19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 19:16–41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور آپ اس کتاب میں مریم (علیہا السلام) کا بھی ذکر فرمائیے جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی میں ایک مکان میں گئیں

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

(غسل کی غرض سے) پھر ان (گھر والوں) کے سامنے پردہ کرلیا تو ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) بھیجا تو وہ ان کے سامنے پورا آدمی بن گیا

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تم پرہیزگار ہو تو (چلے جاؤ)

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا بیشک میں تو آپ کے پروردگار کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں کہ آپ کو ایک پاکیزہ لڑکا دوں

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

وہ کہنے لگیں بھلا میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

(فرشتے نے) کہا یونہی (ہوگا) آپ کے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے اور تاکہ ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک دلیل اور انپی طرف سے (باعث) رحمت بنائیں اور یہ کام طے ہوچکا ہے

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

تو وہ (اس بچے کے ساتھ) حاملہ ہوگئیں پھر اسے لے کر دور ایک جگہ الگ چلی گئیں

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر وہ دروزہ کے مارے کھجور کے تنے کی طرف آئیں کہنے لگیں اے کاش ! میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

پس اس وقت ان سے نیچے کی جانب سے (فرشتے نے) ان کو آواز دی کہ غم نہ کریں بیشک آپ کے پروردگار نے آپ کے نیچے ایک چشمہ پیدا فرمادیا ہے

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلائیں آپ پر تازہ تازہ کھجوریں کر پڑیں گی

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

پھر کھائیں اور پئیں اور آنکھیں ٹھنڈی کریں پھر اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں تو کہیں بیشک میں نے تو رحمن کے لئے (خاموشی کے) روزے کی منت مان رکھی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز بات نہ کروں گی

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ ان کو گود میں لئے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں لوگوں نے کہا اے مریم ! تم نے کیا غضب ڈھایا

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن ! نہ تو تمہارے والد ہی برے آدمی تھے اور نہ تمہاری ماں بدکار تھیں

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

پھر انہوں (مریم علیہا السلام) نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کردیا وہ لوگ کہنے لگے بھلا اس سے ہم کیا بات کریں جو ابھی گود کا بچہ ہے

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

انہوں (بچے) نے فرمایا یقینا میں اللہ کا (خاص) بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا ہے

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور مجھے بابرکت بنایا جہاں کہاں بھی میں ہوں اور جب تک زندہ رہوں ، مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا ہے

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور اپنی ماں کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے والا (بنایا ہے) اور مجھے سرکشی ، بدبخت نہیں بنایا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور مجھ پر (اللہ کی جانب سے) سلامتی ہے جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز حلت کروں گا اور جس روز (قیامت میں) زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہیں۔ بالکل سچی بات ہے ، جس بات میں یہ لوگ جھگڑتے ہیں

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائیں۔ وہ پاک ہیں۔ جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کو فرمادیتے ہیں ہوجا ، پس وہ ہوجاتا ہے

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور یقینا اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور تمہارا بھی لہٰذاصرف اسی کی عبادت کرو ، یہی سیدھا راستہ ہے

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر مختلف فرقوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ سو ان کافروں کے لئے ایک بڑے دن کے آنے سے خرابی ہونے والی ہے

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے ، کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے۔ لیکن ظالم آج کھلی گمراہی میں ہیں

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیں ، جب بات فیصل کردی جائے گی اور وہ غفلت میں پڑے ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

بیشک ہم ہی زمین کے اور اس پر رہنے والوں کے وارث (مالک) ہیں اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا (قصہ) بیان کیجئے۔ بیشک وہ صدیق (اور) نبی تھے

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔ (اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا) کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی لہذا وہ بیت المقدس کی خادمہ کے طور پر مسجد کو دی گئیں ، اور حضرت زکریا (علیہ السلام) جو ان کے بہنوئی بھی تھے ان کی کفالت کرتے تھے جنہوں نے ان سے بہت سی کرامات کا مشاہدہ فرمایا جن کا ذکر کتاب اللہ میں گزر چکا آپ بہت عابدہ زاہدہ اور نیک تھیں لہذا جیسے انسان نظر پڑا تو پکار اٹھیں کہ میں تجھ سے اللہ جو رحمن ہے کی پناہ چاہتی ہوں اگر تجھے کچھ اللہ جل جلالہ کا خوف بھی ہے تو انہوں نے فورا خود کو ظاہر کیا ۔ (اللہ کو پکارا جائے کہ گناہ سے حفاظت فرمائے) گویا اگر ایسی بھی صورت بن جائے کہ کسی سے گناہ پر مجبور کرنے کا اندیشہ ہو اور بچنے کی سبیل نظر نہ آئے تو بھی اللہ کریم کو ضرور پکارا جائے کہ ذکر الہی بھی حصول رحمت کا باعث ہے اور رحمت الہی گناہ کے سامنے ڈھال بن جاتی ہے ، چناچہ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے عرض کیا میں تیرے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں کہ اللہ کریم تجھے فرزند عطا فرمانا چاہتا ہے اور میری پھونک کو اس کا سبب بنا دیا ۔ (اسباب اختیار کرنا ضروری ہے اور ترک ہرگز توکل نہیں بلکہ خلاف سنت الہیہ ہے) ویسے تو اولاد کے لیے مرد وعورت کا اختلاط ضروری ہے یہ قانون ہے اور وہ جیسے چاہے پیدا کرے یہ اس کی قدرت یہاں اس قانون کے خلاف صرف ماں سے پیدا فرمایا مگر عالم اسباب میں سبب کا ہونا ترک نہ فرمایا اور جبریل (علیہ السلام) کے دم اور پھونک کو سبب بنا دیا یہ بھی ثابت ہوا کہ دم اور پھونک میں یقینا اثر ہے ۔ (دم اور پھونک میں یقینا اثر ہے) منع تب ہوگا جب کوئی ناجائز کلمات پڑھے جائیں یا ناجائز مقصد کے لیے کیا جائے ورنہ اللہ کا کلام پڑھ کر پھونکنا بھی حصول رحمت کا سبب ہے اگر پڑھ کر پھونکنے والے میں وہ اوصاف ملکوتی موجود ہوں جن کے باعث اثر پیدا ہوتا ہے کہ یہاں فرشتے کی پھونک کا تذکرہ ہے ، تو انہوں نے پوچھا بھلا میری اولاد کیسے ہوگی نہ میں نے شادی کی اور نہ کبھی گناہ کا سوچا ہے تو فرمایا یہ تیرے پروردگار کی قدرت سے ہوگی جو فرماتا ہے کہ میرے لیے کچھ بھی مشکل نہیں نیز یہ عام بچہ نہ ہوگا بلکہ ایک طرف میری قدرت کاملہ کا نشان اور اظہار کا سبب ہوگا تو دوسری طرف میری رحمت کے بٹنے کا ذریعہ ۔ (رحمت باری) اور مخلوق کی ہدایت کا سبب یعنی رحمت باری یہ ہے کہ انسان کو ہدایت نصیب ہوجائے اور یہ معاملہ طے ہوچکا ہے ایسا ضرور ہوگا ، اور اب آپ کے گھبرانے سے بات ٹل نہ سکے گی ، چناچہ جبرائیل (علیہ السلام) کے پھونک مارنے سے انہیں حمل رہ گیا مگر انسانی فطرت تو اپنی جگہ قائم رہتی ہے جب معیاد پوری ہونے کو آئی تو بدنامی کے خوف سے آبادی سے باہر تشریف لے گئیں کہ انہیں تو حقیقت کا علم تھا مگر لوگوں کے منہ میں تو اپنی زبان ہوتی ہے ، چناچہ جب درد زہ شروع ہوا تو ایک کھجور کے تنے کا سہارا لیا اور گھبرا کر فرمایا کاش میں اس سے پہلے ہی مر چکی ہوتی ۔ (فطرت انسانی قائم رہتی ہے اور اسباب اختیار کرنا ضروری ہے) اور میری یاد تک لوگوں کو بھول چکی ہوتی ، یہاں بدنامی کے سبب لوگوں کا دین سے اعتماد اٹھنے اور کفار تک کو طعن کرنے کا موقع ملنے کا خطرہ تھا لہذا دینی نقصان سے بچنے کے لیے موتی کی آرزو بھی درست تھی ۔ (موت کی طلب) مگر اللہ کریم کو اور منظور تھا لہذا جبرائیل (علیہ السلام) نے پردہ سے آواز دی کہ حیا کے سبب ایسی حالت میں سامنے نہ آئے کہ آپ پریشان نہ ہوں ، اللہ کریم نے آپ کے لیے بہترین پانی کا چشمہ پیدا کردیا ہے اور اسی خشک اور ویران تنے کو ہلائیں تو مزیدار پکی ہوئی کھجوریں گریں گی ، کیسی عجیب بات ہے قادر مطلق نے صحرا میں چشمہ جاری فرما دیا اور خشک درخت سے پکا پھل عطا فرمایا مگر اپنے جاری کردہ فطری قوانین کا کس قدر لحاظ رکھا کہ معجزاتی طور پر بھی پانی اور کھجور عطا فرمائے ۔ (علاج اور دوا) جو ولادت کے وقت بہترین علاج بھی ہے اگر عورت کو پانی میں بھگو کر کھجور کھلائی جائے تو بچہ آسانی سے پیدا ہوجاتا ہے نیز سوکھے تنے کو ہلانے کا حکم دے کر ثابت فرمایا کہ حصول رزق کے لیے نرے وظائف نہ پڑھے جائیں ممکن حد تک کوشش اور محنت بھی ضروری ہے چناچہ چاند سا بیٹا عطا ہوا اور ارشاد ہوا کہ آپ کے پاس غذا ایسی ہے جو دوا بھی ہے کھائیں پئیں اور بیٹے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کریں ، خوش ہوں اور اللہ کریم کا شکر ادا کریں آخر آپ کو لوگوں میں ہی تو جانا ہے جو آپ کی بات نہ سمجھ پائیں گے لہذا اشارہ سے بتا دیں کہ میرا تو بات نہ کرنے کا روزہ ہے جو شریعت سابقہ میں تھا اسلام نے اس سے منع فرما کر فحش کلامی اور غیر ضروری باتوں سے منع فرما دیا لہذا آپ اسی بچے سے پوچھ لیں یہ کون ہے اور کیسے پیدا ہوا ، چناچہ انہیں اللہ کے حکم سے واپس قوم کے سامنے آنا پڑا ۔ (اہل اللہ کو لوگوں کے طعن سننے پڑتے ہیں) جب کہ بغیر شادی کے ایک نومولود کو بھی اٹھا رکھا تھا گویا اللہ جل جلالہ کی راہ میں کام کرنے کام کرنے والوں کو جہاں بہت سی جانی ومالی اور ذاتی آرام وغیرہ کی قربانی دینا پڑتی ہے وہاں لوگوں کے طعن بھی سننا پڑتے ہیں کہ رب جلیل دوستی کو خالص اور محض اپنی ذات کے لیے پسند فرماتے ہیں دنیا کی راحتیں تو وہ ساری مخلوق پہ بانٹا کرتے ہیں اس کا حساب الگ سے ہوگا اہل اللہ کو بھی دولت دنیا اور اقتدارومنصب بھی ضرور نصیب ہوتا ہے مگر اس وقت جب ان کے قلوب سے اس کی طلب اٹھ جاتی ہے اور محبت الہی سے دل لبریز ہوتا ہے ابتدائے اسلام میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو تمام دنیاوی نعمتیں اللہ جل جلالہ کے نام پر قربان کرنا پڑیں اور پھر جب آپ ﷺ کی صحبت میں کندن بنے تو سارا جہاں قدموں میں تھا ایسے ہی یہاں بغیر شادی کے حمل پھر جنگل میں اکیلے رہ کر بچے کی پیدائش کے عمل سے گزرنا اور پھر نومولود کو لیکر قوم کے پاس واپس جانے کیلئے الگ حوصلہ چاہیئے تھا مگر اس سب مشکل سے گزر کر ان کا نام نامی ہمیشہ کے لیے روشن اور کتاب اللہ کی زینت بنا ، آپ جب بچے کو لے کر آئیں تو لوگوں نے منہ میں انگلیاں داب لیں مریم ؟ یہ کیا ہے اتنا بڑا حادثہ اے ہارون کی بہن تم سے تو یہ امید نہ تھی کہ تمہارا تو پورا خاندان عرصۃ دراز سے نیکی میں معروف تھا اور یہ موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کا خاندان تھا اور پھر تمہارے والدین تو بہت نیک تھے تمہارے والد کس قدر پیارے انسان تھے اور تمہاری ماں بھی تو بہت نیک تھیں تم نے یہ کیا گل کھلایا تو انہوں نے بچے کی طرف اشارہ کردیا ، والدہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح انہوں نے بھی ذاتی الہام پر عمل کیا ، (کشف والہام پر عمل) اور محققین کے نزدیک نبی کا کشف والہام حتی کہ خواب بھی وحی الہی ہوتا ہے اور ساری امت کے لیے اس پر عمل ضروری اور ولی کے لیے اگر اس کا کشف والہام نبی کے ارشاد کے خلاف نہ ہو تو خود اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ہاں البتہ دوسروں کے لیے حجت نہیں ہوتا ، تو لوگوں نے کہا یہ کیا مذاق ہے بھلا اس گود کے بچے سے ہم کیا بات کریں گے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو ماں کی گود میں تھے پکار کر کہا میں اللہ جل جلالہ کا بندہ ہوں جس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبوت عطا کی ہے یہاں سوال تو ان کی ولادت اور نسب کے بارے میں تھا مگر انہوں نے جواب دیا کہ اللہ جل جلالہ نے مجھے نبوت عطا کی ہے ۔ (نبوت وولایت کے لیے صحیح النسب لوگ منتخب کئے جاتے ہیں اور نبی کے والدین غیر مسلم تو ہو سکتے ہیں مگر بدکار نہیں ہوتے) گویا نبی ہونا صحیح النسب ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔ (اسی طرح نبی کی بیوی اگرچہ ایمان نہ بھی لائے بدکار نہیں ہوتی) کہ جس انسان کا نسب ہی درست نہ ہو وہ بےموسم اور بےمحل پودے کی مانند ہوتا ہے جس پر کبھی پھل نہیں آتا ، لہذا جن لوگوں کا نسب ہی درست نہ ہو انہیں ولایت بھی نصیب نہیں ہوتی اور نہ وہ خلق خدا کی رہنمائی کی اہلیت رکھتے ہیں یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کی بیوی بھی بدکار نہیں ہوسکتی اور نہ والدین بدکار ہوتے ہیں ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت اگرچہ بعد میں عطا ہوئی مگر اعلان اسی وقت فرما دیا کہ نبی منتخب شدہ ہوتے ہیں اور نبوت وہبی دولت ہے جس کا فیصلہ ازل میں ہی کردیا گیا ، لہذا نبی عالم امر میں پشت پدر میں ، شکم مادر میں ، دنیا اور برزخ میں ہر جگہ نبی ہی ہوتا ہے اور نبوت اس کی ذات کا وصف بن جاتی ہے اگرچہ بعثت کا وقت خاص ہوتا ہے ، چناچہ فرمایا اللہ جل جلالہ نے میرجے وجود کو برکات سے بھر دیا ہے ، میں جہاں بھی جس عالم اور جس حالت میں ہوں گا مجھ سے اللہ جل جلالہ کی برکات کا ظہور ہوگا اور مجھے دار دنیا میں ہمیشہ عبادت گذاری اور مالی اور بدنی قربانی کا حکم ہے اور اپنی ماں کا حد درجہ احترام واکرام کرنے کا نیز اللہ نے مجھے نہ تو سخت گیر پیدا فرمایا ہے اور نہ بدبخت ، یہاں صرف والدہ کا ذکر فرما کر یہ ثابت کردیا گیا کہ والد کے بغیر پیدا ہوئے مگر سب سے پہلے کلمے میں یہ بھی بتا دیا کہ اگرچہ میری پیدائش بہت عجیب واقعہ ہے مگر میں اللہ جل جلالہ کا بندہ ہوں خود قابل پرستش نہیں بلکہ اللہ جل جلالہ کی عبادت کرنے والا ہوں ، اور اللہ جل جلالہ کا اس درجہ مقرب ہوں کہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے مجھ پر سلامتی ہے جس روز میں پیدا ہوا جب مروں گا اور پھر جب دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا ۔ یہ عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) کے بارے حق اور کھری بات ہے جس میں لوگوں نے افسانے تراش لیے کہ یہود نے آپ کو یوسف نجار کی ناجائز اولاد ہونے کی تہمت لگائی جسے مرزا قادیانی صاحب نے بھی اپنے دعوؤں میں دہرایا ہے ، اگرچہ انہوں نے یوسف کو جائز باپ کہا ہے اور عیسائیوں نے اللہ جل جلالہ کا بیٹا قرار دیا جو سب باطل ہے اور قول حق اللہ جل جلالہ کا بیان کردہ ہے ، اللہ کی شان سے بعید ہے اس کی اولاد ہو کہ اولاد بھی تو باپ کی صفات کی حامل ہوتی ہے اور اس کی ذات تو بےمثل وبے مثال ، واحد ویکتا ہے اور اپنے ثانی یا شریک سے پاک وہ ایسا قادر ہے کہ جب چاہے اور جو چاہے اسی کو حکم دیتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے سبحان اللہ موجود کی تو بات ہی کیا اور وہ معدوم کو بھی حکم دیتا ہے اور سب سے فرما دیجئے کہ اے لوگو ! بیشک اللہ جل جلالہ ہی میرا پروردگار ہے اور تمہارا بھی لہذا صرف اسی کی عبادت کرو اور دردر جبہ سائی چھوڑ دو کہ یہی سیدھا راستہ ہے اور اس پر واضح دلائل ہونے کے باوجود لوگوں نے مختلف عقیدے ایجاد کرلیے لہذا گمراہوں اور کفر اختیار کرنے والوں کو حشر کے روز جو بہت بڑا اور حساب کتاب کا دن ہے بہت بڑی خرابی کا سامنا کرنا پڑے گا اور آج جو غلط فہمیاں یہ پیدا کر رہے ہیں سب ختم ہوجائیں گی اور سب کے سب خوب اچھی طرح دیکھتے بھی ہوں گے اور سنیں گے بھی اگرچہ اب دار دنیا میں یہ ان حقائق سے منہ موڑ کر گمراہ ہوچکے ہیں انہیں اس حسرت کے دن کا خوف دلائیے جب اعمال کا فیصلہ ہوگا تو کفار کو سخت حسرت ہوگی ، کاش ایمان لائے ہوتے اور یہ تو ظاہر ہے مگر یوم حسرۃ سے مراد ہے کہ مومن بھی حسرت کریں گے ۔ (یوم الحسرۃ) حسرت کریں گے جیسا کہ حضرت معاذ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کو بھی ان لمحات پر حسرت ہوگی جو بغیر ذکر کے گزر گئے ” او کما قال “۔ ” معارف “ آج یہ اس روز کو بھول رہے ہیں لہذا ایمان نہیں لاتے ، بیشک زمین وزمان اور جو کچھ ان میں ہے سب ہمارے ہیں اور کسی کو کتنی فرصت بھی عطا کردی جائے اسے اور سب کو پلٹ کر ہماری بارگاہ میں ہی آنا ہے ۔
Ayahs 19:42–50

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا اے میرے والد ! آپ ایسی چیز کی عبادت کیوں کرتے ہو جسے نہ کچھ سنائی دے اور نہ دکھائی دے اور نہ آپ کے کسی کام آسکے

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

اے میرے والد ! یقینا مجھے ایسا علم عطا ہوا ہے جو آپ کو نہیں ملا ، سو آپ میرا اتباع کریں میں آپ کو سیدھی راہ بتادوں گا

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے میرے والد ! شیطان کی پوجا نہ کریں بیشک شیطان رحمن کا نافرمان ہے

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے میرے والد ! بیشک مجھے اس بات سے ڈر آتا ہے کہ کہیں آپ پر رحمن کی طرف سے کوئی عذاب (نہ) آپڑے تو آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس (بات) نے کہا اے ابراہیم (علیہ السلام) ! کیا تم میرے معبودوں سے برگشتہ ہو (پھرے ہوئے ہو) اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں ضرور پتھروں سے مار دوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

فرمایا سلام ہو آپ پر میں عنقریب اپنے پروردگار سے آپ کے لئے بخشش طلب کروں گا بیشک وہ مجھ پہ بہت مہربان ہے

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں تم لوگوں اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سے کنارہ کرتا ہوں اور میں اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کرکے محروم نہ رہوں گا

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پس جب وہ ان لوگوں اور جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے سے علیحدہ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق (علیہ السلام ، بیٹے) اور یعقوب (علیہ السلام ، پوتے) عطا فرمائے اور ان (دونوں میں سے) ہر ایک کو نبی بنایا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے حصہ عطا فرمایا اور (آئندہ نسلوں میں) ہم نے ان کا نام نیک (اور) بلند فرمایا

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف انہیں کتاب اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات بھی سنائیے کہ مشرکین عرب ان کی پیروی کا دعوی رکھتے تھے مگر عقائد و اعمال مشرکانہ گھڑ رکھے تھے تو یہ بھی واضح ہوجائے کہ محض واقعات عجیبہ ہی سننے کا شوق رکھتے ہیں یا حق کی طلب بھی تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے ان کا عقیدہ اور عمل بھی اپنی صحیح صورت میں سامنے آجائے کہ وہ تو صدیق تھے اور نبی تھے ۔ (صدیق) یہاں صدیق سے مراد سچائی لیا جائے تو ہر نبی ہی صدیق اور سچا ہوتا ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا رہ جاتی ہے ۔ (معنے اور منصب نیز مناصب ولایت کی خصوصیات) حق یہ ہے کہ صدیق ہونا یا ” صدیقیت “ ایک منصب جلیلہ ہے اور انبیاء کرام (علیہ السلام) میں سے رب کریم نے جسے چاہا صدیق بنا دیا ، اسی طرح ولایت کے مناصب کی انتہا بھی صدیقیت ہے ، محققین صوفیاء کے مطابق ہر عہد میں ایک ولی اللہ منصب غوثیت پہ فائز ہوتا ہے ، جب اللہ جل جلالہ چاہے تو غوث کو ترقی دے کر ” قیوم “ بنا دیتا ہے اگر وہ بھی ترقی کرے تو فرد بن جاتا ہے اور فرد ترقی کرکے قطب وحدت بنتا ہے اور وہ ترقی کرکے ” صدیق “ بنتا ہے ، ولی سارے کمالات نبی کی اطاعت اور اتباع سے پاتا ہے نیز مقامات ولایت کو انتہا تک عورت بھی حاصل کرسکتی ہے کہ قرآن حکیم نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو ” صدیقہ “ کہا ہے یہ مناصب ولایت جس مزاج کے لوگوں کو نصیب ہوں عامۃ المسلمین اس طرف چل پڑتے ہیں اور قدرتی طریقے سے اس کے وجود کی برکات ذہنوں میں زیروبم پیدا کرتی ہیں فی زمانہ اللہ کریم کا بہت ہی زیادہ احسان ہے کہ مناصب ولایت میں نہ صرف صدیق موجود ہے بلکہ دور حاضرہ کا صدیق اللہ کریم کی طرف سے ” اما الصدیقین “ ہے ، یہ اسی کے وجود کی برکات ہیں کہ پوری دنیا میں مسلمان بیدار ہو رہا ہے ۔ فالحمد للہ علی ذاک بہرحال نبی کی صدیقیت بحیثیت نبی کے ہوتی ہے صحابی کی اپنی شان ہے اور ولی کی اپنے مقام کے مطابق انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بعد کائنات میں صدیقوں کے سردار ابوبکر ؓ ہیں ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے گھر میں اور اپنے والد کو بھی بتوں کا پجاری پایا تو ان کا اتباع نہ کیا بلکہ انہیں نہایت خوبصورت طریقے سے بتوں کی پوجا چھوڑ کر اللہ واحد کی عبادت اختیار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر آپ اس پہ بتوں کو پوجتے ہیں کہ یہ آپ کی ضرورتیں پوری کریں گے تو ضرورت پوری کرنے پہ اختیار تو دور کی بات ہے ان میں تو اتنی سکت بھی نہیں کہ آپ کی بات ہی سن سکیں یا آپ کو اور آپ کے حالات کو دیکھ سکیں ، تو یقینا یہ آپ کے کسی کام بھی نہیں آسکتے ۔ (دلیل بزرگی) میں نے یہ بات محض رواجا نہیں کہی بلکہ مجھے علم نصیب ہوا ہے مراد وحی رسالت ہے اور یہ ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں گویا محض بڑا ہونا یا عمر کی زیادتی بزرگی کی دلیل نہیں بلکہ اس کا مدار اللہ جل جلالہ کی معرفت پر ہے لہذا آپ میری بات مانیں اور میرا اتباع کریں تو میں آپ کو سیدھے پر لے چلوں گا ، اور آپ جو بتوں کو پوجتے ہیں یہ درحقیقت آپ شیطان ہی کو پوج رہے ہیں کہ اسی نے اس راہ پر ڈالا ہے حالانکہ بظاہر کا فر بھی شیطان کو برا ہی کہتا ہے مگر اس کی بات مان کر اور بت پرستی میں مبتلا ہو کر گویا اسی کی عبادت بھی کرتا ہے اور شیطان تو اللہ جل جلالہ کا جو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے ، نافرمان ہے ، ڈر یہ ہے کہ اس جرم میں آپ کو سزا نہ مل جائے ، اگر ایسا ہوا تو پھر آپ بھی شیطان کے ساتھی بن جائیں گے مگر برا ہوا اللہ جل جلالہ سے دوری کی کیفیات کا کہ اپنے عظیم بیٹے اور اللہ جل جلالہ کے عظیم رسول کی بات سن کر بھی بابا جی بھڑک اٹھے اور کہنے لگے اب سمجھا گویا تم میرے معبودوں سے پھر چکے ہو اور مجھے بھی ایسا ہی کرنے کی دعوت دے رہے ہو لیکن یہ یاد رکھ لو کہ اولاد بیشک عزیز ہوتی ہے مگر اپنے معبود سے بڑھ کر نہیں لہذا ایسی باتوں سے باز آجاؤ ورنہ سنگسار کر دوں گا تب تک میری نگاہوں سے دور ہوجاؤ تو انہوں نے فرمایا کہ بہتر میں آپ کو سلام کرتا ہوں ، اس سے مراد اچھے طریقے سے الگ ہونا بھی ہے اور یہ بات شریعت ابراہیمی کی تھی ۔ (کافر کو سلام) مگر امت مرحومہ کو حدیث شریف میں کافر کو سلام سے ابتدا کرنے سے منع فرمایا ہے ہاں ایسا مجمع جس میں بعض مسلمان بھی ہوں تو اسے سلام کہا جاسکتا ہے نیز فرمایا اللہ جل جلالہ سے آپ کے لیے بخشش طلب کرتا رہوں گا کہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے امت مرحومہ کو کتاب اللہ میں غیر مسلم کی مغفرت طلب کرنے سے روک دیا گیا ہے ہاں ہدایت کی دعا کرنا درست ہے ، لیکن اس حالت کفر میں میرا آپ کا ساتھ نہیں ہو سکتا ، لہذا میں آپ سے اور آپ کے ان معبودوں سے ظاہرا بھی الگ ہوتا ہوں اور صرف اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا اور کافرانہ ماحول سے الگ ہو کر یقینا بہتر طور پر عبادت کرسکوں گا ۔ (عبادات پر ماحول کا اثر) یہاں ثابت ہے کہ ماحول عبادات اور ان پر مرتب ہونے والے اثرات و کیفیات کو متاثر کرتا ہے لہذا برے ماحول سے الگ ہونا ضروری ہے اسی لیے فرشتے وقت مرگ بھی کہتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی زمین وسیع تھی تو بدکاروں کو چھوڑ کر کہیں اور جا بستا ، لہذا بلاضرورت ایسے ماحول میں نہ جانا چاہئے جب انہوں نے ہجرت فرمائی اور ان سے دور یعنی ملک شام کو چلے گئے تو ہم نے انہیں ان سے بہت ہی بہتر رشتہ دار عطا فرما دیے ۔ (ہجرت کے انعامات) حضرت اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسے پوتے سے نوازا جو دونوں نبی تھے یعنی ایک بہت اعلی خاندان عطا فرما دیا اور ان کی اولاد کو صاحب کمال بنا کر اپنی رحمت سے نوازا اور ان کے نام کو عزت وبلندی بخش دی کہ ہر کوئی تعظیم سے اور ادب سے نام لیتا تھا ۔