21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 21:30–41

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا کافروں نے نہیں دیکھا (یعنی جانتے نہیں) کہ آسمان اور زمین ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان کو جدا جدا کردیا اور ہم نے (بارش کے) پانی سے ہر جاندار چیز بنائی کیا پھر بھی ایمان نہیں لاتے ؟

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں اس لئے پہاڑ بنائے کہ ان لوگوں کو لے کر ہلنے (نہ) لگے اور ہم نے اس میں کشادہ کشادہ رستے بنائے تاکہ (ان کے ذریعے) وہ (اپنی) منزل پر پہنچیں

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور یہ لوگ اس (کے اندر) کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے کہ اس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے یہ سب آسمان (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے کسی بشر کے لئے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں فرمایا پھر اگر آپ کا انتقال ہوجائے تو کیا یہ لوگ (دنیا میں) ہمیشہ رہیں گے ؟

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جاندار موت کا مزہ چکھے گا اور (لوگو ! ) ہم تم کو بری اور بھلی (حالتوں) میں خوب آزماتے ہیں اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں (کہتے ہیں) کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کرتا ہے اور (خود) یہ لوگ رحمن (اللہ) کے ذکر سے منکر ہیں

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان (جلد باز ہے گویا) جلد بازی سے بنایا گیا ہم عنقریب تم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھا دیں گے تو تم جلدی نہ کرو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ (جس عذاب کے آپ خبر دیتے ہیں) کب تک آئے گا اگر آپ سچے ہیں تو ؟

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اے کاش ! کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے چہروں پر سے آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ ان پر (قیامت) ناگہاں واقع ہوگی سو ان کو بدحواس کردے گی پھر نہ وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ اس کی مہلت دی جائے گی

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور بیشک آپ سے پہلے پیغمبروں کا بھی مذاق اڑایا گیا تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا تھا سو ان پر وہ (عذاب) واقع ہوگیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ، اب کوئی بھی چاہے تو اس بنیادی بات کو تبدیل نہیں کرسکتا ، وجود حیوانی نطفہ سے بنایا تو نباتات کے بیج تراوت سے اگائے ، انسانی ، حیوانی غذا کا اہم جز پانی ٹھہرا تو نباتات کا حال بھی یہی ہے جس کی قدرت کاملہ کی عظمت اس قدر ظاہر ہے کیا یہ اس کے ساتھ بھی ایمان نہیں لانے والے ۔ دوسری بات دیکھیں کہ ہم نے زمین کے مختلف حصوں پہ پہاڑوں کا بوجھ لاد کر اسے جما دیا مختلف نعمتوں کے لیے وہ خزانہ اور بنک بن گئے اور نہ صرف زمین کے قرار کا باعث ٹھہرے کہ جھولتی نہ رہے بلکہ زمین پر سفر کرنے اور جگہوں اور راستوں کے تعین کا کام بھی کرتے ہیں یعنی اگر ساری زمین چٹیل میدان یا صحرا ہوتی تو انسان راستوں ہی میں کھویا رہتا ، یہ نشیب و فراز انسانی رہنمائی بھی تو کرتے ہیں کہ منزل کی راہ اور سمت سے واقفیت دلاتے ہیں نیز اس تمام نظام پر آسمان کی کس قدر محفوظ چھت تان دی ہے جو نہ پرانی ہوتی ہے اور نہ ٹوٹتی ہے ، پھر جس طرح سارے گھر کو چھت تحفظ فراہم کرتی ہے ، تمام نظام دنیا کا سیکرٹریٹ بھی تو اسی چھت میں ہے کہ سب نظام کو تحفظ فراہم کر رہی ہے یہ منکرین ایسے بدنصیب ہیں کہ اتنی بڑی بڑی نشانیوں سے بیخبر ہیں ، وہی تو ہے جس نے رات اور دن پیدا فرمایا اور سورج اور چاند کو پیدا کیا جو سب کے سب اپنے اپنے مدار میں پھرتے ہیں یعنی اللہ جل جلالہ ایسا قادر اور علیم ہے کہ شب وروز بنا کر حیات کی راہیں تخلیق فرما دیں اور چاند ستارے اور سیارے سب کچھ ایک نظام میں پرو کر تانا بانا چلا دیا ، اب ہر شے اپنے وقت مقررہ پر اپنے اپنے مدار میں اپنی خاص رفتار اور سمت میں ہر آن متحرک ہے یہی حرکت رات دن گرمی سردی اور حیات وزندگی کا باعث بن رہی ہے ، وہ ایسا قادر ہے کہ ان کی ہر حرکت ، روشنی ، گرمی سردی ۔۔۔۔۔۔ میں رائی برابر فرق نہیں آنے دیتا ، لیکن جب چاہے گا تو کسی بھی جگہ ذرا سی رکاوٹ ڈال دے گا جو سارے نظام کو الٹ پلٹ دے گی مگر یہ سب لاحاصل نہ ہوگا بلکہ ہر ایک کو اس کا نتیجہ بھگتنا ہوگا ۔ (موت کیا ہے) کفار کا یہ خیال کہ آخر آپ ﷺ کب تک رہیں گے آخر موت کی آغوش میں چلے جائیں گے اور یہ بات ختم ہوجائے گی تو ان کی یہ بات درست نہیں کہ موت تو انہیں بھی آئے گی تو کیا موت سے معاملہ ختم ہوجائے گا ہرگز نہیں بلکہ اصل بات تو یہی ہے کہ موت کی تیاری کی جائے اور موت کیا ہے یہ تو زندگی کا ایک حال ہے جس میں سے ہر متنفس کو گزرنا ہے یہاں زمینی مخلوق کو ہے لہذا بالائے آسمان کی مخلوق فرشتے یا جنت کی مخلوق پہ موت آئے گی یا نہیں یہ الگ بحث ہے بعض کے نزدیک ایک لمحہ تو سب پر موت وارد ہوگی اور بعض کے نزدیک فرشتے اور حور غلمان اس سے مستثنی ہیں ، بہرحال یہاں بات انسانی حیات کی ہو رہی ہے تو ارشاد ہوتا ہے کہ موت زندگی کے خاتمے کا نام نہیں اس کے حال کو موت کہا جاتا ہے مگر یہ نہ روح کی فنا کا نام ہے اور نہ اجزائے بدن سے لاتعلق ہونے کا ، ہاں وہ تعلق ختم ہوا جس سے حیات دنیا قائم تھی اور یہ عمومی قاعدہ ہے ورنہ کافر اور مومن کی موت میں فرق ہے ، مومن عام اور شہید میں اتنا فاصلہ ہے کہ شہید کی روح کا تعلق اس قدر مضبوط رہتا ہے کہ اسے مردہ کہنا جائز نہیں اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تعلق اس سے بھی مضبوط تر ، اسی کو حیات النبی کہا گیا ہے کہ موت وارد ہو کر بھی حیات کی نفی نہیں کر پاتی صرف دار تکلیف سے دار بقا کو جانے کا باعث ہوتی ہے اسی لیے ارشاد ہوا کہ (آیت) ” کل نفس ذآئقۃ الموت “۔ کہ ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا کہ گویا موت خاتمہ نہیں ایک حال کی تبدیلی ہے اور یہ کہ ہر ایک کو دکھ ہی ہوگا تو یہ ایک امر طبعی ہے ورنہ اہل اللہ کو یہ دکھ بھی راحت دیتا ہے کہ جب ان کی نگاہ دنیا کی قید سے آزادی اور محبوب کی بارگاہ میں باریابی کی طرف جاتی ہے تو اس کی راحت الگ ہے یہ وہ طلب ہے جو طلب ہے جو موت کی تلخی میں بھی امید کی شیرینی ملادیتی ہے اس کے مقابلے میں دنیا کی دولت یا راحت میں عمر ضائع کرنا دانشمندی نہیں کہ دنیا کا ہر حال وہ راحت ونعمت ہو یا تکلیف ومصیبت دراصل ایک امتحان ہے جس سے تمہیں آزمایا جا رہا ہے کسی کو مصیبت میں کہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے یا غیر اللہ کی طرف دوڑتا ہے تو دوسرے کو راحت میں کہ اطاعت کرتا یا تکبر میں گرفتار ہو کر تباہی کی طرف چلتا ہے کہ انجام کار تو سب کو موت ہی کے راستے سے گذر کر ہمارے ہی پاس آنا ہے آپ ان کفار کو دیکھتے ہیں یہ ہمہ وقت آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں دیکھو یہ تمہارے بتوں کو باطل کہتا ہے اور ان کی عبادت سے روکتا ہے یعنی وہ آپ کو تنقید کانشانہ بنا رہے ہیں کہ آپ بتوں پر ایمان کیوں نہیں لاتے جبکہ ان اپنا حال یہ ہے کہ اللہ کریم جو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے اور جس کی رحمانیت ہی کے طفیل یہ بیشمار نعمتیں حاصل کر رہے ہیں کہ نہیں مانتے اور اس کے ذکر سے انکار کرتے ہیں تو قابل مذمت حال تو ان کا اپنا ہے مگر بغیر غور وفکر کے فتوی دینے میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں جبکہ جلد بازی کبھی اچھی نہیں ہوتی ، انھیں غور وفکر اور سوچ بچار سے فیصلہ کرنا چاہیے تھا ۔ (جلد بازی کبھی بھی اچھی نہیں ہوتی) مگر انسان کے مزاج میں جلد بازی ہے اور وہ تمام کمزوریاں جو انسانی مزاج میں ہوں ان علاج اللہ سے ایمان ہے یہ اس سے محروم ہیں تو پھر پھر انہیں کا شکار ہو رہے ہیں مگر خیر جلدی نہ کرو میں تمہیں بہت روشن اور واضح نشانیاں دکھا دوں گا کہ حق و باطل کا صاف پتہ چل جائے گا جیسا کہ بعد میں ، احد اور فتح مکہ سے اسلام کی کامیابی اور کفر و باطل کی تباہی ظاہر ہوگئی ، لہذا ذرا ٹھہرو۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو پھر قیامت کہاں ہے آپ کے سچے ہونے کا یہ معنی تو نہیں کہ جہاں کوئی انکار کرے قیامت قائم ہوجائے بلکہ ہر کام اپنے مقررہ وقت پر ہوگا اور ضرور ہوگا ، انکار کرنے والے کتنے بیخبر ہیں کاش یہ جان لیتے کہ کفر کا نتیجہ جہنم کی آگ ہے جو ان کے خوبصورت چہروں اور نازک جسموں کو جلا رہی ہوگی اور ان میں اتنی سکت نہیں ہوگی کہ اپنے منہ یا جسم سے آگ کو ہٹا سکیں اور نہ ہی کوئی ہستی وہاں ان کی مدد کرسکے گی بلکہ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوگا کہ یہ دنیا اور بال بچوں میں مصروف ہوں گے تو انھیں اچانک موت اچک لے گی اور آخرت سامنے آجائے گی یہ تو مبہوت ہوجائیں گے کہ نہ تو موت اور آخرت کی سختیوں کو روک سکتے ہوں گے اور نہ عمل کی مہلت ہی باقی ہوگی کہ توبہ کا لمحہ بھی گذر چکا ہوگا ۔ ایسا پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ بھی ہوا صرف آپ کے ساتھ نہیں مگر گزشتہ اقوام کی تاریخ بھی گواہ ہے کہ مذاق کرنے والوں پر ان کا ٹھٹھا مذاق ایسا الٹ کر پڑا کہ تباہ وبرباد ہو کر ہمیشہ کے لیے باعث عبرت بن گئے اگر یہ بھی باز نہ آئے تو ان کی تباہی بھی انہیں درس عبرت بنا دے گی ، یہی قانون فطرت ہے ۔
Ayahs 21:42–50

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ کون ہے جو رات اور دن رحمن (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت فرماتا ہے بلکہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے ذکر سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ اور معبود ہیں جو ان کو (عذاب سے) بچا سکیں وہ اپنی مدد تو کر نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ دیئے جائیں گے

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو فائدہ حاصل کرنے دیا یہاں تک کہ (اسی حال میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں پھر کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں تو کیا یہ لوگ غلبہ پالیں گے ؟

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ بیشک میں تم کو اللہ کے حکم کے مطابق (عذاب سے) ڈراتا ہوں اور یہ بہرے جس وقت (عذاب سے) ڈرائے جاتے ہیں تو پکار کو سنتے ہی نہیں

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر ان کو آپ کے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو ضرور کہنے لگیں گے وائے ہماری کم بختی یقینا ہم ہی ظلم کرنے والے تھے

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو کھڑا کریں گے اور کسی شخص کی (ذرا بھی) حق تلفی نہ کی جائے گی اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاموجود کریں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو ایک فیصلہ کی روشنی کی اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت کی کتاب عطا فرمائی

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ مبارک ذکر (قرآن) ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو ؟

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف ان سے فرمادیجیے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی شب روز کوئی ان کی نگہبانی کر رہا ہے یہ تو صرف اللہ جل جلالہ کی رحمانیت ہے جس کے صدقے یہ دنیا کی نعمتیں حاصل کر رہے ہیں حالانکہ یہ اس کی یاد تک سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ (رحمانیت) پہلے گذر چکا ہے کہ رحمانیت وہ کیفیت ہے جو دار دنیا میں انسانوں کو وجود ، عمریں ، رزق وغیرہ عطا کرتی ہے اسی لیے باقی مخلوق میں سے کوئی ذکر سے غافل ہو تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے مگر انسان جب تک فرصت دیا گیا ہے ظاہری بدن سے ضرور زندہ رہتا ہے اگرچہ اندر سے یہ بھی مردہ ہی ہوجاتا ہے کہ روح کی حیات کی بنیاد تو ایمان ہے مگر یہ بھی صرف دنیا میں کہ موت اور بعد موت رحیمیت کا اظہار ہوگا اسی لیے فرمایا گیا کہ ” رحمن لدنیا ورحیم لا اخرۃ “۔ تو دنیا میں اگر انہیں کچھ فرصت نصیب ہے تو یہ ان کے بتوں کا کمال ہرگز نہیں کیا وہ انہیں اللہ جل جلالہ کی گرفت سے بچا سکتے ہیں جو خود اپنی ذات کی حفاظت تک نہیں کرسکتے کوئی انہیں توڑنا چاہے تو اس کا ہاتھ نہیں روک سکتے ، ان کے علاوہ بھی کوئی ایسا راستہ نہیں کہ اللہ جل جلالہ کے مقابلہ میں کوئی ان کی مدد یا حفاظت کرسکے ، یہ تو ہماری عطا ہے اور رحمانیت باری کا کرشمہ کہ ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا بھر کی نعمتیں دیں اور مدتوں اور نسل درنسل اس پر موج کرتے رہے اور اللہ جل جلالہ کا شکر تک ادا نہ کیا ، اس کا نام تک نہ لیا مگر کب تک کیا اب انہیں نظر نہیں آرہا کہ ہر طرف سے فتوحات اسلامی گھٹاوں کی طرف امڈی چلی آ رہی ہے اور کفر کے لیے زمین تنگ ہو رہی ہے کیا یہ ابھی تک اس گمان میں ہیں کہ یہ غالب آجائیں گے ؟ (مسلمان اور تسخیر کائنات) مذکورہ بالا آیہ مبارکہ میں آخرت کے عذاب سے پہلے کافر کو اللہ جل جلالہ نے مومن کی گرفت کی خبر دی ہے اور اس حال میں جب مسلمانوں کے پاس صرف اللہ جل جلالہ کا نام تھا اور سارے وسائل کفار کے پاس تھے دولت ، سلطنت ، اسلحہ اور افرادی قوت سب کافروں کے پاس تھی مگر اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ مومن فوجیں اللہ جل جلالہ کے حکم سے تم پر زمین تنگ کرتی آرہی ہیں اور مومن پر ہر حال میں اور ہر زمانے میں جب تک دنیا پر کفر ہے جہاد فرض کردیا اور واقعی کفر کے لیے زمین تنگ ہوگئی مگر آج خود مسلمان اسلام سے دور اور کافر کی پیروی میں کھو گیا اور ذلت سے دوچار ہے آج جبکہ بیشتر وسائل مسلمان کے پاس ہیں پھر بھی کفر سے مار کھا رہا ہے اللہ جل جلالہ مسلمانوں کو ہدایت پر جمع فرمائے ، آمین !۔ انہیں فرمایئے کہ میری اطلاع محض ایک بندے کی بندے سے بات نہیں بلکہ میں جو کفر اور نافرمانی کے نتائج بد کی خبر دے رہا ہوں تو یاد رکھو یہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے مجھے وحی کی جاتی ہے جس کی صداقت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ، ہاں کفر نے تمہارے کان سخت بہرے کردیے ہیں کہ تم اپنے بھلے کی اور خود کو ایک بڑی مصیبت سے بچانے کی بات بھی نہیں سن پا رہے ، جب قوت سماعت ہی سے کوئی محروم ہوگا تو کیا خاک سنے گا مگر یہ یقینی بات ہے کہ عذاب الہی سمجھ کی سب کھڑکیاں کھول دے گا انہیں اگر ابھی ذرہ برابر عذاب آخرت پہنچ جائے تو پکار اٹھیں گے کہ کاش ہم نے کفر سے توبہ کرلی ہوتی ۔ اللہ جل جلالہ سے دوری اختیار کرکے ہم نے بہت بڑا ظلم کیا مگر یہ تب پتہ چلے گا جب ہم انصاف کا ترازو رکھیں گے کہ روز قیامت ہر شخص کے نیک وبداعمال کو ایسے کھرے طریقے سے تولا جائے گا کہ کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوگی حتی کہ اگر کسی کا بہت معمولی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو بھی حاضر کیا جائے گا کسی کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ضائع نہ ہوگا اور بھلا ہم جیسا حساب کرنے والا کون ہو سکتا ہے لہذا ایسا حساب کریں گے کہ پھر کبھی حساب کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی ۔ آپ نے کوئی بھی نئی بات نہیں کی بلکہ جن انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے کا دعوی یہ بھی رکھتے ہیں جیسے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) تو ان کو بھی ہم نے جو کتاب عطا کی تھی وہ حق و باطل میں فیصلہ کرنے والی تھی اور دلوں کا نور تھی نیز نصیحت اور اللہ کا ذکر اس کی یاد اس کے قرب کا سبب تھی یہی سب حقائق انھوں نے بھی بتائے جن سے یہ بدبخت منہ پھیر رہے ہیں ، اس لیے ایمان تو غائبانہ مطلوب ہے بھلا عذاب اور جہنم کو دیکھ کر کون انکار کرسکے گا یہاں تو نبی کی صداقت کتاب کی عظمت اور اللہ جل جلالہ کی قدرت اور اس کے مظاہر ایسے دلائل ہیں کہ بغیر دیکھے آخرت ، عذاب وثواب اور انبیاء کرام ﷺ کی تعلیم پر ایمان لانے کیلئے کافی ہیں جسے یہ ایمان نصیب ہوجائے اور قیامت کے حساب وکتاب کی فکر کرنے لگے اس کے لیے کتب الہی میں نور قلبی کے خزانے بھرے ہیں ، اب یہی کتاب دیکھیں کہ کس قدر تجلیات باری اور انوار الہی کا خزانہ ہے جو اب ہم نے نازل فرمائی ہے یعنی قرآن حکیم ، اس کا اللہ جل جلالہ کی طرف سے نازل ہونا کس قدر ظاہر ہے اور ثابت مگر تم تو اس کا بھی انکار ہی کرو گے ۔