27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 27:67–82

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور فکار لوگ کہتے ہیں جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کرکے قبروں سے) نکالے جائیں گے

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

اس کا تو ہم سے اور ہمارے بڑوں سے پہلے بھی وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ تو صرف پہلے لوگوں کی بےسند کہانیاں ہیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیا ہو ؟

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور ان کا غم نہ کیجئے اور ان کی چالوں سے تنگ دل مت ہوئیے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو یہ وعدہ (قیامت کا) کب پورا ہوگا ؟

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے قریب آپہنچا ہو

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور یقینا آپ کا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے و لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار سب جانتا ہے جو باتیں ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں کوئی ایسی پوشیدہ چیز (بھی) نہیں ہے جو واضح کتاب میں (لوح محفوظ میں لکھی ہوئی) نہ ہو

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں (کی حقیقت) کو ظاہر کرتا ہے کہ جن میں وہ اختلاف کرتے تھے

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور یقینا وہ ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ فرمائے گا اور وہ غالب (اور) جاننے والا ہے

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

پس اللہ پر بھروسہ کیجئے بیشک آپ واضح حق پر ہیں

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

بیشک آپ مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سناسکتے ہیں (خاص طور پر) جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (بچا کر) راستہ دکھا سکتے ہیں۔ آپ تو صرف انہیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہوں (اور) پھر وہ مانتے (بھی) ہیں

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان کے بارے (عذاب کا) وعدہ پورا ہوگاتو ہم ان کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے وہ ان سے باتیں کرے گا (اس لئے) کہ (کافر) لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ لاتے تھے

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں اگر آپ واقعی سچ کہ رہے ہیں وقت بتا دیجیے کہ قیامت کس روز واقع ہوگی یعنی اگر آپ وقت ہی نہیں بتا سکتے تو پھر یہ کیسے مان لیں کہ ضرور واقع ہوگی آپ فرما دیجیے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ قیامت کے کچھ آثار یعنی اللہ کے عذاب بالکل تمہاری پیٹھ پیچھے موجود ہوں یعنی آیا ہی چاہے ہوں لہذا تم عذاب کی طلب میں جلدی نہ دکھاؤ۔ یہ تو رب دوالجلال کا احسان ہے کہ مہلت عطا فرماتا ہے اس لیے کہ آپ کا پروردگار لوگوں پر بہت مہربان ہے یہ تو لوگ ہی ہیں کہ ان کی اکثریت اللہ کا شکر ادا نہیں کرتی۔ اور تیرا پروردگار تو ایسا ہے کہ جو کچھ لوگوں نے دلوں کی گہرائیوں میں چھپا رکھا ہے اسے بھی جانتا ہے ایسے ہی جیسے جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں جانتا ہے اور اس کا علم تو اس کی شن کے مطابق ہے زمینوں اور آسمانوں کے سب بھید اور غائب باتیں تو لوح محفوظ تک میں لکھی ہیں۔ بلکہ بہت سے غیب تو قرآن نے بیان کردیئے کہ بنی اسرائیل کے علماء میں جن واقعات پر اختلاف تھا اور کوئی فریق بھی یقینی بات نہ بتا سکتا تھا ان واقعات کو صحت کے ساتھ بیان کردیا اور یہ کتاب جس طرح گزشتہ واقعات کی حقیقت بیان کرتی ہے اسی طرح آئندہ کے لیے بھی درست رہنمائی کرتی ہے کہ یہ صرف کتاب نہیں بلکہ اللہ کی رحمت ہے انکے لیے جو بھی اس پر ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوں۔ اور وہ وقت آرہا ہے جو فی الحال لوگوں سے غائب اور الللہ کے علم میں ہے کہ اللہ لوگوں کے درمیان اپنے حکم کے مطابق فیصلہ کریں گے اور وہ غالب ہے کوئی اسے روک نہیں سکتا اور جانتا ہے کچھ بھی اس سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ اگر یہ آپ کی بات نہیں سنتے تو ان کی مثال مردوں کی ہے آپ مردوں کو کیا سنائیں گے یا اس بہرے کی ہے جو بہرا بھی ہو اور پیٹھ پھیر کر چل بھی دے یا ایسے انسان کی ہے جو اندھا ہو اور وہ سن کر کیسے راہ پاسکتا ہے ہاں آپ کی بات سن کر مستفید ہونا یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو ہماری آیات پر ایمان لائیں اور مسلمان ہوں ، فرمانبردار ہوجائیں۔ سماع موت : ان آیات کا تعلق مردوں کے سننے سے براہ راست نہیں اس لیے کہ یہاں کفار کو مردہ سے تشبیہ دی گئی اور یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ کفار آپ ﷺ کی بات نہیں سنتے تھے ہاں انہیں سن کر فائدہ نہیں ہوتا تھا جیسے مردہ نیک بات سن کر اس پر عمل نہیں کرسکتا وہی حال ان کا تھا گویا مراد ایسا سننا ہے جو مفید ہو یعنی " سماع نافع " پھر مقابل بھی زندہ نہیں لایا گیا بلکہ فرمایا آپ ان لوگوں کو سنوا سکتے ہیں جو ایمان لائے۔ یعنی آپ کے ارشادات سن کر فائدہ حاصل کرنا مومن کا کام ہے اس مسئلہ میں کہ مردے سنتے ہیں یا نہیں صحابہ کرام سے اختلا روایت کیا جاتا ہے س کو بہت آسان انداز میں مفتی محمد شفیع (رح) نے بھی حل فرما دیا ہے اور حق یہ ہے کہ یہ اختلاف مختلف مواقع اور افراد کے بارے ہے مطلق مردہ سنتا ہے یا نہیں کے بارے نہیں ہے کہ قرآن میں جس قدر آیات اس موضوع پر ہیں وہ صرف کفار کے حق میں ہیں اور اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ مردے سنتے نہیں ہیں اور مردوں کے سننے کے حق میں موجود ہے جیسے شہداء کے بارہ کہ وہ زندہ ہیں رزق دئے جاتے ہیں اور یہ بھی ہے ویستبشرون بالذی لم یلحقوبھم۔ کہ ان لوگوں کے احوال سے خوش ہوتے ہیں جو ان کے پسماندگان ابھی دنیا میں ہیں یعنی ان کی نیکی پر خوشی کرتے ہیں یعنی روح میں نہ صرف شعور و ادراک ہوتا ہے بلکہ پچھلوں کے حالات سے واقف بھی ہوسکتا ہے اگر یہ کہا جائے کہ یہ تو صرف شہداء کی بات ہے تو یہ ثابت ہوگیا کہ سارے مردے سننے سے محروم نہیں ہوتے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بھی ان صحیح احادیث پہ اعتبار کر کے سماع موتی کا جواز بتاتے ہیں جن میں ارشاد ہے کہ مسلمان بھائی کی قبر پر گزرو تو سلام کہو وہ سلام کا جواب بھی دیتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ نہ تو سارے مردے سنتے ہیں اور نہ ہر کوئی سنا سکتا ہے اللہ چاہے تو جسے سنوا دے اور جس کی بات سنوا دے اور یہی اصول زندوں میں بھی ہے کہ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ دابتہ الارض : جب قیامت کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو زمین سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا اور پھر انہیں پتہ چلے گا جو یقین نہیں کرتے تھے مگر تب وقت گزر چکا ہوگا حضور اکرم ﷺ نے قیامت کی نشانیوں میں سورج کا مغرب سے نکلنا اور اس جانور کا زمین سے نکلنا ارشاد فرمایا ہے مگر تب توبہ کا وقت گزر چکا ہوگا اور لوگ اس عجیب جانور کو جو زمین سے برآمد ہوگا اور لوگوں سے باتیں کرے گا اور بہت بڑا اور عجیب و غریب ہوگا دیکھ کر حیران ہوں گے اور اللہ کی قدرت کا اندازہ کرسکیں گے مگر ایمان لانے کا وقت گزر چکا ہوگا کہ اس کر فورا بعد قیامت قائم ہوجائے گی انسانی مزاج آج اسی سمت رواں ہے کہ کتاب اللہ اور انبیا کی حکمت آموز باتوں پہ اعتراض کرتے ہیں اور شعبدہ بازی پر یقین کرلیتے ہیں۔
Ayahs 27:83–93

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور جس روز ہم ہر امت میں سے اس گروہ کو جمع فرمائیں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کی گروہ بندی کی جائے گی

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو (اللہ) فرمائیں گے کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا تھا اور تم ان کو اپنے احاطہ علمی میں ہی نہیں لائے بھلا تم کیا کرتے تھے ؟

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم کے سبب ان کے حق میں (عذاب کا) وعدہ پورا ہو کر رہا۔ سو وہ لوگ بات بھی نہ کرسکیں گے

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا ہے تاکہ اس میں آرام کریں اور دن کی روشن (کہ اس میں کام کریں) بیشک اس میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں گھبرا جائیں گے مگر جس کو اللہ چاہے (وہ محفوظ رہے گا) اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو ان کا خیال کرتے ہو کہ (اپنی جگہ پر) جمے ہوئے ہیں اور (اس دن) وہ بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے (یہ) اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے۔ بیشک وہ تمہارے تمام کاموں سے باخبر ہیں

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ) ہے اور ایسے لوگ اس دن گھبراہٹ سے امن دیئے جائیں گے

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ تم کو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

(فرمادیجئے) بیشک مجھ کو یہی ارشاد ہوا ہے کہ اس شہر (مکہ مکرمہ) کے پروردگار کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم (مقام ادب) بنایا ہے۔ اور ہر چیز اسی کی ہے اور یہ بھی حکم ہوا کہ میں (اس کا) فرماں بردار رہوں

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ (بھی) کہ میں قرآن پڑھا کروں تو جو شخص راہ ہدایت اختیار کرتا ہے سو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے راہ ہدایت اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ رہتا ہے (وہ اپنا نقصان کرتا ہے) تو فرمادیجئے کہ بیشک میں تو صرف (انجام بد سے) ڈرانے والا ہوں

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور فرمادیجئے کہ سب خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں وہ عنقریب تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا پھر تم کو پہچان لو گے۔ اور آپ کا پروردگار ان کاموں سے بیخبر نہیں جو تم سب لوگ کر رہے ہو

آیات 83 تا 93 اسرار و معارف ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور پڑجاتا ہے آدمی نفع و نقصان اور خوشی ناخوشی سے یکسر بےگانہ ہو کر دنیا ومافیہا سے الگ ہوجاتا ہے اور وہی بندہ دن کو پھر تازہ دم ہو کر اٹھ بیٹھتا ہے اور کام کاج میں مصروف ہوجاتا ہے۔ اگر دل میں ایمان کی روشنی آجائے تو قیام قیامت پر یہی بہت بڑی دلیل ہے کہ جو اللہ پہلے پیدا کرتا ہے دوبارہ بھی کرسکتا ہے اور روزانہ نیند میں بدن و روح کے تعلق کو کمزور کردے اور موت واقع ہو کہ اسی کا نام تو موت ہے اور پھر لوٹا دے اور دوبارہ زندگی پلٹ آئے۔ جس روز حشر قائم ہوگا اور صور پھونکا جائے گا تو ارض و سما کی ساری مخلوق گھبرا اٹھے گی بیہوش ہو ہو کر گریگی اور ختم ہوجائے گی سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ اس سے بچانا چاہے ان پر گھبراہٹ نہ آئے گی اور خوفزدہ ہو کر دور بھاگا جاتا ہے مگر یہ لوگ اللہ کی بارگاہ کی طرف ھچے آنے پر مجبور ہوں گے بھاگنے کی جرات بھی نہ کرسکیں گے۔ اور بلندو بالاپہاڑ جو بظاہر لگتا ہے کبھی اپنی جگہ سے نہ ہلیں گے یہ غبار بن کر اڑیں گے اور گرد کے بادلوں میں بدل جائیں گے کہ یہ سب اللہ کی صنعت ہے اور اسی نے ہر شے کو مضبوطی اور درستگی عطا کی ہے جب وہ تباہ کرنا چاہے گا تو کچھ بھی نہ بچے گا اور لوگو اللہ تمہارے کردار سے خوب واقف ہے یہ بھی سن لو جو کوئی اس روز نیک اعمال کے ساتھ حاضر ہوا وہ اپنے اعمال سے کہیں بڑھ کر انعام پائے گا اور جو برائی لایا اسے اوندھے منہ جہنم میں پھینکا جائے گا یاد رکھو وہی بدلہ پاؤ گے جیسے اعمال کیا کرتے تھے۔ انہیں فرما دیجیے کہ مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ اس شہر کے پروردگار کی عبادت کروں وہ ذات جس نے اس شہر کو محترم بنایا ہے اور رہی مخلوق تو وہ خود سب کی سب اس کی ملکیت ہے بھلا مخلوق عبادت کے لائق کہاں ؟ اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ عقائد و اعمال میں اسی کا فرمانبردار رہوں نیز تم سب کو اللہ کا قرآن پڑھ کر سناؤں سو جو کوئی قبول کرے اور سیدھے راستے پر چلنے لگے تو اس میں خود اس کی بہتری ہے اور جو اس کے باوجود بھی گمراہی سے باز نہ آئے تو میرا کام اسے برائی کے انجام بد سے بروقت خبردار کرنا ہے اس سے زیادہ میری ذمہ داری نہیں کہ اسے پکڑ کر زبردستی درست راستے پر لاؤں۔ اور فرما دیجیے کہ تمام خوبیاں اور سارے کمالات اللہ کے لیے ہیں وہ قادر بھی ہے علیم بھی اور حکیم بھی بہت جلد تمہیں سب کچھ دکھا دے گا اور جب قیامت قام ہوگی تو تم بھی جان لوگے کہ ہاں واقعی وہ کام ہوگیا اور تمہارے کردار سے وہ ہر طرح باخبر ہے۔ الحمداللہ سورة نمل تمام ہوئی