40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 40:38–50

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور اس ایمان دار شخص نے کہا اے میری قوم ! میری راہ پر چلو میں تم کو ٹھیک ٹھیک راہ بتاتا ہوں

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میری قوم ! یقینا دنیا کی یہ زندگی چند روز فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور بلاشبہ آخرت ہی ہمیشہ کا گھر ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو برے کام کرے گا تو اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے گا اور جو نیک کام کرے وہ مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان رکھتا ہو ، سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے وہاں ان کو بےحساب رزق ملے گا

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! مجھے کیا ہے میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے (دوزخ کی) آگ کی طرف بلاتے ہو

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس بات کی طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ ایسی چیز کو شریک بناؤں جس کے بارے میں میرے پاس کوئی علم نہیں اور میں تمہیں (اللہ) زبردست (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

اس میں کوئی شک نہیں کہ تم مجھے اس چیز کی طرف بلاتے رہو جو نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں (مدد کے لئے) پکارے جانے کے لائق ہے اور یہ کہ ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور یہ کہ حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

سو آگے چل کر تم میری بات کو یاد کرو گے۔ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں بیشک اللہ بندوں کو دیکھنے والے ہیں

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پھر اللہ نے اس (مومن) کو ان کی بری تدبیروں سے بچا لیا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

آگ ، کہ (برزخ میں) صبح اور شام اس کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس روز قیامت قائم ہوگی (ارشاد ہوگا کہ) فرعون والوں کو (مزید) سخت عذاب میں داخل کرو

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے ، بیشک ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی جڑ ہٹا سکتے ہو ؟

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

وہ بڑے لوگ کہیں گے ہم سب ہی اس (دوزخ) میں ہیں یقینا اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ فرما چکے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ آگ میں ہوں گے جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردیں

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیا تمہارے پیغمبر تمہارے پاس نشانیاں لے کر نہیں آتے رہے تھے ؟ (دوزخی) کہیں گے ہاں ، تو (فرشتے) کہیں گے پھر تم (خود ہی) دعا کرو اور کافروں کی دعا بےکار ہوگی

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 50: اسرار معارف : اس بندہ مومن نے بہت کوشش کی اور بتایا کہ لوگوں میری بات مان لو میں تمہیں نیکی اور ہدایت کی طرف دعوت دے رہا ہوں کہ یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے یہاں کی دولت و عیش فانی اس پر فدا ہو کر آخرت کو مت بھولو کہ آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے اور جو کوئی بھی گناہ کرے گا اس کو اسی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا لیکن جس کسی نے ایمان قبول کرلیا مرد ہو یا خاتون اور پھر ایمان کے مطابق اپنا کردار بھی ڈھال لیا اور اعمال درست کرلیے تو ایسے لوگ جنت میں پہنچیں گے جہاں انہیں بیحد و حساب آرام اور عیش نصیب ہوگا ارے بوقوفو تم مجھے اپنے عقیدے کی طرف بلاتے ہو حیرت ہے میں تمہیں اللہ کی رض اور جنت کی طرف بلا رہا ہوں اور تم خود کیا آتے مجھے بھی اپنے ساتھ دوزخ لے جانا چاہتے ہو کہ میں اللہ سے کفر اختیار کرلوں اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک مان لوں جو اتنی بودی بات ہے کہ میں نہیاں جانتا کہ اس کے بارے کوئی بھی دلیل مل سکتی ہو اور مجھے دیکھو کہ میں تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں جس کی قدرت واضح ہے اور جو بخشنے والا ہے کہ ہزار کفر کے باوجود اگر توبہ کرلو تو تمہیں معاف فرما دے گا اور یہ تو ظاہر ہے کہ تمہاری بات بلا دلیل ہے کہ کفر پر تو دنیا و آخرت میں کوئی دلیل نہیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ہم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور یہ بھی دلائل سے ثابت ہے کہ حد سے گزرنے والے یعنی کفار کا ٹھکانہ دوزخ میں ہوگا۔ تب میری باتیں تمہیں یاد آئیں گی اس پر وہ لوگ ان پر بگڑے تو انہوں نے کہا میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں جو اپنے بندوں کو ہر حال میں دیکھتا ہے چناچہ اللہ نے اسے ان کے مکر محفوظ رکھا اور وہ اس کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے ہاں کود فرعون کی قوم بدترین عذاب کا شکار ہوگئی دنیا میں تو تباہ ہو ہی گئے برزخ میں بھی چین نہ پاسکے اور صبح و شام انہیں دوزخ کی آگ دکھائی جاتی ہے یہ آیت مبارک بھی عذاب قبر پر دلیل ہے مرنے والے فنا نہیں ہوجاتے بلکہ حدیث شریف کے مطابق قبر یا دوزخ کا گڑھا ہوتی ہے اور یا جنت کا باغ اور یہ قیامت قائم ہونے تک اس حال میں رہیں گے جب قیامت قائم ہوگی تو انہیں اس سے شدید عذاب یعنی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اور دوزخ کے اندر جھگڑ رہے ہوں گے کہ کمزور لوگ اقتدار والوں سے کہیں گے ہم تو تمہارے پیروکار تھے کیا اس غلامی کے صلے میں ہماری کچھ مدد کرسکوگے سب نہ سہی تو آگ کسی قدر کم ہی کردو۔ وہ متکبرین جواب دیں گے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ عذاب بھگت رہے ہیں بھلا ہم کیا کرسکتے ہیں اور اب تو اللہ نے بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا ہے پھر جہنم کے فرشتوں سے درخواست کریں گے کہ ہم تو اس قابل نہیں کہ ہماری بات سنی جائے آپ ہمارے حق میں دعا کیجیے کہ کاش ہم سے جہنم کا ایک دن کا عذاب ہی اٹھا لیا جائے تو وہ سوال کریں گے کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول دلائل لے کر مبعوث نہ ہوئے تھے تو کہیں گے یقیناً ہوئے تھے تو پھر تم خود اپنے لیے دعا کرو کہ ہم تو کافر کے لیے دعا نہیں کرسکتے مگر وہ خود بھی کیا کریں گے کہ آخرت میں تو کافر کی دعا کوئی اثر نہ رکھتی ہوگی کہ دعا کا موقع تو دنیا میں تھا جو کھوچکے اب تو محض ٹامک ٹوئیاں مارنے والی بات ہوگی۔
Ayahs 40:51–60

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

یقینا ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان لانے والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد فرماتے ہیں اور جس دن گواہ کھیڑ ہوں گے (تب بھی)

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن ظالموں کو ان کی معذرت سے کوئی فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت (تورات) عطا فرمائی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

عقل مندوں کے لئے راہنمائی اور نصیحت

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

پس صبر کریں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنی خطاؤں کی معافی مانگیں اور صبح وشام اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

بیشک جو لوگ بغیر کسی دلیل کے اللہ کی آیات میں جھگڑا کرتے ہیں جو ان کے پاس آئی ہوں ، ان کے دلوں میں صرف بڑا بننے کی خواہش ہے وہ اس تک پہنچنے والے نہیں سو اللہ کی پناہ مانگتے رہیے۔ بیشک وہی (سب کچھ) سننے والے (سب کچھ) دیکھنے والے ہیں

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا (کام) ہے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور بدکار برابر نہیں۔ تم بہت کم غور کرتے ہو

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

بیشک قیامت آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں و لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے فرمادیا ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول فرماؤں گا۔ بیشک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب وہ ذلیل ہو کر دوزخ میں داخل ہوں گے

رکوع نمبر 6: آیات 51 تا 60: اسرار و معارف : اقوام سابقہ کے حالات بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والون کی دار دنیا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ آخری کامیابی بھی انہی کی ہوتی ہے اور عزت و آرام بھی انہی کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ بات آج کے حالات میں بھی بالکل واضح ہے اور آخرت میں جب اعمال کا حساب ہوگا اور سب پر گواہیاں پیش ہوں گی تو یہ کفار و مشرکین سب اکڑ بھول کر معذرت کرنے لگیں گے لیکن تب یہ سب منظور نہ ہوسکے گا اور ان پر لعنت و پھٹکار ہوگی نیز انہیں بہت برا ٹھکانہ نصیب ہوگا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کی راہ دکھائی انہیں بھی آسمانی کتاب ملی پھر بہت بڑی کافر طاقت نے سخت مخالفت کی مگر ان کا کچھ بگاڑ سکے نہ کتاب کا بلکہ کافر تباہ ہوگئے اور کتاب اور دین حق بنی اسرائیل میں نسلوں تک باقی رہا اہل دانش کے لیے اس میں بہت بڑی نصیحت ہے۔ یہاں ایک طرح سے مثال دے کر پیشگوئی فرمائی جا رہی ہے کہ فرعونیوں کی طرح یہ کفار بھی ناکام ہوں گے اور صحابہ کرام اور بعد کے مسلمانوں میں دین حق وراثت کے طور پر ضرور قائم رہے گا آپ صبر کیجیے ان کی وقتی اور لمحاتی کامیابی اور ایذا پر کہ اللہ کا وعدہ حق ہے غلبہ آپ کو اور آپ کے متبعین ہی کو نصیب ہوگا ہاں اللہ سے بخشش اور مغفرت طلب کرتے رہیے جس کا طریق یہ ہے کہ صبح شام یعنی ہر لمحہ ہر آن اللہ کا ذکر کیا کیجیے اس کی تسبیح اور حمد کرتے رہا کیجیے۔ صبح و شام سے مراد مفسرین کرام کے مطابق ذکر دوام ہے کہ یہی وہ کیفیت پیدا کرتا جسے حضوری یا معیت کہا جائے اور معیت باری ہی سب مشکلات کا حل اور سارے سوالوں کا جواب ہے۔ جو لوگ اللہ کی بات یا ارشاد سن کر اس کی مخالفت کرتے ہیں ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں اور نہ ہوسکتی ہے در حقیقت ان کے دلوں میں غرور وتکبر اور اپنی بڑائی کا وہم گھر گیا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر نبی کا ارشاد مان لیا تو ہماری حیثیت اور بڑائی ختم ہوجائے گی لہذا انکار کر کے اپنی ذاتی ریاست اور من مانی قائم رکھنا چاہتے ہیں مگر وہ ایسا بھی نہ کرسکیں گے انہیں اپنا زور لگانے دیجیے مگر آپ اللہ سے پناہ طلب کیجیے کہ وہی سب کچھ سنتا ہے اور سب دیکھتا ہے لہذا کفار کے پراپیگنڈہ اور ان کی چالوں کے جواب میں مومن کے پاس بہت بڑا ہتھیار ہے کہ خود کو اللہ کی پناہ میں رکھے زبانی بھی اللہ سے پناہ طلب کرے اور عملاً بھی اللہ کی اطاعت اور اتباع سنت خیر الانام اختیار کرے ان کفار کو یہ تک سجھائی نہیں دیتا کہ جس خالق کائنات نے آسمانوں کو زمین اور اس کی مخلوق اور سارے نظام کو پیدا فرمایا اسے کیا مشکل ہے کہ انسانوں کو پھر سے زندہ کردے مگر یہ علم سے بےبہرہ ہیں اور حقائق کو جاننے سے محروم کہ ان میں نور ایمان نہیں ہے لہذا ایسے اندھے کبھی اس کے برابر ہوسکتے ہیں جس کو اللہ نے نظر عطا کی ہو اور جسے نور ایمان نہیں ہے لہذا ایسے اندھے کبھی اس کے برابر ہوسکتے ہیں جس کو اللہ نے نظر عطا کی ہو اور جسے نور ایمان عطا ہوا ہو اور اللہ کی اطاعت کی توفیق ارزاں ہو بھلا یہ بدکار اس کے مقابل آسکتے ہیں ہرگز نہیں مگر یہ ایسی باتوں کو سمجھ ہی نہیں پاتے ان کی سوچ ہی بہت کمزور ہے۔ قیامت کا آنا یقینی ہے اس میں رائی برابر شک نہیں کہ ان کے نہ ماننے سے اس پر کوئی اثر پڑے یہ نہ ہوگا بلکہ اکثر لوگ انکار کرکے خود ایمان سے محروم ہیں حالانکہ تمہارے پروردگار کا تو اعلان ہے مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا لہذا وہ قبول فرماتا ہے کہ دعا خالص اللہ سے کی جائے آپ ﷺ کی سنت کے مطابق کی جائے تو یقینا قبول ہوتی ہے۔ محققین کے مطابق مومن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ اول تو جیسے مانگتا ہے مل جاتا ہے کبھی وقت میں تاخیر ہوجاتی ہے یا پھر وہ شئے اس کے حق میں بہتر نہ ہو تو اللہ بہتر شئے سے تبدیل کردیتے ہیں یا پھر اس کے ذخیرہ آخرت میں رکھ دی جاتی ہے کہ روز حشر اجر پا لے گا نیز دعا میں یہ کیا کم ہے کہ بندہ اللہ سے ہمکلام تو ہوتا ہے اور جو لوگ میری اطاعت سے اپنے تکبر کی وجہ سے دور رہے ایسے لوگ ذلیل ہو کر دوزخ میں داخل ہوں گے۔
Ayahs 40:61–68

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن روشن بنایا (کہ کام کرو) بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے و لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے ہر چیز کا پیدا کرنے والا ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ لوگ بھی بھٹک رہے تھے جو اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا کرتے تھے

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرارگاہ بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں ، سو خوب صہرتیں بنائیں تمہاری۔ اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے۔ سو بہت برکت والا ہے اللہ جو سب جہانوں کا پروردگار ہے

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ زندہ رہنے والا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں سو تم سب خالص اعتقاد کے ساتھ اسی کو پکارا کرو۔ تمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ بیشک مجھے روک دیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ، میں ان کی عبادت کروں جب کہ میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکیں اور مجھے یہ حکم ہوا کہ میں جہانوں کے پروردگار کا فرماں بردار ہوں

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا پھر نطفہ سے ، پھر گوشت کے لوتھڑے سے ، پھر تم کو بچہ بنا کر (ماں کے پیٹ سے) نکالتا ہے پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو پھر بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تو تم میں سے پہلے ہی مر جاتا ہے اور تاکہ تم (اپنے) وقت مقررہ کو پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سمجھو

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس سے فرمادیتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے

رکوع نمبر 7: آیات 61 تا 68: اسرار و معارف : عظمت الہی کو دیکھو وہ ذات کتنی عظیم بھی ہے اور کریم بھی کہ تم آرام کے مھتاج تھے اس نے رات پیدا کردی کہ وقتی طور پر نظام کار رک جاتا ہے اور ایک پرسکون ماحول آرام کے لیے پیدا ہوجاتا ہے بنی آدم آرام کرکے کھوئی ہوئی طاقت بحال کرلیتا ہے پھر ایک موزوں وقفے کے بعد دن کی روشنی میں سارے ہنگامے پلٹ آتے ہیں اور انسان تازہ دم ہو کر کاروبار حیات میں جت جاتا ہے وہ ذات بنی آدم پہ کس قدر مہربان ہے کہ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا اہتمام فرمایا لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ کیسا کریم ہے تمہار اپالنے ولا ا کہ ہر شئے کا خالق ہے اور سب صنعت کو ایسے سجایا ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرتی رہے بھلا اس کے سوا کون ہوسکتا ہے جس کی عبادت کی جائے کوئی بھی تو نہیں لیکن انسان کہا بھٹکتا پھرتا ہے اور بلا دلیل یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ اللہ کا ارشاد برحق ہے اپنی انا کو باقی رکھنے کے لیے انکار کردیتا ہے بھلا دیکھو تو اللہ کس قدر کریم ہے کہ اس نے روئے زمین کو تمہارے لیے جائے قرار اور ٹھکانہ بنا دیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ تمہارے لیے میدان ہی بنی ہوئی ہے اور جگہ قیام اور مکان زراعت باغبانی کارخانے سب کچھ ہورہا ہے اور بغیر دیواروں اور ستونوں کے آسمان کو تمہارے لیے عمارت اور چھت کی طرح بنا دیا ہے کہ گرتا بھی نہیں اور اس نظام کا ایک اہم حصہ بھی ہے پھر اپنی صورت ہی دیکھ لو کہ تمہیں کتنی مناسب اور حسین صورت عطا فرمائی اور تمہارے لیے سب سے اچھی چیز بطور غذا مقرر فرما دی کہ جانوروں کی طرح گھاس نہ چرتے پھرو ذرا ان سب باتوں میں غور کرو عظمت الہی کا کسی حد تک اندازہ لگا سکو گے کہ بہت ہی برکت والا ہے اللہ جل شانہ جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ وہی ایک ذات ہے جو ہمیشہ زندہ ہے جسے کبھی فنا نہیں لہذا اس کے علاوہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں سو اے مخاطب ہمیشہ اسی کی عبادت کرو اور پورے خلوص سے کرو اپنی امیدیں اسی سے وابستہ رکھو اور اسی سے مانگو کہ سب تعریفیں اسی کو سزوار ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے یعنی اس کے علاوہ کوئی بندگی کا مستحق کیسے ہوسکتا جب سب اس کی مخلوق اس کے رزق پہ پلنے والے یا اس کے رکھنے سے باقی اور سب فانی ہیں صرف وہ ایک ذات ہے جس کے لیے کبھی کسی کمزور ی کا کوئی گذر نہیں۔ اور کفار سے کہہ دے کہ بندہ مومن سے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ ان کی طرح بتوں سے امیدیں وابستہ کرلے گا یارب العالمین کے حکم کے خلاف اسباب پہ تکیہ کرنے لگے گا کہ آج کا دور ایک ایسی تاریکی میں ڈوب رہا ہے جہاں بتوں سے زیادہ بھروسہ اسباب پر کیا جا رہا ہے کفار بھی بڑی بڑی طاقتوں اور حکومتوں کے پجاری بن گئے ہیں اور مذاہب سے عمومی بیزاری کا عہد ہے مگر بندہ مومن اسباب بھی اطاعت الہی کی حدود کے اندر اختیار کرسکتا ہے ورنہ اللہ کی اطاعت رک کرنے کی بجائے اسباب کا ترک کرے گا اور کفار کی طرح اسباب ہی کی پوجا نہ کرے گا کہ اس کے پاس تو اس کے پروردگار کی طرف سے واضح اور روشن دلائل موجود ہیں اور اسے یہ حکم دیا گیا ہے کہ صرف اس ہستی ہی کی عبادت کرے جو تمام جہانوں کو پالنے والی اور سب کی خالق ومالک و رازق ذات ہے وہی جس نے اے بنی آدم تجھے خاک سے پیدا کردیا کس طرح اور کہاں کہاں سے خاکی ذرات کو مختلف حالتوں سے گذار کر نطفہ بنا دیا پھر وہ نطفہ رحم مادر میں پہنچا تو خون کی پھٹکی میں تبدیل ہوگیا اور گوشت ہڈیاں پھر پھر اعضاء مکمل ہو کر انسان کا بچہ بنا کر پیدا کردیا۔ سبحان اللہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر بھی یہ تفصیل ارشاد ہے جبکہ وہ عہد سائنس کا نہ تھا اور کوئی یہ سب کچھ جان نہ سکتا تھا۔ چودہ سو سال بعد سائنس نے اس کی تائید کی اور اس کی تحقیقات یہاں تک پہنچ سکیں۔ پھر وہ تمہاری تربیت کرتا ہے اور تم جوانی کے زور سے بھرپور ہوتے ہو۔ وہی طاقتور جوان پھر ایک کمزور بوڑھے کی صورت میں نظر آتا ہے کچھ تم میں سے اس سارے عمل کو پورا نہیں کرپاتے کہ ہر ایک کی موت کا وقت معین ہے لہذا ان کا وقت مقررہ اس عمر کو پہنچنے سے پہلے آجاتا ہے اور وہ مرجاتے ہیں۔ یہ سب دلائل ہیں اللہ کی عظمت کے اور اس کے احسانات ہیں تاکہ تم غور کرو اور سمجھ پاؤ۔ وہی ایک ذات ہے جو زندگی عطا کرتی ہے اور اسی کے حکم سے موت آتی ہے جب اسے کوئی کام کرنا منظور ہو تو حکم فرماتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے نہ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہ اجازت کا طالب نہ وہاں کوئی دیر لگتی ہے اور نہ تاخیر ہوتی ہے۔