ہونے کے ساتھ معاملہ فہمی بھی شرط ہے نیز اگر ارادتاً نہیں مارا غلطی سے جانور شکار ہوگیا نشانہ دیکھنے کو تیر چھوڑا تھا جانور کو لگ گیا یا فائر کیا تھا جانور مر گیا تو ویسا ہی کفارہ واجب وہ گا اور وہ کفارے میں ذبح کیا جانے والا جانور حرم تک پہنچایا جائے حرم کے اندر ذبح کیا جائے گا۔ یا پھر اسی اندازے کے مطابق مساکین کو کھانا کھلا دے اگر یہ بھی نہ کرسکے تو اسی اندازے کے مطابق روزے رکھے یہ مساکین کا کھلانا اور روزے حرم کی حد سے مشروط نہیں ہیں۔
سزا کا فلسفہ :
یہ اس ک کام کی سزا ہے کہ اسے احساس جرم ہوجائے اور ندامت ہو اسلام میں جرم پر سزا محض مجرم کو تکلیف دینے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اسے جرم کی قباحت کا احساس دلانا مقصود ہوتا ہے تاکہ آئندہ جرم سے رک جائے اور ہاں اس سے پہلے جو گذر چکی وہ گذر چکی اس پر اللہ کریم گرفت نہیں فرماتے بلکہ معاف فرما دیا ہے اور اگر کوئی بار بار ہی جرم کرے گا تو بار بار کفارہ تو دے گا ہی مگر اسے غضب الہی سے بےفکر نہیں ہونا چاہئے کہ اس کی گرفت بھی بہت سخت ہے۔ اور ہوسکتا ہے مسلسل برائی کو روکنے کے لیے وہ خود بدلہ لے اور بدلہ لینے میں وہ غالب اور طاقتور بھی ہے اور اس کی گرفت بہت سخت ہے۔ ہاں ! پانی کا شکار اس کا پکڑنا کھانا حالت احرام میں بھی اس کی اجازت ہے یہ مسافروں کے لیے اللہ کریم کی طرف سے خصوصی تحفہ ہے جو سمندر میں سفر کرکے حرم کی طرف جا رہے ہیں انہیں کھانے پینے میں تنگی کا سامنا نہ ہو اور جب تک حالت احرام میں ہو۔ خشکی پر شکار کی اجازت نہیں کہ وہاں کھانے کا متبادل انتظام ہوسکتا ہے ہاں جب احرام کھول دو تو حد حرم سے باہر جب چاہو شکار کرو اور اکثر صحابہ شکار کرتے تھے بلکہ حضور اکرم ﷺ کو خبر ہوتی کہ فلاں خادم نے شکار کیا ہے تو وہ فرماتے بھئی میرا حصہ بھی رکھنا۔ اور اللہ کریم سے قلبی تعلق برقرار رکھو اور اس کے ٹوٹ جانے سے ڈرتے رہا کرو کہ وہ بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو اور کتنی عجیب بات ہے کہ محتاج گستاخی کرے۔ اور جسے حاجت نہ ہو وہ درگذر فرمائے اور یہ بھی یاد رہے کہ سب کو لوٹ کر بھی تو اسی کے حضور جانا ہے۔
بیت اللہ شریف :
اللہ کریم نے کعبہ کو بزرگی اور عظمت والا گھر بنایا ہے اور یہ لوگوں کی بقاء کا باعث ہے۔ قیاما للناس۔ اولاد آدم (علیہ السلام) یا انسانیت کی بقاء کا انحصار اس کی عظمت اور توقیر سے وابستہ کردیا گیا ہے اگر اس کی عظمت نہ رہے گی تو لوگوں کا باقی رہنا ممکن نہ ہوگا یعنی پھر یہ دنیا ہی نہ رہ سکے گی۔ اور حدیث شریف میں تفصیل ملتی ہے کہ ٹیڑھی ٹانگوں والا یہودی مکہ فتح کرکے بیت اللہ شریف گرا دے گا۔ اور اس کا حج ختم کردے گا جس کے بعد قیامت قائم ہوگی۔ اور اب یہود نے یہ کوشش پچھلے چند سالوں سے شروع کردی ہے ایک سال بارود بھیجا جو پکڑا گیا اس کام کیلئے آلہ کار ان کا غلام ایران کا رافضی ہے۔ پھر جلوس وغیرہ اور بد امنی پھیلانے کی سازش کی اور حج کو جو افضل العبادات کا درجہ رکھتا ہے۔ ایک سیاسی کھیل میں تبدیل کرنا چاہا۔ جب سوائے اس ایک نامراد یہودی فرقہ کے دنیا کا کوئی مسلمان اس طرف راغب نہ ہوا تو پچھلے برس بیت اللہ شریف پر قبضہ کرنے کا ناکام منصوبہ بنایا۔ اللہ انہیں آئندہ بھی نامراد ہی رکھے تو کعبۃ اللہ ، اللہ کریم کی ذاتی تجلیات کا مرکز اور مہبط ہے اور پھر اہل مکہ یا قریش کو اس کے طفیل جو عزت نصیب ہے ۔ یا حاجیوں اور زائرین کی وجہ سے انہیں رزق کے حاصل کرنے میں جو آسانی ہے وہ ہے ہی۔ یہ صرف اہل مکہ اور قریش کی بات نہیں بلکہ روئے زمین کی انسانیت اور انسانی معاشرے کی بقاء اور زندگی کا مدار بیت اللہ کی بقاء سے وابستہ ہے اب اس کی کیفیت کیا ہے یا کس طرح سے اس کا جاننا ضروری ہوتا تو اللہ کریم یہ بھی ضرور ارشاد فرما دیتے۔
اب لوہے اور مقناطیس میں کیا رشتہ ہے۔ نظر نہیں آتا مگر لوہا کھینچتا چلا جاتا ہے اس کا مشاہدہ ہم کرتے ہیں اسی طرح دنیا اور عالم کی بقاء کا اور بیت اللہ شریف کا رشتہ ہے ایسے ان اہل اللہ کا جن کو مناصب عطا ہوتے ہیں حالات دنیا سے رشتہ ہوتا ہے جس پر صوفیاء کا اتفاق ہے کہ کارگہ حیات چار حصوں میں یا چار شعبوں میں بٹ کر ان چار وجودوں سے منسلک کردی جاتی ہے جو چار قطب کہلاتے ہیں ان کا مرکز یا حاکم غوث ہوتا ہے اور اس پایہ کا ولی اللہ اپنے زمانے میں روئے زمین پہ ایک ہوتا ہے بہت کم اس سے اوپر منصب دیا جاتا ہے اگر دیا جائے۔ تو غوث ترقی کرکے قیوم بنتا ہے قیوم فرد بنتا ہے فرد قطب وحدت اور قطب وحدت ترقی کرکے صدیق بنتا ہے۔ جو صدیوں میں کبھی ایک آدھ دنیا پہ آتا ہے جیسے حضرت مریم کے حق میں قرآن نے گواہی دی کہ آپ صدیقہ تھیں اور مناصب کے اعتبار سے حالات عالم ان حضرات کے وجود سے وابستہ ہوتے ہیں لیکن اس میں عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ یہ سب کرشمہ اللہ کی قدرت کا ہے بعض کیا اکثر اوقات دنیا کی زندگی میں اہل اللہ کو اپنے منصب کا پتہ بھی نہیں چلتا مگر کام ان سے لیا جا رہا ہوتا ہے اور اس پر شرک کا فتوی دینے والوں کو یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ کعبۃ اللہ بھی بےجان پتھروں کا ڈھیر ہے اگر اللہ چاہے اسے قیام انسانیت اور بقائے جہان کا سبب بنا دے تو حید کو کوئی خطرہ نہیں چاہے تو پانی سے ہر شے کی حیات کا تعلق جوڑ دے اور توحید پختہ تر ہو کہ اصل اقتدار اسی کا ہے اور دنیا میں یہ قانون بھی اسی کا ہے کہ ہر شے کا سبب ہوتا ہے اگر اسباب باطنی میں بیت اللہ کے ساتھ ان انسانی قلوب کو بھی واسطہ اور ذریعہ بنا دے جن پر اس کی تجلیات متوجہ رہتی ہیں تو آپ بےفکر رہئے اس کی شان میں کوئی فرق آتا ہے نہ توحید خطرہ میں ہے ہاں بدعتیوں نے بدعات اور خرافات کی جو بنیاد ان باتوں پہ رکھی ہے اور جس قدر لوگوں کے ایمان و عمل کو نقصان پہنچایا ہے اس کی تردید اور اصلاح کی بہت زیادہ ضرورت ہے لیکن سر میں درد ہوجائے تو علاج سر کاٹ دینا نہیں ہوتا یہاں بھی اصل علاج یہ ہے کہ صحیح اسلامی اور موروثی کیفیات جو آپ ﷺ سینہ بسینہ منتقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ انہیں عام کردو جب بازار میں اصل عام ہوجائے تو نقل خود بخود بکنا بند ہوجاتی ہے ورنہ ان کیفیات کا انکار دلوں سے خلوص لے جائے گا اور بدعات کی جگہ نفاق آنا شروع ہوجائے گا۔ جو ان سے زیادہ خطرناک اور مہلک مرض ہے ایسے ہی حرمت والے مہینوں کی عزت ہے اور قربانی کے جانوروں کی عزت و احترام ہے کہ انہیں چھیڑا نہ جائے نہ راستہ روکا جائے نہ چرائے جائیں وہ جانور بھی جن کے گلوں میں بطور قربانی کی نشانی کے پٹے ڈال دئیے گئے ہوں یہ اس قدر باریک بینی اور چھوٹی سے چھوٹی بات پہ بحث و تمحیص اور رہنمائی فرمانے سے یہ بات تو پتہ چل رہی ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی کوئی چیز یا کوئی بات اللہ کریم سے پوشیدہ نہیں ہے اور وہ ہر ذرے ہر خیال ہر وسوسے تک سے آگاہ ہے اور یہ بھی خوب واضح رہے کہ مسلسل نافرمانی انسان کو اس کی گرفت میں لے جاتی ہے اور اس کی گرفت بہت ہی سخت ہے ہاں ! اگر باز آجائے توبہ کرلے عقائد و اعمال میں اپنی اصلاح کرلے تو وہ بخشنے والا بھی ہے اور اس کی رحمت کا سمندر بھی ناپیدا کنار ہے۔
فریضہ رسالت :
یاد رکھو ! فریضہ رسالت ان تعلیمات اور برکات کا پہنچانا ہے جو پہنچانے کا حکم آپ کو اللہ کی طرف سے دیا گیا جہاں تک تعلیمات کا تعلق ہے آپ ﷺ نے اس انداز سے اس زور اور شدت سے پہنچائیں کہ اب چودہ صدیاں بیت چکی ہیں جن کی گرد میں بڑے بڑے شہنشاہ اور ان کے حالات دفن ہوگئے مگر آپ ﷺ کی تعلیمات کو ذرا میلا بھی نہ کرسکیں ایک گدا کے جھونپڑے سے لے کر محلات شاہی تک اللہ کا پیغام دیا بلکہ اس کے مطابق چند برسوں میں ایک معاشرہ ، ایک حکومت ، ایک ملک ، ایک فوج ، ایک طرز حکومت ، ایک طرز تعلیم ، ایک عدالتی نظام غرض مکمل سلطنت بنا کر چشم عالم کے سامنے اللہ کا مثالی مسلمان اللہ کا مثالی معاشرہ۔ اللہ کی مثالی پسندیدہ حکومت پیش فرما دی ، ﷺ۔ اور جہاں تک کیفیات اور برکات اور ذوق کا تعلق تھا وہ اس طرح لٹایا کہ یہ صرف آپ کا خاصہ ہے ایمان لا کر جو بھی سامنے آیا ایک نگاہ نے اسے صحابی بنا دیا مرد تھا یا خاتون امیر غریب عالم جاہل کوئی تھا بات ایمان کی تھی یا آپ ﷺ کی نگاہ میں آنے کی۔ اور ایمانیات سے لے کر اخلاقایت تک یہ وہ درجہ ہے کہ جس سے اوپر کوئی درجہ نہیں اس سے اوپر صرف نبوت ہے اور بس۔ سو فریضہ رسالت اللہ کے انعامات کا پہنچانا تھا اب اسے قبول کرنا اس پر عمل کرنا اس سے فائدہ اٹھانا یہ تو سب انسانوں کے ذمہ ہے اور یہ خوب جان رکھو کہ تم جو ظاہر کرتے ہو اللہ کریم اس سے بھی واقف ہیں اور اتنے ہی اس بات اور حالت سے بھی واقف ہیں جو تم ظاہر نہیں کرتے ہاں اکثر اوقات نیک صالح اور پاکیزہ افراد بھی معاشرے میں کم ہوتے ہیں تعداد کے اعتبار سے اور اعمال و نظریات بھی مگر ناپاک کی کثرت اس کے اچھا ہونے کی دلیل تو نہیں بن سکتی گو بظاہر وہی بات لوگوں کو بھلی لگتی ہے جس پر اکثریت کا عمل ہو لیکن یہ تو ہمیشہ رہا ہے کہ ایسے عالی ہمت اور اولو العزم لوگ تعداد میں کم ہی رہے ہیں وجو دنیا اور اس کی لذات کو اللہ کی اطاعت کے لیے رسول اللہ ﷺ سے رشتہ الفت قائم رکھنے کے لیے قربان کردیں اور دنیا کی لذات اور وقتی جذبوں کی تسکین کے لیے گناہ میں غرق ہونے والے لوگ ہمیشہ زیادہ رہے ہیں تو اے مخاطب تو اس لیے اس طرف چلا جائے گا کہ معاشرہ کی اکثریت اس طرف ہے اس لیے جمہوری اقدار کا پاس کرتے ہوئے تجھے اللہ کی عظمت کا احساس نہیں ہوگا ان لوگوں کی عالی ہمتی کی داد نہ دے جو اس سارے طوفان کو کوئی حیثیت دینے کو آمادہ نہیں ہوتے اور یہ طوفانی لہریں ان کے قدموں کی ٹھوکروں سے ہٹ ہٹ جاتی ہیں یا حرام مال زیادہ مل رہا ہے اور اس میں اللہ کی رضا مندی شامل نہیں عذاب الہی کا باعث بنے گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں حلال کم سہی مقدار میں تھوڑا سہی مگر اللہ کریم کی رضا مندی اور خوشنودی کا سبب تو ہے جس پر کئی جہانوں کی لذتیں اور سینکڑوں زندگیاں اگر عطا ہوتی چلی جائیں تو بےدریغ نچھاور کرتے چلے جائیے پھر بھی سیری نہ ہو اور دل نہ بھرے سو یاد رکھئے یہ طیب حلال اور پاکیزہ اپنی ایک عظمت رکھتے ہیں جو ناپاک کی زیادتی سے مجروح نہیں ہوتی خواہ ظاہر بین کے لیے صرف کثرت ہی بڑی اہمیت کا باعث ہو لیکن اللہ کریم کے ہاں نیکی وار پاکیزگی کی عظمت ہے اسی لیے اسلام میں طریقہ انتخاب بھی یہ ہے کہ نیک اور پسندیدہ نیز معاملہ فہم لوگ جس ہستی پر متفق ہوجائیں عوام کو چاہئے کہ اس کی بیعت اختیار کریں نہ یہ کہ ہر کس و ناکس کی رائے برابر اہمیت رکھتی ہو یہ خوبصورت حماقت مغرب کی ایجاد ہے سو اللہ سے ڈرو۔ اور اللہ کا پسندیدہ راستہ اختیار کرو ، کہ دانشمندانہ بات یہی ہے اور اسی طریقے سے تمہیں دو عالم میں کامیابی نصیب ہوسکتی ہے۔