5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 5:44–50

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں راہنمائی ہے اور روشنی ہے پیغمبر جو کہ (اللہ کے) فرماں بردار تھے اس کے موافق یہود کو حکم دیا کرتے تھے اور اہل اللہ اور علماء بھی کیونکہ انہیں اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے پس تم لوگوں سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو تھوڑی قیمت (مال دنیا) پہ مت بیچو اور جو کوئی اللہ کے نازل کیے ہوئے کے مطابق حکم نہ کرے تو ایسے لوگ ہی کافر ہیں

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لئے اس (تورات) میں یہ لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بھی بدلہ ہے۔ پس جو کوئی اسے معاف کردے وہ اس کے لئے کفارہ ہوجائے گا اور جو کوئی اللہ کے نازل کیے ہوئے (احکام) کے مطابق حکم نہ کرے پس ایسے لوگ ہی ظالم ہیں

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) بیٹے مریم (علیہا السلام) کو انہی کے نقش قدم پر بھیجا جو اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم نے ان کو انجیل دی جس میں راہنمائی تھی اور روشنی (نور) اور تصدیق کرنے والی تھی اپنے سے پہلی تورات کی اور ہدایت اور نصیحت تھی پرہیزگاروں کے لئے

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور اہل انجیل کو چاہیے کہ جو کچھ اس میں اللہ نے نازل فرمایا اس کے مطابق حکم کریں اور جو اللہ کے نازل کردہ (احکام) کے مطابق حکم نہ کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور ہم نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی محافظ ہے سو جو اللہ نے نازل فرمایا اس کے مطابق ان میں حکم کیجئے اور آپ کے پاس حق آجانے کے بعد ان کی خواہشات کو مت مانیئے (اور) تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے دستور اور ایک طریقہ مقرر فرمایا ہے اور اگر اللہ چاہتے تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتے لیکن (ایسا نہیں کیا) اس نے جو احکام تم کو دیئے اس میں تمہیں آزمانا چاہتے ہیں سو نیکی میں جلدی کرو تم سب کو اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

(ان کے بارے) بتائیں گے اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اللہ کے نازل کردہ (احکام) کے مطابق فیصلہ کریں اور ان کی خواہشات کو مت مانیں اور ان سے بچیں کہ آپ پر اللہ کے نازل کردہ احکام میں سے بعض سے آپ کو بہکانہ دیں پس اگر یہ پھرجائیں (نہ مانیں) تو جان لیں کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کے بدلے ان کو مصیبت میں ڈالنا چاہتے ہیں اور یقینا اکثر لوگ نافرمان ہیں

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کہا یہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لئے اللہ سے بڑھ کر کس کا حکم اچھا (ہوسکتا) ہے

رکوع نمبر 7 ۔ آیات نمبر 44 تا 50 ۔ اسرار و معارف : ورنہ ہم نے تو انہیں تورات سے نوازا تھا اور تورات بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب تھی جس میں دونوں کمال موجود تھے ہدایت بھی اور نور بھی۔ ہدایت سے مراد زندگی گذارنے کا وہ طریقہ جو اللہ کریم کا پسندیدہ ہو اور جس کا اس نے حکم دیا ہو۔ نور یعنی روشنی بظاہر تو اس کا بھی وہی معنی بنتا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد کیفیات اور برکات ہیں جو کتاب کے ہر ہر لفظ میں موجود تو وہتی ہیں مگر جس طرح معانی کے ہم صاحب کتاب کے محتاج ہیں اسی طرح اس نور کے حاصل کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سے جو خلوص قلبی اور جو قرب الہی نصیب ہوتا ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا جس کو یہ کیفیات نصیب ہوتی ہیں اس کے اور اس آدمی کے جس کو کیفیات نصیب نہیں۔ عمل میں بھی بہت فرق ہوتا ہے جیسا کہ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ صحابی نے اگر ایک مٹھی جو خیرات کیے ہوں اور بعد میں آنے والا احد پہاڑ کے برابر سونا خیرات کرے اس کے ثواب کو نہیں پا سکتا اس لیے صحابی کہتے ہی اسے ہیں ، جسے فیض صحبت رسول اللہ ﷺ نصیب ہوا ہو۔ اور اس کی بدولت اس کا ایمان بہت زیادہ مضبوط اور خشوع و خضوع میں اس کی منزل بہت زیادہ بلند ہوگئی ہو ، دیانت و امانت اور نیک اوصاف میں مثالی مسلمان کا درجہ نصیب ہوا ہو۔ نیز یہ کمال صرف محبت سے حاصل ہوتا ہے جس طرح تعلیمات زبان مبارک سے نقل ہو کر الفاظ کے سانچے میں ڈھل کر زبانوں سے آگے منتقل ہوتی ہیں اسی طرح برکات اور نور یا کیفیات قلب اطہر سے منعکس ہو کر قلوب کو پہنچیں پھر جو ان کی صحبت میں بیٹھے خلوص نیت اور حصول فیض کے لیے انہیں نصیب ہوا یہی طریقہ اس نعمت کے منتقل ہونے کا ہے نجات کے لیے تو تعلیمات کا اقرار اور دل سے فقط یقین اور عمل کی ضرورت ہے مگر مقامات قرب کو پانے کے لیے اس نور اور کیفیات کی جرورت ہے جو ہر اس کتاب کی خصوصیت ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہے تو اللہ کے نبی جو یکے بعد دیگرے مبعوث ہوتے رہے اسی کتاب سے رہنمائی اور فیصلے کرتے تھے کہ باوجود عظمت پیغمبری کے اللہ کے تو اطاعت شعار تھے اسی کے نبی تھے اور ان یہود کو نہ صرف انبیاء بلکہ ان کے جانشین ربانیین اور احبار بھی۔ ربانی سے مراد وہ لوگ جنہوں نے علم کے ساتھ کیفیات قلبی بھی حاصل کرلیں اور احبار جمع حبر کی ہے سے مراد وہ لوگ جنہوں نے علم حاصل کیا اور مقدور بھر اس پر عمل کرنے اور اسے پھیلانے میں مصروف رہے تو یہاں یہ بات سامنے آگئی کہ ہر صوفی عالم ہوتا ہے کہ بغیر علم کے وہ چل نہیں سکتا اگر متبحر عالم نہ بھی ہو تو کم از کم ضروریات دین سے آگاہ ہونا تو ضروری ہے مگر عموماً بلکہ اکثر قاعدہ ہے کہ جو لوگ قابل ذکر مقام حاصل کرتے ہیں یا مقتدا بنتے ہیں ضرور عالم بھی ہوتے ہیں اور اگر بظاہر پڑھ نہ سکے ہوں تو جب مقامات علیا نصیب ہوتے ہیں علم لدنی نصیب ہوجاتا ہے اور اللہ کی جانب سے ان کا سینہ کھول دیا اجتا ہے یعنی ہر صوفی عالم ہوتا ہے مگر ہر عالم صوفی نہیں ہوتا ورنہ احبار کا تذکرہ علیحدہ نہ ہوتا اگر علم کو اللہ کے لیے خاص نہیں رکھتا عمل نہیں کرتا تو عالم بھی شمار نہ ہوگا کہ علماء ربانی اور علماء کا کام کتاب اللہ کی حفاظت کرنا اس کے احکام کو دوسروں تک پہنچانا اور اس پر عمل کرانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے لیکن اگر پڑھ لکھ کر دنیا کمانے کے لیے یا لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اللہ کی کتاب یا اس کے احکام میں ہی تبدیلی کرتا ہے تو وہ عالم بھی نہ رہا وہ تو ظالم ٹھہرا اور ایسے لوگوں کو چاہئے کہ بندوں کی بجائے اللہ سے ڈرا کریں اور اللہ کے احکام کو چند ٹکوں پہ نہ بیچا کریں۔ کہ اس کے بدلے جتنی دولت بھی ملے اس کی کوئی حیثیت نہیں اور جو بھی احکام الہی کے خلاف فیصلے کرتا ہے ملک پر حاکم ہے یا کچھ لوگوں پر یا اپنے اہل و عیال پر یا صرف اپنی جان پر ، جہاں تک اس کا اختیار ہے اگر حکم الہی کو درست نہیں جانتا اور اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو ایسے ہی لوگ کافر ہوتے ہیں ایسے لوگوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہاں اللہ کے حکم کو حق مانتا ہے اور اپنے فیصلے کو غلط تسلیم کرتا ہے مگر عمل اپنی رائے پہ کرتا ہے تو فاسق یعنی گناہگار ہوگا اب انہی کو لیجئے وج آپ کو فیصلہ کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ ان پر جو کتاب نازل ہوئی اس میں یہ فیصلہ موجود ہے کہ جان کا بدلہ جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان۔ ایسے ہی دانت کا بدلہ دانت توڑ کر اور زخموں کا قصاص ایسے ہی زخم لگا کرلیا جائے گا ، ہاں ! اگر کوئی معافکردے تو یہ قصاص کی بات ہے آدمی کا حق غالب ہے اس میں معاف ہوسکتا ہے اور معاف کرنیوالے کا یہ عمل خود اس کے لیے بہت سے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائے گا اور اللہ کریم اسے معاف فرما دیں گے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ جو شخص بھی اللہ کے حکم کے خلاف فیصلہ کرے تو وہ بہت ہی غلط کار ہے۔ ظالم ہے پھر یہی حکم قرآن حکیم میں بھی بحال رکھا گیا ویسے بھی علماء کا اتفاق ہے کہ پہلی کتابوں میں جو احکام نازل ہوئے اگر قرآن نے ان کو تبدیل نہیں کردیا تو وہ منسوخ نہ ہوں گے بلکہ قابل عمل رہیں گے اور یہ عمل بھی قرآن پر عمل شمار ہوگا کہ خود قرآن نے انہیں باقی رکھا۔ پھر ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جن کا پیدہ ہونا معجزہ ، پنگھوڑے میں بات کرنا اور دعوت الی اللہ دینا معجزہ اور انہیں ہم نے کتاب عطاء فرمائی کہ وہ اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق بھی فرماتے تھے اس معنی سے بھی کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس معنی سے بھی کہ اللہ کا حکم کونسا ہے اور کہاں تم نے اپنی طرف سے بات گھڑ لی ہے انہیں ہم نے انجیل عطا فرمائی چونکہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب تھی لہذا دونوں خوبیاں اور دونوں کمال اس میں موجود تھے نور بھی ہدایت بھی۔ یعنی کیفیات و برکات بھی اور کام کرنے یا زندگی گزارنے کا سلیقہ اور طریقہ یعنی تعلیمات بھی اب بعثت نبوی کا تذکرہ تورات میں بھی بہت تفصیل سے تھا حتی کہ صحابہ کی نشانیاں اور عادات و خصائل تک کی رفصیل موجود تھی۔ ایسے ہی جب انجیل نازل ہوئی تو اس نے ان تمام خبروں کی تصدیق کی اور آپ ﷺ کے مبعوث ہونے کی پیشگوئی کی۔ یہ بات یاد رہے کہ کتب میں دو طرح کے مضامین ہوتے ہیں ایک اخبار ، دوسرے احکام ، اللہ کی توحید اس کی صفات فرشتے آخرت جنت دوزخ یا اس قسم کی سب خبریں از اول تا آخر کبھی تبدیل نہیں ہوتیں آدم (علیہ السلام) نے فرمایا لا الہ الا اللہ۔ اور آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک ہر نبی کے کلمے کا جزو اول یہی جملہ رہا کہ خبر میں اگر تبدیلی آئے تو دو خبریں بیک وقت ایک ہی بات کے بارے مختلف ہوں تو ان میں سے ایک درست ہوسکتی ہے دونوں نہیں اس لئے اخبار منسوخ نہیں ہوتیں دوسرے احکام ان سے مراد اللہ کی اطاعت ہے کسی ایک خاص رسم یا فعل کی پابندی کرنا ہی مراد نہیں اس لئے جو حکم دے وہی مانا جائے گا اور جب روک دے رک جانا تو اب جن اوقات میں منع ہے ان میں نماز پڑھنا یا سجدہ کرنا گناہ یا عید کے روز روز رکھنا گناہ بن جاتا ہے اس لیے کہ اصل مقصد اللہ کی اطاعت ہے پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ذات حکیم و دانا ہے اور وقت اور انسانی مصلحت کے تقاضوں کے مطابق احکام بدلتے رہے ہیں جیسے جیسے انسانی معاشرہ تبدیلی کے عمل سے گذرا یا مختلف اوقات میں انسانی علم نے ترقی کی یا انسانی استعداد میں فرق آتا رہا اس کے مطابق احکام تبدیل کئے جاتے رہے حتی کہ ہر حکم اپنے وقت میں نہ صرف درست تھا بلکہ بالکل درست اور ضروری تھا لیکن جہاں تک کمالات کا تعلق ہے وہ ہر دور میں نافذ کتاب پر مرتب ہوتے رہے عقائد و اعمال میں بھی اور روحانیات میں بھی۔ ہدایت و راہنمائی کا سامان بھی تھا نصیحت بھی تھی پیار و شفقت بھرا انداز بھی تھا ڈرانے اور دھمکانے والی باتیں بھی تھیں یعنی انسان اور انسانی معاشرے کی اصلاح کے لیے جو کچھ ضروری ہے سب تھا مگر یہ سب حاصل کرنے کی استعداد بھی چاہئے اس کے لیے بھی تو دل چاہئے کم از کم کسی درجے میں سہی دل کا اللہ سے تعلق تو ہو کبھی اسے اللہ سے حیاء آتی ہو کبھی اسے اللہ سے امید بندھتی ہو کبھی اسے اللہ کی بےنیازی ڈرا دیتی ہو تب یہ فوائد بھی پا سکے گا اگر خود اس کا دل ہی مردہ ہوچکا ہو تو حاصل کیا کرسکے گا ورنہ حق تو یہ ہے کہ جو کچھ انجیل میں نازل ہوا ہے جن کو انجیل کے ساتھ ایمان کا دعوے ہے یہ اس کے مطابق عمل کیوں نہیں کرتے مثلاً آپ کی بعثت اور آپ کی ذات بابرکات کے بارے صاف پیشگوئیاں اور ایمان لانے کا حکم موجود ہے کیوں نہیں لاتے ، پھر عیسائی رہنے یا عیسائی اور نصاری کہلانے کا کیا فائدہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے فیصلوں کو قبول نہیں کرے۔ ان کے بدکردار ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔ قرآن کریم کی خصوصیات : اور آپ ﷺ پر بھی کتاب نازل فرمائی گئی ہے جو برکات و کیفیات کے لحاظ سے پہلی کتابوں سے بہت بڑھ کر ہے اس لیے کہ یہ ان کی تحقیق و اصلاح کا کام بھی کرتی ہے اور حق کی تصدیق کرنے کے ساتھ جو باطل اوہام انہوں نے اپنی طرف سے شامل کرلئے ہیں ان کو رد فرماتی ہے پھر وہ محدود زمانوں اور محدود انسانوں کے لیے تھیں۔ جو کتاب آپ ﷺ پر نازل ہوئی یہ خود لامحدود زمانوں اور لاتعداد انسانوں کے لیے ہے اس لیے اس حساب سے لامحدود برکات اور تعلیمات بھی اس میں موجود ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان پہلی کتب کی تصدیق اور تصحیح بھی کرتی ہے یعنی ان پہلی امتوں کو بھی اس کی برکات نصیب ہو رہی ہیں بلکہ یہی وہ کتاب ہے جو ان کے مضامین کی نگہداشت بھی کرتی ہے لہذا آپ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے فرمائیے ! اور ان کی رائے مشوروں کو جو ان کی اغراض ذاتیہ کے آئینہ دار ہیں کوئی حیثیت نہ دیجیے اس لیے کہ حق وہ ہے جو آپ پہ نازل ہوا اور پہلے اگر کوئی حکم تھا بھی تو اگر اس کے خلاف ہے تو منسوخ ہوگیا دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ یہود و نصاری اللہ کے نام پر اور دین کے نام پر دنیاکمانے کے عادی ہوچکے ہیں ان کی بات کوئی حیثیت نہیں رکھتی اب رہی یہ بات کہ کیوں بدل دی تو یہ اللہ کی مرضی اس نے انسانوں کے لیے زمانے اور اس کے حالات انسانوں اور ان کی استعداد کے مطابق عبادات فرض کی ہیں یا چیزیں حلال و حرام کی ہیں۔ تو اصل بات اللہ کی اطاعت ہے کسی خاص کام کا کرن مقصود نہیں بلکہ اصلاً دین اللہ کی اطاعت کا نام ہے جو حکم وہ دیں اس پر عمل کیا جائے اور دیکھنا یہ چاہئے کہ کون کس تیزی اور کتنی ہمت سے اللہ کی اطاعت کی طرف بڑھا ہے کس خلوص اور کس درد سے بڑھا ہے اللہ کریم کے کتنا قریب ہے اور بس کرنے کرانے پہ کچھ موقوف نہیں۔ ایک وقت میں قتل کرنا سخت جرم ہے تو جہاد میں نہ کرنا اور کافر سے درگذر کرنا جرم بن جائے گا۔ کہ بات قتل کرنے یا نہ کرنے کی نہیں بات اللہ کی اطاعت کرنے کی اور نہ کرنے کی ہے پھر اگر اطاعت کی تو کس جذبے سے کی اور آخر سب اسی کی بارگاہ میں جمع ہوں گے جہاں حق و باطل کا پتہ چل جائے گا جن کی یہاں تسلی نہیں ہو پا رہی وہاں ہوجائے گی بس آپ انصاف سے اور کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجئے ورنہ ان کی خواہشات سے اللہ کی پناہ چاہئے یہ تو معاذ اللہ آپ کو بھی سیدھے راستے سے بھٹکا دیں یہ اس قدر بگڑ چکے ہیں ، جیسے کوئی دلدل میں ڈوب چلا ہو جو اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے اسے بھی ساتھ ہی لے جائے یعنی آپ فیصلہ حق پر کریں اور اگر یہ مسلمان نہ ہوں تو بھی جو احکام ان کی کتابوں میں تھے ان کے بارے قرآن نے خبر دے دی ہے سو اس کے مطابق فیصلہ کردیں مگر بغیر کسی رو رعایت کے ، نہ رشوت لی جائے نہ سفارش اثر انداز ہو بلکہ جو حق سمجھ میں آئے اس کے مطابق فیصلہ کردیا جائے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہودی یا نصرانی اگر مملکت اسلامی میں رہیں تو ان کے فیصلے ان کے مذہب کے مطابق کئے جائیں گے اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام کے نام پر اگر مختلف ایسے ادارے یا تحریکیں چلائی جائیں جن کے بنیادی عقائد توحید و رسالت اور معاد وغیرہ اسلام کے خلاف ہوں انہیں بھی ان کے خود ساختہ مذہب کے مطابق کھلی چھٹی دے دی جائے ہاں ایسے لوگ مرتد قرار پائیں گے ہاں بنیادی عقائد میں اختلاف نہ ہو تو فروعات میں اختلاف ، یہ اختلاف باعث برکت اور مزید تشریح کا باعث ہوتا ہے اس لیے یہ فقہ جعفریہ ہو یا فتنہ قادیاں یہ توبہ کریں یا حکومت اسلامیہ انہیں مرتد قرار دے کر اس کی سزا جاری کرے لہذا ایسے اگر آپ کی بات قبول نہ بھی کریں تو کوئی عجیب بات نہیں کہ آپ کی برکات سے محرومی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اللہ نے بطور سزا ان پر مسلط کردی ہے اور یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ترک سنت میں مبتلاء ہونا۔ آج تک یوں بات کھل کر سامنے نہ آسکی تھی جیسے اس آیہ کریمہ نے کردی کہ فان تولوا فاعلم انما یرید اللہ ان یصیبھم ببعض ذنوبھم۔ کہ اگر آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ہم ان کے بعض گناہوں کی سزا دیتے ہیں جس کی وجہ سے توفیق اطاعت سلب ہوجاتی ہے اور اکثر لوگ بدکاروں اور نافرمانوں میں شمار ہونے لگتے ہیں۔ لوگوں کی عقل ماری گئی ہے کہ آپ کی اطاعت چھوڑ کر معاشرے کی وہ روش تلاش کرتے ہیں جو قبل بعثت اور جاہلیت میں تھی یہ کس قدر غیر دانشمندانہ بات ہے اور جن لوگوں کو یقین کی دولت نصیب ہو۔ ایمان ، علم اور کیفیات مل کر یقین بنتا ہے ایسے لوگوں کے لیے بھلا اللہ سے زیادہ خوبصورت فیصلہ بھی کسی کا ہوسکتا ہے ہرگز نہیں۔ انہیں قتل بھی ہونا پڑے جان دینی پڑے تو بھی اللہ کا فیصلہ پیارا پیارا لگتا ہے حسین اور خوبصورت۔
Ayahs 5:51–56

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان سے دوستی کرے گا تو بیشک وہ انہی میں سے ہوگا یقینا اللہ غلط کاروں کو ہدایت نہیں دیتے

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے پس تم دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کر ملے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم کو ڈر ہے کہ ہم پر کوئی گردشت نہ پڑجائے سو عنقریب اللہ فتح کا ظہور فرمادیں گے یا اپنے ہاں سے کوئی اور خاص بات ، پھر اپنے پوشیدہ دلی خیالات پر نادم ہوں گے

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور اس وقت مسلمان کہیں گے کہ کیا یہی لوگ ہیں جو اللہ کی قسمیں بڑے مبالغہ سے کھاتے تھے کہ یقینا ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال اکارت گئے پس وہ خسارے میں پڑگئے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرجائے تو عنقریب اللہ ایسے لوگ پیدا کردیں گے جن سے وہ محبت کریں گے اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے مسلمانوں پر نرمی کرنے والے (اور) کافروں پر سختی کرنے والے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے والے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطا فرمادیں اور اللہ کشائش والے جاننے والے ہیں

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

یقینا تمہارے دوست اللہ اور اس کے پیغمبر ہیں اور ایمان والے لوگ جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ رکوع کرنے والے ہیں

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کو دوست رکھے اور اس کے پیغمبر کو اور ایمان والوں کو تو یقینا اللہ کا گروہ ہی غالب ہے

رکوع نمبر 8 ۔ آیات 51 تا 56 ۔ اسرار و معارف : ایسے لوگ دوستی کے قابل ہیں ان کے مقابل یہود اور نصاری کو دوست نہ بنایا جائے یعنی ان سے انصاف ضرور کیا جائے انہیں انسانی حقوق دئیے جائیں ان کی حفاظت کی جائے ضرور میں مدد کی جائے مگر محض انسانی ہمدردی کی حد تک۔ اس سے آگے ایسی دوستی جس سے اسلام اور اس کے امتیازی نشانات تک ہی مٹنا شروع ہوجائیں حرام ہے جیسے آج کل ہندو مسلمان عیسائی۔ یہودی اور منکرین خدا کا گروپ فوٹو لیا جائے تو شکل سے کوئی فرق نظر نہیں آتا بلکہ عورت ہے یا مرد یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے بعض اوقات نام پڑھے بغیر اس کی سمجھ نہیں آتی اور یہ سب کافروں کی دوستی کا پھل ہے جب مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں تو آپ ﷺ نے یہودیوں سے معاہدہ فرمایا جس کا ماحصل یہ تھا کہ یہودی اور مسلمان آپس میں بھی نہ لڑیں گے اور اگر کوئی مدینہ پر حملہ آور ہوگا تو مل کر حفاظت کریں گے اور دفاع کریں گے اس معاہدے کے پردے میں بعض یہودیوں نے مسلمانوں سے ذاتی دوستی بھی بنا لی مقصد جاسوسی کرنا تھا۔ چناچہ معاہدہ پورا نہ کیا بلکہ الٹے اہل مکہ کو چڑھا لائے اور مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی مدد کی تو اللہ کریم نے ذاتی دوستی سے بھی منع فرمادیا کہ دیکھ لیا تم نے یہ کبھی مسلمانوں کا بھلا نہیں سوچتے ہاں ! یہودی اور نصاری آپس میں وہ ایک دوسرے سے یعنی یہودی سے اور نصرانی نصرانی سے تباہ کرتا ہے ورنہ یہود و نصاری بھی ایک دوسرے کو اچھا نہیں سمجھتے بلکہ آپس میں بھی دشمنی رکھتے ہیں جسے صرف اسلام دشمنی میں فراموش کیے بیٹھے ہیں تو یہ مسلمانوں سے کب وفا کریں گے اور جب قومی حیثیت سے تعلق نہیں رہ سکتا نباہا نہیں جاسکتا تو ذاتی دوستی کا فائدہ نہیں کہ یہ تمہیں نقصان دیں گے اور تمہاری برائی ہی سوچیں گے اور اگر تم میں کوئی ایسے لوگ ہیں جن کا گذارا ان سے دوستی کے بغیر نہیں ہوسکتا تو یہ سمجھ لو یہ بھی انہی میں سے ہیں بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں اندر سے کھوٹے ہیں کہ یہود و نصاری کی دوستی اور ایسی دوستی جسے موالات کہتے ہیں مومن کر ہی نہیں سکتا بلکہ ایسا کرنا ظلم ہے ناروا کام ہے اور اللہ ظلم کرنے والوں کو سیدھے راستے پہ چلنے کی توفیق نہیں دیتے۔ بلکہ صاف منع کرنے کے باوجود ان سے تعلقات کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے۔ دل تندرست اور صحت مند نہیں ہیں یعنی پہلے سے نفاق میں مبتلا رہیں وہ اس مصیبت میں زیادہ گرفتار ہو رہے ہیں کہتے یہ ہیں کہ سدا دن ایک جیسے نہیں رہتے کیا خبر کسی برے وقت میں ان کی ضرورت پڑجائے۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا تھا کہ مسلمان کب تک مقابلہ کریں گے آخر کار یہ مٹھی بھر لوگ مارے جائیں گے۔ تو ہمیں انہی یہود و نصاری کے ساتھ مل کر رہنا ہے ہم ان سے ترک تعلق کیوں کریں۔ اور یہی حال ہمیشہ ہر دور میں ہر ملک میں ان لوگوں کا رہتا ہے اور رہے گا جن کے ایمان کمزور اور دل بیمار ہوتے ہیں شکل لباس حلیہ کھانا پینا معاملات اخلاق بات کرنے کے انداز بلکہ چلنے اور قدم اٹھانے کی ادائیں یہود و نصاری سے سیکھی جاتی ہیں لیکن انہیں بتا دو کہ عنقریب انشاء اللہ اسلام غالب آئے گا۔ اس دور میں یہ نوید تھی فتح مکہ کی جب اہل مکہ کی شوکت سے سارا عرب لرزتا تھا اور منافق بھی اور یہودو نصاری بھی امید لگائے بیٹھے تھے کہ بدر مھض ایک حادثہ تھا احد میں بھی مکہ والوں نے نا تجربہ کاری دکھائی اور چلے گئے اب کے جب آئینگے تو اسلام کا اور مسلمانوں کا تو نشان مٹ جائے گا۔ اور بظاہر حالات بھی ایسے ہی تھے مگر اللہ کریم نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ اہل مکہ کی شوکت اور منافقوں کی امیدیں ہر شے خاک میں ملا کر مسلمانوں کو فتح دوں گا یا ا س سے پہلے ان کی منافقت کا بھید کھل جائے اللہ کریم کی طرف سے کوئی ایسی بات وقوع پذیر ہو کہ منافقوں کا نفاق ظاہر ہوجائے یہ بھی تو ہوسکتا ہے اور فتح مکہ کا تو فیصلہ ہی ہوچکا جو بڑے بڑے چھپے ، رستموں کو ننگا کردے گی اور مسلمانوں کو کوئی فوری خطرہ نہ رہے گا۔ تب منافقوں کو دکھ ہوگا اور ندامت کہ کیوں ہم نے یہ رسوائی کا راستہ اپنایا تھا۔ اور مسلمانوں کے منہ بھی حیرت سے کھلے کے کھلے رہ جائیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی بڑی قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اب ان کے وہ سارے دعوے جھوٹے نکلے اور سارے سجدے ضائع گئے کہ عبادات کی بنیاد بھی تو ایمان اور یقین پر ہے اگر بنیاد ہی میسر نہیں تو عمارت کب ٹھہر سکے گی ؟ سو ان کے جو اعمال انہوں نے ہمارے ساتھ مل کر کئے بھی تھے۔ سب ضائع ہوگئے انہوں نے کس قدر بڑا نقصان اٹھایا اور کس قدر خسارے میں رہے۔ کفار سے تعلقات : یہ کافروں سے دوستی اور موالات سے منع کرنا صرف اسلام کی بقا کا معاملہ نہیں در اصل یہ مسلمان کی بقاء کا معاملہ ہے کہ اسلام کو باقی رکھنا اللہ کریم نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور وہ قادر ہے جس نے صحرائے عرب سے اٹھا کر تھوڑے عرصے می معلوم دنیا کے تین حصے اسلامی ریاست کے زیر نگیں کردئیے اور وہ قوت و جرات ، وہ غلبہ عطاء فرمایا جس کے بارے میں کفار اور منافقین سمجھنے سے قاصر تھے۔ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ جس کلمہ کو ہم مٹانا چاہتے ہیں وہ حشر تک روئے زمین پر پڑھا جاتا رہے گا وہ اسے ہمیشہ قائم رکھنے پر بھی قادر ہے اور اگر تم میں کچھ خدانخواستہ دین سے پھر کر مرتد ہوجائیں یا سارے پھرجائیں تو اللہ ایک ایسی قوم کھڑی کردے گا۔ جنہیں وہ محبوب رکھتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو ایمانداروں کے لیے نرم خو ، نرم دل ، نرم مزاج ہوں گے مگر کافروں پہ بجلی بن کر گریں گے۔ جہاد کریں گے اللہ کی راہ میں اور اس کا حق ادا کردیں گے لڑیں گے تو لڑنے کی مثال قائم کردیں گے عبادت اور ورع تقوی ہوگا تو مثالی ہوگا راہ حق سے جس طرح کسی ظالم کی تلوار انہیں نہیں روک سکے گی اسی طرح کسی ملامت کرنے والے کی ملامت بھی ان کے راستے کا پتھر نہ بن سکے گی۔ یہ بات بڑی کھل کر سامنے آگئی کہ اسلام کے ساتھ وابستہ رہنا اسلام کی بقاء کے لیے نہیں خود ہماری بقاء کے لیے ضروری ہے ورنہ اسلام کا محافظ اللہ کریم خود ہے جسے چاہے اسلام کی خدمت پہ لگا دے دوسری بات یہ کہ یہ کام بغیر محبت کے ہونے کا نہیں محبت کا جنوں ایسا ہے جو نہ تلواروں سے ڈرتا ہے نہ زبان کی تیر اندازی سے اب محبت ہو اور بندے کو ہو پھر اللہ سے ہو یہ سب کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ بندہ بہرحال بندہ ہے عاجز ہے محتاج ہے بیکس ہے اللہ خالق ہے بےنیاز ہے انسان کی نگاہ سے بالا رسائی سے دور ، سمجھ میں نہ آنے والا ، نظروں کی پہنچ سے بلند ، نہ اسے دیکھے نہ بات کرے نہ چھو سکے۔ نہ اس کی مثال ہو نہ اس کی جنس نہ ذات تو اس سے محبت کیسے ممکن ہے یہاں اس کا علاج بتایا کہ ' یحبونہ ' کہ اللہ جب ان سے محبت کرنے لگتا ہے تو انہیں خود بخود اللہ سے محبت پیدا ہوجاتی ہے کچھ کرنا ہی نہیں پڑتا یہ تو بڑا آسان کام ہوگیا کچھ کرنا ہی نہ پڑا اور کام ہوگیا مگر یہ آسانی سب سے مشکل بن گئی جب غور کیا کہ پہلے اللہ ان سے محبت کرتا ہے۔ اب اس کا کیا علاج ؟ یہ تو کام اور مشکل ہوگیا کہ پہلے اس ذات کو اپنی محبت کا شکار کرو جو تمہاری سوچ سے رسائی سے بالاتر ہے وراء الوری ہے کمال ہے نسخہ بتایا پھنسا دیا۔ لیکن آقائے نامدار ﷺ نے اس مشکل کا حل بتایا اور لطف آ گیا جتنا بڑا کام تھا اتنا آسان کردیا فرمایا فاتبعونی یحببکم اللہ۔ تم میرے پیچھے چلو میرا اتباع اختیار کرلو اللہ تم سے محبت کرنے لگیں گے سارا مسئلہ ہی حل ہوگیا جب اللہ کسی سے محبت کریں گے تو اس کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہوجائے گی پھر محبت سے سرشار ہو کر وہ بڑے سے بڑا کام انجام دے سکتا ہے۔ صدیق اکبر ؓ کا کمال : باتفاق مفسرین ان آیات کریمہ کے مصداق ابوبکر صدیق اور ان کے عہد کے وہ سب صحابہ اپنے اپنے درجے اور مرتبے کے مطابق ہیں جنہیں قیادت و سیادت تو صدیق اکبر ؓ نے مہیا کی مگر کام کرنے میں انہوں نے کمال کردکھایا اسلام پر ابتدائے اسلام سے بھی سخت تر وقت وہ آیا جب حضور نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا۔ اس مصیبت اور فتنہ کی ابتداء تو آپ ﷺ کی حیات پاک کے آخری ایام میں ہوچکی تھی۔ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعوے کردیا تھا۔ آپ ﷺ کے وصال پر منافقین اور کفار کے حوصلے بہت بڑھ گئے اور اسود عنسی کے علاوہ بنو اسد کے سردار طلیحہ نے بھی نبوت کا دعوی کردیا۔ ایک عورت نبوت کا دعوی لے کر اٹھی۔ سات قبائل جو بہت بڑے بڑے تھے انہوں نے زکوۃ ادا کرنے سے انکار کردیا۔ قیصر روم کی افواج بھی اس اسلامی ریاست پر جھپٹا چاہتی تھیں ساتھ کسری ایران بھی تڑپ رہا تھا یعنی ایک طوفان تھا اندھیرا تھا تباہی کا بربادی کا۔ صرف مسیلمہ کذاب کے ساتھ چالیس ہزار جنگجو سپاہی تھے تو اندازہ کرلیں کہ ایک رسالتماب ﷺ کے بچھڑنے کا غم جو غم جہاں سے بھاری تھا اس پر کفر کی آندھیوں کا یہ زور ، اور ایک نحیف و نزار بدن مگر سب سے مضبوط دل رکھنے والا انسان جو قرآن کا مثالی مسلمان بھی سپاہی بھی ہے مجاہد بھی ہے۔ اور مثالی صوفی بھی اور انبیاء کے بعد جس کی نظیر خلق خدا میں نہیں ملتی وہ ہیں خلیفہ رسول اللہ ﷺ امیر المومنین ابوبکر صدیق ؓ آپ نے پوری جرات سے اعلان جہاد فرمایا مدعیان نبوت کے خلاف بھی اور منکرین زکوۃ کے خلاف بھی حالانکہ صحابہ لرز اٹھے کہ یا امیر ! مسلمانوں کی تعداد کم ہے اور دشمنوں کی بہت زیادہ اتنے زیادہ محاذ بیک وقت نہ کھولے جائیں پہلے مدعیان نبوت سے نمٹا جائے جبکہ ایک لشکر تبوک بھی روانہ ہوچکا تھا قیصر کی فوجوں کے مقابل۔ آپ ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم@ رسول اللہ ﷺ کے دین میں ایک نقطہ کی کمی یا بیشی ابوبکر کی زندگی میں نہیں ہوسکتی۔ تم زکوۃ کہتے ہو اگر کسی نے وہ رسی جو عہد نبوی میں دیتا تھا اب نہ دی تو اس سے بھی جہاد کروں گا۔ غالب کرنا اللہ کا کام ہے مسلمان کا کام خلوص کے ساتھ جان کو حاضر کردینا ہے۔ اس راہ کی تین اہم باتیں یہاں ارشاد ہوئی ہیں کہ پہلی بات تو اس راستے کی سواری محبت ہے اگر محبت نہ ہو۔ اللہ سے رسول اللہ ﷺ کی سے آپ کے دین سے تو یہ کام نہیں ہوسکتا۔ وہ محبت جو جنوں میں مبتلاء کدے۔ دوسرے جہد مسلسل اس راستہ میں کوئی آرامگاہ نہیں ہے مسلسل جہاد ہے دشمن کے خلاف میدان جہاد میں ہو یا اپنے اندر ایک جنگ کا میدان ہو جہاں نیکی و بدی کی لڑائی نے حشر بپا کر رکھا ہو اور انسان خود اپنے آپ کو پکڑ پکڑ کر اطاعت الہی ، ذکر الہی ، اور اطاعت رسول ﷺ کی طرف کھینچتا رہے تیسرے عموماً ایسی رکاوٹ جو تلوار سے ڈالی جائے عموماً انسان اس کا مقابلہ کرلیتا ہے جذبات میں آ کر سہی مگر سر میدان پیچھے ہٹنے کو جی نہیں کرتا مگر جو رکاوٹ اپنوں کی باتیں ان کے طعنے اور ان کی ملامت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بڑے بڑوں کو ڈگمگا دیتی ہے کہ یہ لوگ مسلسل بولتے چلے جاتے ہیں اور اتنا تنگ کرتے ہیں اتنا تنگ کرتے ہیں کہ آدمی حوصلہ ہار دیتا ہے جنہیں اللہ سے محبت ہوتی ہے ان پہ ملامت کے تیر بھی اثر نہیں کرتے اور یہ جرات رندانہ عطا کرنا یہ اس کا کرم ہے اس کا فضل ہے اس کی عطاء ہے وہ جسے چاہے نوازے جسے چاہے سرفراز کرے کہ وہ بہت وسعت رکھنے والا ہے اپنے جملہ اوصاف میں ایسے ہی علم لیں بھی وہ خوب جانتا ہے کہ کہاں کس شے کی ضرورت ہے۔ مسلمانو ! تمہارا دوست اللہ ہے تمہارا دوست اللہ کا رسول ﷺ ہے۔ اور تمہارے دوست ہیں ایمان والے لوگ۔ یعنی مسلمان ہی مسلمان کا دوست ہے مگر یاد رہے وہ مسلمان دوستی کے قابل ہے جو خود اپنا دوست بھی ہو ، ایسے مومن جو نماز ادا کرتے ہیں زکوۃ دیتے ہیں یعنی ارکان دین پہ عمل کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اللہ کے سامنے عجز اختیار کرتے ہیں مسلمانوں کے ساتھ نرم خو ہیں یہ لوگ دوستی کے قابل ہیں۔ یاد رکھو ! جس کسی نے اللہ سے دوستی کی اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ سے دوستی نباہی اور جو جماعت یا جو افراد ایمان پر قائم رہے کہ خلوص دل سے اعمال بجا لانے میں پوری کوشش کرتے رہیں تو یہ یقین کرلو کہ یہ اللہ کی جماعت یا جو افراد ایمان پر قائم رہے کہ خلوص دل سے اعمال بجا لانے میں پوری کوشش کرتے رہیں تو یہ یقین کرلو کہ یہ اللہ کی جماعت ہے اور ہر دور میں ہر ملک میں دنیا کے ہر گوشے میں جہاں بھی ان اوصاف کے مالک لوگ ہوں گے وہ ہمیشہ جیت میں رہیں گے اور غالب رہیں گے چناچہ تب سے اب تک تاریخ اسلام شاہد ہے کہ باعمل مسلمان جب بھی آئے اللہ نے ان کی مدد کی اور اگر کہیں ذلت و رسوائی ہے تو اس میں مسلمانوں کی بےراہ روی سب سے بڑا محرک ہے۔
Ayahs 5:57–66

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جو تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور کھیل سمجھتے ہیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور کافروں میں سے اور اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو اس کا مذاق اور تماشا بناتے ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے اے اہل کتاب ! تم ہم میں کون سی برائی دیکھتے ہو بس یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ ایمان لائے اور جو ہم پر نازل ہوا (اس پر) اور جو ہم سے پہلے نازل ہوا (اس پر) اور یہ کہ تم میں اکثر لوگ بدکردار ہیں

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ (اہل کتاب ! ) کیا میں تم کو بتادوں (کہ) اللہ کے ہاں اس سے بھی بدتر سزا پانے والے (کون ہیں) ؟ وہ کہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غض کیا اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنادیا اور انہوں نے شیطان کی بندگی کی ، ایسے لوگوں کا برا ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھی راہ سے بہت بھٹکے ہوئے ہیں

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ کفر لے کر آئے تھے اور وہ اسی کو لے کر چلے گئے اور جو بات یہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتے ہیں

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور آپ ان میں سے اکثر کو دیکھتے ہیں کہ گناہ کے کام میں جلدی کرتے ہیں اور حد سے گزرنے میں اور حرام کھانے میں۔ البتہ یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

بھلا ان کے اہل اللہ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے ؟ البتہ وہ بھی برا کرتے ہیں

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود نے کہا اللہ کے ہاتھ بند ہیں ، انہی کے ہاتھ بند ہیں اور یہ بات کہنے سے ان پر لعنت کی گئی بلکہ اس (اللہ) کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں وہ (اللہ) جس طرح چاہیں خرچ کرتے ہیں۔ اور جو (مضمون) آپ کی طرف آپ کے پروردگار نے بھیجا ہے ان میں سے اکثر کے لئے سرکشی اور کفر میں زیادتی کا سبب بن جاتا ہے اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لئے دشمنی اور بغض ڈال دیا جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اس کو اللہ بجھا دیتے ہیں اور وہ (لوگ) ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں معاف فرما دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ تورات اور انجیل اور جو (کتابیں) ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا اس کو قائم رکھتے تو اپنے اوپر سے بھی اور پاؤں کے نیچے سے بھی خوب کھاتے ، ان میں کچھ لوگ تو میانہ رو ہیں اور ان میں بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66: اسرار و معارف : خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔ آپ ان سے پوچھئے تو سہی آخر ہم سے کیوں خفا ہیں ؟ صرف اس بات پر کہ باوجود اس کے کہ ہم پہلی کتابوں پر بھی یقین و ایمان رکھتے ہیں ساتھ میں اس کتاب کو بھی مان لیا ہے جو ہم پر نازل ہوئی ہے بس آپ کی نگاہوں میں یہ جرم ٹھہرا بھی اگر اگلی کتابیں اللہ کی طرف سے نازل کی گئی تھیں اور ان پر ایمان لائے بغیر چارہ نہ تھا تو یہ کتاب جو ہم پر نازل ہورہی ہے اس کو چھوڑ دینے سے گزارہ کیسے ہوگا ۔ اور ہم پر یہ یہ فرد جرم لگا کر آپ خوش ہوگئے۔ چلئے ! آپ ہی بتائیں جن کتابوں کو آپ اللہ کی طرف سے مانتے ہیں ان پر کتنا عمل کرچکے ہیں ذرا اپنی قومی تاریخ دیکھیں اور اپنے ماضی پہ نظر کریں آپ کے اکثر فسق و فجور اور اللہ کی نافرمانیوں کی لمبی فہرست کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ آپ ان سے فرمائیے کہ میں نشاندہی کروں بدکار کیسے لوگوں اور کیسی قوموں کو کہاجاتا ہے جن پر اللہ کی لعنت ہو اور رحمت سے مھروم ہوں یعنی توفیق اطاعت سلب ہوجائے اور جن لوگوں پر اللہ کا غضب ہو جن میں سے بعض کی ظاہری صورتیں تک مسخ کرکے بندر اور خنزیر بنا دئیے گئے اور بعض کی ظاہری صورتیں تک مسخ کرکے بندر اور خنزیر بنا دئیے گئے اور بعض کی روحانی اشکال مسخ ہوئیں اور وہ شیطان کی پجاری بن گئے اصلی بدبخت لوگ اور اقوام تو وہ تھیں جو تمہارے ہی اجداد تھے جن سے تم نے بھی رسومات حاصل کرلی ہیں اور ان پر فخر کرتے ہو اور اللہ کے نازل کردہ کلام سے مذاق کرتے ہو حالانکہ یہ لوگ درجہ کے اعتبار سے بہت ہی گرے اور نہایت ہی گمراہ قسم کے انسان تھے اور اب بھی یہ آپ کے پاس اظہار ایمان کے لیے آتے ہیں حالانکہ ان کے دلوں میں کفر ہوتا ہے اور وہی کفر ساتھ لے کے چلے جاتے ہیں اللہ کریم ان باتوں کو خوب جانتے ہیں جن کو یہ چھپانا چاہتے ہیں یعنی منافقین کے بارے نبی اکرم ﷺ کو اکثر اور عموماً اطلاع فرما دی جاتی تھی بلکہ ایسے مواقع پر جب آیات نازل ہوتیں تو اکثر مسلمان مطلب اخذ کرلیتے تھے کہ کون لوگ آئے تھے اور یہ حکم کن لوگوں کے لیے ہے دوسری بات جو سامنے آئی وہ یہ ہے کہ جب تک دل میں خلوص نہ ہو نبی ﷺ سے فائدہ نہیں ہوتا کہ یہ لوگ دل میں کفر لے کر آتے اور کفر ہی لے کر چلے جاتے حالانکہ دوسرے خوش نصیب اسی بارگاہ سے کفر کا دامن دھو کر نور ایمان سے جھولیاں بھر کرلے جا تے تھے ان کے آنے میں خلوص بھی نہ ہوا تو پھر فائدے کی امید نہیں ہوسکتی ۔ اور اے مخاطب ! مسلسل گناہ انسان کی عادت ثانیہ بن جاتا ہے ان میں سے اکثر کو فناء فی الجرمپائیں گے یعنی جرائم ان کے مزاجوں میں رچ بس چکے ہیں گناہ ، ظلم و زیادتی اور حرام کھانے پہ یوں ٹوٹتے ہیں جیسے شمع پہ پروانہ گرتا ہے اور یہ بہت ہی ناروا کام ہے جو انہوں نے اختیار کیا ہے اگر بدکاروں کی مجلس اور مسلسل گناہ انسان کے مزاج کو اپنے رنگ میں ڈھال لیتا ہے۔ تو نیک لوگوں کی مجلس اور مسلسل اللہ کا ذکر اور شیخ کی توجہ کیا یہ مزاج انسانی میں تبدیلی نہیں کرسکتے ؟ بلکہ وہاں دو عوامل ہیں صحبت بدکار اور عمل بد ، یہاں تین ہیں نیکوں کی مجلس ، نیک کام اور شیخ کی توجہ اور یہ تیسرا عمل سب سے زیادہ طاقتور ہے اسی لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ان کے مشائخ اور علماء ربانی انہیں کیوں نہیں روکتے حالانکہ انہیں روکنا چاہئے یا علماء کیوں منع نہیں کرتے یہ مشائخ اور علماء معاشرے میں دو بہت بڑے کردار ہیں۔ اگر یہ خلوص سے معاشرے کی درستی چاہیں تو حکمرانوں سے زیادہ قوت ان کے پاس ہوتی ہے ہر پیر کے مرید اس کی بات کو حرف آخر اور ہر مولوی کے مقتدی اسی کی بات کو سند مانتے ہیں یہ بارہا تجربہ کیا ہے کہ لاکھ حوالے دو تفسیر اور حدیث سے حوالے دو اگر ان کے محلے کا مولوی نہ مانے تو بات نہیں بنے گی یا پیر صاحب نہ مانیں پھر تو آپ کے پاس کوئی بھی علاج نہیں تو یہ علماء اور مشائخ انہیں حرام کھانے سے اور گناہ کی زندگی سے کیوں نہیں روکتے یعنی معاشرے کی اصلاح کی ذمہ داری ان پر ہے اور اگر صرف نذرانے وصول ہوتے رہے اور کیا کچھ نہیں یا اس ڈر سے لوگوں کی اصلاح نہ کی کہ پھر اپنی آمدن بھی نہ رہے تو عنداللہ جواب دینے کے لیے ان کے پاس بھی کوئی معقول بات نہ ہوگی یہ اگر دنیا کمانے کے لالچ میں لوگوں کا دین تباہ کر رہے ہیں تو بہت ہی برا کر رہے ہیں۔ اور یہود تو کہتے ہیں کہ اللہ کے خزانے ختم ہو رہے ہیں۔ یہ بھی ان نے نظام زکوۃ کا اور صدقات نافلہ کا مذاق اڑایا کہ اب لوگوں کو دینے کے لئے کہا جاتا ہے جب اللہ کا رسول ہے تو اللہ سے لے کر دے کیا اللہ خزانے ختم ہوگئے یا اللہ کے ہاتھ باندھ دئیے گئے ہیں فرمایا ہاتھ بھی انہی کے بندھیں گے چناچہ رسوا ہو کر ملک بدر کئے گئے کچھ قتل ہو کر تباہ ہوئے اور یہ گستاخانہ کلمہ جو انہوں نے کہا ہے اس کے لیے ان پر لعنت کی گئی یعنی رحمت سے محروم ہوگئے روحانی برکات سے بھی کہ اسلام قبول کرنا نصیب نہ ہوا اور دنیاوی برکات سے بھی کہ گھر برباد ہوئے اور قتل ہو کر تباہ ہوئے یا دیس بدر کئے گئے فرمایا اب انہیں اندازہ ہوگا کہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں کہ بدکار اپنی روش میں اور اپنے زور میں بھاگتا چلا جاتا ہے مگر جب اللہ کی گرفت میں آتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر بھول رہا تھا پھر بھی کوئی خوش قسمت ہو تو توبہ نصیب ہوجائے ورنہ عذاب میں گرفتار ہو کر ہی تباہ ہوجاتے ہیں یہی حال ان کا ہے دیکھ چکے ہیں کہ سارے عرب کا کفر مل کر کچھ نہیں بگاڑ سکا پھر دن بدن مسلمان دنیا میں بھی اور روحانی کمالات میں بھی ترقی کی راہ پر ہیں اس کے باوجود انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا بلکہ شرارت بغاوت کفر میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ لیکن اللہ نے بطور سزا یہود اور نصاری کے اندر بھی لڑائی ڈال دی ہے اور ان کی یہ دشمنی بھی قیامت تک چلے گی جب تک عالم قائم ہے ایک دوسرے سے نفرت اور بغاوت کرتے ہی رہیں گے کہ یہ مل کر مسلمانوں کے خلاف محاذ قائم نہ کرسکیں یہ سازشیں کرکے لڑائی کی آگ سلگاتے ہیں اللہ کریم اسے بجھا دیتے ہیں۔ یعنی ان میں یہ جرات نہیں کہ خود میدان میں اتریں آپس میں اتحاد نہیں کرسکتے پھر سازش کرتے ہیں تو اللہ بےنقاب فرمادیتے ہیں اور یہ جو جنگ بھڑکانا چاہتے تھے۔ اس میں ناکام ہوجاتے ہیں اس لئے کہ یہ ہمیشہ فساد کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور اللہ کو فساد کرنے والے لوگ اچھے نہیں لگتے اگر یہ اہل کتاب بھی جب تک ان کی کتاب ہی دین حق تھی۔ اسی کے مطابق عقیدہ درست کرتے اور اللہ کا خوف کرکے اس سے حیاء کرکے اس کی اطاعت اختیار کرتے تو ہم ان کی خطاؤں سے درگذر فرماتے اور انہیں جنت میں اور اس کی نعمتوں میں داخل کرتے ہم انہیں بندر اور سور بنا کر ہلاک نہ کرتے اگر یہ تورات کے احکام قائم رکھتے پھر جب انجیل نازل ہوئی تو اس پہ ایمان لاتے اللہ کے نبی کی اطاعت کرتے اور جب اللہ کی طرف سے قرآن نازل ہوا تو پھر تورات و انجیل میں بھی تو اس کی خبر موجود تھی ان پر بھی عمل کرتے تو اس پر ایمان لاتے آپ پر ایمان لاتے اس کے احکام کو قبول کرتے تو ہم ان پر دنیا کی نعمتیں بھی عام کردیتے کہ آسمان سے پانی برستا اور زمین سے خزانے پیدا کرتے یعنی نیکی اور عمل صالح اکثر دنیا میں بھی آرام اور سہولت کا سبب ہی بنتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش آجائے یا انسان خطاکار ہے غلطیاں بھی تو کرتا ہے بیشک ان میں کچھ لوگ نیک بھی ہیں مگر اکثریت بدکاروں کی ہے۔ جو چند نیک ہستیاں موجود تھیں انہیں اسلام اور آپ ﷺ کی صحابیت نصیب ہوگئی اور بدکار ابھی تک نسل در نسل تباہی کا شکار ہیں۔