Ayahs 5:20–26رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 20 تا 26:
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کا بگاڑ :
دنیا میں انسانیت پہ اور بنی آدم پہ اللہ نے کیا کیا انعامات کئے اور کتنے احسانات فرمائے اس کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے اور انسانوں سے کس قدر لغزشیں کوتاہیاں بلکہ نافرمانیاں وقوع پذیر ہوئیں یہ شمار کرنا بھی ناممکن مگر ایک بات سامنے آجاتی ہے کہ پھر اللہ ہی کی رحمت اور اسی کی شفقت گرتے پڑتے انسانوں کو تھام لیتی ہے اور وہ کتنا حلیم کس قدر بردبار اور عظیم ہے اس قدر کہ اس کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا رہے یہ بنی اسرائیل تو ان کی عمومی گمراہی کی بات تو ہوچکی ایک خاص واقعہ بھی سن لیجئے اور بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے زمانے میں یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا جو اپنی برکات کے اعتبار سے معجزات کے اعتبار سے بنی اسرائیل کا مثالی دور تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) جیسے اولوالعزم رسول ان میں بنفس نفیس تشریف رکھتے تھے برکات الہی کا کوئی حساب و شمار نہ تھا کہ اللہ کریم کی طرف سے ارشاد ہوا موسیٰ ! اپنی قوم سے کہو آگے بڑھ کر ارض مقدس پر قبضہ کرلے یہ قبضہ ہم نے تمہارے نصیب میں لکھ دیا ہے یعنی بنی اسرائیل کے حق میں فیصلہ کردیا ہے کہ اس پر ان کا قبضہ ہوگا ارض مقدس سے اس عہد کا ملک شام مراد لیا جاتا ہے جس میں بیت المقدس بھی شامل تھا اور یہ زمین انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا تقریباً مرکز رہی ہے غالباً طوفانِ نوح (علیہ السلام) کے بعد اکثر آبادی بھی انہی علاقوں میں تھی یا اسی جگہ سے گردوپیش پھیلنا شروع ہوئی تھی لہذا یہاں کثرت سے نبی مبعوث ہوئے اس لیے نہ صرف بیت المقدس بلکہ پورے ملک کو ارض مقدس کہا جاتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے حکیمانہ انداز میں بات قوم تک پہنچائی کہ دیکھو اللہ کریم نے تم پر بیشمار احسانات کئے ہیں اور بہت ہی انعامات سے نوازا ہے کہ تمہاری قوم میں مسلسل سلسلہ نبوت جاری فرما دیا تھا سب سے اعلی انعام روحانی کمال ہوتا ہے۔ مادی کمالات کی حیثیت اس کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر بھی نہیں بنتی اور کمالات روحانی کی انتہا نبوت ہے جس کے فیضان سے صحابیت اور جس کی تربیت سے ولایت خاصہ نسل در نسل اور سینہ بسینہ چلتی ہے اب تم لوگ یہ دیکھو کہ اللہ کریم نے اتنی بڑی نعمت تم میں کس قدر عام کردی کہ پے درپے انبیاء مبعوث فرمائے پھر کمالات روحانی کے ساتھ مادی دولت یا سیاسی غلبہ نصیب ہوجائے تو یہ نور علی نور ہے اور رب کریم کا بہت بڑا احسان ہے سو تمہیں بادشاہت بھی عطا کی حکومت و سلطنت بھی بخشی کبھی نبی کو ہی بادشاہ بنا دیا اور یہ کتنا حسین دور ہوگا جس میں حکومت اللہ کے نبی کی ہو یا پھر نبوت کے ساتھ انبیاء کے خدام کو حکومت عطا کردی اور من حیث القوم روحانی کمالات بھی اور مادی ترقی بھی۔ دونوں تمہارے حصے میں آئے اور تمہیں نصیب ہوئے۔ یہ ایسے کمالات تھے جو تمہارے زمانے میں روئے زمین پر تمہارے کسی ہم عصر کو نصیب نہ ہوئے یہ معمولی انعامات نہ تھے اور پھر اب دیکھ لو کہ تم قبطیوں کے تابع تھے کس قدر ذلیل و خوار ہوچکے تھے وہ تمہیں انسانی حقوق دینے پہ بھی تیار نہ تھے مگر اللہ نے پھر مجھے مبعوث فرمایا اور تم نے دیکھا کہ ساری شان و شوکت ساری ہیبت و عظمت کے باوجود فرعون کو ہر مقابلے میں ذلیل ہونا پڑا۔ اور جادوگر بھی اسے چھوڑ کر ایمان لے آئے پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ غرق ہوا اس کے لشکر تباہ ہوئے اور اللہ نے تمہیں قابض کردیا حکومت عطاء کردی اپنی کتاب عطا فرمائی باوجودیکہ تم بچھڑے کی پوجا میں ملوث ہوگئے تھے پھر تمہیں معاف فرمایا اور توبہ قبول فرمائی اب جس ملک میں تمہیں انسان نہیں سمجھا جاتا تھا وہاں تمہاری حکومت ہے اس کے ساتھ اللہ کریم نے تم پر مزید انعام کیا ہے اب قاعدہ یہ ہے دنیا میں اسباب اختیار کرنا ضروری ہے پھر اس پر اجر دینا یا انعام عطا فرمانا یہ اللہ کا کام ہے مجاہدہ کسبی اور ثمرات وہبی ہوتے ہیں سو اللہ نے تمہیں ارض مقدس یا ملک شام بھی بخش دیا مگر تم اس طرف بڑھو سہی جہاد کا ثواب بھی پاؤ اور ملک کی سرحدیں بھی وسیع تر کرلو اور اس کے ساتھ ارض مقدس بھی تمہاری حکومت کے زیر انتظام آجائے اور دیکھو جہاد کو مشکل سمجھ کر پیچھے مت ہٹنا ورنہ نقصان اٹھاؤگے اگر وہ احسانات و انعامات عطاء کرسکتا ہے تو سزا بھی دے سکتا ہے لہذا اس کا حکم ماننے میں کوتاہی نہ کرنا اب ہوا یہ کہ قوم نکل چلی جب مصر اور شام کے درمیان پہنچے تو فیصلہ ہوا کہ کچھ لوگوں کو بھیجا جائے جو اندازہ کریں کہ اس شہر کے لوگ کیسے ہیں فوج کیسی اور کتنی ہے ؟ حفاظت کا اہتمام کیا ہے تو قرعہ فال سرداروں کے نام پڑا کہ جناب ! جو سرداری کرتے ہیں انہیں پہلے بھیجا جائے چناچہ وہ گئے۔ شہر کونسا تھا ؟ مفسرین نے تین چار شہروں کے نام لکھے ہیں مگر کوئی بھی ہو ملک شام کا مرکزی شہر تھا۔ اگر فتح ہوجاتا تو سارا ملک فتح ہوجاتا چناچہ وہ آگے آگے بڑھے جا رہے تھے کہ انہیں اس شہر کا ایک آدمی مل گیا یہ لوگ عمالقہ کہلاتے اور قوم عاد کے بچے کھچے لوگوں کی اولاد تھے جن کی قدو قامت اور ڈیل ڈول تو مشہور ہے انہوں نے دیکھا تو ہاتھ پاؤں پھول گئے اس نے پوچھ گچھ کی تو مزید گھبرا گئے وہ پکڑ کرلے گیا اور امیر کے روبرو پیش کردئیے وہاں انہوں نے جو دیکھا وہ اسی ڈیل ڈول کا ، بڑی شان و شوکت فوج اسلحہ اور بہت گھبرائے اہل دربار نے سوچا انہیں قتل کرنا مفید نہیں انہیں چھوڑ دیا جائے تو یہ اپنی قوم کو جا کر بد دل کردیں گے جو ہم پر حملہ آور ہوا چاہتی ہے کیونکہ انہوں نے سارا راز اگل دیا تھا چناچہ رہا کردئیے گئے اور گرتے پڑے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور سارا قصہ سنایا کہ جناب یہ لوہے کے چنے ہیں حضرت نے تسلی دی فرمایا یہ اللہ کا کام ہے اور اس کا وعدہ ہے کہ وہ یہ ملک تمہیں عطاء کرے گا تمہیں صرف آگے بڑھنا ہے لہذا تم یہ باتیں مت کرو ، نہ خود گھبراؤ اور نہ دوسروں کے لیے ایسی فضا پیدا کرو کہ وہ جہاد سے ڈر جائیں بلکہ یہ بات بھول جاؤ کسی سے تذکرہ ہی نہ کرنا لیکن وہ رہ سکے ، اور اس تاکید کے ساتھ کہ میں تمہیں بتاتا ہوں تم کسی کو مت بتانا اپنے قریبی لوگوں کو بتایا پھر کچھ ان کے قریبی تھے سوائے دو سرداروں کے باقی دس نے افشائے راز کردیا اور بات لوگوں میں پھیل گئی یہ قوم جو آج بڑھ بڑھ کر باتیں بنا رہی ہے۔ ان کے اجداد نے کہا اے موسیٰ ! وہاں تو کوئی بڑے تکڑے لوگ رہتے ہیں ہمہ ان سے نہیں لڑسکتے بھلا انسان انسان سے تو لڑے پہاڑوں سے کون سر مارے۔ ان میں سے ایک آدمی نے ہمارے بارہ سردار پکڑ لیے بھلا ہم ان کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں ؟ ہاں اگر وہ شہر خالی کردیں اور اللہ ان پر کوئی ایسی مصیبت ڈالے کہ انہیں وہاں سے بھاگنا پڑے تو جب وہ لوگ چلے گئے ہم شہر میں داخل ہوجائیں گے۔ ان دوسرداروں نے جنہوں نے راز بھی افشا نہیں کیا تھا بہت کوشش کی ، بڑا سمجھایا اور اس لیے وہ اس قابل ہوئے یعنی تھے تو اسی قوم کے فرد مگر نہ صرف خود قائم رہے بلکہ دوسروں کو سمجھانے اور تبلیغ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اس لیے کہ ان میں اللہ کا خوف تھا ان کے کاموں میں للہیت ہوتی تھی دکھاوے کو نہیں کرتے تھے سو ان پر اللہ کا انعام تھا کہ انبیاء کے انوارات کو ان کے مزاج اور ان کے قلوب قبول کرتے تھے اگر خوف خدا نہ ہوتا دکھاوا ہوتا تو دوسروں کے ساتھ ہی ان کا شمار بھی ہوتا تو انہوں نے بات سمجھانے کی بڑی کوشش کی کہ بھئی وہ لوگ تم سے خوفزدہ تھے۔ اگر جرات ہوتی تو ہمیں کو قتل کردیتے مگر انہوں نے اس منصوبہ بندی پہ ہمیں چھوڑا ہے کہ ان کے قد کاٹھ کے قصے سن کر تم لوگ ڈر جاؤ اور حملہ کرنے سے باز رہو ورنہ اندر سے وہ کھوکھلے ہیں اور بہت ڈرے ہوئے اگر تم شہر کے ایک دروازے پہ ہلہ بول دو تو وہ دوسرے سے بھاگ جائیں گے اور تمہیں فتح نصیب ہوگی اور ویسے بھی ایمان کا تو تقاضا ہی یہی ہے کہ اللہ پر بھروسہ کیا جائے اور اسی پہ امید رکھی جائے۔ جب اللہ کریم اپنے رسول کی وساطت سے فتح کا وعدہ فرما رہے ہیں جس کی زبان حق ترجمان پر سینکڑوں وعدے پورے ہوچکے ہیں تو پھر پیچھے ہٹنے کے لیے تو کوئی جواز نہیں رہ جاتا ۔ مگر وہ نہ مانے اور سیدھا سیدھا کردیا کہ اے موسیٰ ! ان کے ہوتے ہوئے ہم اس شہر میں داخل نہ ہوگے۔ ہاں ! آپ لڑئیے اور آپ کا خدا بھی تو آپ کے ساتھ ہے خدا خود ان سے لڑے ہم یہاں بیٹھے ہیں یہ کریں گے کہ چلو ! یہاں سے پیچھے نہیں بھاگتے مگر آجے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپ جانیں اور آپ کا رب۔ اس قوم کو دیکھو ! کہنے لگے موسیٰ یہ آپ کا رب بھی عجیب ہے ، ذلیل تھے ، خوار تھے ، زندہ تو تھے ، وہاں سے نکلوایا۔ فرعون سے بچایا۔ ورنہ غرق دریا ہی کردیتا اب یہاں لاکر مروانے کا کیا فائدہ بھئی ! ہمیں تو سوائے موت کے کچھ نظر نہیں آتا موت سے زندگی بہرحال اچھی تھی۔ خواہ تکلیف دہ سہمی اب خود لڑئیے یا اپنے رب کو بلا لیجئے ہم یہاں نتائج کا انتظار کریں گے یہ ایک میدان میں فروکش تھے جو مصر اور شام کے درمیان تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی بار الہ ! اپنی جان پر اور بھائی پر تو بس چلتا ہے لیکن ان بدکاروں پہ میرا اختیار نہیں چلتا۔ اب تو ہی مناسب اور بہتر فیصلہ صادر فرما۔ خواہ ہمیں ان سے جدا ہونا پڑے اکیلے لڑنے کا حکم دیدے ہم حاضر ہیں۔ تو جواباً ارشاد ہوا کہ ان کا اپنا فیصلہ ہے ہم اسی جگہ بیٹھیں گے سو اب انہیں بطور سزا چالیس برس اسی جگہ گذارنے ہوں گے اب چاہیں بھی تو چالیس برس سے پہلے نہ آگے جاسکتے ہیں نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ ہاں یہی وادی ہے جس میں آوارہ گردی ان کا مقدر ہے چناچہ کوئی تیس فرسخ یا تقریباً نوے میل لمبی اور نو فرسخ یعنی ستائیس میل چوری وادی میں پھنس کر رہ گئے اور چالیس برس تک کوشش کرتے رہے ہر طرف چلتے اور سفر کرتے رہے مگر وادی سے نکلنا نصیب نہ ہوا اگرچہ پہلے بھی کئی بار ان سے گستاخی اور اللہ کی طرف سے معافی ہوتی رہی کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا کرتے تو انہیں پھر معاف کردیا جاتا مگر ہر بار کسی نہ کسی سزا سے گذرنا پڑا ، گو سالہ پرستی پہ قتل ہونا پڑا اور یہاں جہاد سے انکا پر چالیس برس کے لیے نظر بند کردئیے گئے نہ پولیس نہ ہتھکڑی نہ جیل نہ دیوار بس اللہ کی مرضی کہ ہمیشہ چل پھر کر انہی جگہوں پہ پہنچ جاتے جہاں سے چلے ہوتے اور یہ حال پورے چالیس برس رہا غرضیکہ ایک نسل تقریباً گذر گئی خود ہارون (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوگئی۔ عرصہ پورا ہوا تو یوشع بن نون نبی مبعوث ہوئے اور پھر ان کی سرکردگی میں اس شہر پر حملہ ہوا اور فتح ہوا۔ ملک شام میں بھی ان کی ملکیت یا حکومت میں شامل کردیا گیا ۔ یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی کا اتباع نہ کرنے پر اگر نبی معاف بھی کردے تو بھی دنیاوی نقصان ضرور ہوتا ہے یہی حال طالب اور شیخ کے رشتے کا ہے اگر معاف بھی کردیا جائے تو مقامات روحانی سلامت رہ جائیں گے مصائب دنیوی سے بچنا ممکن نہیں ہوتا مگر اس سب کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اللہ کے دو نبیوں کا ساتھ اور نیک اور مخلص بندوں کا ساتھ بھی تھا جنہوں نے انہیں چھوڑا نہیں ان کے ساتھ اس وادی میں رہے تو اس کے طفیل انہیں توبہ نصیب ہوئی حکومت نہ صرف بچ گئی بلکہ سدھر گئی نیز دنیا میں بیشمار برکات نصیب ہوئیں کہ دھوپ کی شکایت ہوئی تو بادل کا سایہ کردیا گیا جدھر چلتے ادھر چلتا رہتا پانی کی تنگی ہوئی تو ایک پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہوجاتے جو متناسب سا پتھر تھا جب روانہ ہوتے تو اٹھا کر ساتھ لے چلتے جب پانی کی ضرورت ہوتی تو عصا مارتے اور پانی جاری ہوجاتا ایسے ہی آسمانوں سے من وسلوی کا نازل کیا جانا روشنی کے لیے اسی عصاء کو حضرت میدان میں گاڑ دیتے تو وہ نور کا منارہ بن جاتا اور سارے میدان کو روشن کردیتا سو شروع میں تو جب ان پر سزا مسلط کی گئی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی بہت دکھ لگا کہ شاید انہیں اتنی بڑی سزا کا گمان نہ ہوگا مگر سزا اعمال کی جنس ہی سے ہوتی ہے جب وہ اللہ کا ، اللہ کے نبی کا حکم چھوڑ کر بیٹھ رہے تو اللہ نے فرمایا چھا پھر بیٹھو اور اب تسلی سے بیٹھو حتی کہ یہ نسل تو اسی بیٹھک میں گذر جائے گی ، مگر پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ بدکاروں پہ دکھ نہیں کرنا چاہئے مگر ساتھ ساتھ ان کی وجہ سے ان پر پھر سے نعمتیں اور نوازشیں بھی جاری رکھیں کہ نیکوں کی صحبت کبھی ضائع نہیں جاتی۔
Ayahs 5:27–34رکوع نمبر 5 ۔ آیات 27 تا 34 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا واقعہ سنائیے اور درست اور ٹھیک ٹھیک سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو یعنی حق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کی بعثت ہی حق ہے اور آپ کا سنانا اللہ کے بتانے یعنی اعلام من اللہ سے ہے جو حق ہوتا ہے اور بیان کرنے والے کا حق سے ہٹنا بعض اوقات قوموں کو عروج وزوال سے متصادم کردیتا ہے کہ ان تاریخی باتوں کے اثرات ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیان میں حق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح پڑھنے اور سننے والے کو بھی تحقیق کرلینا چاہئے یہ تب کی بات ہے جب انہوں نے قربانی پیش کی۔ مفسرین نے بڑی تحقیق و جستجو سے جو واقعات کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ وہ کچھ اس طرح ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) اور مائی صاحبہ کی ملاقات ہوئی۔ سلسلہ توالد و تناسل چلا تو آپ کو ہمیشہ توام بچے نصیب ہوتے۔ جن میں ایک بیٹا ہوتا اور ایک بیٹی اب دوسرا تو کوئی انسان تھا نہیں صرف انہی کی اولاد تھی تو سگے بہن بھائی میں نکاح کو حلال نہ رکھا مگر تو ام پیدا ہونے والوں کو سگا بہن بھائی قرار دے کر دوسروں کے ساتھ نکاح کی اجازت دیگئی دو بیٹوں کے نام قابیل اور ہابیل لکھے جاتے ہیں قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی نسبتاً خوبصورت تھی اس نے کہا میں اس سے شادی کروں گا ہابیل اس سے کرے جو اس کے ساتھ پیدا ہوئی ہے آدم (علیہ السلام) نے سمجھایا کہ یہ خلاف شریعت ہے اور ہرگز ممکن نہیں جب نہ مانا تو فرمایا لڑکی میرے پاس رہے گی تم دونوں بھائی قربانی پیش کرو اللہ نے جس کی قربانی قبول فرم الی اس کو دے دوں گا اب اس کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو ہوتا یہ تھا کہ قربانی کا جانور یا مال کھلے میدان میں رکھ دیتے آسمان سے آگ آتی اور اسے کھا جاتی اگر قبول نہ ہوتی تو پری رہ جاتی چناچہ ہابیل کی قربانی تو قبول ہوگئی اور قابیل کی پڑی رہ گئی اب تو اللہ نے اس کے حق میں فیصلہ کردیا تھا مگر یہ بھی اندر سے نہ مانا اور کہنے لگا آرام سے جینے نہ دوں گا۔ میں تجھے قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا بھائی ! ناراض کیوں ہوتے ہو ؟ اللہ کے ہاں تو قبولیت کے لیے اخلاص شرط ہے میں نے قربانی پیش کی خالص اللہ کے لیے کہ جو بھی فیصلہ وہ گا صدق دل سے قبول کروں گا تو نے پیش کی صرف لڑکی حاصل کرنے کی خاطر کہ تو اس کے حسن پہ مرمٹا تھا تجھے اللہ کی رضا کی پرواہ نہ تھی بظاہر طریقہ تو اللہ کی عبادت کا تھا مگر اندر مقصد ایک عورت کو حاصل کرنا تھا سو اخلاص نہ ہو تو اللہ کریم قبول نہیں فرماتے انہوں نے تمہاری قربانی رد کردی یہ آیہ کریمہ دیکھ کر بڑے بڑے متقی کانپتے تھے کہ خدایا ہمارا عمل رد نہ فرمانا کہ یہ شرط اتنی آسان شرط نہیں ہے اور ہاں اگر تو نے زیادتی کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو یہ تیرا فیصلہ ہے میں پھر بھی تیرے ساتھ اس لیے زیادتی نہیں کروں گا کہ اس سے اللہ پاک ناراض ہوتے ہیں۔ جو سارے جہانوں کے پالنے والے ہیں جان دینا انہیں ناراض کرنے کی نسبت آسان ہے اور میرا خیال یہ بھی ہے کہ اگر تو زیادتی کرے گا تو گنہ گار تو ہوگا ہی لیکن اگر مجھ سے کوئی خطا ہوچکی ہے تو وہ بھی اس وجہ سے کہ تو مجھے ناحق قتل کرنا چاہتا ہے تجھ پر لاد دی جائے گی اور یہ کثرت گناہ تجھے جہنم میں لے جائے گی کہ ظالموں کی سزا یہی ہے اور جہنم ہی ان کا ٹھکانہ ہے کچھ بھائی کی نرمی اور کچھ نفس کی شرارت نے اسے مزید اکسایا اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا یہ پہلا قتل تھا اور پہلا فساد تھا جو انسانوں کے درمیان بپا ہوا اور اب اسے وہ ندامت گھیرے ہوئے تھی جو ہر گناہ کے بعد گناہگار کو گھیر لیا کرتی ہے لیکن یہ وہ دور تھا کہ ابھی مرنے اور دفن کرنے کے بارے کسی کو علم نہ تھا۔ سو قتل تو کر بیٹھا اب اسے کیا کرے یہ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اللہ نے ایک کوا بھیج دیا اسے دکھانے کو جس نے پنجوں سے زمین کھو دی اور ایک مردہ کوے کو اس میں ڈال کر اس پر مٹی ڈال دی تو اسے احساس ہوا کہ مجھے تو اس کوے کے برابر بھی عقل نصیب نہ تھی۔ اور بھائی دفن کردیا۔ مگر ندامت اور پچھتاوا اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔
اسی لیے ہم نے بنی اسرائیل پر بھی فرض کردیا کہ بغیر شرعی اجازت کے یا شرعی سزا کے علاوہ یا محض فساد بپا کرنے کو کسی نے قتل کردیا تو اس نے ایک آدمی کو ہی قتل نہیں کیا بلکہ وہ انسانیت کا قاتل ہے اور اس پر اس قدر سزا مرتب ہوگی جس قدر انسانیت کے قتل پہ ہونی چاہئے ایسے ہی کسی نے بچا لیا ایک آدمی کو ظالموں سے جبکہ شرعی سزاؤں سے بچانا جو شرعاً واجب القتل ہیں انہیں بچانا جیسے میدان جنگ میں کافر۔ حربی تو خود گناہ عظیم ہے ہاں کسی کو ظلماً قتل ہونے سے بچا لیا تو اس نے انسانیت کو بچا لیا اور اس کے ساتھ مسلسل انبیاء بھیجے اور واضح احکام دے کر بھیجے لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت ہمیشہ دست درازی اور زیادتی ہی کرتی رہی کبھی نسب پہ فخر کرتے اور کبھی اپنے جھوٹے اعمال پر حالانکہ انہیں بتا دیا گیا کہ پہلے دن سے شرط قبولیت تقوی اور خلوص ہے نہ نسب کام دے گا اور نہ دکھاوے کا عمل مگر یہ بد نصیب قوم کبھی سدھرنے میں نہیں آتی۔
اسلام اور جرم و سزا :
قانون یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ہو یا کوئی دوسرا جو بھی اللہ اور اس کے رسول کا قانون توڑنے پر کمر بستہ ہوجائے اس نے گویا اللہ سے اور اللہ کے رسول سے اعلان جنگ کردیا اب وہ قانون توڑ کر زمین پر فساد بپا کرتا ہے ڈاکے ڈالتا ہے امن عامہ اور لوگوں کے جان مال اور آبرو کے لیے خطرہ ہے تو ایسے لوگوں کے لیے شریعت میں سزا کے تین درجے مقرر ہیں اول حدود۔ ایسے جرائم جن میں حقوق اللہ بندے کے حقوق کی نسبت زیادہ مجروح ہوئے ان پر اللہ نے سزا مقرر کردی اب حاکم شہادت لے سکتا ہے۔ سزا وہی دے جو اللہ نے مقرر کی ہے یہ ڈاکے چوری زناء ، تہمت زما ، اور شراب خوری ان پانچ جرائم پر ہیں اگر ان میں شہادت پوری ہے تو شرعی طریقہ سے پوری سزا دی جائے گی خواہ جس کی چوری ہوئی وہ معاف بھی کردے حد جاری ہوگی۔
اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر لوٹ کی غرض سے قتل کیا لوٹ نہ سکے تو قتل کئے جائیں گے اگر لوٹا بھی تو سولی دئیے جائیں گے۔ اگر صرف لوٹا اور قتل نہ کیا تو مخالف سمت سے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے جائیں گے لیکن اگر صرف حملہ کیا نہ قتل کرسکے نہ لوٹ سکے تو قید کردئیے جائیں گے دوسری سزا قصاص ہے جس میں بندے کا حق غالب ہے مثلاً کسی کو قتل کردیا یا زخم لگا دیا تو اگر مقتول کے ورثاء معاف کردیں تو سزا معاف ہوجائے گی۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ آزاد چھوڑ دیا جائے کہ دوسروں کی حفاظت بھی تو حکومت کی ذمہ داری ہے سو حاکم اپنی صوابدید پر اسے قید وغیرہ دے سکتا ہے اور تیسری قسم تعزیرات ہیں وہ سزائیں جو اس کے علاوہ جرائم پر قاضی یا عدالت کی صوابدید پر چھور دی گئی ہیں کہ حالات کے مطابق وہ سزا دیں یا عمل کریں اور یہ خاص خیال رہے کہ یہ سارا نظام جرم کے نتیجے میں رسوائی دینے کے لیے ہے نہ کہ مجرم معزز شہری کہ لانا شروع کردیں اور آخرت میں ایسے لوگوں کو بہت بڑا عذاب دیا جائے گا ہاں کوئی ایسا گروہ جو قانون سے حکومت سے بغاوت کرکے قانون شکنی کی راہ اپنا لیتا ہے۔ اگر حکومت کے قابو آنے سے پہلے توبہ کرلے تو حکومت کو چاہئے کہ اسے معاف کردے لیکن گرفتاری کے بعد اگر توبہ بھی کرے تو وہ تو بہ آخرت میں کام آسکتی ہے دنیا کی سزا پوری پائے گا کہ اللہ کی توحید کا عقیدہ اور اس کی عبادت بھی ایک پرسکون معاشرے میں ہی نصیب ہوسکتی ہے ورنہ جہاں لوٹ مچی ہوئی ہو وہاں کسی پر وعظ کا اثر کیا ہوگا اور عبادت کی طرف رغبت کیسے ہوگی ؟ اس لئے معاشرے میں انصاف اور امن کا قیام ہی دین کی اساس اور بنیاد ہے کہ زمین اللہ کی ہے مخلوق بھی اللہ کی ہے رزق بھی اللہ کا ہے۔ تو خوف بھی صرف اللہ کا ہونا چاہئے اور کسی دوسرے کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ جب چاہے دوسروں کے جذبات سے کھیلتا پھرے حکومت اسلامیہ کا اصل فریضہ یہی ہے اسلام نے جرائم کو مختلف اقسام میں بانٹ دیا ہے اور ہر قسم کے لیے اسی درجہ کی سزا تجویز کی ہے جس درجہ کا جرم ہے اس اعتبار سے سزاؤں کے تین درجے ہیں حدود۔ قصاص۔ تعزیرات۔ جہاں بندوں کی نسبت حقوق اللہ زیادہ مجروح ہوتے ہیں ان پر سزا بھی اللہ نے مقرر کردی اور ان سزاؤں کو حدود کہتے ہیں یہ ڈاکہ ، چوری ، زنا ، تہمت زنا ، شراب خوری پانچ جرائم ہیں حدود میں اگر شرائط پوری ہوں شہادت درست ہو تو عدالت سزا میں کمی بیشی کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ساتھ توبہ کا دروازہ بھی کھلا ہے لیکن اس سے حد جاری ہوگی آئندہ نیکی نصیب ہوگی یا آخرت کی بخشش نصیب ہوگی۔ ہاں اگر شرائط پوری نہیں کرتا مثلاً چوری کے لیے شرط ہے۔ کہ مال دوسرے کی ملکیت ہو اور اس میں لینے والے کی کوئی شراکت نہ ہو پھر مال محفوظ ہو مثلاً تالے وغیرہ میں بند ہو لینے والے کو قطعاً اجازت نہ ہو اگر آپ نے استعمال کی اجازت دے رکھی ہو اور وہ پکا ہی لے گیا تو سرقہ ثابت نہیں ہوگا۔ غرض فقہ میں تفصیل موجود ہے ان پر سزاؤں کا ذکر ہوچکا ہے اگر جرم ثابت ہوجائے شہادت مہیا ہوجائے تو حد جاری کی جائے گی اگر ذرا سا شبہ ثبوت جرم میں کہ یہ حدود میں آتا ہے یا نہیں ؟ یا شہادت میں ہوگیا تو حد جاری نہ ہوسکے گی مگر مرجم چھوٹ نہیں جائے گا مقدمہ تعزیرات میں چلا جائے گا ہاں ! ثابت ہوجائے تو متعلقہ شخص معاف بھی کردے حد معاف نہ ہوگی جاری کی جائے گی دوسری صورت قصاص کی ہے جس میں بندے کا حق غالب ہے اس میں زخمی کرنے سے لے کر قتل تک شامل ہے دانت کا بدلہ دانت اور قتل کا بدلہ قتل ، انسان کے قتل کے بدلے قاتل کو مطلق انسان ہی سمجھیں گے خواہ کسی بڑے آدمی نے غلام قتل کردیا ہو اس میں اگر وارث معاف کردیں تو سزا معاف ہوجائے گی اگر متعدد وارث ہیں ایک بھی معاف کردے تو قتل تو ٹل گیا اور سارے معاف کردیں تو سب سزا ٹل گئی توبہ کرے تو گناہ بھی معاف مگر مقدمہ خارج نہ ہوگا تعزیرات میں چلا جائے گا جہاں عدالت اور حکومت کا کام ہے کہ حالات کے مطابق چھوڑ دے یا قید کی سزادے یا کچھ جرمانہ بطور نصیحت کرے اور تیسرے تعزیرات وہ جرائم جن میں حقوق اللہ بھی مجروح ہوتے ہیں اور حقوق العباد بھی مگر سب سے زیادہ حکومت کے فرائض متاث رہوتے ہیں ان کی سز احکومت کو تجویز کرنے کا اختیار ہے جو شرعی مقاصد کے خلاف نہ ہو اور نہ دین کی یا سنت کی حدود سے باہر ہو کہ اصل مقصد لوگوں کی اصلاح قیام امن اور لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہے اس لیے توبہ کا دروزہ بھی کھلا رکھا اور ہر ہر جملے کے ساتھ اللہ پر ایمان اور اس کی عظمت سے حیاء کی بات کی ہے اور ساتھ ساتھ آخرت کا دائمی اور ابدی زندگی کا تذکرہ بڑے پیار بھرے انداز میں کیا ہے کہ اگر چند سکے یا تھوڑی سی لذت پر دائمی زندگی داؤ پر لگانا پڑے تو ایسا مت کرو۔ رہ گئے وہ لوگ جو یورپ سے متاثر ہیں اور اسلام سزاؤں کو بڑا وحشیانہ کہتے ہیں حالانکہ ایسا کہنا بجائے خود کفر ہے انہیں چاہئے کہ یورپ میں جرائم کا اندازہ کریں باوجود اس کے کہ حکومت کی ساری مشینری پوری محنت سے کام کرتی ہے جرائم دن بدن بڑھتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے وہاں جرائم کی فہرست میں بہت کم اعمال آتے ہیں نہ زناء جرم ہے نہ لواطت نہ جوا ، اگر اس میں زبردستی نہ کی جائے تو بتائیے ! اخلاقایت کی تباہی کے لیے کسی اور ڈائنامائیٹ کی ضرورت باقی ہے ؟
اسلامی قانون کی برکات :
اب لے دے کے قتل ڈاکہ اور چوری رہ گئے جن کا اندازہ سب سے زیادہ انسانی حقوق کے علمبردار ملک امریکہ سے لگالیں کہ نیو یارک شہر کا اندازہ دو قتل فی یوم اوسطاً ہے چوری اور لوٹ مار کا یہ حال ہے کہ دس ڈالر نقد جیب میں لے کر جانا اپنی موت کو دعوت دینا ہے اور راستے میں گاڑی پنکچر ہوجائے اور آپ کھڑی کرکے چلے جائیں اگر گھنٹہ بھر بعد لوٹیں گے تو صرف پنجر ملے گا انجن ٹائر ، پہئے ، اے سی ، ریڈیو ٹیپ وغیرہ کچھ نہیں لوگ نکال کرلے جا چکے ہوں گے اور یہ ان کی پوری کوششوں کا حاصل ہے جو وہ جدید آلات سے اور پوری دیانتداری سے کرتے ہیں مگر اسلامی ریاستوں میں ، عرب ریاستوں میں ، جہاں ٹوٹی پھوٹی حدود نافذ ہیں وہاں جا کر دیکھیں کہ ایک ایک دوکان کروڑوں روپے کے مال سے بھری ہے اور شیشے کی بنی ہوئی ہیں ایک لات مارو چور ہوجائے کوئی چوری نہیں کرتا کسی کو کسی پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہیں ہوتی کوئی کسی کا مال نہیں چھین سکتا اور آج بھی روئے زمین پر مثالی امن اگر ہے تو عرب ریاستوں میں ہے ورنہ دنیا کے کسی گوشے میں نہیں وہاں آپ نے کتنے ٹنڈے ، پاؤں کٹے یا ہاتھ کٹے دیکھے ؟ ہمیں اللہ کریم سال میں تین چار بار بھی لے جاتا ہے گذشتہ چودہ برسوں میں ایک واقعہ قصاص کا دیکھنے میں آیا ورنہ جرم نہ ہونے کے برابر ہے تو چیزوں کو یا مال کو ان کے نتائج کے اعتبار سے لکھاجانا چاہئے اگر ایسا ہے تو پھر اسلام ہی ذریعہ نجات ہے اور اسلامی سزائیں ہی قیام امن میں مدد کرسکتی ہیں۔
Ayahs 5:35–43رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 35 تا 43 ۔
اسرار و معارف :
ان لوگوں سے بات چل رہی ہے جنہیں اپنے ایمان کا دعوی ہے اور بڑا لطف آتا ہے جب قرآن حکیم بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ! ایک شفقت کا پہلو ، ایک محبت کا انداز ، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ گناہ چھوڑ دو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور ایمان لا کر جو تعلق اللہ سے قائم کرلیا ہے اسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو۔
وسیلہ کی تحقیق :
اس کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ وسیلہ کا معنی علماء نے محبت سے یا پیار سے جڑنا لکھا ہے اگر یہ ' س ' سے لکھا جائے جیسا کہ یہاں ہے اور اگر ' ص ' سے لکھا جائے تو مطلقا جڑنا مراد ہوگا اس میں کسی کیفیت کا ہونا مراد نہ ہوگا یعنی ایسے کام کرو جن سے محبت الہی دلوں میں بڑھے یا جن کی برکت سے اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا دے اور تم سے محبت کرنے لگے جیسے قرآن کریم میں ہی ارشاد ہے :
فاتبعونی یحببکم اللہ
میری پیرو کرلو ! اللہ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔
تم فرائض دا کرو اور معاصی اور گناہ سے رک جاؤ کہ یہ ہمارے نبی کا حکم ہے اللہ تم سے محبت کرنے لگیں گے تم اس پر اضافہ کرو سنتیں اور نوافل اپنا لو کہ یہ ہمارے نبی کا کردار ہے اللہ کریم تم سے زیادہ محبت کرنے لگیں گے پھر باری آجاتی ہے مباحات کی یعنی ایسے کام جن میں کوئی طریقہ مقرر نہیں ہے ہے یا جن کے کرنے کی اجازت ہے مگر آپ ﷺ نے ساری زندگی وہ کام نہیں کیا یا لباس میں مطابقت وغیرہ ذلک مثلاً ایک بار سیدنا عمر فاروق ؓ کا نیا کرتہ آیا تو بازو اتفاقاً ذرا لمبا تھا چھری منگوائی ایک طرف سے پکڑا اور بیٹے سے فرمایا یہاں سے کاٹ دو اتنا زیادہ ہے اس نے عرض کیا ٹھہرئیے ! میں قینچی لاتا ہوں فرمایا نہیں چھری سے کاٹو۔ ایک بار نبی ﷺ کا کرتے کا بازو لمبا تھا تو آپ نے چھری سے کاٹ دیا تھا۔ اب ممکن ہے اس وقت قینچی میسر ہی نہ ہو اور یہ مباح تھا کاٹتے نہ کاٹتے مگر یہاں بھی اتباع نبوت کس قدر عزیز تھا۔
حضرت ابن عمر ؓ بوڑھے ہوچکے تھے حج پر جا رہے تھے اونٹ پر بیٹھے ہوئے راستے میں ایک جگہ جھک گئے اور پالان کے ساتھ لگ گئے پھر سیدھے ہوگئے احباب نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے یہاں ایک بڑا درخت ہوتا تھا جب آپ ﷺ یہاں سے گذرے تھے تو ناقہ مبارک پر اسی طرح جھک گئے تھے کہ شاخیں لگ نہ جائیں۔ تو کہا اب تو درخت نہیں ہے۔ فرمایا درخت تو نہیں ہے مگر آپ کی ادائیں تو باقی ہیں ہمیں درخت سے کیا لینا۔ سو اس طرح مباحات میں بھی اگر غلامی اپنا لو تو اور زیادہ محبت نصیب ہوجائے گی۔ اللہ کی طرف سے اور محبت الہی کا یہ خاصہ ہے کہ جب نصیب ہوتی ہے تو بندے کو بھی جوابا اللہ سے محبت ہوجاتی ہے ویسے بھی عام زندگی میں کسی سے محبت رکھو وہ تم سے محبت سے پیش آئے گا نفرت کرو منہ سے ایک لفظ نہ کہو وہ بھی نفرت کرنا شروع کردے گا یہ ہے حقیقت وسیلہ۔ اب اس ضمن میں جو عمل معاون ہو وہ بھی وسیلہ کہلاتا ہے اور جو انسان اس راہ میں معاون ہو وہ بھی وسیلہ کہلائے گا جیسے انبیاء ، صحابہ ، اولیاء اللہ اور نیک لوگ۔ علماء حق وغیرہ۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اعمال کے وسیلے سے دعا کرنا درست ہے تو اعمال بھی مخلوق ہیں سو نیک بندوں کے وسیلے سے بھی دعا کرنا درست ہے مگر آدمی وک اپنے مقصد کی اصلاح کرلینا ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ انبیاء و صلحاء کے اسمائے گرامی جمع کرکے معمولی سی دنیاوی لذت پہ بیچ کھائے بلکہ وسیلہ اللہ کے لیے تلاش کرے یعنی اس کی بدولت اللہ کا قرب اور اس کی رضا تلاش کرے اور اس کی راہ میں جہاد کرو یا مجاہدہ کرو دونوں معنی درست ہیں کہ وسیلہ موجود ہو مگر مجاہدہ نہ کیا جائے تو کماحقہ فائدہ ممکن نہیں اور میرے خیال میں یہ تجربہ ایسے لوگوں سے پوچھنا چاہئے جن کو کسی صاحب حال کی مجلس نصیب تھی پھر کسی وجہ سے نہ رہی یا درمیان میں ملاقات کا عرصہ لمبا ہوگیا تو کیفیات کمزور پڑنا شروع ہوجاتی ہیں سو اس وسیلے سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے خواہ وہ عمل ہو یا کوئی نیک انسان اپنی محنت بھی تو شرط ہے کہ جہاد جو تلوار سے ہوگا اس کی ضرورت تو وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ فرض عین بھی ہوسکتا ہے فرض کفایہ بھی۔ مگر جو جہاد اپنے ساتھ اپنے نفس کے ساتھ برائی سے بچنے کے لیے یا نیکی پہ عمل کرنے کے لیے کرنا پڑتا ہے یہ جہد مسلسل ہے جس میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں لہذا اس اللہ کی راہ میں مجاہدہ کرو اور پوری پوری محنت کرو کہ تم فلاح یعنی ہر دو جہاں کی کامیابی سے ہمکنار ہوسکو۔ قرآن حکیم جب فلاح کی خوشخبری دیتا ہے تو یہ فرد کی ذات زندگی سے شروع ہو کر خاندانی اور قومی ملکی زندگی پھر زندگی موت مابعد الموت اور میدان حشر تک کی کامیابی کو محیط ہوتی ہے لہذا اس کے مقابلے میں دولت دنیا کوئی شے نہیں نہ اس کی کوئی حیثیت ہے کہ اول تو ساری دولت کے مقابلے میں دولت دنیا کوئی شے نہیں نہ اس کی کوئی حیثیت ہے کہ اول تو ساری دولت ایک شخص کو مل جائے یہ عقلاً محال ہے دوسرے نہ صرف یہ کہ جو کچھ دنیا میں ہے وہ مل جائے بلکہ اتنا ہی اور مل جائے یعنی اس قدر دولت سونا چاندی جواہرات ہر چیز اور بھی مل جائے اور کفار یہ چاہیں کہ روز حشر کو عذاب کے بدلہ میں یہ دولت دے کر جان بچا سکیں گے تو اللہ کریم قبول نہیں فرمائیں گے کہ یہ سب کچھ بھی تو انہی کا ہے پھر بدلہ کیسا ؟ کوئی ذاتی چیز تھوڑی دے رہا ہے نیز کفر پر عذاب ہونا کفر کا منطقی انجام ہے اگرچہ یہ حسرت کافروں کو ہمیشہ تڑپاتی رہے گی کہ کاش ہم دوزخ سے نکل سکیں مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا اور وہ کبھی نکلنے کا کوئی راستہ نہ پائینگے۔ بلکہ انہیں عذاب ہی ایسا دیا جائے گا جو دائمی اور ابدی ہوگا جس سے کبھی چھٹکارا پانے کی امید نہ رکھنی چاہئے اس لیے اول تو برائی سے اجتناب ضروری ہے۔ اور نہ صرف اللہ کی اطاعت بلکہ اللہ سے محبت کرو اور اللہ کی محبت کو جیتو۔ اس کام پر جان لڑا دو ، یہ معمولی کام نہیں ہے دولت دنیا معمولی شے ہے کہ آخرت کی گرفت سے بچا نہ سکے گی جبکہ یہ محبت وہاں سزوار دیدار کریگی اور سرفراز مکالمہ کرے گی۔ بہ بیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا۔
قانون کی نگاہ میں عورت اور مرد برابر ہیں :
اور اگر مرد چوری کرے اور ثابت ہوجائے یا عورت چوری کرے اور پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو ان کے ہاتھ یعنی ایک بار میں ایک ہاتھ کاٹ دو کہ یہ ان کے کرتوت کی سزا بھی ہے اور اللہ کریم کی طرف سے عبرت بھی کہ جس سے دوسرے عبرت حاصل کریں اور معاشرہ سدھرا رہے انصاف قائم رہے یہ تب تک ہی ممکن ہے جب اللہ کا خوف رکھتے ہوئے اللہ سے محبت کرتے ہوئے اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے ، صحیح انصاف کیا جائے ورنہ اللہ خود ہر چیز پہ غالب ہے اور یہ اس کی حکمت ہے کہ انسان کو آزمائش میں ڈال دیا اور ایک پرکھ قائم کردی۔ توبہ کا دروازہ پھر بھی کھلا ہے سزا تو معاف نہ ہوگی ہاں اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اخروی رسوائی سے بچنے کے لیے اگر کسی بڑے سے بڑے گناہگار نے بھی توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی کہ توبہ کی حقیقت تو اصلاح احوال ہے اصل بات تو یہ ہے کہ اپنی اصلاح بھی کرے۔ صرف زبانی توبہ توبہ کہنے سے تو مقصد حاصل نہ ہوگا۔ تو اللہ یقیناً توبہ قبول فرماتا ہے اور وہ تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہی ہے یہی اس کی شان اور اس کی عظمت ہے۔ ورنہ اے مخاطب ! کیا تو نہیں جانتا کہ ارض و سما کی اصل حکومت تو اس کے دست قدرت میں ہے جسے چاہے عذاب کرے جب چاہے پکڑے جو چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف فرما دے مگر وہ کس قدر حلیم ہے بردبار ہے اور برداشت کرتا ہے لوگوں کو بےبس انسانوں کو جو تھوڑی تھوڑی حیثیت تھوڑے سے وقت کے لیے حاصل کرلیتے ہیں پھر اسے بھول جاتے ہیں اور اس کی زمین پر اس کے ملک میں اس کا رزق کھا کر اسی کی نافرمانی بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ ایسا قادر ہے کہ جو چاہے کرسکتا ہے جب چاہے کرسکتا ہے نہ کسی سے اجازت طلب کرنے کی ضرورت ہے اسے نہ کسی کی مدد درکار ہے مگر عفو و درگذر سے کام لیتا ہے ایسے آخرت میں بھی تو اس کی رحمت کے کرشمے سے دیکھے گا ہاں ، اگر کوئی بدنصیب بالکل ہی بغیر توبہ کے گذر گیا تو یہ اس نے اپنے ساتھ خود زیادتی کی کفر پر مرا تو ہمیشہ جہنم اس کا مقدر ہے اور اگر گناہ پر موت آئی تو پھر بھی امید مغفرت ہے کہ اس کی رحمت بہت وسیع ہے۔
سبحان اللہ ! کیا انداز تخاطب ہے ایمان والوں کے ساتھ کتنا شفقت بھرا بیان تھا اور پھر یہاں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کس قدر پیار بھرا انداز ہے ! فرمایا اے رسول ! یہ بدنصیب جو ترا دامن رحمت تھامنے کی بجائے بھاگ بھاگ کر کفر میں گرتے ہیں آپ ان کا غم نہ کیا کریں۔ میری مراد منافقین سے ہے جن کی زبانیں کلمہ پڑھتی ہیں۔ مگر دل ایمان نہیں لاتے یا یہود میں سے ہوں کہ یہ لوگ بھی بدبختی میں کم نہیں تو رحمت عالم ﷺ چونکہ ساری کائنات کے لیے اللہ کی رحمت ہیں اس لیے آپ کو تو انسانیت کے ایک ایک فرد کے ضائع ہونے پر رنج کا پہنچنا قدرتی بات تھی مگر یہ بات امید افزا تو ان گناہگاروں کے لیے ہے جو لاکھ گناہگار سہی مگر ہیں تو مسلمان اور آپ کی غلامی کی ترپ رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو نہ اللہ محروم فرماتے ہیں نہ شفقت نبوی دوسری بات کہ اصل ایمان دل کا ایمان ہے اور تمام اعمال کی اصل قلب کے خلوص پر ہے کہ وہ کس درجہ کا ہے اسی کے مطابق اجر وثواب ہوگا اسی لیے تمام سلاسل تصوف ذکر قلبی پہ زیادہ زور دیتے ہیں کہ جب دل روشن ہوجائے تو باقی کام آسان ہوجاتا ہے اور اگر دل ہی روشن نہ ہو تو باقی کیا کرایا بھی تباہ ہوجاتا ہے۔ رہے یہودی ، فرمایا یہ ایسے بدبخت ہیں کہ جھوٹ سننے کی عادت ہوچکی ہے ان کے دل اس قدر سیاہ ہوچکے ہیں کہ حق کے مقابلے میں انہیں ان کے اپنے عالم جو غلط سلط اور جھوٹ سناتے ہیں۔ وہ پسند ہے اور اچھا لگتا ہے جبھی تو آپ پر ایمان نہیں لاتے یہاں یہ تنبیہ موجود ہے کہ کوئی مولوی ہو یا پیر آپ ﷺ کے ارشادات اور سنت کے خلاف بدعات کو رواج دینے لگے تو اس کی پرواہ نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کا رد کرنا ضروری ہے وہ کم از کم خود تو علیحدہ ہوجائے دوسری بری عادت یہودیوں میں لگائی بجھائی کرنے اور جاسوسی کرنے کی ہے اور یہ دوسروں کو جا کر بتانے کے لیے حضور کی مجلس میں آ کر سنتے ہیں اور پھر ایسے بدبخت ہیں ان سے بھی سچ نہیں بولتے سنتے کچھ ہیں بیان کچھ اور جا کر کرتے ہیں مدینہ منورہ میں تو براہ راست واسطہ آگیا مکی زندگی میں بھی آپ ﷺ کے لیے رکاوٹ بننا یہ یہود کی زندگی کا مقصد رہا ہے اور اہل مکہ کو یوہد کے علماء مدینہ سے اعتراض سکھا کر بھیجا کرتے تھے کہ یہ جا کر کہو وہ جا کر کہو جن میں سے بعض کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے پھر مدینہ منورہ میں بار بار اہل مکہ کو حملہ کرنے پر اکسانے کے لیے انہوں نے بڑی محنت کی پھر قیصر و کسری کو اسلام کے مقابل لائے ان کی تباہی کے بعد مسلمانوں کے اندر خلاف اسلام کام کرنے والی تحریک شیعہ نام سے ترتیب دی جو اگرچہ اپنی تیاری میں بڑا لمبا عرصہ لے گئی اور جس کی بنیادی کتب عموماً تیسری اور چوتھی صدی کی ہیں مگر آج تک اسلام ان کے دل میں کانٹے کی طرح پیوست ہے خدا ان کے شر سے اسلام اور مسلمان دونوں کو پناہ دے۔ (آمین)
تو وہاں یہود میں ایک قتل کا واقعہ ہوا جس کے بارے ان کے ہاں امیر اور غریب کیلئے جداگانہ قانون تھا کہ اگر بنو قریظہ جو یہود مدینہ کا اقیک قبیلہ تھا یہود ہی کے دوسرے قبیلے بنونضیر کا آدمی قتل کردے تو دو آدمی بدلے میں قتل کئے جائیں گے اور دگنا خون بہا بھی لیا جائے گا لیکن بنو نضیر چونکہ امیر تھے اگر ان کا آدمی بنو قریظہ کا بندہ قتل کرے تو صرف خون بہا دیا جائے گا دگنا بھی نہ ہوگا۔ ایسے ہی خیبر میں ایک شہزادے نے زنا کا ارتکاب کیا نہوں نے ملامت کرکے چھوڑ دیا غریب آدمی سے صادر ہو تو حد جاری کرتے۔ اس پر شور ہوا تو اگرچہ یہ ساری ناانصافی خود ان کی اپنی کتاب کے بھی خلاف تھی مگر انہوں نے چاہا کہ یہ مقدمے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کریں اگر تو فیصلہ اپنی پسند کا ہوا جس کے لیے کچھ منافقین کی خدمات حاصل کی گئیں کچھ یہودیوں نے حاضر ہونا چاہا اور ارادہ یہی تھا کہ باتوں باتوں میں آپ ﷺ کے ذہن عالی کو ایس ابنایا جائے کہ ہماری خواہش کے مطابق فیصلہ ہوجائے اور اگر ایسا نہ ہو تو مانیں گے یہاں ایسے ہی دو گروہوں کا ذکر ہورہا ہے اللہ کریم نے بذریعہ وحی اطلاع کردی کہ ایک گروہ ان میں سے منافق ہے دل سے مسلمان ہی نہیں اور دوسرا بظاہر بھی یہودی۔ سیاہ قلب اور برے اعمال رکھنے والے آپ ﷺ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ایسے لوگوں کو جب اللہ مبتلائے فتنہ کرتا ہے تو آپ بھی ان کے لیے کچھ نہیں کرسکتے کہ انہوں نے خود اس قدر زہر پی لیا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کے بس سے بات نکل چکی ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ ہیں جن کے قلوب کو پاک کرنے کا کبھی ارادہ بھی نہیں کیا جاتا یعنی اللہ کریم اس طرح کے اعمال سے اس قدر ناراض ہوتے ہیں کہ پھر ایسے قلوب کبھی اپنے لیے اپنی یاد کے لیے اپنی تجلیات کے لیے پسند ہی نہیں فرماتے کہ انہیں توبہ کی توفیق نصہب ہو ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے کہ یہ جھوٹ سننے کے اور حرام کھانے کے عادی ہوچکے ہیں جھوٹ سننے کی اصل تو یہ ہے کہ حق کو چھوڑ کر محض رسومات کو بدعات اور رواجات کو دین سمجھ لیا جائے مگر ہر جھوٹ کا سننا اپنا ایک اثر ضرور چھوڑتا ہے پہلے کا بہت زیادہ ہوتا ہے فوری ہوتا ہے اور زیادہ نقصان دہ دوسرے عام زندگی میں جو ہوتا ہے اس کا اثر اس کی نسبت ذرا کم نقصان دہ مگر فائدہ تو وہ بھی نہیں دیتا جھوٹ بولنا کس قدر نقصان دیتا ہوگا۔ اس کی نسبت جب سننے سے یہ حال ہوتا ہے اور حرام کھانا بھی دل کو سیاہ کردیتا ہے اور اعمال کی توفیق سلب کرلیتا ہے منافقانہ طور پر دکھاوے کے لیے کچھ رہ بھی جائے تو کیا ؟ در اصل کچھ نہیں بچتا۔ مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم (رح) نے لکھا ہے کہ ' سحت ' سے مراد وہ اجرت ہے جو کوئی آدمی اس کام پر لیتا ہے جس کی اسے تنخواہ دی جاتی ہے جیسے دفاتر کے کلرک آفیسرز پولیس یا مختلف محکمے جو ان کے فرائض میں داخل ہے کرکے اس پر پیسے لیتے ہیں تو یہ سحت ہے اور اگر پیسے لے کر ناجائز کرتے ہیں تو یہ رشوت ہے اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر گناہگار ہیں۔ یہ تو ہے ان کا حال ظاہر کا بھی اور ان کے دلوں کا بھی ، اب یہ نہ آپ کے زیر نگیں اسلامی ریاست میں ہیں اور نہ فی الحال کوئی معاہدہ ہے لہذا اگر آئیں تو آپ پسند فرمائیں تو فیصلہ کردیں نہ پسند فرمائیں نہ کریں کہ آپ کی ذمہ داری میں داخل نہیں ہاں ! اگر فیصلہ کریں تو پھر پورے انصاف سے کیجئے گا کہ اللہ انصاف کرنے والوں ہی کو دوست رکھتا ہے اور اسلام انصاف کے معاملہ میں دوستی دشمنی کا قائل نہیں حق و ناحق کا قائل ہے اور حق پر فیصلہ دیا جائے یہ اللہ کو پسند ہے خواہ حق کافر کا بنتا ہو اور جب خود ان کے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے تو یہ آپ سے فیصلہ کیوں چاہتے ہیں ؟ کیا وہاں فیصلہ موجود نہیں ہے اس سے کیوں بھاگتے ہیں ؟ چناچہ آپ نے دونوں کا فیصلہ حق کے مطابق کردی اتو یہودی چیخ اٹھے فرمایا اپنے سب سے بڑے عالم کو لاؤ ! چناچہ ابن صوریابہت بڑا فاضل تھا وہ لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تجھے تورات ہی کی قسم دی جاتی ہے۔ بتا زانی کی سزا تورات میں کیا ہے ؟ کہنے لگا اصل میں ہم میں سے ایک شہزادے سے جرم سرزد ہوا بجائے سنگسار کرنے کے ملامت کرکے چھوڑ دیا اس طرح وہ قانون بن گئے غریبوں کے لیے اور قانون ، امیروں کے لیے دوسرا قانون ، ورنہ فو فیصلہ آپ ﷺ نے دیا ہے وہی پہلے سے ہمارے ہاں تورات میں موجود ہے سو جب پہلے سے اللہ کی کتاب کو نہ مان کر کافر ہو رہے تھے پھر آپ ﷺ کے مبعوث ہونے کا انکار کردیا مزید کفر میں دھنس گئے۔ ایسے لوگ کیا مان کے مریں گے۔