19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 19:51–65

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور اس کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے بلا شبہ وہ (اللہ کے) خاص کیے ہوئے (بندے) تھے اور وہ پیغمبر (اور) نبی تھے

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب سے آواز دی اور باتیں کرنے کے لئے انہیں نزدیک بلایا

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے ان کو ان کا بھائی ہارون نبی بنا کر عطا فرمایا

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے بیشک وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے (پیغمبر ، اور) نبی تھے

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اپنے متعلقین کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرماتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ تھے

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور اس کتاب میں اور پس (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے بیشک وہ صدیق (اور) نبی تھے

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اٹھا لیا تھا

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے من جملہ دیگر انبیاء کے انعام فرمایا۔ آدم (علیہ السلام) کی نسل سے اور ان لوگوں (کی نسل) سے جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی نسل سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت فرمائی اور مقبول بنایا ، جب ان کے سامنے رحمن کی آیات پڑھی جاتیں تو سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے (زمین پر) گر جاتے تھے

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد (بعض) ایسے ناخلف جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا اور خواہشات (نفسانی) کی پیروی کی۔ پس یہ لوگ عنقریب خرابی دیکھیں گے

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے ، سو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا بھی نقصان نہ کیا جائے گا

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

وہ ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کا رحمن نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے۔ بیشک اس کی وعدہ فرمائی ہوئی چیز کو یہ ضرور پہنچیں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

اس میں کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے ، صرف سلام سنیں گے اور وہاں ان کو صبح اور شام ان کا کھانا ملا کرے گا

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے لوگوں کو مالک بنائیں گے جو پرہیزگار ہوں گے

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور (فرشتوں نے عرض کیا) ہم آپ کے پروردگار کے حکم کے بغیر نہیں اتر سکتے۔ جو کچھ ہمارے آگے اور جو کچھ پیچھے اور اس کے درمیان ہے (یعنی سب کچھ) اسی کا ہے اور آپ کا پروردگار بھولنے والا نہیں

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا پروردگار ہے تو (اے مخاطب ! ) اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر قائم رہو بھلا تم اس کا کوئی اور ہم نام (ہم صفت) جانتے ہو

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔ (حفاظت الہیہ) یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں اللہ جل جلالہ کی حفاظت نصیب ہوتی ہے ، اگر بتقاضائے بشریت کوئی لغزش ہو بھی جائے تو فورا توبہ نصیب ہوتی ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے منتخب کردہ بندے اس کے رسول اور نبی تھے انبیاء کرام (علیہ السلام) میں نبوت تو سب میں قدر مشترک ہے مگر رسالت ان حضرات کو نصیب ہے ۔ (رسول اور نبی) جو نئی شریعت لے کر مبعوث ہوئے لیکن اگر غیر نبی کو رسول کہا جائے تو مراد پیغام لے جانے والا یا قاصد ہوگا اس کا نبی ہونا ثابت نہ ہوگا جیسے وحی لانے والے فرشتے کو ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اللہ جل جلالہ کے وہ مقرب رسول تھے کہ انہیں ہم نے راز کی باتیں کہنے کے لیے طور پہاڑ پر طلب فرمایا یعنی لوگوں اور آبادی سے کٹ کر محض اپنے ساتھ باتیں کرنے کے لیے یہ عزت بخشی اور ان کی درخواست پر ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبوت عطا کر کے ان کا دست وبازو بنا دیا ، یہاں ثابت ہے کہ خلق سے کٹ کر اور تنہائی میں یا پھر پرسکون جگہ پر ذکر کرنا بہت مفید ہے ۔ (عزلت نشینی) آپ اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جن کے ساتھ مشرکین عرب بھی رشتہ جوڑتے ہیں اور پھر اللہ جل جلالہ پر جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ تو وعدے کے سچے اور کھرے تھے اور اللہ کے رسول اور نبی تھے یعنی مخلوق کو اللہ جل جلالہ کے ساتھ جوڑنے والے تھے جیسے تم اللہ جل جلالہ سے دور کر کے بتوں کی عبادت پر مجبور کرتے ہو اور وہ تو نہ صرف خود اللہ جل جلالہ کی عبادت کرتے تھے بلکہ اپنے اہل و عیال کو اور اپنے گھر کے افراد کو بھی اللہ جل جلالہ کی عبادت کا حکم دیتے اور زکوۃ ادا کرنے کو کہتے تھے جبکہ مشرکین مکہ خود کو لوگوں کی طرح عبادات کا محتاج نہ جانتے تھے ، حج میں بھی دوسروں کی نسبت کم ارکان مقرر کر رکھے تھے اور وہ تو اپنے پروردگار کے بہت ہی پیارے اور پسندیدہ تھے آپ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمائیے جو صدیق تھے اور نبی بھی ، اور ہم نے انہیں بہت بلند مقام عطا فرمایا کہ مفسرین کے مطابق اپنے عہد کے بہت بڑے عبادت گذار بھی تھے اور اللہ جل جلالہ نے انہیں اس قدر عبادات کی توفیق بخشی تھی کہ اس دور کے سب مسلمانوں سے ان کی عبادت اور اعمال جو آسمان کو جاتے زیادہ ہوتے تھے بعض حضرات نے ان کا جسمانی طور پر اٹھایا جانا مراد لیا ہے کہ انہیں موت بھی آسمان چہارم پہ نصیب ہوئی جیسا کہ حدیث معراج میں ارشاد ہے کہ آپ ﷺ کی ملاقات ان سے چوتھے آسمان پر ہوئی ، یہ آدم (علیہ السلام) کے قریب تر تھے ، پھر نوح (علیہ السلام) کے ساتھ سواری والوں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا یہ سب وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں جن کو اللہ جل جلالہ نے انعامات سے نوازا اور نبوت سے سرفراز فرمایا ، آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے یعنی کسی بنی نبی میں الوہیت کے اوصاف نہ تھے بلکہ سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہے پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سام بن نوح کی اولاد اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) ان کی اولاد اور اولاد یعقوب (علیہ السلام) میں جو نبی گزرے تا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ سب اللہ کے ہدایت یافتہ بندے تھے اور اللہ جل جلالہ کے چنے ہوئے اور محبوب تھے اور اللہ جل جلالہ کی آیات سن کر سربسجود ہوتے تھے اور رقت قلبی کے باعث ان کے اشک رواں ہوتے ۔ (عبادات وتلاوت میں گریہ) عبادات وتلاوت میں گریہ طاری ہونا رقت قلبی کی دلیل ہے جو عند اللہ بہت پسندیدہ شے ہے اور ان انعامات میں سے ہے جو انبیاء کرام ﷺ کی خصوصی اطاعت سے نصیب ہوتے ہیں بخلاف اس کے کہ مشرکین سے لے کر یہود ونصاری تک نے انھی حضرات کے نام سے اپنی مشرکانہ رسومات وابستہ کر رکھی ہیں مگر یہ رسومات بعد کی ایجاد ہیں کہ انکے بعد ان کی جگہ ناخلف اور نااہل لوگ آئے جنھوں نے عبادات کو تو ضائع کردیا ۔ (رسومات کی ایجاد) حتی کہ عبادات کی فرضیت تک سے انکار کر کے کافر ہوئے اور نفس پرستی ، حصول دنیا اور حصول ہوس اقتدار میں اسیر ہو کر تباہ ہوئے اور عبادات کی جگہ رسومات ایجاد کر کے دوسروں کی گمراہی اور تباہی کا باعث بنے ، یہی حال بہت بڑے بڑے اہل اللہ کا ہوا کہ ان کے بعد نااہل لوگ ان کی جگہ پر قابض ہوگئے اور ہدایت کے کاموں سے ہٹ کر لوگوں کو رسومات میں مبتلا کردیا ، اور اس طرح خود خود دولت کماتے اور عیش کرتے رہے العیاذا باللہ مگر ایسے سب لوگ جہنم کے ایک بہت گہرے غار میں پھینکے جائیں گے جہاں ہر طرح کے عذاب جمع ہوں گے اور پھر عیاشی کا عذاب الگ سے موجود ہوگا نیز جس قدر بلندی کی ہوس تھی اس سے کئی گنا پستی میں دھکیل دیے جائیں گے سوائے ان لوگوں کے کہ جنہیں ان میں سے بھی توبہ نصیب ہوگئی اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے عقیدہ درست کرے اور اس عقیدے کے مطابق عمل اختیار کرے ۔ (توبہ کی حقیقت) اس لیے ارشاد ہوا کہ توبہ کیا ہے ، ایمان لائے اور نیک اعمال کرے ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور ان سے ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی کہ ایسی توبہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور بعض اوقات انہیں نیکیوں میں بدل دیتی ہے ۔ (اضاعت صلوۃ اور اتباع شہوات) صلوۃ کو ضائع کرنا یہ بھی ہے کہ ادا کرنے والا اس کے اوقات کا لحاظ نہ کرے یا وضو اور لباس میں کوتاہی کرے یا قیام اور رکوع سجود درست نہ ہو تو یہ سب ضائع کرنا ہوگا نیز عبادات سے بیخبر ہو کر ہوس زر میں مبتلا ہونا اور محض اچھا کھانے پہننے یا عالی شان مکان بنانے کا شوق اتباع شہوات ہے لیکن اگر عبادات نصیب ہوں حلال کمائے اور عزت سے رہے تو یہ اللہ جل جلالہ کا احسان ہے ۔ جنت کے ان باغوں میں رہیں گے جن کا اللہ جل جلالہ نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ، صحیح عقیدہ اور نیک عمل والے لوگ اسے یقینا پالیں گے جہاں کوئی فضول کلام تک نہ ہوگا سوائے سلامتی کی باتوں کے اور صبح وشام یعنی ہر آن بہترین رزق انہیں میسر ہوگا یہ نعمتیں اور یہ باغ میرے نیک اور پرہیز گار بندوں کو ان کی میراث کے طور پر ملیں گے اور کفار کو یہ بھی بتا دیجئے کہ فرشتہ ویسے ہی وحی نہیں لاتا بلکہ رب العلمین کے حکم سے نازل ہوتا ہے اور اس میں ذرہ برابر گھٹانے بڑھانے کا اختیار نہیں رکھتا اس کے چہار طرف ہر چیز کا اور خود اس کا مالک اللہ ہے جو کبھی بھولتا بھی نہیں ، اے مخاطب وہی تو پروردگار ہے آسمانوں زمینوں کا اور جو کچھ ان میں ہے اس کا بھی لہذا ہر آن اسی کی عبادت و اطاعت پر کمر بستہ رہ کر اس کی عبادت چھوڑنے والا کسی دوسرے کی اطاعت و عبادت کرنے والا ہے ۔ (عبادت قبولیت کی دلیل ہے) اور کبھی تو نے اس کے برابر کا کوئی نام سنا ہے یعنی کوئی اس جیسا نہیں لہذا عبادت چھوڑنے والا تباہی کی طرف جانے والا ہے اور جسے توفیق عبادت ہو یہی قبولیت کی دلیل ہے ۔
Ayahs 19:66–82

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور (بعثت کا منکر) انسان کہتا ہے بھلا جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کرکے (قبر سے) نکالا جاؤں گا

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا انسان اس بات کو نہیں سمجھتا کہ بیشک ہم نے اس کو پہلے بھی تو پیدا فرمایا تھا اور وہ کچھ بھی نہ تھا

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

سو قسم ہے آپ کے پروردگار کی ہم ان کو ضرور جمع فرمائیں گے اور شیاطین کو بھی پھر ان کو ضرور جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اس حال میں) کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر گروہ سے پرور ایسے لوگوں کو الگ کرلیں گے جو رحمن سے سخت سرکشی کرتے تھے

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں نے خوب واقف ہیں جو اس (جہنم) میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی نہیں مگر اسے اس پر سے گزرنا ہوگا یہ آپ کے پروردگار پر لازم (اور) مقرر ہے

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان (کفار) کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں تو یہ کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ کس فریق کے مکان اچھے اور کس کی محفل اچھی ہے ؟

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں جو سامان اور نمود ونمائش میں (ان سے) بھی اچھی تھیں

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

فرمادیجئے جو شخص گمراہی میں پڑا ہو پس رحمن (اللہ) اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت ، تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور اللہ ہدایت والوں کو (دنیا میں) ہدایت زیادہ کرتے ہیں اور (آخرت میں پتہ چلے گا کہ) جو نیک کام ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ وہ آپ کے پروردگار کے نزدیک ثواب (بدلہ) میں بہتر ہیں اور انجام میں بھی بہتر ہیں

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات سے کفر کیا اور کہتا ہے مجھ کو ضرور (آخرت میں) مال اور اولاد ملیں گے

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اس نے غیب کی خبر پالی یا اس نے رحمن (اللہ) سے (اس بات کا) عہد لے لیا ؟

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! ہم اس کا کہا ہوا لکھ رکھیں گے اور اس کے لئے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جائیں گے

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور یہ جو (چیزیں) بتاتا ہے ، اس کے وارث ہم ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر معبود بنا لیے ہیں تاکہ ان کے لئے (اللہ کے پاس) وہ باعث عزت ہوں

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! وہ (معبود) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہوں گے

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف منکرین قیامت کی یہ حیرت اور دعوے بےاصل ہیں کہ جب مر کر فنا ہوجائیں اور بدن خاک ہوچکا ہوگا تو بھلا کیسے جی اٹھیں گے ، ان میں اتنا بھی شعور نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جب کچھ بھی نہ تھا اور مادے کا وجود بھی نہ تھا تو خالق کل نے ہر شے کو پیدا فرمایا انہیں بھی وجود بخشا بھلا موت کے بعد دوبارہ بنانا اسے کیا مشکل ہے ، اگر یہ بھی نہ ہو تو یہ بات تو کفار کو بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ منی کے ایک قطرے کے بھی کہیں لاکھویں حصے سے وجود بنتا ہے تو مر کر بھی بدن مادے ہی کی کسی صورت میں جائیگا تو اس مادے کو دوبارہ وجود بنا دینا اور زندگی دینا اس خالق کو مشکل نہیں جو پہلے بھی ایسا کرچکا ہے جو تمہارے سامنے ہے ۔ (حشر شیاطین اور انسانوں سے ان کا ربط۔ یورپ کی حاضرات) تیرے پروردگار کی قسم یعنی اس کی ربوبیت اس بات کی دلیل ہے کہ سب کفار کو اس حال میں جمع کیا جائے گا کہ ان کے شیاطین بھی ان کے ساتھ ہوں گے ، اور وہ سب جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے ، حدیث شریف میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ بھی ایک شیطان پیدا ہوتا ہے جو زندگی بھر اس کے ساتھ رہتا ہے کافر پر تو وہ مسلط کردیا جاتا ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے اور مومن کا زندگی بھر اس سے مقابلہ رہتا ہے ، پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کے ساتھ بھی ہے تو ارشاد ہوا ۔ (شان ہدایت) ہاں مگر میرا شیطان مسلمان ہوگیا ہے سبحان اللہ کیا شان ہدایت ہے کہ شیطان کو آپ سے رابطہ ہوا تو وہ بھی مسلمان ہوگیا ، یہ بہت طویل العمر ہوتے ہیں اور انسنا کی موت کے بعد بھی اس کی قبر پر یا جہاں جسم کے ذرات ہوں وہاں رہتے ہیں ، یورپ میں جو حاضرات کے لیے عمل کیا جاتا ہے اس میں مرنے والے کی شکل میں یہی حاضر ہوتے ہیں اور چونکہ زندگی بھر کے حالات لباس شکل اور سوچ تک سے واقف ہوتے ہیں لہذا لوگوں کی گمراہی کا باعث بنتے ہیں ، یہ ابلیس کی دوسری اولاد کے علاوہ ہوتے ہیں ۔ (لفظ شیعہ قرآن کی اصطلاح میں) پھر ہر اس کافر گروہ میں سے جو خود کو ہدایت پہ جانتا ہے ان کے سب سے زیادہ سرکش لوگوں کو الگ کرلیا جائے گا اور اس کے لیے کسی تفتیش کی ضرورت بھی نہ ہوگی کہ ہم خود ہر ایک انسان سے خوب واقف ہیں ، لہذا ان سرکش لوگوں کو دوسروں کے آگے لگا کر جہنم میں ڈالا جائے گا ، لفظ شیعہ کے معنی اگرچہ گروہ یا فرقہ کا ہے مگر قرآن حکیم نے ہمیشہ ایسے کافر گروہ پر بولا ہے جو خود کو ہدایت پہ سمجھنے کا دعوے دار بھی ہو اور بدترین کافر بھی ایسا کافر جسے سیدھا جہنم میں گرنا ہوگا اور یوں تو اے انسانو ! تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو جہنم پر سے نہ گزرے گا کافر اس میں گرتے جائیں گے اور مومن پل صراط کو عبور کرتے چلے جائیں گے کہ کفر کے انجام بھی دیکھتے ہوں گے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے ضرور ہوگا ہاں مومن کو نجات ہوگی یعنی وہ دیکھتا ہوا گذر جائے گا جبکہ کافر اوندھے منہ جہنم ہی میں گرجائیں گے ۔ (سزا ازجنس اعمال) ان کی اس ذلت کا سبب خود ان ہی فلسفہ ہوگا یعنی سزا اعمال ہی کی جنس سے ہوگی کہ دنیا میں وہ اکڑتے بھی تھے تو کفر کے سبب دوزخ میں گرے اور اکڑنے کی وجہ سے سر کے بل الٹے ہو کر گرے جب آیات الہی سنتے تو مومنین سے کہا کرتے تھے کہ بھلا دنیا میں مال و دولت کے اعتبار اور معاشرے میں مقام کے اعتبار سے کون بہتر ہے تم یا ہم یعنی اگر ہم اللہ کے مقبول نہ ہوتے تو دولت واقتدار نہ ملتا ، انہیں کہئے کہ دولت واقتدار تو تم سے پہلے کفار کے پاس بھی تھے مگر انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے ۔ (دولت دنیا اور اقتدار ہدایت کی دلیل نہیں) بلکہ تم سے دولت مند اور طاقتور کافر قومیں تھیں جو تباہ ہوگئیں ، دولت دنیا قبولیت کی دلیل نہیں بلکہ اللہ کریم ایسے لوگوں کو وقتی طور پر مہلت دے دیتے ہیں اور جب انسان گمراہی کی طرف چل پڑتا ہے تو وہی راہ اسے آسان نظر آتی ہے مگر جب اللہ کی گرفت آتی ہے دنیا میں عذاب آئے یا آخرت وقیامت کا حساب درپیش ہوگا تو انہیں بھی خبر ہوجائے گی کہ کس کا ٹھکانہ بھی برا ہے اور کون بہت کمزور سہاروں پر بھروسہ کرتا رہا ۔ نیکی پر گامزن ہونے والوں کے لیے نیک راہ ہی آسان کردی جاتی ہے اور انہیں قوت عمل عطا کی جاتی ہے اور تیرے رب کے حضور تو باقی رہنے والی نیکیاں ہی بہت قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں کا بدلہ بہترین ہوگا ۔ ان کفار کا خیال اور سوچ ملاحظہ ہو کر دنیا میں مال اور اولاد عطا ہوئی تو بجائے شکر کے نافرمانی شروع کردی ساتھ یہ دعوی بھی ہے کہ آخرت میں بھی مجھے ہی مال و دولت اور اولاد کی نعمت عطا ہوگی ، بھلا کیا یہ غیب سے آگاہ ہیں کہ وہاں کی بات سمجھ لی یا کیا اللہ جل جلالہ نے ان سے ایسا وعدہ کیا ہے اپنے کسی نبی یا کسی کتاب کے واسطہ سے ہرگز یہیں بلکہ اس کا قانون تو واضح ہے اور ان کا یہ دعوئے کفر کے ساتھ گستاخی بھی ہے جو لکھا جارہا ہے اور ان کے عذاب کی زیادتی کا باعث بنے گا یہ مال و دولت اور اسباب راحت خویش اقارب تو چن جائیں گے اور میدان حشر میں تو پیشگی اکیلے بھگتنا ہوگی ، یہ سب کچھ تو ہمارا ہے جسے چاہیں جب چاہیں دیں یا واپس لے لیں ، ان جاہلوں نے اللہ جل جلالہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی پوجا شروع کر رکھی ہے اور امید یہ ہے کہ انہیں ایسا کرنے سے اللہ جل جلالہ کے ہاں ان کی مدد نصیب ہوگی ایسا ہرگز نہ ہوگا بلکہ حق یہ ہے کہ یوم حشر تو یہ خود بتوں کو یا اللہ جل جلالہ کے سوا جن کو پوجتے تھے سب کو برا سمجھیں گے اور اپنی تباہی کا سبب سمجھیں گے اور ان کی عزت کرنے سے انکار کردیں گے عبادت کیا کریں گے یہ تو ان کے سخت مخالف ہوجائیں گے ۔