21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 21:76–93

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) کو جب اس (زمانہ ابراہیمی) سے پہلے انہوں نے دعا کی تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی تو انہیں اور ان کے تابعین کو بھاری غم سے نجات بخشی

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کا انکار (تکذیب) کرتے تھے ان پر انہیں (نوح (علیہ السلام) کو) نصرت بخشی وہ یقینا برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو جب وہ ایک کھیتی کے بارے فیصلہ کرنے لگے جب اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں (رات کو) چہگئی تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

پھر ہم نے اس (فیصلہ) کی سمجھ سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو تابع کردیا تھا کہ (ان کے ساتھ) تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی اور ان کاموں کے کرنے والے (حقیقتاً ) ہم تھے

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو تمہارے لئے زرہ (بنانے) کی صنعت سکھائی تاکہ (وہ زرہ) تمہیں لڑائی میں ایک دوسرے کی زد سے بچائے پس کیا تم اس (نعمت) کا شکر کرو گے

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور (ہم نے) تیز ہوا سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک (ملک شام) میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھ دی تھی اور ہم ہر چیز سے باخبر ہیں

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور بعضے شیطان (سرکش جن) ایسے تھے جو ان کے لئے (سمندر میں ، موتی نکالنے کے لئے) غوط لگاتے تھے اور اس کے علاوہ اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کو سنبھالنے والے تھے

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (علیہ السلام) (کا تذکرہ فرمائیں) جب انہوں نے (شدید مبتلائے مرض ہونے کی وجہ سے) اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے بہت تکلیف پہنچی ہے اور آپ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

پس ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو تکلیف کو دور کردیا اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ عطا فرمایا اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور (عطا فرمائے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام) یہ سب صبر کرنے والے تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمایا بیشک وہ نیک لوگوں میں سے تھے

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور ذوالنون (مچھلی والے) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہوکر) غصے کی حالت میں چل دیئے پھر سوچا کہ ہم ان پر (چلے جانے کی وجہ سے) کوئی داروگیرنہ کریں گے پس انہوں نے اندھیروں (مچھلی کے پیٹ) میں پکارا کہ (اللہ) آپ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں آپ پاک ہیں بیشک میں قصورواروں میں سے ہوں

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو (اس) غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح بچایا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا (علیہ السلام) (کا ذکر کیجئے) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے اکیلا نہ رکھیو اور آپ سب سے بہتر وارث ہیں

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو یحییٰ (علیہ السلام) بخشے اور ان کی اہلیہ کو (جو بانجھ تھیں ، اولاد کے) قابل بنادیا بیشک یہ سب لوگ نیک کاموں میں بہت جلدی کیا کرتے تھے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کیا کرتے تھے

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور اس خاتون کو (یاد کریں) جس نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا پھر ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کو اور ان کے بیٹے کو جہان بھر والوں کے لئے (اپنی قدرت کاملہ کی) نشانی بنادیا

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یقینا یہ آپ لوگوں کی جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں آپ سب کا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کریں

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اپنے (دین کے) معاملہ میں آپس میں اختلاف کیا (تو) سب کو لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔ (نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے) نیز داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے واقعات سنائیے کہ جہاں نبی سے دشمنی بربادی کا سبب ہے وہاں نبی کی اطاعت میں آخرت بھی سنورتی ہے اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے جیسے انہوں نے کھیتی کے اجڑنے کا فیصلہ سنایا تھا جب ایک شخص کی بکریوں نے دوسرے کی کھیتی چر لی تھی ، ان کا فیصلہ ہمارے سامنے تھا اور حق تھا جو داؤد (علیہ السلام) نے کیا مگر ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو اس کی ایک بہتر صورت القا کردی کہ جس میں صرف فیصلہ ہی نہ تھا ان دونوں فریقوں کا دنیا کا فائدہ بھی تھا مفسرین کرام نے واقعہ اس طرح نقل فرمایا ہے کہ ایک شخص کی بکریاں دوسرے کی کھیتی چر گئیں ، اور کھیتی کا نقصان اسی قدر ہوگیا جس قدر بکریوں کی قیمت تھی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے آپ نے سارا معاملہ دیکھ کر اور ثبوت پا کر حکم دیا کہ نقصان پورا کرنے کے لیے بکریاں کھیت کے مالک کو دے دی جائیں اور یہ فیصلہ حق تھا جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا فیصلہ ہمارے روبرو تھا جب انہوں نے فیصلہ قبول کرلیا تو اللہ جل جلالہ نے سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں بات ڈال دی جنہوں نے عرض کیا کہ والد گرامی آپ کو فیصلہ درست مگر اس سے بہتر صورت بھی ہے پوچھا وہ کیا فرمایا بکریاں کھیتی والے کو دیں اور وہ ان سے فائدہ اٹھائے مگر تب تک کھیتی بکریوں کے مالک کو دی جائے تاکہ وہ اس میں محنت کرے اور جب پہلے کی طرح سرسبز ہوجائے تو کھیتی کا مالک کھیتی لے کر بکریاں واپس کر دے تو دونوں کو دنیا کا فائدہ بھی مل جائے گا چناچہ اس پر انہوں نے یہ فیصلہ قبول کر کے صلح کرلی ۔ (کیا فیصلہ تبدیل کیا جاسکتا ہے ؟ اور اپیل درست ہے) اس بارہ میں تفاسیر میں بہت لمبی بحثیں کی گئیں ہیں کہ کیا پہلا فیصلہ درست نہ تھا یا اگر درست تھا تو تبدیل کیوں ہوا ، درحقیقت یہاں دونوں فیصلے درست تھے پہلا قانونی فیصلہ تھا اور حق تھا ، دوسرا فیصلہ ان کی باہمی رضا مندی سے تھا اور ایک طرح کی صلح تھی نیز اسلام میں بھی اگر فریقین صلح کریں تو اسے اولیت حاصل ہے اگر کوئی فریق نہ مانے تو قانونی فیصلہ نافذ کیا جاتا ہے جیسا کہ سیدنا عمر ؓ کا ارشاد ہے کہ قانونی فیصلہ سے ایک فریق دب جاتا ہے مگر دل سے راضی نہیں ہوتا جبکہ صلح سے دل صاف ہوجاتے ہیں نیز یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ اگر فیصلہ کر چکنے کے بعد خود قاضی کو بہتر صورت نظر آئے تو اس فیصلہ کو بدل دے یعنی نظر ثانی کرنا درست ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے اوپر کی عدالت مزید چھان پھٹک کر کے دیکھ لے وہی فیصلہ بحال رکھے یا اس کی بہتر صورت نافذ کردے ، دونوں فیصلے حق پر مبنی تھے لہذا ارشاد ہوا کہ ہم نے دونوں کو حکم اور علم عطا فرمایا تھا سلطنت بھی دی تھی اور نبوت بھی عطا کی گئی ،۔ (ذکر اور اس کی برکات) داؤد (علیہ السلام) کی شان تو یہ تھی کہ پہاڑ اور فضائی پرندے ان کے ساتھ اللہ جل جلالہ کا ذکر کیا کرتے اور اس کی پاکی زبان قال سے بیان کیا کرتے ، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ یہ کام ہماری قدرت سے ہوتا ہے اور ہم قادر ہیں جو چاہیں کریں اگر یہاں یہ ذکر زبان حال سے کہا جائے تو داؤد (علیہ السلام) کی تخصیص نہیں رہتی وہ تو ہر شے ہر حال میں کرتی ہے لہذا یہاں زبان قال سے ہی مراد ہے اور یہ فضیلت بعض اہل اللہ کو باتباع نبی نصیب ہوتی ہے کہ پہاڑ ، پتھر ، درخت ان سے کلام کرتے ہیں ، ایسے طبیب گذرے ہیں جو جڑی بوٹیوں سے ان کی تاثیر دریافت کرلیا کرتے تھے حتی کہ ذکر کی برکات اس سے بھی بہت زیادہ ہیں نیز انبیاء کرام (علیہ السلام) دنیا کے علوم کا خزینہ بھی ہوتے ہیں اور اللہ جل جلالہ کی طرف سے انہیں یہ علوم سکھائے جاتے ہیں ۔ (صنعت اور اسلام) جیسے ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو لوہے کی زرہ بنانا سکھا دیا جس نے لڑائی کی شدت میں لوگوں کی حفاظت کا حق ادا کیا ، لوگوں تمہیں ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے یعنی صنعت اور ٹیکنا لوجی نہ صرف سیکھنا ضروری ہے بلکہ یہ اللہ جل جلالہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور جس قدر حاصل ہو سکے کی جائے اور اس پر اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا جائے کہ بندہ ٹیکنالوجی بھی سیکھے اور دین بھی جانتا ہو ، ایسے ہی ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو ہوا پر اختیار دے دیا جو ان کے حکم سے چلتی اور بابرکت زمین اور ان کی سلطنت میں انہیں اڑائے پھرتی ، ہماری ذات ہر شے سے واقف ہے مفسرین کرام کے مطابق سلیمان (علیہ السلام) اپنے اہل دربار سمیت بہت بڑے تخت پر کرسیاں سجا لیتے اور جہاں چاہتے مہینوں کی مسافت پر ہوا انہیں گھنٹوں میں لے جاتی ، یہ اللہ جل جلالہ کی عطا تھی کہ انسانی ذہن بالآخر ایسی مشین بنانے میں کامیاب ہوگیا جس کی ساری تکنیک ہوا کو تیزی سے پیچھے دھکیل کر انسانوں سمیت ایک ہوائی جہاز کو اڑا لے جانا ہے ، اسی لیے آپ ﷺ کا ارشاد ” الحکمۃ ضالۃ المومن “۔ کہ صنعت اور دانائی کی بات مومن ہی کی گم شدہ دولت ہے جہاں ملے حاصل کرلی جائے ۔ (جنات کا وجود بھی ہے اور بطور کرامت ولی کا ان پر اختیار ہونا ممکن ہے) نیز سلیمان (علیہ السلام) کو تو ہم نے جنات پر بھی حکومت بخشی کہ وہ ان کی خدمت اور اطاعت کرتے تھے ، بعض سمندروں سے موتی نکال کر لاتے تو کچھ دوسری خدمات انجام دیتے ، یہاں بھی ثابت ہے کہ جنات اللہ جل جلالہ کی مخلوق ہے اور زمین پر آباد ہے جو ایمان لانے کے مکلف ہیں جو کفر کرتے ہیں وہ شیطان کے پیروکار ہو کر شیاطین ہی کہلاتے ہیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا حکم ان پر بھی تھا ورنہ ایمان دار تو اطاعت کرنا ویسے ہی سعادت جانتے ہیں نیز یہ ممکن ہے کہ ولی اللہ کو بغیر کسی چلہ کشی اور عمل کے محض کرامت کے طور پر جنات پر اختیار حاصل ہو ۔ اور ایسے ہی عجائبات ایوب (علیہ السلام) کے واقعہ میں ہیں کہ جب ان پر بیماری بہت بڑھ گئی تو انہوں نے دعا فرمائی کہ میرے پروردگار میں سخت تکلیف میں ہوں اور آپ سب سے بڑے رحم کرنے والے ہیں چناچہ ہم نے ان کی درخواست قبول فرما کر ان سے نہ صرف بیماری دور کردی بلکہ انھیں ان کا گھر بار اور خاندان بھی عطا کردیا اور اتنا اور بھی دے دیا جس قدر مال اور اولاد پہلے ان کی تھی حضرت ایوب (علیہ السلام) بھی اللہ کے نبی تھے اور بہت مالدار بھی تھے صاحب اولاد بھی مگر اللہ جل جلالہ کی طرف سے آزمائش آئی مال بھی کھو گیا ، خاندان بھی مرکھپ گیا ، اور خود سخت بیمار ہو کر ایسے پھوڑے میں مبتلا ہوئے کہ سارا بدن ایک پھوڑا بن گیا ، صرف ایک بیوی ساتھ رہ گئیں جو یوسف (علیہ السلام) کی پوتی تھیں جن کا نام لیا بنت منشا بن یوسف تھا ، لوگوں نے شہر سے نکال کر باہر پھینک دیا ، اس حال میں بھی اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کیا کرتے ، جب اللہ جل جلالہ کو منظور ہوا تو دعا فرمائی ، اللہ کریم نے زمین پر پاؤں مارنے کا حکم دیا جس سے شفاف چشمہ پھوٹ پڑا اور اس میں غسل کر کے صحت یاب ہوگئے ، رب جلیل نے اولاد اور مال ومنال بھی عطا فرمایا اگر وہی مرنے والے زندہ کر دے تو قادر ہے کہ حضرت عزیز (علیہ السلام) کی طرح دنیا اور برزخ کے درمیان ہی رکھا ہو اور پھر سے لوٹا دیا ہو یا نئی اولاد دے دی تو بھی اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ، یہ سب حالات ان لوگوں کے لیے تو بہت بڑی نصیحت ہیں جو میری عبادت کرتے ہیں ، ایسے ہی اسمعیل (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) اور ذوالکفل یہ سب لوگ صبر کرنے والے تھے یعنی دین پر عمل کا راستہ ایسا ہے کہ اس میں ہمیشہ مشکلات پیش آتی ہیں اور اللہ جل جلالہ سے ایمان کا تقاضا ہے کہ صبر وشکر سے برداشت کیا جائے پھر اللہ کریم آسانی میں بھی بدل دیتے ہیں کہ ان سب کو انجام کار ہم نے اپنی رحمت سے نوازا کہ یہ سب نیک اور صالح لوگ تھے ۔ (دین پر عمل کے راستہ میں ہمیشہ مشکلات آتی ہیں) ایسا ہی عجیب و غریب واقعہ مچھلی والے نبی یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) کا ہے کہ جب وہ قوم خفا ہو کر چل دیئے اور ان کے خیال میں یہ کوئی جرم نہ تھا کہ اس پر گرفت ہو مگر وہ اندھیروں میں پھنس کر رہ گئے اور وہاں بھی اللہ ہی کو پکارا کہ اے اللہ تو ہی واحد اور بغیر کسی شریک کے حکمران ہے اور ہر عجیب سے پاک ہے بیشک میں قصور وار ہوں اس واقعہ بھی مقصود اسی موضوع کی تائید ہے کہ نافرمانی ہمیشہ عذاب ہی کا سبب بنتی ہے اور بھلائی کا راستہ توبہ کا راستہ اور اطاعت کا راستہ ہے ۔ (یونس (علیہ السلام) کا واقعہ) مفسرین نے بہت طویل بیان کیا ہے جس میں بڑی حد تک اسرائیلی روایات بھی آگئی ہیں جو اعتبار کے قابل نہیں ہوتیں قرآن حکیم اور احادیث مبارکہ سے صاف واقعہ اس طرح سے ملتا ہے کہ موصل کے علاقہ میں نینوا نامی شہر کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمائے گئے بہت محنت کے بعد بھی قوم نے آپ کی بات ماننے سے انکار ہی کیا تو اللہ جل جلالہ کی طرف سے عذاب کی وعید ملی جو انہوں نے قوم کو سنا دی کہ اب تین روز کے اندر اندر اللہ جل جلالہ کا عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لینے والا ہے اور قوم کی اس بےحسی پر کہ کسی ایک آدمی نے بھی ایمان قبول نہ کیا بہت ناراض ہوئے ” ذھب مغاضبا “ ۔ سے اللہ جل جلالہ ہی کے لیے ناراض ہونا مقصود ہے اور اسی ناراضگی میں انہیں چھوڑ کر چل دیئے ، اگرچہ عذاب کا وعدہ بھی اللہ جل جلالہ کا تھا مگر تاحال توبہ کا دروازہ تو بند نہ ہوا تھا نیز اللہ جل جلالہ کے نبی کو جانے کے لیے بھی وحی کا انتظار کرنا اولی تھا اگرچہ عذاب کی وعید کے بعد آپ کا یہ اجتہاد کہ اب انہیں اس مقام سے چلے جانا چاہئے درست تھا کہ میرے چلے جانے سے کوئی گرفت نہ ہوگی مگر ہوا یہ کہ قوم نے توبہ کرلی ، جب انہوں نے دیکھا کہ یونس (علیہ السلام) تو چلے گئے اور عذاب کے بعض اثرات ظاہر ہونے لگے تو سب نے خوب الحاح وزاری سے دعا کی حتی کہ سب آبادیوں سے نکل گئے ، ماؤں نے بچوں کو دودھ دینا بند کردیا ، جانوروں کے بچے الگ کردیے اور یوں سب گڑ گڑا کر دعا کرنے لگے بچوں نے الگ رو رو کر شور کیا جانور اور ان کے بچے اپنی اپنی جگہ چلانے لگے تو اللہ جل جلالہ نے ان کی توبہ قبول فرما کر عذاب روک دیا ادھر حضرت یونس (علیہ السلام) چلتے ہوئے دریا پر پہنچے اور کشتی میں سوار ہوئے تو دریا کے درمیان کشتی رک گئی ، ان لوگوں نے کہا کہ شاید کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی میں ہے حضرت یونس (علیہ السلام) کو تب احساس ہوا اور فرمایا میں ہوں مجھے دریا میں ڈال دیا جائے مگر اہل کشتی نہ مانے اور قرعہ ڈالا وہ بھی آپ ہی کے نام نکلا تو آپ کو دریا میں ڈال دیا جہاں فورا ایک مچھلی نے نگل لیا ، مگر اللہ جل جلالہ نے آپ کو مچھلی کی غذا نہ بننے دیا نہ اس حال میں آپ کو کوئی گزند پہنچا بلکہ مچھلی کے پیٹ کے اندر بھی آپ اللہ جل جلالہ کا ذکر کر رہے تھے گویا اپنے حواس میں تھے اور وہاں ہی دعا کی کہ اللہ جل جلالہ تو پاک ہے اور مجھ سے خطا سرزد ہوئی ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے ان کی دعاقبول فرمائی اور انھیں اس مصیبت سے بچا لیا یعنی مچھلی نے کنارے پر اگل دیا اور پھر واپس اپنی زندگی میں لوٹ گئے ، ایسے ہی ہر ایمان والے کو ہم غموں سے بچا لیتے ہیں اور اس کی دعائیں قبول فرما کر اس کی دستگیری فرماتے ہیں ۔ یہی مثال حضرت زکریا (علیہ السلام) کے واقعہ میں موجود ہے جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا دعا کی بار الہا مجھے دنیا میں تنہا مت چھوڑ کر میرا کوئی وارث نہیں اور سب سے بہتر وارث تو تیری ہی ذات ہے کہ اولاد بھی دنیا سے چلی ہی جائے گی مگر میری تمنا ہے کہ میری اولاد ہو جو میری جگہ لے سکے اور میرے بعددین کی خادم ہو کہ انبیاء کرام ﷺ کی وراثت دین کا علم ہی ہوتی ہے تو ان کی دعا قبول ہوتی ، حضرت یحیٰ (علیہ السلام) جیسا عظیم فرزند عطا فرمایا جو نبوت سے سرفراز ہو کر حقیقی وارث ثابت ہوئے اور صرف یہی نہیں کہ ایک عظیم فرزند عطا فرمایا بلکہ ان کی اہلیہ جو بانجھ تھیں اور اولاد کے لائق نہ تھیں انہیں صحت مند اور قابل اولاد بنا دیا اس لیے کہ یہ میرے بندے نیکی اور بھلائی کی طرف لپکنے والے تھے کبھی نیکی میں تاخیر نہ کرتے اور ہر حال میں مجھے یاد کرتے ، دکھ ہو یا تکلیف آرام ہو یا راحت ہمیشہ مجھے ہی پکارتے تھے اور انہیں میرے مقابل اپنے عجز کا اور بندہ ہونے کا پوری طرح احساس تھا ، پھر حضرت مریم (علیہا السلام) کی مثال لیجئے جنھوں نے اپنی آبرو کو مرد سے محفوظ رکھا حتی کہ مرد سے نکاح کے راستے جائز اور حلال طور پر بھی نہ ملیں اور ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی جبرائیل (علیہ السلام) کو دم کرنے کا حکم دیا مگر جو پھونک انہوں نے ماری دراصل وہ ہمارا ہی فعل تھا اور انہیں بغیر شوہر کے فرزند عطا فرمایا اور ان کی ذات کو اور ان کے بیٹے کو ایک جہان کے لیے اپنی عظمت کا نشان بنا دیا ۔ (کیا شادی نہ کرنا باعث فضیلت ہے) مریم (علیہا السلام) کے واقعہ میں حضرت یحیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی ان کے جنسی ملاپ سے الگ رہنے کی تعریف کی گئی ہے انہیں ” حصورا “ بھی کہا گیا ہے جس سے مراد ان کا جنس مخالف سے الگ رہنا ہے تو بظاہر لگتا ہے کہ شادی نہ کرنے پر تعریف ہے مگر یہ بات قابل توجہ ہے کہ اگر شادی نہ کرنا باعث فضیلت ہوتا تو نبی کریم ﷺ کبھی شادی نہ کرتے حالانکہ آپ نے نہ صرف نکاح فرمائے بلکہ نکاح کو اپنی اہم سنت قرار دے کر نکاح کرنے کی تاکید فرمائی ، ہاں اس حال میں کہ اگر شادی نہ ہو سکے تو پھر کسی بھی طرح ناموس پہ حرف نہ آئے قابل تعریف ہے نیز شادی اور جنسی ملاپ میں ایک اثر ہے کہ دنیا کا کوئی کام اگر سب سے زیادہ توجہ کو جذب کرتا ہے تو وہ جنسی اختلاط ہے اور وہ چند لمحے آدمی اگر فنا فی اللہ والا بھی ہو تو اس کی توجہ متاثر ہوتی ہے لہذا اس بات کو بھی شمار کیا جائے گا کہ جو بندہ زندگی بھر اس میں مبتلا ہی نہ ہوا ہو وہ کس قدر مکمل طور پر متوجہ الی اللہ رہا ، سیرت میں موجود ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی لخت جگر کو قبر میں اتارنے کے لیے حکم دیا تھا کہ ایسے دو بندے آئیں جنہوں نے رات اہلیہ سے مباشرت نہ کی ہو حالانکہ مباشرت کرنا گناہ نہیں تھا بلکہ زوجین کے حقوق میں ہے مگر نہ کرنے والا شب بھر زیادہ متوجہ الی اللہ رہا ، لہذا اس کام کے لیے اسے ترجیح دی گئی ، (واللہ اعلم) ہاں یہ درست ہے کہ اگر ممکن ہو تو نکاح ضرور کیا جائے اور آج کل تو دو تین چار نکاح کرے اگر اللہ جل جلالہ ہمت دیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں میں کفار کا اثر پھیل رہا ہے اور نکاح ثانی کو برا سمجھا جانے لگا ہے تو لوگو متذکرہ بالا سب لوگ جن کی نبوت وصداقت کو ماننے کا دعوی تم بھی رکھتے ہو ، یہودی ، عیسائی تو خیر عرب کے مشرک بھی خود کو دین ابراہیمی کا پیرو کار کہتے ہیں مگر یہ تو دیکھو کہ سب ایک جماعت ہیں ، عقائد میں کوئی اختلاف نہیں ۔ اللہ جل جلالہ کی ذات اور صفات آخرت ، حشر نشر عذاب وثواب اور فرشتوں کے وجود کی سب نے خبر دی ہے اور خصوصا سب نے اپنی بعثت کا بھی اور زندگی کا بھی مقصد یہی قرار دیا کہ اللہ جل جلالہ واحد ہے اور صرف اور صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے لہذا میں ہی تمہارا پروردگار ہوں میری ہی عبادت کیا کرو مگر لوگ اغراض کے بندے بن گئے اور وہی کتابیں پڑھ کر بھی خود کو تقسیم کرلیا ، اپنی اپنی غرض پوری کرنے کے لیے الگ مذاہب گھڑ لیے اور فرقے بنا لیے مگر یہ جان رکھو کہ آخر کب تک ! آخر کو تو سب کو ہماری ہی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ۔
Ayahs 21:94–112

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

پس جو نیک کام کرے گا اور ایمان والا بھی ہوگا سو اس کی محنت ضائع جانے والی نہیں اور بیشک ہم اس کو لکھ لیتے ہیں

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا یہ بات ناممکن ہے کہ وہ (دنیا میں) پھر لوٹ کر آئیں

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ (بوجہ کثرت کے) ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں گے

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے گا تو اچانک کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی (اور کہتے ہوں گے) وائے ہماری کم بختی ! ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ ہم (اپنے حق میں) ظلم کرنے والے تھے

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(کافرو ! اس روز) یقینا تم اور جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو سب جہنم میں جھونکے جاؤ گے تم سب اس میں داخل ہوگے

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ سب (واقعی) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں ان کا شور ہوگا اور اس میں انہیں کچھ سنائی بھی نہ دے گا

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی وہ اس (دوزخ) سے دور کیے جائیں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

(کہ) وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو (اس دن کا) بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا اور فرشتے (ان کے قبر سے اٹھتے ہی) ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے) یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

(وہ دن بھی قابل ذکر ہے) جس دن ہم آسمانوں کو (نفخہ اولیٰ کے وقت) اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمونوں کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا فرمایا اسی طرح ہم اس کو دوبارہ (پیدا) فرمائیں گے (یہ) ہم پر وعدہ (لازم) ہے ہم ایسا ضرور کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے ذکر (نصیحت) کے بعد زبور میں لکھا دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ہی ملک کے وارث ہوں گے (یعنی حکومت نیک لوگوں کے سپرد کی جائے)

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

یقینا عبادت کرنے والوں کے لئے اس میں تبلیغ (پیغام پہنچا دینا) ہے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو (اے حبیب ﷺ) تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ مجھ پر (اللہ کی طرف سے) وحی آتی ہے کہ تم سب کا معبود (حقیقی) ایک ہی (اللہ) معبود ہے تو کیا تم فرماں بردار ہوجاؤ گے ؟

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو فرمادیجئے میں نے تم سب کو برابر طور پر آگاہ کردیا اور مجھ کو نہیں معلوم کہ جس چیز (قیامت) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ جلدی (آنے والی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

وہ بات جو پکار کر کی جائے وہ یقینا اسے بھی جانتا ہے اور جو تم چھپا کر کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور (تم کو) ایک مدت تک (اس کا) فائدہ دینا ہو

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(پیغمبر نے) فرمایا اے میرے پروردگار ! حق کے ساتھ فیصلہ فرمادیجئے اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے اور اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی یاجوج ماجوج کی رکاوٹ یعنی سد سکندری ختم ہوجائے گی اور ہر پہاڑ ہر ٹیلے پر سے گذرتے ہر شے کو تباہ کرتے چلے آرہے ہوں گے یہاں ان کا ذکر قیامت کی بہت بڑی نشانی کے طور پر ہوا ہے اور پر اللہ جل جلالہ کا کھرا اور سچا وعدہ بہت قریب آچکا ہوگا ، جب کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی جب قیامت قائم ہوگی ہر شے تباہی کی نذر ہوگی تو انہیں خبر ہوگی کہ وائے بدبختی ہم تو اس سے غفلت ہی کا شکار رہے ، بھلا کوئی اتنے بڑے حادثے سے بھی بیخبر رہ سکتا ہے یہ تو ہم ہی ظالم تھے کہ آخرت کا انکار کرتے رہے تو ارشاد ہوگا کہ اب مزہ چکھو نہ صرف تم بلکہ تمہارے وہ سب بت یا وہ مخلوق جو اپنی پوجا کروانے پہ خوش تھی ، جن ہوں یا انسان اب سب مل کر دوزخ کا ایندھن بنو گے اور تمہیں ثابت ہوجائے گا کہ یہ ہرگز عبادت کے لاحق نہ تھے ورنہ خود تو دوزخ میں نہ جلتے اور یوں یہ سب لوگ کافر بھی اور ان کے معبودان باطل بھی ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ، شجر وحجر جو پوجے جاتے تھے ان کا عاجز ہونا بھی معلوم ہوگا اور اپنے پوجنے والوں کو جلانے کے لیے ایندھن کا کام بھی کریں گے اور جن یا انسان جو اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقابلے میں اپنی رائے منواتے تھے اور اپنی پوجا کرواتے تھے ان کا عجز بھی ظاہر ہوگا اور خود وہ بھی سزا بھگتیں گے نیز اس قدر چیخیں اور چلائیں گے کہ کوئی کسی کی سن نہیں رہا ہوگا ، کوئی انہیں ملامت بھی کیا کرے گا سب اپنی اپنی مصیبت میں چلا رہے ہوں گے اور اللہ کے مقرب بندے جو ہمیشہ اللہ جل جلالہ کی عبادت کی دعوت دیتے رہے مگر لوگوں نے گمراہ ہو کر انہی کو پوجنا شروع کردیا جیسے عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہودی عزیر (علیہ السلام) کو اللہ جل جلالہ کا بیٹا ماننے لگے تو اس میں ان انبیاء کرام (علیہ السلام) صلحا یا فرشتوں کا دخل نہیں ، لوگ اپنی گمراہی کے باعث اللہ جل جلالہ سے بھی شرک کرتے اور ان کی بات کے خلاف بھی کرتے تھے لہذا ایسے لوگوں کے لیے تو اللہ جل جلالہ کی طرف سے بہت ہی نیک اور اعلی انعام کا وعدہ ہوچکا وہ تو جہنم کی آہٹ اور ہلکے سے ہلکے اثر سے بھی کوسوں دور ہوں گے بلکہ وہ تو اپنے مزے میں ہوں جنت میں جہاں جو چاہیں گے پائیں گے اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب آپ ﷺ نے معبودان باطل کو بھی جہنم میں جانے کی وعید سنائی تو مشرکین مشتعل ہوئے اور یہود کے علماء کے پاس گئے اور کہا ہمارے بتوں کی بہت توہین کی گئی ہے جبکہ ہم انہیں خدا مانتے ہیں تو انہوں نے کہا تم کہہ دو کہ اگر جن کی عبادت ہوتی ہے سب جہنم میں جائیں گے تو نبی فرشتہ اور ولی بھی شامل ہوں گے کہ لوگ تو انہیں بھی پوجتے ہیں ، اس مندرجہ بالا آیت میں جواب ارشاد ہوا کہ لوگوں نے گمراہی اختیار کی وہ خود بھگتیں گے اور اللہ کے مقرب بندے نہ صرف دوزخ سے دور اور جنت میں مقیم ہوں گے بلکہ قیامت کی سختیاں اور نفخہ صور جس سے ارض وسما پھٹ رہے ہوں گے ان کو ذرہ پریشان نہ کرے گا نہ صرف اللہ جل جلالہ انہیں اس سے محفوظ رکھے گا بلکہ اکراما فرشتے انہیں لینے کو آئیں گے اور انہیں مبارک باد دیں گے کہ یہی تو وہ لمحہ ہے اور یہی وہ دن ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا اور دنیا کے امتحان میں ثابت قدم رہنے کے انعامات کی گھڑی ہے یہ دن نافرمانوں کے لیے بہت سخت اور اسی لمحے اطاعت گذاروں کے لیے باعث رحمت ہوگا ۔ ورنہ تو وہ روز اس قدر سخت ہوگا کہ زمین تو زمین آسمان تک بوسیدہ کاغذ کی طرح لپٹے ہوئے دست قدرت میں ہونگے اور تمام نظام عالم تباہ وبرباد ہو کر کچھ نہ بچے گا پھر قدرت باری سے ایسے ہی بنایا جائے گا جیسا کہ پہلے بنایا گیا ، یہ ہمارا وعدہ ہے جو ضرور پورا کیا جائے گا اور جس پر ہر حال میں عمل ہوگا ، یہ بات ہم نے تمام آسمانی کتب میں ارشاد فرما دی کہ ہماری زمین یعنی جنت ایسا ملک جس پر عارضی ملکیت کا دعوی بھی کسی کا نہیں ہمارے نیک بندوں کی وراثت ہے ، ان ہی کا ہے جیسے وراثت وارث ہی کو پہنچتی ہے یہ انہیں کو ملے گا نیز ان سب باتوں میں اور مذکورہ حقائق میں ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی اطاعت کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں بہت بڑی نصیحت موجود ہے کہ ابھی وارعمل میں ہیں توبہ کرسکتے ہیں اور اعمال کا افرادی نتیجہ نیز دنیا پر گذرنے والے احوال بھی بتادیئے گئے تو اپنی اصلاح کرسکتے ہیں لیکن جو اپنی اصلاح کرنا ہی نہ چاہے تو اسے کیا حاصل ۔ ّ (رحمۃ للعلمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ صرف یہ کہ کتاب ہدایت عطا فرمائی آپ ﷺ کی ذات ستودہ صفات کو تو ہم نے سب جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنایا ہے اور آپ کی ہر ادا رحمت الہی کا ایک روپ ہے ، آپ کی ہر سنت انعامات باری کا سبب ہے اور آپ کا وجود مسعود ہی انوار و تجلیات کا برستا ہوا بادل ہے ، جہاں جہاں کوئی کرشمہ رحمت الہی کا ہے اس کا ذریعہ آپ ﷺ کی ذات گرامی جو اس سے محروم ہے اس کا سبب اس کی آپ ﷺ کی ذات سے دوری ہی تو ہے ۔ اللہ جل جلالہ کا یہ کرم کہ انسانوں کو یہ شرف بخشا کہ آپ ﷺ فخر انسانیت ہیں سارے جہان سے ممتاز کر رہا ہے پھر بھی جو آپ ﷺ کی برکات سے محروم ہیں ان سا بدنصیب کون ہوگا ، اب بھلا آپ ﷺ کے بعد وہ کسے چاہیں گے ، ایسا محبوب کہاں سے لائیں گے جو ظاہر باطن کے ہر کمال میں صرف اور صرف اللہ کے بعد سب سے اعلی اور مخلوق میں بےمثل ہو۔ ّ (ذکر کی اہمیت مفتی صاحب کی نظر میں) یہاں وہ پیراگراف ہو بہو لکھنے کو جی چاہتا ہے جو مفتی محمد شفیع صاحب (رح) نے اپنی معرکۃ الآرا تفسیر معارف القرآن میں لکھا ہے ، اللہ ان پر کروڑوں کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین ، تو لیجئے ” عالمین عالم کی جمع ہے جس میں ساری مخلوقات انسان جن حیوانات نباتات جمادات سبھی داخل ہیں ، رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لیے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ جل جلالہ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کو موت یعنی قیامت آجائیگی اور جب ذکر اللہ و عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لیے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ ہی کے دم قدم اور تعلیمات سے قائم ہے اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ” انا رحمۃ مھداۃ “ میں اللہ جل جلالہ کی طرف سے بھیجی ہوئی رحمت ہوں (اخرجہ ابن عساکر عن ابی ہریرہ) اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انا رحمۃ مھداۃ برفع قوم وخفض اخرین “ یعنی میں اللہ جل جلالہ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں تاکہ (اللہ جل جلالہ کے حکم ماننے والی) ایک قوم کو سربلند کر دوں اور دوسری قوم (جو اللہ جل جلالہ کا حکم ماننے والی نہیں ان کو) پست کر دوں ۔ (ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کفر شرک مٹانے کے لیے کفار کو پست کرنا اور ان کے مقابلے میں جہاد کرنا بھی عین رحمت ہے جس کے ذریعے سرکشوں کو ہوش آکر ایمان اور عمل صالح کا پابند ہوجانے کی امید کی جاسکتی ہے ” واللہ وسبحانہ وتعالی اعلم “ معارف القرآن جلد ششم صفحہ 322۔ ان سے کہہ دیجئے کہ میں اپنے پاس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ اللہ جل جلالہ جو فرماتا اور وحی سے جو حاصل ہوتا وہی تم کو پہنچاتا ہوں جس کا حاصل یہ ہے کہ صرف اللہ جل جلالہ ہی عبادت کا مستحق ہے ، واحد اور اکیلا تو کیا تم یہ بھی قبول نہیں کرو گے ، اگر تم نے نہ ماننے کا ہی فیصلہ کرلیا تو میں نے تمہیں دونوں طرف کی بات بتا دی اور عقیدے کا اثر بھی بتا دیا ، اعمال کا نتیجہ بھی اب یہ میرے فرائض میں نہیں کہ قیامت کے وقت کا تعین بھی کروں ، یہ تمہارا اور تمہارے رب کا معاملہ ہے وہ جلدی قائم کردے یا دیر سے اس کی مرضی کہ وہ تمہارے ہر ظاہر قول وعمل سے بھی باخبر ہے اور جو چھپا کر کرتے ہو اسے بھی جانتا ہے ، مجھے اس سے سروکار نہیں کہ شاید دنیا میں مہلت دے کر تمہیں اور آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتا ہے یا اس کی کیا مصلحت ہے اور میری تو دعا ہے کہ اے اللہ اے پروردگار عالم انصاف کا فیصلہ صادر فرما دے ، رہی وہ ایذا جو تمہاری طرف سے ہے تو ہمارا پروردگار ہی اس بارے میں بہترین مددگار ہے کہ وہ بہت بڑا رحم کرنے والا ہے ۔