40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 40:69–78

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا آپ ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو اللہ کی آیات میں جھگڑا کرتے ہیں یہ کہاں بھٹک رہے ہیں

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جن لوگوں نے کتاب (قرآن) کو جھٹلایا اور اس چیز کو بھی جو ہم نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا تھا۔ سو ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیروں میں گھسیٹے جائیں گے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھولتے ہوئے پانی میں ، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا وہ کہاں ہیں جن کو تم (اللہ کا) شریک ٹھہراتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

اللہ کے سوا۔ کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے اللہ اسی طرح کافروں کو غلطی میں ڈالے رکھتے ہیں

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم دنیا میں ناحق خوشیاں مناتے تھے اور جو تم اترایا کرتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اسی میں رہو گے پس تکبر کرنے والوں کا کیا برا ٹھکانہ ہے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

تو آپ صبر کریں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر اگر ہم آپ کو کچھ اس (عذاب) میں سے دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں یا آپ کی مدت حیات پوری کردیں سو ان کو ہمارے پاس ہی آنا ہوگا

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر بھیجے ان میں سے کچھ کے حالات تو آپ سے بیان کردیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جن کے حالات آپ سے بیان نہیں فرمائے اور کوئی پیغمبر اللہ کی اجازت کے بغیر معجزہ پیش نہیں کرسکتا تھا۔ پھر جب اللہ کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل وہاں خسارہ میں رہ گئے

رکوع نمبر 8: آیات 69 ۔ تا۔ 78: اسرار و معارف ؛ ذرا ان لوگوں کو دیکھ جو ایسے عظیم پروردگار کے احکام کا انکار کرتے ہیں بلکہ اپنی خرافات کو درست منوانے پہ زور لگا رہے ہیں یہ کس قدر گمراہ ہیں اور بھٹک رہے ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کا انکار کرتے ہیں جس میں جو کچھ ارشاد ہے سراسر حق ہے اور یونہی پھینک نہیں دی اللہ نے اپنا رسول مبعوث فرمایا کتاب کے ساتھ کہ اس کی شرافت نیکی اور ورع تقوی مثالی ہے مگر انہیں کچھ اثر نہیں تو اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گا جب ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ کے کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور پھر دوزخ کے بھڑکتے شعلوں میں پھینک دیا جائے گا تب ان سے سوال ہوگا کہ عظمت الہی کا انکار کرنے والو وہ تمہارے معبودان باطلہ کہاں ہیں جن کو تم عمر بھر پوجا کیے وہ شیاطین ہوں جن ہوں یا اسباب تو کہیں گے سب کچھ کھو گیا جیسے ہم نے تو کسی کی عبادت کی ہی نہیں یعنی جن کو ہم اپنا آسرا سمجھے وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتے یہی کفر کی مصیبت ہے کہ اللہ ناراض ہو کر اسے ایسی بےکار محض شے میں پھنسا دیتا ہے اور یہ سزا تمہیں اس لیے ملی دنیا میں گمراہ ہونے اور آخرت میں دوزخ کی کہ تم دنیا میں ناحق اکڑتے تھے اور تمہیں اپنی انا پہ بہت فخر تھا اللہ کی بات ماننا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ سو اب دوزخ کا دروازہ کھلا جاؤ داخل ہوجاؤ کہ تکبر کرنے والوں کا کس قدر برا ٹھکانہ ہے۔ اور آپ ﷺ یا اے بندہ مومن تو صبر اختیار کر ان کی ایذ پر بھی اور بندہ مومن کے لیے خاص طور پر عقیدہ پہ استقامت بھی بہت بڑا صبر ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور کافر سے جن عذابوں کا وعدہ ہے وہ تیرے سامنے ان پر وارد ہوں یا تیرا وقت پورا ہوجائے اور بعد میں کفر کی شوکت ٹوٹے یہ تو نظام دنیا ہے مگ رآخرت میں تو ہر حال سب نے ایک ہی وقت ہماری بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ اور آپ (ﷺ) سے پہلے بھی بہت رسول مبعوث ہوئے بعض کی باتیں ہم نے تفصیل سے بتا دیں اور بعض کا تذکرہ نہیں کیا گیا مگر یہ بات طے ہے کہ اللہ کے رسول ہر کام اللہ کی پسند سے کرتے تھے اور معجزات بھی اس کی اجازت سے ظاہر ہوتے تھے شعبدہ بازوں کی طرح انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بازی گری نہیں کرتے کہ جب کسی نے جیسا کہا ویسے کرنے بیٹھ گئے اور جب فیصلہ کی گھڑی آئے گی تو پورا پورا انصاف ہوگا اور سب جھگڑے چکا دئیے جائیں گے تب باطل پرستوں کو سمجھ آئے گی کہ وہ کس قدر نقصان میں رہے۔
Ayahs 40:79–85

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے چارپائے بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سواری کرو اور بعض کو تم کھاتے ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور ان میں تمہارے لئے (اور بھی) فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ تمہارے دلوں میں کوئی حاجت (کہیں جانے کی) ہو تو ان پر سوار ہو کر پہنچ جاؤ۔ اور ان پر اور بحری سواریوں پر تم سوار ہوتے ہو

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتے رہتے ہیں تو تم اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین میں پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیسا انجام ہوا۔ وہ لوگ ان سے زیادہ تھے اور قوت میں (بھی ان سے) زیادہ بڑھ کر تھے اور زمین میں نشانات لگانے میں (بھی ان سے بڑھے ہوئے تھے) ۔ تو جو کچھ وہ کرتے تھے ان کے کسی کام نہ آیا

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

پس جب ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلی دلیلیں لے کر آئے تو وہ اپنے (دنیا کے) علم پر ناز کرتے رہے جو ان کے پاس تھا اور جس چیز کا مذاق اڑایا کرتے تھے اس چیز نے ان کو آگھیرا

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پس جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک کرتے تھے اس کا انکار کرتے ہیں

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

سو ان کو ان کے اس ایمان نے کوئی فائدہ نہ دیا جب کہ انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ اللہ کا یہی طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے اور اس وقت کافر خاسرہ میں رہ گئے

رکوع نمبر 9: آیات 79 تا 85: اسرار و معارف : اللہ وہ ذات کریم ہے جس نے تمہاری خدمت کے لیے کتنی اقسام کے جانور پیدا کردئیے اور تمہیں ان پر یہاں تک اختیار بخشا کہ کسی پر سواری کرتے ہو تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہو کبھی ان کی تجارت کرکے اپنے لیے دولت کماتے ہو غرض جو جی میں آئے اپنی سب ضرورتیں پوری کرتے ہو اور تم زمین پر پانی میں ہر جگہ مختلف سواریاں استعمال کرتے ہو یہ سب تو اس کی عظمت کے گواہ ہیں تم بھلا کون کون سی دلیل کا انکار کروگے۔ کیا روئے زمین پر پھر کر نہیں دیکھا کہ پہلی اقوام کا کیا انجام ہوا ان کے چھوڑے ہوئے آثار اور کھنڈرات بتاتے ہیں کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور مالدار تھے مگر کفر کے باعث جو تباہی آئی اسے ان کی دولت و حشمت ذرہ برابر نہ روک سکی ان کا حال بھی یہی تھا کہ ان کے پاس اللہ کے رسول مبعوث ہوئے تو ان کی پرواہ نہ کی بلکہ اپنے علوم پر اپنے باطل فلسفے پر یا حصول معاش کے ذرائع جن میں وہ کھو گئے تھے ان پر سائنس کی تحقیقات پر ہی ناز کرتے رہے حالانکہ حق یہ تھا کہ یہ علوم عطا کرنے والا بھی تو اللہ ہی تھا مگر وہ اسے اپنا ذاتی کمال جانتے اور تعلیمات باری کا مذاق اڑاتے تھے چناچہ یہی بات ان کے گلے پڑگئی اور تباہ ہوگئے حالانکہ جب عذاب وارد ہوگیا پھر تو کہتے تھے کہ ہم اللہ واحد پہ ایمان لاتے ہیں اور اس کے ساتھ جن جن کو شریک مانتے تھے سب کا انکار کرتے ہیں مگر جب عذاب وارد ہوگیا تب ان کے ماننے نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ان کا یہ ماننا ان کے لیے کوئی فائدہ مرتب نہ کرسکا کہ اپنے بندوں میں اللہ کا قاعدہ یہی ہے جو انبیاء کے بتانے اور دلائل سے اس کی عظمت کا اقرار نہ کرے پھر دیکھ کر بھلا کون انکار کرسکتا ہے لہذا پھر ایمان قبول نہیں کیا جاتا اور یہاں پہنچ کر کفار کو کفر کے خسارے اور نقصان کا پتہ چلتا ہے۔ سب بات واضح ہوجاتی ہے۔ تمت سورة المومن بحمد اللہ ۔