12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 12:69–79

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے (حقیقی) بھائی کو اپنے پاس جگہ دی فرمایا یقینا میں تمہارا بھائی (یوسف علیہ السلام) ہوں ، جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے ہیں سو اس کا رنج مت کرنا

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب انہوں (یوسف علیہ السلام) نے ان سامان تیار کردیا تو پانی پینے کا برتن اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا پھر ایک پکارنے والے نے آوازی دی کہ اے قافلے والو ! تم تو چور ہو

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

اور وہ ان (تلاش کرنے والوں) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کون سی چیز گم ہوگئی ہے ؟

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم کو شاہی پیالہ نہیں مل رہا اور جو شخص اس کو لے آئے گا اس کو ایک اونٹ کا بوجھ (غلہ) ملے گا اور میں اس بات کا ضامن ہوں

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

کہنے لگے اللہ کی قسم بیشک تم خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں اس لئے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہی ہم چور ہیں

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس (چوری) کی سزا کیا ہوگی ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

کہنے لگے اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان میں وہ پایا جائے پس وہی اس کا بدلہ قرار دیا جائے ، ہم غلط کاروں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر انہوں (یوسف علیہ السلام) نے اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے اسباب سے تلاش شروع کی پھر اپنے بھائی کے اسباب سے اسے برآمد کرلیا اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہ (مصر) کے قانون کے مطابق نہیں لے سکتے تھے سوائے اللہ کی مرضی کے۔ ہم جس کے چاہتے درجات بلند فرماتے ہیں اور تمام علم والوں سے بڑھ کر ایک علم والا ہے

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(برادران یوسف) نے کہا اگر اس نے چوری کی تو بیشک اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ پس یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور اسے ان پر ظاہر نہ ہونے دیا۔ (دل میں) فرمایا کہ تم (اس معاملہ میں) بہت ہی برے ہو اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ بہت بہتر جانتے ہیں

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اے عزیز ! (عزیز مصر) بیشک اس کے والد بہت بوڑھے (بزرگ) ہیں سو اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے۔ بیشک ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اللہ کی پناہ ! جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ لیں ، ایسا کریں تو ہم ضرور بڑے بےانصاف ہوں گے

آیات 69 تا 79 اسرارومعاف جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔ تربیت قلوب اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم اپنے بندوں کے قلوب کی تربیت فرماتے ہیں اور مختلف بھٹیوں سے گزرکر یہی قلوب کندن بنتے ہیں اور یہ معاملہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ساتھ اپنی اپنی شان کے مطابق ہوتا رہتا ہے اور اہل اللہ کو بھی غم اسی سلسلے میں نصیب ہوتے ہیں جبکہ دنیا دار کو غم مزید ناشکری کی طرف دھکیلتے اور وہی غم اللہ کے بندوں کے اور قریب تر کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ انسان کی اصل عظمت ہی دلوں کے ٹوٹنے سے بنتی ہے ۔ چناچہ بنیامین کو روکنے کی تدبیریہ کی گئی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خادموں کو حکم دیا تو انھوں نے شاہی پیمارنہ جو بہت قیمتی تھا بنیامین کے غلے میں چھپادیا چونکہ ہر آدمی کو ایک اونٹ غلہ ملتا تھا اور سب لوگ ایک ایک اونٹ اپنے نام سے خود بار کراتے تھے چناچہ ہر آدمی کا اونٹ ازخود مقرر تھا ۔ قافلہ روانہ ہوگیا تو پیچھے آدمی دوڑائے گئے جنہوں نے انھیں راستہ میں جالیا اور کہا اے اہل قافلہ ! تم پر چوری کا شبہ ہے ۔ وہ بہت حیران ہوئے اور یہ بات انھیں بہت ناگوارگزری کہ ہم تو اولا پیمبر ہیں اور یہاں بھی سلطان مصر نے ہماری بہت عزت کی ہے تو کیا ہم اتنے احسان فراموش ہیں کہ ایسا کام کریں گے اور زمین پر فساد پھیلانا تو ہمیں زیب نہیں دیتا ۔ نہ ہی ہم چور ہیں۔ اللہ کی شان کتنی بڑی خطاکرگزرے کہ ایک نبی کو جو سگابھائی بھی تھا ظلم کا نشانہ بنایا اور دوسرے نبی کو جو والد بھی تھا غم میں مبتلا کردیا اور سب کچھ بھول کر کس قدر پاکبازی پہ اصرار ہے یہی مزاج انسانی ہے اور ہم اکثر اس طرح سے دھوکا کھاتے ہیں ۔ کاش ! اللہ کریم اس کا احساس بخش دیں ۔ اگر ایسا ہوجائے تو مقصود حاصل ہوجائے اور بھلا تمہارا کو نسامال چوری ہوگیا جس کا شبہ تمہیں ہم پر ہے تو سرکاری آدمی نے کہا کہ شاہی پیمانہ جو بہت قیمتی تھا چوری ہوا اور آپ لوگوں نے بھی اسی پیمانے سے ماپ کر مال حاصل کیا تھا۔ لہٰذا آپ سے پوچھ گچھ تو ضروری تھی اب اگر وہ غلطی سے بھی آپ کے مال میں آگیا ہے تو لوٹا دیجئے۔ کسی کام پر انعام مقرر کرنا اور مال کے لئے ضمانت دینا جائز ہے اور ہاں ! بادشاہ نے اس کی بازیابی پر ایک اونٹ غلہ دینے کا اعلان فرمایا ہے اور میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ پیمانہ لوٹا نے والے کو ایک اونٹ مزید غلہ دیا جائے گا۔ گویا کسی کام پر انعام مقرر کرنا بھی درست ہے اور مال کے لئے ضمانت دینا بھی جائز ہے ۔ لینے والا ضمانت دینے والے سے اپنا مال حاصل کرسکتا ہے۔ چنانچہ سرکاری آدمیوں نے پوچھا کہ اگر آپ شریف لوگ ہیں اور ہماری بازپرس پہ خفا ہوتے ہیں تو ہم آپ سے اپنے قانون کے مطابق معاملہ نہیں کرتے آپ اپنے ہاں کا دستوربیان کریں کہ اگر آپ میں سے کسی بھائی کے غلے سے وہ پیمانہ برآمد ہوجائے تو اس کو کیا سزادی جائے کیونکہ اب تلاشی تو ہوگی اور برآمدنہ ہواتو ہم آپ سے معذرت کرلیں گے ۔ تو وہ کہنے لگے کہ ہمارے ہاں چور کی سزایہ ہے کہ اگر ثابت ہوجائے تو چورکو اس آدمی کے سپرد کردیا جاتا ہے جس کا مال اس نے چرایا ہو اب وہ اس کا غلام ہے وہ جو سلوک چاہے اس سے کرے اور یہی سزامناسب ہے کہ چوری بہت بڑا ظلم ہے لہٰذا شریعت یعقوب (علیہ السلام) کا یہی قانون ہے حالانکہ مصر کے قانون کے مطابق مارپیٹ کر چھوڑدیا جاتا ۔ مگر اللہ کو اسے روکنا منظور تھا لہٰذا بھائی خود اپنے ہاتھوں اس کا اہتمام کرتے رہے تلاشی لی گئی تو بن یامین کے مال سے پیمانہ برآمدہوگیا پہلے باقی سب کا سامان تلاش کرتے رہے حتی کہ صرف بنیامین کا مال بچامگر جب وہ کھولا تو پیمانہ نکل آیا تو بہت پریشان ہوئے اور بڑی ملامت کرنے لگے کہ بنیامین نے تو ہماری ساری عزت ڈبودی مگر قصور بنیامین کا تھا اور نہ ہی یوسف (علیہ السلام) نے زیادتی کی۔ سب کچھ اللہ کریم کی وحی کے مطابق کیا گیا کہ ارشاد ہوتا ہے ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے یہ تدبیر فرمائی ورنہ مصر کے قانون کے مطابق تو وہ بھائی کو روک نہیں سکتے تھے لیکن جب اللہ چاہے تو سب کچھ ہوسکتا ہے اور فرمایا ہم چاہیں جس کے درجات بلند کردیں کہ یعقوب (علیہ السلام) کیفیات ہجر میں مبتلا ہو کر ترقی کر رہے ہیں تو یوسف (علیہ السلام) وحی الٰہی کی تعمیل کرکے کہ بوڑھے والد کے حال زار سے واقف ہونے کے باوجودنہ صرف یہ کہ اپنی خیریت کی خبرنہ دے سکے بلکہ بنیامین کا آسراجوانھوں نے ہجریوسف میں اختیار کررکھا تھا اس سے بھی محروم کر رہے ہیں اور عشق الٰہی ایسی ہی چیز ہے جو بجز ذات باری سب کچھ چھڑادیتی ہے اور یہی ترقی درجات کا باعث بنتی ہے نیز علوم کا مصدر بھی اللہ ہے اور ان کی انتہا بھی اسی کی ذات ہے ورنہ مخلوق میں ایک کے علوم دوسرے سے جداگانہ رنگ اور اہمیت لئے ہوئے ہیں ۔ وہ لوگ بہت سٹپٹائے اور کہنے لگے اگر بنیامین نے چوری کی ہے تو کیا تعجب کہ پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چور تھا اس کی روایت یہ ہے کہ والدہ کی وفات کے باعث یوسف (علیہ السلام) پھوپھی کے پاس رہے ۔ جب ذرابڑے ہوگئے تو والد نے منگوالیا مگر وہ اپنے جدانہ کرسکتی تھیں چناچہ انھوں نے بھی ایک تدبیر کی کہ اسحاق (علیہ السلام) کا ایک پٹکاجوان کے پاس بطور تبرک تھا ۔ یوسف (علیہ السلام) کے لباس کے نیچے کمر سے لپیٹ دیا اور ان کے بعد فرمایا پٹکا چوری ہوگیا اور بالآخران سے برآمد کرلیا ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کی اس حدتک محبت سے بہت متاثر ہوئے اور جب تک وہ زندہ رہیں یوسف (علیہ السلام) کو انہی کے پاس رکھا۔ یہ بات بھائیوں کے علم میں تھی مگر اب ناراض ہوئے تو وہ طعنہ بھی دے ڈالا ۔ یوسف (علیہ السلام) نے سنا تو بہت دکھ ہوا مگر ظاہرنہ ہونے دیا اور فرمایا کاش ! انسان اپنے کردارکودیکھتا یہ بھائی جو مجھے چور کہہ رہے ہیں خود کتنا بڑا جرم کرچکے ہیں بہرحال انسان یادرکھے یا بھلادے اللہ کریم تو سب کچھ جانتا ہے۔ اب وہ لگے حیلے کرنے کہ والد گرامی کا حال بہت خراب ہے ہم انھیں وعدہ دے کر آئے تھے اب کیا منہ لے کرجائیں۔ چناچہ آپس میں طے کرکے عرض گزار ہوئے کہ اے عزیز مصر ! اے نیک دل سلطان ! ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے اور پہلے ایک بیٹے کی جدائی کا صدمہ نہیں بھول سکا یہ دوسرا وار تو شاید وہ سہہ بھی نہ سکے اس بزرگ کے حال پر کرم کیجئے اور ہم میں سے جس ایک کو چاہیں بنیامین کی جگہ روک لیں مگر انھیں ضرورجانے دیں ۔ تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی پناہ ! یہ کیسے ہوسکتا ہے ہم ظالم تھوڑی ہیں کہ مال مسروقہ کسی اور سے برآمد ہو اور سزا کسی اور کو دیں یہ ہرگز نہ ہوگا ۔ غرض انھوں نے بہت کوشش کی مگر ایک بھی پیش نہ گئی اور سلطان کونہ ماننا تھا نہ مانا اگرچہ یہ لمحہ بھائیوں کی نسبت برسوں سے بچھڑے ہوئے یوسف کے لئے ایک بہت ہی مشکل لمحہ تھا کہ والد کی محبت اور ان کے حال سے باخبر بھی تھے اور اپنا پیار بھی بہت زیادہ تھا مگر اللہ کا حکم تھا جس کی تعمیل کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا۔
Ayahs 12:80–93

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پس جب وہ وہ ان سے ناامید ہوگئے تو الگ بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے۔ ان میں سب سے بڑے نے کہا ، کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم کس قدر قصور کرچکے ہو سو میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ میرے لئے کوئی فیصلہ فرمادیں اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم لوگ واپس اپنے والد کے پاس جاؤ پس (ان سے جاکر) کہو اے ہمارے اباجان ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (اور گرفتار ہوئے) اور ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم جانتے ہیں اور ہم غیب کی باتوں کے تو یاد رکھنے والے نہیں

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم ٹھہرے تھے وہاں سے پوچھ لیجئے اور جس قافلے میں ہم آئے ہیں (اس سے دریافت کرلیجئے) اور یقینا ہم بالکل سچے ہیں

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

وہ فرمانے لگے بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے بیشک وہ جاننے والے حکمت والے ہیں

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور ان سے رخ پھیرلیا اور فرمانے لگے وائے افسوس ! یوسف (علیہ السلام) پر اور دکھ سے (رو رو کر) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں سو وہ غم سے بھرے ہوئے تھے

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) کہنے لگے اللہ کی قسم اگر آپ یوسف (علیہ السلام) کو اسی طرح یاد کرتے رہے تو بیمار پڑجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا یقینا میں تو اپنے رنج وغم کا اظہار اللہ سے کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے میرے بیٹو ! جاؤ پس یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوا کرتے ہیں۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پس جب وہ ان (یوسف علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو کہنے لگے اے عزیز ! (عیز مصر) ہم کو اور ہمارے خاندان کو (قحط کی وجہ سے) بہت تکلیف پہنچ رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں سو (اس کے بدلے) ہمیں پورا غلہ دے دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے۔ بیشک اللہ خیرات کرنے والوں کو جزائے خیر دیتے ہیں

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

انہوں (یوسف علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم کو یاد ہے تم نے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب تم نادانی میں مبتلا تھے

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا واقعی آپ ہی آپ یوسف (علیہ السلام) ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ بیشک ہم پر اللہ نے بڑا احسان فرمایا ہے اور جو شخص واقعی اللہ سے ڈرتا ہے اور (گناہوں سے) صبر کرتا ہے تو یقینا اللہ خلوص سے نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

کہتے لگے اللہ کی قسم یقینا اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور ہم ہی خطاوار تھے

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا آج کے دن تم پر کوئی عتاب نہیں ، اللہ تمہارا قصورمعاف فرمائیں اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ پھر اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو ، وہ دیکھنے لگ جائیں گے اور اپنے تمام گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ

آیات 80 تا 93 اسرار و معارف بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو واپس چلاجاؤں گا یا اللہ کریم بنیامین ہی کی گلو خلاصی کی کوئی صورت بنادے کہ امور تو اس کے دست قدرت میں ہوتے ہیں اور وہ خودہی فیصلے فرماتا ہے کہ سب کے فیصلے محض دکھاوے کے ہوتے ہیں جب پردے میں دراصل اس کے فیصلوں کا نفاذ ہوتا رہتا ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہ بڑا بھائی یہود اتھا جس نے یوسف (علیہ السلام) کے قتل کی بھی مخالفت کی تھی ۔ ان سب میں سے یہ صائب الرائے تھا۔ چنانچہ بھائیوں کو بھی سمجھایا کہ جاکر عرض کرو کہ اباجان ! ہم نے اپنا عہد نباہنے میں کوتاہی نہیں کی مگر ہم اسی کے مکلف تھے جو بات سامنے اور ظاہر تھی اب ہم سے بھی چھپ کر آپ کے صاحبزادہ نے چوری کی اور سامنے ذ(رح) لیل ہوئے۔ یہاں سے غلہ مل جاتا تھا آئندہ اس کی بھی امید نہیں اور آپ بھی شاید ہماری بات پہ یقین نہ کریں لیکن یہ حق ہے کہ ہم ظاہر کے تو پابند تھے مگر جو افتاد غائبا نہ پڑی وہ نہ تو ہمارے خیال میں تھی اور نہ اس کے مقابل ہم ڈھال بن سکتے تھے۔ معاہدہ کی حیثیت اور شہادت یہاں فقہاء نے فرمایا ہے کہ معاہدہ ظاہری حالات پر ہی محمول ہوتا ہے اگر کوئی ایسی بات جو غیر اختیاری ہو یا انسان اس سے بیخبر ہو درمیان آجائے تو ایسے امور پر لاگو نہیں ہوتا ۔ نیز شہادت کے لئے علم ہونا کافی ہے صرف یہ کہ شاہد ذریعہ علم بیان کردے یعنی اگر اس نے خود واقعہ نہیں دیکھا تو جس سے سنا ہے اس کے بارے بیان کردے تو ایسی شہادت درست ہے ۔ تو یہ بھی عرض کرنا کہ آپ تحقیق کرنا چاہیں تو ہم جس قافلے کے ساتھ سفر کر رہے تھے ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں اور یا پھر مصرتشریف لاکر حقیقت حال کو خود جان سکتے ہیں ہم تو پوری دیا نتدار ی سے عرض کر رہے ہیں کہ یہ سب حقیقت ہے ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے واقعہ سن کر وہی الفاظ دہرائے کہ تمہارے نفسوں نے یہ بات گھڑی ہے بھلا بنیامین اور چوری کرے گا کیا میں یہ بات نہیں سمجھ سکتا لیکن صبر ہی بہترین راستہ ہے جو میں نے پہلے سے اختیار کررکھا ہے اور یہ بھی یادرکھو ! ہر کام کی حدتی ہے لہٰذا میرے دکھ بھی انتہا کو چھو رہے ہیں ۔ اب انشاء اللہ یہ بھی اپنے اختتام کو پہنچیں گے اور نہ صرف بنیامین بلکہ یوسف (علیہ السلام) سمیت میرے تمام بچے مجھ سے آن ملیں گے کہ پہلے یوسف (علیہ السلام) کے خواب سے والدین اور بھائیوں کی ملاقات اور سب کا یکجا ہونا تو معلوم تھا مگر اس کے باوجود فرمایا کہ اصل علم تو اللہ ہی کے پاس ہے وہی خوب جانتا ہے اور وہ بہت بڑاحکیم ہے یہ سب اس کی اپنی حکمت کا تقاضا ہے۔ کمالات پر اللہ کا مزید شکر کرنا چاہیئے لہٰذا یہاں یہ بات ظاہر ہے کہ انسان کو جس قدر بھی کمالات نصیب ہوں انھیں اللہ کی عطاسمجھ کر اس کا مزید شکر کرے اور شکر کرنے کا بہترین انداز یہ بھی ہے کہ ان کمالات ہی کی نسبت اللہ کی طرف کرے اور اپنے کو عاجز بندہ ہی شمارکرے۔ چناچہ ان کی طرف سے رخ پھیرا اور ایک آہ سرد کھینچ کر فرمایا وائے یوسف تجھے کہاں پاؤں اور ایک طویل عرصہ روتے روتے آپ کی آنکھیں سفید ہوچکی تھیں اور بنیائی رہی تھی۔ صرف غم یوسف (علیہ السلام) نے یہ حال کردیا تھا اور اب بنیامین بھی گیا تو آپ نے کلام تک کرنا چھوڑ دیا اور سارادکھ اندرہی اندرانھیں کھائے جارہا تھا۔ محبت اور انبیاء کرام (علیہم السلام) یہاں بعض حضرات نے سوال لکھا ہے کہ نبی اور اللہ کے سوا کسی بھی دوسرے سے اس قدر محبت کہ رورو کر اندھا ہوجائے حالا ن کہ انبیاء (علیہم السلام) تو صرف اللہ سے محبت کرتے ہیں اور یہ بات حق ہے کہ انبیاء اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں ۔ مفسرین نے مختلف جوابات بھی نقل فرمائے ہیں مگر آسان سی بات یہ ہے کہ انبیاء بھی انسان اور بہترین انسان ہوتے ہیں اور انسانی صفات ان میں کامل طور پر جلوہ گرہوتی ہیں اور محبت ایک بہترین صفت ہے ۔ یوں توہرذی روح میں اس کا اثر نظر آتا ہے مگر انسان کے دل میں یہ جذبہ اپنی کامل صورت میں جلوہ گرہوتا ہے باوجود ایں ہمہ انسان کی محبت دنیا سے الگ ہے اور انسان کی محبت انسان سے الگ پھر دیکھا یہ جاتا ہے کہ کیا کوئی انسان دنیا کے لئے انسانی رشتوں اور محبتوں کو ٹھکراتا ہے یا انسان کی محبت کو بچاکر دنیا باوجود محبوب ہونے کے قربان کرتا ہے ۔ اب اگر اسے دنیا سے محبت ہی نہ ہو تو یہ کمال نہیں کہلائے گا ۔ ایسے ہی اللہ کی محبت بالکل الگ شے ہے اور انسان کی محبت الگ انسان انسان کی جنس ہے کبھی اس سے خون کا اور نسب کا رشتہ ہوتا ہے اور کبھی دوستی کا ۔ مگر اللہ سے انسان کو کیا نسبت ایک بےمثل وبے مثال کے سامنے ایک ادنی سی مخلوق کی کیا حیثیت ؟ مگر اللہ نے انسان کو وہ شعور بخشا ہے کہ وہ اس کے جمال پرفریفۃ ہوجاتا ہے اب مرحلہ آتا ہے کہ وہ کسی انسان سے کس قدر محبت کرتا ہے اور اسے کہاں تک قربان کرسکتا ہے اب دیکھو کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا عشق یوسف مجبوریوں کی کن حدوں کو چھورہا ہے اور اسے اللہ کی رضاپہ قربان کس انداز سے کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں یوسف ! تیری یاد نے جگر کباب کردیا مگر کس سے کہوں اللہ سے حیا آتی ہے اب سوائے اس کے میراکون ہے ۔ وہ سب کچھ کر بھی سکتا ہے میرے حال دل سے خوب واقف بھی ہے پھر یہ نصف صدی کی جدائی ۔ لیکن یہ بھی اس کی حکمت کا تقاضا ہے ۔ کچھ بھی ہو اسے خفاتو نہیں کرسکتا اور یہی اس سارے قصے کا حسن بھی ہے اور یہی انسان کا حسن اسلام بھی کہ ارشاد ہے والذین امنوا اشدحب اللہ ۔ کہ مومن اللہ کو سب سے بڑھ کر چاہتا ہے ۔ گودوسرے بھی محبوب ہوں مگر اس راہ میں قربان کئے جاسکتے ہیں ۔ ان کا حال دیکھ کر لڑکے کہنے لگے کہ زمانہ دوں کو بھلا کر زخم مندمل کردیتا ہے مگر آپ کا معاملہ الگ ہے آپ نے یوسف کی یادنہ چھوڑی اور اب تو دکھ آپ کو گھلاکرماررہا ہے اگر یہی حال رہا تو آپ سلامت نہ رہیں گے مگر یوسف کی یاددل سے نہ جائے گی ۔ تو فرمایا کہ تم کیا جانو میں تو اپنا حال دل کہتا ہوں تو بھی اللہ کے حضور اور اظہار غم کرتا ہوں تو بھی اسی ذات کے روبرو ۔ میں اللہ کا نبی ہوں اور اس نے مجھے علوم کے خزانے بخشے ہیں ۔ اگر تم نہیں جان سکتے مگر مجھے تو علم ہے کہ یوسف لاکھ بچھڑے ضرورملے گا اور تم لاکھ باتیں بناؤ ، اللہ اسے عظمت شان حکومت وسلطنت اور نبوت عطافرمائے گا ۔ اب اس سب کے باوجود وہ میری نگاہوں سے کیوں اوجھل ہے ؟ یہ میرے رب کی مرضی ! تم ان اسرار کو نہ پاسکو گے ۔ ہاں ! ایک کام کرو جاؤیوسف اور بنیامین کو تلاش کرو ۔ بھلا کوئی اللہ کی رحمت سے بھی کبھی مایوس ہوتا ہے ہرگز نہیں ! تم جاکر تو دیکھو جس سلطان کے حسن اخلاق اور حسن سلوک کے اتنے چرچے ہیں کہیں یوسف گم گشتہ ہی نہ ہو اللہ چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا اور اس کی رحمت سے ناامید ہونا توشیوئہ کفار ہے ۔ مجھے میرے رب کے سپرد کرو اور اپنے حال پہ رہنے دو مگر تم ضرورمصرکا رخ کرو۔ مگر حال یہ تھا کہ اب تو کوئی چیز غلہ خرید نے کے لئے بھی پاس نہ تھی اور غلہ بھی ضروری تھا کہ خاندان کہاں سے کھاتا چناچہ گھر کے برتن اور استعمال کی اشیاء اونٹوں پر بار کیں اور روانہ ہوئے ۔ مزحبۃ ایسی چیز جو بازار میں بطور سکہ چلنے والی نہ ہو مگر چلائی جائے جیسے برتن وغیرہ ۔ چناچہ مصر میں پہنچے تو دربار میں حاضر ہوئے کہ بنیامین تو وہیں تھا پھر غلہ بھی خرید نا مقصود تھا تو دست بستہ عرض گزار ہوئے کہ سلطان ! ہم اور ہمارا خاندان بہت سخت مصیبت میں مبتلا ہے اور ہمارے پاس غلہ خرید نے کے لئے سرمایہ بھی نہیں یہ بےکارسا کاٹھ کباڑ اٹھالائے ہیں جو گھر میں روز مرہ کے استعمال کا تھا لیکن تیرے کرم کے امید وار ہیں ہمیں غلہ عطافرما اور ہم پر عنایات فرما کہ اس کا ٹھ کباڑ کے بدلے غلہ عطاکر اور مہربانی فرما ، ہمارے بھائی کو آزاد فرمادے کہ ہمارے والد کی توروتے توروتے بنیائی جاتی رہی اور یہ اس کے لئے کسی حدتک ایک آسرا تھا یہ بھی یہاں رہ گیا تو اب تو اس کی حالت نہ ہم بیان کرسکتے ہیں اور نہ تو سن کر تاب لاسکے گا وہ نبی اور نبی کا بیٹا اللہ کے نبی کا پوتا بہت ہی زیادہ دکھی ہے تو ہم پر کرم فرما کہ اللہ تجھ پر کرم فرمائے وہ بھلائی کرنے والوں کو بہت زیادہ اجرعطافرماتا ہے ۔ اب وقت آچکا تھا کہ اس راز سے پردہ اٹھتا اور ہجریوسف وصال یوسف میں تبدیل ہو کر یعقوب (علیہ السلام) کو شاد کام کرتا چناچہ آپ نے یہ سب ماجر اسن کر فرمایا آج تمہیں باپ کا دردیاد آیا مجھ سے بیان کرتے ہو مگر بھول گئے کہ باپ کو یہ درددیا کس نے تھا اور تم نے اس کے محبوب یوسف کا کیا حال کیا تھا ؟ آج امید کرم لئے کھڑے ہو۔ چند سکوں کے عوض بیچ کھانے والو ! تمہاری جہالت اور نادانی نے والدبزرگوار یوسف اور اس کے بھائی کو کتنے دکھ دیئے کچھ اندازہ ہے ؟ انھوں نے جب یہ سب سنا توحیران ہوگئے بھلاسلطان مصر کو ان باتوں سے کیا کام ۔ آنکھ اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگے تم یوسف ہو ؟ غالبا خواب کا قصہ بھی یاد آیا ہوگا ، اور چہرہ مبارک کے آثار نے بھی رہنمائی کی ہوگی ۔ نیز یہ راز بھی ان کے علاوہ یوسف (علیہ السلام) ہی کے پاس تھا یا اللہ جانتا تھا تو فورا پکاراٹھے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انھوں نے فرمایا بیشک میں یوسف ہوں اور یہ بینامین میراحقیقی بھائی ہے دیکھو اللہ نے ہم پر کس قدر احسان فرمایا ہے کہ ہر تخریب نہیں ہوتی کبھی کسی اعلیٰ تعمیر کا پیش خیمہ بھی ہوتی ہے ۔ ہم پر جو مصیبت آئی وہ صورۃ مصیبت بھی اپنے اثر اور نتیجے کے اعتبار سے نری رحمت اور اللہ کا احسان تھا جو تمہارے روبرو ہے اور یادرکھو جسے تقوی اور صبر نصیب ہوجائے اللہ اس کو بہت انعام واکرام سے نوازا کرتا ہے اور اسے بہترین بدلہ عطافرماتا ہے۔ اب تو سوائے اقبال جرم کے کوئی راستہ نہ تھا چناچہ کہنے لگے اللہ قسم ! تم پر اللہ نے بےحدکرم فرمایا اور ہم پر بہت ہی بلند مرتبہ بخشا ہم تو آپ کی خاک کو بھی نہ پہنچ سکے بلکہ الٹے گناہگار ٹھہرے ۔ ہم آپ کے مجرم آپ کے روبروحاضر ہیں اور ہماری آنکھوں میں ندامت کے آنسوہی ہمارا سرمایہ ہیں ۔ فرمایا جاؤ ! تمہیں کچھ نہیں کہاجائے گا۔ آج تم سے کوئی بازپرس نہ ہوگی کہ کرم کا یہ پہلو بھی دیکھو ۔ میں نہ صرف خود معاف کرتا ہوں بلکہ اللہ کریم سے تمہاری معافی کے لئے درخواست گزارہوں جو بہت بڑارحم کرنے والا ہے۔ تبرکات کی برکت میرایہ کرتہ لے کرجاؤ ، والد گرامی کو خوشخبری بھی د و اور یہ انکی آنکھوں پہ ڈال دو کہ وہ روشن ہوجائیں اور یہ ان کے تبرک برکت تھی جو ان کا معجزہ تھا اور واقعی جب یعقوب (علیہ السلام) نے چہرے پہ ملاتو بنیا ہوگئے ۔ لہٰذا تبرکات کا تجزیہ میڈیکل سائنس سے ممکن نہیں کہ ان کی برکات انسانی عقل کی رسائی سے بہت بلند ہوتی ہیں ۔ نیز سارے خاندان کو یہاں مصر منتقل کرلو جہاں رب جلیل نے ہمیں حکومت وسلطنت بخشی ہے اب تمہیں ان ویرانوں میں رہنے کی ضرورت نہیں یہ ملک تم سب کا خادم ثابت ہوگا اور جدائی کے بعد وصل کا عہد آیا ہے اور مل کر رہنے کی گھڑی ہے ۔
Ayahs 12:94–104

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد فرمانے لگے کہ بیشک مجھے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ بڑھاپے میں بہکی باتیں کررہا ہوں

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اللہ کی قسم آپ یقینا اسی پرانے فضول خیال میں مبتلا ہیں

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پس جب خوشخبری دینے والا آیا تو اس نے اس (کرتے) کو ان کے منہ پر ڈال دیا سو وہ فوراً ہی دیکھنے لگے فرمایا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ یقینا میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا اے ہمارے والد ! ہمارے لئے ہمارے گناہ کی بخشش مانگیے ، بیشک ہم خطا کار تھے

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا عنقریب میں تمہارے لئے اپنے پروردگار (اللہ) سے بخشش طلب کروں گا ، بیشک وہ بخشنے والے مہربان ہیں

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پس جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچیتو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور فرمایا مصر میں چلئے اللہ کو منظور ہو تو (وہاں) امن سے رہیے

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت (شاہی) پر بٹھایا اور سب ان (یوسف علیہ السلام) کے آگے سجدے میں گر گئے اور انہوں نے فرمایا اے میرے اباجان ! یہ میرے خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا بیشک میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا اور یقینا اس نے مجھ پر بہت احسان کیا ہے جب مجھے جیل خانے سے نکالا اور آپ کو گاؤں سے یہاں لایا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے اس کی عمدہ تدبیر کرتا ہے ، بیشک وہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! آپ نے مجھے سلطنت کا بڑا حصہ عطا فرمایا اور مجھے خوابوں کی تعبیر دینا تعلیم فرمایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے ، آپ ہی دنیا اور آخرت میں میرے کار ساز ہیں مجھ کو فرمانبرداری کی حالت میں (دنیا سے) اٹھائیے اور مجھے خاص بندوں میں شامل فرمائیے

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

یہ (قصہ) غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کے ذریعے آپ کو بتلاتے ہیں اور آپ ان (برادران یوسف علیہ السلام) کے پاس وقت موجود نہ تھے جب انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا اور وہ تدبیر کر رہے تھے

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے لوگ خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور آپ ان سے اس کا کوئی صلہ بھی نہیں مانگے یہ (قرآن) تو تمام جہانوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے

آیات 94 تا 104 اسرار و معارف ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔ کشف اور مشاہدہ کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا وہاں سے خوشبو آنے لگی مگر خود کنعان کے کنویں اور قافلے والوں کے پاس سے نہ آئی پھر مصر میں بھی انھیں برسوں بیت چکے تھے پہلے تو نہ آئی اس کا آسان ساجواب یہ ہے کہ کشف اور مشاہد ہ ازقسم ثمرات ہے جو ہمیشہ وہبی ہوتے ہیں جب چاہے بتا بھی دے دکھا بھی دے اور جو نہ چاہے نہ بتائے ۔ جب تک اسے منظور تھا نہ یوسف (علیہ السلام) نے اطلاع بھجوائی اور نہ ہوانے خوشبوپہنچائی اور جب اس نے اجازت بخشی تو انھوں نے بھی پیغام روانہ کردیا اور ہوا بھی خوشبولے اڑی۔ چنانچہ خوشخبری لانے والا آپہنچا اور جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تھا ان کا کرتہ یعقوب (علیہ السلام) نے آنکھوں سے ملاتو وہ روشن ہوگئیں اور آپ نے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ نے ان باتوں سے باخبر فرمار کھا ہے جو تم لوگ نہیں جانتے اس لئے میں نے کبھی نہیں مانا کہ یوسف فوت ہوچکے ہیں ۔ مجھے یہ خبر تھی کہ وہ حاکم بنیں گے اور نبی بھی مبعوث ہوں گے یہ الگ بات ہے کہ وہ کہاں ہیں لیکن یہ خبرتھی کہ ملاقات نصیب ہوگی ۔ نیک لوگوں سے دعا کرانا درست ہے تو اب بات چھپنے سے رہی پھر بھائی پہلے یوسف (علیہ السلام) سے مل کرمعافی حاصل کرچکے تھے چناچہ سب واقعہ عرض کردیا کہ قصور وارہم ہی ہیں لیکن اب آپ ہمیں معاف فرما کر اللہ کریم سے ہماری معافی کی دعافرمائیے ۔ تو ثابت ہوا کہ انبیاء کرام سے اور اللہ کے دوسرے نیک بندوں سے دعا کرانا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے ۔ تو انھوں نے فرمایا انشاء اللہ میں بہت جلدی تمہارے لئے دعا کروں گا ۔ غالبا آپ یوسف (علیہ السلام) سے بھی بات سننا اور ان سے معاف کرانا چاہتے تھے کہ اگر کسی نے کسی کا حق مارا ہو یا ایذاپہنچائی ہو تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کی تلافی کرائی جائے اور اللہ کریم سے بھی بخشش طلب کی جائے کیونکہ محض دعا سے تو کسی کا حق ادا نہیں ہوتا اگر حقدار کے ملنے کی کوئی امید نہ ہو اور معاملہ مال کا ہو تو صدقہ کرکے ثواب اسے پہنچا دے اور اگر ایسا نہیں تو پھر دعا کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ۔ نیز فرمایا اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے یعنی اس کے در سے امید مغفرت رکھنا ہی زیب دیتا ہے یعنی خطاکار کونا امیدنہ کرنا چاہیئے اور چھوڑنہ دینا چاہیئے کہ اس طرح اس کی اصلاح کی امید نہ رہے گی۔ چنانچہ سارا خاندان مصرروانگی کے لئے تیار ہوگیا ۔ راشن اور سواریاں وغیرہ یوسف (علیہ السلام) نے مصر سے ساتھ روانہ کردی تھیں۔ تقریبانوے سے ایک صدتک افراد تھے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کے تھے اور مصرپہنچے بنی اسرائیل انہی کی نسل تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مصر سے نکلے تو پونے سات لکھ تھے ۔ جب یہ سب خاندان مصر پہنچاتویوسف (علیہ السلام) نے باہر نکل کر استقبال فرمایا اور اپنے والدین کی بہت عزت افزائی کی اور سب خاندان سے فرمایا کہ یہ ملک مصر آپ سب کا خادم ہے یہاں آپ کو ہر طرح سے امن اور سلامتی اور سب خاندان سے فرمایا کہ یہ ملک مصر آپ سب کا خادم ہے یہاں آپ کو ہر طرح سے امن اور سلامتی نصیب ہوگی اور سب کو لے کر کمرہ خاص میں جو شاہ کی جلوہ گاہ تھا تشریف لائے اور والدین کو اپنے خاص تخت پر بٹھایا مگر وہ سب یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ میں گرگئے ۔ غالباسجدہ تعظیم سجدہ عبادت سے مختلف بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات صرف سرجھکا نے کو سجدہ تعظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے اور سجدہ تعظیم پہلی شرائع میں منع نہ تھا البتہ سجدہ عبادت ہر شریعت میں غیر اللہ کے لئے حرام رہا مگر اس آخری شریعت میں سجدہ تعظیم بھی ممنوع ہوگیا ۔ تعبیر کے ظاہر ہونے میں مدت لگ سکتی ہے تویوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے والدمحترم ! یہی میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو بچپن میں میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ سورج چاند اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کردکھایا۔ اہل اللہ کا انداز اور واقعات کے بارے ان کی رائے اور پھر اپنی بیتی والدما جد اور اہل خاندان کو بایں انداز سنائی کہ ہر ہرلفظ سے اظہارتشکرٹپک رہا ہے کہ سارے واقعہ کو مختصر کرکے اور زلیخا کی زیادتی اور اس کے بدجیل کی مصیبت کے مقابل جیل سے خلاصی پر اظہار شکر فرما رہے ہیں کہ مجھ پر اللہ کا کتنا کرم ہے جس نے مجھے جیل نکالکر تخت شاہی پر جلوہ گر کردیا پھر ساری جدائی اور اس کے صدموں کی بجائے انجام کار ملاقات پر اظہار تشکر فرما رہے ہیں کہ میرارب کتنا کریم ہے نہ صرف آپ سے ملاقات کا اہتمام فرمادیا بلکہ آپ سب کو بھی دیہات کی مصیبت سے نکال کر یہاں شہر کی سہولیات میں لے آیا۔ رہا آپ سے جدائی کا واقعہ تو جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا تھا واقعی شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑاڈال دیا۔ ذراشان کریمی ملاحظہ ہو کہ خود تو سات برس کے تھے اور بےقصور بھی تھے مگر فریق تو تھے تو بھائیوں کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے خود کو بھی جھگڑے میں شامل قراردے رہے ہیں اور اہل اللہ کی یہی امتیازی شان ہوتی ہے کہ ہر بات سے حسن پہلو لیتے ہیں اور انجام کار چونکہ انھیں ہمیشہ نفع ملتا ہے لہٰذا ان نتائج کے اعتبار سے بات کرتے ہیں اور اللہ کی شان ہی ایسی ہے کہ جو کرنا ہے اس کے لئے ایسے ایسے لطیف اسباب پیدا فرمایا ہے کہ کسی کو اس کی خبر نہیں ہوتی ۔ بھلا بھائیوں کو کب پتہ تھا کہ یہ مصر سلطان بننے لئے جارہا ہے ۔ لیکن اللہ جو سب کچھ جانتا ہے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق اسباب پیدافرماتا رہتا ہے ۔ دعاکا سلیقہ اور پھر بڑے سلیقے سے دعا فرمائی۔ پہلے ان نعمتوں کا اظہار فرمایا جو اللہ کریم نے بخش رکھی تھیں اور پھر حرف مدعازبان پر لائے کہ اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے حکومت وسلطنت بخشی اور علوم کے خزانے عطافرمائے کہ تیری عطا ایسی ہی وسیع تر ہوتی ہے جیسی تیری تخلیق ہے ہے اور تو ہی اکیلا ارض وسما کا پیدا کرنے والا ہے ۔ میرا دنیا وآخرت میں صرف تو ہی کا رساز ہے اور جب تو نے اس قدرانعامات بخشے تو اتنا کرم مزید فرمانا کہ مجھے اسلام پر ہی موت آئے اور دار دنیا سے دار بقاپہنچوں تو تیرے صالح اور محبوب بندوں میں شمار کیا جاؤں ۔ اگر چہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں اور انھیں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہوتا کہ کبھی ان سے یہ شان نبوت سلب ہوجائے گی اس کے باوجود اظہار تشکر کا یہ بہترین طریقہ اختیار فرماتے ہیں کہ اپنی عاجزی کا اقرار کرکے اللہ کریم سے ہی کرم کے طالب ہوتے ہیں اور یہ تعلیم امت کے لئے بھی ہے کہ ولی یا نیک کا مدار تو انجام پر ہے جس کی اس کو خبر نہیں لہٰذا ہر آن بہترانجام کا طلب کرنا ہی صحیح طریقہ ہے ۔ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) مصر میں فوت ہوئے مگر اپنے علاقہ میں لے جاکرآباؤواجداد کے ساتھ دفن کئے گئے اور یوسف (علیہ السلام) عمر شریف پوری فرما کر مصر میں مدفون ہوئے تا وقتیکہ بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلے تو ان کا تابوت بھی ساتھ لے گئے ۔ علم غیب اور اخبارغیب اے حبیب ! یہ قصہ بھی ان کی غیب کی اخبار سے ہے جو آپ کو بذریعہ وحی بتایا گیا کہ آپ کے دنیا میں جلوہ افروز ہونے سے ہزروں بر پہلے بیت چکا تھا پھر نہ آپ نے پڑھا نہ کسی سے سیکھا یا سناتو یہ بھی آپ کی نبوت پ ر اور آپ پر وحی الٰہی کے نزول پر ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ ﷺ اس وقت ا ن کے پاس تھوڑی تھے جب یہ سب واقعات ظہور پذیر ہوئے یا مختلف لوگوں نے مختلف تربیریں اختیار کیں اور ان سے مختلف نتائج ظہور پذیر ہوئے ۔ یہ واقعات غیب کی خبر کہلائے ۔ تو ثابت ہوا کہ اللہ کریم اپنے بندوں کو غیب کی خبریں پہنچا تے ہیں (رح) خصوصا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اور سب سے زیادہ آقائے نامدار ﷺ کو غیب پر اطلاع دی گئی جو آپ ﷺ کی شان کے مطابق تھی مگر یہ علم کسی ذریعے سے پہنچتا ہے کشف الہام القاء وجدان یا پھر انبیاء کو سب سے مضبوط ذریعہ جو نصیب ہوتا ہے وہ وحی الٰہی کا ہے اور نبی کا کشف والہام تو کیا نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے لیکن یہ سب علم غیب نہیں کہلائے گا علم غیب صرف اللہ کا خاصہ ہے جس میں کوئی بھی دوسرا اس کا شریک نہیں اور آسان لفظوں میں علم غیب کی تعریف یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے حاصل ہو۔ اگر درمیان میں سبب یاواسطہ آگیا تو غیب کی خبر کہلائے گا علم غیب نہ ہوگا اور بغیر واسطے یا کسی ذریعے کے جاننایہ صرف اللہ کریم کا خاصہ ہے۔ اب رہا لوگوں کا معاملہ ! تو یہ ان کے اس تعلق پہ ہے کہ اللہ کریم سے کیسا ہے ۔ محض آپ کی خواہش سے کچھ نہ ہوگا ۔ آپ اس بارہ میں کتنی حرص بھی رکھتے ہوں مگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے سوائے ان چند خوش نصیبوں کے جن کے دل کا حال اس قدرنہ بگڑا ہو کہ بالکل تباہ ہوکرواپسی کے قابل نہ رہے اور آپ اس حال پر مغموم نہ ہوا کریں کہ آپ ﷺ کو لوگوں سے تو کچھ لینا نہیں آپ ﷺ تو اللہ کے حکم کی تعمیل میں محنت کر رہے ہیں اور وہ آپ کا اجر سلامت ہے ۔ ہاں ! لوگوں کی تو صرف خیر خواہی ہے اور وہ بھی صرف اللہ کی رضا مندی کے لئے۔ لہٰذا آپ کا درکشادہ ہے چاہے تو سارا عالم استفادہ کرے اور اگر نہ کریں گے تو یہ ان کی بدنصیبی ۔ جیسا کہ مفسرین کے مطابق یہ سوال کرنے والے بھی ایمان نہ لائے تھے حالانکہ قصہ یوسف (علیہ السلام) تو آپ ﷺ نے پوری تفصیل سے بیان فرمادیا۔