17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 17:78–84

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کریں بیشک صبح کے وقت کا قرآن (نماز) پڑھنا (فرشتوں کی) حاضری کا وقت ہے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور کسی قدر رات کے حصے میں سو اس (قرآن) کے ساتھ تہجد (رات کے نوافل) پڑھا کیجئے یہ آپ کے لئے (فرض نمازوں کے علاوہ) زیادہ ہے امید ہے کہ آپ پروردگار آپ کو مقام محمود میں جگہ عطا فرمائے گا

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور آپ دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے (مدینہ منورہ میں) اچھی طرح داخل کیجؤ اور (مکہ مکرمہ سے) اچھی طرح نکالیو اور مجھے اپنے پاس سے ایسا غلبہ دیجئیو جس کے ساتھ آپ کی مدد ہو

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور فرمادیجئے کہ حق آگیا اور باطل گیا گزرا ہوگیا بیشک باطل نابود ہونے والا ہے

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن کے ذریعے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور اپنی کروٹ پھیر لیتا ہے اور جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ ہر شخص اپنے طریقے پر کام کررہا ہے سو آپ کا پروردگار اس (شخص) سے خوب واقف ہے جو سب سے درست راستے پر ہے

(رکوع نمبر 9) اسرار و معارف تو کفار کی ایذا اور مشرکین کی سازشوں کا مقابلہ آپ اللہ کی عبادت کرکے کریں کہ عبادت سے قرب الہی اور تائید باری نصیب ہوتی ہے اور تائید باری ہی مصائب کا حل اور دشمنوں سے حفاطت کا اعلی ترین ذریعہ ہے لہذا قائم کیجئے صلوۃ کو دن ڈھلے سے رات کے اندھیرے تک اور علی الصبح بھی عبادات اور نماز میں قرآن پڑھیں کہ علی الصبح قرآن کی تلاوت عبادت یعنی نماز میں روبرو ہونے کے برابر ہے کہ شب کی رخصت کے بعد پہلا کام اللہ جل جلالہ کی حضوری کا نصیب ہو جو آئندہ دن بھر اور دوسری صبح تک برکات نصیب ہونے کا سبب بنتا ہے ۔ (حدیث پاک کے بغیر بات سمجھ میں نہیں آسکتی) اس آیہ مبارکہ میں نماز پنچگانہ کا حکم ہے مگر کن اوقات پر اور کس طریقے سے نیز کتنی رکعت اور کتنے رکوع و سجود اور کیسے ادا ہوگی اس سب کی تفصیل حدیث پاک میں اور آپ ﷺ کے عمل میں ہے جس کے بغیر نماز کیسے ادا ہو یہ بات سمجھ میں ہی نہیں آسکتی نہ جانے منکرین حدیچ کیسے سمجھ سکتے ہیں ۔ (تہجد) اور رات کا کچھ حصہ جاگ کر گزاریں ، قرآن یعنی عبادت اور نماز کے ساتھ اور یہ رات کی نماز یا تہجد آپ کے لیے نفل یا زیادتی ہے نفل سے مراد وہ نیک عمل ہے جس کا کرنا ضروری نہ ہو یا جس کے چھوڑنے سے نقصان نہ ہو اگرچہ اس کے کرنے سے بہت ثواب یا فائدہ ہو بعض علماء نے فرمایا ہے کہ یہ تہجد کی نماز آپ ﷺ پر فرض تھی مگر مفسرین کرام کے مطابق صحیح یہ ہے کہ نماز کی فرضیت سے پہلے تہجد تمام مسلمانوں پر فرض تھی جب نماز فرض ہوئی تو اس کی فرضیت ختم ہوگئی مگر ترقی درجات اور قرب الہی کے لیے نماز پنجگانہ کے ساتھ اس کی خصوصیت ارشاد فرمائی گئی اور آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کی عظمت کے مطابق اسکی افادیت ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ اسے بطور نفل یا زیادتی کے ادا فرمایا کریں کہ اللہ کریم آپ ﷺ کو مقام محمود عطا فرمائے گا ، یعنی اتنا بڑا قرب نصیب ہوگا تو آپ ﷺ کی عبادت بھی زیادہ اور افضل ہونا چاہئے ۔ (بزرگ عبادت سے مستثنے نہیں ہوتے) تو ثابت ہوتا ہے کہ بزرگوں کو عبادات بھی اپنی شان کے مطابق ادا کرنا ہوتی ہیں نہ آج کل کے جاہلانہ خیال کے مطابق کہ جی فلاں تو بزرگ ہے اسے عبادت کی کیا ضرورت ہے بلکہ بزرگ کبھی عبادت سے مستثنی نہیں ہوتے ۔ (تہجد کی رکعت) بیشتر روایات میں آپ ﷺ سے تہجد کی آٹھ رکعت کی روایت اور آپ ﷺ وتر بھی تہجد کے ساتھ ادا فرماتے تھے لہذا گیارہ رکعت سحری کو ادا فرماتے اور بعض روایات تیرہ (13) کی ہیں ، ان میں دو رکعت فجر کی سنت شامل ہیں ، بعض اوقات آپ ﷺ نے چار یا چھ رکعت بھی ادا فرمائی ہیں ، اس لیے تہجد چار رکعت سے کم نہ پڑھی جائے ، نیز آپ ﷺ نے تہجد کی نماز پر مداومت فرمائی ہے اور بغیر مجبوری کے کبھی نہیں چھوڑی ، لہذا صاحب تفسیر مظہری (رح) کے مطابق تہجد نفل نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے ، نفل تو آپ ﷺ کے لیے تھی ، (مقام محمود) مقام محمود کی تفصیل میں علماء کے مختلف ارشادات ہیں اور مختلف اقوال نقل کئے ہیں جن میں زیادہ زور اس پہ ہے کہ میدان حشر میں جو مرتبہ شفاعت کا آپ ﷺ کو نصیب ہوگا کہ سب نبی بھی آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوں گے اور شفاعت خاص کے طالب ہوں گے یہی مقام محمود ہے ، مگر حق یہ ہے کہ یہ جنت میں سب سے بلند اور سب سے اعلی گھر ہے جو صرف آپ ﷺ کے لیے ہے اور آپ ﷺ کی شان کے مطابق تمام جنت سے اعلی ترین ہے ، کشفا اولیاء اللہ کی ارواح کی حاضری ہوتی ہے ، صرف یہ ایک مقام ایسا ہے کہ جہاں سوائے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے کوئی ہمرکاب نہیں ہوتا ، جب بھی حاضری ہو صرف وہ ایک ہستی حاضر بارگاہ تشریف فرما ہوتی ہے ، غالبا اس لیے کہ ان کی معیت بھی تو منفرد ہے کہ معیت ذات باری میں بمطابق ” ان اللہ معنا “۔ شریک ہے ۔ لہذا کفار کی ایذا سے بچنے کے لیے اسباب دنیا سے مقدم اللہ کی عبادت کو ارشاد فرما کر پھر دنیا کے ظاہری اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا تو بھی اللہ سے دعا کرتے ہوئے کیجئے کہ میرے پروردگار میرا کسی جگہ داخل ہونا بھی خیر و خوبی اور صدق کے ساتھ ہو اور کسی جگہ سے خارج ہونا بھی تیری رضا مندی ، تائید اور نصرت سے ہو ، اور دعا کریں کہ اے اللہ میرے لیے اپنی طرف غلبہ اور نصرت مقرر فرما ۔ (ریاست و حکومت) چونکہ کفار ومشرکین کے مقابل اسلام کا اجر آسان نہ تھا بجز اس کے کہ آپ ﷺ کو ریاست و حکومت کا اختیار ہوتا تو یہ دعا تعلیم فرمائی گویا نفاذ اسلام اور اجرائے دین کے لیے اختیارات اور حکومت کی طلب بھی کرنا چاہئے ، اور اس کے حصول کی کوشش بھی ورنہ کافر یا بدکار حکومتوں سے تو نفاذ اسلام کی امید نہیں کی جاسکتی ، اور جب آپ کا عمل یہ ہوگا کہ کفار کے مقابل اللہ جل جلالہ کی عبادت اور اسباب دنیا اختیار کرتے ہوئے اللہ سے دعا تو فرما دیجئے کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا ، بیشک جھوٹ اور باطل مٹ جانے والا ہی تھا یہ آیہ مبارکہ فتح مکہ پہ نازل ہوئی ، آپ ﷺ بتوں کو چھڑی سے مارتے گراتے جاتے تھے اور بیت اللہ میں یہ آیت بھی تلاوت فرما رہے تھے تو گویا حصول اقتدار پر بتوں یا مشرکانہ رسومات اور ان کے نشانات کو مٹانا واجب ہے ، اور ہم قرآن نازل فرماتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا ہے اور اللہ کی رحمت ہے کہ عقائد باطلہ اور اعمال فاسدہ سے نجات اور شفا نصیب ہوتی ہے ، جب کفار ومشرکین اسی کو نہ مان کر مزید تباہی اور نقصان سے دوچار ہوتے ہیں ۔ (قرآن حکیم ظاہرا بھی شفا ہے) قرآن حکیم کا قلوب کے شفا ہونا تو ظاہر ہے یہاں سے علماء نے ثابت فرمایا ہے کہ ظاہری امراض کے لیے بھی قرآن شفا ہے لہذا آیات لکھ کر گلے میں ڈالنا یا پڑھ کر پھونکنا حدیث میں ثابت ہے ، اور انسانی مزاج تو ایسا ہے کہ اگر ایمان نصیب نہ ہو تو نہ تو رحمت کا احساس ہوتا ہے کہ جب اسے نعمت نصیب ہوتی ہے تو الٹا تکبر اور نافرمانی کرنے لگتا ہے شکر ادا نہیں کرتا اور اگر مصیبت یا پریشانی آجائے تو ناامید ہوجاتا ہے کہ رب جلیل سے تو اس کا تعلق ہوتا نہیں کہ نجات کی امید کرے تو فرما دیجئے کہ ہر کوئی اپنی پسند کے راستے پر رواں ہے اور اپنی مرضی کے کام کر رہا ہے خود رب کریم خود جانتے ہیں کہ کون سیدھے راستے پر ہے اور درست کام کر رہا ہے ۔
Ayahs 17:85–93

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے روح کے بارے پوچھتے ہیں فرمادیجئے کہ روح میرے پروردگار کے حکم سے ہے اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جس قدر وحی آپ پر بھیجی ہے سب واپس لے لیں پھر اسکے (واپس لانے کے) لئے آپ کو ہمارے مقابلے میں اپنا کوئی مددگار نہ ملے

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر (یہ) آپ کے پروردگار کی رحمت ہے (کہ ایسا نہیں کیا) بیشک آپ پر اس کا بڑا فضل ہے

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اگر (تمام) انسان اور جنات (اس بات کے لئے) اکھٹے ہوجائیں کہ ایسا قرآن بنا لائیں تب بھی اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے لوگوں (کو سمجھانے) کے لئے اس قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان فرمادیں ہیں پھر بھی اکثر لوگ انکار کیے بغیر نہ رہے

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہنے لگے ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک آپ ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری نہ کردیں

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا آپ کے لئے کوئی کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو پس آپ اس میں جگہ جگہ نہریں جاری کردیں

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا کہ آپ کہا کرتے ہیں ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرادیں یا اللہ اور فرشتوں کو (ہمارے) روبرو لے آئیں

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا آپ کے لئے ایک سونے کا بنا ہوا گھر ہو یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہم آپ کے (آسمان پر) چڑھ جانے کو بھی ہرگز نہ مانیں گے جب تک آپ (وہاں سے) ہمارے لئے ایک تحریر لے کر نہ آئیں جسے ہم پڑھ لیں آپ فرمادیجئے کہ میرا پروردگار پاک ہے کہ میں تو صرف آدمی ہوں (اور) پیغمبر ہوں

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہ آخرت دوبارہ زندگی اور حساب کتاب کا سارا نظام اسی بنیاد پہ استوار ہے کہ روح سے حیات ہے اس کی مفارقت موت ہے وہ پھر لوٹے گی تو اجسام زندہ ہوجائیں گے جبکہ کفار ومشرکین کے نزدیک تو موت ایک خاتمے کا نام ہے تو یہ روح آخر کیا شے ہے ، کہاں سے آتی ہے کدھر جاتی ہے اور کس طرح زندگی کا یا موت کا باعث بنتی ہے ، مفسرین کے مطابق رؤسائے مکہ نے ایک وفد مدینہ میں علماء یہود کے پاس بھیجا کہ آپ ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو کیسے پرکھا جائے کہ سچ ہے ، انہوں نے تین سوال بتلائے اصحاب کہف کے بارے میں پوچھا جو سوائے یہود کے علماء کے کوئی نہیں جانتا تھا اس آدمی کا قصہ پوچھو جس نے مشرق ومغرب کا سفر کیا یعنی ذوالقرنین اور روح کے بارے سوال کرو اگر سچا نبی ہوا تو دو کا جواب دے گا ورنہ تینوں کا جواب دے گا یا کسی کا بھی نہ دے سکے گا ، آپ ﷺ کو بذریعہ وحی اطلاع ہوئی دونوں قصے کتاب اللہ میں موجود ہیں جبکہ تیسرے کا مفصل جواب نہ دیا اور یوں اس آزمائش میں بھی آپ ﷺ ہی سچے ثابت ہوئے تو جس کا جواب مفصل نہ دیا گیا وہ یہی سوال تھا کہ روح کیا ہے ۔ (روح کیا ہے) ارشاد ہوا فرما دیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے اور تمہیں اتنا علم نصیب نہیں کہ عالم امر کے بات سمجھ سکو یا جان سکو ، اس موضوع گذشہ صفحات میں (آیت) ” نفخت فیہ من روحی “ ، کے تحت بات نقل کی جا چکی ہے یہاں اتنا فرمایا کہ روح اللہ جل جلالہ کے امر سے ہے وہ کوئی مادی شے نہیں نہ اس کا کوئی توالد وتناسل کا طریقہ ہے کہ معروف ذرائع سے تم جان سکو اس لیے تمہارا علم سارے عالم کی اشیاء کے بارے میں بھی ہو تو بھی روح کو جاننے کے لیے بہت کم ہے کہ فطری عقل و شعور جو انسان کو بحیثیت انسان عطا ہوا وہ محض مادی دنیا سے متعلق ہے اور روح عالم امر سے متعلق ہے جو مادی تخلیق سے بہت بلندی پر ہے ۔ (کیا روح کے بارے مطلق علم نہیں ہو سکتا) ایسی بات نہیں ہے بلکہ یہاں انسانی فطری اور حصولی علم کی بات ہو رہی ہے جو علم بذریعہ وحی انبیاء کرام (علیہ السلام) کو نصیب ہوتا ہے نہ وہ قلیل ہے اور نہ اس کے ذریعے ان حقائق تک رسائی محال اسی طرح انبیاء کرام (علیہ السلام) کے توسط سے قرب الہی پانے والے افراد جو ولی اللہ کہلاتے ہیں کشفا یا اللہ کی عطا کے دوسرے ذرائع سے جان لیں تو درست ہے نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ روح کے بارے سرے سے تحقیق ہی نہ کی جائے بلکہ علماء نے ہر دور میں اس موضوع پر بات کی ہے اور مسائل تصنیف فرمائے ہیں اب ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت الہی ہی حصول علم کا سرچشمہ بھی ہے ورنہ اللہ قادر ہے کہ کجی بحثی کے نتیجہ میں جو علم تمہیں دیا ہے وہ بھی سلب کرلے اور جو ہدایت بذریعہ وحی نازل فرمائی ہے وہ بھی واپس لے لے تو کسی کی مجال نہیں کہ اللہ جل جلالہ سے یہ علم واپس دلا سکے ، نبی جو بہت عظیم ہستی اور منبع علوم مصدر برکات ہوتا ہے اگر اس سے علوم نبوت اللہ جل جلالہ واپس لے جائے تو کوئی نہیں روک سکتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ خود اللہ جل جلالہ کی رحمت ہے کہ وہ نبوت عطا کرتا ہے مگر واپس سلب نہیں فرماتا کہ اے نبی تجھ پر تو اللہ کا بہت ہی زیادہ فضل وکرم ہے یعنی نبوت جیسی عظیم نعمت کے عطا ہونے کے بعد اس کے سلب نہ ہونے کی ضمانت تو احسان کی حد ہوگئی جبکہ خود عطائے نبوت بہت بڑا احسان تھا (نبی ﷺ کے علاوہ سب خطرے میں ہیں) مگر یہ واضح ہوگیا کہ بجز نبی ہر انسان اس خطرے سے دو چار ہے کہ اس سے علم یا مقامات ومنازل سلب ہوجائیں ، بچنے یا محفوظ رہنے کی واحد صورت یہ ہے کہ نبی ﷺ کی اطاعت کی حدود سے باہر نہ جائے کہ ان کے اندر حفاظت الہیہ نصیب رہتی ہے ۔ اور اللہ جل جلالہ کا یہ احسان کیا کم ہے کہ علوم کا خزینہ بصورت قرآن تمہاری طرف بھیجا اور اس کا رسول تمہیں ایک لفظ پہنچانے اور سمجھانے پہ ہر آن کمر بستہ ہے ۔ (قرآن حکیم۔ کی صداقت کا بہت بڑا دعوی جس کی آج تک تردید نہ ہوسکی اور نہ کبھی ہو سکے گی) اگر تمہیں اس کی عظمت سے انکار ہے یا اسے عام کتاب جانتے ہو تو دنیا کے سبھی کے سب انسانوں اور جنوں سے کہو سب جمع ہو کر ایک دوسرے کی پوری مدد کرکے اس کی مثال بنا لیان جو ہر موضوع پر بات کرے ، اور یقینی اور حتمی بات کرے جس کی خبر کو چیلنج نہ کیا جاسکے جو دنیا وآخرت کی تمام انسانی ضرورتوں کو محیط ہو اور تجلیات باری جس کے ایک ایک حرف سے قلوب پر جلوہ ریز ہو رہی ہو تو یہ دعوی ہے کہ ساری مخلوق مل کر بھی کبھی ایسا نہ کرسکے گی ، لہذا اس خزینہ علم کو چھوڑ کر جو زندگی کی ہر ضرورت پر خوب کھل کر اور مثالیں دے کر بات کرتا ہے پھر سوالات کرنا اور باتوں کو الجھانا تمہیں زیب ہی نہیں دیتا لیکن تمہاری اصل بدنصیبی یہ ہے کہ تمہیں اس نعمت پر ہی ایمان نصیب نہیں اور کفر و انکار میں پھنسے ہوئے ہو ، پھر عجیب و غریب سوال کرتے ہیں جو محض احمقانہ اعتراضات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے مگر اللہ کریم ان پر طنز کرنے یا غصہ دکھانے کی تعلیم نہیں دیتے بلکہ ایک خوبصورت چھوٹا سا اور حقیقت کا مظہر جملہ ارشاد فرمایا جاتا ہے ۔ کہ یہ ایمان کی شرط بتاتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری کر دیجئے یا اگر ہمارے لیے نہیں تو اپنے لیے ایک خوبصورت باغ پیدا فرمائیے جس میں رنگ برنگے میوے ہوں اور نہریں جاری ہوں یا پھر ہم پر عذاب ہی نازل کردیں اور آسمان کو ہم پر دے ماریں کہ جھگڑا ختم ہو یا لائیے وہ یوم حساب بپا کیجئے جس کے بارے آپ ﷺ کہتے ہیں کہ فرشتے آئیں گے اور اللہ کا دربار ہوگا تو کر دیجئے ایسا یا پھر اپنے لیے ایک زر جواہر سے مرصع مکان بنائیے یہ کیا اتنا بڑا دعوی اور ایک کچے گھروندے میں قیام بلکہ آپ ﷺ کو تو زمین پہ رہنا نہ چاہئے چڑھ جائیے آسمانوں میں کہ اللہ کے رسول ہیں اس کی بارگاہ میں جا کر رہیں اور اگر آپ ﷺ آسمان پر بھی چڑھ جائیں تو ہمیں ماننے کی کیا ضرورت ہاں اگر وہاں سے ہمارے نام اللہ جل جلالہ کا خط لائیں جسے ہم کود پڑھیں تو البتہ بات ہو سکتی ہے گویا یہ سب مطالبات ایسے تھے جیسے وہ رسول کو اللہ جل جلالہ کا شریک یا ویسی ہی طاقتوں کا مالک سمجھ رہے ہوں توکتنا خوبصورت جواب ارشاد فرمایا کہ میں نے کبھی اپنے خدا ہونے کا دعوی تو نہیں کیا میں تو بشر ہوں اور تمہیں بشر کے اوصاف کا بھی علم ہے ، اس کے اختیارات سے بھی باخبر ہو اور بشری کمزوریوں سے بھی واقف ہوں ، لہذا میں صرف بشر نہیں بلکہ اللہ کا رسول بھی ہوں لہذا میری بشریت کو ضرور پرکھو کہ دعوی رسالت کے ساتھ زیب دیتی ہے یا نہیں ، ذرا کہیں انگلی رکھ کر دکھا دو ، رہی بات اللہ کے اوصاف کی تو وہ اسی کے پاس ہیں اور وہی قادر ہے جہاں چاہے چشمے جاری کرے یا باغ پیدا کرے ، عذاب بھیج دے یا قیامت قائم فرمائے یہ اس کا کام ہے ۔ (نبی کا کردار معیاری ہوتا ہے ، مرزا قادیانی کے دعوی اس سے بھی غلط ثابت ہوتے ہیں) اس مختصر سے جملہ مبارک سے ثابت ہوتا ہے کہ بحیثیت بشر یا انسان نبی اور رسول کا کردار مثالی ہوتا ہے اس پر حضرت استاذنا المکرم (رح) فرمایا کرتے تھے کہ مرزا قادیانی کی سوانح پڑھ کر یہ دکھ ہوتا ہے کہ اگر اس ظالم کو اتنا بڑا دعوی کرنا ہی تھا تو اپنا کردار بھی اپنی نظر میں رکھا ہوتا اتنا بھی نہ سوچا کہ اس قدر گھٹیا کردار سے یہ دعوے کوئی مناسبت نہیں رکھتا ۔
Ayahs 17:94–100

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور لوگوں کو ایمان لانے سے کس چیز نے روکا جب ان کے پاس ہدایت پہنچ گئی سوائے اس کے کہ کہنے لگے کیا اللہ نے آدمی کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے (اور) بستے ہوتے تو ہم ان پر ضرور آسمان سے فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی کافی گواہ ہیں (کیونکہ) یقینا وہ اپنے بندوں کو خوب جانتے (اور) دیکھتے ہیں

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس کو اللہ ہدایت دے دیں پس وہی ہدایت پانے والا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردیں تو آپ اس (اللہ) کے سوا ان کے لئے ہرگز کوئی دوست نہیں پائیں گے اور ہم ان کو قیامت کے دن اندھے ، گونگے اور بہرے بنا کر اوندھے منہ چلائیں گے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے جب (اس کی آگ) دھیمی ہونے لگے گی تب ہم ان کے لئے اور بھڑکا دیں گے

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کو اس بات کی سزا ہے یہ کہ وہہماری آیات کیس اتھ کفر کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا چورا ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ الہل جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے اس بات پہ قدرت رکھتے ہیں کہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا فرمادیں اور ان کے لئے ایک وقت مقرر فرمادیا ہے جس میں ذرہ برابر شک نہیں سو اس پر بھی ظالم انکار کیے بغیر نہ رہے

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو پھر تم خرچ ہوجانے کے خوف سے ان کو ضرور بند رکھتے اور انسان بڑا تنگ دل ہے

(رکوع نمبر 11) اسرارومعارف انہیں آپ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے میں ہی رکاوٹ پیش آ رہی ہے کہ کیا اللہ جل جلالہ نے بشر کو ایک انسان کو اپنا رسول بنایا ہے یعنی ان کے خیال میں جو انسان کھاتا پیتا ہے ، سوتا جاگتا ہے گرمی سردی محسوس کرتا ہے اس کے بیوی بچے ، گھر بار اور خاندان ہے تو گویا سارے احوال میں ایسا ہی ہے ، جیسے ہم لوگ ہیں ، تو بھلا اسے اللہ کا رسول کیونکر مان لیں ، اللہ جل جلالہ تو ہمارے سامنے آنے سے رہا تو پھر اللہ جل جلالہ کا حکم اس کے رسول سے ہی ملے گا تو گویا اللہ کے نام پر بھی اقتدار تو رسول اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا تو ہم ایسا کیوں ہونے دیں گے ہاں کوئی فرشتہ ہوتا جو عام اوصاف میں ہم سے بہت بڑھ کر ہوتا تو بات بھی تھی ، اس جاہلانہ سوچ اور محض اقتدار کی ہوس کے لیے مختلف حیلوں کا جواب بھی بہت خوبصورت انداز میں ارشاد ہوا ، بغیر غصہ کئے بغیر کسی طنز کے فرمایا ٹھیک ہے فرشتہ بھی رسول ہو سکتا تھا لیکن اس صورت میں جب زمین پر بھی فرشتے آباد ہوتے اور انسانوں کی طرح اس عالم آب وگل میں مکلف زندگی گزارتے انہیں ایسی ہی ضرورتیں لگائی جاتیں پھر ان کی تکمیل کے اسباب وذرائع کائنات میں پیدا کئے جاتے تو ان کو اپنانے یا اختیار کرنے کے طریقوں پر اللہ کی رضا مندی کا مدار ہوتا تو یقینا ان کی طرف رسول بھی فرشتوں ہی کو بنایا جاتا مگر اب جبکہ زمین پہ انسان بستے ہیں تو رسول بھی یقینا انسان ہی ہوگا جسے ویسی ہی سب ضرورتیں درپیش ہوں اور ان میں اطاعت الہی اختیار کرکے ثابت کرے کہ انسانی فلاح اسی میں ہے اور یہ سب ممکن ہے ، اتباع شریعت محال نہیں ۔ (نبی اور ولی انسان ہوتے ہیں ، اور عام انسانی زندگی گذارتے ہیں) اس آیہ کریمہ میں موجودہ دور کی بدعات کا رد بھی آگیا کہ نبی ﷺ کی بشریت کا انکار کیا جاتا ہے حالانکہ عظمت نبوت میں یہ ہے کہ تمام انسانی ضرورتوں کے باوجود انہیں اللہ جل جلالہ کے ناپسندیدہ طریقے سے پورا نہیں فرماتا اور یہی کمال ولایت ہے کہ ولی اللہ دنیا کے معاملات کو اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق اور بحسن و خوبی ادا کرتا ہے نہ آج کے دور کی خرافات کی مانند کہ ولی کا کوئی گھر گھاٹ نہ ہو جنگل میں پایا جائے ، کھاتا پیتا نہ ہو وغیرہ ذالک من الخرافات۔ فرما دیجئے کہ اب ان سب دلائل عقلی اور نقلی کے ساتھ بیشمار معجزات اور اللہ جل جلالہ کی کتاب کے باوجود اگر تم قبول کرنے کو تیار نہیں تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ جل جلالہ ہی گواہ ہے جو میری محنت و کوشش سے بھی واقف ہے تمہارے انکار پہ اصرار کو بھی دیکھ رہا ہے کہ اپنے بندوں اور اپنی مخلوق کے ہر حال سے ہر آن باخبر بھی ہے اور خود بھی ملاحظہ فرما رہا ہے اسے کسی کے بتانے کی احتیاج نہیں ۔ (ہدایت کا مدار) ہدایت بھی اللہ جل جلالہ ہی کی دین ہے اور اس کا مدار بھی اس بات پر ہے کہ کسی کی قلبی حالت کیسی ہے اور کیا اس میں اللہ جل جلالہ کو ماننے کی استعداد جو اسے اللہ جل جلالہ سے ملی تھی باقی ہے ورنہ جس نے گناہ کرکے وہ استعداد ہی کھو دی ہو اسے اللہ جل جلالہ ہدایت نہیں دیتے لہذا ہدایت وہی پا سکتا ہے جسے اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہدایت نصیب ہو اور جو اللہ جل جلالہ کی ذات سے ہی اس قدر دوری پہ چلا جائے کہ اللہ جل جلالہ ہی اسے قریب نہ آنے دے تو پھر اللہ کے علاوہ ان کا کوئی مددگار اور معاون نہیں ہو سکتا ، نہ صرف یہ دنیا بلکہ یہ تو آخرت میں بھی اپنے الٹے کردار کے باعث جسمانی طور پر بھی الٹے ہو کر میدان حشر میں آئیں گے اور جیسے آج ہدایت کی راہ سے اندھے بہرے اور گونگے بن رہے ہیں کہ نہ حق دیکھنے کا تکلف کرتے ہیں نہ سننے اور بولنے کا ایسے ہی نجات کی راہ سے اندھے گونگے اور بہرے ہو کر جہنم میں پھینکے جائیں گے جو دم بدم بھڑکائی جاتی رہے گی ، اور جس کی تپش بڑھتی ہی رہے گی کبھی کم نہ ہوگی ، ان کے کفر کی یہی سزا ہے کہ کس دلیری سے کہہ دیتے ہیں کہ جب مر کر ہم گل سڑ جائیں گے تو پھر بھلا کیسے نئے سرے سے تخلیق ہو سکیں گے ۔ کیا یہ زمین وآسمان کے خالق کی عظمت سے بھی غافل ہوگئے کہ جو خالق عدم سے اتنی بڑی کائنات کو وجود میں لانے والا ہے ، وہ ان جیسوں کو بنانے پہ قادر نہیں جن کو پہلے ایک قطرے سے بنا چکا انہیں مٹی گارے سے بھی بنا لے گا اور بلاشبہ اس کام کا وقت مقرر ہوچکا ہے جب وقت آئے گا تو یقینا ایسا ہوگا ۔ مگر ان ظالموں کا ظلم اور بدکرداری ہی ان کے انکار اور ناشکری کا باعث بن گئی ان سے کہئے کہ انسانی مزاج اگر اسے نور ایمان نصیب نہ ہو تو ایسا تنگ ظرف ہے کہ اگر نبوت اور کمالات نبوت کے خزانے اللہ جل جلالہ تمہارے اختیار میں دے دیتا جو کبھی کم نہیں ہوتے مگر تم شاید پھر بھی کسی کو نہ دے سکتے کہ اگر ایمان نصیب ہو تو نبی پر ہی ہوتا ہے اور نور ایمان سے ظرف انسانی میں وہ وسعت آتی ہے کہ اللہ جل جلالہ کے لیے دو عالم سے دست بردار ہو سکتا ہے مگر اس کے بغیر جس حال میں تم ہو اگر تمہیں نور نبوت اور کمالات نبوت کا خزانہ بھی مل جائے تو اس پر سانپ بن کر بیٹھ رہو گے ، اور اپنی تنگ ظرفی کے باعث کسی کو مقرر نہ کر پاؤ گے کہ پھر یہ خیال ویسے ہی تمہیں ستائے گا کہ اگر کسی کو ہمارے مشورہ پر بھی رسالت ملی تو اس کی اطاعت کرنا پڑے گی اور یوں وہ تو بادشاہ بن جائے گا اور ہم کوئی مقام و مرتبہ اس کے مقابل نہ پا سکیں گے ۔ (بیعت توڑنے والوں کا مرض) بیعت کرکے توڑنے والوں کا سبب بھی عموما ان کی ذات میں متکبرانہ خیالات اور ذاتی اقتدار کی طلب ہوتی ہے ، ورنہ تو بغیر واقفیت تو کوئی بیعت نہیں کرتا اور اگر اس کا کردار درست نہ ہو تو بیعت کرنا ہی درست نہیں اب یہ سب دیکھ کر بیعت کرلی تو پھر اپنے ذاتی تکبر پر زد پڑی تو توڑنے کے حیلے سوچے جاتے ہیں ، لہذا بیعت توڑنے والے کبھی بھی بھلے لوگ نہیں ہو سکتے ہمیشہ تنگ نظر اور تنگ ظرف ہوا کرتے ہیں ۔
Ayahs 17:101–111

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو (9) واضح نشانیاں (معجزات) دیں تو بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے کہ جب وہ (موسیٰ علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میرا خیال ہے تم پر ضرور کسی نے جادو کردیا ہے

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا یقینا تم یہ جانتے ہو کہ یہ سب آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا کسی نے نازل نہیں کیے جو کہ سمجھانے کے لئے ہیں اور اے فرعون ! بیشک میں یہ سمجھتا ہوں کہ ضرور تیری ہلاکت کا وقت آگیا ہے۔

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

تو اس نے چاہا کہ ان کو اس سرزمین سے نکال دے تو ہم نے اس (فرعون) کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبودیا

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرمادیا کہ اس سرزمین میں رہو پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن) کو سچائی کے ساتھ نازل فرمایا ہے اور سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور ہم نے آپ کو صرف خوشخبری دینے والا اور (انجام بد سے) ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو جزوجزو کرکے نازل فرمایا ہے تاکہ آپ اس کو لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائیں۔ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ نازل فرمایا ہے

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ حق ہے) بیشک جن لوگوں کو اس سے پہلے (دین کا) علم دیا گیا تھا جب ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہا

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں اور یہ (قرآن) ان کا خشوع (عاجزی) اور بڑھا دیتا ہے

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ ’ اللہ ‘ کہہ کر پکارو یا ’ رحمن ‘ کہہ کر۔ جس سے بھی تم پکارو گے سو اسی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں اور اپنی نماز نہ تو بلند آواز سے پڑھیے اور نہ بہت آہستہ اور اس کے درمیان کا طریقہ اختیار کیجئے

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور فرما دیجئے کہ تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ سلطنت میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ اسے کوئی ضرورت ہے کوئی اس کا مددگار ہے۔ اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہیے

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں تو آپ کو سحر زدہ خیال کرتا ہوں کہ آپ کیسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں اور میرے علاوہ کسی اور کو الہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں مخلوق کا مالک کوئی اور ہے اور اس بات کے پس پردہ ان کفار کی طرح اس کا بھی محض ذاتی تکبر تھا ، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تیری یہ باتیں محض لوگوں کو دھوکے میں رکھنے کے لیے ہیں ورنہ اے فرعون تو بھی خوب جانتا ہے یہ نشانیاں کائنات کے پروردگار نے سمجھانے کو اور تجھے راہ راست پہ لانے کو بھیجی ہیں ، اگر تو رب ہوتا تو ان کو یا ان کے اثرات کو بدلنے میں خود کو عاجز کیوں پاتا کہ ہر عذاب پہ پھر مجھ سے دعا کی درخواست کرتا ہے ، تیرے اس طرز عمل پہ مجھے تیری ہلاکت نظر آتی ہے اور تو تباہ ہوا چاہتا ہے مگر بجائے قبول کرنے کے فرعون ایسے طریقے سوچنے لگا کہ بنی اسرائیل کو کبھی پنپنے نہ دے کہ کہیں اس کی حکومت کے لیے خطرہ نہ بن جائیں مگر اللہ کی گرفت بھی بہت سخت ہے ، ہم نے نہ صرف اس کو بلکہ اس کے تمام معاونین کو اس کے ساتھ ہی غرق کردیا اور پورا ملک بنی اسرائیل کے سپرد کردیا اور فرمایا اللہ جل جلالہ کی زمین پر آرام سے رہو بس مگر یاد رکھو جب وعدہ آخرت کا وقت آئے گا تو تم سب کو بھی جمع کیا جائے گا یہ نہ ہو کہ آخرت سے بےفکر ہو کر گمراہی میں پھنس جاؤ ۔ اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں آپ کو بھی ہم نے ہی مبعوث فرمایا ان لوگوں کی طرف اور حق کے ساتھ کتاب عطا فرمائی جس کا نزول بھی حق کے ساتھ ہے کہ اثناء راہ میں کسی کمی بیشی یا ناحق کا گمان نہیں ۔ (عقیدہ تحریف قرآن باطل ہے) جب بارگاہ الہی سے رسول اللہ تک پہنچنے میں ایسی حفاظت الہی حاصل ہے کہ کوئی کمی بیشی کا گمان نہیں تو جب رسول اللہ ﷺ کی زبان پاک سے بیان ہو کر مصحف بن چکا اور ہزاروں حفاظ کے سینوں میں بھی محفوظ ہوچکا تو اب کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے اور عجیب تر بات یہ ہے کہ اگر خلفاء راشدین نے تبدیل کیا تو گویا انہوں نے اللہ جل جلالہ کی کتاب بدل لی مگر ان کی بنائی ہوئی اور ترتیب دی ہوئی کوئی نہ بدل سکا لہذا تحریف قرآن کا عقیدہ باطل ہے ۔ اور ہم نے آپ کو جو منصب رسالت عطا کر کے بھیجا ہے ، اس کا تقاضا ہے کہ آپ اللہ جل جلالہ کی اطاعت پر خوشخبری سنائیں اور برائی اور نافرمانی کے انجام بد سے ہر وقت خبردار کریں ، اب کوئی مانتا ہے یا نہیں اس سے آپ کا تعلق نہیں بلکہ یہ قرآن تو آپ کے بیشمار معجزات میں ایک عظیم الشان معجزہ ہے ، لہذا اس کی تلاوت میں بھی یہ رعایت ضروری ہے کہ آپ ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھا کر تلاوت فرمائیں جس طرح اللہ جل جلالہ نے اسے ایک دم سے نازل نہیں فرمایا کہ لوگ سوالات کے جواب تلاش کریں بلکہ ہر ضرورت پر اس کا حل نازل فرما دیا کہ لوگ آسانی سے سمجھ سکیں۔ آپ ﷺ فرمایا دیجئے کہ لوگو تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ یہ معاملہ تو تمہارا اپنے مالک کے ساتھ مگر جہاں تک کتاب اللہ کی حقانیت کا تعلق ہے تو منصف مزاج علماء سابقہ بھی خوب پہچانتے ہیں اور جب ان کے سامنے یہ قرآن پڑھا جاتا ہے تو منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا پروردگار اور اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا ، یعنی پہلی کتب میں بعثت نبوی اور نزول قرآن کی خبر تھی اور وہ پوری ہو رہی ہے ویسے ہی قیامت کی خبر بھی حق ہے جو ضروری پوری ہوگی اور قرآن سنتے ہوئے ان پر گریہ طاری ہوجاتا ہے اور سجدے میں گر جاتے ہیں جس کے سبب انہیں مزید خشوع اور کیفیات قلبی عطا ہوتی ہیں ، صاحب تفسیر مظہری (رح) نے تلاوت میں رونا مستحب لکھا ہے مگر حق یہ ہے کہ یہ دلی کیفیت ہے جو ایمانی قوت سے نصیب ہوتی ہے اور کلام اللہ کے اثر سے رونا نصیب ہوجائے تو نجات کی دلیل ہے ۔ ان کا یہ کہنا کہ آپ پہلے تو اللہ جل جلالہ کو پکارتے تھے ، اب رحمن کا تذکرہ بھی ہے کہ بسم اللہ میں رحمن بھی آگیا تو فرمائیے وہ ذات واحد لاشریک ہے اور اس ایک ہی ذات کے بہت سے خوبصورت نام ہیں ، لہذا اس کے کسی بھی پیارے نام سے اسے پکارا جائے وہ اسی کو پکارنا ہے اور آپ نماز میں تلاوت اعتدال سے کیجئے کہ نہ اتنا بلند ہو کہ کفار سن کر طنز کریں اور نہ اتنا پست کہ مقتدی نہ سن سکیں ، بلکہ معتدل طریقے سے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے اور کہہ دیجئے کہ سب خوبیاں اسی واحد اللہ جل جلالہ کی ذات کے لیے ہیں جس کا کوئی ہمسر ہے نہ ہوگا ، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ اس کی سلطنت و حکومت میں کسی کو دخل ہے ، وہ ذات ہر طرح کی کمی اور کمزوری سے پاک ہے کوئی ایسا نہیں جس کی مدد کی ضرورت اسے پڑے بلکہ اس سب سے بھی بڑھ کر اللہ کی بڑائی اس قدر بیان کریں جیسی اسے سزا وار ہے ۔