27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 27:32–44

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

کہنے لگی اے سردارو ! میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو جب تک تم لوگ حاضر نہ ہو (مشورہ نہ دو ) میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے ہم بڑے زور آور اور سخت جنگجو ہیں۔ سو اختیار آپ کے پاس ہے ، سو آپ ہی (مصلحت) دیکھ لیں جو حکم دینا ہو

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس عورت نے کہا بیشک بادشاہ جب (فاتح ہو کر) کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کردیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں ان لوگوں کے پاس تحفہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا (جواب) لاتے ہیں۔

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

پھر جب وہ (تحفہ) سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کیا تم مجھے مال وزر سے مدد دینا چاہتے ہو ؟ پس اللہ نے جو کچھ مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے ، بلکہ تم ہی اپنے تحفوں پر خوش ہوتے ہوگے

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

ان کے پاس (تحفوں سمیت) لوٹ جاؤ سو ہم ان کے پاس ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہوگی اور ہم ان کو وہاں سے بےعزت کرکے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

(سلیمان (علیہ السلام) نے) فرمایا کہ اے سردارو ! تم میں کوئی ایسا ہے کہ ان کے فرمانبردار ہو کر آنے سے پہلے اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

تو ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا کہ میں پہلے اس کے آپ اجلاس سے اٹھیں آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا اور بیشک میں بہت طاقتور بھی ہوں اسے لاسکتا ہوں (اور) امانتدار بھی ہوں

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

جس کے پاس کتاب (الٰہی) کا علم تھا اس نے کہا میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں۔ پس جب انہوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو یقینا میرا پروردگار بےنیاز (اور) کرم کرنے والا ہے

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

انہوں (سلیمان (علیہ السلام) ) نے فرمایا کہ اس (ملکہ) کے لئے اس کے تخت (کی صورت) کو بدل دو ہم دیکھیں کہ اسے اس کا پتا لگتا ہے یا وہ ایسے لوگوں میں سے ہے جن کو پتا ہی نہیں چلتا

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

سو جب (ملکہ ان کی خدمت میں) حاضر ہوئی تو (اسے اس کا تخت دکھا کر) فرمایا کیا آپ کا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا یہ گویا ہوبہو وہی ہے اور ہم کو اس کا پہلے ہی علم ہوچکا تھا (سلیمان (علیہ السلام) کی عظمت اور شان کا) اور ہم فرماں بردار ہیں

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو اللہ کے سوا (اوروں کی) پرستش کرتی تھی اس سے اس کو روکا گیا کہ بیشک (اس سے پہلے تو) وہ کافروں کی قوم میں سے تھی

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس سے کہا گیا کہ محل میں چلئیے پھر جب اس نے اس (فرش) کو دیکھا تو اس نے اسے پانی کا حوض سمجھا اور اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ کہا (سلیمان (علیہ السلام) نے) یہ تو ایک ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ تو وہ بولی اے میرے پروردگار ! میں (پہلے بھی) اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ پر جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ایمان لاتی ہوں

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف : مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔ امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ مناسب نہیں ہے پہلے تحقیق کرلینا ضروری ہے کہ جنگ میں فتح و شکست دونوں کا امکان ہوتا ہے اور شکست ملکوں اور شہروں پر تباہی لاتی ہے فاتح حکمران شہروں کو اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے با اثر افراد کو رسوا کردیتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ فاتحین کا کردار اور مسلمان : یہاں حکمرانوں کو یہ حکت عملی تعلیم دی گئی ہے کہ ملکی مفاد میں جنگ لڑی جائے جب کوئی دوسرا راستہ باقی نہ ہو محض اپنی ہوس کی تکمیل کیلئے ملکوں اور قوموں کو جنگ میں نہ جھونکا جائے۔ نیز ملکہ سبا نے غیر مسلم فاتحین کے کردار کی صحیح تصویر پیش کردی ہے جبکہ اسلام نے جنگ ہی سے روک کر جہاد کا فلسفہ دیا جس میں مقابل کو رسوا کرنا مقصود نہیں بلکہ برائی سے روکنا مقصود ہے اور تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مسلمان فاتحین نے کفار مفتوحین سے بھی انصاف ہے اور رواداری کا سلوک کیا جنہیں مغرب کے وحشی اب دہشت گرد کہتے ہیں۔ صحابہ کرام کی عظمت تو بہت بلند ہے فلسطین ہی پر مسلمانوں اور عیسایوں کے قبضے میں کیا فرق ہے دیکھا جاسکتا ہے۔ نیز ملکہ بلقیس یہ بھی جاننا چاہتی تھی کہ یہ بات صرف بادشاہ کی نہیں اس میں بات عقیدے کی ہے اور باطل مذہب کو چھوڑنے اور اللہ کے ساتھ ایمان لانے کی ہے لہذا دیکھا جائے کہ یہ بندہ محض ہوس ملک گیری میں مذہبی لبادہ اوڑے ہوئے ہے یا واقعی اللہ کا سچا نبی ہے اگر تو مفاد پرست ہے تو مقابلہ کریں گے اور نبی سچا ہے تو اطاعت کی جائے کہ جنگ سے سوائے شکست کے کچھ حاصل نہ ہوگا چناچہ یہ طے کیا کہ میں بہت ہی قیمتی تحائف دے کر اپنے قاصد روانہ کرتی ہوں دیکھیں وہ کیا جواب لاتے ہیں کہ اگر دنیا کا طالب ہے تو دولت لے کر خوش ہوجائے گا یا مزید طلب کرے گا اور اگر نبی ہے تو عقیدے پہ سمجھوتہ نہ کرے گا یہاں یہ بات ثابت ہے کہ باطل معاشرے یا باطل انداز حکمرانی کو محض چند فوائد کے لیے قبول کرنا درست نہیں بلکہ اس سے ٹکرانا ضروری ہے۔ رہا غیر مسلم کا ہدایہ تو آپ ﷺ نے قبول بھی فرمایا اور رد بھی۔ جہاں دین پر سمجھوتے کا انداز تھا آپ ﷺ نے رد فرما دیا اور جہاں محض تعلقات میں بہتری کا ذریعہ تھا قبول فرما لیا۔ تحائف کی طویل فہرست لکھی گئی ہے سونے کی اینٹیں جواہرات غلام اور کنیزیں تو ظاہر ہے ایک بہت بڑی خوشحال حکومت کا ایک بہت بڑے شاہنشاہ کے حضور تحفہ بہت قیمتی ہوگا۔ ساتھ کچھ سوالات بھی تھے۔ حضرت ابن عباس کے مطابق ہدہد میں یہ خصوصیت ہے کہ زیر زمین پانی کی گذرگاہوں کو بھانپ لیتا ہے اور لشکر جہاں پہنچا تھا وہاں بظاہر پانی نہ تھا اب اس کی ضرورت پڑی کہ جگہ کی نشاندہی کرے اور جنات پل بھر میں کھود نکالیں تو وہ غائب جبکہ لشکر میں سے بعض کا پیاس سے مرنے کا اندیشہ تھا تو اس کی غیر حاضری پر بھی سزائے موت تک کا امکان بیان ہوا لہذا امور سلطنت میں خدام اور رعایا کی خبرگیری نیز ذمہ دار لوگوں پر انتظامی امور می دیانتداری کا اور پابندی سے کرنے کا اہتمام ضروری ہے یہاں عجیب بات نقل فرماتے کہ ہدہد زیر زمین تو دیکھ لیتا ہے مگر زمین پر ڈالے گئے جال میں بہت جلد پھنس جاتا ہے وہ نہیں دیکھ پاتا سبحان اللہ سب قدرت اللہ ہی کے لیے ہے اور مخلوق بہرحال محتاج۔ سو ہدہد بہت جلد حاضر ہوگیا اور عرض کرنے لگا کہ حضور غلام ایک بہت ایک بہت اہم خبر لایا ہے کہ دوران پرواز ایک شاداب ملک دیکھ کر ادھر چلا گیا اور وہاں جا کر ایسی عجیب حالت دیکھی جس کی آپ کو ابھی اطلاع نہیں کہ علم غیب تو خاصہ باری تعالیٰ ہے اور انبیاء کو اطلاع دی جاتی ہے لہذا جس بات کی خبر اللہ کی طرف سے نہ پہنچے اس کا پتہ نہیں ہوسکتا یہاں اللہ نے ہدہد کو ذریعہ بنا دیا۔ اور وہ خبر یہ تھی کہ میں سباء سے جو یمن کا بہت بڑا شہر تھا یہ اطلاع لایا ہوں اور پورے وثوق سے عرض کر رہا ہوں کہ وہاں اس قوم پر ایک خاتون کی حکومت ہے جس کے پاس حکومت وسلطتنت کے تمام لوازم موجود ہیں اور وہ ایک بہت بڑے اور عظیم الشان تخت پر جلوہ افروز ہوتی ہے۔ اللہ کریم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اطلاع کردی آپ نے دربار سے باہر دور تک سونے چاندی کا فرش لگوادیا اور انسان حیوان پرندے جنات درجہ بدرجہ دو رویہ کھڑے کردئیے اور عالیشان دربار سجایا۔ جب وہ قاصد پہنچے تو اپنے تحفے خود انہیں بےقیمت نظر آنے لگے آپ نے فرمایا تو تم مجھے مال و دولت بطور رشوت دینا چاہتے ہو حالانکہ اللہ نے بیشمار مال و دولت اپنے احسان سے عطا فرمایا ہے۔ اپنے تحفے واپس لے جاؤ اور یہ دیکھ لو کہ میرے لشکروں کا اندازہ کیا ہے یہ تم پر چڑھائی کریں گے تو تمہیں مقابلہ کی تاب نہ ہوگی اور تمہارے حکمران ذلیل و خوار ہو کر ملک بدر کردیے جائیں گے چناچہ قاصد مبہوت ہو کر واپس پہنچے اور سوالوں کے جواب بھی لائے۔ دنیاوی شان و شوکت اور فوجی طاقت کا تذکرہ بھی کیا تو ملکہ بلقیس نے اطاعت کرنے اور خود حاضر ہونے کا ارادہ کرلیا۔ مفسرین کرام کے مطابق اس کے ہمراہ بارہ ہزار سردار تھے جن کے تحت ایک لاکھ سپاہ تھی۔ ادھر جب حضرت کو اطلاع ہوئی تو آپ نے اہل دربار سے فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو اس کا وہ مشہور تخت اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے حاضر کردے۔ تخت جو اندر ہی بنایا گیا تھا قلعوں کے اندر محلات کے کمرہ خاص میں تھا وہاں سے نکلنا ہی محال تھا چہ جائیکہ کوئی پہریداروں کے سامنے اسے لے کر چل دے اور حضرت کا یہ فرمانا کہ تم میں سے کون لائے گا ظاہر کرتا ہے کہ یہ کام تو آپ کے خدام بھی کرسکتے تھے اور خدام کی کرامت بھی آپ ہی کا معجزہ تھا یعنی آپ نے دنیاوی شوکت کے ساتھ اظہار معجزہ کو ملانا چاہا کہ محض بادشاہ نہ سمجھیں یہ بھی جان لیں کہ اللہ کے نبی بھی ہیں نبی کا معجزہ ایسا فعل ہوتا ہے جو عقلی دلائل کو عاجز کردیتا ہے صادر نبی کے ہاتھ پر ہوتا ہے مگر فعل اللہ کا ہوتا ہے ایسے ہی نبی کے ماننے والوں سے جب کوئی ایسی بات صادر ہوتی ہے جو عقل کی رسائی سے باہر ہو تو کرامت کہلاتی ہے اور ولی کی کرامت بھی نبی کا معجزہ ہوتی ہے کہ اس کی اطاعت و نسبت سے حاصل ہوتی ہے۔ تیسری قسم تصرف کی ہے یہ بھی کرامت کی ایک قسم ہے کہ کرامت میں ارادے کو دخل نہیں ہوتا مگر جہاں ارادہ کیا جائے اور وہ کام ہوجائے اسے تصرف کہا جاتا ہے جو یہاں ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے حکم پر ایک بہت بڑے جن نے عرض کیا کہ آپ کا دربار ختم ہونے سے پہلے میں وہ تخت خدمت عالیہ میں حاضر کرسکتا ہوں اگرچہ بہت مشکل کام اور بھاری تخت محل کے اندر اور پہروں میں ہے مگر اللہ نے مجھے اتنی قوت دی ہے کہ لاسکوں اور کروڑوں کے قیمتی جواہرات سے مرصع ہے مگر پوری امانتداری سے لا حاضر کروں گا تب ایک ایسے شخص نے جس کے پاس کتاب اللہ کا علم تھا عرض کیا حضور بندہ پلک جھپکنے میں آپ کی خدمت میں حاضر کرسکتا ہے۔ کتاب اللہ کا علم : کتاب اللہ کا علم کیا ہے حق یہ ہے کہ کتاب میں محض الفاظ و معانی ہی نہیں ہوتے بلکہ ہر حرف اور ہر لفظ میں انوارات و تجلیات اور کیفیات ہوتی ہیں جو سب نبی کے دل پر وارد ہوتی ہیں اور اس کی حقیقت متبعین کو سینہ بسینہ نصیب ہوتی ہیں انہی کیفیات کے حامل ولی اللہ کہلاتے ہیں اور ایسے علما ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ورنہ محض الفاظ و معانی سے کھیلنے والے عموماً کتاب اللہ کو بھی صرف ذریعہ معاش ہی بنا پاتے ہیں اور بس۔ ان کیفیات کے حامل لوگوں میں تصرف کی قوت بھی حسب استعداد ہوتی ہے جس کا اظہار مختلف مواقع پہ ہوتا رہتا ہے۔ قلبی طور پر اس کی تحقیق پر جو حضرت (رح) کے حکم پر کی گئی تھی یہ سمجھ آئی تھی کہ اس شخص نے جو آپ کا صحابی اور درباری تھا اور مفسرین نے جس کا نام آصف بن برخیا لکھا ہے اپنے قلب کے انوارات تخت پر القا فرما کر ایک بار اللہ کہا تو تخت سامنے پڑا تھا۔ جب آپ نے سامنے پڑا دیکھا تو فرمایا یہ میرے پروردگار کا بہت بڑا احسان ہے کہ مجھے ایسے کامل خادم عطا فرمائے اور اس قدر شوکت بخشی یہ بھی ایک امتحان کا انداز ہے کہ اس عظمت میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا کہیں اس سے محروم تو نہیں ہورہا اور جو کوئی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اپنے فائدے کو کرتا ہے اور اگر کوئی ناشکری بھی کرے تو اللہ کو اس کی پرواہ نہیں وہ اپنا نقصان کرتا ہے اللہ ان سب باتوں سے بالاتر اور بےنیاز ہے اور بہت کریم ہے کہ بندوں کو کتنے عظیم کمالات عطا فرماتا ہے۔ پھر آپ نے حکم دیا کہ تخت میں کچھ تبدیلیاں کردی جائیں جیسے جواہرات کی جگہ وغیرہ بدل جائے اور پتہ نہ چلے کہ کچھ تبدیل کیا گیا ہے کہ دیکھیں یہ خاتون کتنی ذہین ہے۔ چناچہ جب ملکہ حاضر ہوئی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی ایسا ہی ہے تو کہنے لگی لگتا تو یہ ہے کہ یہ وہی تخت ہے اور اتنے بڑے معجزے کی ہمیں اب ضرورت تو نہ تھی ہم جان چکے تھے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں اور ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہوئے ہیں۔ رسومات کا اثر بد : ارشاد ہوتا ہے کہ دانشمند خاتون تھی مگر پہلے ایمان اس لیے نہ لاسکی کہ قوم کی رسومات میں گرفتار ہو کر حق سے دور تھی چونکہ قوم کافر تھی اس نے بھی ان کی رسومات میں آنکھ کھولی تو اس کا اثر بد یہ تھا کہ ذہین ہونے کے باوجود اندھیرے میں تھی شمس نبوت کو دیکھا تو آنکھیں روشن ہوگئیں۔ چنانچہ محل کے اندر چلنے کو کہا گیا تو سارا محل شیشوں سے جڑا ہوا تھا راہ میں حوض تھے جن میں مچھلیاں بھی تھیں مگر اوپر شیشے کا فرش تھا جو نظر نہ آتا تھا جب گزرنے لگی تو پنڈلیوں سے کپڑے کو اوپر کھینچا تو بتایا گیا اس حوض پر شیشہ جڑا ہوا ہے آپ آرام سے گزر جائیں تو کہنے لگی ایک محل کے اندر کا راستہ بھولنے والے بھلا اکیلے راہ ہدایت کو کیسے پاسکتے ہیں ہم جو خود کو حق پر سمجھتے رہے تو اپنے آپ پر ظلم کیا اور اے پروردگار اب فرما دے کہ میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ تیری توحید پہ ایمان لاتی ہوں تو ہی سب جہانوں کا پالنے والا ہے۔ یہاں قرآن حکیم بات ختم کردیتا ہے مختلف روایات ملتی ہیں کہ حضرت نے اس سے شادی کی اور حکومت پہ بحال رکھا محل بنوا کر دئیے اور مہینے میں چند روز وہاں گزارتے تھے مگر ان روایات کی صحت ایسی نہیں کہ صحیح کہا جاسکے اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے اور اگر ایسا ہو بھی تو عورت کی حکمرانی پہ دلیل نہیں بن سکتی کہ پھر بادشاہ نہ تھی بادشاہ کا نمائندہ تھی نیز ہمیں حکم شریعت محمدی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام سے حاصل کرنا ہے۔ اور بلقیس پر اللہ کا یہ احسان ہوا کہ پوری قوم کے ایمان لانے کا سبب بن گئی۔
Ayahs 27:45–59

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے ثمود کے پاس ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو وہ دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑا کرنے لگے

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اے قوم ! تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو (اور) اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تم اور تمہارے ساتھیوں کو ہم نے بدشگون پایا انہوں نے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ (کفر کے باعث) عذاب میں مبتلا ہوگئے

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اللہ کی قسمیں کھاؤ کہ ہم ضرور اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر ان کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم تو ان کے گھر والوں کی ہلاکت کے موقع پر موجود ہی نہ تھے اور بیشک ہم سچ کہتے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے ایک تدبیر کی اور ہم نے بھی تدبیر فرمائی اور ان کو کچھ خبر نہ ہوئی

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لیجئے ان کی چال کا کیا انجام ہوا ہم نے ان کو اور ان کی تمام قوم کو تباہ کردیا

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

پس یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب ویران پڑے ہیں بیشک اس (واقعہ) میں اہل علم کے لئے بڑی عبرت ہیں

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور ہم نے ایمان والوں اور پرہیز گاروں کو نجات بخشی

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط (علیہ السلام) کو جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم دیکھتی آنکھوں بےحیائی کے کام کیوں کرتے ہو ؟

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم حماقت کرنے والی قوم ہو

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا سوائے اس کے کہ کہنے لگے کہ لوط (علیہ السلام) کے لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو کیونکہ یہ بڑے پاک باز لوگ (بنتے) ہیں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

سو ہم نے ان کو اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا سوائے ان کی بیوی کے کہ اس کو ہم نے ان لوگوں میں مقرر فرما رکھا تھا جو پیچھے رہ گئے

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر مینہہ برسایا جو ان پر برسا سو جن لوگوں کو (انجام بد سے) ڈرایا گیا تھا ان پر جو مینہ برسا وہ بہت برا تھا

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

فرما دیجئے سب خوبیاں اللہ ہی کو سزاوار ہیں اور اس کے بندوں پر سلام ہو جن کو اس نے چن لیا ہے بھلا اللہ بہتر ہیں یا جن کو یہ (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف : ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور نااتفاقی آپ کے سبب ہے اور آپ کے ماننے والوں کی وجہ سے ہے ورنہ ہم تو بہت اتفاق سے رہ رہے تھے یہ اعتراض آج بھی کیا جاتا ہے کہ جب دین کی بات کی جائے اور برائی سے روکا جائے تو معاشرے میں ناتفاقی کا طعنہ دیا جاتا ہے مگر یاد رہے برائی پر اتفاق اجتماعی خود کشی کا نام ہے اور نیکی پہ قائم رہنا ہی اصل اتفاق ہے خواہ اس پہ چند لوگ ہوں اور برائی پہ اکثریت بھی متفق ہوگی تو فساد ہی لائے گی جیسا کہ مغربی جمہوریت میں کثرت رائے کے نتائج کا مشاہدہ وطن عزیز میں گذشتہ نصف صدی سے ہورہا ہے۔ سو فرمایا کہ بدبختی تمہارے کردار کی وجہ سے کہ اللہ کی نافرمانی پہ جمے ہوئے ہو اور یاد رکھو یہ جو تمہیں چند روز مہلت مل رہی ہے یہ بھی محض آزمائش ہے اگر باز نہ آئے تو نتیجہ بہت سخت ہوگا مگر شہر میں جو نو سردار تھے وہ سب کے سب فسادی تھے اور انہوں نے تو نہ صرف اپنی قوم میں بلکہ گردو نواح میں بھی فساد ڈال رکھا تھا اور کبھی بھلائی کا کام نہ کرتے تھے جب لاجواب ہوئے تو کہنے لگے کہ آپش میں قسمیں کھا کر عہد کرو کہ رات کی تاریکی میں سب مل کر حضرت صالح (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو قتل کردیں پھر ان کے ورثا سے کہیں گے کہ ہم تو ان دنوں یہاں موجود ہی نہ تھے اور اپنے کاموں سے باہر گئے ہوئے تھے یوں اپنی بات کے سچا ہونے پر اصرار کریں گے اور معاملہ ختم ہوجائے گا انہوں نے یہ خفیہ تدبیر کی اور ہم نے بھی ایک خفیہ تدبیر کی جو وہ نہ سمجھ سکے۔ تفاسیر میں ہے کہ رات کو نکلے تو ایک پہاڑی کے دامن سے گزرتے ہوئے ایک بہت بڑا پتھر لڑھک کر ان پر آگرا اور ہلاک ہوگئے اور پھر قوم بھی اپنے کردار کے باعث ہلاک ہو کر نابود ہوگئی اور ان کے برے کردار نے ان کے گھروں کو اجاڑ دیا جو ویران پڑے ہیں اگر کسی کی بھی عقل سلامت ہو تو اس کے لئے اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے جب کہ سب قوم تباہ ہوگئی مگر اہل ایمان کا بال بیکا نہ ہوا کہ وہ اللہ کیا اطاعت کرتے تھے یعنی جس بات پر ایمان لاتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ ایسا ہی واقعہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جب انہوں نے قوم کو برائی سے روکا اور فرمایا کہ تم لوگ کتنے بےحیا ہو کہ کھے بندوں برائی کرتے ہو۔ اور عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو تم نہ صرف بےحیا ہو بلکہ تم جاہل ہو۔ عام اخلاق بھی نہیں جانتے۔ مغرب کا معاشرہ : آج یہی تصویر مغرب کے معاشرہ کی ہے کہ کلیسا نے ہم جنس پرستی کی اجازت دے دی ہے اور مرد مرد سے شادی کرتا ہے اور ننگے قلب بن گئے ہیں بلکہ سر بازار برہنہ پھرتے ہیں یہ بےحیائی تو ہے ہی جہالت بھی ہے جن لوگوں کو مغربی تہذیب اپنانے کا بھوت سوار ہے یہ سوچ لیں کہ قرآن کی رائے ان کے بارے کیا ہے۔ تو وہ قوم بھڑک اٹھی اور اس کے سوا ان کا جواب نہ تھا کہ لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے ماننے والوں کو شہر سے نکال دو یہ بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں مگر قدرت الہی دیکھئے کہ جنہیں وہ آبادی تک سے نکال باہر کرنا چاہتے تھے انہیں کو اللہ نے بچا لیا اور ساری بستی کو لوط (علیہ السلام) کی اہلیہ سمیت جو دل سے کفار کے ساتھ تھی تباہ کردیا ان پر پتھروں کی بارش ہوئی جس نے تباہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ کہ دیجیئے کہ سب تعریف اللہ کو سزاوار ہے اور وہ ذات ہر قسم کے یب سے پاک اور بالاتر ہے اور سلامتی اللہ کے برگزیدہ بندوں کے لیے ہے انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے لیے خواہ کافر بظاہر کتنا محفوظ نظر آتا ہو بالآخر عذاب الہی کی زد پر ہے اور ان کی مشرکانہ رسومات سے اللہ کی ذات بہت ہی بلند ہے۔
Ayahs 27:60–66

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور (کس نے) آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا۔ پس اس کے ذریعے ہم نے سرسبز باغ اگائے تم ان کے درختوں کو اگا نہیں سکتے تھے۔ تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو (مخلوق کے لئے) قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں (دریا) بنائیں اور اس کے ٹھہرانے کے لئے پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل بنائی۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ بلکہ ان میں زیادہ تو (اچھی طرح) سمجھتے بھی نہیں

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

اور بےقرار آدمی کی دعا کون سنتا ہے جب وہ اس کو پکارتا ہے اور وہ (اس کی) مصیبت کو دور فرماتا ہے اور تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (جو یہ سب کچھ کرتا ہے ؟ ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا تم کو کون راہ دکھاتا ہے خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں اور کون ہواؤں کو اس کی رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے ۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود (بھی) ہے ؟ (ہرگز نہیں) یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر اس کو دوبارہ زندہ فرمائے گا اور آسمان سے (پانی برسا کر) اور زمین سے (کھیتیاں اور پھل اگا کر) تم کو کون رزق عطا فرماتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ فرمادیجئے کہ (مشرکو ! ) اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت کے بارے میں خود ان کا ہی علم (فکر) ختم ہوگا بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں

آیات 60 تا 66 اسرار و معارف انہیں اللہ پر ایمان لانے میں عذر ہے تو ان سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے کہ بت تو خود مخلوق ہیں اور اکثر کو تم خود گھڑتے ہو لہذا یہ ان کی صفت تو نہیں ہو سکتی پھر اس کی تخلیق میں کمال حکمت سے تسلسل رکھا ہے کہ آسمان سے بارشوں کو برساتا ہے سورج کی گرمی بادل کا بننا اور برسنا ہواؤں کا اسے چلانا پھر اسی ایک پانی سے زمین کے سینے سے رنگارنگ باغات اور پھول پھل اگائے ورنہ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ ایک پودا بھی پیدا کرسکے۔ بھلا کیا جو اس ساری تخلیق میں اللہ کا ہرگز حصے دار نہیں وہ عبادت میں اس کا شریک ہوسکتا ہے ؟ کبھی نہیں مگر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔ بھلا زمین کو کس نے یوں فضا میں ٹھہرایا ہے اور مٹی کے درمیان شفاف پانی کی ندیاں جاری کردی ہیں اور اس پر بڑے بڑے پہاڑوں کا بوجھ لاد دیا ہے پھر ایک ہی زمین میں میٹھا اور کڑوا دونوں طرح کا پانی موجود ہے اسے کون الگ الگ رکھتا ہے کیا کوئی دوسرا ایسا کرسکتا کہ وہ اللہ کے ساتھ عبادت میں شریک ٹھہرایا جائے لیکن ان لوگوں کی جہالت نے اللہ کے ساتھ شرک ایجاد کرلیا ہے۔ بھلا بےبس اور مجبور کی دعا کون سنتا ہے اور اس کی مصیبت دور فرماتا ہے کہ مشرکین بھی جب انتہائی پریشانی میں گھر جاتے ہیں جیسے سمندری طوفانوں میں پھنستے تو پھر صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ اور کس نے تمہیں اگلوں کا وارث اور زمین پر اللہ کی نعمتوں کا امین بنا دیا کوئی بھی تو نہیں جو اللہ کے برابر معبود بن سکے مگر بہت کم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ بھلا خشکی اور سمندر کی تاریکی میں کون تمہیں راہ دکھاتا ہے کہ صحرا میں بھی اور سمندر میں بھی کالی راتیں راستہ تلاش کرنے میں مدد کرتی ہیں اور ستارے واضح ہو کر سمت کا تعین آسان کردیتے ہیں اور بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں کون چلاتا ہے بھلا کوئی ہے جو اللہ کے ساتھ عبادت کا مستحق ہو ہرگز نہیں بلکہ جتنے قسم کے شرک انہوں نے ایجاد کر رکھے ہیں اللہ سب سے پاک اور اس کی ذات ان سب باتوں سے بلند ہے۔ بھلا اس ساری مخلوق کو کون پیدا کرتا ہے اور بعد موت دوبارہ پھر پیدا کرے گا اور آسمانوں زمینوں سے رزق کون دیتا ہے کیا کوئی اور ہے جسے اللہ کی برا بری کا حق دیا جائے اگر تمہارے پاس اس بات پر کوئی دلیل ہے تو ان دلائل کے مقابل پیش کرو کہ تمہاری صداقت کا پتہ چلے۔ اطلاع عن الغیب : اور انہیں یہ بھی فرما دیجیے کہ اپنے سارے کمالات اور ایجادات کے باوجود غیب کو جاننا صرف اللہ کا کام ہے کوئی نہیں جانتا کہ علم غیب اس کو کہا جائے گا جو بغیر کسی ذریعہ کے حاصل ہو حالانکہ وہ حوا سے غائب بھی ہو مگر مخلوق کسی نہ کسی واسطے ہی سے جانے گی حتی کہ انبیاء کو بھی غیب پر اطلاع دی جاتی ہے لہذا اسے اطلاع عن الغیب کہا جائے گا نہ کہ علم غیب اور مخلوق کو تو یہ بھی علم نہیں کہ موت کے بعد کب دوبارہ زندہ کر کے کھڑے کردیے جائیں گے بلکہ محض عقل سے تو یہ آخرت بھی نہ جان سکے اور ان کے سارے علوم عاجز آگئے۔ آخرت اور ذات وصفات کا علم صرف وحی سے ممکن ہے : بلکہ تھک ہار کر یہ آخرت کے واقع ہونے پر ہی شک کرنے لگے کہ یہ اس معاملہ میں بالکل اندھے ہیں کہ اللہ کی ذات وصفات اور آخرت کا علم صرف وحی سے ممکن ہے جو دل کو روشن کر کے یقین سے بھر دیتی ہے ورنہ وحی کا منکر اندھے پن کا شکار رہتا ہے۔