17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 17:41–52

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے اس قرآن میں کئی طرح سے بیان فرمایا تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں مگر ان کی (اس بات سے) اور نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

فرما دیجئے اگر اس (اللہ) کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور عرش کے مالک کی طرف (لڑائی کے لئے) راستہ نکالتے

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ (اللہ) پاک ہے اور جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ اس سے بہت زیادہ بلند ہے

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں (سب) اس کی پاکی بیان کر رہے ہیں اور کوئی ایسی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے و لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ بیشک وہ (اللہ) بڑے بردبار (اور) بخشنے والے ہیں

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے درمیان ایک پردہ چھپا ہوا حائل کردیتے ہیں

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ اس کو (اس کے مفہوم کو) سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل (بوجھ) ڈال دیتے ہیں اور جب آپ قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر فرماتے ہیں تو یہ لوگ نفرت سے پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

جس وقت یہ لوگ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں اور جب یہ لوگ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کی پیروی کر رے ہو جس پر جادو کا اثر ہوگیا ہے

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھئے انہوں نے آپ کے بارے میں کیسی کیسی باتیں بنائی ہیں سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں پس راستہ نہیں پاسکتے

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں جب ہم (بوسیدہ) ہڈیاں اور چور چور ہوجائیں گے تو کیا نئے سرے سے پیدا ہو کر اٹھیں گے

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ تم پتھر ہوجاؤ یا لوہا

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی ایسی چیز جو تمہارے نزدیک اس سے بھی سخت ہو پھر اس پر کہیں گے وہ کون ہے جو ہم کو لوٹائے گا (دوبارہ زندہ کرے گا) آپ فرمادیجئے کہ وہ وہی (اللہ) ہے جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا پھر آپ کے آگے اپنے سر ہلائیں گے اور کہیں گے کہ ایسا کب ہوگا فرما دیجئے امید ہے کہ جلد ہوگا

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس روز وہ (اللہ) تم کو پکارے گا پس تم اس کی حمد کرتے ہوئے (اضطرار اس کے) حکم کی تعمیل کرو گے اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت تھوڑا عرصہ رہے

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) نہ صرف یہ کہ اس کے سوا کائنات کا ہر ذرہ اس کی مخلوق اور اسی کی صنعت ہے ، بلکہ ساتوں آسمان زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کا ذکر کرتے ہیں یہ الگ بات کہ انسان معمول کے حواس سے ان کی تسبیح سن اور سمجھ نہیں سکتا ، بیشک وہ بہت بڑا تحمل والا اور بخشنے والا ہے کہ جنوں اور انسانوں میں ذکر نہ کرنے والوں کو بھی وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے یہ اس کی شان حلم ہے اور اگر توبہ کریں تو اس کی بخشش قبول کرتی ہے ارض وسما کی حیات ہی اللہ جل جلالہ کا ذکر ہے اور جو شے ذکر سے غافل ہوتی ہے ، اس کا وجود باقی نہیں رہتا ، دریا ہو تو خشک ہوجاتا ہے ، نباتات ذکر چھوڑ دے تو ختم ہوجاتی ہے جو جانور ذکر چھوڑتا ہے مر جاتا ہے یا دوسرے کا لقمہ بن جاتا ہے ، پہاڑ ذکر چھوڑ دے تو گر جاتا ہے یا پھٹ جاتا ہے سوائے کفار کے وہ انسانوں میں ہوں یا جنات میں سے اور وہ اس لیے کہ انہیں شریعت پر عمل کرنے کا مکلف بنایا گیا اور عمل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار بخشا گیا ، اب اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اللہ کا حلم انہیں وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے لیکن اگر ان کی موت بھی کفر ہی پر واقع ہوجائے تو ہمیشہ کے لیے جہنم ان کا ٹھکانہ ہے ، علاوہ ازیں دنیا کی ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہر شے زبان حال سے ذکر کرتی ہے وہ اس آیت کا مفہوم نہیں کہ شے کہ حالت جو اپنے خالق کی عظمت کی دلیل بنتی ہے اسے تو انسانی فہم سمجھ لیتی ہے یہ ذکر حقیقی مراد ہے جسے عام انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے ہاں دل کے کان کھل جائیں تو اللہ جل جلالہ کی اس عطا سے ہر شے کا ذکر سنائی دیتا ہے جیسا کہ آپ ﷺ سنتے تھے پہاڑوں کا ذکر کرنا حدیث میں ارشاد فرمایا یا فرمایا کہ میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو مجھ پر سلام بھیجا کرتا تھا ، ایسے ہی حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت کہ ہم کھانے سے تسبیح سنا کرتے تھے ، آپ ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں کنکریوں کا تسبیح پڑھنا کہ آدمی نے سنی ظاہر ہے جس پر علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کنکروں کا تسبیح پڑھنا آپ ﷺ کا معجزہ نہیں وہ تو ہر آن پڑھتے ہیں ، آپ ﷺ کا معجزہ تو اس سے بڑا ہے کہ عام انسانی سماعت کو اسے سننا نصیب ہوگیا ، نہ صرف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے کفار نے بھی سنی ورنہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین تو نور قلب سے ان اشیاء کی تسبیح سن بھی لیا کرتے تھے ، ایسے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں اور جانوروں کا مل کر ذکر کرنا کتاب اللہ میں موجود ہے ، آپ ﷺ کے مسجد کے ستون حنانہ کا واقع بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جس نے آپ ﷺ سے دور ہونے پر انسانوں کی طرح طرح چلا چلا کر رونا شروع کردیا تھا جسے آپ ﷺ نے منبر سے اتر کر گلے لگایا تو چپ ہوا یہ اور اس طرح کی بیشمار مثالیں موجود ہیں ، لہذا یہ تسبیح حالی مراد نہیں بلکہ ہر چیز واقعی اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے اور مکلف مخلوق میں سے انسان یا جن اگر ذکر نہیں کرتے تو وہ بھی اپنی عظمت کھو بیٹھتے ہیں اور تباہی کی نذر ہوتے ہیں کہ دوزخ میں جانے سے بڑی تباہی تصور تک نہیں کیا جاسکتا ۔ (کفار کو آواز تو سنائی دیتی تھی مگر آپ ﷺ کی کیفیات سے ان کے دل محروم تھے) نہ صرف یہ کہ ان لوگوں کو چیزوں کا ذکر کرنا سنائی نہیں دیتا بلکہ ان کے کفر اور گناہوں کے باعث انہیں آپ ﷺ کی تلاوت کی اثر آفرینی سے بھی محروم کردیا گیا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے ، اور متکلم کی کیفیات کلام میں ہوتی ہیں پھر تلاوت کریں محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کا جمال کا عکس بھی اس میں ہو تو حد ہے کہ کوئی نہ مانے یا اس پر فدا نہ ہو فرمایا اس کی دنیا کے بعد قیام قیامت وجہ یہ ہے کہ ان کے گناہوں اور کفر نے ان سے کیفیات کو پانے کی استعداد ختم کردی ہے اور جب آپ ﷺ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ ﷺ کے اور کفار کے درمیان پردہ حائل کردیا جاتا ہے یعنی ان کے قلوب اس کی لذت آفرینی سے اور اذہان وعقول اس کی نکتہ سنجی سے مستفید نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے دلوں پر بھی پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور کانوں میں ایسا بوجھ جو حق سننے کی صلاحیت ختم کردیتا ہے اور جب آپ اپنے رب کی وحدانیت کا ذکر فرماتے ہیں تو ان کو اس سے نفرت ہوتی ہے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں ، ّ (کیفیات قلبی سے محرومی بہت بڑی سزا ہے اور فیض کیا ہے) اس سے ثابت ہوا کہ کیفیات قلبی سے محرومی بہت بڑی سزا ہے جو گناہ اور کفر پر دی جاتی ہے اور نور ایمان سے قلب میں کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو آپ ﷺ کی برکات سے بڑھتی ہیں ، ایسے ہی ان لوگوں سے فائدہ حاصل ہوتا ہے ، جو بزرگوں سے یہ کیفیات حاصل کرچکے ہوتے ہیں ، دراصل یہی حصول کیفیات ہی فیض کہلانے کا مستحق ہے کہ فلاں نے فلاں بزرگ سے فیض حاصل کیا ورنہ دنیا کے معاملات کو فیض کہنا نادانی ہے ، چونکہ الفاظ قرآن تو سنتے ہیں آواز تو سنتے ہیں محرومی تو کیفیات سے ہے لہذا جب کبھی کان لگاتے ہیں اور کچھ باتیں سن لیتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ان کی بات ماننا تو ایسے ہے جیسے کسی ایسے شخص کی بات مانی جائے جس پر جادو کردیا گیا ہو اور وہ اپنے بھلے برے کو نہ جانتا ہو کہ ان کی کافرانہ رائے میں تو بتوں سے سب کچھ ملتا ہے جبکہ آپ بتوں کی پرزور تردید فرماتے ہیں تو ان کے خیال میں یہ بڑا پاگل پن ہے اور کوئی جادو زدہ شخص ہی ایسا کرسکتا ہے آج کل بھی یہ مرض بڑھ گیا ہے کہ اسلام اور قرآن کے احکام ظالمانہ اور پاگلوں جیسی باتیں ہیں جو ناقابل عمل ہیں ظاہر ہے ایسا وہی لوگ کہہ سکتے ہیں جو مشرکین عرب کی طرح کیفیات قلبی کے ادنی درجے سے بھی محروم ہیں ۔ (جادو اور اس کا انبیاء پہ اثر) جادو بھی ثابت ہے اور اس کا اثر ہوتا ہے نیک انسانو پر بھی ہو سکتا ہے حتی کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) پر بھی اس کا اثر ہونا ممکن ہے کہ وہ بھی بشری خصوصیات سے الگ تو نہیں ہوئے جیسے نبی کو زخم لگ سکتا ہے یا بیماری اثر دکھا سکتی ہے ویسے جادو بھی مگر عام آدمی کی طرح نہیں کہ جتنا طیب اور طاہر وجود ہو اتنا جادو کم اثر کرتا ہے یا جلدی زائل ہوجاتا ہے تو اے حبیب ﷺ آپ اندازہ فرمائیں ان کے قلوب کی تباہی کا کہ آپ کے لیے کیسی باتیں تجویز کرتے ہیں یہ حال ظاہر کر رہا ہے کہ یہ گمراہی کی اس دلدل میں گر چکے ہیں جس سے واپسی کی امید نہیں لہذا یہ کبھی ہدایت نہیں پا سکتے ، (نبی کی توہین کرنے والا ہدایت نہیں پاسکتا) تو یہ ظاہر ہوا کہ نبی کو نہ ماننے والا تو کبھی توبہ بھی کرسکتا ہے مگر نبی کی توہین کرنے والا اور ایسی باتیں کرنے والا جو نبی کی شان میں گستاخی ہوں توبہ کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے ۔ ان جاہلوں نے دوبارہ حیات کو ناممکن تصور کر رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر گل سڑ جائیں گے ہڈیاں رہ جائیں گی بلکہ ہڈیاں بھی ٹوٹ پھوٹ کر چورہ بن جائیں گی تو کیا پھر نئے سرے سے زندہ کئے جائیں گے تو فرما دیجئے کہ ہڈیاں یا ان کا چورہ یا وجود کی مٹی تو پہلے وجود کی عمارت کا حصہ تھی اور اس میں حیات رہ چکی اگر تم لوہا یا پتھر بن جاؤ یا اس سے بھی کوئی سخت شے تمہارے ذہن میں ہے تو اس میں بدل سکو تو بھی تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو کہتے بھلا ہمیں کون زندہ کرے گا اور ایسا کون کرسکتا ہے تو فرمائیے کہ جس نے تمہیں پہلے پیدا کیا کہ ایک قطرے سے سارا وجود تعمیر فرمایا ، گوشت پوست ، ہڈیاں ، ناک ، کان ، آنکھیں ، دل ، گردے ، جگر ، معدہ ، اعضاء اور ان میں قوت کار جس ہستی نے پیدا فرمائی وہی ہستی تمہاری مٹی اور گلے سڑے وجودوں سے پھر تمہیں زندہ کر دے گی تو لاجواب ہو کر سر مٹکائیں گے اور کہیں گے تو بھلا یہ کب ہوگا ، اب تک تو کوئی مرنے والا زندہ ہو نہیں سکا تو کہہ دیجئے کہ شاید یہ بہت قریب ہی ہو کہ جس دن دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے تو تم سب بھی اس کی عظمت کا انکار نہ کرسکو گے بلکہ تعریف کرتے ہوئے اٹھو گے اور خود تمہارا اپنا اندازہ ہوگا کہ اس میں کوئی دیر نہیں لگی کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا کفار کے حمد وثنا کرنے سے مراد ہے کہ اٹھیں گے تو ایک بار تو اللہ جل جلالہ کی عظمت سے مہبوت ہو کر کہہ اٹھیں گے کہ اللہ جل جلالہ بہت بڑا اور ہر شے پر قادر ہے ، پھر واویلا مچائیں گے مگر اس وقت کا یہ کہنا بھی ایمان تو شمار نہ ہوگا کہ دار عمل تو گذر چکا اور حجابات ہٹ گئے آخرت سامنے ہے تو اب انکار کی گنجائش کہاں ۔
Ayahs 17:53–60

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور میرے بندوں سے کہئے کہ ایسی باتیں کہا کریں جو پسندیدہ ہوں بیشک شیطان (بدکلامی کروا کر) ان میں فساد ڈال دیتا ہے واقعی شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تم سب کا حال جانتا ہے اگر وہ چاہے تو تم پر رحمت فرمادے یا اگر چاہے تو تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار ان سب کو خوب جانتا ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور یقینا ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی ہے اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ تم اس (اللہ) کے سوا جن کو معبودقرار دے رہے ہو ذرا ان کو پکارو تو سہی پس وہ تم سے تکلیف دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ (اس کو) بدل دینے کا

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ (مشرک) جن کو پکار رہے ہیں وہ خود ہی اپنے پروردگار کی طرف ذریعہ (تقرب) تلاش کر رہے ہیں کہ ان میں کون زیادہ (اللہ کا) مقرب بنتا ہے اور وہ اس رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک آپ کے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور (کفار کی) کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اس کو ہلاک کردیں گے یا اس کو عذاب دیں گے سخت عذاب۔ یہ کتاب میں لکھا جاچکا ہے

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے نشانیاں (فرمائشی معجزات) بھیجنا اس لئے بند کردیں کہ اگلے لوگوں نے ان کی تکذیب کی اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی جو کھلی نشانی (معجزہ) تھی تو انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا اور ہم ایسے معجزات کو صرف (انجام بد سے) ڈرانے کے لئے بھیجا کرتے ہیں

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ بیشک آپ کا پروردگار (اللہ تمام) لوگوں کو گھیرے (احاطہ کئے) ہوئے ہے اور جو واقعہ (واقعہ معراج) ہم نے آپ کو (بیداری میں) دکھایا اس کو لوگوں کے لئے آزمائش کا سبب بنا دیا اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم ان کو ڈراتے ہیں تو ان کو بڑی سرکشی پیدا ہوتی ہے

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ میرے بندوں یعنی مسلمانوں سے کہئے کہ بات خوبصورت انداز میں کیا کریں اس میں سختی یا سب وشتم نہ ہو کہ سب وشتم سے یا سخت کلامی سے شیطان کو فساد پھیلانے کا موقع ملتا ہے اور انسانوں کو آپس میں لڑاتا ہے تو بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔ (عام گفتار میں بھی اور دینی تبلیغ میں بھی سخت کلامی درست نہیں خواہ بات کفار ہی سے کیوں نہ کی جائے) مسلمانوں کو آپس میں تو بات زیب ہی اخلاق سے دیتی ہے اور پھر جب بات دین کی وہ اور اللہ جل جلالہ اور اس کے نبی ﷺ کے حوالے سے کی جائے تو اور زیادہ محتاط لب و لہجہ ضروری ہے ، خواہ مخاطب بدکار اور بےدین ہی کیوں نہ ہو یہ بات بات پہ دوسروں کو کافر کہنا اور جہنمی بتانا کبھی بھی اچھی بات نہیں ہو سکتی اور نہ سخت کلامی سے مخاطب کی اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے لہذا مبلغین کو خصوصا احتیاط کرنا ہوگی ، کہ تمہارا پروردگار تمہارے حالات سے بہت اچھی طرح واقف ہے یہ ضروری نہیں کہ تم گلا پھاڑ پھاڑ کر کسی کا کفر ظاہر کرو یہ اللہ جل جلالہ کی مرضی چاہے تو خطا معاف کر دے اور اپنی رحمت سے نوازے ، کفار کو بھی ایمان نصیب ہوجاتا ہے اور بدکار بھی نیک بن سکتے ہیں اور اگر چاہے تو خطاؤں پہ عذاب کرے یا کافر سے توبہ کی توفیق ہی سلب کرلے یہ اس کا اور اس کے بندوں کا معاملہ ہے آپ ﷺ تک کو بھی ان امور کا ذمہ دار نہیں بنایا گیا کہ کون جنت جاتا ہے اور کون جہنم یا کیوں تو کسی دوسرے کو چلانے کی کیا ضرورت ، ہاں اللہ جل جلالہ کی بات ہے خوبصورت انداز میں پہنچاتے رہو۔ آپ کا پروردگار ساری مخلوق کے حالات کو ہر آن جانتا ہے وہ آسمانوں میں بستی ہو یا زمین پر اور اگر آپ کو فضیلت دی تو پہلے بھی قانون ہے بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بعض پر فضیلت دی گئی اگر آپ پر کتاب نازل ہوئی تو پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر کتب نازل کی گئیں جیسے داؤد (علیہ السلام) پر زبور نازل کی گئی جس کے بارے وہ لوگ جانتے تھے لہذا یہ کوئی انوکھی بات نہ ہوئی کہ اس کا انکار کیا جائے ۔ ان کفار ومشرکین سے کہئے کہ اللہ کے علاوہ جن کو یہ اپنا مددگار جانتے ہیں ان کو خوب پکاریں ، مگر یاد رکھیں وہ ان کی مصیبت دور نہ کرسکیں گے یعنی اسلام پھیلے گا اور یہ مغلوب ہوں گے اگر ان کے باطل معبود کوئی طاقت رکھتے ہیں تو اسلام کی راہ روک کردکھائیں مگر وہ نہ مصیبت روک سکتے ہیں نہ تبدیل کرسکتے ہیں کہ راحت سے بدل دیں ، بلکہ جن فرشتوں ، نبیوں یا اولیاء اللہ کے بت بنا کر انہوں نے سجا رکھے ہیں وہ اللہ جل جلالہ کے مقابلے میں ان کی مدد کیا کریں گے ۔ (وسیلہ) وہ تو خود اللہ جل جلالہ کو راضی کرنے کے اسباب تلاش کرتے رہتے ہیں اس کی عبادت اور اطاعت کو اس کی رضا مندی کے وسیلے کے طور پر اختیار کئے ہوئے اور اس کی رحمت کے امیدوار بھی ہیں جبکہ اس کی بےنیازی سے ڈرتے بھی رہتے ہیں کہ بیشک تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق ۔ (ایمان کی حالت) اور ایمان کی یہی حالت مطلوب ہے کہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت کو اس کو رضا کا وسیلہ بنایا جائے اور امیدوار کرم رہے مگر کبھی نافرمانی پہ جرات اور دلیری نہ دکھائے کہ اس کی شان بےنیازی سخت گرفت سے ڈرتا بھی رہے ۔ رہی بات کفار کی تو نہ صرف مکہ مکرمہ یا عرب بلکہ کفار کی ہر آبادی اللہ جل جلالہ کی گرفت سے نہ بچ سکے گی مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہو کر کفر تباہی سے دوچار ہو یا دنیا میں ہی اس پر عذاب نازل ہوجائے گا ورنہ قیامت کو تو اسے بہت سخت عذاب کا سامنا ہوگا کہ یہ فیصلہ ہوچکا اور بات طے ہوگئی کہ کفر پر ضرور عذاب ہوگا اور کفر کسی رعایت کا مستحق نہ ہوگا ۔ ان کا یہ مطالبہ عبث ہے کہ جو معجزہ ہم مانگتے ہیں وہ کیوں نہیں ظاہر کیا جاتا کہ پہلے کی تاریخ موجود ہے ، کفار نے معجزات طلب کئے مگر جب وہ ظاہر ہوئے تو انہیں ماننے سے انکار کردیا اور ان کی تکذیب کی چناچہ اجماعی بربادی کا شکار ہوئے جیسے ثمود نے ناقہ کا مطالبہ کیا تھا پھر وہ ظاہر ہوگئی تو اسے مار دیا ، اور خود بھی تباہ ہوگئے ، اب آپ کی بعثت کی برکات سے اجماعی بربادی کا عذاب اٹھا دیا گیا تو منہ مانگے معجزات بھی روک لیے گئے کہ معجزات سے مراد تو عظمت الہی کا احساس دلانا اور اس کے عذاب سے ڈرانا ہے تو اس غرض کے لیے آپ کے معجزات کا شمار نہیں تو کفار کے منہ مانگے معجزات کی ضرورت بھی نہ رہی ۔ (واقعہ معراج ایک آزمائش بھی ہے) بھلا آپ ﷺ کے واقعہ معراج سے بڑا اور عجیب تر معجزہ اور کیا ہوگا کہ اتنا بڑا تو مطالبہ بھی نہیں سوچ سکتے مگر خود یہ واقعہ بھی ان لوگوں کے لیے بہت بڑی آزمائش بن گیا اور اسے ماننا ان کے لیے محال ہوگیا جیسے آج کل بھی جن کا ماننے کو جی نہیں چاہتا تاویلیں کرتے ہیں کہ جسمانی نہ تھا صرف روحانی تھا وغیرہ یہاں رویاء سے مراد واقعہ معراج میں جو اللہ جل جلالہ نے دکھایا اس کا دیکھنا ہے ، یہ تو بہت بڑی بات ہے انہیں تو صرف زقوم یعنی تھور کے درخت کی اتنی سی بات کہ یہ جہنم میں ہوگا اور دوزخی کھائیں گے لے بیٹھی کہ بھلا جب آگ ہوگی تو اس میں درخت کہاں وغیرہ یہ انکار انہیں بغاوت اور شرارت میں اور آگے بڑھانے کا سبب بن رہا ہے ۔
Ayahs 17:61–70

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا اور) کہا کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو آپ نے مٹی سے پیدا فرمایا ؟

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا بھلا دیکھیں تو یہی ہے وہ جس کو آپ نے مجھ پر فضیلت بخشی ہے اگر آپ مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دیں تو میں ضرور تھوڑے لوگوں کے سوا ان کی اولاد کو تباہ کرتا رہوں گا

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

ارشاد ہوا یہاں سے چلا جا پس جو ان میں سے تیری بات مانے گا تو بیشک تم سب کی سزا جہنم ہے ، پوری پوری سزا

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدہ کرتا رہ اور شیطان ان سے جو وعدے کرتا ہے سب دھوکا ہیں

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

بیشک میرے (مخلص) بندوں پر تیرا کوئی بس نہ چلے گا اور آپ کا پروردگار کارساز کافی ہے

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے سمندر میں جہاز چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل میں سے (روزی) تلاش کرو بیشک وہ تم پر مہربان ہے

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تم کو سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو (اللہ) کے علاوہ جتنوں کی تم عبادت کرتے ہو سب گم ہوجاتے ہیں پھر جب ہم تم کو خشکی کی طرف بچا لاتے ہیں تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ناشکرا ہے

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

سو کیا تم (اس بات سے) بےخوف ہو کر وہ تمہیں خشکی کی طرف (لے جاکر) زمین میں دھنسا دے یا تم پر ایسی تیز ہوا بھیج دے جو کنکر پتھر برسانے لگے ؟ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا تم (اس بات سے) بےخوف ہوگئے ہو کہ تم کو اس (سمندر) میں دوبارہ لے جائے پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے ؟ پس تمہارے کفر کی وجہ سے تمہیں غرق کردے پھر تم اپنے لئے کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا نہ پاؤ

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے بنی آدم (علیہ السلام) کو عزت بخشی اور ان کو خشکی اور سمندر میں سواری دی اور ان کو پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی بنا اور مجھے سجدے کرتے اور عبادت کرتے عرصہ بیت گیا پھر بھلا اسے مجھ پر فضیلت دینا کیسے درست ہو سکتا ہے گویا اللہ کی تقسیم پر معترض ہوا جیسے انہیں اس بات پر اعتراض ہے کہ اللہ جل جلالہ نے آپ ﷺ کو نبوت سے کیوں سرفراز فرمایا ۔ کہنے لگا کہ اے اللہ اگر مجھے روز قیامت تک زندگی اور مہلت دی جائے تو میں اس کی نسل اور اولاد سے مقابلہ کروں گا اور انہیں گمراہ کروں گا ہاں اگر تھوڑے بہت بچ جائیں تو الگ بات ہے ورنہ میں ان سب سے تیرا در چھڑا کر انہیں اپنے آگے جھکا لوں گا ، تو ارشاد ہوا جا اور یہ بھی کر کے دیکھ لے مگر سن لے کہ جو کوئی تیری بات مانے گا اور انسانی عظمت کھو کر تیری غلامی کرے گا وہ تمہارے سمیت جہنم میں جائے گا اور اس ظلم کی پوری پوری سزا پائے گا ، تجھے افسوس نہ رہنا چاہئے اپنے سوار اور پیادے یعنی لاؤ لشکر سمیت ان پر چڑھائی کر دے ، انہیں اپنی آواز سے گمراہ کرنے کی سعی کر اور ان کے مال میں شراکت کرلے ان کی اولادوں میں حصہ داری بنا لے اور انہیں جھوٹے وعدوں سے بہلا پھسلا کر گمراہ کرنے کی کوشش کر واقعی شیطان اپنے ماننے والوں سے جو وعدہ کرتا ہے وہ محض دھوکا اور فریب ہوتا ہے ۔ (شیطان کی آواز اور لاؤ لشکر کیا ہے) صاحب تفسیر قرطبی (رح) فرماتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد ہے کہ گانا بجانا اور گانے بجانے کے آلات یعنی مزا میر ہی شیطان کی صوت ہیں اسی لیے یہ سب شرعا حرام ہے اگرچہ جدید تہذیب میں اسے روح کی غذا کا نام دیا گیا ہے مگر یہ روح کے لیے زہر قاتل ہے اور جو ایسا کہتے ہیں وہ روح کے بارے کچھ نہیں جانتے بلکہ یہ سرتال نفس انسانی کے سفلی جذبات کو بھڑکانے کا سبب بنتے ہیں ، اور یہ جدید دانشور اسی نفس کو روح کا نام دے کر جذبات کو ابھارنے والی آواز کو اس کی غذا قرار دے رہی ہیں حالانکہ روح کو غذا ملے تو انسان جذبات سے مغلوب نہیں ہوتا بلکہ جذبات پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے ، اللہ جل جلالہ معاف کرے جہلانے مزامیر اور گانے بجانے کو قوالی شریف کہہ کر مذہبی تقدس بھی دے دیا ہے جو بہت بڑی زیادتی ہے ۔ اور شیطان کے سوار اور پیادے سے مراد تو اس کے ماننے والوں کے لشکر ہیں جن میں اس کی اولاد اس کے پیروکار جن اور اس کے متبعین انسان سب شامل ہیں ، آج کے لشکر تو اقوام مغرب ہیں جو محض چند ٹکوں کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے ممالک اور اقوام کو جنگ کی ہولناکیوں میں دھکیل دیتے ہیں ۔ (مال اور اولاد میں شیطان کی شراکت) جو مال بھی ناجائز ذرائع سے جمع کیا جائے اس میں ابلیس کی شراکت واضح کہ اس کے کہنے پر خرچ کیا گیا ۔ ایسے ہی حصول اولاد کے لیے غیر شرعی طریقے اختیار کرنا یا غیر شرعی رسومات ادا کرنا یا ناجائز اولاد کا ہونا شیطان کی شراکت ہے ، اور یہ ناجائز ذرائع اختیار کرنا یا مشرکانہ رسومات کیسے درست ہو سکتی ہیں جبکہ سب اختیار اللہ کو ہے جس نے تمہارے لیے سمندروں پر جہازوں میں سواری کرنا آسان بنا دیا تاکہ تم اپنے رزق کے ذرائع پیدا کرسکو وہ تو تم پر حد درجہ مہربان ہے کہ تمہیں ان امور کی عقل اور قوت کار عطا کی اور خود تمہارا عمل گواہ ہے کہ سمندر میں جب کبھی تمہیں طوفان آگھیریں تو تم اپنے فرض کردہ باطل معبودوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ کے نام کی دہائی دیتے ہو کہ عرب ایسا ہی کرتے تھے خود ان کے خیال میں بتوں کا بس صرف خشکی پر چلتا تھا پھر جب اللہ جل جلالہ تمہیں ان مصائب سے بچا کر لاتا ہے تو خشکی پر پہنچ کر تم اس کی اطاعت سے روگردانی کرنے لگتے ہو ، انسان بھی کس قدرنا شکرا ہے ، کیا تم یہ نہیں سوچتے کہ اللہ قادر ہے اور خشکی پر پہنچ کر تم اس کی گرفت سے دور نہیں ہو گے بلکہ وہ چاہے تو خشکی میں ہی غرق کر دے اور زمین میں دھنسا دے یا آندھی اور طوفان مسلط کرکے تباہ کر دے اور تمہیں کوئی مددگار میسر نہ ہو سکے ، یا اس بات سے بھی بےخوف ہوجاتے ہو کہ تمہیں پھر سے سمندروں میں لے جائے اور سمندری طوفانوں کی نذر کر دے ایسے حالات پیدا فرما دے کہ تمہیں پھر بحری سفر پر جانا پڑجائے اور وہاں طوفان تمہیں تمہارے کفر کی وجہ سے غرق کرکے تباہ کر دے اور اس کی بارگاہ میں تو تمہاری بات کرنے والا بھی کوئی نہ ہو کہ تمہاری حمایت میں منہ کھولنے کی جرات کرے ،۔ ہمارا احسان دیکھو کہ ہم نے اولاد آدم کو بزرگی اور عظمت بخشی اسے سمندروں اور خشکی پر بےپناہ اختیار واقتدار دیا اور بہترین کھانے عطا فرمائے غرض اپنی بےحساب مخلوق پر اسے فضیلت بخشی ۔ (کرامت بنی آدم) سب سے بڑی عظمت آدمیت نور نبوت ہے جو انسانوں کے علاوہ کسی بھی مخلوق کو عطا نہ ہوا اور یہی نور انسانوں کے دلوں کو روشن کرکے انہیں جمال باری کو اپنی حیثیت کے مطابق دیکھنے کی سکت اور نتیجے میں عشق وطلب عطا کرتا ہے اور مادی اعتبار سے بھی جسمانی ساخت قد کاٹھ اور اعضاء اور اعضاء کی کارکردگی میں عقل و شعور اور فہم و فراست میں اور طرح طرح کے کھانے بنانے اور آرام کے اسباب ایجاد کرنے میں ہر طرح سے انسان کو دوسرے حیوانات پر بہت بڑی فضیلت ہے اور روحانی اعتبار سے تخلیق پر سبقت لے گیا ۔
Ayahs 17:71–77

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

اور جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے تو جن کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی سو وہ (خوش ہوکر) اپنی کتاب (اعمال نامہ) کو پڑھیں گے اور ان پر ذرہ بھر زیادتی نہ کی جائے گی

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہے سو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور (نجات کے) راستے سے بہت دور

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور یہ اس سے آپ کو بہکانے میں لگے تھے جو ہم نے آپ پر وحی بھیجی ہے تاکہ آپ اس کے سوا ہماری نسبت اور باتیں بنالیں اور اس وقت وہ آپ کو دوست بنالیتے

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو (ہوسکتا ہے) آپ ان کی طرف کسی قدر مائل ہونے لگتے

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

(اگر ایسا ہوتا) تو ہم آپ کی زندگی میں بھی دگنا اور مدت حیات پورا ہونے کے بعد بھی دگنا (عذاب) ضرور چکھاتے پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کسی کو بھی اپنا مددگار نہ پاتے

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس سرزمین سے آپ کے قدم ہی اکھاڑنے لگے تھے تاکہ آپ کو اس سے نکال دیں اور پھر (اگر ایسا ہوتا تو) آپ کے بعد یہ بھی بہت کم رہ پاتے

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

جو پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے بھیجے تھے (ان کے باب میں ہمارا) یہی قاعدہ رہا ہے اور آپ ہمارے (اس) قاعدے میں تغیر وتبدل نہ پائیں گے

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف اب اگر یہ برائی کرتا ہے یا شیطان کی پیروی کرتا ہے تو آخر ایک روز ہر انسان کو اس کے نامہ اعمال سمیت بلایا جائے گا اور میدان حشر میں اکٹھا کیا جائے گا ۔ (امام) کہ امام سے مراد اعمالنامہ ہے کہ حدیث شریف میں یہ معنی بھی وارد ہے اور امام بمعنی پیشوا ومقتدا بھی مراد ہے کہ جیسے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے والے یا ان کے نائبین مشائخ وعلماء کے پیچھے چلنے والے اور دوسرے شیطان کے پیروکار تو گویا دنیا میں جو عمل اور کردار ہے یا جس کی پیروی کرتا ہے ، اسی کے گروہ یا طبقے میں اٹھایا جائے گا کہ امام کا معنی مطلق پیشوا ہے نیک ہو بد مومن ہو یا کافر کہ امامت نبوت کی طرح کوئی شرعی منصب نہیں ، خود کتاب اللہ میں کفار کے پیشواؤں کو آئمۃ الکفر کہا گیا ہے تو حاضری پر جب اعمالنامے تقسیم ہوں گے تو مومن کو دائیں ہاتھ میں تھما دیا جائے گا نیک ہو یا گناہگار مگر کفر اور ابدی عذاب سے تو بچ گیا لہذا خوش ہو کر اپنا اعمالنامہ پڑھے گا اور کسی پر معمولی زیادتی بھی نہ کی جائے گی ، جبکہ کفار کو بالعکس یعنی بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جس پر وہ نجات سے ناامید ہوجائیں گے ۔ مگر جو یہاں اندھا پن اختیار کئے رہا اور راہ ہدایت کو نہ پا سکا اسے بھلا وہاں نجات کا راستہ کیسے ملے گا ، جیسے یہاں اندھا تھا وہاں بھی ہوگا اور جیسے یہاں گمراہ تھا وہاں بھی نجات کی راہ سے بھٹک جائے گا ۔ (کفار ومشرکین کی دوستی) یہ بدبخت نہ صرف خود بھٹکے ہوئے ہیں بلکہ جس سے دوستی کرتے ہیں اس کو بھی راہ سے ہٹا دیتے ہیں حتی کہ یہ آپ کو بھی احکام الہی کے خلاف کرنے پر اکسانا چاہتے تھے بلکہ پوری کوشش کرچکے ہیں کہ اگر آپ ایسا کریں تو ہم بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کریں ۔ (مشرکین اور کفار سے دوستی کے لیے مسلمانوں کی حمایت سے دستبردار ہونا) مشرکین مکہ کے سرداروں نے خدمت عالی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ ہم سب کی طرف مبعوث ہوئے ہیں تو ہمارے لیے بھی موقع پیدا فرمائیں کہ ہم آپ کی خدمت میں بیٹھ کر ارشادات تو سن سکیں اور آپ جانتے ہیں کہ شہر کے فقراء کے ساتھ ہم نہیں بیٹھ سکتے تو آپ ان غریب مسلمانوں کو مجلس سے اٹھا دیا کریں اس پر یہ آیہ مبارک نازل ہوئی کہ یہ آپ سے اللہ کی وحی کے خلاف کروانا چاہتے ہیں ، اور مسلمان سے الگ ہونے کی شرط پر کفار سے دوستی گویا اللہ جل جلالہ کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے اور جب یہ عمل آپ سے صادر ہوتا تو اس کا معنی تھا کہ اللہ جل جلالہ کا حکم ہی ایسا ہے کہ نبی تو اللہ جل جلالہ کے حکم کے خلاف نہیں کرتا تو اتنے بڑے نقصان کے عوض دوستی اور وہ بھی کافر کی جو بہرحال دشمنی ہی ہوتی ہے ۔ اگر آپ کو عصمت نبوت عطا فرما کر ثابت قدم نہ کردیا جاتا تو ممکن ہے کہ کسی قدر آپ کا میلان ان کی بات کی طرف ہوجاتا یہ شان رسالت ﷺ ہے کہ عصمت نبوت نے تو اللہ جل جلالہ کے حکم کی خلاف ورزی کا امکان ہی ختم کردیا اس کے بغیر بھی نبی کا وجود تخلیقی طور پر اتنا پاکیزہ ہوتا ہے اور مزاج اتنا صالح ہوتا ہے کہ اللہ جل جلالہ کے حکم اور پسند کے خلاف جانا طبعا گوارا نہیں کرتا یعنی پھر بھی صرف یہ امکان تھا کہ کسی قدر آپ کا میلان اس طرف ہوجاتا ۔ (مسلمانوں کی ذلت یا مخالفت پر کفار کی دوستی خریدنے کی سزا) اور اگر آپ ایسا کرتے جو نہ آپ ﷺ نے کہا اور نہ اس کا آپ ﷺ سے امکان ہی تھا ، مگر آپ ﷺ کو مخاطب کرکے ارشاد فرمانے سے مراد ہے کہ پھر دنیا میں کوئی دوسرا ایسا نہیں جو یہ عمل کرکے اس سزا سے بچ سکے کہ ایسا کرنے والے کو ہم دوگنا عذاب اس دنیا میں بھی دیتے اور بعد موت برزخ اور آخرت میں بھی اس کے عذاب کو دوگنا کردیتے اور اسے ہمارے مقابل کوئی مددگار بھی نصیب نہیں ہوسکتا ، اب اس ارشاد باری کی روشنی میں ان قوموں ، ملکوں اور حکمرانوں کو دیکھا جائے جو امریکہ اور یورپ کے کفار کی دوستی کے بدلے مسلمانوں سے بےاعتنائی برتتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے اور سب کو ہدایت دے ۔ بلکہ کفار تو آپ کو شہر بدر کرنے کے درپے تھے پھر دوستی کیسی کہ دنیاوی اعتبار سے بھی ان کے باطن میں تو محض آپ کو خدام سے محروم کرکے شہر سے نکلنے پر مجبور کرنا تھا ، مگر اللہ جل جلالہ کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ اس کے نبیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیتے ہیں پھر وہ بھی وہاں سکھ کا سانس نہیں لے سکتے اور نہ رہ سکتے ہیں ، لہذا اگر یہ ایسا کرتے تو انہیں بھی نتیجہ بھگتنا پڑتا کہ آپ سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو جن اقوام نے نکال دیا وہ اسی ضابطہ کے تحت تباہ ہوگئیں کہ یہی سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں کبھی تفاوت نہیں ہوتا ، چناچہ اہل مکہ نے بھی یہ کر کے دیکھ لیا ، آپ ﷺ کو ہجرت پہ مجبور کیا مگر آپ ﷺ کے بعد ایک لمحہ آرام نہ پا سکے ، جنگوں میں ذلیل اور تباہ ہوئے قحط کا شکار ہوئے اور بالآخر مکہ سے ہاتھ دھو بیٹھے اور آٹھ ہجری میں مکہ مکرمہ فتح ہوگیا ، یہی حال ان افراد کا ہوتا ہے جو سنت نبوی ﷺ کو اپنی ذات یا اپنے عمل سے خارج کردیتے ہیں ، کہ پھر دو عالم میں تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے ، لہذا دنیا کے امن اور آبرو کے لیے بھی شہروں یا قوموں میں نبی کو وجود اور اتباع ضروری ہے تو افراد میں بھی اطاعت نبوت کا عنصر عزت وآبرو کی بنیاد ہے ۔