68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 68:41

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

یا انہوں نے (خدا کے) شریک بنا رکھے ہیں8 پھر اگر سچے ہیں

ف 8 ” جو اس چیز کا ذمہ لیتے ہیں اور انسے اس باطل خیال میں موافقت کرتے ہیں ؟
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

تو ان شریکوں کو سامنے لائیں جس دن حق تعالیٰ کی پنڈلی کھولی جائے گی اور سب لوگ سجدے کے لئے بلائے جائیں گے تو یہ کافر اور منافق سجدہ نہ کرسکیں گے9

“9 یعنی ان کی پیٹھ کی پسلیاں جڑ کر یخ بستہ ہوجائیں گی اور وہ سجدہ کے لئے جھلک نہ سکیں گے۔ اس آیت کی یہ تفسیر حدیث سے ثابت ہے حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ” ہمارا پروردگار اپنی پنڈلی کھولے گا۔ تمام ممن مرد اور عورتیں اس کو سجدہ کریں گے، لیکن جو لوگ دنیا میں محضدکھلاوے اور شہرت کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ رہ جائیں گے، وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تخ ہیک طرح اکڑ جائے گی…یہ حدیث صحیحین اور دوسری کتابوں میں متعدد اسانید سے آئی ہے۔ (شوکانی) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں کشف ساق “ کنایہ ہے شدت سے کہ قیامت کا دن بڑا سخت ہوگا، چناچہ جاہد ابراہیم نخعی اور عکرمہ وغیرہ نے یہی تفسیر بیان کی ہے اور حضرت ابن عباس سے بھی متعدد طرق کے ساتھ مروی ہے اور بعض علماء سے ایک دوسری تاویل بھی منقول ہے یعنی ” ساق الشی “ کسی چیز کے اصل کو کہا جاتا ہے پس اس کے معنی یہ ہیں کہ ’ دجس روز حقیقت حال ظاہر کردی جائے گی۔ “ چناچہ بیع بن انس نے اس کی تفسیر ” یوم یکشف الغطاء “ سے کی ہے۔ مگر پہلی تفسیر حدیث سے ثابت ہے کہ یہاں ساق سے مراد سابق باری تعالیٰ ہے اور یہ آیت متشا بہات سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی کوئی تاویل کرنا بدعت پرست متکلمین کا طریقہ ہے۔ سلف صالحین ان کی کوئی تاویل نہیں کرتے بلکہ انہیں ان کے ظاہری معنی مجمول کرتے ہیں۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ سمع، بصر، میں اور وجہ کی طرح اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ہونا بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے اس لئے ہم اس پر بلا کیف ایمان رکھتے ہیں۔ متاولین نے الہ حدیث اور سلف کو عدم تاویل کی وجہ سے تجبیم و تشبیہ کا طعنہ دیا ہے حالانکہ دوسری طرف ان کی یہ تاویلات لطفی الی التعطیل ہیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں، جو لوگ اہل حدیث کو تجسیم و تشبیہ کا قائل قرار دیتے ہیں وہ خود خطاء پر ہیں (وحید)
Ayah 68:43

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

اس وقت شرمندگی کے بارے ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی ان کے چہروں پر ذلت برس رہی ہوگی اور جب وہ دنیا میں اچھے صحیح تندرست تھے اور ان کو سجے کے لئے بلاتے تھے تو سجائیں کرتے تھے10

ف 10 گویا آخرت میں انہیں یہ سزا جائے گی کہ انہیں سجدہ کرنے کے ناقابل بنادیا جائے گا۔ کعب الاحبار کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو نماز با جماعت میں شریک نہیں ہوتے۔ (شوکانی)
Ayah 68:44

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) مجھ کو اور ان لوگوں کو جو اس قرآن کو جھٹلاتے ہیں چھوڑ دے ان کو مری سپرد کر دے ہم آہستہ آہستہ ان کو ڈھیل دے کر دوزخ میں لے جائیں گے ان کو خبر ہی نہ ہوگی1

ف 1 یعنی دنیا میں ان کے لئے طرح طرح کی عیش و آرام کے اسباب فراہم کریں گے تاکہ وہ اور زیادہ غافل ہوجائیں اور پھر آخر کار جہنم میں چلے جائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا استدراج اور مکر ہے جس کا متعدد آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ (مومنوں 56 انعام آیت 44 ۔ اعراف 183)
Ayahs 68:45–46

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

میں ان کو دنیا میں مہلت دوں گا جلدی عذاب نہیں کرنے کا کیونکہ میرا دائوں پکا ہے۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تو ان سے اللہ کا پیغام پہنچانے پر2 کچھ نیگ چاہتا ہے وہ ڈنڈا تاوان پر بھی کے بوجھ دیئے جاتے ہیں

ف 2 یعنی ایسا ہرگز نہیں ہے۔
Ayah 68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کو غیب کا علم ہے ہو خود لکھل یتے ہیں3

ف 3 اس لئے یہ آپ کے اتباع کی ضرورت نہیں سمجھتے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا بھی ہرگز نہیں ہے۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

تو اپنے مالک کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہ اور مچھلی والے یعنے یونس پیغمبر کی طرح جلد باز مت بن جب اس نے خدا کو پکارا اور وہ غصے یا نج میں بھرا ہوا تھا۔4

ف 4 یعنی استقلال اور تن دہی سے دعوت و تبلیغ کے کام میں لگے رہئے عنقریب اللہ تعالیٰ خود حکم نازل فرمائے گا کہ ان کفار سے کیا معاملہ کرنا ہے۔
Ayah 68:49

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر اس کے مالک کا فضل اس کو نہ سنبھلاتا تو ایک چٹیل میدان میں برے سالوں پھینک دیا جاتا تو وہاں بھوکوں مرجاتا5

ف 5 فضل سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق دی اور تسبیح و استغفار پڑھنا شروع کیا۔
Ayah 68:50

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

آخر پروردگار نے اس کو سرفراز کیا اور نیک بندوں میں اس کو شریک کرلیا6

ف 6 یعنی ان کا متربہ اور بڑھایا اور انہیں اعلیٰ درجہ کے نیک اور شائستہ بندوں میں داخل رکھا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : کسی شخص کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں (حضرت) یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ (ابن کثیر) حضرت یونس کا قصہ سورة یونس آیت 98 اور سورة انبیاء آیت 88-87 میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور کافر جب قرآن (تیرے منہ سے) سنتے ہیں تو اس طرح اپنی آنکھوں سے گھورتے ہیں جیسے وہ تجھ کو اپنی جگہ سے پھسلا دیں گے7 اور حسد سے جل کر کہتے ہیں یہ تو باد کا ہے

ف 7 یعنی آپ کی طرف انتہائی غصہ سے بھری ہوئی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ قرآن سارے جہان کے لئے نصیحت ہے8

ف 8 ” پھر جو شخص ایسا کلام سنائے بھلا بائو لا ہوسکتا ہے۔