12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 12:36–42

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے کو دیکھتا ہوں کہ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں خود کو دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں ان میں سے پرندے کھا رہے ہیں ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجئے کہ بیشک ہم آپ کو (پرخلوص) نیکوکار سمجھتے ہیں

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا کھانے کے لئے تمہیں جو کھانا ملتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے اس کی حقیقت تمہیں بتادوں گا یہ ان بانوں میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں۔ یقینا میں نے تو ان لوگوں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ لوگ آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کے دین کی پیروی کرتا ہوں ہمیں زیبا نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک کریں یہ اللہ کا ہم پر فضل ہے اور لوگوں پر بھی و لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے میرے قید خانے کے ساتھیو ! کیا الگ الگ آقا اچھے ہیں یا اللہ جو یکتا ہیں (جو سب سے) زبردست ہیں

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم لوگ اس کو چھوڑ کر صرف چند (بےحقیقت) ناموں کی عبادت کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں اللہ نے ان کے لئے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی حکم صرف اللہ ہی کا ہے اس نے فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کر یہی سیدھا دین ہے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے قید خانہ کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو (بری ہوکر) اپنے آقا کو شراب پالیا کرے گا اور جو دوسرا ہے سو وہ سولی دیا جائے گا پھر اس کے سر میں سے پرندے کھائیں گے جو بات تم مجھ سے پوچھتے تھے اس کا فیصلہ ہوچکا

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور دونوں میں سے جس کے بارے میں انہیں خیال تھا کہ رہائی پاجائے گا اس نے فرمایا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا سو شیطان نے اسے اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا یا پھر وہ (یوسف علیہ السلام) چند برس جیل میں ہی رہے

آیات 36 تا 42 اسرار و معارف حضرت جب جیل میں پہنچے تو آپ کا شہرہ بھی پہنچا اور قید میں مصائب میں مبتلاء لوگوں کو بھی ذوق زیارت ہوا تو آپ ان میں اپنے کمالات بیان فرماتے اور انھیں اپنی طرف متوجہ فرماتے کہ انبیاء پر تو یہ فرض ہوتا ہے کہ اپنے کمالات نبوت کا اظہار فرما کر لوگوں کو راہ حق کی طرف دعوت دیں۔ اہل اللہ کا اظہار کمالات اور ولی اللہ بھی اگر اگر اظہار فرماتے ہیں تو ان کی غرض یہی ہوتی ہے ۔ کہ صاحب حال سے اپنی شہرت کی طلب کی توقع رکھنا درست نہیں۔ صاحب مظہری (رح) نے یہاں حضرت مجددالف ثانی (رح) کی مثال دی ہے کہ آپ اظہار فرماتے تھے تو اللہ کی بیشمار مخلوق نے استفادہ کیا جبکہ ان کے خلاف باتیں کرنے والے محض جہالت میں مبتلا رہے اور آج حضرت استاذناالمکرم (رح) کی دعوت سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی بدولت روئے زمین کے تقریبا ہر ملک میں سوائے چند ایک ملکوں کے اللہ کی مخلوق کو کلب گھروں جو اخانوں شراب خانوں اور خرافات سے نکال کرمساجد کی لذتوں سے آشنا کررہی ہے اور یہ کہنا کہ تصوف کا چھپانا ضروری ہے صرف اس لحاظ سے ہے کہ ایسی باتیں جو دوسروں کی عقل سے بالا ہوں اور انھیں اس سے کسی فائدے کی امید نہ ہو بیان نہ کی جائیں نہ یہ کہ برکات کا اظہار ہی نہ کیا جائے کہ اگر یہ دین ہے تو دین کا اظہار بھی ضروری ہے اور اگر خدانخواستہ دین نہ ہو تو پھر اپنا نے کی کیا غرض۔ اہل اللہ کا مذاق اڑانا دین کے ساتھ دنیا کی تباہی کا باعث بھی ہے چنانچہ انہی دنوں دوجوان بھی جیل میں آئے مفسرین کے مطابق ایک شاہی باورچی تھا اور دوسراساقی بادشاہ کو ان پر شبہ کزرا کہ انھوں نے کھانے میں زہرملانے کی کوشش کی ہے چناچہ دونوں کو جیل بھیج کر تحقیق شروع کرادی انھوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا شہرہ سنا تو انھیں مذاق کی سوجھی اور خواب گھڑکے تعبیر لوچھنپاچاہی چناچہ حاضرخدمت ہو کر گویا ہوئے ساقی نے عرض کیا میں نے خواب دیکھا ہے کہ میرے ہاتھ میں انگور کے چند خوشے ہیں اور شاہی پیالہ بھی ہے جو میں نے بچوڑ کر بھردیا اور بادشاہ کو پیش کیا ۔ دوسرے نے جو باورچی تھا یہ کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میرے سر پر کھانوں کا بھرا ہواٹوکرا ہے اور مختلف پرندے چیل کوے اس میں سے جھپٹ جھپٹ کر کھا رہے ہیں ۔ آپ کی ہم نے بہت تعریف سنی ہے کہ آپ بہت نیک پرہیزگار ہمدرد اور غریبوں کا خیال رکھنے والے بھی ہیں اور آپ کو تعبیرات کا علم بھی آتا ہے تو ازراہ کرم ہمارے خوابوں کی بھی تعبیر تو دیجئے ۔ انھوں نے فرمایا اللہ نے مجھے بہت وسیع نگاہ دی ہے اور علوم کا بیش بہاخزانہ بخشا ہے اگر تم آزمانا چاہو تو تمہارے روز مرہ کے کھا نے کی تفصیل اس کے پہنچنے کا وقت اور کھانے کے بعد اس کا اثر کیا ہوگا ؟ یہ سب تمہیں کھانا ملنے سے پہلے بتاسکتا ہوں ۔ یہ آپ نے ایسے طورہی فرمایا جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ارشاد قرآن میں ہے کہ مجھے علم ہے تم نے کیا کھایا اور گھرپہ کیا چھوڑا ہے اور فرمایا کہ میرے علوم کی بنیادیہ ہے کہ یہ سب خزانے مجھے میرے پروردگار نے عطافرمائے ہیں ان میں اللہ کریم کی عطا کے علاوہ کسی کا دخل نہیں اور اللہ نے یہ شرف میرے ایمان کی بدولت بخشا ہے کہ میں نے کفر کا ارتکاب کرنے والوں کی راہ سے کلی اجتناب کیا ہے ۔ ایمان کی شرط کفر سے بیزاری بھی ہے یعنی ایمان کفر سے بیزاری کا نام ہے نہ صرف یہ کہ اللہ کو بھی مانے اور کفر کو بھی درست خیال کرے جیسا کہ آجکل سب کو صحیح کہنے والوں کو روشن خیال کہا جاتا ہے ۔ یہ روشن خیالی درست نہیں یہ تو خیال کی تاریکی ہے کہ باطل کو بھی حق شمار کرے ہاں ! حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا روشن خیالی ہے ۔ نیر اپنا ذاتی شرف بھی بیان فرمایا کہ میں نسبا بھی خاندان نبوت کافردہوں اور عقید ہ بھی اپنے آباداجداد حضرت یعقوب حضرت اسحاق اور حضرت اور حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کاپیروکارہوں ۔ نسب بھی تب باعث شرف ہوتا ہے جب عقیدہ درست ہو ورنہ نہیں توگویا عالی نسب ہونا بہت بڑی بات ہے اور اس نعمت پہ اللہ کا شکر ادا کرنا چا ہیئے لیکن یہ تب معتبر ہوگا جب عقیدہ بھی درست ہو ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہ رہے گی نیزیہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء اچھے نامورخاندانوں سے مبعوث ہوتے ہیں کہ لوگوں کو اتباع میں عارمحسوس نہ ہو۔ ایسیہی اولیاء اللہ میں مناصب اعلیٰ خاندانوں کے لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں ۔ اور فرمایا ہمارے ایسے عالی خاندان اور نور نبوت سے منور سینہ رکھنے والوں کو تو یہ زیب ہی نہیں دیتا کہ کسی کو اللہ کا شریک گمان کریں ۔ اور یہ صاف ستھراعقیدہ معمولی بات نہیں یہ تو اللہ کی بہت بڑی عطا ہے جو ہم سب پر بھی یقینا ہے لیکن ساری انسانیت کے لئے بھی اس کا دروازہ کھلا ہے ۔ دعوت اور ہم اسی کی طرف تو سب کو دعوت دیتے ہیں تو اس طرح سب لوگوں پر یہ اللہ کریم کا احسان ہے لیکن اکثرلوگ ناشکر گزار ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے سے محروم ہیں یعنی ہر حال اور ہر جگہ اور ہر کام میں دین کی دعوت اصل بات ہے جسے کسی نہ کسی انداز میں کرتے رہنا چاہیئے بلکہ جلسہ وغیرہ کی نسبت نجی ملاقاتوں کی دعوت اور ان ملاقاتوں میں جو مختلف کاموں کے سلسلہ میں مختلف لوگوں سے ہوں دی نجی ملاقاتوں کی دعوت اور ان ملاقاتوں میں جو مختلف کاموں کے سلسلہ میں مختلف لوگوں سے ہوں دی جانے والی سب سے زیادہ موثرثابت ہوتی ہے۔ اب تم ہی کہوبھلا دردر کی غلامی اچھی یا ایک ہی ایسے دربار میں سوال کرنا بہتر جو اکیلا ہے اور اس کی کوئی مثال نہیں اور ہر چیز پہ قادر ومختار ہے ہر شے اس کے قبضہ قدرت میں ہے جبکہ جن بیشمار دروازوں پہ تم لوگ جبہ سائی کرتے ہو اور جن مختلف ہستیوں کو پوجتے ہو ۔ ان کا خارج میں تو کوئی وجود ہی نہیں اگر وجود ہوتا بھی تو سب مخلوق ہی تو تھے پوجنے کے لائق تو نہ تھے مگر تم تو اس حد سے بھی گزرگئے اور محض مفروضہ ناموں کی پرستش شروع کردی جن کے بارے اللہ نے تو کوئی خبر نہیں دی ۔ بس تمہارے آباواجداد نے گھڑلئے ہیں تو پتہ چلا کہ آباؤاجداد اگر اللہ کی بات ماننے والے ہوں تو ان کی پیروی قابل فخر ہے کہ وہ اللہ ہی کی پیروی ہے لیکن اگر اللہ سے ناآشنا ہوں تو محض آباؤاجداد کی بات ہونا کوئی سند نہیں ۔ اور حکم تو اللہ ہی کا جاری وساری ہے اور اسی کے ارشاد کے مطابق عمل ہی نیک عمل بھی ہے اور اس نے ہر ہر نبی کی زبان سے یہ فیصلہ صادر فرمادیا ہے کہ عبادت صرف اسی کی کی جائے اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے یہی دین حق ہے اور یہی سیدھی راہ بھی ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت اس سے بیخبر ہے آؤ ! اب تمہارے خواب کی بات کریں تو اس کی تعبیر جو اللہ نے میرے دل میں ڈالی ہے وہ تو یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو پھر سے شاہی ساقی بنے گا اور دوسرا سولی دیا جائے گا۔ تا آنکہ چیل کوے اس کا دماغ نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ بات بتانے کا انداز خوبصورت ہونا چاہیئے اگر دونوں نے اپنا اپنا خواب بیان کیا اور دونوں کے خیال سے ظاہر تھا مگر کسی کو بھی پریشان کرنا مناسب نہ جانتے ہوئے آپ نے فرمایا تم میں سے ایک اپنے عہدے پر بحال ہوگا جبکہ دوسرے کو سزاملے گی ۔ گویا بات ہمیشہ سلیقہ سے کی جانا چاہیئے ۔ جب یہ تعبیر سنی تو دونوں چیخ اٹھے کہ ہم نے تو کوئی خواب نہیں دیکھا یہ تو محض آپ کو آزمانے کے لئے بات گھڑلی تھی آپ نے فرمایا اگر دیکھا ہوتا تو بھی محض خواب تھا اور گھڑلیا تو بھی بات تمہاری تھی مگر جو میں نے بتایا ہے یہ علم الٰہی کی بدولت ہے اور میں نے تمہیں وہ فیصلہ بتادیا ہے جو تمہارے لئے مقدر ہوچکا ہے تم نے جو پوچھنا چاہا اللہ کریم نے مجھے اس سے آگاہ فرما دیا اور میں نے تمہیں اس کی خبرکردی اب ایسا ہی ہو کر رہے گا تم چاہویا نہ چاہو۔ اسباب اختیار کرنا جائز ہے نیز جس کے بارے گمان تھا کہ یہ رہائی پائے گا اسے فرمایا کہ جب بادشاہ کی خدمت میں پہنچوتو میری بات بھی کرنا کہ ایک ایسا انسان جو اللہ کا بندہ ہے اور جس نے کوئی قصور نہیں کیا جیل میں بند ہے کہ اس طرح ممکن ہے جیل سے رہائی کی صورت پیدا ہو۔ گویا اسباب اختیار کرنا منع نہیں نہ صرف جائز ہے بلکہ اختیار کرنا چاہئیں ۔ ابلیس اہل اللہ کو پریشان کرنے کے حیلے کرتا ہے مگر شیطن نے اسے وہ بات ہی بھلادی کہ وہ اپنے بادشاہ کے سامنے ذکر ہی نہ کرسکا تو یہ بات ثابت ہوئی کہ ابلیس نہ صرف گمراہ کرتا ہے بلکہ اللہ کی راہ میں کام کرنے والوں کو پریشان کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور اس کے لئے ان لوگوں کو جن کے قلوب میں اس کی رسائی ہو استعمال کرتا ہے ۔ چناچہ اس کوشش کے باوجود بھی یوسف (علیہ السلام) کو کئی برس مزید جیل میں رہنا پڑا کہ ان کی جیل سے رہائی تو وقت مقررہ پر ہی ہونا تھی ہونا تھی اور وہ بات اللہ کریم ہی بہتر جانتے ہیں کہ کب کونسا کام ہوگا۔ نیز اللہ کریم نے نہ صرف ان کی رہائی بلکہ الزام سے برأت اور ایوان سلطنت تک رسائی کا اہتمام فرمارکھا تھا جو سب کچھ اپنے وقت پر ہوا۔
Ayahs 12:43–49

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا میں نے (خواب) دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں ان کو سات دبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور اس کے علاوہ خشک ہیں۔ اے سردارو ! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

کہنے لگے یہ تو یونہی پریشان خیالات ہیں اور ہم لوگ خوابوں کی تعبیر کا علم بھی نہیں رکھتے

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور وہ شخص جو دو قیدیوں میں سے رہا ہوگیا تھا بولا اور اسے مدت کے بعد (یوسف (علیہ السلام) کی بات کا) خیال آیا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر لادیتا ہوں سو آپ مجھے جانے دیجئے

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(اے) یوسف (علیہ السلام) اے سچے ! ہمیں (تعبیر) بتائیے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات خوشے سرسبز ہیں اور ان کے علاوہ خشک ہیں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں تاکہ ان کو معلوم ہوجائے

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا تم لوگ سات سال تک متواتر کھیتی کرو گے تو جب غلہ کاٹو تو تھوڑے سے غلے کے علاوہ جو تمہارے کھانے کے کام آئے اسے اس کے خوشوں میں ہی رہنے دینا

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد سات برس ایسے سخت (خشک سالی کے) آئیں گے کہ اس (ذخیرہ) کو کھا جائیں گے جو تم نے ان (برسوں) کے لئے جمع کرکے رکھا ہوگا مگر تھوڑا سا جو تم بچا کے رکھو گے

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایسا سال آئے گا کہ اس میں لوگوں پر خوب بارش برسے گی اور وہ اس میں رس نچوڑیں گے

آیات 43 تا 49 اسرار و معارف اللہ کریم کا اپنا نظام ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کوشش فرمائی تو ساقی کو شیطن نے بات ہی بھلادی مگر جب رہائی کا وقت آیا تو اللہ کریم کی طرف سے غیبی سامان ہونے لگا کہ شاہ مصرنے ایک عجیب خواب دیکھا اور صبح دم بہت گھبرایا ہوا اٹھا درباری علماء یا بخومی وکاہن جمع کئے اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں سات موٹے بیل دیکھے جنہیں دوسرے سات کمزور اور دبلے پتلے بیل کھا رہے تھے اور سات سرسبز بالیں دیکھی ہیں جن کے ساتھ دوسری سات خشک تھیں اس کی تعبیر بتائی جائے۔ وہ سب بھی حیران ہوگئے بات کسی کے پلے نہ پڑی اور کہہ دیا کہ حضور ! یہ محض پریشان خیالی ہے آپ اسے بھول جائیے ۔ یہ ایسی بات نہیں جس کی کوئی بھی تعبیر ہو محض خیالات کی آمیزش ہے۔ مگر بات بادشاہ کے دل سے اترنہ رہی تھی ۔ اسی مجلس میں وہ شاہی ساقی بھی تھا جسے ایک مدت بعد فورا یاد آیا کہ میں نے جن سے تعبیرلی تھی یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) وہ کس قدر سچے اور معاملہ فہم تھے اور جیسا کہ انھوں نے فرمایا تھا ویسا ہی بعد میں ظہور پذیر ہوا۔ فورا پکار اٹھا حضور ! مجھے اجازت دیجئے جیل میں ایک جوان رعنا ہے جو بلاقصور قید میں پڑا ہے بہت ہی حسین صورت اور بہت ہی خوبصورت سیرت کا مالک ہے ، بات کا کھرا اور علم کا خزانہ ہے آپ کے خواب کی تعبیر میں ان سے پوچھ کے آتا ہوں ۔ چناچہ بادشاہ نے اہتمام کردیا اور وہی آدمی ایک مدت کے بعد پھر آپ کے سامنے تھا۔ کہنے لگا اے صدق مجسم ! مجھ سے قصورہوا۔ آپ کی بات یادنہ رکھ سکا لیکن آپ کا ارشاد لفظ بلفظ سچ تھا ۔ اب پھر تعبیر کی ضرورت پیش آگئی ہے کہ بادشاہ نے خواب دیکھا ہے اور وہ تعبیر جاننے کا خواہشمند ہے مگر کسی کو اس کی سمجھ ہی نہیں آرہی مفسرین کے مطابق خواب میں بعض اوقات حالات وواقعات کی مثالی صورتیں نظرآتی ہیں جیسے میدان حشر میں ہر کردار کی ایک صورت ہوگی ۔ ویسے ہی عالم مثال میں ایک صورت مثالی ہوتی ہے ۔ تعبیر میں ذات کے اعتبار سے فرق اور تعبیردینے کے لئے اس کا جاننا بھی شرط ہے۔ پھر افراد اور ذوات کے اعتبار سے بھی تعبیر میں فرق کا آجانا بڑی بات نہیں جیسے علامہ ابن سیرین (رح) جو فن تعبیر کے امام تھے نے ایک آدمی کو اس کے خواب کی تعبیر یہ دی کہ تم بہت شہرت پاؤ گے اور تمہیں عہدہ بھی ملے گا اس کا خواب یہ تھا کہ وہ خواب میں اذان کہہ رہا ہے کسی دوسرے آدمی نے یہی خواب بیان کیا تو فرمایا تمہاری رسوائی کا وقت آپہنچا بدنامی بھی ہوگی اور سزا بھی پاؤگے تو اہل مجلس میں سے کسی نے الگ سے پوچھا کہ حضرت ! پہلے شخص کا خواب یہی تھا آپ نے دوسری تعبیر دی اور اسے کچھ اور طرح کی بات بتائی ہے ۔ فرمانے لگے یہ فرق ان کی ذوات کے باعث ہے ورنہ اذان کی تعبیر تو یہ ہے کہ جو کچھ اس کے اندر ہے وہ ظاہر ہوگا تو پہلا صاحب علم اور صاحب کردار ہے جب اس کے کمالات ظاہر ہوں گے تو یقینا عہدہ بھی پائے گا اور ناموری بی یہ دوسراڈاکو ہے جب اس کا بھید کھلے گا تو انجام ظاہر ہے ۔ تعبیر تو صرف یہ ہے کہ اس کا بھید ظاہر ہوگا ، نتائج اس کے اپنے کردار کے مطابق ہوں گے۔ لہٰذاعام آدمی کا خواب اور بادشاہ کا خواب خواہ ایک سا بھی ہوتعبیر تو اپنی اپنی ہوگی ۔ اہل کا کام ہے کہ لوگوں کو انکی بھلائی کی تجویز بھی دیں چنانچہ خواب سن کر آپ نے نہ صرف تعبیر دی بلکہ ایک بہت خوبصورت تجویز بھی ارشاد فرمائی کہ سات فربہ بیلوں سے مراد سات ایسے سال ہیں جن میں خوب غلبہ آئے گا اور یہی سات سرسبز بالیں بھی ظاہر کرتی ہیں کہ بیل اور غلہ کا تعلق ظاہر ہے پھر سات دبلے پتلے بیل قحط کے سات سالوں کی دلیل ہیں اور یہی خشک خوشوں سے مراد ہے ان کا ان موٹے بیلوں کا کھانا ظاہر کرتا ہے کہ جس قدرغلہ وغیرہ ان پہلے سالوں میں ہوگا وہ ان قحط کے برسوں میں کھایا جائے گا۔ چنانچہ آپ نے ایک عجیب نکتہ ارشاد فرمایا کہ بادشاہ سے کہو پہلے سات برسوں میں خوب محنت کروائے اور غلے کا ذخیرہ کرے مگر یوں تو غلے کو کیڑہ لگ جائے گا ہاں ! غلہ خوشوں ہی میں جمع کرو اور ضرورت کے مطابق صاف کرلیا کرو تو اس طرح خراب ہونے سے بچ جائے گا۔ قحط اس قدر شدید ہوگا کہ سب کچھ ختم ہونے لگے گا مگر یادرکھو ! تمہیں کچھ نہ کچھ بیج وغیرہ ضروربچاکررکھنا ہے کہ قحط سالی کے بعد پھر سے بہت بارش برسے گی اور کھیتیاں غلہ اگلنے کے قابل ہوں گی اور بہت پھل ہوں گے کہ لوگ پھل کھانے کی بجائے ان کا رس نچوڑ کر استعماکریں گے مفسرین کے مطابق یہ آخری باتیں آپ کے علوم نبوت کا خاصہ تھیں کہ انتظامی امور کے لئے بہترین تجویز بھی دی غلے کی حفاظت کا نکتہ بھی بتایا اور ایک بہترین سال کی آمد کی پیشگوئی بھی فرمائی ۔ جسے سن کر بادشاہ بہت متاثرہوا اور بات اس کی سمجھ میں بھی آنے لگی کہ کس قدردرست تعبیر ہے اور کتنا قیمتی اور صاحب علم انسان ہے کہ سلطنت کے سارے فاضل مل کر جو بات نہ سمجھ سکے اس نے فورا بیان کردی۔
Ayahs 12:50–57

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور بادشاہ نے حکم دیا کہ ان کو میرے پاس لاؤ پس جب آپ کے پاس قاصد پہنچا تو آپ نے فرمایا تو اپنے آقا کے پاس واپس جا پس اس سے بوجھ کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے بیشک میرا پروردگار ان عوتروں کے فریب کو خوب جانتا ہے

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

(بادشاہ نے عورتوں سے) کہا کہ تمہارا کیا واقعہ ہے جب تم نییوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا (ان عورتوں نے) کہا حاشاء اللہ (اللہ پاک ہیں) ہم نے تو ان میں کوئی برائی نہیں جانی۔ عزیز کی بیوی کہنے لگی اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے میں نے ہی ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بلاشبہ وہ سچے ہیں

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

میں یہ اس لئے کہہ رہی ہوں کہ وہ یوسف (علیہ السلام) جان لیں کہ میں نے پیٹھ پیچھے ان سے خیانت نہیں کی اور یہ کہ اللہ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتے

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے آپ کو پاک صاف نہیں کہتی بیشک نفس تو (انسان کو) برائی ہی سکھاتا ہے مگر جس پر میرا پروردگار رحم فرمائے۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا ان کو میرے پاس لاؤ میں ان کو خاص اپنے ساتھ رکھوں گا پس جب بادشاہ نے کہا ان کو میرے پاس لاؤ میں ان کو خاص اپنے ساتھ رکھوں گا پس جب (بادشاہ نے) ان سے گفتگو کی کہا یقینا آج سے آپ ہمارے ہاں بڑے معزز (اور) بڑے قابل اعتماد ہیں

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) فرمایا مجھے ملکی خزانوں پر مقرر کردیجئے بیشک میں حفاظت بھی رکھوں گا (اور اس شعبہ کو) خوب جانتا بھی ہوں

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح سی یوسف (علیہ السلام) کو ملک (مصر) میں بااختیار بنادیا کہ اس میں جہاں چاہیں رہیں۔ ہم جس پر چاہیں اپنی رحمت متوجہ فرمائیں اور ہم خلوص سے نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور آخرت کا اجر کہیں بہتر ہے ایمان لانیوالوں اور پرہیز گاری کرنے والوں کے لئے

آیات 50 تا 57 اسرار و معارف بہتان والزام سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیئے چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس آدمی کو ہمارے روبرولایا جائے کہ ہم خود اس سے تعبیر سننا چاہتے ہیں ۔ شاہی ہر کارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا حکم لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کے طلب فرمانے کی خبردی تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ سے کہو پہلے میرے معاملہ کی تحقیق کرے اور درباری امراء کی ان خواتین سے اسفسار کیا جائے جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے کہ وہ سارے معاملہ سے بخوبی واقف ہیں ۔ جو کچھ ہوا تھا زلیخا نے بھی ان کے سامنے اقرار کرلیا تھا اور جو کچھ انھوں نے سوچا تھا یا سفارش کی تھی یا مجھے دیکھنے اور پانے کا حیلہ کیا تھا میرا پروردگار بھی اس سارے معاملہ سے خواب واقف ہے تو یہاں علماء نے لکھا ہے کہ اہل علم کو خصوصا ایسے مواقع سے بچنا چاہیئے ۔ جہاں تہمت لگنے کا اندیشہ ہو اور اگر ایسا ہوجائے تو اس کے ازالے کے لئے کوشش کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ دربار شاہی میں زلیخا سمیت سب کو طلب کرلیا گیا اور بادشاہ نے خود تفتیش کی کہ اب وہ ذاتی طور پر یوسف (علیہ السلام) کا معترف ہوچکا تھا چناچہ ان سب کو واقعہ کی اصل بتانے کو کہا تو سب نے بیک زبان کہا حاشا للہ یعنی وہ لوگ اللہ کے وجود کو مانتے تھے مگر اپنے خاص انداز میں ماننے کے باعث اسلام اور ایمان سے دور تھے ۔ تو کہنے لگیں ہمارے علم کے مطابق تو وہ شخص فرشتہ ہے اور اس میں کسی قصور کا پایا جانا تو کبھی ایسا ممکن نہیں ہم ایسی کوئی بات نہیں جانتیں تو معاملہ صاف ہوتا دیکھ کر عزیز مصر کی بیوی یعنی زلیخا پکار اٹھی کہ اب تو بات صاف ہوگئی اور جب سردربار پہنچی تو اب اس میں پردہ کیا ۔ نیز وہ دور گیا وہ بات گئی اب بڑھا پے نے کمرتوڑدی ہے بعض روایات کے تقریبا تیس 23 برس جیل میں رہے اور گھر سے نکلنے اور سریرآرائے سلطنت ہونے اور پھر گھر والوں سے ملنے میں چالیس برس لگے تو زلیخا تو جوان اور شادی شدہ تھی جب آپ سات برس کے بچے بازار میں بک رہے تھے اب مزید چالیس برسوں کا اضافہ تو بڑھا پے میں لے گیا اور اس کا شوہر فوت بھی ہوچکا تھا ۔ وہ عہدہ بھی رخصت ہوچکا تھا۔ زلیخاکی دوسری بارشہادت چنانچہ اس نے کہا اب کیا پردہ ! اصل بات یہی تھی کہ میں نے یوسف کو ورغلانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ تو بہت ہی کھرے آدمی تھے ان میں تو ایسی کوئی خرابی ہی نہیں جاسکتی اور یہ زلیخا کی دوسری شہادت ہے پہلی بار اس نے زنا ن مصر کے سامنے اقرار کرتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو معصوم قرار دیا اور اب سردربار ان کا صادقین میں ہونا بیان کردیا اور ساتھ مزید کہا کہ یہ میں اس لئے کہہ رہی ہوں کہ ہزار غلطیوں کے باوجود یوسف کو یہ تو (رح) (رح) خبر رہے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس سے خیانت نہیں کی اور اس کی ذات پر کوئی بہتان نہیں لگایا اور یہ میں اس وجہ سے بھی کہہ رہی ہوں کہ پہلے اس کے روبرو اپنے خاوند کے سامنے میں نے یوسف پہ الزام لگا کر تجربہ کرلیا اور مجھے یقین ہے کہ اللہ خیانت کرنے والوں کے فریب کا پردہ چاک کردیتا ہے ۔ یہ اقوال زلیخا کے ہیں یا یہ ارشادات یوسف (علیہ السلام) کے اور میں اپنے نفس کی برأت بیان نہ کروں گی کہ نفس انسانی تو ہمیشہ برائی کی طرف لے کرجاتا ہے سوائے اس کے کہ میراپروردگاررحم فرمائے اور ہدایت نصیب ہو کہ وما ابرء نفسی ۔ میرا پروردگار بہت بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے آیت نمبر 52 اور 53 جو ابھی بیان ہورہی ہیں ۔ اکثر مفسرین کرام نے انھیں یوسف (علیہ السلام) کا قول لکھا ہے لیکن جہاں تک اللہ کریم نے مجھے سمجھ بخشی ہے میرے نزدیک یہ قول زلیخا ہے اگرچہ اکثر مفسرین کرام نے اللہ ان سب پر رحم فرمائے اس کے خلاف لکھ کر ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ یہ زلیخا کا قول بھی ہوسکتا ہے ۔ مگر قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری (رح) نے جو تفسیر صرف سورة یوسف کی لکھی ہے اس میں انھوں نے بھی پوری قوت سے یہ لکھا ہے کہ یہ زلیخا کے اقوال ہیں ۔ کسی ایک بزرگ نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف منسوب فرما دیا تو اکثرحضرات نقل فرماتے چلے گئے۔ یہاں کوئی روایت ایسی نہیں ملتی کہ جسے بنیاد کر یہ کہا جائے کہ یہ یوسف (علیہ السلام) کے ارشاد ات ہیں نہ ہی مضمون کتاب میں کوئی قرنیہ صارفہ ہے جو کلام کو یوسف (علیہ السلام) کی طرف پھیردے ۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ بادشاہ نے طلب کیا مگر آپ تشریف نہ لائے اور تحقیقات کرنے کو فرمایا اس نے زلیخا سمیت ان عورتوں کو بلایا ۔ یوسف (علیہ السلام) جیل میں ہیں بات دربار میں ہورہی ہے جب بات ختم ہوچکی تو ارشاد ہوتا ہے قال الملک ائتونی بہ کہ یوسف (علیہ السلام) کو میرے پاس لایا جائے تو یہ درمیان میں ان کا کلام کیسے ہوسکتا ہے۔ لطائف کا تذکرہ تیسری دلیل یہ ہے کہ صاحب تفسیر مظہری (رح) نے نفس کی تعریف میں لکھا ہے کہ نفس حیوانی عناصراربعہ سے مل کر بنا ہے لیکن یہ قلب روح وغیرہ لطائف عالم امر سے مرکب ہے اور ان لطائف کامرکز عرش سے اوپر ہے یعنی عالم امر میں ہے ۔ اب نفس کی تین حالتیں ہیں جو کتاب اللہ میں مذکور ہیں نفس امارہ نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ ۔ تفسیر مظہری نے نفس امارہ کے بارے لکھا ہے کہ یہ امارہ اس وجہ سے بنتا ہے کہ اس پر نفس حیوانی کا غلبہ ہو تو غضب اور کبروغیرہ آگ سے رذالت ودنائیت مٹی سے تلون اور بےصبری پانی سے لہو ولعب اور حرص وہوا کی تحریک ہوا سے لیتا ہے ۔ مگر نور ایمان لطائف قلب وروح میں جان پیدا کرے تو مومن کا نفس لوامہ بن جاتا ہے یعنی گناہ پر ملامت کرنے والا کہ گناہ کو گناہ ہی نہ جاننا تو کفر ہے ۔ ہاں ! نفس لوامہ کے درجے بیشمار ہیں اور ہر انسان کا اپنا مقام ہے پھر مجاہدے ریاضت اور عبادت سے ترقی کرکے یہی نفس مطمئنہ بن جاتا ہے ۔ اس کے بھی ہر ایک کے اپنے مدارج ہیں اور سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا ہوتا ہے لہٰذ اللہ کے نبی کی طرف یہ قول منسوب کرنا درست نہیں کہ ان کا ارشاد ہو میرا نفس بھی امارہ ہے معاذ اللہ ہر مومن کا نفس بھی کسی نہ کسی درجہ میں لوامہ ہوتا ہے ۔ ہاں ! نفس کی پاکیزگی کے لئے نور ایمان اور برکات نبوت کا حصول ضروری ہے یہ برکات ہی مشائخ کی صحبت میں نصیب ہوتی ہیں ۔ تو انسان کی اصلاح کا سامان ہوتا ہے۔ جب یہ سب بات ہوچکی تو بادشاہ نے کہا کہ یہ آدمی تو میرا مشیرخاص ہونا چاہیئے جو اس قدر پاکباز ہے کہ یہ خواتین اس کے تقدس کی قسم کھاتی ہیں اتنا حسین کہ انھوں نے ہاتھ کاٹ لئے ۔ اس قدر صاحب علم اور فہم وذکاء کہ سلطنت کے سب نجوم سے واقفیت رکھنے والے یا دوسرے علوم کے ماہرین عاجز آگئے مگر اس نے تعبیر پالی اور اتنا صاحب عقل وخرد کہ اس مشکل کا بہترین حل بھی تجویز فرمادیا ۔ ذرا اسے لاؤ تو اس سے ہم بھی آنکھیں روشن کریں اور جب آپ تشریف لائے بادشاہ کو آپ سے شرف ہمکلامی نصیب ہواتو وہ ان پر فریفیتہ ہوگیا اور کہنے لگا کہ آپ کا مرتبہ میرے ہاں بہت بلند ہوا اور مجھے آپ پر اعتماد کلی نصیب ہوا۔ مفسرین کے مطابق آپ نے بہت سی وہ تفصیلات بھی بیان فرمادیں جو بادشاہ کو یادنہ رہی تھیں یا اس نے بیان نہ کی تھیں یہ سب کچھ وحی الٰہی سے آپ نے بیان فرمایا تو یہاں مفسرین نے یہ حکایت لکھی ہے کہ بادشاہ نے زلیخا سے آپ کا نکاح کردیا اور آپ کو اس سے بیحد محبت ہوگئی بلکہ آپ نے شکایت کی کہ تم میرے ساتھ وہ پہلی محبت ظاہر نہیں کرتی ہو تو کہنے لگی کہ مجھے آپ کی وساطت سے اللہ کی محبت مل گئی جس نے سب کچھ جلادیا ہے ۔ مگر یہ سب قصہ کہانی ہے اول یہ کہ آپ سات برس کی عمر میں گھر سے نکلے زلیخا اس وقت شادی شدہ خاتون تھی ۔ آپ اس کے ہاں جوان ہوئے پھر جیل گئے اور لگ بھگ تئیس برس وہاں گزارے تو کیا لیخا جو اس طرح 70 ستر اور اسی 80 برس کے ہاں کے درمیان عمر کو پہنچتی ہے شادی کے قابل رہ جاتی ہے ۔ رہی یہ بات کہ آپ کی دعا سے پھر سے جوان ہوگئی اس پر کوئی روایت مستند نظر نہیں آتی محض قصہ کہانی ہے جہاں آپ کے حسن آپ کے اخلاق اور آپ کے اطوار حکمرانی اور شان نبوت کی بات حدیث میں ہے اگر زلیخا کو دوبارہ جوانی ملتی تو اتنے بڑے معجزے کا تذکرہ حدیث پاک میں ضرور ہوتا نیز زلیخا کو یوسف وعلیہ السلام سے محبت ہی کب تھی ۔ وہ تو اپنی خواہش کی اسیر تھی جب کام نہ بنتا دیکھا تو ان کی ایذاء کے درپے ہوگئی ۔ یہ اس کی زبان سے اقرار تو رب یوسف نے کرادیا کہ اپنے نبی کی برأت کا اظہار مقصود تھا اور حق یہ کہ اس کردار کی خاتون حرم نبوی کی زینت بن سکتی یہ پہلے بھی لکھا جاچکا ہے ۔ اگر خلق خدا کی بہتری مقصود ہو تو اپنے کمالات کا اظہار اور عہدے کی طلب بھی جائز ہے آپ نے فرمایا کہ آپ مجھے خزانہ کی ذمہ داری دے دیجئے کہ میں امانت کی حفاظت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوں اور مجھے بخوبی علم ہے کہ کتنی رقم کہاں سے آنا چا ہیئے اور کتنی رقم کو نسی مد میں اور کب خرچ کی جانی چاہیئے ۔ آپ نے ان دوجملوں بلکہ دوانفاظ میں وزارت خزانہ کی شرائط اور وزیر کی استعداد کا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ خائن نہ ہو اور آمد وخرچ کی مدات اور جائز وناجائز سے واقف بھی ہو۔ لیکن ہوا یہ کہ بادشاہ نے سال بھر تو آپ کو محض مہمان ہی رکھا اور دریں اثناء آپ کی صحبت اور ارشادات کی برکت سے اور ان جذبات محبت کے باعث جو نبی اللہ کے لئے اس کے دل میں پیدا ہوگئے تھے آپ پر ایمان لے آیا آپ سے بیعت ہوا اور ایک عظیم الشان جشن کا اہتمام کیا امراء ورؤساء کو جمع ک حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سرپہ تاج رکھا اور تمام سلطنت آپ کے قدموں میں ڈال دی ۔ سو ارشاد ہوتا ہے کہ اس طرح ہم نے سلطنت مصریوسف (علیہ السلام) کو عطا کردی جس کی ایک وزارت وہ طلب فرما رہے تھے ۔ اور اس طلب میں خواہش جاہ نہ تھی بلکہ آنے والے ہولناک قحط کے سالوں میں لوگوں کو اس کی مصیبت سے بچانے کا اہتمام مقصود تھا حدیث شریف میں جو ارشاد ہے کہ خواہشمند کو یا طلب کرنے والے کو عہد ہ نہ دیا جائے تو اس سے مراد عہدہ کی وساطت سے جاہ طلب کرنے سے ہے لیکن خاص شرائط کی بناء پر عہدہ کی طلب جائز ہے ۔ جیسے یہ دیکھے کہ کوئی دوسرالوگوں کو بچانہ سکے گا یا خود ان پر ظلم کرے گا تو آگے بڑھ کر خلق خدا کی بہتری کے لئے عہدہ حاصل کرے یا طلب کرے تو جائز ہے۔ چنانچہ یوسف (علیہ السلام) خود بادشاہ بن گئے اب جو چاہیں کریں اور انھوں نے ملک مصر میں انصاف کی مثال قائم کردی ۔ اللہ فرماتے ہیں ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت سے نواز تے ہیں کہ چاہیں تو باپ کی گود سے چاہ کنعان اور عزیز مصر کے گھر سے زندان میں ڈال دیں مگر اپنے بندوں سے یہ سلوک بھی رحمت کا تقاضاہی ہوتا ہے اور اس میں انہی کی بہتری ہوتی ہے اور جب چاہیں قید زندان سے نکال کر تخت سلطنت پہ رونق افروز کردیں ۔ کہ خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کیا جاتا اور نیکی بہرحال غالب رہتی ہے اور باطل کو آخرمٹناپڑتا ہے ۔ یہ انعامات تو پھر دنیا کی نعمتیں ہیں پر ہیزگاروں کے لئے جو انعامات آخرت میں ہیں وہ اس سے بڑھ کر ہیں مگر ایمان اور تقوی یعنی عقیدہ اور عمل شرط ہے ۔ اللہ کریم ہمیں صاف ستھرا عقیدہ اور نیک عمل کی توفیق ارزاں فرمائے آمین۔
Ayahs 12:58–68

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے (غلہ لینے کی غرض سے) پھر ان کے پاس پہنچے تو انہوں (یوسف علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان (یوسف علیہ السلام) کو نہ پہچان سکے۔

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب انہوں (یوسف علیہ السلام) نے ان کا سامان تیار کردیا تو فرمایا جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ماپ بھی پورا پورا دیتا ہوں اور میں مہمانداری بھی سب سے اچھی کرتا ہوں

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

پھر اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو تمہیں میرے پاس سے غلہ نہیں ملے گا اور تم میرے پاس بھی نہیں آسکو گے

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم اس کے بارے اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم یہ کام ضرور کریں گے

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور انہوں (یوسف علیہ السلام) نے اپنے کام والوں کو حکم دیا کہ ان کی پونجی ان کے اسباب میں (چھپا کر) رکھ دو تاکہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (پاکر خوش ہوں) تاکہ یہ پھر سے یہاں آئیں

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پس جب وہ واپس اپنے والد (یعقوب علیہ السلام) کے پاس پہنچے کہنے لگے اے ہمارے والد ! ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے سو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم (پھر) غلہ لاسکیں اور یقینا ہم ان کی پوری حفاظت کریں گے

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

انہوں (یعقوب علیہ السلام) نے فرمایا کیا میں اس کے بارے میں تمہارا ایسا ہی اعتبار کرلوں جیسے پہلے اس کے بھائی (یوسف علیہ السلام) کے بارے کیا تھا۔ سو اللہ ہی نگہبان میں اور وہ سب سے بہتر رحم کرنے والے ہیں

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں اپنا سباب کھولا تو (اس میں) ان کو ان کی جمع پونجی (بھی) ملی جو ان کو واپس کردی گئی تھی۔ کہنے لگے اے ہمارے والد ! ہمیں اور کیا چاہیے یہ ہماری پونجی ہے جو ہمیں واپس کردی گئی ہے اور اب ہم اپنے گھر والوں کے لئے (اور) غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی خوب حفاظت کریں گے اور (ان کی وجہ سے) ایک اونٹ کا بوجھ غلہ زیادہ لائیں گے۔ یہ تھوڑا سا غلہ ہے

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کی قسم کھا کر مجھ سے وعدہ نہ کرو کہ تم ضرور اسے لے ہی آؤ گے ہاں اگر تم گھیر ہی لئے جاؤ تو (مجبوری ہے) پس جب وہ (قسم کھا کر) ان سے وعدہ کرچکے تو فرمایا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا اللہ ضامن ہے

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور فرمایا اے میرے بیٹو ! (سب کے سب) ایک ہی دروازے سے مت داخل ہونا اور علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونا اور میں اللہ کے حکم کو تو تم سے نہیں روک سکتا حکم تو بس اللہ کا ہی (چلتا) ہے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ (شہر میں) داخل ہوئے جہاں سے ان والد نے ان کو فرمایا تھا کوئی تدبیر اللہ کے حکم کو ان سے ذرا بھی نہ ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی آرزو تھی جو انہوں نے پوری کی اور یقینا وہ بڑے صاحب علم تھے اس لئے کہ جو ہم نے ان کو علم بخشا تھا و لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے

آیات 58 تا 68 اسرار و معارف مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔ اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا ہے تو ثابت ہوا کہ اشیائے ضرورت برکنڑول کرکے انھیں ہر آدمی تک مناسب داموں پہنچانا اور لوگوں کو لالچی تاجروں کی لوٹ کھسوٹ سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور وقت ضرورت اس کا اہتمام کرنے کا حق رکھتی ہے چناچہ دور دور شہرہ ہونے لگا ارض فلسطین جہاں کنعان تھا جو آج بھی اسرائیل میں خلیل کے نام سے آباد شہر ہے حضرت یوسف حضرت یعقوب حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم (علیہم السلام) آج بھی وہیں آرام فرما ہیں تک بھی خبر پہنچی جو خود قحط کی لپیٹ میں تھا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے بھی عزم سفر کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بنیامین کو اپنی توجہ کامرکز بنالیا تھا چناچہ انھیں اپنے پاس روک کر دوسروں کو مصرجانے کی اجازت بخشی اور کچھ جمع پونچی اور گھر کے زیورات وغیرہ ان کے ہمراہ کردیئے کہ سنتے ہیں مصرکا حکمران بہت نیک انسان ہے اور قحط سالی میں لوگوں کو غلہ دینے کا اہتمام کررکھا ہے لہٰذا تم بھی جاؤ ۔ کشف درست ہوتا ہے مگر وقت کی تعین نہیں ہوسکتی چنانچہ جو بات حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں تبائی گئی تھی اس کی تکمیل کا وقت آپہنچا اگرچہ درمیان میں ایک طویل عرصہ بیت چکا تھا۔ ایسے اہل اللہ کو بھی بعض حالات منکشف ہوجاتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ فورا واقع بھی ہوں کہ وقت کی تعین بہت شکل ہوتی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے فورا پہچان لیا ۔ مگر وہ نہ جان سکے کہ یہ کون ہیں کہ انھوں نے کم سن یوسف کو بیچا تھا اور یہاں پچاس برس کے قریب عمرکا ایک کڑیل انسان جلوہ افروز تھا ۔ پھر انھوں نے تو غلام بناکر بیچا اور یہاں ایک بہت بڑے سلطان کے روبرو حاضر تھے جہاں آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوئی ہمت ہی نہ کرسکتا تھا۔ لہٰذا وہ تو دربار شاہی میں دست بستہ کھڑے تھے۔ مگر یوسف (علیہ السلام) پہچان چکے تھے کہ یہ میرے وہی بھائی ہیں ۔ انھیں ٹھہرانے کا حکم دیا۔ ان سے احوال پوچھے کہ تم لوگ ملک مصر کے تو نہیں ؟ انھوں نے بتایا ہم ارض فلسطین سے آپ کا شہرہ سن کر آئے ہیں ہمارے والدبزرگ اللہ کے نبی اور بہت نیک انسان ہیں انھوں نے آپ کی نیکی کی تعریف سن کر بھیجا ہے اور اس بہانے والد کا حال بھی سماعت فرمایا ان کی بہت تکریم فرمائی شاہی مہمان بنا کر رکھے اور جب ان کا سامان تیار ہوا اور انھیں غلہ دیا گیا تو انھوں نے کہا ہمارا ایک بھائی اور بھی ہے جسے والد گرامی نے اپنے پاس روک لیا ہے کہ ایک بھائی تو جنگل میں کھوگیا تھا باپ نے رورو کر آنکھیں اندھی کرلی ہیں اب وہ ان کی خبرگیری کرتا ہے ۔ آپ ہمیں اس کا حصہ بھی دے دیں آپ نے فرمایا کہ یہ تو خلاف قانون ہے۔ ایسا تو نہیں ہوسکتا۔ یوسف (علیہ السلام) نے بھائی سے ملاقات کی خفیہ تدبیر کی جو اللہ کے حکم سے تھی اور اس کا تذکرہ پھر آئے گا ہاں ! اگر دوبارہ آؤتو اسے بھی ہمراہ لاؤ اور تم نے ہمارا حسن سلوک تو دیکھا ہے ہم تمہیں اس کا حصہ بھی دیں گے اور ہاں ! یہ بھی یادرکھو کہ اگر تم دوبارہ آؤ اور بھائی کونہ لاسکو تو پھر یہاں مت آنا کہ پھر تمہیں غلہ نہیں دیا جائے گا ۔ غالبایہ گمان کرتے ہوئے کہ تم لوگ غلط بیانی کرتے ہو اور کہیں یہاں سے لے کر بجائے ضرورت پوری کرنے کے بیچتے نہ پھرو ۔ وہ کہنے لگے اگر ایسی بات ہے تو ہم اپنے باپ سے پوری پوری کوشش کرکے اسے ساتھ لائیں گے کہ آپ کو ہم پر بدگمانی نہ رہے اور ہم دوبارہ غلہ بھی حاصل کرسکیں ۔ یہ تدبیر اور دھمکی انھوں نے اللہ کریم کی اجازت سے دی اور ساتھ خفیہ تدبیر بھی کردی کہ اپنے خدام کو حکم دیا ان کی پونچی واپس سامان اور غلے میں ہی چھپادو تا کہ گھر جا کردیکھیں تو یہ ان کی واپسی کا سبب بن جائے اس میں دو وجہیں ہیں کہ خاندان نبوت یہ کرم و احسان دیکھ کر کم ازکم اظہار تشکر کرنا توضروری سمجھیں گے اور واپس آئیں گے دوسرے جب یہ گھر کے زیورات لے کرنکلے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے پاس نقدی نہ تھی اور اب شاید دوبارہ آنے کے لئے مزید زیورات بھی نہ ہوں تو مجبورا آہی نہ سکیں ۔ لیکن اس سب کے باوجود جب تک اللہ کی طرف سے اجازت نہ ملی لاکھ بےقراری کے باوجود والدگرامی کو جرتک نہ بھیجی نہ ہی انھیں کشفا پتہ چل سکا حالانکہ نبی کا مکاشفہ اس کی عظمت شان کے مطابق ہوتا ہے مگر اللہ قادر ہے جو بتانا چاہے وہ منکشف فرمادے اور جو نہ بتانا چاہے اس کے ظاہری اسباب بھی روک دے ۔ جب واپس پہنچے تو شاہ مصر کی اس کے عدل و انصاف اور جود وکرم کی بہت تعریف کی اس کے حسن سلوک کے ساتھ حسن انتظام کو بھی سراہا اور ساتھ عرض کرنے لگے کہ اے والد محترم ! اس سب بات کے باوجود ہمارا کام بگڑرہا ہے اور وہ یہ کہ ہم نے بنیامین کا تذکرہ کرکے ایک بوجھ غلے کا مزید طلب کیا تو سلطان مصرنے کہا کہ ایسا تو ممکن نہیں ایک آدمی کو ایک اونٹ کا بوجھ ہی ملتا ہے لیکن اگر تم سچے ہو تو بھائی کو ساتھ لے کر آناتو دس جگہ گیارہ حاصل کرنے کا حق تو تمہارا ہوگا مگر ہم تم کو ایک بوجھ غلہ زائد دے کر موجودہ سفر کا بدلہ بھی دے دیں گے اور اگر بھائی کونہ لائے تو پھر مت آنا کہ تم جھوٹے شمار کئے جاؤگے ۔ تو اس طرح تو ہمارا غلہ ہی روک دیا گیا ۔ آپ ازراہ کرم بھائی کو ضرور ہمارے ساتھ کریجئے کہ ہم غلہ بھی زیادہ حاصل کرسکیں اور بھائی کی حفاظت کا ذمہ بھی ہمارا ہے ۔ انھوں نے فرمایا کیا خوب ! ابھی تمہیں اپنی حفاظت پہ ناز ہے جبکہ اس کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں تمہاری حفاظت اور ذمہ داری کا امتحان ہوچکا پھر تم پر یا تمہاری بات پر کیا بھروسہ ۔ ہاں ! اللہ کریم ہی بہترین حفاظت کرنے والے ہیں اور وہ سب مہربا نوں سے بڑھ کر مہربان ہیں کہ اب اس ضعف پیری میں پھر سے صدمہ نہ دیکھنا پڑے تو اسی کے کرم پہ امید کی جاسکتی ہے ۔ باتوں باتوں میں سامان بھی اتارتے اور کھولتے جاتے تھے کہ ایک بوری سے سارا سرمایہ بھی نکل آیا تو بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے اباجان ! دیکھو شاہ مصرکتنا کریم ہے کہ اس نے ہمارا سرمایہ بھی لوٹا دیا اور ہم پر کوئی احسان جتائے بغیر ہمارے غلہ میں رکھوادیا ایسے مہربان کے پاس لوٹ کر ہی نہ جانا تو معقول بات نہیں اور جو حسن سلوک انھوں نے کیا ہے اس سے زیادہ تو سوچا بھی نہیں جاسکتا نہ اس سے زیادہ کی کوئی بھی شخص امید کرسکتا ہے کہ قحط سالی میں غلہ بھیدے اور پونجی بھی لوٹا دے تو آپ بنیامین کو ضرور ہمارے ساتھ بھیجیں کہ ہمیں خاندان کے لئے غلہ کی ضرورت بھی ہے اور اس کے بغیر ہم جا نہیں سکتے ، لہٰذا ہم بھائی کی حفاظت کا حق ادا کریں گے اور اس کی بودولت غلہ بھی زائدحاصل کرسکیں گے۔ والدین کو اولاد کی اور شیخ کو مرید کی تربیت کرنا چاہیئے بھگانہ دیا جائے آپ نے فرمایا ! اچھا بھیج دیتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ اللہ کے نام پر میرے ساتھ عہد کرو کہ تم اسے لے کر واپس آؤگے۔ ہاں ! کوئی ایسی صورت کہ تم سب گھرجاؤیا تمہاری استطاعت سے باہر ہو تو الگ بات ہے ۔ مگر جہاں تک تمہارا بس چلے گا کوتاہی نہ کروگے۔ انھوں نے اللہ کے نام پر عہد کیا تو فرمایا کہ ہمارے اس معاہدے پر اللہ ہی گواہ ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا بھی ہے کرنے والا بھی ۔ یہاں ثابت ہے کہ غلطی یا گناہ پر اولاد کو چھوڑ نہ دیاجائے ۔ ایسے ہی شیخ طالب کو بھگانہ دے بلکہ صبر وضبط کے ساتھ ان کی تربیت کی ضرورت ہے ۔ ورنہ قطع تعلق سے اصلاح نہیں ہوتی ، انسان کے بالکل ہی برائی کی طرف چلے جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ ہاں ! خطاکا احساس دلانا اور اس کے دوبارہ نہ کرنے کی تلقین مناسب طریقے سے کرنا ضروری ہے اور سب اہتمام کرکے بھروسہ اللہ کریم ہی پہ رکھنا چاہیئے۔ حسن تدبیر ضروری ہے مگر نتائج کی امید اللہ پاک سے رکھے حضرت یعقوب (علیہ السلام) جب ان سب کو رخصت فرمانے گے اور بنیامین کو بھی ساتھ کردیا تو ایک تدبیر اختیار کرنے کا حکم دیا کہ دیکھو ، تم گیارہ بھائی ہو خوبصورت قدآور اور صحتمند جوان ہو اور بادشاہ تمہاری عزت بھی کرتا ہے تو اب کے تم سب شہر کے ایک دروازے سے داخل نہ ہونا کہ کسی کی نظربد کا شکار نہ ہوجاؤ ۔ نظربدکا اثر علماء اہل سنت کے نزدیک نظر کا اثر برحق ہے ۔ حدیث شریف سے ثابت ہے اور قرآن میں بھی اپنے مقام پر آئے گا انشاء اللہ زیرآیہ یرون لقونک بابصارھم ۔ یہاں صرف اتنا لکھناکافی ہے کہ یہ انسان کے تخیل کا اثر ہوتا ہے جو غذا کی طرح بالکل ایک سبب اور باعث ہے جیسے موسم کا اثر یا دواکا اثر یاغذا کا اثر بیمار کرسکتا ہے دلیسا ہی انسان کے خیال کا بھی اثر ہے ۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ نظربد ایک انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہنڈیا میں داخل کردیتی ہے اوکماقال وعلیہ السلام ۔ دوسرے بادشاہ کے ہاں عزت شہر میں حاسد بھی پیدا کرسکتی ہے اور یوں تم سب کا اکٹھا داخل ہونا تو سب کو تمہاری طرف متوجہ کردے گا لہٰذا متفرق دروازوں سے شہر میں داخل ہونا اور یہ بات تو واضح ہے کہ ہوگا تو وہی جو اللہ کو منظور ہوگا اس لئے کہ اسی واحد ذات کا حکم ہر شے میں ہر آن جاری ہے اور وہی اسباب میں اثر بھی پیدافرماتا ہے ، لہٰذا میرا بھروسہ بھی اسی پر ہے اور سب بھروسہ کرنے والے بھروسہ تو صرف اسی پہ ہی کرتے ہیں ۔ ہاں اسباب اختیار کرنا بھی ضروری ہے کہ اس کا حکم بھی اسی ذات کی طرف سے ہے اور یہ بھی اسی کی اطاعت ہے ۔ چنانچہ وہ سب مصر پہنچے اور اسی طرح متفرق ہو کر مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہوئے لیکن یہ تدبیر انھیں آنے والی پریشانی سے بچاتو نہ سکی ہاں ! حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ حسرت نہ رہی کہ کاش کوئی تدبیر ہی کرلی ہوتی کہ یہ شرعی قاعدہ ہے کہ اپنے بچاؤ کے جائز اسباب اختیار کئے جائیں ۔ علم لدنی اور وہ تو نبی تھے جن کا علم وہی اور لدنی ہوتا ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کا علم اکتسابی نہیں ہوتا کہ اس میں غلطی کا امکان ہر وقت رہتا ہے مگر علم لدنی غلطی کا امکان ہی نہیں ہوتا صرف یہ فرق ہوتا ہے کہ نبی کو سمجھنے میں بھی غلطی نہیں لگ سکتی اور ولی سمجھنے میں غلطی کرسکتا ہے نیز نبی کو براہ راست نصیب ہوتا ہے اور ولی کو اس کی اتباع سے لہٰذا سمجھنے میں بھی اسی ذات کا محتاج ہوتا ہے ۔ یعنی نبی کے ارشاد کی حدود کے اندر ہوتودرست ان سے ٹکرائے تو غلطی لگی ہوگی ۔ لہٰذا ان کی دور بین نگاہ یہ دیکھ رہی تھی کہ ابھی مزید مشقت بڑھ رہی ہے اور بنیامین بھی بچھڑرہا ہے لہٰذا انھوں نے ظاہری تدبیر تو اختیار کی مگر فرمایا اس کا فائدہ دینا تو اللہ کا کام ہے اور ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا مگر لوگ اس بات کی عظمت و حقیقت سے ناآشنا ہیں ۔ اگر اس علم کی عظمت کو جانتے تو اس کے حصول کے لئے عمریں صرف کردیتے۔