12. Surah Yusuf
يوسفJoseph · 111 ayahsاسرار التنزیل
وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader
اور جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے (حقیقی) بھائی کو اپنے پاس جگہ دی فرمایا یقینا میں تمہارا بھائی (یوسف علیہ السلام) ہوں ، جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے ہیں سو اس کا رنج مت کرنا
فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader
پھر جب انہوں (یوسف علیہ السلام) نے ان سامان تیار کردیا تو پانی پینے کا برتن اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا پھر ایک پکارنے والے نے آوازی دی کہ اے قافلے والو ! تم تو چور ہو
قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader
اور وہ ان (تلاش کرنے والوں) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کون سی چیز گم ہوگئی ہے ؟
قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader
انہوں نے کہا ہم کو شاہی پیالہ نہیں مل رہا اور جو شخص اس کو لے آئے گا اس کو ایک اونٹ کا بوجھ (غلہ) ملے گا اور میں اس بات کا ضامن ہوں
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader
کہنے لگے اللہ کی قسم بیشک تم خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں اس لئے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہی ہم چور ہیں
قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader
انہوں نے کہا اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس (چوری) کی سزا کیا ہوگی ؟
قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader
کہنے لگے اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان میں وہ پایا جائے پس وہی اس کا بدلہ قرار دیا جائے ، ہم غلط کاروں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader
پھر انہوں (یوسف علیہ السلام) نے اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے اسباب سے تلاش شروع کی پھر اپنے بھائی کے اسباب سے اسے برآمد کرلیا اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہ (مصر) کے قانون کے مطابق نہیں لے سکتے تھے سوائے اللہ کی مرضی کے۔ ہم جس کے چاہتے درجات بلند فرماتے ہیں اور تمام علم والوں سے بڑھ کر ایک علم والا ہے
قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader
(برادران یوسف) نے کہا اگر اس نے چوری کی تو بیشک اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ پس یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور اسے ان پر ظاہر نہ ہونے دیا۔ (دل میں) فرمایا کہ تم (اس معاملہ میں) بہت ہی برے ہو اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ بہت بہتر جانتے ہیں
قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader
وہ کہنے لگے اے عزیز ! (عزیز مصر) بیشک اس کے والد بہت بوڑھے (بزرگ) ہیں سو اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے۔ بیشک ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader
انہوں نے فرمایا اللہ کی پناہ ! جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ لیں ، ایسا کریں تو ہم ضرور بڑے بےانصاف ہوں گے
فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader
پس جب وہ وہ ان سے ناامید ہوگئے تو الگ بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے۔ ان میں سب سے بڑے نے کہا ، کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم کس قدر قصور کرچکے ہو سو میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ میرے لئے کوئی فیصلہ فرمادیں اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں
اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader
تم لوگ واپس اپنے والد کے پاس جاؤ پس (ان سے جاکر) کہو اے ہمارے اباجان ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (اور گرفتار ہوئے) اور ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم جانتے ہیں اور ہم غیب کی باتوں کے تو یاد رکھنے والے نہیں
وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader
اور جس بستی میں ہم ٹھہرے تھے وہاں سے پوچھ لیجئے اور جس قافلے میں ہم آئے ہیں (اس سے دریافت کرلیجئے) اور یقینا ہم بالکل سچے ہیں
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader
وہ فرمانے لگے بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے بیشک وہ جاننے والے حکمت والے ہیں
وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader
اور ان سے رخ پھیرلیا اور فرمانے لگے وائے افسوس ! یوسف (علیہ السلام) پر اور دکھ سے (رو رو کر) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں سو وہ غم سے بھرے ہوئے تھے
قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader
(بیٹے) کہنے لگے اللہ کی قسم اگر آپ یوسف (علیہ السلام) کو اسی طرح یاد کرتے رہے تو بیمار پڑجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader
انہوں نے فرمایا یقینا میں تو اپنے رنج وغم کا اظہار اللہ سے کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader
اے میرے بیٹو ! جاؤ پس یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوا کرتے ہیں۔
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader
پس جب وہ ان (یوسف علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو کہنے لگے اے عزیز ! (عیز مصر) ہم کو اور ہمارے خاندان کو (قحط کی وجہ سے) بہت تکلیف پہنچ رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں سو (اس کے بدلے) ہمیں پورا غلہ دے دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے۔ بیشک اللہ خیرات کرنے والوں کو جزائے خیر دیتے ہیں
قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader
انہوں (یوسف علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم کو یاد ہے تم نے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب تم نادانی میں مبتلا تھے
قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader
وہ بولے کیا واقعی آپ ہی آپ یوسف (علیہ السلام) ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ بیشک ہم پر اللہ نے بڑا احسان فرمایا ہے اور جو شخص واقعی اللہ سے ڈرتا ہے اور (گناہوں سے) صبر کرتا ہے تو یقینا اللہ خلوص سے نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader
کہتے لگے اللہ کی قسم یقینا اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور ہم ہی خطاوار تھے
قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader
انہوں نے فرمایا آج کے دن تم پر کوئی عتاب نہیں ، اللہ تمہارا قصورمعاف فرمائیں اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں
اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader
یہ میرا کرتہ لے جاؤ پھر اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو ، وہ دیکھنے لگ جائیں گے اور اپنے تمام گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ
وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader
جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد فرمانے لگے کہ بیشک مجھے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ بڑھاپے میں بہکی باتیں کررہا ہوں
قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader
وہ کہنے لگے اللہ کی قسم آپ یقینا اسی پرانے فضول خیال میں مبتلا ہیں
فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader
پس جب خوشخبری دینے والا آیا تو اس نے اس (کرتے) کو ان کے منہ پر ڈال دیا سو وہ فوراً ہی دیکھنے لگے فرمایا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ یقینا میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader
انہوں نے عرض کیا اے ہمارے والد ! ہمارے لئے ہمارے گناہ کی بخشش مانگیے ، بیشک ہم خطا کار تھے
قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader
انہوں نے فرمایا عنقریب میں تمہارے لئے اپنے پروردگار (اللہ) سے بخشش طلب کروں گا ، بیشک وہ بخشنے والے مہربان ہیں
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader
پس جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچیتو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور فرمایا مصر میں چلئے اللہ کو منظور ہو تو (وہاں) امن سے رہیے
وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader
اور اپنے والدین کو تخت (شاہی) پر بٹھایا اور سب ان (یوسف علیہ السلام) کے آگے سجدے میں گر گئے اور انہوں نے فرمایا اے میرے اباجان ! یہ میرے خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا بیشک میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا اور یقینا اس نے مجھ پر بہت احسان کیا ہے جب مجھے جیل خانے سے نکالا اور آپ کو گاؤں سے یہاں لایا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے اس کی عمدہ تدبیر کرتا ہے ، بیشک وہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے
رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader
اے میرے پروردگار ! آپ نے مجھے سلطنت کا بڑا حصہ عطا فرمایا اور مجھے خوابوں کی تعبیر دینا تعلیم فرمایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے ، آپ ہی دنیا اور آخرت میں میرے کار ساز ہیں مجھ کو فرمانبرداری کی حالت میں (دنیا سے) اٹھائیے اور مجھے خاص بندوں میں شامل فرمائیے
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader
یہ (قصہ) غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کے ذریعے آپ کو بتلاتے ہیں اور آپ ان (برادران یوسف علیہ السلام) کے پاس وقت موجود نہ تھے جب انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا اور وہ تدبیر کر رہے تھے
وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader
اور بہت سے لوگ خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں
وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader
اور آپ ان سے اس کا کوئی صلہ بھی نہیں مانگے یہ (قرآن) تو تمام جہانوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے